Latest Press Releases


عمر فاروق کے دور خلافت میں معلوم دنیا کے تین حصوں پر اسلامی حکومت کا نفاذ اور تمام قوانین کی تشکیل ہو چکی تھی


 امیر المومنین حضرت عمر فاروق  ؓ کی شہادت اسلامی سال کے پہلے دن ہوئی۔اسی مبارک ماہ میں خانوادہ رسول ﷺ کی عظیم شہادتیں بھی ہوئیں۔ اسلامی سال کا آغازبھی قربانی سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی۔حضرت عمر فاروق  ؓ وہ عظیم ہستی ہیں جن کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ؓ ہوتے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ عمر فاروق  ؓکے دور خلافت میں معلوم دنیا کے تین حصوں پر اسلامی حکومت کا تفاذ اور تمام قوانین کی تشکیل ہو چکی تھی۔ جن میں ریاستی امور،عدالتی نظام،معاشی نظام،ویلفئیر سٹیٹ کا قیام اور بہت سے نظام جن کو آج تک مغرب والے فالو کر رہے ہیں اور دنیاوی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔سب وہی ہیں جو حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں قائم کیے گئے۔آج بھی عمر فاروق  ؓ کے نام سے انگلینڈ میں قوانین  موجود ہیں جنہیں دی عمر لاء کہا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آج مغرب سے مرعوب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ بہت ترقی کر گئے ہیں ان کا نظام بہت اعلی ہے حالانکہ یہ ہماری کھوئی ہوئی میراث ہے جسے انہوں نے اپنا کر دنیا میں مقام بنا لیا اور ہم آج بھی وہی غلامانہ نظام کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اگر وطن عزیز میں نظام عدل اسلامی کر دیا جائے تو کسی کی جرات نہیں ہو گی کہ وہ صحابہ کرام ؓ  جیسی عظیم ہستیوں کی شان میں گستاخی کر سکیں یہ ہمارے نظام عدل کی کمزوری ہے اور اس کا نفاذ نہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم اور کرپشن اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔حکومت وقت سے گزارش ہے کہ نظام عدل کو اسلامی اصولوں کے تحت نافذ کیا جائے ان شاء اللہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین مشعل راہ ثابت ہو گا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Umar Farooq RA Ke daur khilafat mein maloom duniya ke teen hisson par islami hukoomat ka Nafaaz aur tamam qawaneen ki tashkeel ho chuki thi - 1

کشمیری مسلمان 73 سالوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں


 آزادی کا مفہوم ہم نے صرف یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم جشن منائیں،گانے او ر ڈھول باجے پر ناچیں بلکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ جب سے یہ ملک خداداد وجود میں آیا ہے اُس دن سے لے کر اب تک وطن عزیز کی کتنی تعمیر ہوئی ہے۔کیا ہم نے اس کی تعمیر و ترقی کو آگے بڑھایا یا اس کی تخریب کا سبب بن رہے ہیں۔ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلانا ہے کہ اس ملک کی بنیادوں میں ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں لگی ہیں اس میں ہمارے اجداد کا خون اور گوشت لگا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے یوم آزادی کے دن جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے اس موقع پر حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ کے تاریخی الفاظ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ " ارباب اختیار میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ آپ ہماری جانوں کے ذمہ دار ہو ہماری عزتوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہو،ہمارے مال کی حفاظت کے بھی ذمہ دار ہو،آپ ہمارے ایمانوں کی حفاظت کے بھی ذمہ دار ہو،ایک ایک مسلمان چوکیدار سے لے کرصدر اور وزیر اعظم تک دامن پکڑ کر لے جائے گا کہ انہوں نے مجھے گمراہ کیا۔خدا کے لیے اپنی عاقبت بھی سنوارو اور ہمیں بھی نیکی پر چلاؤ۔ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ مسلمانوں پر مسلمانوں کی حکومت غریبوں کے خون سے مساکین کی ہڈیوں اور گوشت سے محلات تعمیر نہ کرو،حلال کماؤ اچھا کھاؤحلال ذرائع سے حاصل کرو،آپ ذمہ دار ہو اس غریب کی جھونپڑی کے جو بچوں کو بھوکا سلا کر خود آنسو بہا رہی ہوتی ہے۔ملک کی معصوم بچیوں کی عزت کے لٹنے کے ذمہ دار بھی آپ ہو،آپ کا دامن 25 کروڑ لوگ پکڑیں گے۔یہ ملک قائم رہے گا یہ ملک مٹنے کے لیے نہیں بنا اسے قائم رکھنے والا توڑنے والوں سے زیادہ طاقتور ہے۔یہ قائم رہے گا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بنے گا۔اور پوری دنیا پر اس کی روشنی پھیلے گی۔ہماری آزادی پنجرے والے طوطے کی طرح ہے۔ہمارے نظام تہذیب،معاشرت،تعلیم،مالی نظام،عدالتی نظام،سیاسی نظام یہ سب ہمارا نہیں ہے غیر کا ہے تو پھر ہم آزاد کیسے ہیں؟
  آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے پہلے نظام تعلیم میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ہمارے نصاب سے اغیار کے واقعات کو ختم کر کے ہمارے غیور حکمرانوں کے واقعات پڑھائے جائیں۔جنہوں نے پوری دنیا پر اسلامی حکومتیں قائم کیں۔ہمارے ملک میں زراعت کے اوپر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے اگر اس شعبے کو سپورٹ کی جائے تو ہم گندم چینی اور مختلف اناج باہر بھیج سکتے ہیں۔
  کشمیری مسلمان 73 سالوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں ہمارے ملک میں جہاں ان کے لیے آواز بلند کی جارہی ہے وہاں ہمیں اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرور ت ہے مضبوط پاکستان ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ ہم کشمیری بہن بھائیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا قابل ہو سکتے ہیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی دعا فرمائی
Kasmiri Musalman 73 saloon se zulm o sitam ka shikaar hain - 1

