Latest Press Releases


صوفیا کرام قلوب کی اصلاح کرتے ہیں جس سے وہ درجہ نصیب ہوتا ہے کہ بند ہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے


ہمارا اپنے وجود پر اختیار نہیں ہے کوئی ایک سیل کم زیادہ ہو جائے تو ہم بیمار ہو جاتے ہیں اتنا بے بس ہونے کے باوجودہم زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ غفو رالرحیم جو ہر شئے پر قادر ہے اس سب کے باوجود ہماری خطاؤں سے درگزر فر ما کر واپس لوٹ آنے کے اسباب پیدا فرما تا ہے۔وجود انسانی میں قلب کی عظمت اس قد ر ہے کہ ہمارے وجود میں موجود گوشت کا یہ لوتھڑا اگر درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے۔سلاسل تصوف میں اسی قلب کی اصلاح کی جاتی ہے۔جس سے اعمال میں اتنا نکھار آ جاتا ہے کہ بندہ کا ہر عمل محض اللہ کی رضا کے لیے ہو جاتا ہے۔صحیح تصوف اور خانقاہی نظام ہر دور میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے ہمیں بس اس کی تلاش کرنا ہے دل کی زمین یہی عظیم لوگ تیار کرتے ہیں تا کہ اس میں انابت الٰہی کا بیج بویا جا سکے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں اتنی گرد اُڑا  د ی گئی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے۔صحیح کون ہے غلط کون ہے اس سے دشمن اپنے عزائم حاصل کر رہا ہے۔اللہ کریم رمضان المبار ک کے اس بخشش والے دوسرے عشرے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ جتنا کوئی اسلام کے تابع ہو گا اتنا استفادہ حاصل کرے گا۔ بندہ مومن کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ کریم کا حکم ہے یا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے بات ختم اتنا کافی ہے۔اللہ کریم بندہ مومن کی زندگی میں ایک تسبیح بھی قبول فر ما لیں تو اس کی بخشش کے لیے کافی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ منافقت،جھوٹ،برائی یہ سب دل کی بیماریاں ہیں اور ان کی شفاان کی دوا قرآن کریم میں موجود ہے۔قلب انسانی بڑی بنیادی حیثیت رکھتا ہے یہی وہ مقام ہے جو کیفیات کا گھر ہے۔یہ دل بھی تو ایک شہر ہے جہاں دوست بھی رہتے ہیں دشمن بھی جہاں محبت بھی بستی اور نفرت بھی جہاں اپنے بھی رہتے ہیں پرائے بھی پورا ایک شہر آباد ہے کیا یہاں ایک مسجد بھی نہیں ہونی چاہیے جہاں سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہو۔خواہشات،پسند و نا پسند کا محور بھی قلب ہے یہاں سے ہی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اگر دل میں اچھائی ہو تو سارا وجود اچھائی کی طرف چلتا ہے اور یہاں فساد آجائے تو سارا وجود بگڑ جاتا ہے۔نیت قلب کا فعل ہے،انابت قلب کا فعل ہے،توبہ قلب کا فعل ہے اس لیے انسانی وجود میں قلب بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اگر یہ قلب درست ہوجائے تو سارا بدن درست ہو جاتا ہے اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sufia karaam qaloob ki islaah karte hain jis se woh darja naseeb hota hai ke bandah khud ko Allah ke rubaroo mehsoos karta hai - 1

اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے


معاشرے میں ہونے والی برائی کو روکنا،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں معاونت کا حکم دیا گیا ہے۔آج ہم بحیثیت مجموعی اس حکم پر کتنا عمل کر رہے ہیں اس کا خود اندازہ کر لیں۔آج ہمارے اردگرد جو مسائل ہیں جو مظالم دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اُن قوانین کو چھوڑ دیا جس کا اللہ کریم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
 انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی اسلام کے احکامات ہیں شاید وہ صرف دوسروں کے لیے ہیں مجھ پر لاگو نہیں ہوتے اسی لیے ہر بندہ خود کی نہیں بلکہ دوسرے کی اصلاح کرنے کے لیے نکلا ہوا ہے۔جیسے وہ خودان سب سے بری ہے۔یہ ہمارے معاشرے میں عمومی روش پائی جاتی ہے۔اگر ہم سب اپنی اپنی غلطیوں کو دور کرنا شروع کر دیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں تو کم از کم اتنی بہتری تو معاشرے میں ضرور آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے۔اگر تصدیق بالقلب حاصل نہ ہو تو وہ ماننا نہ ماننے جیسا ہی ہوتا ہے۔اقرار اس درجہ کا ہو کہ اعما ل پر پابند کر دے عمل تب ہوتا ہے جب یقین کامل ہو۔ یقین کی کمزوری بے عملی کا سبب بنتی ہے۔جب کوئی نا فرمانی کرتاہے تو عبادات چھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔پہلے نفلی پھر سنت اس کے بعد فرائض بھی چھوٹنے لگتے ہیں۔جہاں بھی نا فرمانی ہونے لگے وہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں غلطی کر رہا ہوں ہم غلطی کو بھی جواز دے رہے ہوتے ہیں نیکی میں کمی آنے کا سبب ہماری کوئی خطا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے معاملات میں کمی آتی ہے۔جب ہم دیکھیں کہ میری عبادات میں کمی آرہی ہے تو ضرور دیکھیں کہ کیا میری غذا حلال ہے کیا میری نظر میں حیاء ہے لین دین کیسا ہے اپنا محاسبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ اللہ کریم رمضان المبارک کے اس رحمتوں والے عشرے میں ہمیں معاف فرمائیں اپنی رحمت شامل حال رکھیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Iqrar key saath qalb ki tasdeeq b zaroori hai  - 1

صرف و ہی اعمال مقبول ہوں گے جو حدود شرعی کے مطابق ہوں گے


اس دنیا میں بڑے بڑے حکمران اپنے تکبر،غلط روش اوراللہ کے مقابل کھڑا ہونے کے سبب تباہ ہوئے کسی کی موت کمزور مخلوق مچھر کے سبب ہوئی اور کئی آسمانی آفات کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ان کو رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشاں بنا دیا گیا۔معاشرے میں اس وقت ظلم و زیادتی عام ہو چکی ہے۔کسی چیز کا اپنے مقام سے ہٹ جانا ظلم ہے اور کسی چیز کا اپنے مقام پر ہونا عدل کہلائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عمل اپنی پسند سے اپنی سوچ سے کرنا درست نہیں ہے اس لیے صرف و ہی اعمال مقبول ہوں گے جو حدود شرعی کے مطابق ہوں گے یاد رکھیں کسی بھی عمارت کی مضبوطی اور اس کے درست ہونے کے لیے بنیاد کا صحیح ہونا لازمی ہے اسی طرح ہمارے اعمال کی بنیاد ہماری نیت ہے اگر یہ درست نہ ہوگی تو کتنے ہی بڑے اعمال کر دئیے جائیں وہ مقبولیت کا درجہ نہ پا سکیں گے۔نیت کو درست کرنے کے لیے قلب کی اصلاح بہت ضروری ہے اور قلوب کی اصلاح ذکر قلبی سے ہی ممکن ہے جس کے لیے یہ مجاہدہ اختیار کیا جاتا ہے۔
  رمضان المبارک کی آمد پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ماہ مبارک میں فیوض و برکات کو خوب سمیٹا جائے اور اپنے آپ کو پرکھا جائے کہ اب رمضان المبارک میں کوئی ایسا عمل تو نہیں کر رہے جسے ہم غیر رمضان میں شیطان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ رمضان المبارک میں تو شیطان قید کر دئیے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود ہم عمل بد اختیار کیے ہوئے ہیں تو پھر یہ سمجھ لیجیے کہ غیر رمضان میں جو ہم شیطان کی پیروی کرتے رہے ہیں وہ شیطنت اس قدر ہم میں رچ بس گئی ہے کہ اب وہ کام جو شیطان کے پیچھے لگ کر ہم کرتے تھے اب اپنے ذاتی فیصلے سے کر رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور اس ماہ مبارک میں ہمیں صفت تقوی عطا فرمائیں جو کہ رمضان المبارک کا حاصل ہے اور اس رحمتوں کے عشرے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
sirf wohi aamaal maqbool hon ge jo hudood sharai ke mutabiq hon ge - 1
sirf wohi aamaal maqbool hon ge jo hudood sharai ke mutabiq hon ge - 2

جب تک ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہ کریں گے مثبت نتائج ہمارے سامنے نہیں آئینگے


