Latest Press Releases


کلمہ حق پوری انسانیت کے لیے نقطہ اتحاد ہے


 دین اسلام سب کو برابری کا حق دیتا ہے۔جب بندہ کلمہ حق کا اقرار کرتا ہے پھر اس کی تمام استعداد مثبت پہلوؤں  پر استعمال ہوتی ہے پھر وہ اپنی صلاحتیں ترویج دین کے لیے استعمال کرتا ہے۔دین اسلام کی تعلیمات اسے ایثار پر لے آتی ہیں جو جانوروں کے پانی پینے پر ایک دوسرے کی گردنیں اڑا دیتے تھے پھر وہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگتے ہیں۔بندہ جب اعتدال سے ہٹتا ہے تو پھر معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔دین اسلام پر عمل پیرا ہونے سے بندہ اعتدال میں آجاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی امتحان گاہ ہے جو اقرار کیا ہے اس پر تا دم واپسی قائم بھی رہنا ہے۔یہ اصلاح نہیں کہ اقرار کرنے کے بعد بھی امور سارے انکار والے ہوں۔ہم نے جو اقرار کیا ہے ہمارے اعمال اس دعوے کے گواہ ہوں۔ہر غیر صالح عمل فساد پیدا کرتا ہے۔ہمارا غیر صالح عمل سے نا صرف ہم خود متاثر ہوتے ہیں بلکہ پوری کائنات میں اس کا اثر جاتا ہے۔بے عملی فساد فی الارض کا سبب بن جاتی ہے۔جیسے حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ اگر عمر ؓ حیات ہوتے تو جانور کسی دوسرے کی زمین سے چارہ نہ کھاتے۔مطلب ہمارے اعمال سے کائنات کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ جس طرح موسم بدلتے ہیں یہ حالات بھی بدلیں گے۔اللہ کریم ہمیں وہ وقت دکھائیں جب اسلام کا نفاذ ہو۔جہاں مخلوق کو انصاف نصیب ہو رہا ہو۔ہم کمزور لوگ ہیں ہم زبان بھی ان کی بول رہے ہیں جن کے پاس طاقت ہے۔انہی کی پیروی کر رہے ہیں۔جب ہم اپنی بنیاد جو ایمان ہے اس پر عمل کریں گے تب ہی ہم اپنے ملک کی بھی تعمیر کر پائیں گے۔56 اسلامی ریاستیں ہیں اور ساری مار کھا رہی ہیں۔ہمارے اندر اتنی تلخیاں آچکی ہیں کہ کوئی کسی دوسرے کو دیکھنا تو کجا سننا پسند نہیں کرتا۔ہماری اس تفریق کی وجہ ہمارے اعمال بد ہیں۔اپنی ذات سے نکل کر سوچنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Kalmah Haq puri insaniat key lie nuqtah itehad hai - 1

دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو


لہ کریم قرآن کریم میں فرما رہے ہیں کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اس کے لیے بھی خلوص اولین شرط اور دوسروں کی اصلاح مقصود ہو۔اپنی ذات کی بڑائی منوانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ بندہ خود باعمل ہو اور جو وہ کہہ رہا ہے اس پر یقین ہو اس سے وہ قوت عطا ہوتی ہے کہ کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ کوئی خواہ مخواہ اعتراض کرسکے۔دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کا اعلی درجہ ہے۔جس نے اسلام قبول کر لیا وہ پابندہے کہ حکم الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرے۔دین پر عمل کرانے کے لیے قوت نافذہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جیسے بے نمازی کے لیے حکم ہے کہ اسے سزا دی جائے اگر کوئی بے نمازی فوت ہو جائے تو اس کا نماز جنازہ بھی نہ پڑھا جائے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا حکومت وقت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔یاد رکھیں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کوئی فرد واحد یا جماعت اگر ایسا کرے گی تو انتشار پیدا ہوگا 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں اگر خلوص ہو اور مقصد حق ہو تو کوئی بھی آپ کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن جب مقصد ذاتی خواہش بن جائے پھر فساد پیدا ہوگا۔دین میں سختی نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی کو زبردستی کلمہ نہیں پڑھا سکتے اس کی دین اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو زوربازو دین میں داخل کیا جائے لیکن جب کوئی اسلام قبول کر لیتا ہے پھر لازم ہے کہ دین پر عمل بھی کرے اس کے لیے اس پر سختی کی جا سکتی ہے۔اللہ کریم دین کے نام پر ہونے والے فسادات سے ہماری حفاظت فرمائیں۔اللہ کریم نے جو جس کی ذمہ داری لگائی ہے اگر سب اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کریں گے پھر مصیبت اور پریشانیاں اور عذاب آئیں گے۔کامیابی وہ ہے جو دنیا و آخرت میں نصیب ہو اسے کلی کامیابی کہا جائے گا۔یہ دنیا چند روزہ ہے ایک دن آنے والا ہے جب رشتوں کی بھی پرواہ نہیں ہوگی ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی آج وقت ہے اس دن کی تیاری کی جائے اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لیا جائے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Dawat haq ka maqsad sirf Allah ki Raza ho - 1

آج بھی اسلامی معاشروں میں شیطنت کا بیج بویا جا رہا ہے


 اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ کوشش صحابہ کرام ؓ کی عہد میں بھی کی جاتی رہی۔قرآن مجید میں اس کا حل ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا مے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔آپ ﷺ نے اجماع اُمت پر زور دیا کہ اتفاق واتحاد میں دشمن کو جرات نہ ہو گی کہ آپ کو نقصان پہنچا سکے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری اُمت میں 73  فرقے ہوں گے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جو حق پر رہے گا۔باقی فرقے جو ہیں ان کا راستہ دوزخ کا رستہ ہے۔عرض کی گئی کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا فرقہ حق پر ہے تو ارشاد فرمایا جو میری اور میرے صحابہ کی راہ پر چلے گا۔اجماع کی بنیاد ہی یہی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں گے۔انسانی زندگی کے ہر عمل میں دین اسلام راہنمائی فرماتا ہے۔ قیامت تک جو سوال بھی انسانی زہن میں آئے گا اس کا جواب قرآن کریم سے دیکھیے گا آپ کو مل جائے گا۔اگر قرآن کے اصول کے مطابق اسلامی ریاست کا قیام ہوگا پھر شاہ و گدا برابر ہوں گے۔آج فساد کی وجہ ہی یہ ہے کہ طاقتور کہتا ہے جو میں چاہتا ہوں ایسا ہو۔قرآن کریم کو اس انداز سے پڑھیں کہ میرے اللہ کریم مجھ سے مخاطب ہیں۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد ہی یہ ہے کہ پورے دین اسلام پر عمل کیا جائے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Aaj bhi islami maashron mein sheetnat ka beej boya ja raha hai - 1

