Latest Press Releases


رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا


رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا اور اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ کو کلام ذات سے نوازا۔اور لیلۃ القدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ایسی رات عطا فرمائی۔اسی رات میں قرآن مجید لوح ِ محفوظ سے یکبارگی نازل فرمایا اور آپ ﷺ کے قلب ِ اطہر پر وقتاً فوقتاًنازل فرمایاجو لوگوں کی راہنمائی فرماتا ہے۔ایسی ہدایت جس میں اصول و ضوابط،ایمانیات،معاملات سے لے کر ساری زندگی شامل ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشرے میں انتشار،فساداور بہت سے مسائل ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قوانین اور نظام عدل کا نفاذ نہیں ہے۔ہمارے عدالتی نظام میں یہ بہت بڑا خلا ہے کہ اس میں جو اطلاق ہے وہ مساوی نہیں۔آج صدیاں گزرنے کے بعد بھی قرآن کریم کے احکامات پر عمل دنیا کے کسی حصے میں بھی کسی بھی رنگ و نسل کا  فرد کرے تو اس پر عمل کرنا آسان ہے اور فائدہ بھی ہوگا اور باعث سکون بھی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ عبادات ہمیں اس قابل کرتی ہیں کہ ہم اپنی اصل کو پہچان سکیں اور وہ برکات جو اللہ کریم کے کلام سے ہمیں نصیب ہوں وہ اس قابل کر دیں کہ ہم اس دنیا جو تخیلاتی حیات ہے اس سے نکل کر اس دنیا کی فکر کریں جو حقیقت ہے تاکہ آخرت کو پہچان سکیں اور آخرت کی تیاری کر سکیں۔ورنہ بندہ اسی دنیا کے بارے ساری زندگی سوچتا رہتا ہے اور جب موت آتی ہے تو پریشان ہو جاتا ہے کہ میرا مال میری اولاد یہ سب کدھر جائے گا اپنے مال و متاع کے بارے میں ہی فکر مند رہتا ہے۔کیونکہ اس نے ساری زندگی اسی کے لیے تو بسر کی ہوتی ہے۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں اس رمضان المبارک سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramadaan al mubarak rehmaton aur barkatoon wala maheena jis mein quran kareem ka nuzool hwa - 1

ہمیں اپنی ہرسوچ،ہر عمل اور ہر اُٹھنے والے قدم کو سچا اور کھرا کرنے کی ضرورت ہے


معاشرے میں بہت ساری برائیاں اور خرابیاں اس لیے در آئی ہیں کہ بحیثیت مجموعی جو ہم کر رہے ہوتے ہیں یا ہم ظاہراً دیکھ رہے ہوتے ہیں حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ہر بندے کو دل کی گہرائی سے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں زیادتی کر رہا ہے۔مخلوق سے تو دھوکہ کیا جا سکتا ہے لیکن خالق کائنات سے کوئی عمل کوئی سوچ پوشیدہ نہیں ہے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے ہر عمل کو صدق دل سے ادا کریں۔اور تادم واپسی اپنی حتی الوسع کوشش کرکے اس پر قائم رہیں کیونکہ بندہ آخری سانس تک امتحان میں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ انسان کسی چیز کے بارے کلی آشنائی نہیں رکھتا اللہ کریم ایسے قادر ہیں کہ ہر چیز جو زمین و آسمان میں ہے کلی طور پر جانتے ہیں کیونکہ وہ خالق کائنات ہیں ہر چیز ان کی پیدا کی ہوئی ہے۔سب کچھ ایک مضبوط نظام کے تحت چل رہا ہے اسی لیے قرآن کریم غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ہم جو سوچتے ہیں اور جو کرتے ہیں ہم صرف اسباب اختیار کرتے ہیں اس کی تکمیل اللہ کریم خود فرماتے ہیں۔
 جب بھی عبادات کرو خشو ع و خضوع سے کر و صرف شمار نہ کرو کہ میں نے اتنے سجدے کیے۔تکبر نہ کرو،دھوکہ نہ دو،اپنے ہر عمل کی جانچ کریں۔فرصت تمام ہوتی چلی جا رہی ہے اعمال کا وقت ختم ہو جائے گا ہم غلط بھی کریں اور پھر اس پر ڈٹ جائیں یہ اپنے آپ کے ساتھ زیادتی ہے۔ایک دن آئے گا جب ہر کوئی اپنے کیے کا بدلہ پائے گا۔اللہ اللہ کرنے سے یہ نہیں ہوتا کہ میں نے بڑا کمال حاصل کر لیا بلکہ اس سے مزید بندگی نصیب ہوتی ہے اپنے کچھ نہ ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کیا جتماعی دعا بھی فرمائی
Hamein apni Har Soach, har amal aur har utney walay qadam ko sacha aur khara karne ki zaroorat hai - 1

