Latest Press Releases


کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ اس سے مزید نیکی نصیب ہوتی ہے

اللہ کریم نے ہر انسان کو زندہ رہنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق عطا فرمایا ہے۔کوئی کسی کی جان نہیں لے سکتا ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اسی طرح آپ کسی کو ذبردستی مذہب اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے یہ بندہ اور اس کے رب کا معاملہ ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے کولالمپور ملائشیاء کی مرکز ی مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے ایمان نصیب نہ ہو تو انسان بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نظام ہستی میں چلا رہا ہوں اور میری عقل میری قوت بازو سے سب کچھ ہو رہا ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے یعنی زندگی کے زیر و بم اللہ کی طرف سے ہیں وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں اس کا احسان کہ ہمیں پیدا فرمایا اور اتنا بڑا احسان فرمایا کہ انبیاء اور رسول مبعوث فرمائے۔اور ہم پر خصوصی انعام فرمایا کہ بعثت محمد الرسول اللہ ﷺ اور کلام ذاتی سے نوازا۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ انسانی زندگی کو اگر دیکھیں تو جہاں ضروریات ہیں وہاں ان کی تکمیل کے ذرائع بھی عطا فرمائے ہیں۔جیسے آنکھ دیکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے ایک وجودی استعداد ہے۔اسی کا استعمال ضرورت کا اور ہے تجاوز کا اور ہے۔ضرورت کا جائز استعمال بندے کو شکرانے کی کیفیت میں لے جائے گا اور تجاوز کا دیکھنا بے حیائی کی حدود کو عبور کر دے گا۔ہر ایک اپنے بارے میں خوب جانتا ہے کہ کہاں سے تجاوز کر رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس استعداد کو بروئے کار کیسے لا نا ہے۔حقائق کو سمجھنے کے لیے قرآن کریم کو جاننا ضروری ہے جس کے لیے قرآن کریم کو پڑھنا اور اسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اسی سے ہمیں ساری زندگی کے اصول اور زندگی گزارنے کے سلیقے ملیں گے۔قرآن کریم ان لوگوں کے متعلق بھی بات کرتا ہے جنہوں نے زندگی قرآن کے مطابق گزاری اور جنہوں نے تجاوز کیا ان کے حالات بھی ہمیں بتاتا ہے کہ ان کے ساتھ پھر کیا ہوا۔ مسلمان کہیں سے بھی ہو، رنگ و نسل الگ الگ ہونے کے باوجود ہم سب کلمہ کی تسبیح میں پروئے ہوئے ہیں۔اللہ کا احسان ہے کہ دنیا کے ہر علاقے میں مساجد موجود ہیں علماء موجود ہیں جو سبب ہیں اللہ کے دین کو لوگوں تک پہنچانے کا سیکھانے کا اور سمجھانے کا۔اللہ کریم سب کی کوشش قبول فرمائیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ انسانی مزاج ایک جیسا نہیں رہتا اسے دستک کی ضرورت ہوتی ہے۔نماز ایک دن میں پانچ بار ایسی دستک ہے جو بے حیائی اور برائی سے روک دیتی ہے۔اس کے اثرات قلب اور روح تک پہنچتے ہیں۔اس کی ادائیگی رضائے باری تعالی اور انداز کا پہلو وہ جو نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا اور اجماع امہ کے تحت ہم تک پہنچا۔اللہ کریم ایسی کیفیت عطا فرمائیں کہ بندہ یہ سمجھے کہ میں ہر لمحہ اللہ کے روبرو ہوں۔کائنات اتفاقاً نہیں ہے ہر شئے طے شدہ نظام کے تحت چل رہی ہے۔کیفیات قلبی اگر نصیب ہو جائیں تو مزید قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہیں کسی بھی نیک عمل کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ اس سے مزید نیکی نصیب ہوتی ہے۔اسی دنیا میں رہنا ہے لیکن آخرت کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔یہی اسباب اختیار کرنے ہیں دنیا کے سارے کام کرنے ہیں لیکن اسلام کے مطابق اس سے باہر نہیں۔آخر میں انہوں نے ذکر قلبی سکھایا اور سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا تعارف اور سلسلہ عالیہ کے مشائخ کی زندگیوں پر روشنی ڈالی۔
Naiki Ka Mayaar - 1