اسلامی نظام عدل سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں


اسلام کے مطابق اگر نظام عدل قائم کیا جائے اس سے انتشار کی بجائے باہم اتفاق و اتحاد ہوگا۔ دین اسلام انسان کو انسانیت سکھاتا ہے۔اگر کوئی جرم کرتا ہے اسے اسلام کے مطابق سزادی جائے اس سے معاشرے میں بہتری آئے گی آج مدارس پر بات کی جاتی ہے بات مدارس یا یونیورسٹیوں کی نہیں ہے بات عدل اور انصاف کی ہے کہ قانون کا اطلاق کیسا ہے؟ ہمارے مسائل کی بڑی وجہ قانون کے نفاذ کا نہ ہونا ہے۔زندگی کے ہر پہلو میں اسلامی قوانین موجود ہیں اللہ کے کلام میں راہنمائی موجود ہے۔ ہر نا فرمانی اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنتی ہے۔دوسروں سے بحث کرنے کی بجائے خود کو دیکھیں کہ ہم صبح سے شام تک کتنا اللہ کا حکم مانتے ہیں اور کتنا تجاوز کر رہے ہیں۔
 ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی شان کی بلندی کا ادراک کسی کو نہیں ہے۔ہمارے ذمہ وہ حصے ہیں جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ہم اطاعت کے مکلف ہیں اور اسی کے جواب دہ ہیں۔ہمارے اعمال ہمارے دعوے کا ساتھ نہیں دے رہے۔ہم نے اپنے اعمال بد سے اپنے قلوب کو تالے لگادئیے ہیں۔نہ حق نظر آ رہا ہے نہ حق کی سمجھ آ رہی ہے۔ہر گناہ خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔ایمان بندے کو اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ بندہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے۔اللہ کا احسان کہ ہمیں صاحب ایمان ہونا نصیب فرمایا ہم زندگی کے مختلف ادوار سے گزر رہے ہیں یہ جہان فانی ہے ہر جاندار کو موت واقع ہوگی ہم اصول و ضابطے بھی اپنی خواہش پر مرتب کرتے ہیں لیکن صاحب ایمان کی نشانی یہ ہے کہ اس کی زندگی بدل جاتی ہے اس کی زندگی کے ہر پہلو کا انحصار اللہ کریم کی طرف ہو جاتا ہے۔وہ اپنے ہر عمل میں اطاعت کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Islami nizaam Adal se hi insaaf ke taqazay poore ho satke hain - 1

اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ کا رشتہ نصیب ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے


 اجیر درِ مصطفے ﷺ ہونا دونوں جہاں کے لیے یہی تعارف کافی ہے۔آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔درجہ رسالت میں تمام خصوصیات شامل ہیں۔جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوتی ہے انہیں جو جلا نصیب ہوتی ہے وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں؟وہ لوگ کفار کے ساتھ سخت اور آپس میں نرم اور محبتیں بانٹنے والے ہوتے ہیں۔غیر مسلم بھی جہاں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے اصول اور ضابطے اختیار کرتا ہے وہ دنیا میں آگے ہے اور جب بحیثیت مسلمان کی بات آئے تو عبادات کی ہو یا معاملات کی ہر لمحہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم آپ ﷺ کے ارشادات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔اللہ کریم کو ہمارے سجدوں کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی ذات سزاوار ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے۔ہمارے لیے شرف ہے کہ ہم اس کی بارگاہ میں سربسجود ہوں جو نماز نہیں پڑھتے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ کریم ان سے ناراض ہیں کہ انہیں سجدہ کی توفیق نہیں مل رہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ دارالسلام سوسائٹی کورنگی کراچی میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قومیں طاقتور تب بنتی ہیں جب ہر فرد یہ سوچے کہ میری ذمہ داری کیا ہے؟جب ہماری سوچ یہ ہو کہ مجھے کیا ملے گا وہ قومیں وہ تنظیمیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔جو استعداد ہمارے پاس  ہے وہ اپنے ملک و قوم کے لیے استعمال کریں ایک مثبت لفظ ادا کرنا بھی ایک درجہ کا حصہ بن جائے گا۔اس جذبے کی ضرورت ہے کہ میں کیا دے سکتا ہوں۔جب قومیں ایثار کا جذبہ رکھیں گی اللہ اور اس کے رسول کے مطابق چلیں گیں تو مضبوط ہو ں گی۔اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اعوان قوم کو نسبی رشتہ بھی عطا فرمایا اور ایمانی رشتہ بھی نصیب ہوا۔خانوادہ رسول ﷺ کی قربانی کو دیکھیں کبھی کسی نے شکایت سنی اس قربانی کی۔ہمیں اکڑ نہیں ایثار کی ضرورت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں درِ مصطفے ﷺ سے یہ تربیت نصیب ہوتی ہے کہ سانس ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جائے پانی کا گھونٹ پہلے اپنی بھائی کو دیں۔ہمیں اپنے درمیان اسے تلاش کرنا ہے۔ہمارے اجداد نے قربانیاں دیں ہیں ہمیں بھی اس ملک کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اچھائی کو اپنائیں ہمارے کردار سے اس اچھائی کی خوشبو آئے ہم اچھائی کو باتوں تک نہ رکھیں اسے اپنے کردار اپنے عمل تک لائیں۔ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری سیاست اس ملک کے لیے ہے یا ذاتی خواہش کے تحت ہے؟یہ پارٹیاں بھی ہم ہی چلا رہے ہیں یہ ادارے بھی ہمارے ہیں،شہداء کی لاشیں جب آتی ہیں تو ہمارے ہی بچے ہیں جو قربانی دے رہے ہیں ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے اس میں تفریق  نہ ڈالیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کا انعقاد تنظیم الاعوان سندھ نے کیا۔جس میں ہر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس کے علاوہ تنظیم الاعوان سندھ کے چیئر مین فاروق اعوان،صدر زاہد اعوان،وائس چیئر مین راشد اعوان،کنونیئر جناب مہتدی اعوان،صدر یوتھ سندھ نعیم اعوان،فنانس سیکرٹری رضوان اعوان سمیت تمام اضلاع کے صدور اور دیگر عہدیداران شریک تھے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ummat Mohammad UR Rasool Allah SAW ka rishta naseeb hona Allah kareem ka bohat bara ahsaan hai - 1

