Latest Press Releases


بارگاہ رسالت ﷺ کی بے ادبی سے بندہ لمحوں میں اپنے اعمال ضائع کر بیٹھتا ہے


اللہ کریم کے حبیب ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی تھا کہ آپ کی آواز کتنا بڑا مجمع کیوں نہ ہو آپ ﷺ کی آواز سب کو برابر سنائی دیتی تھی۔کتنے ہی لوگ کیوں نہ کھڑے ہوتے آپ ﷺ کی شخصیت نمایاں نظر آتی۔یہود نے آپ ﷺ کو مخاطب کرنے کے لیے" راعنا"کے لفظ کو کھینچ کر بولا تو اللہ کریم نے اس لفظ کو ہی عربی لغت سے نکال دیا جس سے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کا شائبہ ہو سکتا تھا اور وہاں لفظ قولو انظرنا کا لفظ دیا۔بارگاہ رسالت ﷺ کی بے ادبی سے بندہ لمحوں میں اپنے اعمال ضائع کر بیٹھتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے ایسے لفظ کو لغت سے ہی ختم کر دیا جو گستاخی کا سبب بن سکتا تھا اور مزید یہ فرمایا کہ غور سے سنو یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ آپ کو دوبارہ عرض کرنا پڑا۔ہم نیکی او ربد ی کو بخوبی جانتے ہیں۔اُس کے باوجود ہم نیکی چھوڑتے ہیں اور بدی اختیار کرتے ہیں۔ایسے ہی سود کو حرام سمجھتے ہیں لیکن کتنے ایسے لوگ ہیں جو سود کا لین دین نہیں کر رہے یہ کیا ہم اُس حکم کو مان رہے ہیں جو واسمعو کے معنوں میں آتا ہے۔اور اس طرح کی گستاخی بندہ کو کفر تک لے جاتی ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ ہم قرآن کریم کے احکامات  پر کتنا عمل کر رہے ہیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں بحیثیت قوم ہم نے جو رویہ مسجد نبوی میں اختیار کیا اس سے ہماری اُمتی کی نسبت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔رمضان المبارک کی ان ساعتوں کا بھی ہم پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔معاشرے میں اگر معاملات کو دیکھیں،لین دین کو دیکھیں،کاروبار کو دیکھیں تو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا کہ رمضان المبارک ہے یا غیر رمضان ہے۔ وہی ہمارے کردار ہیں جو غیر رمضان میں ہوتے ہیں بلکہ  دیکھا یہ گیا ہے کہ اس سے بھی گئے گزرے ہو جاتے ہیں ہر چیز ہم رمضان المبارک میں مہنگی کر کے بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔
شب قد ر کی نسبت سے اللہ کریم کا اپنے بندوں پر خاص کریم کہ آخری عشرہ میں پانچ طاق راتوں میں لیلتہ القدر کی تلاش کر فرمایا تا کہ ہمیں اور مزید موقع مل سکے اگر صرف ایک رات کا ذکر ہوتا تو جس کی رہ جاتی وہ کیا کرتا اس موقع سے اللہ کریم کی خاص شفقت بھی محسوس ہوتی ہے اپنے بندوں پر اب ہم پر ہیں کہ ہم نے لیلتہ القدر کو کتنا پایا اللہ کریم اس رمضان المبارک کی برکات ہمیں اگلے رمضان المبارک تک لے جاتے کی توفیق عطا فرمائیں اور روزے تو گزر گئے رمضان کو جانے نہ دو یہ حضور حق کی کیفیت کو اگلے رمضان المبارک تک اپنے ساتھ رکھو۔روزے گزر گئے رمضان باقی ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
bargaah Risalat SAW ki be adbi se bandah lamhoon mein –apne aamaal zaya kar baithta hai - 1