حلف برداری


  دارالعرفان منارہ میں تقریب حلف برداری منعقد ہوئی۔جس میں شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے تمام عہدیداران سے حلف لیا۔ان عہدیداران میں صاحب مجازین،امراء سلسلہ عالیہ اس کے علاوہ تنظیم الاخوان کے صدور،جنرل سیکرٹری،فنانس سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات شامل تھے۔موجود ہ حالات کے پیش نظر کچھ احباب ڈویژنل سطح کے مرکز تشریف لائے باقی تمام ذمہ داران کی حلف برداری بذریعہ آن لائن ہوئی۔جو کہ اپنے علاقہ کے مرکز دارالعرفان میں اکٹھے ہوئے اور انہوں نے آن لائن حضرت جی کے ساتھ اپنا حلف اُٹھایا۔
  یاد رہے کہ یہ ذمہ داری اگلے تین سال کے لیے ہے۔ مرکز میں صاحب مجازین حضرات کے علاوہ 
 کے پی کے سے کفیل گل جنرل سیکرٹری خان بشر،عبدالماجد جنرل سیکرٹری پنجاب،امجد اعوان سیکرٹری انفارمیشن تنظیم الاخوان پاکستان نے بھی شرکت کی۔
  آخر میں حضر ت نے فرمایا کہ اپنی اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کریں۔تا کہ دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکیں۔کیونکہ ایک دن آنے والا جب ہر ایک کو اپنا جواب دینا ہے۔تو اللہ کریم سب ساتھیوں کو استقامت عطا فرمائیں۔
Halaf Bardaari - 1

جو جتنا پرہیز گار ہے اللہ کریم کے نزدیک اتنا عزت والا ہے


جس دل میں اللہ کی یاد نہ ہو اس میں اندھیرا ہو تا ہے۔ایسے لوگوں کے دلوں پر شیطان کا تسلط ہوگا۔اور وہ اپنے دل کے اندھیروں کے سبب دوسروں کے بارے بدگمانی رکھیں گے۔معاشرتی برائیوں میں دوسروں کی غیبت کرنا،تضحیک کرنا یا کسی کو برے ناموں سے پکارنا دین اسلام ان سے منع فرماتا ہے۔اور آج اگر ہم بحیثیت ملک،قوم اور خاندان آپس میں اختلافات کو دیکھیں تو اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ آج کل عز ت اور مقام و مرتبہ، مال و دولت اورجاہ و جلال کوسمجھا جاتا ہے حالانکہ حقیقی عزت احترام  اللہ کریم کے نزدیک پرہیز گاری ہے۔اور اسے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی کہ کوئی کیا کہے گا۔ہر عمل آخرت کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔اگر دل کو خالص کر کے عمل صرف رضائے باری تعالی کے لیے کیا جائے تو ہر کیا گیا عمل اللہ کے قرب کی طرف ایک سیڑھی بن جاتا ہے۔اللہ کریم کا بہت بڑا انعام کہ ہم گناہ گاروں کو کیفیات قلبی سے منسلک فرمایا۔جب یہ برکات سینوں میں آتی ہیں تو بندہ مومن کو خالص کر کے اللہ کے روبرو کر دیتی ہیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں ماہانہ اجتماع کے موقع پر سلسلہ عالیہ اور تنظیم الاخوان پاکستان کے 
 عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پنجاب سے عہدیداران نے شرکت کی اور حضرت جی مد ظلہ العالی نے نے حلف لیا۔باقی پاکستان بھر سے عہدیداران نے حضرت جی مد ظلہ العالی کے ساتھ آن لائن حلف اٹھایا۔اور تین سال مزید ذمہ داری نبھانے کا عزم کیا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Jo jitna Parhaiz gaar hai Allah kareem ke nazdeek itna izzat wala hai - 1