حالات جیسے بھی ہوں اللہ کریم سے تعلق کو مضبوط رکھیں


آج ہمارے گھروں میں،خاندانوں میں فاصلے اس لیے آگئے ہیں کہ ہم نے نفرتوں کے بیج بوئے۔انسان کا مفہوم ہی مل جل کر رہنے والا ہے۔مل جل کر رہنے سے ایک دوسرے کی معاونت ہوتی ہے، زندگی ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کرنے سے چلتی ہے۔قلبی تعلق صرف مسلمان سے رکھا جائے گا۔غیر مسلم سے اگر تعلق رکھنا ہے تو اس کا انداز بھی نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک سے لیا جائے گا۔آپ ﷺ کفار سے تجارت بھی کرتے،معاہدے بھی کرتے لیکن دلی محبت اور قلبی کیفیت صرف مسلمانوں سے ہوگی۔بے دین سے تعلق اور دوستی آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچتی ہے۔ان کے رواجات اور رسومات پھر زندگی کا معمول بنتی جاتی ہیں،ان کی عادات بندہ اپنانا شروع کر دیتا ہے اس لیے ان کے ساتھ تعلق اس حد تک رہے گا جہاں دین متاثر نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے پرچم میں سفید رنگ سے مراد غیر مسلم ہیں انہیں وہ سب حقوق حاصل ہیں جو ایک پاکستانی کے ہیں ان کی جان،مال اور عزت کی ریاست ذمہ دار ہے۔ہمیں اللہ کریم کے احکامات پر عمل کرنا ہے ہمیں عمل اس لیے کرنا ہے کہ اللہ کا حکم ہے بات ختم۔اس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں ہے۔ہمیں صرف اطاعت کرنی ہے اور ان احکامات کو اپنی زندگیوں پر نافذ کرنا ہے۔جو کفر سے تعلق کو اللہ کے تعلق سے فوقیت دے گا ارشاد باری تعالی ہے کہ اس کا اللہ سے کچھ عہد نہیں۔حالات جیسے بھی ہوں وہ تعلق مقدم رہے گا جس کی نسبت اللہ کریم کی طرف ہے۔اگر کوئی خوف محسوس کرنا ہے تو اس بات پر کرو کہ کہیں میرا اللہ کریم سے تعلق کمزور نہ پڑ جائے کہیں میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں۔کیونکہ اللہ ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Halaat jaise b hon Allah Kareem se Taluq ko Mazboot Rakhain - 1