جادو اور ٹونے کا راستہ شیطان کا راستہ ہے

دعوت ایمانی کے ساتھ ہم اتنے کمزور ایمان کے حامل ہوچکے ہیں کہ معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ فلاں نے میری اولاد بند کر دی ہے میرے کاروبار پر جادو کر دیا گیا ہے۔یاد رکھیں جادو باطل ہے حق صرف دین اسلام ہے۔ذات باری تعالی ہر شئے پر قادر ہے اور یہ کام اللہ کریم کے قبضہ قدرت میں ہے یہ کمزوری ہماری طرف ہے کہ ہم جادو اورٹونے کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم شیطان کے وسوسوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سنت اعتکاف پر آئے سینکڑوں معتکفین کے اجتماع سے خطاب!
 انہوں نے کہا کہ جادو اور ٹونے کا راستہ شیطان کا راستہ ہے اس پر چلنے سے منع فرمادیا گیا ہے جب بندہ کمزور اعتقا دکے ساتھ اس طرف چلنا شروع کردے تو یہ گہری کھائی میں لے جاتا ہے۔یاد  رکھیں کہ جادو ٹونہ کرنے والے غلاذت میں رہتے ہیں اور تمام عملیات گندگی سے کرتے ہیں اس  لیے اپنے آپ کو پاک صاف رکھا جائے ہر وقت طہارت میں رہیں اور اپنا ایمان اس بات پر مضبوط کریں کہ کوئی پتہ اللہ کے حکم بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔ہمیشہ اللہ کریم سے ہی ہر شئے ہی مانگنی چاہیے اور اپنی ہر بات کا رخ اللہ کریم کی طرف ہی کرنا چاہیے۔
 زندگی محض گزار دینے کا نام نہیں قرآن کریم اور آپ ﷺ کی بعثت اس لیے ہے کہ ہم مکلف مخلوق کے ہر عمل کا حساب ہو گا اور جنت اور دوزخ میں داخلہ ہو گا اور یہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے مرکزیت عطا فرمائی ہے اور مقصد حیات تب پورا ہوگا جب اپنا سفر اُسی کی طرف رکھیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اوربقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

آخری عشرے میں دوزخ سے رہائی کا پروانہ مومنین کو عطا کرنے کا وعدہ فرمایا


رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ ختم ہونے کو ہے رحمت اور بخشش کے ان عشروں سے گزر کر آخری عشرے میں دوزخ سے رہائی کا پروانہ مومنین کو عطا کرنے کا وعدہ فرمایا اور آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے والے اللہ کے حضور اس کے در پر مسجد میں حاضر ہوکر ھمہ وقت متوجہ الی اللہ ہو جاتے ہیں۔اور یہ بندہ مومن کے لیے بڑی خوش قسمتی ہے کہ اُسے اللہ کریم اس کی توفیق عطا فرمائیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے مزید کہا کہ آپ ﷺ کے زمانہ مبارک میں مکہ مکرمہ میں بہت سارے ادیان باطلہ کی پیروی کی جا رہی تھی کفار مکہ نے آپ ﷺ سے گزارش کی کہ بے شک آپ دین اسلام پر عمل کرتے رہیں ہم منع نہیں کرتے لیکن ہمارے ادیان کو غلط کہنا چھوڑ دیں۔لیکن آپ ﷺ نے اس بات پر سمجھوتہ نہ کیا اس وجہ سے آ پ ﷺ نے اپنے خدام کے ہمراہ مکہ سے مدینہ شریف ہجرت فرمائی۔اور ان کے خدام نے 23 برسوں میں معلوم دنیا کے تین حصوں پر عملی طور پر اسلام کانفاذ کر کے دکھا دیا پورا کفر مل کر بھی حق کو نہ مٹا سکا کیونکہ دین اسلام نے اُن خدام کے دلوں کو فتح کیا۔یہ وہ اصول ہیں جن سے ہر کوئی استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم رمضان المبارک میں نازل ہوا جس میں ہمارے لیے زندگی کے ہر شعبہ کی بہت بڑی راہنمائی ہے۔قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھا جائے کوشش کی جائے کہ تلاوت کے ساتھ ترجمہ بھی پڑھا جائے۔اکرم التراجم انتہائی آسان فہم اور بامحاورہ ترجمہ ہے اس کے علاوہ اکرم التفاسیر کا بھی ساتھ مطالعہ کیا جائے ایسے راز کھلیں گے جو آپ نے پہلے سوچیں بھی نہ ہوں گے۔
  یاد رہے کہ سنت اعتکاف کے لیے ملک بھر سے اور بیرون ممالک سے سالکین کی بڑی تعداد دارالعرفان منارہ میں پہنچ چکی ہے اس کے علاوہ نفلی اعتکاف کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احباب بھی ان دس دنوں میں اپنی فرصت کے حساب سے دارالعرفان منارہ میں آتے رہتے ہیں۔یہاں معتکفین کو تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے خصوصی تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے۔اس کے علاوہ روزانہ صحبت شیخ میں دن 12 بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی معتکفین سے خصوصی خطاب بھی فرمائیں گے جو کہ سلسلہ عالیہ کے فیس بک آفیشل پیج پر براہ راست بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Aakhri ashray mein dozakh se rihayi ka parwana momnin ko ataa karne ka wada farmaya - 1

