Latest Press Release


ہمارے ذمہ اللہ کی مخلوق تک یہ پیغام پہنچانا ہے نتائج اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں

  موجودہ ملکی حالات (کورونا)کے پیش نظر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے 15 روزہ آن لائن تربیتی پروگرام کے اختتام کے موقع پر سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے صاحب مجازین،امراء اور تنظیم الاخوان پاکستان کے ذمہ داران جن میں صوبائی سطح سے لے کر تحصیل تک کے صدور،جنرل سیکرٹری،فنانس سیکرٹری اور سیکرٹری انفارمیشن شامل تھے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔
  انہوں نے کہا کہ سوچا نہ تھا کہ وطن عزیز میں حالات ایسے بھی آ جائیں گے کہ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر آن لائن اجتماعات کرنے پڑیں گے۔لیکن اللہ کریم کا اپنا نظام ہے۔ہر شئے کا مالک ہے جیسے اُسے پسند ہے اس کے حکم کے مطابق سارا نظام چل رہا ہے۔انفرادی طور پر کام کرنا اور اجتماعی طور پر کام کرنے میں فر ق ہے اجتماعی طور پر کام کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ہم سب اللہ کے دین کے لیے کام کر رہے ہیں اللہ کریم سب کی کاوش قبول فرمائیں۔مخلوق خدا تک کیفیات قلبی کا پہنچنا اور ان کیفیات کے پہنچانے میں اگر اللہ کریم نے ہمیں قبول فرمایا ہے سبب فرمایا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی عطا ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنا بھی جائزہ لیتے رہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ر ب کائنات کا احسان کہ اس نے اس کیفی شعبے سے منسلک فرمایا۔ہمارے ذمہ اللہ کی مخلوق تک یہ پیغام پہنچانا ہے نتائج اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں۔اللہ کریم تمام ذمہ دران کی کاوش قبول فرمائیں
Hamaray zimma Allah ki makhlooq tak yeh pegham pahunchana hai nataij Allah kareem ke dast qudrat mein hain - 1

ذکرقلبی اگر کسی کو مل جائے تو اس کو اللہ کریم نے اسم اعظم عطا فرمادیا

اسم اعظم سے یہ نہیں ہوتا کہ بندہ جو چاہے ویسا ہوجائے بلکہ اسم اعظم سے بندہ اللہ کریم کی رضا پر راضی رہتا ہے۔اُسے وہی پسند آئے گا جو اللہ کریم اس کے لیے پسند فرمائیں گے۔اور بندہ پھر دنیاوی تکا لیف اور آسائش کو اپنی ذات سے بالا رکھ کر رضائے باری تعالی کو سوچے گا۔ان خیالات کااظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے 15 روزہ سالانہ تربیتی پروگرام کے اختتامی بیان اور جمعتہ المبارک کے موقع پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان ریاست میں ہم اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ حضرت صدیق اکبرؓ اور خانوادہ رسول ﷺ جیسی ہستیوں کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے پھر بھی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگے تو سمجھ لیں کہ ہم اجتماعی طور پر غفلت میں پڑے ہیں۔جب اللہ کریم کی یاد سے بندہ غافل ہوتا ہے تو پھر یہی صورت حال پیدا ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے معاشرے میں ہے۔ہمیں اللہ کی یاد کو اجتماعی طور پر اپنانے کی ضرورت ہے اور صرف ذکر الہی،یاد الہی ہمیں بحیثیت قوم اس غفلت سے نکال سکتی ہے۔انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذکر پاس انفاس کا حکم براہ راست قرآن کریم  میں موجود ہے اور اس کا طریقہ بھی بتا دیا ہے اب ہم اگر اسے اختیار نہ کریں تو یہ ہماری کمزوری ہے یہی واحد طریقہ ہے جو بندہ مومن کو اندر سے تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے بندہ کو گناہ کڑوا لگتا ہے اور نیکی پر چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں 15 روزہ سالانہ تربیتی پروگرام جاری تھا جس کے شب و روز ذکر اذکار سے مزین تھے اور شیخ سلسلہ روزانہ سالکین سے ویڈیو لنک کے زریعے خطاب کرتے تھے۔سالکین ویڈیو لنک کے ذریعے اس پروگرام کو آن لائن جائن کرتے ہوئے اپنے شب وروز بسر کر رہے تھے آج جمعتہ المبارک کے بیان کے ساتھ اس تربیتی پروگرام کا اختتام ہوا جس میں شیخ المکرم مد ظلہ العالی نے خطاب فرمایا اور ملکی سلامتی اور کورونا سے حفاظت کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Zikr Qulbi agar kisi ko mil jaye to is ko Allah kareem nay Ism Azam ataa frma diya - 1

