Latest Press Releases


دنیا و آخرت کے ہر سوال کا جواب دین اسلام میں موجود ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

دنیا و آخرت کے ہر سوال کا جواب دین اسلام میں موجود ہے اور ایسا جامع حل ہوتا ہے کہ اس میں ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سے کتنی راہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔کوئی بھی عمل جب ہم دنیا میں کرتے ہیں تو اس کا پرتو اسی زندگی میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے جو ہمارے ظاہروباطن کو متاثر کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر دارالعرفان منارہ میں سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
  انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشرے میں عدم استحکام اور بے یقینی کی جو فضا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام کے نام پر لی گئی اس مملکت خداداد میں تمام نظام غیر اسلامی رکھے ہوئے ہیں۔وطن عزیز میں سود جیسی لعنت کو حکومتی سطح پر اجازت حاصل ہے اور تمام بنک سود لیتے ہیں اور سود پر رقم عام آدمی کو دی بھی جار ہی ہے۔جب ملک میں سودی بنک ہوں گے اور اس غیر اسلامی امر کو نہ روکا جائے گا تو پھر کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہم سکون اور امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔اور یاد رکھیں کہ امن اور تحفظ کے بغیر زندگی کا کوئی تصور ہی ممکن نہ ہے۔ہم آخرت کو بھول کر یہاں وقت بسر کر رہے ہیں جو کہ سرا سر گھاٹے کا سودا ہے۔دنیاوی زندگی میں ہم ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں ہم نے ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے اس کی کوئی تیاری نہ ہے۔
یاد رہے کہ آج دارالعرفان منارہ میں شعبہ دارالحفاظ میں نو حفاظ اکرام نے قرآن کریم کی تکمیل کی جن کی دستار بندی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی نے اپنے دست مبارک سے فرمائی۔یہ شعبہ 2013 سے حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کیا تھا جہاں پر بچوں کی تربیت،ہاسٹل کا بہت اعلی انتظام ہے اور مستند اساتذہ کی زیر نگرانی یہ شعبہ اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے سالکین سے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے ملک کے لیے معاشرے میں اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں۔
 - 1
 - 2

اسباب کو سبب کی حد تک رکھنا ہے اور تمام امیدیں اوردنیاوی کامیابی کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔

آج ہم نے وقتی اور لمحاتی ضروریات کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ اپنے نفس اور خواہشات کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔اور جب ہم اپنے مفادات مخلوق سے وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں سے میرا تعلق ہو گا تو میرا کاروبار چلے گا،وہ ہو گا تو میری حفاظت ہو گی یہ سب ہم شرکِ خفی کرنے کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں ہمیں اپنے ہر عمل کو ترازو میں رکھنا ہوگاکہ ہماری امیدیں،ہمارے مفادات کہیں مخلوق سے وابستہ تو نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ وہ شرک جو کہ ظاہراً کیا جاتا ہے وہ شرک جلی کہلاتا ہے جس سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کی بخشش کسی صورت میں نہ ہو گی لیکن یہ جو ہم روز مرہ کے اعمال اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کو لوگوں کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں فرد یا سیاسی لیڈر کے ساتھ میرے تعلقات ہوں گے تو میرا یہ کام ہو گا یہ شرک خفی کی طرف قدم ہوتا ہے ہمیں اللہ کریم نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اختیار کرنا فرض عین ہے۔لیکن توکل اللہ پر کرنے کا حکم ہے اور اسباب کو سبب کی حد تک رکھنا ہے اور تمام امیدیں اوردنیاوی کامیابی کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ضروریات دین کا جاننا سب کے لیے ضروری ہے۔دین کو پیر صاحب،مولانا صاحب کے حوالے کر کے خود فارغ نہیں ہونا ہے آج ہمارے اس عمل نے ہمیں معذرت خواہانہ مسلمان بنا دیا ہے اور جن کے پاس دین کی اشاعت ہے وہ اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن جب تک ہر کوئی اسے اپنی ذات کے ساتھ وابستہ نہیں کرے گا اس وقت تک معاشرے میں مثبت نتائج نہیں آسکتے۔اللہ کریم ہمیں دین اسلام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور اسکو سمجھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائیں۔
 - 1

ضد اور انا میں صحیح اور غلط کی پہچان جاتی رہتی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