دین اسلام سے دوری معاشرے میں بے حیائی کاسبب

معاشرہ اس وقت اس انحطا ط کا شکار ہے کہ برائی،فحاشی اس قدر پھیل گئی ہے کہ احساس ہی ختم ہو تا جا رہا ہے کہ یہ عریانی ہے یہ فحاشی ہے یا یہ کوئی غلط کام ہے۔یہ صرف عوام تک نہ ہے بلکہ ہمارے صاحب اقتدار بھی اپنے اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہیں کہ انصاف نام کی چیز کہیں نہیں ہے۔ہر ایک اس ظلم کو سہہ رہا ہے۔اورآئے روز ان واقعات کو ہم میڈیا پر دیکھ رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار شیخ سلسلہ نقشبندی اویسیہ وسر براہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ایک بات اور جو کہ غلط العام ہے کہ انسانیت ایک مذہب ہے یاد رکھیں انسانیت کوئی مذہب نہیں ہے بلکہ دین اسلام نے ہی لوگوں کو انسانیت سکھائی جینے کا اور رہن سہن کا سلیقہ سیکھایا۔انسانیت کوئی مذہب نہیں بلکہ یہ ایک دھوکہ اور فراڈ ہے جس سے ہم سب بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔دین اسلام کے باہر آپ کچھ بھی کرلیں وہ نہ اس دنیا کے لیے اچھا ہوگا اور نہ اس کا کوئی آخرت میں حصہ ہے۔
  یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان رواں ہفتے ملائشیاء اور آسٹریلیا کا ایک ماہ کا دورہ کر رہے ہیں جہاں آپ سڈنی،مالبرن اور اس کے علاوہ مختلف شہروں میں ذکر قلبی اور تصوف کے موضوع پر لیکچر دیں گے۔
Behayai ka sabab - 1

صحابہ کرام ؓ وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے قرآن مجید فرما رہا ہے کہ اللہ کریم ان سے راضی اور وہ رب کریم سے راضی

صحابہ کرام ؓ وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے قرآن مجید فرما رہا ہے کہ اللہ کریم ان سے راضی اور وہ رب کریم سے راضی۔آپ ﷺ کی غلامی کے لیے جن اصحاب کو اللہ کریم نے منتخب فرمایا ان کے خلوص کا کوئی ثانی نہیں کہ ایک صحابی ؓ ایک مٹھ جو،جو اللہ کی راہ میں دے اور آج کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا دے تو وہ جَو بھاری ہو جائیگے۔اس لیے صحابہ کرام ؓ  کی عظمت کو دل سے مان کر ہی اپنی بخشش کا سامان کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر دارالعرفان منارہ میں سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم نے اپنی عبادات اپنے اذکار کو دنیا کے ساتھ جوڑ دیا ہے اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور یادرکھیں کہ جو بھی نیک عمل ہوتا ہے وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔اس لیے اپنے اذکار کو مضبوط کریں حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ نے تصوف کے نام پر تمام خرافات کو جڑ سے صاف کیا اور وہ تربیتی نظام دیا جو کہ اس طرح کی تمام امیزشوں سے پاک ہے۔
  انہوں نے کشمیراور دنیا کے مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے مظلوم بھائی اپنے گھروں میں مقید ہیں اور بہت ہی مشکل حالات میں گزر بسر کر رہے ہیں اور ہم یہاں اُن کی عملی مدد کرنے کی بجائے ایک منٹ کی خاموشی اور موم بتیاں جلاتے ہیں۔ہمارے اجداد نے تو کبھی ایسا نہیں کیا تھا ہم بحیثیت قوم اور بحیثیت امہ پستی کا شکار ہیں۔ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر سے بے عملی کو ختم کرنا ہوگا۔بات ہم ریاست مدینہ کی کرتے ہیں اور سود ی نظام عملی طور پر ملک میں رائج ہے۔ریاست مدینہ کے نقش قدم پر چلنے کے لیے وہی اصول اور قوانین اپنانے ہوں گے جو مدینہ کی ریاست پر نافذ تھے۔تبھی ہم وہ تنائج حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اوراسلام کی بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Azmat-e-Sahaabah - 1

تصوف و سلوک بندہ مومن کی زندگی میں وہ انقلاب برپا کرتا ہے کہ اس کی تمام امیدیں اللہ وحدہ لاشریک سے وابستہ ہو جاتی ہیں