معاشرے کی حدود کو برقرار رکھنے کے لیے عدل کا مضبوط ہونا لازم ہے

پریس ریلیز 
  اُمت مسلمہ کا ماضی تابناک ہے اور اگر ہم غور کریں تو مسلمانوں نے پوری دنیا پر اسلامی اصولوں کو نافذ کیا اور پوری دنیا کو وہ اصول وضوابط عطا کیے جو اب تک کا فر ریاستوں میں اپنائے جا رہے ہیں یہ ہماری نالائقی اور کم عقلی ہے کہ ہم اپنے اس عظیم ماضی سے نا آشناء ہیں۔اور اپنی نئی نسل کو بھی اس سے آگاہ نہیں کر رہے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے نشان منزل کو حاصل کیا۔اپنا مال جان اللہ کی راہ میں بے دریغ قربان کر دیا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ 
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں جہاں دنیاوی معاملات تعلیم،صحت،معیشت اور عدالتی نظام میں انصاف کی ضرورت ہے وہاں مذہبی حدود و قیود کو ایسے رکھنا کہ ہر کوئی اپنی حد میں رہے تجاو ز نہ کرے یہ سب حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اگر وہ ایسا نہ کر سکے پھر سمجھ لینا چاہیے کہ حکومت اور صاحب اقتدار میں لوگ نا اھل ہیں۔اور ان کی گرفت جو کہ ہر شعبہ پر مضبوط ہونی چاہیے وہ نہ ہے۔ہر کسی کو زندہ رہنے کا حق ہے جب زندگی ہو گی تو ضروریات زندگی بھی ہونگی۔یہ سب ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے اور انصاف بغیر کسی تفریق کے سب کو ملنا چاہیے۔خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔کسی بھی معاشرے کی حدود کو برقرار رکھنے کے لیے عدل کا مضبوط ہونا لازم ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
muashray ki hudood ko barqarar rakhnay ke liye Adal ka mazboot hona lazim hai - 1

سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی وفات پرامیر عبدالقدیر اعوان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا

سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن کی وفات پر شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے انکے خاندان اور تمام جماعت اسلامی کے کارکنان و ذمہ داران سے اظہار تعزیت کی اور اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی ملک و قوم کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ کریم مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں۔

sabiq Ameer jamaat islami syed Munawar hassan ki wafaat par Ameer Abdul Qadeer Awan ne gehray dukh aur afsos ka izhaar kya - 1

مفتی نعیم کی دین اسلام کے لیے خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا

 جامع بنوریہ سائٹ کراچی کے مہتمم اور ممتاز عالم دین مفتی نعیم کے انتقال پر تنظیم الاخوان پاکستان کے امیر عبدالقدیر اعوان نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔مفتی نعیم کے صاحبزادے مفتی نعمان سے تعزیعت کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ مفتی نعیم کی دین اسلام کے لیے خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔مرحوم نے اپنے مدرسے کے زریعے دنیا کے کئی اسلامی ممالک کے لیے حفاظ اور عالم دین پیدا کیے ان کے ہاتھوں لاتعداد غیر مسلموں نے دین اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔مرحوم نہ صرف عالم دین تھے بلکہ ایک بہترین منتظم او رسیاسی وسماجی شعور رکھنے والی شخصیت تھے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام کے لیے مرحوم کی خدمات کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے وہ کفر کے خلاف ہمیشہ سینہ سپر رہے دین کے خلاف کسی بھی قانون سازی پر آواز بلند کرتے رہے۔انہوں نے مفتی نعمان اور دیگر لواحقین کے لیے صبر جمیل اور مرحوم کے درجات کی بلند ی کے لیے دعا کرتے ہوئے  اس یقین کا اظہار کیا کہ اب ان کے شاگرد اور اولاد مرحوم کے مشن کو جاری رکھیں گے۔
Mufti Naeem ki deen-e- islam ke liye khidmaat ko faramosh nahi kiya ja sakta - 1