نبی کریم ﷺ،خانوادہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ جیسی عظیم ہستیوں پر جھوٹ باندھنا انتہائی قبیح فعل اور جرم ہے


 نبی کریم ﷺ،خانوادہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ  جیسی عظیم ہستیوں پر جھوٹ باندھناان کی ذوات مبارکہ کو زیر بحث لاناکہ جیسے ہم آپس میں کسی معاملہ پر بات کرتے ہیں انتہائی قبیح فعل اور جرم ہے اور قرآن کریم میں ارشاد باری ہے کہ ایسے لوگ شیطان کے پیروکار ہیں اور یہ لوگ اسی کی روش پر چل رہے ہیں۔جب تک یہ کائنا ت باقی ہے ان شاء اللہ ایسے عظیم لوگ بھی موجود رہیں گے جو اپنی جان اپنی عز ت اور اپنا مال نبی کریم ﷺ کی عزت پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا،
  انہوں نے مزید کہا کہ زندگی کی روش کو ہمہ وقت نگرانی کی ضرورت ہے۔اللہ کریم کسی کو گمراہ نہیں کرتے بلکہ ہم خو د سیدھی راہ کو چھوڑ کر غلط راستے پر چل نکلتے ہیں۔جو کہ ہمیں مزید گمراہی میں لے جاتا ہے۔ایسے انسان ہی معاشرے میں خرابی اور برائی کا سبب بنتے ہیں۔
  یاد رہے کہ بروز ہفتہ اتوار دارالعرفان منارہ مرکز سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں ماہانہ روحانی اجتماع ہو رہا ہے جس میں سلسلہ عالیہ اور تنظیم الاخوان کے ذمہ داران کی حلف برداری کی تقریب بھی منعقد ہو گی تمام ذمہ داران اپنی ذمہ داری کا حلف اُٹھائیں گے۔آخر میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا ہوگی۔یہ سارا پروگرام سلسلہ عالیہ کے آفیشل فیس بک پیج اوریو ٹیو ب چینل پر براہ راست بھی دکھایا جائے گا۔
Nabi Kareem SAW, Khanwada  Rasool Aur Sahaba karaam jaisi azeem hstyon par jhoot bandhna intahi qabeeh feal aur jurm hai - 1

گھر گھر جا کر مستحقین تک راشن پہنچانے کا سلسلہ جاری

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت فیصل آباد ڈویژن اور گردو نواح میں موجودہ ملکی صورت حال کے پیش نظر تنظیم الاخوان پاکستان کے کارکنان کے ذریعے گھر گھر جا کر مستحقین تک راشن پہنچانے کا سلسلہ جاری ، 
یادرہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی ذیلی تنظیم الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی کی زیر نگرانی عرصہ دراز سے پاکستان کے طول و عرض میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے
Ghar Ghar ja kar mustahqin taq rashan pohanchanay ka silsila jari - 1

