Latest Press Releases


دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے


 ضابطہ اصول،قوانین پر عمل درآمدقوموں کو قوم بناتے ہیں ورنہ یہ قوم نہیں بلکہ ایک ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔ملکی سطح پر ایک شور اور بدنظمی نظر آتی ہے۔نہ کوئی بات سنا سکتا ہے اور نہ کوئی سننا چاہتا ہے۔یہی حال اگر ہم ملک سے گھر وں پر لے آئیں تو اپنے خوبصورت رشتوں ماں باپ،بہن بھائی،میاں بیوں اور اولاد کو جب حکم الٰہی کے مطابق نبھاتے ہیں تو ان میں کتنا پیار اور لحاظ ہوتا ہے اور جب ہم اپنی ذاتی خواہش اور انا کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے تو تلخی آجائے گی۔آج اس درجہ کی بے حیائی ہے کسی رشتے کا تقدس باقی نہیں رہا۔خاندان بکھر گئے۔والدین کچھ اور چاہ رہے ہیں اولاد کچھ اور کر رہی ہے۔سنت خیر الانام دیکھیں،سیرت پاک کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کی تربیت کریں تا کہ ہم زندگی کو حق کے مطابق گزارسکیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے۔ہمیں اپنی زندگی دین اسلام کے مطابق گزارنی چاہیے ذاتی مرضیات شامل کریں گے تو نقصان اُٹھائیں گے۔ہمارے نقصانات ہمارے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔کامیابی ملے تو کہتے ہیں کہ اس میں میراکمال ہے اگر پریشانی آجائے تو اللہ کریم کے ذمہ لگا کر خود بری ہو جاتے ہیں۔ہم مخلوق کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اور وہ ہم سے راضی نہیں ہوتی ہم نے اپنی زندگی کو مصیبت میں اس لیے ڈال رکھا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ عنداللہ اس عمل کا کیا نتیجہ ہوگا۔ 
  یادرہے کہ دارالعرفان منارہ میں دوروزہ روحانی اجتماع کا انعقاد 2،3 ستمبر بروز ہفتہ اور اتوار کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لاتے ہیں ہر خاص و عام کو دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی بروز اتوار دن 11 بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔
Deen islam ke har hukum mein aitdaal hai - 1

سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں


عام آدمی سے لے کر مملکت خدادادتک سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں۔غریب آدمی کا نوالہ مشکل ہو گیا ہے۔اس معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ہم انہی ممالک سے ماہرین بلاتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس بحران میں دھکیلا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارا بھلا سوچیں گے یا اپنا فائدہ چاہیں گے۔ہم وہ نظام معیشت نہیں اپنا رہے جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔عقل پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ باقی سارے تجربات کیے جا رہے ہیں اور ان تجربات کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔اللہ کرے ہمارے حکمران اسلامی نظام معیشت کو وطن عزیز پر نافذ کریں تا کہ ہم بھی ان بحرانوں سے نکل سکیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ شراب اور جواء کی اصل حرام ہے۔پکے دوزخی کی ایک خصلت یہ بھی ہے کہ وہ شرابی ہوگا۔جتنی کوئی دنیا میں شراب پئیے گا اتنی اسے جہنم میں پیپ پینی پڑے گی۔جس چیز کو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے حرام قرار دیا ہو اس سے کبھی بھی مخلوق کو فائدہ نہیں ہو سکتا۔شراب اور جواء سے معاشرے میں خرابی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ایسے لوگ جو قرآن کریم کا اپنی مرضی سے ترجمہ کرنا چاہتے ہیں دین اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق اختیار کرنا چاہتے ہیں ایک دن کہیں گے کا ش ہمیں موت آ جائے اور خاک ہو جائیں۔آج وقت ہے اپنی اصلاح کریں اپنی اولاد کی تربیت کریں بڑے بڑے نام آج زمین میں دفن ہیں خاک کے ساتھ خاک ہو گئے نشان تک نہیں رہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Soodi maeeshat mein is terhan jakray hue hain ke hum rozbroz pasti ki taraf ja rahay hain - 1