بندہ مومن کسی فرد واحد یا حکومت وقت سے اپنی ذاتی ضد اور انا کی وجہ سے تعلقات نہیں رکھتا بلکہ اسکی دوستی اور دشمنی صرف اللہ کریم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے۔کیونکہ جب کوئی بھی فیصلہ ضد اور انا کے تحت کیا جاتا ہے تو اس میں انصاف بلکل بھی نہیں ہو سکتا۔ان خیالات کا اظہارامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ قلب کی حیات نورِ ایمان سے مشروط ہے۔جب دل میں نو ر ایمان آتا ہے تو پھر قلب بندہ مومن کو صحیح راہ دکھاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہیں اور اپنے قلب کو حیات بخشنے کے لیے اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔اور جو حدود دین اسلام نے مقرر فرمائیں ہیں۔ان کے اند ررہ کر زندگی گزارنی ہے۔اور معاشرے کی اس روش سے کنارہ کشی اختیارکرنا ہو گی۔جو کہ دین اسلام سے باہرہو گی۔انہوں نے کشمیری مسلمانوں پر بھارتی دہشت گردی کی مذمت کی اور ان کے لیے دعا بھی کی کہ اللہ کریم انہیں صبر دے او ر ہمارے حکمرانوں کو غیرت ایمانی عطا فرمائے۔امین
 - 1

جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن دامان رحمت ہا تھ سے نہ چھوٹے

ہماری زندگی جو کہ ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔اس کو ہم نے ایسے بسر کرنا ہے جیسے اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے سمجھا دیا ہے کیونکہ جس رب نے ہمیں تخلیق فرمایا ہے وہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔اور جب ہم بحیثیت امت اپنے آپ کو آپ کی ذات مبارک پر متحد کر لیں گے تو پھر باہم اختلافات کی بجائے محبت و یگانگت،بھائی چارہ کا فروغ عملی طو رپ ر نظر آئیگا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے ھالار ہال سکھر سندھ میں جہاں عشق مصطفے کی بات کی وہاں اپنے کشمیری بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کرنی ہے تو اس کے لیے پاکستان کو مضبوط ہوگا۔
  انہوں نے کہا کہ اس خطہ زمین پر اللہ کریم نے ہمیں سب کچھ عطا فرمایا ہے۔ہمیں صرف اپنی قوم کو صحیح اور فوری نظام عدل دینا ہے کیونکہ یہ وہ اصول ہے جس کے تحت ریاست مدینہ کی بنیا د رکھی گئی۔محبت رسول ﷺ ہمیں ہماری جان جاتی ہے تو چلی جائے لیکن دامان رحمت ہا تھ سے نہ چھوٹے۔یاد رکھیں کہ عشق مصطفے ﷺ کو عملی زندگی میں لانے کے لیے اپنے قلوب کو درست کرنا ہو گا آپ اپنے دلوں کو اللہ اللہ کی ضربوں سے صاف کرنا ہو گا۔اپنے ہر آنے والے سانس کے ساتھ لفظ اللہ کو دل کی گہرائیوں میں اتاریں اور جب سانس خارج ہو تو ھو کی چوٹ دل پر لگے۔اس سے معیت باری نصیب ہو گی خود محسوس کریں گے یہ راہ فنا فی الرسول ﷺ تک لے جاتی ہے۔یہ دولت سلسلہ عالیہ میں مشائخ کی وساطت سے تقسیم ہو رہی ہے۔آخر میں لوگ بیعت ہونا چاہتے تھے ان کو بیعت کیا اور اجتماعی دعا فرمائی۔
 - 1

شعبہ تصوف بندہ کو اس کی حقیقت تک لے جاتا ہے

بندہ مومن جب نور ایمان سے روشناس ہوتا ہے تو اس پر زندگی کا ایک ایک پہلو کھل جاتا ہے شعبہ تصوف بندہ کو اس کی حقیقت تک لے جاتا ہے کہ عمل تو اس دنیا میں کر رہا ہوتا ہے لیکن اس کی نظر آخرت پر ہوتی ہے یعنی اس کا ایک ایک لمحہ اور عبادات صرف اللہ کے لیے ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے امروٹ شریف ضلع شکار پور سندھ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اس شعبہ تصوف کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہے خالص نیت۔خالص نیت سے شیخ کامل کے پاس حاضر ہونے سے حفاظت الٰہی بھی نصیب ہوتی ہے اور اس راہ میں وہ قرب الٰہی کو بھی حاصل کرتا ہے۔
  یادرہے کہ اس کے علاوہ امیر عبدالقدیر اعوان کے سکھر اور صادق آباد میں مرکز جلسے ہوں گے جس میں سلسلہ عالیہ کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کریں گے۔
 - 1