جب اس جہان پر ہم غور کریں تو ہر شئے اللہ کا ذکر کر رہی ہے


 معاشرے میں لوٹ مار،دوسروں کے حقوق چھین لینا،اپنا مال کسی کو سود پر دے دینا  یا سود پر خود رقم لے لینا یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے سمجھ لیا ہے کہ رزق،روزی میری قوت بازویا میری عقل و دانش سے مل رہی ہے۔اگر اس قرآنی آیت پر کامل یقین ہو کہ "اللہ جسے چاہیں بے شمار رزق عطا فرماتے ہیں " تو پھر ہم دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی جرات نہ کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کو جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اس عالم آب و گل میں ہر چیز اللہ کی واحدانیت اور اس کی بادشاہی کی شہاد ت دے رہی ہے۔بحیثیت انسان ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس میں غور وفکر کریں۔اللہ کریم وہ ہیں جو دن کو رات میں داخل فرماتے ہیں اور رات کو دن میں،جاندار سے بے جان کو پیدا فرماتے ہیں اور بے جان سے جاندار کو پیدا فرماتے ہیں۔ایک منظم نظام ہے جس کے تحت کائنات کا نظام چل رہا ہے اگر ذرہ برابر بھی اس میں خلل آتا تو سارا نظام تباہ ہوچکا ہوتا۔سورج،چاند ستارے ہر شئے اللہ کے ترتیب دئیے نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ہم ایسی چیزوں پر زیادہ دھیان دیتے ہیں جن کے ہم مکلف نہیں جن کے بارے ہم سے پوچھا نہیں جائے گا، ہمیں ضرورت ہے کہ ہم وہ حکم جو اللہ کریم نے ہمیں فرمایا ہے اسے مانیں اور جس سے منع فرمایا ہے اس سے خود کو روک لیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب اس جہان پر ہم غور کریں تو ہر شئے اللہ کا ذکر کر رہی ہے۔انسان اور جن یہ مکلف مخلوق ہے اس کے علاوہ جب کوئی چیز ذکر چھوڑ دیتی ہے تو وہ فنا ہو جاتی ہے۔یہ جو مکلف مخلوق اس کا حساب قیامت کے روزہ ہو گا اس کے پاس روح قبض ہونے تک فرصت ہے۔کیونکہ ان کو شعور عطا فرمایا اور فیصلہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا۔نبی کریم ﷺ کی زندگی مبار کہ سے ہمیں ہر طرح کی راہنمائی ملتی ہے آپ کے شب وروز جو آپ ﷺ نے بسر فرمائے حقو ق کیا ہیں فرائض کیا ہیں عبادات و معاملات ہر طرح سے آپ ﷺ کی زندگی مبارکہ ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ہمیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعابھی فرمائی
Jab is Jahan par hum ghhor karen to har shye Allah ka zikar kar rahi hai - 1

عبادات کے لیے فراغت تلاش نہ کریں،عبادات کو اپنے وقت پر ادا کریں


 نبی رحمت ﷺ نے تمام اسباب پورے کر کے عریش بدر میں اللہ کے حضور دعا مانگی جو کچھ اپنے پاس تھا اسے اللہ کے حضور حاضر کر کے عرض کی میں سارے کا سارا اسلام یہاں لے آیا ہوں بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ نے پیدا فرمایا وہ ہی ہر ضرورت پور ی کرنے والا ہے یہاں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی کوشش او ر تمام اسباب کر کے پھر توکل اللہ پرکریں کہ رزق اللہ کی طرف سے عطا ہو گا کبھی فراوانی رز ق پر یہ خیال نہ کریں کہ یہ میرا ذاتی کمال ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ عبادات کے لیے فراغت تلاش نہ کریں،عبادات کو اپنے وقت پر ادا کریں۔اللہ کی یاد فرصت کا کام نہیں ہے یہ تو مقصد ِ حیات ہے اگر فرصت تلاش کرتے رہیں گے تو کبھی فرصت نہیں ملے گی ہر چیز اللہ کی ہے اگر آپ دین کو اپنی پہلی ترجیح میں رکھیں گے اللہ کریم آپ کے باقی امور میں برکت عطا فرمائیں گے۔دنیا فانی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے چھوڑ دیا جائے یا اس سے قطع تعلق ہوا جائے بلکہ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے اسباب اختیار کریں لیکن اس دنیا کو کل نہ جانیں کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں سب اسی دنیا کے لیے ہے۔جو حکم ہے اس کی تعمیل سمجھ کر کرو گے تو امور دنیا بھی عبادات کا درجہ میں داخل ہو جائیں گے۔بنیاد ایمان ہے اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے حکم کی تعمیل۔دین اسلام کے احکامات پر عمل کرنے والے لوگ دوسروں سے زیادہ محنتی اور کام کرنے والے ہوتے ہیں۔رزق کی تقسیم اللہ کریم کے پاس ہے وہ جسے چاہیں بے شمار رزق عطا فرماتے ہیں۔جس کے پاس جو کچھ ہے کیا اس کا کوئی شمار کر سکتا ہے اس کی ایک ایک نعمت جو ہم استعمال کر رہے ہیں کیا اس کا کوئی متبادل ہو سکتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Ibadaat ke liye faraghat talaash nah karen, Ibadaat ko apne waqt par ada karen - 1