مضبوط حکمت عملی ترتیب دے کر عوام الناس کو آسانیاں مہیا کی جائیں

  صاحب اختیار ہونا اور بحیثیت حکمران حکومت کرنا بہت اچھا نظرآتا ہے لیکن اگر اس کے دوسرے پہلو کو دیکھیں کہ ہر ایک نے اللہ کریم کو جواب دہ ہونا ہے اور جتنا جس کے پاس اختیار ہو گا اتنے لوگوں کا جواب بھی اس کو دینا ہو گا۔وہ وقت اپنے سامنے رکھ کر ملک میں اصلاحات لائی جائیں مضبوط حکمت عملی ترتیب دے کر عوام الناس کو آسانیاں مہیا کی جائیں جو کہ ہر شعبے میں پِس رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں وبائی مرض کورونا بہت زیادہ پھیل گیا ہے اس لیے ہر فرد ذمہ دار شہری کا ثبوت دیتے ہوئے جہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرے وہاں اگر کوئی اس وبا میں مبتلا ہو جائے تو اسے چاہیے کہ خود کو اپنے گھر میں ہی علیحد ہ کر لے جہاں اس کی فیملی اس کا خیال رکھیں کیونکہ ہسپتالوں میں اب جگہ نہیں رہی ہے۔اور بحیثیت مجموعی اس بحث سے بھی نکل آئیں کہ یہ حکومت کی غلطی ہے یا کسی ادارے کی غلط حکمت عملی ہے۔بلکہ اپنوں کے لیے اپنے ملک کے لیے اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں اس بات کو ذہن سے نکال کر کہ میرے کرنے سے کیا ہو گا۔ابابیل کے تین پتھر دو پنجوں میں اور ایک چونچ میں صرف حکم کی تعمیل ہو رہی تھی نتائج اللہ کریم مرتب فرما رہے تھے کہ اُن پتھروں سے نتیجہ کیا نکلے گا اس میں ابابیل کا کوئی دخل نہیں۔اسی طرح ہم مکلف ہیں اپنے حصے کا کردار ادا کریں نتائج اللہ کریم کے دستِ قدرت میں ہیں۔ہمیں چاہیے کہ خود کا محاسبہ کریں اپنے آپ کوآئینہ میں دیکھیں اپنے اعمال دیکھیں،مقابلے چھوڑ دیں بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے جتنی فرصت تھی بسر کی اور دنیا سے چلے گئے یہ وقت بھی گزر جانا ہے۔آئیں اپنے کردار کو اللہ کے حکم کے تابع لے آئیں اپنی کمزوریوں کو دور کریں۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور استقامت فی الدین عطا فرمائیں۔
Mazboot Hikmat-e-Amli tarteeb dey kar Awam-al-naas ko aasaniyan muhayya ki jayen - 1

جب بندہ مومن اپنی اصل یعنی دین اسلام سے دور ہوتا ہے تو پھر اس پر ہر شئے حملہ آور ہوتی ہے

بندہئ مومن جب اپنا تعلق حضوراکرم  ﷺ مضبوط کر لیتا ہے توان برکاتِ نبوت کو حاصل کر رہا ہوتا ہے جو سینہ ئ  اطہر
 محمد رسول اللہ ﷺ سے آ رہی ہوتی ہیں یہ مٹی سے بنا بشر اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ جنات اور دیگر غیر مرئی مخلوق نزدیک بھی نہیں آ سکتی چہ جائیکہ وہ اس پر اپنا اثر چھوڑیں۔ان خیالات کا اظہار حضرت امیر عبد القدیر اعوان، شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان نے دارالعرفان میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
انہوں نے مزید یہ کہا کہ جب انسان اللہ کریم سے دور ہوتا ہے اعمال میں کمزور ہوتا ہے تو بالکل اسی طرح جس طرح بدن فزیکل کمزور ہو تو اس پر ہر قسم کے جراثیم حملہ آور ہوتے ہیں اسی طرح جب بندہ مومن اپنی اصل یعنی دین اسلام سے دور ہوتا ہے تو پھر اس پر ہر شئے حملہ آور ہوتی ہے اس لیے دنیاوی طاقت و دولت ہونے کے باوجود بے سکونی و بے چینی میں ہوتا ہے۔ بظاہر اگر بہت اعلیٰ حیثیت کا بندہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ ایمان کی کمزوری اور آپ  ﷺ سے تعلق کا کمزور ہونا ہے۔ بے ایمانی بندے کو اندھا اور بہرہ کر دیتی ہے اور نہ حق کو سنتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے۔ 
آخر میں انہوں نے کہا کہ اپنے فرائض کا خیا ل کریں اور خصوصاً نماز کی ادائیگی بروقت کریں۔ باوضو  رہیں اس عمل سے آپ پر جادو ٹونہ کا اثر نہیں ہو گا۔ پنتالیس سال کے عرصے کا شاہد ہوں کہ اگر کوئی جنات کی گرفت لے کر آیا اور اس کا علاج کیا اور اسے جو عمل بتایا، اسے اختیار کیاتو آج تک ایک بندہ بھی ایسا نہیں جو یہ کہے کہ اس پر جنات کی گرفت رہی ہے۔ کیا ہوتا ہے یہاں سوائے اس کے کہ اللہ اللہ کی تکرار اور اتباعِ رسالت ﷺ کے تحت نقش دیئے جاتے ہیں۔ معاشرے میں منفی سوچ اس حد تک ہو گئی ہے کہ دینی شعبہ جات میں بحث مقابل کی آ جاتی ہے جو کہ فساد کا سبب ہے حالانکہ یہ بہتر اور بہترین والی بات تھی۔ وبائی مرض نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے ٹڈی دل زراعت میں تباہی کر رہی ہے۔ موسم کا رد و بدل ایسا ہے کہ وہ مخلوقِ خدا پراثر انداز ہو رہا ہے۔ 
یہ سبب کیا ہے؟ یہ ہمارے اعمال کی کمزوری ہے اور ہمیں رجوع الی اللہ ہو کر توبہ کرنی ہو گی تاکہ اللہ کریم ہم پر رحم فرمائیں اور اس سے نجات حاصل ہو۔امین
jab bandah momin apni asal yani Deen-e-Islam say door hota hai to phir is par har shye hamla aawar hoti hai - 1

