Latest Press Releases


آج ہم جتنے درِ مصطفے ﷺ سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں اتنا ہم اندھیرے اور ظلمت کا شکار ہو رہے ہیں


 آج ہم جتنے درِ مصطفے ﷺ سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں اتنا ہم اندھیرے اور ظلمت کا شکار ہو رہے ہیں۔جس کی وجہ سے بحیثیت انفرادی اور بحیثیت مجموعی جس کا جتنا اختیار ہے اُس کا استعمال اپنی مرضی اور منشا کے مطابق کر رہا ہے یہی ہمارے معاشرے میں تکلیف کا سبب ہے۔جب ملک میں قوانین کمزور اور طاقتور کے لیے مختلف ہوں گے تو پھر بدامنی،بے چینی اور فساد پھیلے گا۔اس کا واحد حل جو کہ ہمیں اسلام کے سنہری اصولوں سے ملتا ہے کہ ہم اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی امور کو اسوہ رسول ﷺ پر لے آئیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کے لیے ایک منظم نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو طاقتور کو حدود و قیود میں رکھتا ہے اور کمزور کو تحفظ دیتا ہے۔اسلام نے زندگی گزارنے کے لیے کتاب الہی میں ایک باقاعدہ خوبصورت اور منظم نظام دیا ہے۔ہم نے قرآن کریم کو بالا خانوں میں رکھ دیا ہے اللہ کریم کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اُس نے رمضان المبارک میں ہمیں کلام ذاتی سے نوازا۔رمضان المبارک کے روزے عطا فرمائے اسی مبارک مہینہ میں لیلتہ لقدر عطا فرمائی۔اس مبارک مہینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا بندہ تقوی حاصل کرسکے۔اسلام سیدھا راستہ ہے سیدھا راستہ ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ارشاد ہے کہ جو ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔کتنی بڑی اللہ کریم کی عطا ہے۔رمضان المبارک میں ہر روزہ دار کو حضور حق کی کیفیت نصیب ہوتی ہے۔نوافل کا ثواب فرائض کے برابر ہو جاتا ہے۔رحمت،بخشش اور جہنم سے بریت کے عشرے اسی ماہ مبارک میں موجود ہیں۔اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ رمضان المبارک کی تو آمد آمد ہے کون ہے جو اس مبارک مہینہ سے مستفید ہونا چاہتا ہے کون ہے جو پچھلے گناہوں سے چھٹکارا چاہتا ہے کون ہے جو رحمت باری کا منتظر ہے کون جہنم کی آگ سے نجات چاہتا ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور رمضان المبارک میں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائیں تا کہ ہم باقی گیارہ مہینے اطاعت الٰہی میں بسر کر سکیں۔۔۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Aaj hum jitne dar-e mstfe SAW se door hotay chalay ja rahay hain itna hum andheray aur zulmat ka shikaar ho rahay hain - 1

رمضان المبارک کا مبارک مہینہ ایک بھٹی ہے جس میں بندہ مومن کندن بن کر نکلتا ہے


 اللہ کریم کے احکامات میں مخلوق کی بھلائی ہے اور تعمیل حکم میں ہی مخلوق کی کامیابی ہے۔عبادات ہماری ضرورت ہیں۔روزہ ایسی عبادت ہے جسے اللہ کریم نے سابقہ اقوام پر بھی نازل فرمایا۔رمضان المبارک کی آمد آمد ہے رمضان المبارک میں پرہیز گاری اور حضورحق کی کیفیت نصیب ہوتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم رمضان المبارک کے منتظر ہیں،کیا ہمارے اندر شوقِ عبادت ہے،کہیں ہم عبادات کو بوجھ تو نہیں سمجھتے؟
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
  انہوں نے کہا کہ صحت و بیماری زندگی کے حصے ہیں اور یہ احساس زندگی دلاتے ہیں۔معمولات زندگی میں بے احتیاطی اور کمزوری ایمان کی کشتی میں وہ  چھوٹا چھوٹا کنکر ہے جو کشتی کے ڈوبنے کا سبب بن سکتا ہے۔ایمان کے ساتھ عبادات آتی ہیں جن کی ادائیگی سے بندہ اپنے معاملات درست رکھتا ہے۔روزہ دار کو خصوصی انعامات سے نوازا جاتا ہے۔رمضان المبارک میں شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں اس کے باوجود معاشرے میں برائی جاری ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی گیارہ مہینے شیطنت اس قدر ہم پر اپنے اثرات چھوڑ چکی ہوتی ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین تو قید ہو جاتے ہیں لیکن وہ شیطنت جو ہم  پرباقی گیارہ مہینے مسلط رہی ا س کے اثرات کی وجہ سے ہم رمضان المبارک میں نا فرمانیاں کر رہے ہوتے ہیں۔کوئی بھی معاملہ ایسا نہیں جو اللہ کریم کے حکم سے باہر ہو۔اللہ کریم ہمیں اپنے معاملات میں احکامات الہی کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Ramzan ul Mubarak ka mubarak maheena aik bhatti hai jis mein banda momin kundan bn kr niklta hain - 1

