Latest Press Releases


نکاح اور طلاق سے متعلقہ احکامات اللہ کریم کی حدیں ہیں ان سے تجاوز ظلم ہے


طلاق اور حلالہ سے متعلق قرآن کریم میں واضح احکامات موجود ہیں۔اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود پر اپنی پسند یا ناپسند کا اطلاق تجاوز ہو گا مرد کو اللہ کریم نے طلاق کا اختیا ر دیا ہے لیکن خاتون کو ایذا کی غرض سے پابند رکھے اور طلاق نہ دے تو یہ سرا سر ظلم ہے۔اس زیادتی کا حساب دینا ہوگا۔ مد ت معین کر کے نکاح کرنا جائز نہیں جو کہ آج کل حلالہ کے نام پر عام ہو رہا ہے۔یہ تجاوز اللہ کریم کے ارشادات کے ساتھ مزاق ہے۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے کہا کہ آج کل معاشرے میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام پر عمل چھوڑ دیا ہے۔دینی احکامات کا علم ہونے کے باوجود ہم اپنی پسند سے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔حالانکہ کہ اگر کسی عورت کے ساتھ آپ کا نبھانہ ہو رہا ہو تو طلاق کی اجازت ہے جسے ہم نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ایسے اختیار کیا ہے کہ دونوں خاندانوں میں باہم دشمنی اور دست و گریبان ہونے کا سبب بن گیا ہے۔اسی وجہ سے خاندانوں میں فساد پیدا ہو رہے ہیں۔عورت کے لیے یہ تکلیف کافی نہیں کہ اس نے زندگی گزارنے کے لیے نکاح کیا اور اب علیحدگی کا دکھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔طلاق کے بعداگرخاتون کو ایذا دینے کی غرض سے کوئی اقدام اٹھایا جائے گا تو یہ ظلم ہو گا جس کی جواب دہی ہو گی۔اور اسے اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز سمجھا جائے گا۔حلالہ سے مراد یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کیا جائے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے ناچاکی ہوجائے اور نبھا نہ ہو سکے وہاں سے بھی طلاق ہو جائے تو عدت پوری کرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔نکاح و طلاق کو مذاق نہ بنایا جائے۔
 اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq se mutaliqa ehkamaat Allah kareem ki hade hain un se tajawaz zulm hai - 1

ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں


خشیتِ الٰہی سے بندہ مومن کے قلب میں اس طرح کاڈر ہوتا ہے کہ میرے اعمال اس طرح کے نہ ہیں جس طرح اللہ کریم کی شان ہے یہی لوگ ہیں کہ جو بھی ان کے پاس ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہ نیک اعمال اختیار کرکے بھی لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروز ہ ماہانہ اجتماع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ  جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں یہ فرصت اللہ نے عطا کی ہے۔اس میں سستی اور کاہلی نہ ہونے پائے۔اور اپنے تمام اعمال کو اس طرح اختیار کرے کہ اس دنیا پر ترجیح نہ دے۔کیونکہ دنیا تو اللہ نے تقسیم کر دی ہے اور آخرت میں جن اعمال پر اچھا یا برا نتیجہ ملنا ہے ان کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔اور اللہ نے بندوں کو وہی حکم دیا ہے جسے وہ برداشت کر سکتا ہے۔اور اس میں یہ استطاعت بھی ہوتی ہے۔ہر بندہ کا ہر عمل لکھنے والے نے لکھ رکھا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بدلہ اللہ دے گا اور نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر عطا ہوتا ہے اور برائی کی سزا اتنی ہی ہے جتنی اس نے کی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟ فلسطین کی بات ہو یا کشمیر کی ہم خود کو نحیف محسوس کرتے ہیں جس کی مضبوطی ضروری ہے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔جو نظام موجود ہے اس کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روز 14 فوج کے سپوتوں کو شہید کیا گیا اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان والوں سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزری۔ اسلام مخالف قوتیں،پاکستان کی مخالف قوتیں برسرِ پیکار ہیں یہ چاہتے ہیں کہ حق غالب نہ ہو اور نہ یہ حق پر عمل پیرا ہوں یادرکھیں حق نے غالب ہونا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ مسلمان کا باعمل ہونا اس سب کا حل ہے۔ہمارے ملک میں غذا اور دوا کی دستیابی نہ رہی۔اعلی سطح پر بیانات مزید نفرت کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے خاندان اور بچوں کو تحفظ دیں۔اور اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں دین پر عمل پیرا ہونا اور والدین کا احترام موجود ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ذکر قلبی کی اہمیت پر بات کی اور سالکین کو اجتماعی ذکر بھی کرایا۔ذکر کے بعد ملک و قوم کی سلامتی اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی گئی۔
Hamari zindagi mein aap SAW ke tarbiyat Yafta sahaba karaam RA jaisi hastiyon ke aamaal nshanِ manzil ki soorat mein hain - 1

اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ظلم ہے


  کوئی ذمہ دار اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔مراعات ساری چاہیے،سہولتیں ساری ہونی چاہیے لیکن ذمہ داری ادا نہیں کرنی۔تو کیسے معاشرہ چلے گا۔سارا ملک ہم نے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے  بندہ مقصد حیات چھوڑ دے تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا ہے،نبی کریم ﷺ نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے۔دین پر عمل کرنا ہمیں مشکل لگتا ہے اور بے دینی میں ہم آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔اللہ کریم کے فیصلوں میں حکمت ہے وہ حکیم ہے ہمیں اپنی پسند اور انا کو رد کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔بندگی کا رشتہ اعمال میں تقویت پیدا کرتا ہے۔جب اپنی حالت ایسی ہوگی تو پھر ہم فلسطین کی کیا مدد کریں گے،کشمیر بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکیں گے جب تک ہم میں بے دینی ہوگی بہتری نہیں آئی گی۔تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی قوانین میں ہے جب تک ہم وطن عزیز پر ان کا نفاذ نہیں کریں گے ہم ایسے ہی تجربات سے گزرتے رہیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
  انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت زندگی کے دو حصے ہیں بقائے ا نسانی کا سبب ہیں ایک کو بھی ہٹا دو زندگی نہیں گزر سکتی۔مرد اور عورت کے جو مقام ہیں جو حیثیت ہے اللہ کریم نے ارشاد فرمائی ہے ہر ایک کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔مغرب تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے دور کرنا چاہتا ہے۔مغرب میں عورت اور مرد کی برابری کو بڑا اچھالا جاتا ہے اس کی برابری کیا ہے؟اسلام مرد کو ایک درجہ زیادہ دیتا ہے لیکن عورت کے حقوق اپنی جگہ قائم ہیں۔مغرب نے عورت کو اشتہار کے طور پر پیش کیا اور یہ عورت کی تضحیک ہے۔اسلام میں عورت کا مقام ماں،بہن بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہے اس سے بڑا مقام کیا ہو سکتا ہے۔اسلام عین طلاق میں بھی عورت کے حقوق کا تحفظ فرماتا ہے۔جب ہم غیر مسلم کو فالو کریں گے تو وہ شیطان کی پیروی ہوگی۔جدت کے ساتھ چلتے چلتے ہم نے اپنا مقام کھو دیا۔عورت کو عزت دی ہی اسلام نے ہے اسلام سے پہلے عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اسلام نے ماں کا مقام بیان فرمایا،جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی جس کا احترام اولاد پر فرض قرار دے دیا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 4،5 نومبر 2023 بروز ہفتہ،اتوار کو  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس میں سالکین سلسلہ عالیہ ملک بھر سے اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور اتوار دن گیار ہ بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیرا عوان  مد ظلہ العالی بیان فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی ہر ایک کے لیے دعوت عام ہے۔اس بابرکت اجتماع میں شرکت کر کے برکات نبوت ﷺ سے  اپنے دلوں کو منور فرمائیں
Allah kareem ki muqarrar kardah hudood se tajawaz zulm hai - 1

نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے


 دنیا کی زندگی کو دینی اصولوں کے تحت لایا جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دوافراد،دو خاندان بلکہ معاشرے پراس کے اثرات پڑتے ہیں نکاح بھی اللہ کے نام پر اختیار کیا جائے اور اللہ کریم کی حدودو قیود کے مطابق زندگی گزاری جائے تبھی کامیاب زندگی بسر ہو گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ میاں اور بیوی دونوں کی حیثیت اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہے اور وہ حیثیت احکامات دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔دینی احکامات پر عمل کیا جائے تو ہر کوئی اپنے مقام پر رہتا ہے۔نکاح اور طلاق کے معاملات میں ہم نے اپنی طرف سے اس میں بہت کچھ داخل کر لیا ہے جس سے میاں بیوی اور خاندانوں میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جہاں ہر کوئی اپنے حق کی بات کرتا ہے وہاں اس کے ذمہ فرائض بھی ہیں۔جب ہم اللہ کے حکم سے نکل کر کسی با ت کا حل تلاش کرتے ہیں وہاں پھر ہم ٹھوکر کھاتے ہیں۔ہم گلے کرتے ہیں شکوے کرتے ہیں لیکن اپنے بداعمال نہیں چھوڑ رہے۔جب ہم بے عملی اختیار کریں گے تو اصلاح کیسے ہوگی اور اگر اصلاح نہیں ہوگی تو سکھ کیسے نصیب ہو گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ میاں بیوی کا رشتہ معاونت کا ہے جب وہ ایک دوسرے کے معاون ہوں گے تو اس کے اثرات اولاد پر بھی پڑیں گے اولاد بھی صالح ہو گی۔اور نیک اولاد بہترین صدقہ جاریہ ہے۔بستر مرگ پر رونا رونے سے بہتر ہے کہ آج عمل کا وقت آج عبادات کے قابل ہیں آج ہم کیوں بھاگ رہے ہیں کیوں نیکی اختیار نہیں کر رہے۔رشتوں کے اصول اللہ کریم نے عطا فرمائے ہیں نبی کریم ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کریں تو دنیا بھی آسان ہوگی اور آخرت کی تعمیر بھی ہوتی جائے گی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq ki insani muashray mein bohat ziyada ahmiyat hai - 1

نبی کریم ﷺ کا کامل اتباع نصیب ہوجائے تو زندگی کا ہر لمحہ عبادت شمار ہوتا ہے


 مخلوق میں کسی کی قسم اُٹھانا جائز نہیں ہے۔قسم صرف اللہ کریم کی اُٹھائی جائے وہی ذات ہے جو ہماری ہر ہر حرکت سے واقف ہے۔جس کی قسم کھائی جا رہی ہو اس کی گواہی بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو  جانتا بھی ہو کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی۔ہم نے اس بات کو بھی رواجات کی نذر کردیا ہے بات بات پر قسم اُٹھانا درست نہیں ہے۔ہم قسم اس لیے اُٹھاتے ہیں کہ ہماری بات کا وزن بڑھ جائے۔صرف ایسی بات پر ہی قسم اُٹھانی چاہیے جو پرہیز گاری کی ہو اور اصلاح کی ہو۔جان بوجھ کر جھوٹی قسم اُٹھانے کے بارے روز محشر پوچھا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے احکامات زندگی گزارنے کا آسان ترین راستہ ہیں۔ان پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی بھی آسان ہوتی ہے اور آخرت کی تعمیر بھی ہو رہی ہوتی ہے۔صالح اعمال کی بنیاد نور ایمان ہے۔اللہ کریم ہمیں امتی کے رشتے کی باریکی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آج صاحب ایمان مغلوب ہیں اور غیر مسلم غالب ہیں۔وہ دنیا کی زندگی میں دینی اصول اختیار کیے ہوئے ہیں انہوں نے تحقیق کی نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا قرآن کریم سے نتائج اخذ کیے تو جب انہوں نے وہ اصول اختیار کیے تو دنیا کی زندگی میں فائدہ اُٹھا رہے ہیں ہمیں لیڈ کر رہے ہیں جبکہ ہم مسلمان بے عملی کی نذر ہو چکے ہیں ہم مان رہے ہیں لیکن عمل نہیں کر رہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nabi kareem SAW ka kaamil itebaa naseeb ho jaye to zindagi ka har lamha ibadat shumaar hota hai - 1