قرآن کریم میں ہر طرح کے مسئلے کی راہنمائی موجود ہے


 ہمارے تمام مسائل کا حل اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں میں ہے۔قرآن کریم میں ہر طرح کے مسئلے کی راہنمائی موجود ہے۔قرآ ن کریم کے مخاطب ہمیں اپنے آپ کو سمجھنا چاہیے۔1980 میں مسجد دارالعرفان کی پہلی اینٹ رکھی گئی اور فرمایا کہ اس جماعت کے لوگ تائید عیسویں میں شامل ہوں گے۔آپ ﷺ کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے۔آپ ﷺ نے ہر سوال کا جواب ہر مسئلے کا حل بیان فرما دیا ہے۔جو کسی کا بے لحاظ ہو وہ اُس سے مستفید نہیں ہو سکتا۔جب تک بندہ مومن اللہ کے حکم پر قائم رہے گا اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ ہم زندگی کے اصول اور اسلوب میں ان لوگوں کی پیروی کررہے ہیں جو اللہ کا انکار کرتے ہیں جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں جو اپنی خدائی کے دعویدار ہیں۔پھر مسائل کیسے حل ہوں گے۔معاشرتی و معاشی تکالیف کیسے دور ہوں گی؟ایک دوسرے کا لحاظ تو کجا خونی رشتوں کے تقدس پامال ہو رہے ہیں۔ہم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات پر عمل کرنے کی بجائے اپنی عقلمندی پر انحصار کر رہے ہیں۔
  باطنی حصہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کے لیے فرائض کی ادائیگی کے بعد جو محنت و مجاہدہ کرتے ہیں انہیں قرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔کیفی حصہ کو صدری علوم کہتے ہیں یہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہیں۔شیخ اور سالک کے رشتے میں مزید خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ اخلاص نہ ہوتو ممکن نہیں کہ کوئی فیض حاصل کر سکے۔ولایت کسبی ہے وہبی نہیں محنت و مجاہدہ سے ولایت کی بلندیاں حاصل کی جاسکتی ہیں جتنی کسی کو اللہ کریم عطا فرما دے۔مسلمان کی شان نہیں ہے کہ عمل میں متزلزل ہو۔اُسے پتہ ہے میرے اللہ نے کیا فرمایا نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا بات ختم۔دو وقت کا ذکر غفلت سے نکال دیتا ہے حفاظت الہیہ نصیب ہوتی ہے ۔یہ جماعت مجھے بڑی عزیز ہے۔میں نے پوری کوشش کی ہے کہ جو میرے شیخ کی میرے پاس امانت ہے اس کی ذمہ داری صدق دل سے نبھاؤں۔سلسلہ اور سلسلے کے امور میں، میں نے کبھی دانستہ غلطی نہیں کی۔یہ اللہ کا احسان ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے مشائخ عظام کے بلندی درجات کے لیے خصوصی دعا فرمائی
Quran e Kareem mein har tarah key masale ki rehnumai mujood hai - 1