صوفیا کرام قلوب کی اصلاح کرتے ہیں جس سے وہ درجہ نصیب ہوتا ہے کہ بند ہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے


ہمارا اپنے وجود پر اختیار نہیں ہے کوئی ایک سیل کم زیادہ ہو جائے تو ہم بیمار ہو جاتے ہیں اتنا بے بس ہونے کے باوجودہم زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ غفو رالرحیم جو ہر شئے پر قادر ہے اس سب کے باوجود ہماری خطاؤں سے درگزر فر ما کر واپس لوٹ آنے کے اسباب پیدا فرما تا ہے۔وجود انسانی میں قلب کی عظمت اس قد ر ہے کہ ہمارے وجود میں موجود گوشت کا یہ لوتھڑا اگر درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے۔سلاسل تصوف میں اسی قلب کی اصلاح کی جاتی ہے۔جس سے اعمال میں اتنا نکھار آ جاتا ہے کہ بندہ کا ہر عمل محض اللہ کی رضا کے لیے ہو جاتا ہے۔صحیح تصوف اور خانقاہی نظام ہر دور میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے ہمیں بس اس کی تلاش کرنا ہے دل کی زمین یہی عظیم لوگ تیار کرتے ہیں تا کہ اس میں انابت الٰہی کا بیج بویا جا سکے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں اتنی گرد اُڑا  د ی گئی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے۔صحیح کون ہے غلط کون ہے اس سے دشمن اپنے عزائم حاصل کر رہا ہے۔اللہ کریم رمضان المبار ک کے اس بخشش والے دوسرے عشرے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ جتنا کوئی اسلام کے تابع ہو گا اتنا استفادہ حاصل کرے گا۔ بندہ مومن کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ کریم کا حکم ہے یا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے بات ختم اتنا کافی ہے۔اللہ کریم بندہ مومن کی زندگی میں ایک تسبیح بھی قبول فر ما لیں تو اس کی بخشش کے لیے کافی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ منافقت،جھوٹ،برائی یہ سب دل کی بیماریاں ہیں اور ان کی شفاان کی دوا قرآن کریم میں موجود ہے۔قلب انسانی بڑی بنیادی حیثیت رکھتا ہے یہی وہ مقام ہے جو کیفیات کا گھر ہے۔یہ دل بھی تو ایک شہر ہے جہاں دوست بھی رہتے ہیں دشمن بھی جہاں محبت بھی بستی اور نفرت بھی جہاں اپنے بھی رہتے ہیں پرائے بھی پورا ایک شہر آباد ہے کیا یہاں ایک مسجد بھی نہیں ہونی چاہیے جہاں سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہو۔خواہشات،پسند و نا پسند کا محور بھی قلب ہے یہاں سے ہی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اگر دل میں اچھائی ہو تو سارا وجود اچھائی کی طرف چلتا ہے اور یہاں فساد آجائے تو سارا وجود بگڑ جاتا ہے۔نیت قلب کا فعل ہے،انابت قلب کا فعل ہے،توبہ قلب کا فعل ہے اس لیے انسانی وجود میں قلب بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اگر یہ قلب درست ہوجائے تو سارا بدن درست ہو جاتا ہے اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sufia karaam qaloob ki islaah karte hain jis se woh darja naseeb hota hai ke bandah khud ko Allah ke rubaroo mehsoos karta hai - 1

اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے


معاشرے میں ہونے والی برائی کو روکنا،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں معاونت کا حکم دیا گیا ہے۔آج ہم بحیثیت مجموعی اس حکم پر کتنا عمل کر رہے ہیں اس کا خود اندازہ کر لیں۔آج ہمارے اردگرد جو مسائل ہیں جو مظالم دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اُن قوانین کو چھوڑ دیا جس کا اللہ کریم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
 انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی اسلام کے احکامات ہیں شاید وہ صرف دوسروں کے لیے ہیں مجھ پر لاگو نہیں ہوتے اسی لیے ہر بندہ خود کی نہیں بلکہ دوسرے کی اصلاح کرنے کے لیے نکلا ہوا ہے۔جیسے وہ خودان سب سے بری ہے۔یہ ہمارے معاشرے میں عمومی روش پائی جاتی ہے۔اگر ہم سب اپنی اپنی غلطیوں کو دور کرنا شروع کر دیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں تو کم از کم اتنی بہتری تو معاشرے میں ضرور آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے۔اگر تصدیق بالقلب حاصل نہ ہو تو وہ ماننا نہ ماننے جیسا ہی ہوتا ہے۔اقرار اس درجہ کا ہو کہ اعما ل پر پابند کر دے عمل تب ہوتا ہے جب یقین کامل ہو۔ یقین کی کمزوری بے عملی کا سبب بنتی ہے۔جب کوئی نا فرمانی کرتاہے تو عبادات چھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔پہلے نفلی پھر سنت اس کے بعد فرائض بھی چھوٹنے لگتے ہیں۔جہاں بھی نا فرمانی ہونے لگے وہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں غلطی کر رہا ہوں ہم غلطی کو بھی جواز دے رہے ہوتے ہیں نیکی میں کمی آنے کا سبب ہماری کوئی خطا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے معاملات میں کمی آتی ہے۔جب ہم دیکھیں کہ میری عبادات میں کمی آرہی ہے تو ضرور دیکھیں کہ کیا میری غذا حلال ہے کیا میری نظر میں حیاء ہے لین دین کیسا ہے اپنا محاسبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ اللہ کریم رمضان المبارک کے اس رحمتوں والے عشرے میں ہمیں معاف فرمائیں اپنی رحمت شامل حال رکھیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Iqrar key saath qalb ki tasdeeq b zaroori hai  - 1

صرف و ہی اعمال مقبول ہوں گے جو حدود شرعی کے مطابق ہوں گے


اس دنیا میں بڑے بڑے حکمران اپنے تکبر،غلط روش اوراللہ کے مقابل کھڑا ہونے کے سبب تباہ ہوئے کسی کی موت کمزور مخلوق مچھر کے سبب ہوئی اور کئی آسمانی آفات کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ان کو رہتی دنیا کے لیے عبرت کا نشاں بنا دیا گیا۔معاشرے میں اس وقت ظلم و زیادتی عام ہو چکی ہے۔کسی چیز کا اپنے مقام سے ہٹ جانا ظلم ہے اور کسی چیز کا اپنے مقام پر ہونا عدل کہلائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ کوئی بھی عمل اپنی پسند سے اپنی سوچ سے کرنا درست نہیں ہے اس لیے صرف و ہی اعمال مقبول ہوں گے جو حدود شرعی کے مطابق ہوں گے یاد رکھیں کسی بھی عمارت کی مضبوطی اور اس کے درست ہونے کے لیے بنیاد کا صحیح ہونا لازمی ہے اسی طرح ہمارے اعمال کی بنیاد ہماری نیت ہے اگر یہ درست نہ ہوگی تو کتنے ہی بڑے اعمال کر دئیے جائیں وہ مقبولیت کا درجہ نہ پا سکیں گے۔نیت کو درست کرنے کے لیے قلب کی اصلاح بہت ضروری ہے اور قلوب کی اصلاح ذکر قلبی سے ہی ممکن ہے جس کے لیے یہ مجاہدہ اختیار کیا جاتا ہے۔
  رمضان المبارک کی آمد پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ماہ مبارک میں فیوض و برکات کو خوب سمیٹا جائے اور اپنے آپ کو پرکھا جائے کہ اب رمضان المبارک میں کوئی ایسا عمل تو نہیں کر رہے جسے ہم غیر رمضان میں شیطان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں کیونکہ رمضان المبارک میں تو شیطان قید کر دئیے جاتے ہیں اگر اس کے باوجود ہم عمل بد اختیار کیے ہوئے ہیں تو پھر یہ سمجھ لیجیے کہ غیر رمضان میں جو ہم شیطان کی پیروی کرتے رہے ہیں وہ شیطنت اس قدر ہم میں رچ بس گئی ہے کہ اب وہ کام جو شیطان کے پیچھے لگ کر ہم کرتے تھے اب اپنے ذاتی فیصلے سے کر رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک بات ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور اس ماہ مبارک میں ہمیں صفت تقوی عطا فرمائیں جو کہ رمضان المبارک کا حاصل ہے اور اس رحمتوں کے عشرے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
sirf wohi aamaal maqbool hon ge jo hudood sharai ke mutabiq hon ge - 1
sirf wohi aamaal maqbool hon ge jo hudood sharai ke mutabiq hon ge - 2

جب تک ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہ کریں گے مثبت نتائج ہمارے سامنے نہیں آئینگے