اسلام غیر مسلم کے تحفظ کی بھی تعلیم دیتا ہے

حق بندۂ مومن کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے، اس راہ کا مسافر جنت میں داخل ہوتا ہے۔ دعویٰ ایمانی خالی نہ رہ جائے بلکہ اقرار کے ساتھ عملی طور پر اسلام پر عمل کیا جائے۔ اسلام اپنے   زیر ِ نگیں ریاست میں غیر مسلم کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد مذمت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ کو ختم کرنا ہو گا۔ اقلیتی آبادیوں کا تحفظ بھی تب ممکن ہو گا جب اکثریت کے حقوق انہیں مل رہے ہوں گے۔ ہمارے پرچم میں سبزہلالی حصہ کے ساتھ سفید حصہ غیر مسلم کے لیے ہے۔ ہمارے قوانین وہ ہیں جو کہ ہمیں کفار نے دیے ہیں۔ وہ قوانین جو اللہ کریم سے 14 سو سال پہلے ہمیں ملے ہوئے ہیں، ہم اس طرف نہیں آ رہے ہیں۔ جب تک ہم اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے تو ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکیں گے۔صحابہ کرامؓ کی جماعت پر کفار اعتراض کر تے تھے تو اس کا جواب   ربّ کائنات نے دیا۔ جب بندہ اس کی راہ پر چلے تو پھر ہمیں ہر پہلو سے تحفظ نصیب ہو گا۔ کفار سے دوستی انہیں جھگڑنے سے باز نہ رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ درست ہے اور جو کوئی دوسرا کر رہا ہے وہ غلط ہے۔ ہم سب کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ہو، یہ روش باہم جھگڑوں کا سبب بن رہی ہے۔ ہمارا سطحی طور پر کسی معاملے کو دیکھ کر اپنے اندر اس پر رائے قائم کر لیتے ہیں اور یہ انداز گھروں، قوموں میں نااتفاقی پیدا کرتا ہے۔ اور آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے ہر عمل اور ہر سوچ کو قرآن و سنت کے مطابق لایا جائے
Islam ghair muslim ke tahaffuz ki bhi taleem deta hai - 1

یوم آزادی منانے کی نہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے


یوم آزادی منانے کی نہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہم اسے اختیار کریں گے تو بحیثیت مجموعی اس کے محافظ ہوں گے۔وطن عزیز بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ہے اور یہ قربانیاں ہم ابھی تک دئیے جا رہے ہیں۔وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام امن،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔آج ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو اس طرح یاد رکھیں کہ اس ملک کی بقا کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اس کا ایک ایک ذرہ ایک ایک ادارہ ہمارا ہے ہم اس سے ہیں اور اس کی نگہبانی ہم پر فرض ہے۔میری سالکین سے گزارش ہے کہ ایسا کوئی کام،کوئی بات نہ کریں جس سے ملک و قوم میں خرابی پیدا ہو۔جہاں کوئی ہے ملک کی تعمیر میں اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع کے اختتام پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اجتماع کا مقصد شب و روز کے معمولات اورذکر الٰہی سے دلوں پر وہ دستک عطا ہوتی ہے کہ سالک خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرتا ہے۔اور اپنے ہر عمل کو خالص اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوتا ہے۔یہاں پر آنے والے سالکین کی بلا تفریق تربیت کی جاتی ہے۔اللہ اللہ کی تکرار سے کیفیات قلبی کا حصول ممکن ہوتا ہے جس کا ثمر یہ ہوتا ہے کہ اپنے گھر سے لے کر معاشرے تک کو سنوار دیتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے،ہماری اولادیں ہمارا اثاثہ ہیں۔ان کی تربیت ایسے کریں کہ یہ اغیار کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنیں بلکہ انہیں اپنی اقدار اور دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم ہے لیکن ہمارے مال پر سب سے زیادہ حق ہمارے والدین کا ہے۔اس کے بعد عزیز و اقارب،مسافر اور قیدیوں کا ہے۔صبر پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود کو شریعت مطہرہ پر کاربند کرنے کا نام صبر ہے۔بندہ مومن کا معاشرے میں کردار ایسا ہو نا چاہیے کہ اس کے قول و فعل سے معاشرے کی تعمیر ہو ہمارے معاملات سے لوگ کہیں کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملک میں امن اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج اختتامی بیان تھا اور اجتماعی دعا بھی تھی ملک بھر سے سالکین کی بڑی تعداد نے اس بابرکت محفل میں شرکت کی۔خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی اس محفل میں شریک ہوئی۔اجتماع کے اختتام پر ڈویژنل سطح پر ذمہ داران میں حسن کاکردگی پر حضرت جی مد ظلہ العالی نے اپنے دست مبارک سے شیلڈ تقسیم کیں جس میں پہلی پوزیشن راولپنڈی ڈویژن دوسری سرگودھا ڈویژن اور تیسری پوزیشن گوجرانوالا نے حاصل کی۔اس کے علاوہ الفلاح فاؤنڈیشن کی کارکردگی میں ڈی آئی خان نے پہلی جب کہ راولپنڈی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔اس کے علاوہ شعبہ نشرواشاعت میں فیصل آباد نے پہلی اور گوجرانوالا نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
Yom-e-azadi mananay ki nahi ikhtiyar karne ki zaroorat hai - 1