قرآن و سنت سپریم لا ء آف پاکستان ہے


 قرآن و سنت سپریم لا ء آف پاکستان ہے۔ اس قانون کے ہوتے ہوئے ہمارا معاشی نظام سودی ہو سکتا ہے؟کیا سودی معیشت قرآن و سنت کے تحت آسکتی ہے؟آج مسلمان حکمران جب اقوام عالم کے حکمرانوں سے ملتے ہیں میٹنگز کرتے ہیں دونوں کے حلیے،لباس اور بودوباش میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ہم پہچان نہیں سکتے کہ مسلمان حکمران کونسا ہے اور غیر مسلم حکمران کون سا ہے۔ایسے ہی ہمارے لوگ بھی لباس میں عادات میں ایک ایک پہلو میں مغرب کی پیروی کرنے کی کوشش کر تے ہیں اور پھر ہم کہتے ہیں کہ ہم ان کے برابر ہو جائیں جب کسی کی پیروی کی جائے پھر اس کے برابر نہیں ہمیشہ اس کے پیچھے رہیں گے کبھی برابری نہیں کرسکتے آگے نکلنا تو دور کی بات ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ مدینہ منورہ کی زندگی آسان نہ تھی 80 سے زائد غزوات و سرائیہ ہوئے اور ایسے بھی ہوا کہ ھتیار باندھ کر سویا جاتا کہ کسی وقت بھی اعلان جنگ ہو سکتا ہے۔مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے اسلامی قوانین کا ایسا نفاذ فرمایا کہ معلوم دنیا کے تین حصوں پر اسلام کا نفاذ فرمایا۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد 6،7 دسمبر بروز ہفتہ اتوار ہو گا اور اسی دن حضرت مولانا محمد اکرم اعوان ؒ کا یوم وصال بھی ہے۔اتوار دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیرا عوان مد ظلہ العالی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے
Quran o Sunnah supreme law of pakistan hai  - 1

تمام امیدیں اور توقعات اپنے اللہ سے رکھیں


تمام امیدیں اور توقعات اپنے اللہ سے رکھیں اور توکل کی دولت نصیب ہو تو ہم مخلوق کی خوشنودی سے نکل کر اللہ کی رضا کے لیے عمل کریں اور ہماری نمازیں،رکوع و سجود کی ہمیں خبر نہیں ہوتی ہے کہ ایک سجدہ کیا ہے یا دورکعتیں پڑھی ہیں پھر سجدہ سہو کررہے ہوتے ہیں۔ ادائے صلوٰۃ اگر پوری توجہ اور خشوع کے ساتھ کی جائے تو پھر توکل کی دولت نصیب ہوتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لاہور اویسیہ سوسائٹی میں ماہانہ اجتماع کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب
ہمارا طریقہئ انتخاب ایسا ہے کہ ہم جب رائے لیتے ہیں تو ایک چرواہے کا ووٹ اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر کا برابر ہے حالانکہ جس کے لیے آپ مشورہ کررہے ہوتے ہیں تواس شعبہ کے صاحب الرائے سے لیا جائے۔جس کی مثال ہمیں آپ ﷺ کے وصال کے بعدحضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتخاب اور پھر حضرت عمرفاروقؓ بحیثیت امیر المومنین کا انتخاب، سب اس وقت صحابہؓ  کی منتخب جماعت سے مشاورت کے تحت عمل میں لایا گیا۔
نظم اور قانون کا اطلاق انسانی معاشرے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہرپہلوکی راہنمائی سنت خیرالانام میں موجود ہے۔بات وہی ہے جواللہ نے ارشاد فرمائی اور حضوراکرم ﷺ نے اس پر عمل کرکے دکھایا۔حضور اکرم کی زندگی مبارک میں تربیت کے ساتھ قانون اور اس کا نفاذ بھی موجود ہے جب انصاف نہیں ہوگا تو معاشرے میں استحکام نہیں آئے گا۔
انفاق فی سبیل اللہ توکل کرنے والوں کا وصف ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ سے مراد ذہنی،جسمانی اور دماغی استعداد کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا ہے۔
وطن عزیز پاکستان ریاست ِ مدینہ کے بعد دوسری ریاست ہے جو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے نام پر قائم ہوئی۔اللہ کریم ہمیں اس کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائیں۔وطن عزیزہمارا گھر ہے اس طرح ہمیں ایک قوم بن کر اس کی حفاظت کرنی چاہیے
Tamam Umeeden aur tawaquaat apne Allah sy rakhain - 1