قرآن کریم کے وہ معنی اور مفاہیم لیے جائیں جو نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمائے ہیں


عزت و ذلت کا معیار یہ ہے کہ جتنا کوئی اطاعت الٰہی پر کاربند ہو وہ اتنا عزت دار ہے۔اور جتنا دین سے دور ہو گا اتنا وہ ذلیل و خوار ہو گا۔ شعبہ تصوف عین دین اسلام کے تحت ہے
  تصوف،ایمان کی مضبوطی اور قلوب کی اصلاح کے ساتھ ساتھ بندہ مومن کے اعمال کو صراط مستقیم پر لے آتا ہے۔شعبہ تصوف کو جادو سے چھٹکارا،بیماریوں کا علاج،جنات کے اثرات کو ذائل کرنے کے لیے سمجھ لیا گیا ہے یہ سب شعبہ تصوف میں مقصود و مطلو ب نہیں ہے۔سالک اپنی عبادات خالص اللہ کی رضا کے لیے اختیارکرتا ہے۔یہ اللہ اللہ بندے کی سوچ اور فکر کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے وہ معنی اور مفاہیم وہ لیے جائیں جو نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمائے ہیں۔اپنی مرضی،اپنے مطلب اور اپنے فائدے کے لیے کسی طرح کے معنی اور مفاہیم کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔قرآن کریم حق کے مخالف کھڑے ہونے والے کو اندھا ارشاد فرماتا ہے ظاہری آنکھوں سے تو دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن وہ اندھا ہے چونکہ وہ سائے کو دیکھ رہا ہے اصل کو نہیں دیکھ رہا۔جب ایمان مضبوط ہوتا ہے پھر بندہ سائے کی بجائے اصل کو دیکھتا ہے اور اصل آخرت ہے جو ہمیشہ کی زندگی ہے۔جب ہم فرائض کی ادائیگی نہیں کرتے،حلال وحرام کی تمیز نہیں کرتے پھر ہمارا ایمان کمزور ہوتا ہے۔جب ایمان کمزور ہوتا ہے پھر بندہ سمجھتا ہے یہی دنیا سب کچھ ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ بندہ مومن جب اللہ کی واحدنیت کا اقرار کرتا ہے کلمہ پڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر شئے کا رد کر کے مانتا ہے۔تو عزت کی بنیاد وہی ہو گی جو اللہ نے مقرر فرمائی ہے۔عزت اللہ کے لیے ہے اللہ کے انبیاء ؑ کے لیے ہے۔ہمارے ذمہ یہ ہے کہ ہم ہر کام کی نسبت اللہ کی طرف کریں اسی میں خیر ہے اللہ کے ہر حکم میں خیر ہے۔جب ہمارا ہر کام اللہ کی رضا کے لیے ہوگا تو ہماری زندگیوں میں پاکیزگی پیدا ہو گی۔ہمارے اعمال میں یہ کیفیت ہوگی کہ میں اپنے اللہ کے روبرو ہوں۔اور اپنے ہر عمل کا جواب بھی دیناہے۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع 2,1 فروری بروز ہفتہ اتوار منعقد ہوگا جس میں پاکستان بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائیں گے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی۔دعوت عا م دی جاتی ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں تشریف لاکر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منورکریں
Quran kareem ke woh maienay aur Mafaheem  liye jayen jo nabi kareem SAW ne taleem farmaiye hain - 1