بحیثیت ایک اکائی ہمارا ہر عمل معاشرے میں اچھائی یا برائی کا سبب بن رہا ہے


 بحیثیت ایک اکائی ہمارا ہر عمل معاشرے میں اچھائی یا برائی کا سبب بن رہا ہے۔جس طرح کسی قسم کا تعفن کہیں بھی ہوتو جب تک اس کو جڑ سے ختم نہ کریں وہ پھیلتا چلا جاتا ہے بلکل اسی طرح معاشروں میں کوئی بھی خرابی جب حد سے بڑھ جاتی ہے تو معاشروں میں مجموعی طو ر پر ایسا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو ظاہری تدبیروں سے حل نہیں ہوتا جب تک اپنے اندر سے انانیت اور تکبر کو ختم کرکے قرب الٰہی کو حاصل نہ کریں اللہ کریم نے انسان کی تخلیق کر کے اس میں روح پھونکی اورملائکہ کو حکم دیا کہ اسے سجدہ کریں۔اس طرح انسانی زندگی عمومی نہیں ہے بلکہ اسے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے انبیاء و رسل کے ذریعے مخلوق کو تعلیم فرمائی کہ دنیا میں کیسے رہنا ہے زندگی کن حدود میں رہ کر گزارنی ہے کون سے کام کرنے درست ہیں اور کو ن سے ایسے اعمال ہیں جو اللہ کریم کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ہماری زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت مختصر ہے ہم اپنے ہاتھوں سے عزیز و اقارب کو دفن کرتے ہیں لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ کل میری بھی انتہا ہونی ہے مجھے بھی موت آنی ہے جب تک اپنی آخر ت کو سامنے رکھ کر زندگی کو نہ گزارا جائے اعمال درست نہیں رہ سکتے۔آج ہم اسلام سے اس قدر دور ہو گئے ہیں کہ ہماری پسند اور نا پسند صرف دنیاکی حد تک رہ گئی ہے۔ہم نبی کریم ﷺ کی ذات سے لے کر صحابہ کرام ؓ اور خانوادہ رسول ﷺ کو سوشل میڈیا میں زیر بحث لاتے ہیں کئی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں جن کو دیکھنا اور سننا بس میں نہیں ہوتا غیر مسلم ہماری غیر ت ایمانی کو پکارتے ہیں کیا ہم 50 سے زائد اسلامی ممالک اپنا ایک اتحاد نہیں بنا سکتے ہمارا اپنا سوشل میڈیا ہو جس پر کسی کی جرات نہ ہو کہ اسلام کے خلاف بات کر سکے۔ اللہ کریم تمام امت مسلمہ کو اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے اور اپنے ذاتی مفادات کو چھوڑ کر ایک نقطہ اتحاد پر جمع فرمائے جو نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Ba-hasiat aik ikai hamara har amal muashray mein achhai ya buraiee ka sabab ban raha hai - 1

خلاف شریعت کیے گئے ہر عمل کے ساتھ مشکلات اور پریشانیاں آتی ہیں

کسی سے غلطی کا ہو جانا ایک بشری تقاضاہے لیکن غلطی پر ڈٹ جانا اور پھر اس کو صحیح ثابت کرنے کے لیے جواز تلاش کرنا یہ بد بختی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔اور ایسے لوگ اپنی ضد اور انا کی وجہ سے تکبر میں گھِر کر اپنی ہدایت کو سلب کروا بیٹھتے ہیں۔اور یہ دنیا و آخرت کا بہت بڑا نقصان ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے کائنات کی ہر چیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا ہے۔اگر اس عطا کو دیکھیں اور اپنے اعمال کو دیکھیں تو سمجھ آئے گی کہ اللہ کریم کا کتنا بڑا احسان ہے اور میں شکر ادا کرنے کی بجائے نا فرمانی کر رہا ہوں۔یاد رکھیں کہ ہر عمل سے معاشرے میں اس کے اثرات جا رہے ہوتے ہیں اور جب بحیثیت مجموعی ہم اعمال بد اور خلاف شرح کام کر رہے ہوں گے تو پھر اس کے نتیجے میں ہمارے اوپر مشکلات ہی آئیں گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ہدایت اور صراط مستقیم کے طلب گار ہیں تو پھر ہمیں اپنے اندر سے تکبر اور انا کو نکالنا ہوگااور یاد رکھیں کہ کسی بھی منزل کو پانے کے لیے ادب بنیادی زینہ ہے اور بغیر ادب کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔کورونا وبائی مرض کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں دیگر امراض میں احتیاط اختیار کی جاتی ہے وہاں اس مرض میں بھی احتیاط ضروری ہے۔بغیر احتیاطی تدابیر کے یہ کہہ دینا کہ اللہ مالک ہے درست نہیں بلکہ احتیاطی تدابیر اختیار کر تے ہوئے اللہ کریم پر توکل کیا جائے۔اور معاشی حوالے سے حکومت وقت نے جو اقدامات کیے ہیں اس سے ملک معاشی بحران سے کسی حد تک بچ گیا ہے یہ کرنا وقت کی ضرورت تھی۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Khilaaf Shariat kiye gaye har Amal ke sath mushkilaat aur pareshaaniya aati hain - 1