بے حیائی معاشرے میں خرابی کا سبب ہے

 
 رب کائنات نے آسمان کی بلندیوں سے پانی برسایا اور ہر شئے میں حیات آئی۔وہ خالق ہے اور اس کی طرف سے عطا ہی عطا ہے اور باقی سب مخلوق ہے جوکہ محتاج ہے جب دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے خیال کریں کہ میری تو کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ سمجھ آجائے تو پھر اپنے اندر موجود اکڑ اور تکبر کو ختم ہو جاتا ہےاور بندہ مومن معاشرے میں ھمدردی اور دوسروں کی عزت کا خیال رکھتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ اُن قوانین اور اصولوں پر استوار ہوئی کہ وہ رہتی دنیا تک اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ صدیاں پہلے تھے۔بس ان کو اپنانے کی ضرورت ہے۔اور دوسری طرف انسانی قوانین دیکھیں تو کچھ ہی وقت میں ان میں ترمیم کی ضرور ت پیش آ جاتی ہے۔اگر عدل میں مساوات ہمیں پسند نہیں تو نتائج بھی تو ایسے ہی ہوں گے۔
  کراچی ہوائی جہاز کے حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا پر اس حوالے سے مختلف قسم کی بحث چھڑی ہوئی ہے لیکن کہیں کوئی توبہ کی بات نہیں کر رہا اسی طرح کورونا وبائی مرض پر بھی بات ہو رہی ہے اور اسے عذاب الٰہی کہا جا رہا ہے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ ہمارے لیے دستک ہے کہ ہم اپنے کردار کو درست کریں اور خود کو اسلام کے مطابق ڈھال لیں اور اللہ کریم سے بحیثیت قوم خلوص سے توبہ کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
be hiyai muashray mein kharabi ka sabab hai - 1

ماہ مبارک میں نفس کے ساتھ کیے گئے جہادکا اثر آنے والے رمضان تک ہماری زندگیوں میں رہنا چاہیے