اللہ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق مخلوق کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے


 میاں اور بیوی کا رشتہ اللہ کے نام پر قائم ہوتا ہے اس کو اللہ کریم کے بتائے ہوئے احکامات پر گزارنے سے زندگی سہل اور سکون والی ہو جاتی ہے جب ہم اس رشتے کو جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کا ہے مقابل لے آتے ہیں کہ میں نے دوسرے کو فتح کرنا ہے تو پھر زندگی میں تلخیاں جنم لیتی ہیں۔جہاں یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرے حقوق پورے ہونے چاہیے وہاں ہمارے ذمے جو فرائض ہیں ان کی ادائیگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کریم کے احکامات کے مطابق ازدواجی زندگی گزاری جائے تو معاشرے سے بے حیائی ختم ہو جاتی ہے۔ آج ہمیں اپنی زندگی کو ایسے بسر کرنا چاہیے کہ اس سے آخرت کی تعمیر بھی ہوتی جائے۔بچوں اور بچیوں کے رشتے کرتے وقت بنیادی طور پر اس بات کو مدنظر رکھیں کہ اس گھر میں اس خاندان میں دین ہے۔اس سے رشتے میں ٹھہراؤ بھی نصیب ہوگا اور خوشی بھی۔نیکی کرتے وقت ایک دوسرے سے معاملات کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ میرے اللہ کریم کا حکم ہے۔اس حکم کی بجاآوری سے میرے اللہ کریم مجھ سے راضی ہوں گے۔اللہ کریم نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ہم زبردستی ہاتھ چھڑا کر جہنم جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہاکہ اللہ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق مخلوق کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے۔جب توقعات مخلوق سے وابستہ ہو جائیں وہ کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ہر بندے میں فطری طور پر یہ حصہ موجود ہے کہ وہ حق کو سمجھ بھی سکتا ہے اور اختیار بھی کر سکتا ہے۔ابھی ہمارے پاس وقت ہے ہم اس دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔قرآن کریم موجود ہے اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ ہماری راہنمائی فرما رہے ہیں تو چاہیے کہ ہم اپنی زندگیاں اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم کے مطابق بسر کریں اسی میں دونوں جہاں کی کامیابی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے فلسطین کے مسلمانوں اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی
Allah kareem ke sath mazboot talluq makhlooq ki ghulami se azad kar deta hai - 1