نزول قرآن آپ ﷺ کے قلب اطہر پر ہوا۔جس کا آغاز رمضان المبارک میں ہوا۔یہ عظیم کتاب قرآن مجید پہلی کتابوں اور ان کے احکامات کی تصدیق کرتی ہے۔آج کے دور میں اگر کوئی قرآن کریم کے کسی حکم سے انکار کرے گا تو اس کے لیے بھی وعید ایسی ہی ہو گی جیسی ان کافروں پر لعنت بھیج کر کی گئی۔لعنت سے مراد قربِ الٰہی سے دوری ہے۔جب تک ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہ کریں گے مثبت نتائج ہمارے سامنے نہیں آئینگے۔ہمارے ساتھ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنی ذاتی پسند کو ترجیح دی ہوئی ہے اور اسلام کے احکامات کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اس فانی اور عارضی دنیا کی غمی خوشی کو اس پہلو سے دیکھنا کہ شاید سب کچھ یہی ہے ایسا نہیں ہے اللہ کریم بہتر جانتے ہیں کہ کس کو کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔ضروری یہ ہے کہ جو معاملہ بھی ہو اس کا رخ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف،کلام ذاتی کی طرف اور دین اسلام کی طرف ہو۔جب ہم اپنی پسند کو ترجیح دیں گے تو خطا کھائیں گے۔جب اعتراض تقسیم پر کریں گے تو وہ ذات الہی پر اعتراض شمار ہو گا۔اس اُمتی کے رشتے کو جانیے کہ ہر سوچ کا محور یہ اُمتی کارشتہ ہو۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان دو روزہ دورے پر لاہور جا رہے ہیں جہاں ہفتہ اور اتوار صحبت شیخ بھی ہو گی اور سالکین کی تربیت بھی کی جائے گی اس کے علاوہ بروز اتوار صبح 10 بجے حضرت جی مد ظلہ العالی لاہور کے ماہانہ اجتماع کے موقع پر خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔
Jab tak hum quran kareem ke ehkamaat par amal nah karen ge musbet nataij hamaray samnay nahi aaen ge - 1

عزت و ذلت کا معیار وہ ہے جو اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرمادیا


عزت وذلت کا معیار اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرما دیا ہے کہ عزت اللہ کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کے لیے اور ان مومنین کے لیے ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے قواعد و ضوابط کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔اس سے باہر اگر کوئی عزت تلاش کرے گاتو اُسے ذلت ملے گی۔اس ارشاد سے یہ بات واضح ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے آپ کو انفرادی سطح سے لے کر حکومتی سطح اُن اصولوں پر لے آئیں جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا 
  انہوں نے کہا کہ قلب سے قلب تک جو کیفیت پہنچتی ہے اسے کسی زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔قلب بنیاد ہے صراط مستقیم پر چلنے کے لیے قو ت بھی قلب سے نصیب ہوتی ہے اسی لیے صوفیاء کرام ساری محنت قلب پر کرتے ہیں۔دنیا کی زندگی پر آخرت کا انحصار ہے اخروی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے دنیا کی زندگی محدود ہے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے جب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے تو اس کے بدلے چند لمحات کی لذت تو لے لی لذت بھی وہ جو عارضی لمحاتی اور ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کر دیا تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ کریم جسے چاہیں اپنی رحمت سے معاف فرما دیں لیکن ارشاد ہے کہ جس نے دنیا کے بدلے آخرت کو چھوڑ دیا وہ ضرور عذاب چکھے گا۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Izzat o zillat ka miyaar woh hai jo Allah kareem ne quran kareem mein irshad frma dya - 1

لوگوں کا مال لوٹ کر اور نجائز طریقے سے دولت اکٹھی کر کے غریبوں میں بانٹنا اور خیرات کرنا ایسا عمل گستاخی شمار ہو گا۔