وراثت کا قانون وطن عزیز میں عین اسلامی ہے


 وراثت کا قانون وطن عزیز میں عین اسلامی ہے۔اپنی بہن،بیٹیوں کا حصہ جو اللہ کریم نے مقرر فرما دیا انہیں پورا پورا دیا جائے۔اس میں کسی طرح کی بھی زیادتی قابل گرفت ہے۔سابقہ کی گئی غلطیوں سے تہہ دل سے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی جائے اور اپنی اصلاح کی جائے اور اللہ کریم سے امید رکھی جائے کہ وہ غفور الرحیم ہے معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ وراثت میں مال کی تقسیم کے حوالے سے بہت احتیاط کی جائے کہ اللہ کریم نے قانون وراثت کے اصول و ضوابط خود مقرر فرمائے ہیں اس لیے انہی قوانین کے تحت وراثت کی تقسیم کی جائے اگر وصیت کرنی ہے تو پھر مال کے تیسرے حصے کی وصیت کی جا سکتی ہے۔نیت اللہ کریم کے احکامات کی تعمیل مقصود ہونی چاہیے۔ بندہ مومن کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں ہر عمل کو خیر سے سر انجام دینے کی کوشش کرے اور اپنے دنیاوی امور کو سر انجام دینے میں وقت کو ضائع نہ کرے کہ فرائض رہ جائیں اور باقی دنیا کے سارے معاملات چلتے رہیں۔ساری سستی صرف دینی امور پر ہی رہے یہ درست نہیں ہے۔عبادات ہماری ضرورت ہیں اور بندگی کی اہلیت کے لیے ترقی کا سبب ہیں حقائق سے روشناس کراتی ہیں۔جہاں جو حکم ہے اس پر عمل کرنا ذاتی طور پر بھی اور مجموعی طور پر بھی فائدہ دیتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ہر کام،نیت اور مقصد سب روز محشر ہمارے سامنے لایا جائے گا اگر ہمارے اعمال صالح ہوں گے تو اجر و ثواب کا سبب ہوں گے اگر تجاوز ہو گا تو سزا کا سبب ہوں گے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں نیت سے لے کر عمل تک احکامات دین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔امین
Waarsat ka qanoon watan Aziz mein ain islami hai - 1