کشف و مشاہدات کسی کے اختیار میں نہیں ہو تے بلکہ ازقسم ثمرات ہیں جو اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوتے ہیں

کشف و مشاہدات کسی کے اختیار میں نہیں ہو تے بلکہ ازقسم ثمرات ہیں جو اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوتے ہیں۔اللہ کریم اگر کچھ دکھانا چاہیں یا پوشیدہ رکھنا چاہیں یہ اللہ کریم کے اپنے دستِ قدرت میں ہے۔یہ کسی کا اپنا کمال نہیں ہے کہ کسی صوفی کے ساتھ ان مشاہدات کو منسوب کر دیا جائے جب اللہ کریم چاہیں تو کچھ دکھا دیں۔جیسے حضرت ابراھیم ؑ کے بارے قرآن کریم میں ارشادکا مفہوم ہے کہ ہم نے آپ کے سامنے دونوں جہاں کھول کر رکھ دئیے،دوسرے موقع پر جب حضرت ابراھیم ؑ اپنے فرزند حضرت اسماعیل ؑ کو قربان کرنے کے لیے چھری چلاتے ہیں تو آپ نہیں جانتے تھے کہ بیٹے کی جگہ دمبہ ہو گا آپ نے چھری اپنے بیٹے پر ہی چلائی تھی۔ان خیالات کا اظہار
 امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہم مختلف عاملوں اور صوفیاء کے پاس اس لیے جاتے ہیں کہ وہ احوال جو ہم سے پوشیدہ ہیں وہ ہمیں بتادیں تو یہ درست نہیں ہے۔ہمیں حضرت ابراھیم ؑ کے اس واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشاہدہ کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوفیاء کے پاس جانا چاہیے لیکن قربِ الٰہی کے لیے نہ کہ اپنی ذاتی ضروریات کے حصول کے لیے یا آنے والے وقت کے احوال پوچھنے کے لیے ہم اصل نعمت کو چھوڑ کر رسومات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ہمیں اپنی ان سوچوں کو درست سمت میں لانے کی ضرورت ہے۔
  یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا دورہ سکھر آج سے شروع ہے جس میں سندھ کے مختلف علاقوں میں آپ مختلف جلسوں جن کا انعقاد سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع ہو گا خطاب فرمائیں گے ان میں گھوٹکی،شکار پور،سکھر شامل ہیں اس کے علاوہ وہاں چیدہ چیدہ شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔جلسوں کے تمام خطابات سلسلہ عالیہ کے فیس بک آفیشل پیج www.facebook/oursheikh.official  پر لائیو دکھائے جائیں گے۔ان شاء اللہ
 - 1

