Latest Press Releases


امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ آج اسلام آباد ائیر پورٹ سے روحانی تربیتی دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ

 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ آج اسلام آباد ائیر پورٹ سے روحانی تربیتی دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر اسلام آباد ڈویژن سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران جن میں قائم مقام صاحب مجاز محمد ارشد صاحب،امجد اعوان سیکرٹری اطلاعات پاکستان،وقاص بٹ صدر تنطیم الاخوان اسلام آبادو دیگر نے حضرت جی کو رخصت کیا۔ان کے علاوہ صاحبزادہ شہید اللہ اعوان،صاحبزادہ شدید اللہ اعوان اور صاحبزادہ نجیب اللہ اعوان بھی روانگی کے وقت ائیر پورٹ پرموجود تھے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ انگلینڈ کے تمام بڑے شہروں میں سالانہ سراجا منیرا کانفرنسز سے خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے خصوصی ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila Naqshbandia Owaisiah aaj Islamabad airport se Rohani tarbiati dora England ke liye rawana - 1

جب قلب میں بیماری ہو پھر سیدھی بات بھی سمجھ نہیں آتی


 ایمان بالغیب میں سب سے بڑا غائب ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔آپ ﷺ پر قرآن کریم کا نزول ہوا اور آپ ﷺ نے کلام ذاتی کو ہم تک پہنچایا۔قرآن کریم کے معنی و مفاہیم وہی لیے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائے صحابہ کی جماعت نے ان پر عمل کیا اور آپ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ اس سے یہی مراد تھی۔آج کوئی اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم بیان کرتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم خالق ہیں اور ہم مخلوق کبھی بھی مخلوق خالق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ہمارا علم محدود ہے اور اس کی ذات لامحدود۔اللہ کریم نے قرآن کریم میں زندگی گزارنے کے اصول ارشاد فرمادئیے ہیں نبی کریم ﷺ نے وہی قوانین ریاست مدینہ پر نافذ کیے۔آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے جان نثاروں نے ان قوانین کو اپنی زندگیوں پر لاگو کیا۔وہ ہر کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق کرتے۔فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام فاتح ہوئے تو انہوں نے مکہ میں نماز قصر ادا کی اور جو گھر جائیدادیں انہوں نے اللہ کے نام پر چھوڑ دیں تو فرمایا اب یہ ہماری نہیں جو چیز اللہ کے نام پر چھوڑ دی اب اس پر ہمارا کوئی حق نہیں اس طرح صحابہ کی جماعت نے نبی کریم ﷺ سے وفا کا حق ادا کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کرے اس رمضان المبارک کی برکات اگلے رمضان المبارک تک ہمارے ساتھ رہیں۔جو کیفیت حضور حق کی ہمیں نصیب تھی وہ اب رمضان المبارک کے بعد بھی ہمارے ساتھ رہے۔ہم ہر کام کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ میرے اللہ کریم مجھے دیکھ رہے ہیں میں اپنے اللہ کریم کے روبرو ہوں میرے اس کام سے وہ ناراض نہ ہوجائیں یہ تقوی کی کیفیت جو ہمیں رمضان المبارک میں نصیب ہوئی ہے وہ ہمارے آنے والے رمضان المبارک تک ہمارے مزاج کا حصہ بن جائے۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی رواں ماہ انگلینڈ کے دورہ پر جا رہے ہیں جہاں انگلینڈ کے بڑے بڑے شہروں میں آپ کے سیمینارز میں لیکچرز ہوں گے۔جن میں لندن،برمنگھم،بریڈفورڈ،مانچسٹر،اولدھم،شیفلڈ،گلاسگو وغیرہ شامل ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Jab qalb mein bemari ho phir seedhi baat bhi samajh nahi aati - 1

ایمان ایک کیفیت کا نام ہے۔جب زبان سے کلمہ پڑھے اور اس کا دل اس کا ساتھ نہ دے تو اس کا ایمان کامل نہیں ہے