جو بندہ حقو ق اللہ کی ادائیگی نہیں کرتا وہ حقوق العباد بھی پورے نہیں کر سکتا


یہ بات غلط العام ہو چکی ہے کہ اللہ کریم کی عبادت نہ کی تو خیر ہے لیکن بندوں کے ساتھ معاملات درست رکھے جائیں۔یاد رکھیں جس کا تعلق رب کریم سے کمزور ہوجائے وہ اللہ کریم کے احکامات کو کیسے بجا لا سکتا ہے۔ جو بندہ حقو ق اللہ کی ادائیگی نہیں کرتا وہ حقوق العباد بھی پورے نہیں کر سکتاکیونکہ بندوں کے حقوق کی تعلیم اور اُن کاتعین بھی رب کریم نے فرمایا ہے۔عبادات سے اللہ کریم کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے جب احکامات باری کے تحت زندگی گزاری جائے پھر اللہ کریم ایسے بندے کی حفاظت فرماتے ہیں۔نفسانی خواہشات ایسا حملہ کرتی ہیں کہ بندہ بہک جاتا ہے لیکن اگر اللہ کریم سے تعلق مضبوط ہو تو حفاظت الٰہیہ نصیب ہوتی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اسلام انسانی مزاج کے عین مطابق حکم فرماتا ہے۔ جس کا رخ اللہ کریم کی طرف ہو اللہ کی رضا نصیب ہو، جس کے ایما ن کی بنیاد مضبوط ہواور اپنے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنے والا ہوجوبندہ مومن نے کلمہ طیبہ کی صورت میں اپنے اللہ کریم کے ساتھ کیا۔ وہ نماز قائم کرے گا۔اللہ کریم کی عبادات کرے گا تب وہ اس قابل ہوگا کہ حقو ق العباد بھی پورے کر سکے۔اگر ہم بنیاد پر نہیں رہیں گے تو عمار ت بھی کھڑی نہیں رہ پائے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ زکوۃ اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہے۔وہ مال جو سال بھر منافع کی صورت میں جمع رہا۔زکوۃ معاشی نظام کو درست رکھتی ہے۔معیشت میں مساوات پیدا ہوتی ہے۔پیسہ ایک جگہ جمع نہیں رہتا۔جب بندہ مومن اللہ کے نام پر زکوۃ دیتا ہے تو یہ بھی طے ہوگیا کہ مال بھی اسی کا ہے اور اُس کے حکم پر خرچ ہو رہا ہے۔زکوۃ کی ادائیگی مال کو مزید پاک کر دیتی ہے اور اس سے مال میں کمی نہیں آتی بلکہ برکت ہوتی ہے۔اور یہ ضروری نہیں کہ زکوۃ صرف رمضان المبارک میں ہی ادا کی جا ئے بلکہ جب اس مال کو ایک سال مکمل ہو جائے آپ پر زکوۃ فرض ہو گئی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔خود کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Jo bandah haquq Allah ki adaigi nahi karta woh haqooq al ibad bhi poooray nahi kar sakta - 1

ہماراہر عمل کائنات کو متاثر کرتا ہے


ہمارے انفرادی اور اجتماعی طور پر اُٹھائے گئے اچھے یا برے اقدامات معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکل اُسی طرح جیسے حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں زلزلہ آیا تو آپ ؓ نے زمین پر درہ مارا اور کہا کہ کیا تم پر انصاف نہیں ہو رہا اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بحیثیت مجموعی دیکھیں کہ اس وقت ہم پر مختلف قسم کی آفات ہیں یہ ہمارے اعمال کے نتیجہ میں ہیں۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بڑی تعداد سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ سابقہ انبیاء کو یہ شرف حاصل نہ تھا کہ زمین پر کہیں بھی سجدہ کر سکیں۔نبی کریم ﷺ پر یہ خصوصی انعام فرمایا گیا کہ پوری زمین کو ہی سجدہ گا بنا دیا گیا اب ہم اس کرم کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ہمیں نبی کریم ﷺ کا امتی پیدا فرمایا۔اللہ کریم کے حضور نہ شکل دیکھی جاتی ہے نہ مال بلکہ خالص نیت اور اعمال دیکھے جائیں گے۔خلوص کو شرف قبولیت عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے ذکر الٰہی اختیار کیا جاتا ہے اللہ اللہ کی تکرار کی جاتی ہے اور خالص اللہ کی رضا کے لیے کی جاتی ہے۔
 اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Hamara har aml kainat ko mutasir karta hai - 1

نیکی یہ نہیں کہ رخ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف اصل نیکی تعمیل حکم ہے


 بحیثیت مسلمان ہر کلمہ گو اللہ کریم کے حکم ایسے مانے اور اس پر ایسے عمل پیرا ہو جیسے کہ اللہ اور اللہ کے حبیبﷺ نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے۔جب کسی بھی عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنی مرضی شامل کر لیں گے تو وہ عمل مقبول نہ ہوگا۔ہم مخلوق ہیں اس وقت سائنس جتنی جدت کی بلندیوں پر ہے آئے روز نئی ایجادات ہو رہی ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ سارا کچھ اصل میں چند فیصد ہے جسے ہم جان سکے ہیں اسلیے ہمارا رب جس نے ہمیں تخلیق فرمایا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا مفید ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب
  یاد رہے کہ بروز ہفتہ اتوار دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع ہو رہا ہے جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی اتوار دن 11 بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس روحانی تربیتی اجتماع میں ملک بھر سے سالکین اپنی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں اور اپنے شب و روز اللہ کی یاد میں بسر کرتے ہیں۔ان اللہ والوں کی صحبت میں برکات نبوت ﷺ سے اپنے قلوب منور کرنے کے لیے ہر خاص و عام کو دعوت دی جاتی ہے۔
neki yeh nahi ke rukh mashriq ki taraf ho ya maghrib ki taraf asal neki tameel hukum hai - 1