تصوف و سلوک بندہ مومن کی زندگی میں وہ انقلاب برپا کرتا ہے کہ اس کی تمام امیدیں اللہ وحدہ لاشریک سے وابستہ ہو جاتی ہیں اور یاد رکھیں کہ اس شعبہ کی تمام محنت بندہ کے قلب پر ہوتی ہے۔اور اس میں کی گئی بات کا اثر براہ راست دل پر ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس راہ کے مسافر اپنی بزرگی اور بڑائی میں نہ پڑیں۔حتی کہ منازل و مراقبات بھی قربِ الٰہی کے حصول کے لیے ہوں۔جس طرح کسی بھی منزل پر پہنچنے کے لیے مجاہدہ ضروری ہے بلکل اسی طرح اس شعبہ کے لیے بھی محنت و مجاہدہ شرط ہے ان خیالات کا اظہا رامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری ہے کہ انبیاء رسل ؑ کو ہدایت والا راستہ عطا فرمایااور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر کوئی شرک کرے گا تو اس کے اعمال اس طرح ضائع ہو جائیں گے جیسے اس نے کوئی عمل کیا ہی نہ ہو۔نبی رسل ؑ تو معصوم عن الخطا ہوتے ہیں یہ تمبیہ ہمیں فرمائی جا رہی ہے۔کہ ہم اپنے ہر عمل کو خالص اللہ کی رضا کے لیے اختیار کریں۔اور فائدے اور نقصانات کو مخلوق کے ساتھ منسلک نہ کریں۔کیونکہ اگر ہم اس بات کی گہرائی میں جائیں تو ایک درجہ شرک کا اس میں بھی آجاتا ہے۔کہ فلاں میرا یہ کام کر دے گا فلاں نے میرا رزق بند کر رکھا ہے۔
  یادرہے کہ مورخہ یکم فروری سے دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے دارالعرفان آئیں گے۔حضرت جی کا خصوصی خطاب اتوار 10:30  بجے دن ہو گا جو کہ سلسلہ عالیہ کے فیس بک آفیشل پیج پر براہ راست دکھایا جا ئے گا۔
Tasawuff-o-Salook - 1

فری میڈیکل کیمپ

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر انتظام اللہ یار خاں ہسپتال اویسیہ سوسائٹی لاہور میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں چائلڈسپیشلسٹ ، ای این ٹی سپیشلسٹ ،گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز نے 350 مریضوں کا مفت معائنہ کیا اور مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں اس کے علاوہ فری لیب ٹیسٹ بھی کیے گئے ۔ یاد رہے کہ الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی ذیلی تنظیم ہے جو کہ عرصہ دراز سے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی کی زیر نگرانی ملک کے طول و عرض میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے

Free Medical Camp - 1
Free Medical Camp - 2
Free Medical Camp - 3
Free Medical Camp - 4
Free Medical Camp - 5
Free Medical Camp - 6

دین اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کا وہ طریقہ عطا فرمایا جو ہمارے لیے سب سے بہتر اور احسن ہے

تصوف و سلوک بندہ مومن کو ان معرفتوں سے آشنا کرتا ہے کہ اس کی ذات کی نفی ہوتی چلی جاتی ہے اور اپنے ہر عمل کو اللہ کی ذات پر چھوڑ دیتا ہے اور یہی منزل ہے قرب الٰہی کی جو کہ ہمارا مقصد حیات ہونا چاہیے۔اس پر یہ بات بھی آشکارہ ہو جاتی ہے کہ مجھ مشتِ غبار کی زندگی کی ترتیب خود اللہ کریم نے فرما دی ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام نے ہمیں زندگی گزارنے کا وہ طریقہ عطا فرمایا جو ہمارے لیے سب سے بہتر اور احسن ہے۔اگر ہم اپنی زندگی کو ان قواعد وضوابط کے مطابق گزاریں گے تو پھر ہماری زندگی پُر سکون اور اطمینان والی ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کو اپنی زندگی کے معمولات میں اپنائیں اور اپنے ہر عمل کو اسلام کے اصولوں کے مطابق اختیار کریں۔ بندہ کا متقی ہونا یہ بھی ایک درجہ ہے لیکن جب بندہ مومن عشق الٰہی کی چنگاری کو دل میں بسا لے تو اس کی تو بات ہی اپنی ہے۔عشق الٰہی دل کے اندر وہ جزبہ پیدا کرتا ہے کہ پھر بندہ رضائے الٰہی کے علاوہ کسی چیز کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی دعا فرمائی۔