 دین اسلام میں داخل ہونے ذبردستی نہیں ہے لیکن جب اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا تو پھر اسے تمام احکامات کو پورا کرنا ضروری ہے۔پھر کوئی رعایت نہیں ہے۔کیونکہ ایمہ کرام نے بے نمازی کے لیے سزا کا بہت سخت حکم دیا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ ﷺ کے وصال کے بعد منکرین زکوۃ سے جہاد کا حکم فرمایا۔آج ہم بڑے آرام سے نماز کو چھوڑ دیتے ہیں۔اس کرہ ارض پر آسمانوں پر جتنی مخلوقات ہیں سب اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں جو اللہ کا ذکر چھوڑتی ہے و ہ فنا ہو جاتی ہے۔انسان وہ مخلوق ہے جسے ایک وقت مقرر تک موقع دیا گیا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے یہ ذمہ داری انفرادی طور پر جہاں ایک فرد کی ہے وہاں وہ لوگ جو نفاذ کی طاقت رکھتے ہیں ان کے ذمے بھی ہے کہ وہ دینی احکامات کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کیونکہ روز محشر ہر کسی کو اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔اور وہاں کی جوابدہی بڑی مشکل ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان مرکز دارالعرفان منارہ میں آئے سینکڑوں معتکفین سے خطاب

رمضان المبارک کو الوداع کہنے کی بجائے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیے


  رمضان المبارک ختم نہیں ہو رہا بلکہ مکمل ہو رہا ہے اس رمضان المبارک کی برکات آنے والے رمضان المبارک تک ہمارے دلوں میں رہنی چاہیے۔جس طرح ہم نے رمضان المبارک میں حلال چیزوں کو بھی ایک خاص وقت کے لیے اپنے اوپر حرام کر لیا اسی طرح غیر رمضان میں اپنے آپ کو ایسے کاموں سے روکے رکھیں جن سے اللہ کریم نے رکنے کا حکم فرمایا ہے۔ روز محشر جب مخلوق کا حساب نہیں ہو رہا ہوگا تو اس وقت اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ اللہ کریم سے سفارش کریں گے اور سجدے میں گر کر وہ کلمات جو اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوں گے پڑھیں گے۔آپ ﷺ کو اللہ کریم نے علوم کے وہ خزانے عطا فرمائے ہیں جن کا احاطہ انسانی بس میں ممکن نہ ہے چہ جائیکہ اس پر بحث کی جائے کہ آپ ﷺ کو کیا اور کتنا عطا ہوا۔ یہ ادب کے خلاف ہے۔کیونکہ ہم تو اپنے وجود سے متعلق بھی کلی طور پر نہیں جانتے ہیں۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ آیت الکرسی کی آیات وہ عظیم آیات ہیں جس میں اللہ کریم کے ذاتی نام سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔لوگ اکثر اس تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں اسم اعظم کہیں سے مل جائے تاکہ وہ جو چاہیں ایسا ہوجائے بندہ کبھی بھی خد انہیں بن سکتا یہ صفت اللہ کی ہے کہ جو چاہے ویسا ہو جائے بندہ جتنی بھی عبادت کر لے بندہ ہی رہتا ہے اور یہ جو خیال کہ اسم اعظم مل جائے تو جو بندہ چاہے ایسا ہو جاتا ہے یہ بلکل درست نہیں بلکہ اگر اسم اعظم مل جائے تو بندہ وہ کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔اس کی اپنی کوئی چاہت نہیں رہتی اس کی چاہت اللہ کی چاہت میں ڈھل جاتی ہے۔اور اللہ کا ذاتی نام ہی اسم اعظم ہے اللہ کے ذاتی نام سے بڑھ کر اور کون سا نام ہو سکتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سینکڑوں اللہ کے بندے اجتماعی اعتکاف بیٹھے ہوئے ہیں جو ملک کے طول و عرض سے تشریف لائے۔ان کو باقاعدہ ایک تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے جس میں تہجد سے لے کر رات گیارہ بجے تک کے معمولات شامل ہیں جن میں ذکر اذکار،تلاوت،فقہی کلاسز،روحانی تربیتی کلاسز وغیرہ شامل ہیں۔روزانہ دن بارہ بجے شیخ المکرم حضرت جی مد ظلہ العالی خطاب فرماتے ہیں اور اجتماعی دعا بھی ہوتی ہے
Ramadaan al mubarak ko ’alvidah’ kehnay ki bajaye usay apni zindagi ka hissa banayiyae - 1

وطن عزیز کے مسائل کا حل ملک میں موجود قوانین کا اطلاق مساوات کے ساتھ کرنے سے ہوگا