پچھلے 75 سال سے وطن عزیز پر تجر بات ہو رہے ہیں


آج بھی ازسرنو تعمیرکی بات ہو رہی ہے لیکن پھر وہی فرسودہ نظام کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے۔ہمیں وہ نظام آزمانے کی ضرورت ہے جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی میں اللہ کریم نے دین و دنیا  کی کامیابی کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔اسی نظام کے تحت ہر خاص و عام وطن عزیز میں بہاریں دیکھے گا اور وطن عزیز میں تبدیلی آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعمال ثابت کریں ہمارے معاملات ثابت کریں کہ ہم حق پر ہیں ہماری زندگی قرآن کریم کی ترجمانی کرے۔ کیا ہماری زندگی اس بات کی شہادت دے رہی ہے کیا ہمارے معاشرے کے حالات اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے مزید کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ ہستیاں ہیں جن کو نبی کریم ﷺ کی معیت نصیب ہوئی۔آپ ﷺ نے صحابہ کی جماعت کی تربیت فرمائی۔صحابہ کرام ؓ کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں کسی ایک صحابی کا بھی دامن تھام لوگے تو ہدایت پا لو گے۔آج اگر کوئی صحابہ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسمان کی طرف تھوکے گا تو وہ تھوک اس پر ہی آکر گرے گی۔آج لوگ قرآن کریم کی تفسیر اپنی پسند سے کرنا چاہتے ہیں اسی لیے گمراہی کا شکار ہیں اگر اُس تفسیر پر عمل کیا جائے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی اور صحابہ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اس پر عمل کیا آپ ﷺ نے تصدیق فرمائی تو آج کسی بھی طرح کا کوئی فرقہ نہ ہوتا نہ کوئی کسی پر اعتراض کرتا اعتراض تب پیدا ہوتے ہیں جب ہم اپنی پسند کو درمیان میں لے آتے ہیں۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا کلام مخلوق کی تربیت کے لیے ہے راہنمائی کے لیے ہے ایک ایک پہلو میں مخلوق کی بھلائی ہے اسے ذاتی لالچ کے لیے تبدیل کرنا، عارضی اور فانی دنیا کے فائدے اُٹھانا، اس زندگی نے تو گزر جانا ہے لیکن وہ بد اعمال جو ہم نے اختیار کیے اس لالچ کی وجہ سے وہ تو ساتھ جائیں گے اس عارضی زندگی کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کرنا کتنا بڑا گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ کریم تو ہماری بخشش چاہتے تھے لیکن ہم نے جہنم خرید لی کتنی بڑی جرات کی بات ہے کہ بندہ جہنم کے لیے دلیری دکھائے۔
اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Pichlle 75 saal se watan Aziz par Tajarbaat ho rahay hain - 1