Deen-e-Islam ne hamen zindgi guzarne ka wo tareeqa ata frmaya jo hamare lie sb se behter aur ahsan he  - 1

آپ ﷺ نے احکام الٰہی کی صرف تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ ایک ریاست قائم کر کے معاشرے میں عملی طور پر نظام نافذ فرما کر صحیح اور غلط کو الگ کر دکھایاا

بندہ مومن جب اپنی عملی زندگی کو حضور ﷺ کی غلامی میں ڈھال لیتا ہے اور اپنے ہر عمل کو شرک کے دائرہ سے باہر کر لیتا ہے تو پھر اسے امن کی ضمانت قرآن مجید سے مل جاتی ہے اور جو بھی چاہے وہ اکیلا فرد ہو، کوئی قوم ہو یاکوئی ملک یہ عمل اختیار نہیں کرے گا تو پھر اس کے نتائج بدامنی کی صورت میں ہمارے سامنے ہونگے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اس وقت وطن عزیز میں جتنے مسلمان اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت میں ہیں۔وہ امن میں ہیں ان کا کچھ نہیں بگڑے گا چاہے پورا ماحول آگ کی لپیٹ میں ہو اللہ کے بندے امن اور سکون میں رہیں گے۔اور ان کی وابستگی خالی دعوے کی حد تک نہ ہو گی۔بلکہ جینے اور مرنے تک ہر کام اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں کر رہے ہوں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم نے صرف اسباب اختیار کرنے کا ہی حکم نہیں دیا بلکہ اسباب کی حیثیت بھی بتا دی ہے اور جائز نا جائز میں بھی فیصلہ فرما دیا ہے۔آپ ﷺ نے احکام الٰہی کی صرف تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ ایک پورا ملک بنا کر ایک حکومت تشکیل دے کر ایک ریاست قائم کر کے معاشرے میں عملی طور پر نظام نافذ فرما کر صحیح اور غلط کو الگ کر دکھایا لہذا اسباب اختیار کرنا بھی ضروری ہے لیکن وہی اسباب اختیار کیے جائیں گے جو سنت کے مطابق ہوں گے۔جن کی اجازت نبی کریم ﷺ نے دی ہو گی اور جس طرح دی ہو گی اسی طرح اختیار کیے جائیں گے۔اس پر نتائج کیا مرتب ہوتے ہیں یہ اللہ کے دست قدرت میں ہے۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
 - 1

دنیا و آخرت کے ہر سوال کا جواب دین اسلام میں موجود ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

دنیا و آخرت کے ہر سوال کا جواب دین اسلام میں موجود ہے اور ایسا جامع حل ہوتا ہے کہ اس میں ذرا برابر بھی کمی نہیں ہوتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سے کتنی راہنمائی حاصل کر رہے ہیں۔کوئی بھی عمل جب ہم دنیا میں کرتے ہیں تو اس کا پرتو اسی زندگی میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے جو ہمارے ظاہروباطن کو متاثر کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر دارالعرفان منارہ میں سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
  انہوں نے کہا کہ اس وقت معاشرے میں عدم استحکام اور بے یقینی کی جو فضا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام کے نام پر لی گئی اس مملکت خداداد میں تمام نظام غیر اسلامی رکھے ہوئے ہیں۔وطن عزیز میں سود جیسی لعنت کو حکومتی سطح پر اجازت حاصل ہے اور تمام بنک سود لیتے ہیں اور سود پر رقم عام آدمی کو دی بھی جار ہی ہے۔جب ملک میں سودی بنک ہوں گے اور اس غیر اسلامی امر کو نہ روکا جائے گا تو پھر کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہم سکون اور امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔اور یاد رکھیں کہ امن اور تحفظ کے بغیر زندگی کا کوئی تصور ہی ممکن نہ ہے۔ہم آخرت کو بھول کر یہاں وقت بسر کر رہے ہیں جو کہ سرا سر گھاٹے کا سودا ہے۔دنیاوی زندگی میں ہم ہر طرح کا خیال رکھتے ہیں لیکن جہاں ہم نے ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے اس کی کوئی تیاری نہ ہے۔
یاد رہے کہ آج دارالعرفان منارہ میں شعبہ دارالحفاظ میں نو حفاظ اکرام نے قرآن کریم کی تکمیل کی جن کی دستار بندی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی نے اپنے دست مبارک سے فرمائی۔یہ شعبہ 2013 سے حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کیا تھا جہاں پر بچوں کی تربیت،ہاسٹل کا بہت اعلی انتظام ہے اور مستند اساتذہ کی زیر نگرانی یہ شعبہ اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔
آخر میں انہوں نے سالکین سے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کو کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنے ملک کے لیے معاشرے میں اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں۔
 - 1
 - 2