ہم مخلوق سے چھپ کر تو گناہ کر سکتے ہیں اپنے خالق سے نہیں چھپ سکتے۔صدقات اور خیرات کرنے سے پہلے دیکھیں کہ میری کمائی حلا ل ہے،جائز ہے اس میں حرام شامل تو نہیں،کیا اس میں سود تو نہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔لوگ حرام کا پیسہ بھی غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں جو گستاخی شمار ہو گا۔دین اسلام سے معاشرے میں خوبصورتی آتی ہے۔انسانی حقوق و فرائض پر اسلام بہت زور دیتا ہے۔انسانی حقوق کی مسلم و غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں ہے۔زندہ رہنے کا ہر ایک کا حق ہے اور عقیدہ (مذہب) اختیار کرنے پر بھی ہر ایک کو اختیار ہے۔اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ ہر بندہ مومن نے کلمہ طیبہ کے ساتھ اللہ کریم سے ایک عہد کیا ہے کہ میں تیرے سوا کسی کو اپنا معبود نہیں بناؤں گا اور نبی کریم ﷺ کے طریقے پر (سنت) پر چلوں گا۔اور اس عہد کی پاسداری تا دم آخر ہونی چاہیے۔اللہ کریم توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس وعدے کو نبھا سکیں۔ہر بات میں اپنی انا،اپنی پسند کو رکھ لینا تکبر کرنا یہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔اللہ کریم زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔احکام الٰہی کچھ مان لینا اور کچھ کو چھوڑ دینا یہ درست نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے ہر انسان کی استعداد مختلف ہے عقل و شعور،کلام ہر پہلو سے دوسرے کے جیسی نہی۔اگر سارا معاشرہ ایک جیسا ہوتا تو کوئی دوسرے کے کام نہ آتا۔یہ فرق دنیاوی امور کی سرانجام دہی کے لیے ہے۔یہی انسانی مزاج شہادت دیتا ہے کہ اسے ایسا قانون چاہیے جس پر کاربندہوتے ہوئے ہرکوئی اپنی حدودوقیود کا خیال رکھے۔جبکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی زہنی استعداد استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں فساد کا سبب بنتے ہیں۔کلام ذاتی حق و باطل کی پہچان کراتا ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Logon ka maal lout kar aur Najaiz tareeqay se doulat ikathi kar ke ghareebon mein baantna aur khairaat karna aisa amal gustaakhi shumaar ho ga . - 1

زکوۃ کی ادائیگی،نماز کا قیام اور والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ دین کے بنیادی احکامات ہیں


زکوۃ کی ادائیگی،نماز کا قیام اور والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ دین کے بنیادی احکامات ہیں جن کی ادائیگی ہم پر فرض عین ہے۔ان اعمال کے اختیار کرنے سے معاشرے میں ایک خوبصورت نکھار پیداہوتا ہے۔لوگوں کے ساتھ بلا تفریق خوبصورت کلام کرنا،تبلیغ دین اور اشاعت دین کی بہترین صورت ہے اور ہماری عملی زندگی دوسروں تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کا بہترین طریقہ ہے۔  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
انہوں نے کہا کہ اسلام میں زکوۃ کا حکم ایسا خوبصورت عمل ہے کہ یہ نظام زکوۃ دولت کو ایک جگہ جمع نہیں ہونے دیتا۔بلکہ اس نظام میں دولت گردش کرتی رہتی ہے۔اس سے آپ کی دولت پاک ہوتی ہے اس میں مزید برکت آتی ہے۔دین اسلام کا ہر حکم ہر جگہ کے لیے اعلی ترین ہے۔جس پر عمل کر کے ہر کوئی استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔اللہ کریم کے احکامات ہی دین اسلام ہے اور ہم تک پہنچنے کا سبب انبیاء کرام مبعوث فرمائے۔ دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کا انداز،طریقہ،حدود و قیود ہر پہلو وہ ہے جس کی راہنمائی نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ سے ہر طرح کی ہر پہلو کی راہنمائی ملتی ہے۔زندگی کے عمومی حصوں سے لے کر خصوصی حصوں تک ہر طرح کی راہنمائی میسر ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں کیفیات قلبی عطا فرمائیں۔ہمارے پاس ہر طرح کی تحریر اور تقریر موجود ہے جس سے سالکین ہر طرح سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارا یہ مل بیٹھنا اللہ کی رضا کے لیے ہے اس کی خوشنودی کے لیے ہے۔اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔اجتماع پر آنا،مل بیٹھنا،کہنا سننا اس کو عمومی نہ جانیں اس کو خصوصی جانیں۔اور نفلی معتکف کی حیثیت سے اپنا وقت بسر کریں۔گپ شپ یا کھانے پینے کے لیے اس وقت کو جو آپ نے اجتماع کے لیے وقف کیا ہے ضائع نہ کریں۔ جس مقصد کے لیے آئے ہیں اسے حاصل کریں۔ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی سے کم ہو رہا ہے۔آخرت کی فکر کریں اور اس کی تیاری کریں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Zikot ki adaigi namaz ka qiyam aur walidain ke sath husn sulooq yeh deen ke bunyadi ehkamaat hain - 1