کسی کے اندھے اور جاہل ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی ذات کونہ پہچانا

 آج بھی معاشرے میں خود کو دانشور،عقلمند اور دانا کہلوانے والے بہت سے لوگ موجود ہیں لیکن اگر وہ بعثت عالی ﷺ کے مقصد کو ہی نہ پا سکے اور وہ احکامات جو آپ ﷺ قیامت تک کے لیے لائے ان پر عمل پیرا نہ ہوسکے تو قرآن کریم ایسے لوگوں کو اندھا اور جاہل فرماتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی بد بختی ہے کہ بندہ حق کے ہوتے ہوئے حق کو پہچان نہ سکے۔ان کا نہ پہچاننا ان کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ پھر اللہ کریم ان کی نگاہوں اور دلوں کو پھیر کر رکھ دیتے ہیں۔اور ان کے قلوب پر مہر ثبت کر دیتے ہیں توبہ کی توفیق ہی سلب ہو جاتی ہے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہر عمل کو دیکھیں کہ اس میں کتنا خشوع و خضوع ہے کیا ہمارے سینے میں بھی وہ کیفیات ہیں جو قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے آ رہی ہیں۔اگر ایسا ہے تو اس کی بصیرت کام کر رہی ہے اور اس کی سمت درست ہے۔کیونکہ یہ روشنی اسے صراط مستقیم پر قائم رکھے گی۔
  قلوب کی حیات اور اسے کیفیات قلبی سے منور کرنے کے لیے ذکر اللہ اختیار کرنا ہوگا۔ہم محتاج ہیں وہ بے نیاز ہے یہ ضرورت ہماری ہے کہ ہم ان برکات کے حصول کے لیے محنت کریں اور قرب الٰہی کے لیے سعی کریں۔تاکہ بندگی کے معنوں سے آشنائی حاصل کر سکیں۔پھر بندہ مومن کو وہ فراست نصیب ہوگی جس کے بارے ارشاد ہے کہ مومن کی فراست سے بچوکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھ رہا ہوتا ہے 
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
kisi ke andhay aur jaahil honay ke liye yeh kaafi hai ke is nay aap ﷺ ki zaat ko na pehchana - 1

ہمارے ذمہ اللہ کی مخلوق تک یہ پیغام پہنچانا ہے نتائج اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں

  موجودہ ملکی حالات (کورونا)کے پیش نظر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے 15 روزہ آن لائن تربیتی پروگرام کے اختتام کے موقع پر سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے صاحب مجازین،امراء اور تنظیم الاخوان پاکستان کے ذمہ داران جن میں صوبائی سطح سے لے کر تحصیل تک کے صدور،جنرل سیکرٹری،فنانس سیکرٹری اور سیکرٹری انفارمیشن شامل تھے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔
  انہوں نے کہا کہ سوچا نہ تھا کہ وطن عزیز میں حالات ایسے بھی آ جائیں گے کہ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر آن لائن اجتماعات کرنے پڑیں گے۔لیکن اللہ کریم کا اپنا نظام ہے۔ہر شئے کا مالک ہے جیسے اُسے پسند ہے اس کے حکم کے مطابق سارا نظام چل رہا ہے۔انفرادی طور پر کام کرنا اور اجتماعی طور پر کام کرنے میں فر ق ہے اجتماعی طور پر کام کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ہم سب اللہ کے دین کے لیے کام کر رہے ہیں اللہ کریم سب کی کاوش قبول فرمائیں۔مخلوق خدا تک کیفیات قلبی کا پہنچنا اور ان کیفیات کے پہنچانے میں اگر اللہ کریم نے ہمیں قبول فرمایا ہے سبب فرمایا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی عطا ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنا بھی جائزہ لیتے رہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ر ب کائنات کا احسان کہ اس نے اس کیفی شعبے سے منسلک فرمایا۔ہمارے ذمہ اللہ کی مخلوق تک یہ پیغام پہنچانا ہے نتائج اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں۔اللہ کریم تمام ذمہ دران کی کاوش قبول فرمائیں
Hamaray zimma Allah ki makhlooq tak yeh pegham pahunchana hai nataij Allah kareem ke dast qudrat mein hain - 1