ہمارے مال پر سب سے زیادہ حق ہمارے والدین کا ہے


 دین اسلام بندہ مومن کی مال کمانے سے لے کر خرچ کرنے تک کی راہنمائی فرماتا ہے۔مال و دولت سے محض دنیاوی سکون کا حصول ناممکن ہے۔اگر اسی مال کو ان اصولوں کے ساتھ حاصل کیا جائے جس کا حکم ہمیں اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے فرمایا ہے پھر اس سے زندگی میں ٹھہراؤ اور سکون عطا ہوگا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!!
  انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام مذاہب بندے کو اس کی آمدن پر ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کے بعد آزاد کر دیتے ہیں کہ وہ بچ جانے والے مال کو جس طرح چاہے خرچ کرے لیکن دین اسلام آمدن، ذرائع آمد ن اور پھر خرچ کرنے تک کی راہنمائی فرماتا ہے۔اس سے یہ احساس بھی بندہ مومن کے دل میں آتا ہے کہ میرے پاس یہ سب کچھ اللہ کی امانت ہے۔دین اسلام دین فطر ت ہے اس پر عمل زندگی کے کسی پہلو میں رکاوٹ اور خلش نہیں آنے دیتا۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع جاری ہے جس میں ملک اور بیرون ملک سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے آئے ہوئے ہیں جن کو باقاعدہ ایک تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے۔اور مختلف ضروریات دین کے تربیتی کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔ان کورسزکے امتحانات پاس کرنے والے سالکین میں شیخ المکرم حضرت جی مد ظلہ العالی اپنے دست مبار ک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں۔13 اگست بروز اتوار دن 11 بجے شیخ المکرم حضرت جی مد ظلہ العالی اختتامی بیان اور اجتماعی دعا فرمائیں گے۔دعوت عام دی جاتی ہے کہ اس بابرکت اور روحانی محفل شرکت کے لیے تشریف لائیے
Hamaray maal par sab se ziyada haq hamaray walidain ka hai - 1