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی زیلی فلاحی تنظیم ہے جس کا مقصد ملک بھر میں انسانیت کی بے لوث خدمت ادا کرنا ہے

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام أج مورخہ 29 نومبر کو پرل کانیننٹل ہوٹل لاہور میں ملک گیر نیشنل کانفرنس "Healing the Healers" کا انعقاد کیا گیا
 جس میں پاکستان بھر سے نامور ڈاکٹرز، پروفیسرز اور شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین نےشرکت کی
اس اہم کانفرنس میں شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و پیٹرن اِن چیف الفلاح فاؤنڈیشن حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی نے خصوصی خطاب فرمایا
کانفرنس کا بنیادی مقصد شعبہ صحت میں خدمات انجام دینے والے افراد کی فلاح و بہبود، ان کے ذہنی و عملی بوجھ میں کمی، اور معاشرے کی بہتری کیلئے ایک مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل دینا تھا۔ ملک کے مختلف شعبہ جات کے معروف پروفیسر ڈاکٹرز نے بھی اس کانفرنس سے خطاب کیا
جن میں ڈاکٹر رضوان میر ۔ پروفیسر ڈاکٹر سعد بشیر ملک ۔ پروفیسر ڈاکٹر شہزاد انور ۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل ۔ پروفیسر ڈاکٹر روبینہ سہیل ۔ پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز شامل تھے۔
جبکہ پاکستان کی معتبر ڈاکٹرز تنظیمیں بشمول
پی ایم اے پنجاپ
پی پی اے پنجاپ
پی اے ایف پی پنجاپ
وائے ڈی اے پاکستان
مائنڈ أرگنائزیشن
شعبہ اطفال سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز نے بھی بھرپور شرکت کی
الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی  زیلی فلاحی تنظیم ہے جس کا مقصد ملک بھر میں انسانیت کی بے لوث خدمت ادا کرنا ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد حضرت امیر محمد اکرم اعوان رح نے رکھی۔
موجودہ وقت میں یہ ادارہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کی سرپرستی میں  سرگرمِ عمل ہے۔
شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و پیٹرن اِن چیف الفلاح فاؤنڈیشن
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی نے مرد و خواتین ڈاکٹرز کی بہت بڑی تعداد سے خطاب فرماتے ہوۓ کہا کہ لوگوں کے دکھ بانٹنے اور انکے زخموں پر مرھم رکھنے والے ڈاکٹرز خود بھی گوشت پوست کے انسان ہیں ان کے بھی جزبات احساسات ہیں وہ بھ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں ان کہ اپنے اندر ذہنی سکون کے لیئے اللہ کے ذکر کے ساتھ جڑنا ہو گا کیفیات قلبی بندہ مومن کو وہ قوت دیتے ہیں جس سے میدبن عمل میں دوسروں سے بہتر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
أنہوںہ نے مزید فرمایا کہ پاکستان پاک ذمین کو کہتے ہیں اور اگر ہم اس کی تشریح میں جائیں تو وہ جگہ مسجد کہلاتی ہے ہمارے ملک میں نظام عدل میں بہت بڑا خلا ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے   یہ ملک ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ اور پاسبان ہیں اس کے تمام ادارے ہمارے ہیں فوج ہماری ہے 
میڈیکل کا شعبہ بہت اہم ہے مشکل حالات میں کام کرتے ہیں لیکن ایک بات یاد رکھنی ہے کہ جو کرنا ہے بللہ کی رضا کے لیئے کرنا ہے
پروفیسر ڈاکٹرز اور ڈاکٹرز کی نمائندہ تنظیموں کے عہدیداران میں شیلڈز بدست مبارک شیخِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و پیٹرن اِن چیف الفلاح فاؤنڈیشن
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی بھی تقسیم کی گئیں
Al falah foundation pakstan ka maqsid insaniat ki belaus khidmat hai - 1