دین اسلام اور زندگی کے معاملات سیاست،حکومت و ریاست کو الگ نہیں کر سکتے


دین اسلام اور زندگی کے معاملات سیاست،حکومت و ریاست کو الگ نہیں کر سکتے۔بندگی غیرمشروط اطاعت کا نام ہے۔رب کریم نے جتنی عبادا ت ہم پر فرض کی ہیں وہ بندہ مومن کی ضرورت ہیں ۔  دین اسلام کے خلاف قوتیں پوری طاقت کے ساتھ برسرپیکا ر ہیں اسی طرح ملک پاکستان میں بھی دشمن قوتیں اپنا کام کر رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس ملک کی ایک ایک اکائی ہیں ہم اپنی زندگیوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیں ہمارے الفاظ ہمارا ہر اٹھتا ہوا قدم مثبت ہو۔زندگی میں وہ انداز وہ پہلو اختیار کریں جس سے ملک میں استحکام پیدا ہو۔جھوٹ کو اپنی زندگیوں سے نکال دیں اور اپنی اولادوں اور اہل خانہ کی تربیت اسلام کے اصولوں کے مطابق کریں۔باطنی اصلاح اور نمازوں کی پابندی بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے بچاتی ہے۔بحیثیت انفرادی اور قوم اپنی ذمہ داری اس طرح ادا کریں کہ اپنی زندگی کے ہر عمل کو آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر لے آئیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جامع مسجد اویسیہ سوسائٹی لاہور میں ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کی کوشش بھی کیجیے۔آنے والا وقت مزید سخت ہے اس میں وہی کھڑا رہ سکے گا جو باعمل ہو گا۔باطل کو وہی روک سکے گا جو  اب حق کے ساتھ کھڑا ہے۔آپ نے منتظمین اور ذمہ داران کو ہدایات فرماتے ہوئے تلقین کی کہ تربیت کرتے وقت اپنے مزاج کو حاوی نہ ہونے دیں اور ہر ایک کی تربیت بڑی شفقت اور محبت سے کریں۔حیثیت کو مد نظر رکھے بغیر اصلاح کی کوشش کریں۔
  ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ جو پالیسی دیں اسے کم از کم تین سال کے لیے چلنے دیں۔آئے روز نئی پالیسی آجاتی ہے اور جو بات کی جاتی ہے اس پر عمل بھی کیا جانا چاہیے۔ہماری قوم عظیم قوم ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ہجوم سے نکال کر قوم کی صورت دی جائے۔ہمارا ذاتی مقصد کسی طرح کا مفا د نہیں ہے۔ہماری خواہش ہے کہ وطن عزیز میں سب کی راہ اللہ کی رضا والی ہو جائے ہم اس راہ کے مسافر ہوجائیں۔
غزوۃ الہند کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عظیم جنگ اپنے دفاع میں لڑی جائے گی۔جب میدان سجتے ہیں تو پھر تیاری کا موقع نہیں ملتا۔اپنے آپ کو اس طرح تیار کریں کہ ہم اپنا دفاع کر سکیں۔جو جہاں ہے اپنے فرائض کو ادا کرے۔اللہ کریم صحیح شعورعطا فرمائیں۔
اس تربیتی اجتماع کے آخر میں بیان کے بعد حضرت نے نئے آنے والے احباب و خواتین سے ظاہری بیعت لی اور اس بابرکت محفل میں سب و ذکر قلبی بھی کرایا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Deen islam aur zindagi ke mamlaat siyasat, hukoomat o riyasat ko allag nahi kar satke - 1

قرآن و سنت پر عمل کرنا اورراہنمائی حاصل کر کے زندگی بسر کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے


قرآن و سنت پر عمل کرنا اورراہنمائی حاصل کر کے زندگی بسر کرنا ہی اصل مقصد ہونا چاہیے۔چہ جائیکہ ہم فرائض کو چھوڑ کر وظائف کو کل جاننا شروع کر دیں اور اپنی غلطیوں کو جواز دینے کی کوشش کریں یہ بہت بڑا ظلم ہے۔روز قیامت یہ جواز ہمارے کسی کام نہ آئیں گے۔یاد رکھیں کہ اپنی غلطی اور گناہ کو درست خیال کرنے سے توبہ کی توفیق بھی سلب ہو جاتی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ہم ساری زندگی بھی سربسجود رہیں تو جو کچھ اُس نے ہمیں عطا فرمایا ہے ہم اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ہم ہر وقت اس کے مقروض ہیں۔ہم اقرار کرتے ہیں کہ یہ جہان فانی ہے لیکن ہمارے اعمال اس کی شہادت نہیں دے رہے ہوتے ہم مانتے ہیں کہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے باوجود ہم اللہ کے احکامات کی پانبدی نہیں کرتے۔ہم اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں جو حکم ہماری پسند کے مطابق ہو اسے تو مانتے ہیں لیکن جو ہماری پسند سے مختلف ہو اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔اللہ کریم کا کوئی حکم ایسا نہیں جس سے مخلوق استفادہ حاصل نہ کرے۔احکامات الٰہی مخلوق کی ضرورت ہیں۔وہ بے نیاز ہے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی اس کا حکم مانے یا چھوڑ دے حکم ماننے والے کو فرق پڑے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجو ع کرنا چاہیے اسی میں انسانی فلاح اور معاشرے کی بقا موجود ہے۔جو کچھ بھی کوئی کر رہا ہے وہ اللہ جانتا ہے اس کے فرشتے لکھ رہے ہیں۔ایک دن سب کو اس کے حضور پیش ہونا ہے۔ہر پہلو ذاتی ہو یا اجتماعی دیکھیے کہ میرے اعمال کیسے ہیں کیا قرآن وسنت کے مطابق ہیں اگر نہیں تو خود اپنے آپ پر ظلم اور زیادتی ہے۔تادم واپسی معافی کا دروازہ کھلا ہے جب یہ فرصت تمام ہو گی پھر موقع نہیں ملے گا۔ہر شخص کو اس کے کام کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔
 اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Quran o sunnat par amal karna aur rahnumai haasil kar ke zindagi basr karna hi asal maqsad hona chahiye - 1

مسلسل نافرمانی بندے کو کفر کی دلدل میں لے جاتی ہے


احکامات الٰہی او ر رسالت نبوی ﷺ پر ایمان ہونے کے باوجود عملی طور پر ہمارے اعمال دین اسلام کے مطابق نہ ہیں یہ بھی انکار کی ایک قسم ہے۔مسلسل نافرمانی بندے کو کفر کی دلدل میں لے جاتی ہے اور وہ احساس گناہ سے نکل کر اپنی غلطیوں پر جواز دینا شروع کر دیتا ہے۔  ہم سارے دعوی ایمان تو رکھتے ہیں لیکن اگر نتائج دیکھیں تو سمجھ آتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انصاف نہیں،سکھ نہیں،لحاظ نہیں ہے۔کیا مسلمان معاشرے ایسے ہوتے ہیں،خاندان ایسے ہوتے ہیں؟کسی کو کسی پر اعتماد نہیں رہا۔یہ سب اس لیے ہے کہ زندگی فسق سے بھری ہوئی ہے۔ہمارا دعوی ایمان تو ہے لیکن عمل نہیں یہ بھی انکار کی ایک قسم ہے جسے کفر تو نہیں لیکن فسق کہا جائے گا۔ایمان بندے کو اللہ کریم سے وہ وابستگی عطا فرماتا ہے جس سے اللہ کی رحمت نصیب ہوتی ہے۔بنیاد ایمان ہے زمین و آسمان کا مالک وہ ہے وہی ہو گا جو اللہ کریم چاہیں گے ہمیں اللہ کریم کے احکامات کے تحت ہونا ہوگا،نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے تحت زندگی بسر کرنی ہوگی۔جتنا ایمان مضبوط ہوگا اتنی عبادات کو شرف قبولیت ہو گی جتنی عبادات کو شرف قبولیت نصیب ہوگی اتنے ہمارے معاملات درست ہوں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آج لوگ اسلام کے خلاف بات کرتے ہیں،اسلامی اصولوں کے خلاف بات کرتے ہیں جو اسلام پر زندگی بسر کررہے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا رویہ رکھا جاتا ہے کہ وہ بھی اسلام سے پیچھے ہٹ جائیں۔آپ ﷺ نے مخلوق کو حق کی دعوت دی تو لوگوں نے اقراربھی کیا اور اختلاف بھی کیا۔آپ ﷺ کو ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔مخالفت کرنے والے اس مخالفت میں اللہ کی رحمت سے دور ہوتے گئے۔صحابہ کریم ؓ ایسی ہستیاں ہیں جنہیں اللہ کریم کی رضا حاصل ہے۔جتنی کسی کو اللہ کی رضا نصیب ہوگی اتنا اسے قرآن و سنت کا اتباع نصیب ہوگا۔ ان میں جو مقام حضرت صدیق اکبر ؓ کا ہے وہ بھی اتباع کے معنی میں ہے کس درجہ کا آپ کا خلوص تھا اور جو شفقت نبی کریم ﷺ سے حضرت صدیق اکبر ؓ  کو نصیب ہوئی اس سے مزید ان میں خلوص بڑھتا گیا۔اللہ کریم ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔وہ معاف فرما دے،رحم فرما دے دین کی سمجھ عطا فرمائے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Musalsal nafarmani bande ko kufar ki duldul mein le jati hai - 1