 رمضان المبارک کی آخری ساعتیں ہیں لیکن یاد رکھیں کہ رمضان المبارک ہماری زندگیوں سے نہ جائے بلکہ اس ماہ مبارک میں جو تربیت اس نفس کی کی ہے وہ آنے والے رمضان تک ہمارے اعمال میں رہے اور ان کاموں سے اپنے آپ کو باز رکھیں جن سے دین اسلام منع فرماتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے جو جہاد میدان کارزار میں کیا جاتا ہے وہ جہاد اصغر ہے اور جومجاہدہ نفس کے ساتھ کیا جائے اور اپنی خواہشات کے خلاف جایا جائے تویہ جہاد اکبر کہلاتا ہے۔اور یہ بندہ مومن کے ساتھ ہر لمحہ پیش آرہا ہوتا ہے۔اور اسی کی تیاری اس ماہ مبارک میں کی جاتی ہے یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم ہے۔یہ ان میں سے کوئی ایک رات ہو سکتی ہے۔صرف ستائیسویں شب کو شب قدر کہہ دینا درست نہیں ہے۔
یہ امت محمد یہ ﷺ پر بہت بڑا کرم ہے کہ یہ رات عطا ہوئی جو کہ ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے چونکہ پہلی امتوں کی عمریں زیادہ تھیں اس لیے وہ زیادہ عبادات کرتے تھے تو اللہ کریم نے بوساطت ِ محمد الرسول اللہ ﷺ لیلۃ القدر عطا فرمائی۔انہوں نے چاند رات کے حوالے سے کہا کہ یہ رات لیلۃ الجائزہ ہے اور اجر ملنے کی رات ہوتی ہے جس میں مزدور کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے بالکل اسی طرح اس رات میں روزہ دار کو بے پناہ اجر عطا ہوتا ہے۔اور اس کے گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے اس رات کو مختلف لایعنی کاموں میں نا گزارا جائے اور اس قیمتی رات  میں اللہ کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے۔اسی طرح عید الفطر کے دن اپنی خوشیوں میں ان لوگوں کوبھی شامل کیا جائے جو کہ اس وقت نادار اور مفلس ہیں اور اپنے بچوں کو جوتی اور کپڑا نہیں لے کر دے سکتے۔ ان کی مدد کر کے انہیں بھی عید کی خوشیوں میں ساتھ شامل کیا جائے۔
آخر میں انہوں نے مجدد سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت مولانا اللہ یار خاں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہستی تھیں جنہوں نے تصوف و سلوک سے تمام خرافات کو نکال باہر کر کے خالص کر دیا اور پھر قاسم فیوضات حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے دنیا کے دوسرے کونے تک اس نعمت عظمی کو پہنچایا اور اب بھی ہر روز رات کو آن لائن ذکر قلبی پوری دنیا میں کرایا جاتا ہے۔اللہ کریم مشائخ عظام کی قبور کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔دعا ہے کہ اللہ کریم وطن عزیز اور پوری دنیا میں پھیلی اس وبا کو ختم فرمائیں اور جو اس مرض میں مبتلا ہیں انھیں صحت کاملہ نصیب فرمائیں۔
Ramzan-ul-Mubarak K Asrat - 1

جب بھی کوئی دین اسلام کے کسی حکم کے خلاف جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ اس کی انا اور تکبر ہوتا ہے

انا اور تکبر تجاوز کے درجے میں چلا جاتا ہے اور قرآن مجید اس کو ظلم فرما رہا ہے۔ایسے بندے کی گرفت موت کے آنے پر ہی شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ بندے کے اندر تکبر ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کو اہمیت نہیں دیتے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو جب ان کی موت کا وقت ہوتا ہے اور فرشتے ان کی روحیں قبض کر رہے ہوتے ہیں تو ان پر وہ سختی ہورہی ہوتی ہے،ذلت کی ایسی سزا دی جا رہی ہوتی ہے جس کا ادراک ان ہی کو ہو سکتا ہے۔یاد رکھیں کہ موت وہ دروازہ ہے جو کہ آخرت کے سفر میں پہلاقدم ہے اگر یہاں پر اللہ کریم مہربانی فرمادیں تو آگے کی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔لیکن یہاں اگر کوئی اپنے اعمال بد کی وجہ سے پکڑ میں آگیا تو پھر آگے بھی اسکے لیے سختیاں ہی سختیاں ہیں۔اللہ کریم نے ہمیں یہ وقت دیا ہے کہ ہم اس کو قیمتی جانتے ہوئے نیک اعمال اختیار کریں۔
 ٍ انہوں نے معتکفین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتکاف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ سب سے کٹ کر متوجہ الی اللہ ہوجانا۔اور خود کو ایسے محسوس کریں کہ جیسے دنیا والوں سے رشتہ داروں سے گھر والوں سے اب آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا جیسے کوئی قبر میں اُتر جائے تو اس جہان سے وہ بے نیاز ہو جاتا ہے بلکل خود کو اعتکاف کے دوران ایسے ہی رکھنا چاہیے۔اور اللہ کریم نے اس عشرہ میں شب ِقدر عطا فرمائی جو کہ ہزارمہینوں سے بہتر ہے اللہ کریم سب کے نصیب میں کرے اور ہم اس عشرہ سے ایسے فائدہ اُٹھائیں اپنی روحوں کو ایسے منور کریں کہ اگلے رمضان المبارک تک اس کی روشنی سے ہم اپنے گیارہ مہینے گزار سکیں۔
  یاد رہے کہ اس سال سنت اعتکاف جو کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں اجتماعی طو ر پر ہوتا ہے موجودہ ملکی صورت حال کے پیش نظر حکومتی احتیاطی تدابیر کو یقینی بناتے ہوئے عمل کیا جا رہا ہے ۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Takabbur - 1