اگر آپکا رویہ درست ہو تو دشمن بھی آپ کا احترام کرے گا


ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جہاں دنیا کے باقی نظاموں کو آزمانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں کیوں نہ اس نظام کو اپنائیں جو ہمیں نبی کریم ﷺ نے عطا فرمایا۔ یہ ایسا نظام ہے جس کی گواہی 14 صدیاں دیتی ہے کہ جب جہاں بھی اسلامی نظام کو یا اس نظام کے کچھ حصے کو نافذ کیا گیا اس کے نتائج بہت مثبت آئے۔اسلام ی نظام عدل اتنا بہترین ہے کہ  پھر اس معاشرے میں کسی کو جرات نہیں کہ کوئی کسی کا حق مارے۔ نظام عدل میں مساوات یہ اسلامی نظام عدل کی بہت خوبصورت بات ہے کہ جس حیثیت کا بھی ہو گا اس کو بھی اسی طرح اپنا حساب دینا ہو گا جیسے ایک عام آدمی کو دینا پڑتا ہے۔ہر کوئی اپنے حق کے لیے تو بات کر رہا ہے لیکن جو اپنی ذ مہ داری ہے اسے ہم ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اسلام پہلے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا حکم دیتا ہے بعد میں اپنے حق کا۔اپنا حق تو بندہ معاف بھی کر سکتا ہے جبکہ ذمہ داری ادا کرنی ہوتی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام معاشرے او ر اس کی تشکیل کے لیے بہترین راہنمائی عطا فرماتا ہے۔اگر آپکا رویہ درست ہو تو دشمن بھی آپ کا احترام کرے گا۔اختلافات مثبت رویے سے تبدیل ہو سکتے ہیں۔والدین کے ساتھ حسن سلوک پر دین اسلام میں بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔کہ اپنے والدین کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آئیں۔ان کی فرمانبرداری لازم قرار دے دی گئی چاہے والدین کافر ہی کیوں نہ ہوں ان کے ساتھ احترام کا معاملہ رکھا جائے گا۔صرف اسلام کے خلاف کوئی بات نہیں مانی جائے گی اور وہ بھی احسن طریقے سے انکار کیا جائے گا۔اس کے علاوہ قریب والے لوگوں سے جن میں محلے داری،رشتہ داری آ جاتی ہے ان کے ساتھ بہت خوبصورت انداز سے مثبت رویہ رکھنے پر ان کے ساتھ معاملات کرنے پر ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنے کا کہا گیا ہے۔ایسے ہی یتیم اور مساکین کی معاونت اور مدد کا حکم ہے ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے سے اللہ کریم اتنا اجر عطا فرمائیں گے جتنے اس کا ہاتھ کے نیچے بال آ گئے۔لینا دینا کچھ نہیں اگر صرف شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام میں ہر کسی کو اس کا حق ملتا ہے۔جس سے معاشرہ خوبصورت تشکیل پاتا ہے۔سب کی ذمہ داریاں اور سب کے حقوق ارشاد فرما دئیے گئے ہیں۔اب فقدان صرف عمل پیرا ہونے کا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں.
یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 5،6  بروز ہفتہ اتوار ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنے قلوب کو منور کرنے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔اتوار دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔
Agar aap ka rawayya durust ho to dushman bhi aap ka ehtram kere ga - 1