وطن عزیز کے مسائل کا حل ملک میں موجود قوانین کا اطلاق مساوات کے ساتھ کرنے سے ہوگا۔ہمارے ملک میں اس حد تک قانون موجود ہے کہ چھوٹی سی غلطی پر بھی سزا ہے۔چہ جائیکہ ملک میں عزت سے لے کر کسی کی جان تک محفوظ نہیں ہے۔آئے روز قتل ہو رہے ہیں معاشرے میں بے حیائی عام ہے ہمیں رمضان المبارک کی برکات وہ بتا رہے ہیں جن کے حلیے تک اسلامی نہیں ہیں۔ایسا ہی ہے جیسے کوئی جان بوجھ کر روزہ نہ رکھے اور پھر ہمیں روزے کے فضائل اور برکات بتارہا ہو۔نماز کی ادائیگی سے بندہ مومن کو ظاہری اور باطنی طور پر رب کریم کی طرف سے بے انتہا رحمت عطا ہوتی ہے جو بیانوں و الفاظ میں ممکن نہیں۔قرآن کریم میں بے حیائی اوربیہودہ باتوں سے بچنے کا حکم ہے اور وعدوں کی پاسداری، امانتوں کی حفاظت یہ وہ اوصاف ہیں جن سے بندہ مومن فلاح پاجاتا ہے۔یاد رکھیں کہ اگر نماز کی ادائیگی عجزو انکساری سے کی جائے تو بندہ مومن کو یہ سارے اوصاف حمیدہ عطا ہو جاتے ہیں۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا معتکفین سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن عناصر ہر اس کام کو معاشرے میں عام کر رہے ہیں جن کے کرنے سے اللہ کریم نے منع فرمایا ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پڑھنے،سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم حزب الشیاطین کی چالوں سے محفوظ رہ سکیں۔بندہ مومن کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ کریم فرماتے ہیں ایسے بندے حیا والے ہوتے ہیں تو سوشل میڈیا پر پورا زور لگایا جا رہا ہے کہ بے حیائی کو عام کیا جائے تا کہ جس کا م کا بھی مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے یہ اپنے رب کریم کی نافرمانی کریں اور دنیا و آخرت میں ناکام ہوں ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ایک ایک حکم پر اپنی پوری قوت سے عمل کریں تا کہ اپنی اور معاشرے کی اصلاح کا سبب بن سکیں۔
آب زم زم کے بارے ارشاد ہے کہ اس میں ہر قسم کی بیماری کی شفا ہے میرا عقیدہ یہ ہے کہ اگر اسے پیتے وقت ظاہری و باطنی دونوں قسم کی بیماریوں کی نیت کی جائے گی تو اللہ کریم دونوں میں شفا عطا فرمائیں گے۔آخر میں انہوں نے معتکفین سے ان کے اعتکاف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم آپ کا مجاہدہ قبول فرمائیں اور اس اعتکاف کو ہمارے کردار میں تبدیلی کا سبب فرمائیں۔امین
Watan Aziz ke masail ka hal mulik mein mojood qawaneen ka itlaq masawaat ke sath karne se hoga - 1

رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف اور شبِ قدر اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے


