Wuzoo by Sheikh-e-Silsila Naqshbandia Owaisiah Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan (MZA)

Wuzoo

Munara, Chakwal, Pakistan
01-06-2020
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْن۔۔۔۔(المائدۃ:۶)
”اے ایمان والو! جب تم نماز کا قصد کرو تو اپنے چہروں کو دھوؤاور اپنے ہا تھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سر وں پر ہا تھ پھیرو(مسح کرو)اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں (دھو لیا کرو)۔“
اسلام میں جہا ں تزکیہئ قلب کو ابدی فلاح کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے وہاں اس کامیا بی کے زینے پہ قدم رکھنے کے لئے تطہیر قالب کی بھی شرط مقرر فرما ئی ہے۔سورہئ ما ئدہ کی اس آیہ کریمہ میں نماز کی تیا ری، اللہ رب العزت کی با رگا ہ میں حاضری کے لئے ممکنہ حد تک ظا ہری صفا ئی،ستھرا ئی اور پا کیز گی کا اہتما م کرنے کا حکم فر مایا گیا ہے۔چہرہ،ہاتھ، کہنیوں سمیت بازو دھونا سر کا مسح کرنا اور ٹخنوں تک پا ؤ ں دھونا وضو کے فرائض میں سے ہیں۔ وضو درا صل عربی زبان کا لفظ ہے جو  وضا تٌ سے ما خوذ ہے۔ وضاتٌ رو شنی کو کہتے ہیں۔حدیث ِپا ک ہے:
قیل یا رسول اللہ کیف تعرف من لم تر من امتک قال غر محجلون بلق من اثار الوضوءِ(ابن ماجہ)
”عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔ نبی ئ اکرم  ﷺ سے دریافت کیا گیاکہ آپ  ﷺ (قیامت کے دن) اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جنھیں آپ  ﷺ نے نہیں دیکھا۔آپ  ﷺ نے فرمایا وضو کے نشانات سے ان کے ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے۔“
وضو کرنے والوں کے چہروں کے روشن ہو نے کی اسی نو ید کی بنا پہ پا کیزہ پا نی کو بطر یق شریعت ان اعضاء پہ استعمال کرنا (جن کی وضا حت احادیث میں تفصیل سے فرما دی گئی ہے)وضو کہلاتا ہے۔  لفظ ’وضو‘کی ’و‘پہ اگرزبر لگا دی جا ئے تو لغت’لسان العرب‘کے مطا بق اس سے مراد وہ پا نی ہو گا جس سے وضو کیا جا ئے اور اگر لفظ ’وضو‘  کی ’و‘  پہ زیر لگا دیں تو’شرح الیاس‘ کے مطا بق اس سے مراد وہ جگہ ہو گی جہاں بیٹھ کر وضو کیا جا ئے۔ 
قا رئین ِکرام! خالق ِکا ئنات کے اس دین حق کی تمام ترتعلیمات،اس کے احکامات،حدود،شرائط اور فرائض و حقوق انسان کی قلبی، بدنی، ذہنی اور جذ باتی ضروریات کے عین مطا بق ہیں۔اسلام جہاں صفا ئے قلب کو بنیاد قرار دیتا ہے وہاں طہا رت جسمانی کو بھی ان     عبا دات کے ساتھ ملزوم رکھتا ہے۔ اسلام روح کی با لیدگی کو وجود کی پا کیزگی کے ساتھ مشروط فرما تا ہے۔حدیث پا ک ہے:
الطھور شطرالایمان (صحیح مسلم)
 ”پا کیزگی نصف ایمان ہے۔“
شرح نووی کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ طہارت کا ثواب اس قدر بڑھتا ہے کہ ایمان کے آدھے ثواب کے برابر ہے۔
ایمان کے دو جزو ہیں ایک دل سے یقین کرنا اور دوسرا ظا ہراًبھی اطا عت کرنا اس ظاہری اطاعت میں جب پہلو عبادات کا آتا ہے تو اس کے لئے طہارت شرط قرار دے دی گئی ہے اور وضو پا کیزگی کو مزید جلا بخشتا ہے۔حدیث ِپا ک ہے:
اسباغ الوضوء شطر الایمان(ابن ماجہ)  
”کامل وضو کرنا نصف ایمان ہے۔“
وضو بذات خود فرض نہیں ہے لیکن نماز کی ادا ئیگی کے لئے شرط ہے۔حدیث ِپا ک ہے:
”جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضوہے۔“(مشکوۃ شریف)