نزول قرآن آپ ﷺ کے قلب اطہر پر ہوا۔جس کا آغاز رمضان المبارک میں ہوا۔یہ عظیم کتاب قرآن مجید پہلی کتابوں اور ان کے احکامات کی تصدیق کرتی ہے۔آج کے دور میں اگر کوئی قرآن کریم کے کسی حکم سے انکار کرے گا تو اس کے لیے بھی وعید ایسی ہی ہو گی جیسی ان کافروں پر لعنت بھیج کر کی گئی۔لعنت سے مراد قربِ الٰہی سے دوری ہے۔جب تک ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل نہ کریں گے مثبت نتائج ہمارے سامنے نہیں آئینگے۔ہمارے ساتھ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنی ذاتی پسند کو ترجیح دی ہوئی ہے اور اسلام کے احکامات کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اس فانی اور عارضی دنیا کی غمی خوشی کو اس پہلو سے دیکھنا کہ شاید سب کچھ یہی ہے ایسا نہیں ہے اللہ کریم بہتر جانتے ہیں کہ کس کو کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔ضروری یہ ہے کہ جو معاملہ بھی ہو اس کا رخ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی طرف،کلام ذاتی کی طرف اور دین اسلام کی طرف ہو۔جب ہم اپنی پسند کو ترجیح دیں گے تو خطا کھائیں گے۔جب اعتراض تقسیم پر کریں گے تو وہ ذات الہی پر اعتراض شمار ہو گا۔اس اُمتی کے رشتے کو جانیے کہ ہر سوچ کا محور یہ اُمتی کارشتہ ہو۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان دو روزہ دورے پر لاہور جا رہے ہیں جہاں ہفتہ اور اتوار صحبت شیخ بھی ہو گی اور سالکین کی تربیت بھی کی جائے گی اس کے علاوہ بروز اتوار صبح 10 بجے حضرت جی مد ظلہ العالی لاہور کے ماہانہ اجتماع کے موقع پر خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔
Jab tak hum quran kareem ke ehkamaat par amal nah karen ge musbet nataij hamaray samnay nahi aaen ge - 1

عزت و ذلت کا معیار وہ ہے جو اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرمادیا


عزت وذلت کا معیار اللہ کریم نے قرآن کریم میں ارشاد فرما دیا ہے کہ عزت اللہ کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کے لیے اور ان مومنین کے لیے ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے قواعد و ضوابط کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔اس سے باہر اگر کوئی عزت تلاش کرے گاتو اُسے ذلت ملے گی۔اس ارشاد سے یہ بات واضح ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے آپ کو انفرادی سطح سے لے کر حکومتی سطح اُن اصولوں پر لے آئیں جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا 
  انہوں نے کہا کہ قلب سے قلب تک جو کیفیت پہنچتی ہے اسے کسی زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔قلب بنیاد ہے صراط مستقیم پر چلنے کے لیے قو ت بھی قلب سے نصیب ہوتی ہے اسی لیے صوفیاء کرام ساری محنت قلب پر کرتے ہیں۔دنیا کی زندگی پر آخرت کا انحصار ہے اخروی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے دنیا کی زندگی محدود ہے اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے جب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے تو اس کے بدلے چند لمحات کی لذت تو لے لی لذت بھی وہ جو عارضی لمحاتی اور ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کر دیا تو یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ کریم جسے چاہیں اپنی رحمت سے معاف فرما دیں لیکن ارشاد ہے کہ جس نے دنیا کے بدلے آخرت کو چھوڑ دیا وہ ضرور عذاب چکھے گا۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Izzat o zillat ka miyaar woh hai jo Allah kareem ne quran kareem mein irshad frma dya - 1

لوگوں کا مال لوٹ کر اور نجائز طریقے سے دولت اکٹھی کر کے غریبوں میں بانٹنا اور خیرات کرنا ایسا عمل گستاخی شمار ہو گا۔


