Latest Press Releases


کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے


کسی بھی معاشرے کا انحصار انصاف پر ہے۔انسانی معاشرے کا توازن عدل سے قائم ہے۔عدل انسانی معاشرے کی بنیاد ہے جب ہم یہاں خرابی کریں گے تو اس سے سار ا معاشرہ خراب ہوگا اور یہی بے انصافی فساد کا سبب بنے گی۔ کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے اورکسی بھی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا بے انصافی ہوتی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جزا و سزا کا یقین ہی بندے کو جرم کرنے سے روکتا ہے۔ جزا و سزا معاشرے میں بڑی بنیاد ی حیثیت رکھتی ہے اگر معاشرے سے جزاو سزا کا تصور ختم ہو جائے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس معاشرے کی حالت کیسی ہوگی۔ریاست مدینہ کی جب بات آتی ہے تو آپ ﷺ کے نافذ کردہ قوانین میں عدل ہر ایک کے لیے تھا اور مساوات کے ساتھ تھا،آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری میں پائی جائے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سچ بولنا مومن کی نشانی ہے۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں جگہ سچ بولنے سے میرے تعلقات خراب ہوجائیں گے فلاں ناراض ہو  جائے گا۔یہ طریقہ درست نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے سچ بولنا ہے سچ مارنا نہیں ہے۔مقصد سچ کو اختیار کرنا ہے اگر ہم سب سچ بولیں گے تو معاشرے میں سچائی آئی گی۔سچ کی برکت سے معاشرے سے،گھروں سے دھوکہ ختم ہو گا برائی ختم ہوگی۔ہمیں اللہ کریم سے کیا ہوا عہد جو ہم نے کلمہ توحید پڑھ کر کیا تھا اُسے صدقِ دل سے نبھانے کی ضرورت ہے اور اس عہد کو نبھانے کا طریقہ اتباع رسالت ﷺ ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Kisi cheez ka ain uss ke maqam par hona insaaf kehlata hai - 1

استطاعت اور اختیار رکھتے ہوئے گناہ سے بچے رہنا، جہاد اکبر ہے


دین اسلام محض رسم و رواجات کا نام نہیں ہے۔بلکہ احکامات دین جو کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں انہیں اختیار کرتے ہوئے زندگی بسر کرنی چاہیے،اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ہم اپنی پسندسے دین میں کوئی بھی چیز شامل نہیں کر سکتے ایسا کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب بندہ اپنی انا اور ضد کورد کر کے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اس طرح اس نے اپنے آپ سے انصاف کیا۔اور اگر اُس نے اپنی من گھڑت باتوں سے جن کی کوئی سند نہیں،مخلوق کو گمراہ کیا اور غلط راستے پر چلایا یہ ایسا ظلم ہے جسے قرآن کریم بہت بڑا ظلم فرماتا ہے۔اپنی پسند سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال جان لینا درست نہیں ہے اس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے فساد پیدا ہوتا ہے۔ہر چیز اللہ کریم کی پیدا کی ہوئی ہے وہ اس کائنات کے خالق اور مالک ہیں حلال اور حرام کا تعین بھی اُسی کی طرف سے طے کردہ ہے۔اصولی بات یہ ہے کہ کسی بھی عمل کو اختیار کرنے کی سند یہ ہے کہ اس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے کیا فرمایا ہے۔
  یاد رہے کہ 7،6  مارچ کو دارالعرفا ن منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں اتوار دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب اور اجتماعی دعا فرمائیں گے۔اس کے علاوہ اجلاس جنرل کونسل بھی منعقد ہوگا جس میں سلسلہ عالیہ اور الاخوان کے ذمہ داران بھی شرکت کریں گے۔اس اجلاس میں ڈی جی خان،بہاولپور اور ملتان کے ڈویژن کی خصوصی شرکت ہوگی۔
Istetat aur ikhtiyar rakhtay hue gunah se bachay rehna, Jehaad Akbar hai - 1