آپؐ کی ذات مجسم رحمت ہے آپؐ کے صدقے مخلوق پر رحمت فرمائی گئی ہے

حضرت محمد ﷺ سے جہاں رہنمائی اور مقصد حیات مخلوق کو عطا ہوا ہےوہاں اگر ہم اپنی کمزوری اور خطا ؤں سے معافی کی طلب، آپؐ کی  بارگاہ میں خلوص دل سے حاضر ہو کر کریں تو اللہ کریم  تو بہ قبول فرماتے ہیں بخشش فرماتے ہیں اللہ کریم نے ہر شئے با مقصد پیدا فرما ئی ہے انسا ن کو اللہ کریم نے اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور اگر کو ئی بھی شئےاپنے مقصد پر نہ رہے تو وہ اپنے مقام سے ہٹا دی جا تی ہے 
ان خیالات کا اظہار سیرت النبی ﷺ کانفرنس او۔جی۔ڈی ۔سی۔ایل ہیڈکوارٹر اسلام آبادمیں شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان ا میر عبد القدیر اعوان نے خواتین و حضرا ت کی بڑی تعداد سے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ آپؐ کی ذات مجسم رحمت ہے آپؐ کے صدقے مخلوق پر رحمت فرمائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت وہ محبت ہے جس کی حدود قیو د اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں ۔ یہ اللہ کریم کا احسان ہے کہ اس نے ماہ ربیع الاول کی بابرکت ساعتوں میں اللہ کے نام پر مل بیٹھنے کی تو فیق عطا فرمائی ہے کو شش کریں  کہ ماہ ربیع الا ول ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے اور زندگی کا ہر لمحہ آپؐ کی حیات مبا رکہ کے مطابق گزرے اور یہ رشتہ اور اس کی قیمت انشاء اللہ روز محشر لگے گی ۔
آخر میں حضرت امیر عبد القدیر اعوان نے ملک کے تمام اداروں خصو صا ً OGDCL کی ترقی اور ملک میں امن کے لیے دعا فرمائی ۔ امیر عبدالقدیر اعوان کی طرف سے ایم ڈی  احمد حیات لک صاحب کو شییلڈ پیش کی گئی اس کے علاوہ میلاد کمیٹی کے زمہداران جن میں محمد شفیق صاحب ،راجہ ارشاد صاحب،خالد مشتاق صاحب،ساجد علی اور محمد فراز کو شیلڈ دی گئی ۔ ایم ڈی احمد حیات لک صاحب  نے امیر عبدالقدیر اعوان کا شکریہ ادا کیا اور شیلڈ بھی پیش کی 
آAp SAW ki zaat mujassam rehmat hai Ap SAW ke sadqy makhlooq par rehmat farmai gai hai - 1

اگر زندگی سے صالح اعمال نکل جائیں یہ زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے


 آپ ﷺ پر وحی الٰہی کے نزول نے ہمیں آپ ﷺ سے امتی کا رشتہ عطا فرمایا ہے جو باقی سب سے ممتا ز کر دیتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگا ملک میں استحکام ہوگا تو ہم اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیت کو تحفظ دے سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سارے عالمین کے لیے رحمت ہے۔اس میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہے۔اس میں کافر و مشرک سب شامل ہیں۔آپ ﷺ کی عمر مبارک کے چالیس سال ہونے پر وحی الٰہی کا نزول ہوا اس مبارک موقع نے ہمیں امتی کا رشتہ عطا فرمایا۔ہمیں ہر حال میں اس رشتہ کو مقدم رکھنا ہے۔جب ہم بحیثیت امتی شان رسالت میں اظہار محبت کریں گے تو پھر اس میں ازخود احترام بھی ہوگا اور ان حدودو قیود کا بھی خیال رکھیں گے۔جس کا حکم ملا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دارالعرفان منارہ میں جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کے موقع پر بہت بڑے اجتماع سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔کیونکہ شان رسالت خود اللہ کریم نے قرآن کریم میں بیان فرما دی ہے۔اپنے بندے پر قرآن کریم نازل فرمایا۔ہمیں قرآن کریم کے احکامات کو دیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے  اگر زندگی سے صالح اعمال نکل جائیں یہ زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔اللہ کریم کی ذات میں کسی کو شریک کرنا بہت بڑا جرم ہے جس کی معافی نہیں ہے۔آج ہم نے اپنے اندر بہت سے بت بنا رکھے ہیں جنہیں شرک خفی کہا جاتا ہے۔آج یہ بات عام ہے کہ فلاں نے میرا رزق بند کر دیا ہے میری اولاد بند کر دی ہے یہ خفی شرک ہیں۔یہ آگ کی تاریں ہمارے ساتھ قبر میں لپیٹ دی جائیں گی۔آج اکثریت مسلمانوں کی صرف نام کی مسلمان ہے۔کیونکہ ہماری عملی زندگی دین اسلام کے برعکس ہے۔عین ربیع الاول کے پروگرامز میں اظہار محبت کرتے ہوئے فرض نماز چھوڑ دی جاتی ہے۔ہم نے فرائض اور احکامات کو چھوڑ کر رواجات کو مقدم کر لیا ہے۔
  یاد رہے کہ ماہ مبارک ربیع الاول میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت پورے ملک میں پروگرامز ہوئے جن میں پہلا پروگرام راولا کوٹ آزاد جموں کشمیر،کلر کہار چکوال،میانوالی،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ڈیرہ نور ربانی کھر کوٹ ادو،گوجرانوالا اور اسلام آباد شامل ہیں اس کے علاوہ مرکزی طور پر دارالعرفان منارہ میں عظیم الشان جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کا انعقاد کیا گیا ان پروگرامز میں امت کو وہ سبق یاد دلانے کی کوشش کی گئی جس کو وہ بھلا چکی ہے کہ ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق اور اس ملک کی بقا تب ہی ممکن ہے جب ہمارے کردار اسوہ حسنہ کے مطابق ہوں گے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور نا اتفاقی سے نجات کے لیے خصوصی طو ر پر گزارشات پیش کیں۔اور یہ نصیحت بھی فرمائی کہ ہم اپنے وجود پر اسلام کا نفاذ کریں۔اپنے کردار اور دوسرے کے ساتھ معاملات پر نظر رکھیں اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے کریں اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔اور نبی کریم ﷺ سے محبت کی وہ حقیقت عطا فرمائیں کہ ہماری آخری سانس اس محبت پر قربان ہو۔
Agar zindagi se Saleh aamaal nikal jayen yeh zindagi aik boojh ban jati hai - 1