مسلسل حرام کھانے سے دل مردہ ہو جاتے ہیں


کسی کو نہ دیکھیں کوئی کیا کر رہا ہے یہ دیکھیں میرے لیے اللہ اور اللہ کے نبی نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔ہر غلط عمل مخلوق خدا کو دین سے روکنے کا سبب بنتا ہے۔کیونکہ ہر غلط عمل دنیا میں فساد پھیلاتا ہے۔اللہ کریم نے اپنا کلام عطا فرمایا انبیاء ؑ مبعوث فرمائے ہر طرح سے راہنمائی فرمائی اس کے باوجود ہم انکار کر رہے ہیں۔اللہ کے حکم پر عمل نہ کرنا بھی انکار ہی کی ایک قسم ہے۔یہ فانی جہان ہے نہ کوئی رہا ہے نہ کوئی رہے گا ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔اپنا جائزہ لیں لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں ہر عمل اللہ کے لیے کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔آپ ﷺ کی عظمتوں کو بیان کرنے سے مخلوق قاصر ہے۔آپ ﷺ کے حضور جو بھی حاضر ہو ا اُسے اللہ کے روبرو کر دیا کہ کیسے اللہ کی عظمت بیان کرنی ہے۔کفار حق کو جانتے ہوئے بھی انکار کیوں کرتے تھے؟ کیا سبب تھا؟ صرف اس لیے کہ وہ حق کے ساتھ اپنی مرضی شامل کرنا چاہتے تھے۔دین اسلام حق اور باطل کو واضح کر دیتا ہے۔اس کے باوجود لوگ دینی ہستیوں پر بحث کرتے ہیں جس کے پیچھے مقصد ذاتی پسند اور ذاتی انا ہوتی ہے۔اللہ کی رضا میں جب مخلوق کی رضا شامل ہو جائے پھر حق میں ملاوٹ ہوگی۔آج بھی ہمارے پاس قرآن کریم موجود ہے احادیث مبارکہ موجود ہیں کیا ہم ان کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کررہے ہیں یا ہم بھی حق کے ساتھ اپنی ذاتی مرضی شامل کر رہے ہیں؟یہی تو اقوام سابقہ نے کیا تھا جن کی مثالیں قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہیں۔اصول بیان فرما دیئے گئے جو بھی ایسا کرے گا اس کا انجام بھی وہی ہو گا جو ان کے ساتھ ہوا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ استغفار کرتے رہنا چاہیے کم از کم دن میں ایک تسبیح ضرور ہونی چاہیے جانے انجانے میں جو غلطی ہو جائے اس کی اللہ کریم سے معافی ہوجائے گی۔اللہ کریم ہر شئے سے واقف ہیں جو بھی کوئی کر رہا ہے وہ جانتا ہے ہمیں ایک دن اس کے حضور پیش ہونا ہے ہر ایک عمل کا حساب دینا ہے ان چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Musalsal haraam khanay se dil murda ho jatay hain - 1