تکبر قلب کی وہ بیماری جو انسان سے حقائق بھی اوجھل کر دیتی ہے


 قرآن کریم کے معانی اور مفاہیم میں اپنی مرضی کو داخل کرنا یا کمی بیشی کرنا جائز کو ناجائز قرار دینا اور ناجائز کو جائز قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہو۔اکثر ہم یہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ میری پسند کا ہو اگر ایک جگہ سے پسند کا فیصلہ نہ ملے تو ہم کسی دوسرے کے پاس فیصلہ لینے چلے جاتے ہیں یعنی جو فیصلہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا ہے اس کے خلاف اپنی پسند کو ترجیح دینا کہ جیسے میں چاہتا ہوں ویسے ہو یہ بہت بڑا جرم ہے اس طرح کا فیصلہ لینے والا اور فیصلہ دینے والا دونوں اس جرم کے مرتکب ہیں جو گناہ عظیم ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم دوا بھی ہے اور غذاء بھی۔جو قرآن کریم کا علم رکھتے ہیں جتنا علم ہو گا ان کی ذمہ داری بھی اتنی بڑھتی جائے گی۔دنیا کی زندگی، دنیا کے معاملات سے بندہ سیکھتا ہے زندگی کا دائرہ انسان کو حقائق سکھلاتا ہے پھر بھی بندہ نہ سمجھ سکے تو یہ بدنصیبی ہے۔دنیا کی زندگی امتحان ہے اس میں نفس بھی ہے شیطان بھی ساتھ ہے اور پھر معاشرے کے معاملات بھی اثر انداز ہوتے ہیں لہذا ان سب سے دفاع کی بھی ضرورت ہے نماز دفاع کے لیے بہت بڑی ڈھال ہے۔اللہ کریم قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔اگر نماز سے یہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے اس کا مطلب ہے کہ ہماری نماز کو شرف قبولیت حاصل نہیں کہیں کچھ کمی رہ گئی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی عبادات کا شمار کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو بھی بتاتے رہتے ہیں بھائی جس کی عبادت کر رہے ہو وہ خوب جانتا ہے کہ آپ کنتی عبادت کر رہے ہیں۔اللہ کریم اہل جنت سے کلام فرمائیں گے جنت میں بے شمار جنت کے انعامات ہیں لیکن اہل جنت کے لیے سب سے بڑاا نعام دیدار باری تعالی ہو گا۔یہ بہت بڑی اللہ کی نعمت ہے۔اور جو اللہ کریم کی نا فرمائی کر رہے ہیں اللہ کریم ان سے بات نہیں کریں گے یہ کتنی بڑی سزا ہے۔قیامت کے روز جنہیں اللہ کی رحمت نصیب ہو گی ان کا ظاہر وباطن پاک ہو جائے گا۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Taqqabur qalb ki woh bemari jo insaan se haqayiq bhi oojhal kar deti hai - 1

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی یو کے، کینیڈا اور امریکا کے روحانی تربیتی دورہ کے بعد وطن واپسی


اسلام آباد ائیر پورٹ پر راولپنڈی کے ڈویژنل صدر اور صاحب مجاز حافظ غلام قادری، جنرل سیکرٹری محمد ارشد، اسلام آباد ڈویژن کے امیر چودھری طارق جنرل سیکرٹری، انفارمیشن سیکرٹری کے علاوہ امیر سلطان روہڈھا، ملک افتخار عرف بھٹو، ملک اکبر سیٹھ، ملک نعیم، ملک اکبر، ملک اکرام، اکبر پپو، ملک سرور، ملک سردار خان بھی موجود تھے تمام احباب نے حضرت کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے شیخ کو پھولوں کے گلدستے بھی  پیش کیے.
امیر عبدالقدیر اعوان نے اس روحانی تربیتی دورے کے دوران کینیڈا کی مختلف ریاستوں کی مساجد میں جمعتہ المبارک کے خطابات کیے دیگر کمیونٹیز سے انفرادی ملاقاتیں کی اور انکی دعوت پر کمیونٹی ہالز میں ہونے والے پروگرامات میں بیان کیے اس کے علاوہ مریکا کی 9 ریاستوں جن میں نیو یارک، نیو جرسی اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں،  میں ترتیب شدہ پروگراموں میں خطاب کیے جن میں مسلمز آف امریکا کی میزبانی میں پروگرام بھی شامل ہے  ان پروگرامات میں مقامی کمیونٹیز  نے بھرپور شرکت کی اور کیفیات قلبی و برکات نبوی ﷺ کی عظیم دولت سے فیضاب ہوئے۔
 اس دورے کا آخری پروگرام بعثت رحمت عالم  ﷺ کے موضوع پر یو کے کے دارالحکومت لندن میں ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان نے فرمایا دین اسلام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کانام ہے اس میں کسی کی بھی ذاتی پسند کو دخل نہیں۔ ہمیں دین اسلام کی ضرورت ہے دین اسلام ہمارا محتاج نہیں ہے۔ اگر اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہو جائے تو دنیا کی محبتیں بھی پاکیزہ ہو جاتی ہیں.
بیرون ملک ہمارے پاکستانی میڈیا نے ان پروگراموں کوبھر پور کوریج دی اس طرح حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا یہ روحانی تربیتی دورہ بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہوا
Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila Naqshbandia Owaisiah ki U.K , canada aur America ke Rohani tarbiati dora ke baad watan wapsi - 1