کربلا منانے کی نہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے


 اپنی زندگیوں میں کربلا کو اُس طریقہ سے اختیار کیا جائے جس طریقے سے خانوادہ رسول ﷺ نے جانیں دے کر ثابت کیا کہ اللہ کریم کا حکم مقدم ہے۔عملی طور پر کر کے دکھایا کہ جان چلی جائے لیکن کوئی کام اللہ کے حکم سے باہرنہ ہو۔آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے کئی سال بعد،نزول ِ قرآن مکمل ہونے کے بعد خانوادہ رسول ﷺ نے قرآن کریم کے اس حکم کی تعمیل میں اپنی جانیں قربان کیں کہ جان چلی جائے لیکن دین اسلام کے احکامات سے انحراف نہ کیا جائے۔ہم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات سنا کر خود کو منوانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ہم کہہ کچھ رہے ہوتے ہیں اور کر کچھ رہے ہوتے ہیں۔ہم اتنے گر چکے ہیں کہ بات دین کی ہوتی ہے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی ہوتی ہے اور فائدہ دنیا کا اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسر براہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہمارا ظاہر و باطن اس طرح درست ہو کہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو جائیں۔ہمارا ظاہر و باطن دین اسلام کے مطابق ہو جائے ہماری نیت سے لے کر اعمال تک کھرے ہوں اس کے لیے برکات نبوت ﷺ کا حصول ضروری ہے۔ہم مانتے ہیں اقرار کرتے ہیں لیکن رسومات بھی نہیں چھوڑتے۔بندہ کے ذمہ انابت ہے،رجوع الی اللہ ہے،طلب ہے ہماری طلب ہی صادق نہیں باقی باتیں تو بعد میں آتی ہیں۔صاحب ایمان ہونا بہت بڑا شرف ہے لیکن کیا ہمارا رزق حلال ہے کیا ہماری عبادات خالص اللہ کے لیے ہیں یا اپنی بڑائی مقصود ہے۔ہم انصاف کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں۔دین اسلام کو بوجھ نہیں بلکہ اپنے لیے راہنمائی سمجھیں اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔اگر کوئی دین اسلام پر عمل کر رہا ہے دین کے لیے جان دے رہا ہے یہ بھی اللہ کریم کا اس پر کرم اور فضل ہے۔شیطان کسی کو باندھ کر اس پر اپنا حکم نافذ نہیں کر سکتا ہم خود اپنی مرضی سے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اس کے قدموں پر قدم رکھتے ہیں۔دین اسلام پوری انسانیت کی راہنمائی فرماتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں ملک بھر سے اور بیرون ممالک سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے آئے ہوئے ہیں ان کے شب و روز ایک باقاعدہ پروگرام کے تحت بسر ہو رہے ہیں۔روزانہ دن بارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی صحت شیخ کے پریڈ میں خصوصی خطاب فرماتے ہیں۔دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوتﷺ سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے
karbalaa mananay ki nahi ikhtiyar karne ki zaroorat hai - 1

اسلامی سال کی ابتداء یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت سے ہوتی ہے


 حضرت عمر فاروق ؓ  وہ ہستی ہیں جنہوں نے ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کا رقبہ فتح کیا۔آپ ؓ کی فتوحات میں نہ کسی مظلوم کی آہ سنائی دیتی ہے اور نہ کسی عورت کی پکار۔اسی ماہ (محرم الحرام) میں خانوادہ رسول ﷺ کی عظیم شہادتیں ہوئیں۔ان عظیم ہستیوں نے آپ ﷺ کی اتباع میں اپنی جانیں قربان کیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اُس وقت کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن انہوں نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا کہ عملی طور پر مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔آج مسلمان تعداد میں تو سب سے زیادہ ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم اغیار کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں  ہمیں اپنے آپ کو عملی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ہمارے ایمان کی پختگی اور ہمارے اعمال یہ شہادت دیں کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔بد قسمتی سے ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے اس اللہ کی زمین پر فساد برپا ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ہماری بے عملی کا سبب ہماری بے ایمانی ہے آج لوگ دشمنی نبھانے کے لیے پہلے دوستی کرتے ہیں پھر دشمنی کا وار کیا جاتا ہے۔معاشرے حاجیوں سے بھرے پڑے ہیں بازار میں دوکاندار بھی حاجی ہے اور خریدار بھی حاجی ہے لیکن دونوں کو ایک دوسرے پر اعتبار نہیں ہے۔بے عملی اس حد تک لے جاتی ہے کہ بندہ کو حقائق نظر ہی نہیں آتے وہ اپنے گناہوں پر بھی فخر کر رہا ہوتا ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطافرمائیں اور ہم سب کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق زندگیا ں گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Islami saal ki ibtida yakam Mehram alhram hazrat Umar Farooq RA ki shahadat se hoti hai - 1