گویا ایک مومن جب نماز کی تیا ری میں جہاں جگہ،لباس اور بدن کے پا ک ہو نے کا خیال رکھے وہاں وجود کے ظا ہر ی اعضا ء کو خصوصی اہتمام سے صاف بھی کرے (وضو کرے)کہ آخر کس ہستی کی بارگاہ میں حا ضری کے لئے تیار ہو رہا ہے یہ اہتمام اُسے تکبیر اولیٰ سے پہلے ہی خشوع کی کیفیت سے نواز دے گا۔جیسے کسی اعلیٰ منصب شخص سے ملنے جا نے کے لئے تیا ری کی جا ئے تو ملاقا ت سے پہلے ہی اس شخصیت سے ملنے کے احسا س کی مسرت قلب و بدن پہ چھا رہی ہوتی ہے۔ وضو کا اہتمام بندہئ مومن کو بارگاہِ الٰہی میں حاضری سے پہلے ہی اپنے خالق و مالک کے حضور سر بسجود ہونے کی نعمت ملنے کی سرشاری سے نواز دیتا ہے۔حدیث ِپاک ہے:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،جب ایمان دار شخص وضو کرتا ہے(اور) منہ میں پانی ڈالتا ہے تو اُس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اُس کی ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اُس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اُس کی دونوں آنکھوں کی پلکوں سے نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اُس کے دونوں ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اُس کے دونوں ہاتھوں کے ناخنوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اُس کے سر سے یہاں تک کہ اُس کے کانوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اُس کے پاؤں سے یہاں تک کہ اُس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے بعد مسجد کی جانب چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے زائد ہوتا ہے۔“(مشکوۃ شریف)
بِلاشبہ وہ بارگاہ ایسی ہی عظیم ہے کہ اس کی حاضری کے لیے بندہئ مومن کو گناہوں کی آلودگی دھو ڈالنے کے بعد ہی پیش ہونا چاہیے  اور اس رحیم و کریم خالق نے وضو کرنے کو گناہوں کی سیاہی سے دھلنے کا سبب بنا دیا۔حدیث ِپاک ہے:
وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا (صحیح بخاری)
”ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنا دی گئی۔“
حضرت آدم ؑسے لے کر حضرت عیسیٰ  ؑتک ہر امت کو مسجد کی جگہ مختص کرنا پڑتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ئاکرم  ﷺ کی برکت سے پوری زمین کو مسجد بنا دیا اوراِس مسجد میں ایمان والوں کے لیے،ان کی ضروریات کی تسکین کے لیے پاکیزہ وجود، پاکیزہ لباس، پاکیزہ رزق، پاکیزہ سوچ، پاکیزہ خیالات غرض پاکیزہ کردار چُنا۔اب یہ ہم پہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی اس مسجد میں کس حد تک پاکیزگی کے ساتھ رہنے کی سعی کرتے ہیں۔ وہ پاکیزگی جو وجود سے نہاں خانہئ دل تک اتر جائے۔وہ خوش نصیب جو اس کے حامل ہوں گے ان کی طہارتِ قلوب و وجودانہیں باوضو رکھے گی۔
وضوایسی نعمت ہے کہ وضو کرنے والے کے اعضاء سے گرنے والے پانی کا آخری قطرہ اس عضو کے آخری گناہ کو لے کر گرتا ہے اور اس کی برکت سے گناہ معاف ہونے کے علاوہ انسان بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر پہلے سے با وضو شخص اگلی عبادت کے لئے تازہ وضو کرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وضو کے مقررہ ثواب سے زیادہ اجر سے نوازا جاتا ہے۔سخت سردی میں کامل وضو کرنے والے کودگنا ثواب ملتا ہے۔ ہمیشہ باوضو رہنے والا انسان آفات،مصائب،بلیات، جادو،نحوست اور دیگر بُرے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔حالت ِوضو میں آنے والی موت، شہادت کا ثواب عطا کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انابت ِالٰہی عطا کرتا ہے کہ حا لت ِپاکیزگی کامتوجہ الی اللہ ہونے میں بہت دخل ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 وَیَہْدِیْٓ اِِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْب(الشوریٰ: ۳۱)
”جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنا راستہ دکھاتا ہے۔“
بندہئ مومن کے لیے یہی مقصدِ حیات ہے اور یہی ابدی فلاح۔
Wuzoo by Sheikh-e-Silsila Naqshbandia Owaisiah Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan (MZA) - Editorials on June 1,2020
Silsila Naqshbandia Owaisiah, Naqshbandiah Owaisia, Tasawuf, Sufi meditation, Rohani tarbiyat, Shaikh, Ziker Qalbi Khafi