اللہ کریم کا بہت بڑا احسان کہ ایک بار پھر رمضان المبارک کے رحمتوں اور برکتوں والے لمحات عطا فرمائے اور پھر ماہ مبار ک کے آخری عشرہ میں شب قدر کا عطا کرنا بہت بڑا انعام ہے۔ان ایام کو معمولی نہ جانا جائے بہت قیمتی لمحات ہیں اللہ کریم ہمیں یہ برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ان لمحات کو قیمتی جانتے ہوئے اپنے شب و روز کو عبادات سے مزین کیجیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کو معاف کرنا محبو ب ہے۔اُس نے رحمت کو اپنے اوپر لازم فرما رکھا ہے۔صرف بھوکا رہنا روزہ نہیں ہے آنکھ اور کان کا بھی پہرہ دینا پڑے گا۔یہ بڑا موقع ہے کہ صدق دل سے اُس کے حضور معافی مانگیں بخشش کا عشرہ چل رہا ہے۔جب معافی کے طالب ہوں گے معافی بھی ملے گی اور اس پر اجر بھی عطا ہو گا۔کوئی طالب بھی تو ہو۔بس شرط ایک ہی ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔آیت الکرسی کی آیات میں اللہ کریم کی واحدانیت بیان فرمائی گئی ہے۔آیت الکرسی کی آیات اگر فرض نماز کے بعد پڑھی جائیں تو اللہ کریم کی حفاظت نصیب ہوتی ہے اور بندہ شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔یہ ایمان کی وہ عظمتیں ہیں جو آپ ﷺ کی نسبت سے نصیب ہوتی ہیں۔جب ایمان کمزور ہوتا ہے تو ہمارے اعمال بھی کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے ہماری ایمان کی روشنی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔اس طرح ہم حفاظت الہیہ سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔اللہ کریم اپنی حفاظت میں رکھیں اور ہمیں رمضان المبارک کی ا ن ساعتوں کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ملک بھر سے اور بیرون ممالک سے بھی سالکین اجتماعی اعتکاف میں شرکت کے لیے تشریف لاتے ہیں جس میں سنت اور نفلی اعتکاف کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی روزانہ دن بارہ بجے سالکین سے خطاب فرماتے ہیں جو سوشل میڈیا پر براہ راست بھی دیکھا جا سکتا ہے۔معتکفین کو باقاعدہ ایک تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے جس میں تہجد سے لے کر رات گیارہ بجے تک کے معمولات شامل ہوتے ہیں جن میں ذکر اذکار،درس حدیث،فقہیہ امتحانات وغیرہ شامل ہیں۔اپنے سینوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے اجتماعی اعتکاف کے لیے تشریف لائیے۔
Ramadaan ul mubarak ke aakhri ashra mein aitekaf aur shab_e_ qader Allah kareem ki bohat barri ataa hai - 1

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ بخشش کا ہے جس میں بخشش لٹائی جا رہی ہے


رمضان المبارک کا  پہلا عشرہ عطائے رحمت تھا،دوسرا عشرہ عطائے مغفرت ہے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ میں اپنی زندگی کیسے بسر کر رہا ہوں۔ میں نے رمضان المبارک کے پہلے عشرے میں رحمت باری حاصل کرنے کے لیے کیسے اعمال اختیار کیے یا دوسرے عشرے میں بخشش کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ہم نے دینی حصوں پر بھی دنیاکے ضابطے لاگو کر دئیے ہیں۔رمضان المبارک کی برکات پر ہماری بیٹیاں جس انداز سے ٹی وی شوز پر بیان کر رہی ہیں برکات کے ساتھ ساتھ دینی احکامات پر بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔یہ گمان رکھنا کہ دین اسلام کی پابندیاں شاید مشکل کھڑی کرتی ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ زندگی کی اصل روانی دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
 انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی عطا بہت بڑی عطا ہے۔معافی کا موقع عطا فرمایا۔اللہ کریم اپنی مخلوق سے بہت محبت فرماتے ہیں بہانے عطا فرما رہے ہیں کہ ہم سدھر جائیں ہم اپنے خالق کی بارگاہ میں لوٹ آئیں۔اس عشرے میں بخشش عام ہے،لٹائی جا رہی ہے اللہ کریم سے دین اور دنیا کی سہولت مانگیں۔اپنی کمزوریوں کی معافی مانگیں۔ہمیں اپنے اللہ کریم سے جو بندگی کا رشتہ ہے اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔جب دین کے ساتھ رغبت ہوگی پھر سمجھ آئے گی میرے اللہ کریم ہیں میں ان کا بندہ ہو ں پھر اس کیفیت کی سمجھ آئے گی۔
خود کو دیکھیں ہمارا اقرار اس درجہ کا نہیں کہ اعمال تک بھی پہنچے۔اللہ کریم نے ایسی ہستیاں مبعوث فرمائیں جنہوں نے اللہ کی مخلوق کی تربیت فرمائی۔آج معاشرے میں تکلیف اس لیے ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کو مانا تو ہے اختیار کرنے چھوڑ دیا ہے۔بے عملی کو عمل کی صورت لٹا نا ہو گا،تب ہی معاشرے میں بہتری آسکے گی۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور اس رمضان المبارک  کی برکت سے ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Ramadaan al mubarak ka dosra ashra bakhshish ka hai jis mein bakhshish lutai ja rahi hai - 1