اللہ کریم کا ذاتی نام (اللہ)ہی اسم ِ اعظم ہے


 تقوی ایک ایسا حضور حق کا پہلو ہے کہ بندہ جہاں بھی جائے اسے یہ حصہ نصیب ہوتا ہے کہ میں اپنے اللہ کے روبرو ہوں پھر یہ کیفیت اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کریم کا حکم مقدم رہتا ہے۔آج بھی جہاں جہالت غالب آرہی ہے وہاں انا پرستی سب سے بڑا مرض ہے۔بڑائی صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے ہر شئے کی کیفیت اللہ کی طرف ہونی چاہیے اپنی بڑائی اور انا سے بچتے رہنا چاہیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہ کہا کہ اگر کمی بیشی واقع ہو جائے تو اس کے حل بھی بارگاہ الٰہی میں ہے۔سچے دل سے توبہ کی جائے اس کے حضور معافی طلب کی جائے تو اللہ کریم کو معاف کرنا محبوب ہے اللہ کریم معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔اللہ کریم نے ہمیں شرف بخشا کہ انبیاء مبعوث فرمائے کلام ذاتی سے نوازا۔یہ اللہ کریم کی اتنی بڑی عطا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔جب بندہ ذکر کثیر کی کوشش کرتا ہے تو حضوری کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے مغلوب ہو جانا کوئی کمال نہیں کمال تعمیل حکم میں ہے۔جس کو ہوش نہ رہے ہم سمجھتے ہیں یہ بڑا پہنچا ہوا ہے ایک بندے کو اپنی ہوش نہیں وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا وہ تو خود مکلف نہیں رہا وہ دوسروں کی راہنمائی کیا کرے گا۔اگر مغلوب ہو جانا کمال ہوتا تو یہ کمال انبیاء کو بھی نصیب ہوتا۔کمال ہوش میں رہنا ہے۔ہر ایک کی اپنی کیفیات ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ریاست مدینہ کی جب بات کی جاتی ہے تو اس میں مزاح نظر آتا ہے نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں بھائی راہ موجود ہے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں خود کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں گم ہو گئے ہیں اللہ کریم کے احکامات موجود ہیں ارشادات نبوی ﷺ موجود ہیں اپنے اندھے پن کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔جب اس سے مانگو تو وہ زندگی مانگو جو اللہ کریم نے پسند فرمائی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Allah kareem ka zaati naam ( Allah ) hi ism  Azam hai - 1