ہم مخلوق سے چھپ کر تو گناہ کر سکتے ہیں اپنے خالق سے نہیں چھپ سکتے۔صدقات اور خیرات کرنے سے پہلے دیکھیں کہ میری کمائی حلا ل ہے،جائز ہے اس میں حرام شامل تو نہیں،کیا اس میں سود تو نہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔لوگ حرام کا پیسہ بھی غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں جو گستاخی شمار ہو گا۔دین اسلام سے معاشرے میں خوبصورتی آتی ہے۔انسانی حقوق و فرائض پر اسلام بہت زور دیتا ہے۔انسانی حقوق کی مسلم و غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں ہے۔زندہ رہنے کا ہر ایک کا حق ہے اور عقیدہ (مذہب) اختیار کرنے پر بھی ہر ایک کو اختیار ہے۔اس پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ ہر بندہ مومن نے کلمہ طیبہ کے ساتھ اللہ کریم سے ایک عہد کیا ہے کہ میں تیرے سوا کسی کو اپنا معبود نہیں بناؤں گا اور نبی کریم ﷺ کے طریقے پر (سنت) پر چلوں گا۔اور اس عہد کی پاسداری تا دم آخر ہونی چاہیے۔اللہ کریم توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس وعدے کو نبھا سکیں۔ہر بات میں اپنی انا،اپنی پسند کو رکھ لینا تکبر کرنا یہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔اللہ کریم زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔احکام الٰہی کچھ مان لینا اور کچھ کو چھوڑ دینا یہ درست نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان اشرف المخلوقات ہے ہر انسان کی استعداد مختلف ہے عقل و شعور،کلام ہر پہلو سے دوسرے کے جیسی نہی۔اگر سارا معاشرہ ایک جیسا ہوتا تو کوئی دوسرے کے کام نہ آتا۔یہ فرق دنیاوی امور کی سرانجام دہی کے لیے ہے۔یہی انسانی مزاج شہادت دیتا ہے کہ اسے ایسا قانون چاہیے جس پر کاربندہوتے ہوئے ہرکوئی اپنی حدودوقیود کا خیال رکھے۔جبکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی زہنی استعداد استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں فساد کا سبب بنتے ہیں۔کلام ذاتی حق و باطل کی پہچان کراتا ہے اور اس کے نتائج کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Logon ka maal lout kar aur Najaiz tareeqay se doulat ikathi kar ke ghareebon mein baantna aur khairaat karna aisa amal gustaakhi shumaar ho ga . - 1

زکوۃ کی ادائیگی،نماز کا قیام اور والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ دین کے بنیادی احکامات ہیں


زکوۃ کی ادائیگی،نماز کا قیام اور والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ دین کے بنیادی احکامات ہیں جن کی ادائیگی ہم پر فرض عین ہے۔ان اعمال کے اختیار کرنے سے معاشرے میں ایک خوبصورت نکھار پیداہوتا ہے۔لوگوں کے ساتھ بلا تفریق خوبصورت کلام کرنا،تبلیغ دین اور اشاعت دین کی بہترین صورت ہے اور ہماری عملی زندگی دوسروں تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کا بہترین طریقہ ہے۔  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
انہوں نے کہا کہ اسلام میں زکوۃ کا حکم ایسا خوبصورت عمل ہے کہ یہ نظام زکوۃ دولت کو ایک جگہ جمع نہیں ہونے دیتا۔بلکہ اس نظام میں دولت گردش کرتی رہتی ہے۔اس سے آپ کی دولت پاک ہوتی ہے اس میں مزید برکت آتی ہے۔دین اسلام کا ہر حکم ہر جگہ کے لیے اعلی ترین ہے۔جس پر عمل کر کے ہر کوئی استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔اللہ کریم کے احکامات ہی دین اسلام ہے اور ہم تک پہنچنے کا سبب انبیاء کرام مبعوث فرمائے۔ دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کا انداز،طریقہ،حدود و قیود ہر پہلو وہ ہے جس کی راہنمائی نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ سے ہر طرح کی ہر پہلو کی راہنمائی ملتی ہے۔زندگی کے عمومی حصوں سے لے کر خصوصی حصوں تک ہر طرح کی راہنمائی میسر ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں کیفیات قلبی عطا فرمائیں۔ہمارے پاس ہر طرح کی تحریر اور تقریر موجود ہے جس سے سالکین ہر طرح سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارا یہ مل بیٹھنا اللہ کی رضا کے لیے ہے اس کی خوشنودی کے لیے ہے۔اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کے لیے ہے۔اجتماع پر آنا،مل بیٹھنا،کہنا سننا اس کو عمومی نہ جانیں اس کو خصوصی جانیں۔اور نفلی معتکف کی حیثیت سے اپنا وقت بسر کریں۔گپ شپ یا کھانے پینے کے لیے اس وقت کو جو آپ نے اجتماع کے لیے وقف کیا ہے ضائع نہ کریں۔ جس مقصد کے لیے آئے ہیں اسے حاصل کریں۔ہر گزرتا لمحہ ہماری زندگی سے کم ہو رہا ہے۔آخرت کی فکر کریں اور اس کی تیاری کریں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Zikot ki adaigi namaz ka qiyam aur walidain ke sath husn sulooq yeh deen ke bunyadi ehkamaat hain - 1