ہر عمل کی قبولت نہاں خانہ دل سے اُٹھنے والی نیت پر ہے۔

اپنے ہر عمل کو فقط رضائے باری تعالیٰ کے لیے کیا جائے۔کیونکہ ہر عمل کی قبولت نہاں خانہ دل سے اُٹھنے والی نیت پر ہے۔ہر لمحہ اپنی ذات کو دیکھنا ہو گا کہ کہیں اپنی بڑائی میں تو نہیں پڑ گیا۔اس نیت کو خالص کرنے کے لیے اپنے قلب کو درست کریں اس کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی اکسیر دوا ہے۔یہی وہ برکات نبوت ہیں جو کہ حضرت قاسم فیوضات امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے پوری دنیا کے کونے کونے تک پہنچائی اور اپنی آخری سانس تک اس پر کاربند رہے۔آخری نعرہ جو سالکین کو آپ نے دیا۔
 فَجَاءَ مُحَمَّد سِراجاً مُّنِیْراً۔۔فَصَلُّوْا عَلَیْہِ کَثِیْراً کَثِیْراً
 ا ن خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے مولانا محمد اکرم اعوان ؒ کی دوسری برسی کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں آئے خواتین و حضرات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ حضرت ؒ نے اپنے مضبوط ارادوں اور پوری طاقت کے ساتھ اس نعمت عظمیٰ کو ہر ایک تک پہنچایا۔اور اپنے مربی شیخ مولانا اللہ یار خاں ؒ کی امانت کو احسن طریقے سے پوری دنیا میں پھیلا دیا۔آپ ؒ نے تین تفاسیر بیان فرمائیں قرآن مجید کا آسان فہم ترجمہ فرمایا،تصوف کے موضوع پر ہزاروں بیان آپ کے موجود ہیں۔شعری مجموعے لکھے،الفلاح فاؤنڈیشن پاکستا ن کی بنیاد رکھی،الاخوان کی بنیاد،صقارہ ایجوکیشن سسٹم کے بانی یہ تمام شعبے آپ ؒ نے شروع فرمائے۔جو کہ الحمد للہ اسی طرح جاری و ساری ہیں۔ہم ان کے ہر شعبے کو اپنی جان سے زیادہ عزیز جانتے ہیں۔اور اپنی آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔ان شاء اللہ 
  انہوں نے مزید کہا کہ اسلام کا ہر ہر حکم جو قرآن کریم میں موجود ہے آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصول ہیں جب ہم اپنی چاہتوں اور اپنی انا میں آتے ہیں تو پھر نا اتفاقی پیدا ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے دوری ہو جاتی ہے جس کی آج پوری قوم شکار ہے۔بیان کے آخر پر آپ نے حضرت جی ؒ  کی یاد میں ایک خوبصورت تحریر بھی پڑھ کر سنائی۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی ااجتماعی دعا فرمائی اور ایک ایک فرد کو اسلام اور وطن عزیز کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو کہا۔
 - 1

ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے جائز اسباب اختیار کیے جائیں اور نتیجہ کی امید اللہ کریم سے رکھی جائے

 - 1

ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے جائز اسباب اختیار کیے جائیں اور نتیجہ کی امید اللہ کریم سے رکھی جائے

 اللہ کریم نے ہر شئے کو اسباب کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ہم مکلف مخلوق ہیں ہمیں اپنے ہر کام میں جائز اسباب اختیار کرنے چاہیے لیکن نتائج اللہ کریم کے سپرد کردینے چاہیے۔توکل الی اللہ کے لیے بھی اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش ہوئی اس کے لیے بھی حضرت جبریل ؑ کو سبب بنا دیا کہ آپ ؑ نے حضرت مریم کو دم فرمایا۔اس سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ اپنے ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے جائز اسباب اختیار کیے جائیں اور نتیجہ کی امید اللہ کریم سے رکھی جائے کہ میرے اللہ جو میرے بس میں تھا میں نے اختیار کیا اب اس پر تنائج کیا آنے ہیں وہ آپ کے دست قدرت میں ہے۔
  یاد رہے کہ کل7 دسمبر حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کا وصال مبارک بھی ہے ان کو ہم سے بچھڑے 2 سال گزر گئے ہیں اللہ کریم  ان کے درجات بلند فرمائیں۔ 7،8 دسمبر بروز ہفتہ اتوار دارالعرفان منارہ میں ماہانہ روحانی اجتماع منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین شرکت کریں گے اور اتوار صبح 10:30 بجے امیر عبدالقدیر اعوان خصوصی خطاب اور اجتماعی دعا فرمائیں گے۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

اللہ کے حضور کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے ذات باری تعالی ناراض ہو جائے اسی ڈر کو تقوی کہتے ہیں

ضروریات دین کا جاننا ہر خاص وعام کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ عمل کے لیے اس کا علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے۔مومن کی معراج ہے اس اہم فریضہ کو پورا کرنا اور خشوع خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے۔اگر ادائیگی میں حدود وقیود کا خیال نہ رکھا گیا تو پھر عملی زندگی میں اس کا اثر نہ ہو گا۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی نے جمعتہ المبارک کے موقع خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ تقوی سے مراد یہ ہے کہ اپنے محبوب اللہ کے حضور کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے  ذات باری تعالی ناراض ہو جائے اسی ڈر کو تقوی کہتے ہیں۔پھر جلوت اور خلوت دونوں میں اس کی نظر صرف اپنے محبوب پر ہو گی اور یہی سچا عشق ہے۔جو کسی بھی دنیاوی منفعت سے پاک ہوتا ہے اور یہی کیفیت درکار ہے اپنے ہر عمل میں اسے وہی اصول مقدم ہوں گے جو آپ ﷺ نے فرمائے ہیں۔
 - 1