دعوت الی اللہ دیتے وقت میانہ روی کو اختیار کیا جائے


دعوت الی اللہ دیتے وقت میانہ روی کو اختیار کیا جائے اس میں اس حد تک نہ جایا جائے کہ باہم اختلافات پیدا ہوں۔ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی پسند کو بالائے طاق رکھ کر احکامات رسول ﷺ کو مقدم رکھیں۔حضور حق کی کیفیت میں کمی کے سبب غفلت بڑھتی ہے اور بندہ دنیاکی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اس میں دوبتے ہوئے بھی اپنے گناہوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے۔ہمیں اپنا رخ اللہ کی طرف کرنے کی ضرورت ہے۔رخ اللہ کی طرف کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہر پہلو سے اللہ کریم کی اطاعت کی جائے۔جو اللہ کریم پسند فرمائیں اُسے اپنایا جائے اور ہر اس کام کو رد کیا جائے جس سے اللہ کریم منع فرماتے ہیں۔ یعنی عملی طور پر خود کو اللہ کے سپرد کر دینا تا کہ اقرار کے ساتھ عمل بھی شامل ہو۔آج ہمارے معاشرے میں جو روش پید اہو گئی ہے کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ہمارا دعوی ہمارے اعمال سے مختلف ہوتا ہے۔یہودو نصاری اپنی کتابو ں سے بھی وہ حصے مانتے تھے جنہیں وہ پسند کرتے تھے جو حصے وہ پسند نہیں کرتے تھے انہیں چھوڑ دیتے۔آپ ﷺ امام الانبیاء ہیں آپ نے اللہ کا پیغام اللہ کی مخلوق تک پہنچایا جو بہت بڑا منصب ہے۔ہم اپنی پسند و ناپسند سے اقرار یا انکار کرتے ہیں ہم یہ خیال نہیں کرتے جس بات کا ہم انکار کر رہے ہیں یہ بات کس کی ہے۔اللہ کریم کی بات ہو محمد الرسول اللہ ﷺ کے لب ہائے مبارک سے ادا ہو رہی ہو اور ہم اس کا انکار کریں یہ کتنی بڑی بد بختی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ تبلیغ یعنی دعوت حق دینا بنیادی فریضہ ہے اسکے لیے ضروری ہے کہ پہلے خود حق قبول کریں پھر اختیار کریں اس کے بعد مخلوق کو اس کی دعوت دیں۔اس سے آپ کی دعوت میں قوت آئیگی۔آپ کے اعمال سب سے بڑی تبلیغ ہیں۔جو تسلیم کرے گا یقینا وہ سیدھی راہ پائے گا۔دین اسلام دعوت دیتا ہے مسلط نہیں کرتا۔یہاں بات فتح و شکست کی نہیں ہے کافرنے بھی دعوت قبول کی،کلمہ پڑھا  وہ سیدھی راہ پا گیا جب کافر و مسلم میں ضد نہیں ہے پھر مسلمان آپس میں کیوں ضد کر رہے ہیں اس لیے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذاتی خواہش پر عمل کر رہے ہوتے ہیں تبلیغ سے مراد کسی کو منوانا نہیں بلکہ لوگوں تک حق پہنچانا ہے اگر کسی کو مجبور کرکے حق پر لائیں گے تو اس کا کیا فائدہ؟ جو عمل کر رہا ہے وہ اللہ کے سامنے ہے جو بے عمل ہے وہ بھی اللہ کے روبرو ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Dawat eli Allah dete waqt miyana rawi ko ikhtiyar kya jaye - 1