رمضان المبارک کو غنیمت جانیے اور اس کی رحمت کے طالب بنیں


 رمضان المبارک کا پہلا عشرہ ہے رحمت باری عام ہے۔کون ہے جو رحمت کا متلاشی نہ ہوگا کوئی بھی اس کی رحمت کے بغیر نہیں رہ سکتا ہر ایک کو اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔تو یہ رمضان المبارک کا  وہ عشرہ ہے جس میں رحمت باری لٹائی جا رہی ہے۔آج ان با برکت لمحوں میں بھی اگر کوئی برائی کرتا ہے،نماز روز ہ نہیں کرتا تو اس کے پاس یہ جواز بھی نہیں رہا کہ یہ کام شیطان نے کروائے ہیں کیونکہ شیطان تو رمضان المبارک میں قید کر دئیے جاتے ہیں لیکن وہ شیطنت جو ہمارے مزاجوں میں رچ بس گئی ہے یہ اس کا پرتو ہے خود کو دیکھیں اور اپنا محاسبہ کیجیے اور روزے کا احترام کرتے ہوئے اُس تقوی کے حصول کی کوشش کیجیے جس کا حکم ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
 انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی سودی نظام چل رہا ہے۔کیا یہ بھی شیطان ہم سے کروا رہا ہے؟ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ ہم مان رہے ہیں لیکن مانتے نہیں ہم ساری دنیا سے ملکی بہتری کے لیے معالج ڈھونڈ رہے ہیں،علاج تلاش کر رہے ہیں لیکن دین اسلام سے راہنمائی نہیں لے رہے۔اللہ کریم نے انبیاء مبعوث فرمائے مخلوق کی راہنمائی کے لیے۔جیسے سابقہ قومیں اپنی بے عملی کی وجہ سے تباہ ہوئی تھیں ہم بھی ہو رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس بھی اب صرف دعوی ہے عمل نہیں۔آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔سارا حق موجود ہے ظاہر ہو یا باطن۔آپ کیا چاہتے ہیں بات تو آپ کے فیصلے پر ہے۔تربیت اور راہنمائی کے لیے ہر چیز قول و فعل میں موجود ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کو غنیمت جانیے اور اس کی رحمت کے طالب بنیں۔ سارے اچھائی کی بات کرتے ہیں لیکن عملی طور پر برائی کر رہے ہوتے ہیں۔کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں قرآن کریم غور فکر کی دعوت دیتا ہے پھر بھی ہم اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔اتنی خرابی کے باوجود ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ صاحب ایمان لوگ نہیں رہے ایسے لوگوں کی وجہ سے تو دنیا قائم ہے۔اللہ کریم نے ایک بار پھر موقع عطا فرمایا ہے کہ اس رمضان المبارک کو غنیمت جانیے اور اس کی رحمت کے طالب بنیے تلاوت قرآن کریم سے اپنی زبانوں کو تر کیجیے،اس وقت کو ضائع مت کیجیے۔اور اپنے دل کھول کر اللہ کی بارگاہ میں رکھ دیجیے۔اپنے کاسۂ دل کو سیدھا کیجیے اور رحمت باری سے بھریے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramadaan al mubarak ko ghanemat jaaniye aur is ki rehmat ke taalib banin - 1