اسباب کو سبب کی حد تک رکھنا ہے اور تمام امیدیں اوردنیاوی کامیابی کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔

آج ہم نے وقتی اور لمحاتی ضروریات کو اس قدر اہمیت دے دی ہے کہ اپنے نفس اور خواہشات کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔اور جب ہم اپنے مفادات مخلوق سے وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں سے میرا تعلق ہو گا تو میرا کاروبار چلے گا،وہ ہو گا تو میری حفاظت ہو گی یہ سب ہم شرکِ خفی کرنے کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں ہمیں اپنے ہر عمل کو ترازو میں رکھنا ہوگاکہ ہماری امیدیں،ہمارے مفادات کہیں مخلوق سے وابستہ تو نہیں ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ وہ شرک جو کہ ظاہراً کیا جاتا ہے وہ شرک جلی کہلاتا ہے جس سے بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس کی بخشش کسی صورت میں نہ ہو گی لیکن یہ جو ہم روز مرہ کے اعمال اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کو لوگوں کے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں فرد یا سیاسی لیڈر کے ساتھ میرے تعلقات ہوں گے تو میرا یہ کام ہو گا یہ شرک خفی کی طرف قدم ہوتا ہے ہمیں اللہ کریم نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اختیار کرنا فرض عین ہے۔لیکن توکل اللہ پر کرنے کا حکم ہے اور اسباب کو سبب کی حد تک رکھنا ہے اور تمام امیدیں اوردنیاوی کامیابی کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ضروریات دین کا جاننا سب کے لیے ضروری ہے۔دین کو پیر صاحب،مولانا صاحب کے حوالے کر کے خود فارغ نہیں ہونا ہے آج ہمارے اس عمل نے ہمیں معذرت خواہانہ مسلمان بنا دیا ہے اور جن کے پاس دین کی اشاعت ہے وہ اپنے تئیں پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن جب تک ہر کوئی اسے اپنی ذات کے ساتھ وابستہ نہیں کرے گا اس وقت تک معاشرے میں مثبت نتائج نہیں آسکتے۔اللہ کریم ہمیں دین اسلام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور اسکو سمجھنے اور آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائیں۔
 - 1

ضد اور انا میں صحیح اور غلط کی پہچان جاتی رہتی ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان

بندہ مومن کسی فرد واحد یا حکومت وقت سے اپنی ذاتی ضد اور انا کی وجہ سے تعلقات نہیں رکھتا بلکہ اسکی دوستی اور دشمنی صرف اللہ کریم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے۔کیونکہ جب کوئی بھی فیصلہ ضد اور انا کے تحت کیا جاتا ہے تو اس میں انصاف بلکل بھی نہیں ہو سکتا۔ان خیالات کا اظہارامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ قلب کی حیات نورِ ایمان سے مشروط ہے۔جب دل میں نو ر ایمان آتا ہے تو پھر قلب بندہ مومن کو صحیح راہ دکھاتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہیں اور اپنے قلب کو حیات بخشنے کے لیے اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔اور جو حدود دین اسلام نے مقرر فرمائیں ہیں۔ان کے اند ررہ کر زندگی گزارنی ہے۔اور معاشرے کی اس روش سے کنارہ کشی اختیارکرنا ہو گی۔جو کہ دین اسلام سے باہرہو گی۔انہوں نے کشمیری مسلمانوں پر بھارتی دہشت گردی کی مذمت کی اور ان کے لیے دعا بھی کی کہ اللہ کریم انہیں صبر دے او ر ہمارے حکمرانوں کو غیرت ایمانی عطا فرمائے۔امین
 - 1