ہم اس لیے مغلوب ہوئے کہ ہم نے دین اسلام کے عطا کردہ سنہری اصول چھوڑ دیے

ہم اس لیے مغلوب ہوئے کہ ہم نے دین اسلام کے عطا کردہ سنہری اصول چھوڑ دیے ۔ملکی قوانین اور نظام حکومت کو باقاعدہ حرکت دینے کی ضرورت ہے ہاں کہیں بھی بدعنوانی ہے اسے روکنے سے ملک میں بہت بڑی مثبت تبدیلی آسکتی ہے ملکی سرحدوں پر سمگلنگ کے کنٹرول سے پچھلے چند دنوں میں ہمارے روپے کو کتنا استحکام ملا جو کہ آپ سب کے سامنے ہے ہمیں بعثت عالی عملی طور پر رہنمائی فرماتی ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق اور محبت و یگانگت سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس سے خطاب 
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے ایمان میں کمزوری اس حد تک آگئی ہے کہ عمل ہم نے چھوڑ دیا ہے اور ہماری اس بے عملی نے رواجات کو فروغ دے دیا کہ دین میں بھی رسومات در آئی ہیں آپﷺکی شان بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے زبان گنگ ہو جاتی ہیں قران مجید میں آپ ؐ کی تعریف خود اللہ کریم فرما رہے ہیں یاد رکھیں   جب بندہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور جھکاتا ہے تو در در پر سر جھکانے سے بچ جاتا ہے اسی طرح دینی اصول اور دینی بات اتنی مستحکم ہے کہ اس کے مقابل کچھ نہیں آسکتا ۔
مزید فرمایاہمارے پاس اتنا بڑا شعبہ زراعت کا ہے کہ اگر ہم اس کے اوپر پوری توجہ دیں تو ہماری معیشت جو ہے وہ  صرف ایک شعبہ زراعت سے ہی بہتر ہو سکتی ہے صرف اس کے اوپر توجہ دینے کی ضرورت ہے  کسان کو خالص کھاد دی جائے اور سہولیات فراہم کی جائیں تو ہمارےکاشت کار بھائی ملکی معیشت میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں 
بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کر سکے اور ہمارے ملکی حالات بہتر ہو سکیں
پروگرام کے آخر حضرت جی نے وفات پانے والے ساتھی کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا فرمائی اور اس با برکت پروگرام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو مبارک باد دی ۔
 پروگرام  میں احسن ظفر  بختا واری( صدر آئی سی سی آئی) نے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا شکریہ ادا کیا  اس  تقریب میں  احسن بختاوری صاحب صدر آئی سی سی آئی  ظہیر الاسلام صاحب  (نائب صدر آئی سی سی آئی )،فاد وحید(سنیئر نا ئب صدر آئی سی سی آئی )چیئرمین ٹی ڈبلیو اے محمود احمد وڑیچ طارق نصرت سابق سینیئر نائب صدر آئی سی سی آئی خالد چوہدری سابقہ سنئیر وائس پریزیڈنٹ  اختر عباسی صاحب ایگزیکٹو ممبر آئی سی سی آئی اور اجمل بلوچ صاحب صدر انجمن تاجراں بھ شامل تھے
Hum is liye maghloob hue ke hum ne deen islam ke ataa kardah sunehri usool chore diye - 1