بندہ مومن دوسروں کو زیر بحث لانے کی بجائے اپنی ذات کا محاسبہ کرتا ہے


معاشرے میں ایک روش عام ہوگئی ہے کہ ہم اپنے آپ کو چھوڑ کر دوسروں کو زیر بحت لا رہے ہیں۔جس سے خاندانی طور پر ہمارے درمیان فاصلے آگئے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم میں اپنے قرابت داروں کے ساتھ مدد  اور تعاون کرنے کا حکم ہے۔سوشل میڈیا کے استعمال سے ہم اپنے قریبی لوگوں کو چھوڑ کر میلوں دور رہنے والوں میں اپنا سکھ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی جو دعوی کرتا ہے اس کے ساتھ اس کی شہادت بھی ضروری ہوتی ہے۔بحیثیت مسلمان جب بات ایمان کی آتی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے یہ وہ کیفیت ہے کہ جب اللہ کریم کی عطا کی طرف دیکھیں گے تو امید رکھیں اور جب اپنی طرف دیکھیں تو بندہ کو خوف ہو۔اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات کی نافرمانی کرنا اور کامیابی کا دعوی بھی کرنا یہ درست نہیں۔ہمارے دعوے کے ساتھ ہمارے اعمال اس دعو ے کی شہادت دیں اگر دعوی ایمان ہے تو پھر عمل صالح اس کی شہادت ہوں گے اور عمل صالح کیا ہے؟ ہر وہ عمل جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہوگا وہ عمل صالح ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی نا فرمانی کرتا ہے، خطا کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اور اگر مسلسل نافرمانی کی جائے تو آہستہ آہستہ سارا قلب سیا ہ ہو جاتا ہے اگر توبہ کی جائے تو یہ سیاہی اتر جاتی ہے ورنہ قلب پر مہر ثبت کر دی جاتی ہے پھر توبہ کی توفیق بھی سلب ہو جاتی ہے اور بندہ حق سامنے ہوتے ہوئے قبول نہیں کرتا یعنی وہ اندھا ہے حق سن رہا ہوتا ہے لیکن اسے قبول نہیں کرتا یعنی بہرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضروریات کی تکمیل کے لیے کوئی نہ کوئی انداز انسان نے اختیار کرنا ہے یہی اعما ل جب دین اسلام کے مطابق کیے جائیں گے تواس سے خود بھی فائدہ ہوگا اور معاشرے میں بھی بہتری آئے گی اور اگر کوئی اپنی ذاتی پسند سے اپنے امور سرانجام دیتا ہے تواس سے خود بھی پریشانی اُٹھائے گا او ر معاشرے میں بھی اس کے برے اثرات ہوں گے۔انسان جیسے بھی اعمال اختیار کرتا ہے اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔مسلمان جب کوئی عمل کرتا ہے تو وہ اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے،اللہ کے لیے کرتا ہے۔
 اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
bandah momin doosron ko zair behas laane ki bajaye apni zaat ka muhasba karta hai - 1

بندہ مومن کے قلب کی قساوت کا سبب اللہ کی دی ہوئی بے شما ر نعمتوں کی ناشکری ہے


بندہ مومن کے قلب کی قساوت کا سبب اللہ کی دی ہوئی بے شما ر نعمتوں کی ناشکری ہے۔۔ کوئی بھی شخص جب دین اسلا م کو بطور ذریعہ معاش اختیار کرتا ہے اور اس کے اندر اپنے دنیاوی لالچ کو مقدم رکھ کر دین اسلام کے احکامات میں تبدیلی کرتا ہے تو اس کے لیے اللہ کریم کی طرف سے بہت بڑی وعید ہے۔بحیثیت مجموعی اگر دیکھا جائے کہ اس وقت جو جہاں جس جگہ بھی موجود ہے وہ اپنی حد تک دین اسلام کو ڈھال بنا کر اپنا ذاتی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے جو کہ ایک بہت بڑا جر م ہے ایسے اعمال کی وجہ سے مجموعی طور پر ہم پریشانیوں کے شکار ہیں۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے مزید کہا کہ روح میں حیات نور ایمان سے ہے اور نیک اعمال سے اس کو تقویت ملتی ہے۔دین کو اپنی عقل و خرد سے نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ نبی کریم ﷺ جب دین سکھا رہے تھے سمجھا رہے تھے تو صحابہ کرام ؓ کی جماعت سامنے تھی انہوں نے آپ ﷺ کے روبرو اس پر عمل کیا آپ ﷺ نے تصدیق فرمائی آج ہمارے پاس وہی دین پہنچا ہے جو آپ ﷺ نے صحابہ کو بتایا۔ہم اپنی مرضی سے اس میں کمی بیشی نہیں کر سکتے۔ذاتی علم سے دین کو سمجھنا اور سمجھانا ذاتی خواہشات تک لے جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب کوئی گستاخی کرتا ہے نا فرمانی کرتا ہے وہ لمحہ اس وقت بندے میں ایمان نہیں ہوتا وہ لمحہ بے ایمانی کا ہوتا ہے کیونکہ ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی اللہ کریم کی نا فرمانی نہیں کر سکتا۔اگر کوئی بہت بڑی گستاخی کر رہا ہے خلاف ورزی کر رہا ہے سوچیں وہ لمحہ کیسا ہوگا اس کے اثرات اس بندہ پر کیا ہوں گے۔اللہ کریم معاف فرمائیں۔ہم اپنی ذمہ داری کو بھول بیٹھے ہیں لالچ میں اندھے ہوچکے ہیں ہم نے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کو بھلا دیا ہے اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ میرے صبح شام کیسے گزر رہے ہیں جو کمی بیشی ہے اسے دور کرنے کی پوری کوشش کریں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Bandah momin ke qalb ki Qasawat ka sabab Allah ki di hui be shmar nematon ki na shukri hai - 1