دنیا کا نظام اللہ کریم نے عدل پر قائم رکھا ہوا ہے


  رمضان المبارک بندہ مومن کو زندگی میں ایک بار پھر عطا ہو رہا ہے جو کہ اللہ کریم کا بہت بڑا احسان اور رعایت ہے۔ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اس کی مبارک ساعتوں میں پُر خلوص ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لیے عبادات کریں۔آج ہماری نافرمانیوں کے باوجود اللہ نے ہمیں پھر مہلت دی ہے کہ اس میں اجرو ثواب کو کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ہم سب اس کی برکات کو دیکھتے ہوئے اس کے منتظر نظر آئیں۔
 امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دنیا کا نظام اللہ کریم نے عدل پر قائم رکھا ہوا ہے۔عدم توازن سے کوئی شئے اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی۔جب دنیا میں فساد بڑھتا ہے تو اللہ کریم ایسی مخلوق پیدا فرما دیتے ہیں جنہیں اللہ محبوب رکھتا ہے اور وہ اللہ کو محبوب رکھتے ہیں۔ہر شئے اللہ کا ذکر کرتی ہے جو مخلوق اللہ کا ذکر چھوڑ دے وہ فنا ہوجاتی ہے۔دارِ دنیا کی زندگی ہمارے دم سے ہے یہ سمجھ لینا درست نہیں ہے۔ہم نہیں تھے تو یہ دنیا قائم تھی ہم نہ ہوں گے تب بھی یہ نظام چل رہا ہوگا۔یہ دنیا نیکی کرنے والوں کی وجہ سے قائم ہے جب تک اللہ اللہ کرنے والا ایک بھی موجود ہے یہ دنیا قائم رہے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں بھی تحفظ نبوت کی ضرورت پیش آرہی ہے۔آپ ﷺ کی بعثت سب سے آخر میں ہوئی۔آپ ﷺ کی ذات اقدس نبوت کی عمارت کی تکمیل ہے۔دعا ہے کہ اللہ کریم ایسے لوگ پیدا فرمائیں جو ہماری تربیت کا سبب بنیں ہمارے گناہ ایسے ہیں کہ ہم اس معاشرے کی برائی کا مقابلہ نہیں کر پا رہے۔بڑی بڑی قومیں ان کے اعمال کی وجہ سے تباہ کر دی گئیں۔آج ہمارے معاشرے میں وہ ساری برائیاں موجود ہیں لیکن نبی کریم ﷺ کی بعثت کے صدقے اجتماعی عذاب ختم کر دئیے گئے۔
اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Duniya ka nizaam Allah kareem ne Adal par qaim rakha Hua hai - 1

آخرت پر یقین،دنیا کی زندگی پر اس درجے کا اثر پیدا کرتا ہے کہ اعمال درست ہو جاتے ہیں


 ہمارے کسی اچھے اقدام سے معاشرے پر کیا اثر پڑتا ہے ہم اس کے مکلف نہیں ہیں۔نتائج اللہ کریم کے دستِ قدرت میں ہیں ہم صرف تعمیل حکم کے مکلف ہیں اور یہی تعمیل حکم ہمیں اللہ کریم سے مزیدآشنائی عطا فرمائے گا۔اپنی عبادات پر توجہ دیں ہمارے بے کیف اور بے روح سجدے ہمارے اعمال پر ہمارے کردار پر اثرانداز نہیں ہو رہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ رکوع وسجود نصیب ہو اور ان کے اثرات اعمال تک نہ آئیں۔ادائیگی کے بعد اعمال درست نہیں ہو رہے تو پھر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس ادائیگی میں کہاں کہاں فرق ہم کر رہے ہیں۔جب اس رشتے کو جو بندے اور اللہ کے درمیان ہے نہیں جان پائیں گے تو پھر باقی رشتوں کی پہچان کیسے کر پائیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
انہوں نے کہا کہ  دنیا کی روش جو ہے جیسا راہ کا انتخاب ہو گا ویسے ہی نتائج پائے گی۔آج اپنے حالات دیکھیں تو دل دکھتا ہے کہ ہر شئے ہے پھر بھی ہر شئے کے محتاج ہیں۔مسلمان بہت ہیں لیکن بندہ مومن نظر نہیں آتا۔  نیت سے عمل تک کا معاملہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ہم اس پر تبصرہ کرتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے۔پورے معاشرے میں دوسروں کو مخاطب کیا جا رہا ہے اپنی ذات کی بات کوئی نہیں کر رہا۔زبانی دعوی کرنے سے بہتر ہے کہ ہمارا عمل یہ ثابت کرے کہ ہم مسلمان ہیں اور نبی کریم ﷺ کے اُمتی ہیں۔دین اسلام کی تبلیغ کا سب سے اعلٰی انداز عملی زندگی ہے۔بندہ مومن کی دنیا بھی دین ہے کیونکہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق عمل کر رہا ہو تا ہے۔اُس کی زندگی کا کوئی معاملہ بھی بے دینی میں نہیں جاتا بلکہ دینداری میں جاتا ہے اطاعت میں جاتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Akhirat par yaqeen, duniya ki zindagi par is darjay ka assar peda karta hai ke aamaal durust ho jatay hain - 1