اگر اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہو جائے تو دنیا کی محبتیں بھی پاکیزہ ہو جاتی ہیں


 انبیاء ؑ وہ ہستیاں ہیں جوخالق سے آشنائی کا سبب ہیں۔دین اسلام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کانام ہے اس میں کسی کی بھی ذاتی پسند کو دخل نہیں۔ہمیں دین اسلام کی ضرورت ہے دین اسلام ہمارا محتاج نہیں ہے۔آپ ﷺ نے پیدائش سے لے کر چالیس سال کی عمر تک ایسی زندگی بسر فرمائی جس کی شہادت سارے اختلافات کے باوجود اہل مکہ آخر تک دیتے رہے۔جب آپ ﷺ نے دعوت حق دی تو لوگوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کی لیکن اس کے باوجود کوئی آپ ﷺ کے اخلاقیات پر انگلی نہیں اُٹھا سکا۔آپ ﷺ کی دیانت و امانت پر سوال نہیں کر سکا صادق اور امین ہونے پر کسی نے بات نہیں کی۔جب آپ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو لوگوں کی امانتیں آپ کے پاس تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی ذمہ داری لگائی کہ لوگوں کی امانتیں واپس کر کے آپ بھی مدینہ منور ہ تشریف لے آئیں۔آج ہمیں جو امتی کا رشتہ نصیب ہے اس کی بنیاد بھی بعثت عالی ہے۔آج ہم بھی اس رشتے کے دعوے دار ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کریم کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں آپ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتراض کرنے کی بجائے جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرما یا ہے اس کا شکر ادا کر نا چاہیے۔جب بندے کا تعلق اپنے اللہ کریم سے مضبوط ہو گا تو وہ اللہ کی مخلوق سے بھی پیار کرے گا اور پورے خلوص سے مخلو ق کے درد کو اپنا درد سمجھے گا لیکن اگر اپنے خالق سے ہی تعلق مضبوط نہیں ہے تو مخلوق سے تعلق کس درجے کا ہو گا۔ہم جو اللہ کے بندوں سے تعلق بناتے ہیں اس میں ذاتی خواہشات ذاتی فائدے ہوتے ہیں کئی طرح کی امیدیں لگا لیتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ تعلق سے میرا فلاں کام ہو جائے اللہ کریم وحدہ لاشریک ہیں اگر ہم توحید میں مضبوط عقیدہ کے مالک ہوں گے پھر ہماری ساری امیدیں اللہ کریم سے وابستہ ہوں گی اور مخلوق سے بھی تعلق اس بنا پر ہوگا کہ اللہ کریم کا حکم ہے کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام اخلاقیات کا درس دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے کردار سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج ہمارے اخلاق اور ہمارے کردار کس طرف جا رہے ہیں جب زندگی اللہ کے حکم کے مطابق بسر کریں گے تو دنیا سے رخصتی کے وقت بھی ہماری زبانوں پر اللہ کا نام ہی ہو گا۔اس دنیا میں ہر وقت بندہ امتحان میں ہے۔جانے اختتام کیسا ہو ہر لمحہ خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تعمیر بھی کرنی ہے ایسے زندگی بسر کریں جیسے اللہ کریم نے پسند فرمایا ہے۔
  یاد رہے کہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان دو ماہ کے بیرون ممالک دورے پر ہیں جس میں کینیڈا،امریکہ اور انگلینڈ شامل ہیں یہ لندن پروگرام اس دورے کا آخری پروگرام ہے ان شاء اللہ اس کامیاب دورے کے بعد حضرت جی وطن واپس تشریف لائیں گے۔اس دورے کے دوران بہت سے پروگرامز ہوئے جن میں مسلم کمیونٹی کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے بھر پور شرکت کی اور لوگوں نے حضرت جی سے ون ٹو ون بھی ملاقاتیں کیں اور اپنی روحانی تربیت کے لیے حاضر ہوئے۔
Agar Allah kareem se bandagi ka rishta naseeb ho jaye to duniya ki muhabbaten bhi pakeeza ho jati hain - 1