قرآن کریم کی بے حرمتی کے ارتکاب نے امت مسلمہ کے دلوں کو شدید تکلیف پہنچائی ہے


قرآن کریم کے ساتھ بندہ مومن کا ایسا مضبوط تعلق ہو کہ ہماری زندگیاں عملی طور پر قرآن کریم کے احکامات کے مطابق ہوں تو کسی کو جرات نہ ہو گی کہ وہ قرآن کریم کی بے حرمتی کا ارتکاب کر سکے۔ہم دعوی ایمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہمارے سامنے آئے روز اس طرح کی گستاخیاں اور بے حرمتی ہو رہی ہے جسے اقوام عالم شخصی آزادی کا نام دے دیتی ہے۔یاد رکھیں کہ کوئی بھی آزادی اس کی اپنی حدود تک ہے جب کسی دوسرے کے دائرہ میں مداخلت ہو گی تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔دنیا کو اس کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔دین اسلام ہمیشہ اتحاد اور اتفاق کا درس دیتا ہے۔دعا ہے کہ امت مسلمہ ایک جان ہو کر قرآن کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے قربانی کے فلسفہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کی وہ کیفیت جو اللہ کریم نے حضرت ابراھیم ؑ کو عطا فرمائی اُس کا ایک ذرہ بھی اگر ہمیں نصیب ہوجائے تو قربانی کا یہ فلسفہ پوری حیات کا سبق دیتا ہے۔جہاں قربانی کرنے کا حکم موجود ہے وہی قربان ہونے کا سبق بھی ملتا ہے۔اللہ کریم ہمیں قربانی کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں تو اس عید پر کی گئی قربانی کے اثرات ہمیں اگلی عید تک لے کر جاتے ہیں اوراللہ کرے ہر قربانی پر ہمیں یہ کیفیت نصیب ہو کہ ہم اپنی انا،اپنی ضد،اپنی خواہشات،اپنی پسند اللہ کریم کے حکم پر قربان کرسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیرت پاک ﷺ ہمارے سامنے خوبصورت مشعل راہ ہے جس میں آسان ترین زندگی گزارنے کا انداز ہے عبادات انسان کو اس قابل بناتی ہیں کہ نورِ حق نصیب ہوتا ہے۔حج فرائض میں سے ہے صاحب استعداد پر زندگی میں حج ایک بار فرض ہے۔بیت اللہ شریف پر تجلیات باری ہر لحظہ برس رہی ہوتی ہیں حاجی دو چادروں میں بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہیں یہ وہی کیفیت ہے جو روز محشر ہوگی تب بھی ہر کوئی دو ان سلی چادروں میں اللہ کے حضور پیش ہوگا۔حاجی کو اللہ کریم ایسے معاف فرماتے ہیں گویا آج پیدا ہوا ہے لیکن اگر اس کے باوجود بھی کردا ر میں بہتری نہیں آئی تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے حج اللہ کے لیے نہیں کیا بلکہ اپنی شہرت کے لیے یا کسی ذاتی غرض کے لیے کیا ہے عبادات صرف وہ قبول ہوتی ہیں جو خالص اللہ کے لیے ہوں اگر اس بات کی ہمیں سمجھ آجائے کہ ہر شئے اس کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو زندگیاں آسان ہو جائیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفا ن منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جو 8 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی روزانہ دن گیارہ بجے صحبت شیخ میں خصوصی خطاب فرمائیں گے۔اللہ والوں کی اس بستی میں اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔ہر خاص و عام کے لیے دعوت عام ہے
Quran kareem ki behurmati ke irtikaab ne ummat Musalmah ke dilon ko shadeed takleef pohanchai hai - 1

قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی خواہشات اور مرضی کو احکام خداوندی پر قربان کر دیں


 دنیا بھر سے لاکھوں مسلمانوں نے فریضہ حج کی ادائیگی کی اور عید الاضحی کے موقع پر کروڑوں مسلمانوں نے جانوروں کی گردن پر چھری چلا کر سنتِ ابراھیمی کو ادا کیا اور آپﷺ کی اتباع میں حکم کی بجا آوری کی۔حج بندہ مومن کو ایسے پاک کر دیتا ہے کہ جیسے آج اس دنیا میں آیا ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں انفاق فی سبیل اللہ کا حکم ہے اور اس میں یہ بات زہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ انفاق سے مراد صرف روپیہ پیسہ نہیں بلکہ اللہ کریم کی طرف سے دی گئی جسمانی،ذہنی استعداد کو اللہ کریم کی راہ میں استعمال کرنا بھی انفاق فی سبیل اللہ کے تحت آئے گا۔اسی طرح جہاد کرنا بھی انفاق فی سبیل اللہ میں آئے گا۔کہ بندہ مومن اپنی جسمانی قوت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے کن حالات میں اس کی فرضیت اور اطلاق ہے اس کی وضاحت قرآن و حدیث میں بڑی واضح ہے۔جہاد بالسیف اور جہاد بالنفس۔نفس کے ساتھ جہاد کو جہادِا کبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ ساری زندگی کا جہاد ہے نفس کے ساتھ مقابلہ زندگی بھر کا عمل ہے۔ لیکن جہاد بالسیف کو چھوڑنے کی وجہ سے ہم بحیثیت مجموعی ہلاکت کی طرف جا رہے ہیں۔جہاد ظلم کو روکنے کا نام ہے۔جہاد انسانیت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم کے خلاف ہے جہاد میں انسانیت کی بقا ہے جہاد کو یہ سمجھ لینا کہ شاید اس سے مرا دلوگوں کی گردنیں ہی کاٹنا مقصد ہے تو درست نہیں ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Qurbani ka falsafah yeh hai ke hum zindagi ke har shoba mein apni khwahisaat aur marzi ko ehkaam khuda wandi par qurbaan kar den - 1