ہماری بے عملی نے اس ماہِ مبارک کو روا جات کی نذر کر دیا ہے

بعثت رحمت عالم ﷺ اور ولادت با سعادت سے اس کرۂ ارض پر تمام مخلوقات پر وہ رحمت کی بارش ہو ئی جس سے ریت کے ذروں سے لے کر عرش تک سب مستفید ہو ئے۔آپﷺ پر وحی کا نزول آپ کی ولادت سے ٹھیک چالیس سال بعد اسی ماہِ مبارک میں ہوا جس کی نزاکت یہ ہے کہ ہماری زند گیوں کا مقصد اس میں مضمر ہے ہماری انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی، جو کہ حاکم وقت تک  جاتی ہیں سب پر فرض ہو جا تا ہے کہ اپنے ہر عمل کو آپﷺ کی اتباع میں لے آئیں ان خیا لات کا اظہار  بعثت رحمت عالم ﷺ کا نفرنس سے ہزاروں مرد و خواتین سے ھیون مارکی گوجرانولہ میں امیر عبد القدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کیا 
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ قرآن مجید ہمیں کیا حکم دیتا ہےاسی آیت کریم میں صحابہ  ؓ کو راضی ہونے کا پروانہ عطا فرمایا جا رہا ہے تو یہ تو وہ ہستیاں ہیں جو اس راہ کے سنگ میل ہیں جن کو عبور کرنا تو درکناربلکہ سو چنے کا بھی تصور نہیں کر سکتے ۔آپﷺ کی زندگی میں 80 سے زائد غزوات و سرائع ہوئے جو کہ آپ ﷺ کی زندگی پر تقسیم کریں تو کو ئی دن خالی نہیں بچتا وطن عزیز میں دو دن پہلے المناک حملے میں 60 سے زیادہ معصوم شہری شہید ہو ئے یہ سراسر ظلم ہے یہ ہمار ے درمیان دین کے نام پر تفریق پیدا کرنے کی کو شش ہے اور ہماری قومی حمیت کو خدانخواستہ ایسا نقصان پہچانے کی کوشش ہے کہ یہ بحیثیت قوم سلامت نہ رہیں یہ وطن عزیز  لاالہ کے نام پر وجود میں آیا اور ہم آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو چھوڑ کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں انصاف نہ ہو نے کی وجہ سے تکلیف سے بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔
اس ماہ مبارک میں تجدید کریں کہ اپنی اصلاح دین کے مطابق کر لیں ہماری بے عملی نے اس ماہِ مبارک کو روا جات  کی نذر کر دیا ہے ۔آج سے 20،30سال پہلے تو اس طرح کے رواجات نہ تھے دین کے نام پر جو کہ آگے بڑھتے جا رہے ہیں ان محافل میں ہم فرض نماز کو چھوڑ دیتے ہیں جو کہ درست نہیں  ہے۔
حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے اس وطن عزیز کو ایک نعرہ " رب کی دھرتی رب کا نظام "دیا ہے اور فرما یا  تھا اس وطن عزیز کا مقدر ہے کہ اس پر اسلام کا نفاذ ہو گا اسے کو ئی نہیں روک سکتا ۔اور انشا ءاللہ یہ ملک دین اسلام پر وجود میں آیا ہے اس پر اسلام کی حکومت قائم ہو گی ۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Hamari be amli ne is mahe mubarak ko ravajaat ki Nazar kar diya hai - 1