بے جا خرچ کرنے والے کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے


ہماری جان مال  حتی کے ہماری ہرشئے اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔اسے ہم نے اُسی کے حکم کے مطابق سرف کرنا ہے۔استعدادِ انسانی کے مطابق کوئی بھی کام کیا جائے تو اس کا نتیجہ اللہ کریم کے سپرد کر دینا چاہیے۔بے جا خرچ کرنے والے کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی نمود و نمائش اور اپنی بڑائی کے لیے فضول خرچ کرتے ہیں تو اللہ کریم کا فرمان ہے کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہے ہیں۔یہاں ایک بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ہر شئے کو اللہ کریم نے انسان کے لیے پیدا فرمایا ہے لیکن جہاں بھی ہم تجاوز کریں گے پھر وہ عمل شیطان کی پیروی میں ہو گا  اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔اور اس کی دشمنی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا۔کسی بات کا اظہار تب صحیح ہوگا جب اس کی سند بھی ہو اور سند عمل سے ہے،بغیر سند کے کوئی بھی بات اپنی خواہش ہو سکتی ہے اور خواہشات کے ٹکراؤ سے فساد برپا ہوتا ہے جس کے پاس جتنی قوت ہو گی وہ اتنا ظالم کہلائے گا جس کا نقصان ہوگا وہ مظلوم کہلائے گا۔اور ہمارا کردار تو اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ مظلوم کا جہاں تک اختیار ہے وہاں وہ بھی ظلم ہی کر رہا ہے۔اس کے لیے ایک نظام اور اصول چاہیے جس سے معاشرے میں اعتدال ہو۔معتدل معاشرہ کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس مخلوق پر وہی اصول نافذ ہوں جو خالق نے اس مخلوق کے لیے فرمائے ہیں تا کہ معاشرہ پھل پھول سکے۔ہمیں خود اپنے آپ پر ان اصولوں کو نافذ کرنا چاہیے تا کہ جو میرے حصے کا ہے میں وہ تو کروں۔
  یاد رہے کہ 14 فروری کو امیر عبدالقدیر اعوان کی سرپرستی میں تنظیم الاخوان اور سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران سے میٹنگ ہوئی جس میں پانچ ڈویژن کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اب 28 فروری کو دارالعرفان منارہ میں تنظیم الاخوا ن اور سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران کو حضرت جی ہدایات فرمائیں گے جن میں  کے پی کے،لاہور،گوجرانوالا،فیصل آباد شرکت کریں گے۔
Be ja kharch karne walay ko Allah kareem pasand nahi farmatay - 1

ضلع چکوال کے علاقہ کھوکھرزیر میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ضلع چکوال کے علاقہ کھوکھرزیر میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہر ڈاکٹرز نے  500 مریضوں کا مفت معائنہ کیا اور ان میں مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی ذیلی تنظیم الفلاح فاٶنڈیشن عرصہ دراز سے ملک بھر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس کی نگرانی 
الشیخ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خود فرماتے ہیں۔
کیمپ کاافتتاح جرنل(ر)حافظ مسرورصاحب اورمیجر(ر) حافظ غلام قادری صاحب مجاز سلسلہ عالیہ راولپنڈی ڈویژن  نے کیا.  یہ فری میڈیکل کیمپ جو کہ 9am to 2pm تک رہا۔ مریضوں نے الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ آئندہ بھی  اس طرح کے عوامی خدمت کے لیے اقدامات ضرور ہونے چاہیے ۔
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 1
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 2
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 3
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 4
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 5
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 6

نظامِ زکوٰۃ درست کر دیا جائے تو ملک میں کوئی محتاج نہ رہے

اسلامی نظامِ معیشت ہمیں کمانے، جمع کرنے اور خرچ کرنے تک رہنمائی فرماتا ہے اور ہمارا مال  ہمارے پاس امانت ہے جسے ہم نے شرعی حدود میں خرچ کرنا ہے۔ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کا نظامِ معیشت کمانے اور جمع کرنے تک محدود ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ، سربراہ تنظیم الاخوان نے جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام اور کافر و مشرک کے قانون میں اخلاقی حدود ایک جیسی ہیں۔ چوری چکاری، کسی کا مالِ ناحق لے لینا غلط سمجھا جاتا ہے لیکن اسلامی اور غیر اسلامی معاشرے کے نظامِ معیشت میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے میں آپ گورنمنٹ ٹیکسز ادا کرنے کے بعد جو مال بچ جائے اسے چاہے جوئے میں اڑا دیں، آگ لگا دیں، کوئی نہیں پوچھے گا لیکن اسلام ہمارے مال جو کہ ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی امانت ہے خرچ کے اصول بھی بتاتا ہے اور اسی طرح جو مال واراثت میں ملے اسے بھی آگے اپنے وارثین تک پہنچانے کا حکم فرماتا ہے۔ اگر آج ہم ملک میں نظامِ زکوٰۃ کو ہی درست کر لیں تو ملک میں غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور غریب کو نوالہ مل سکتا ہے۔ ہم نے اپنے بنیادی اصولوں کو چھوڑ دیا جس سے ہم ہر شعبے میں تنزلی کا شکار ہیں۔آخر میں انہوں نے ملک کی سلامتی اور امن کے لیے دعا فرمائی۔
Nizam zikat durust kar diya jaye to mulik mein koi mohtaaj nah rahay - 1

حرام کا لقمہ نیت سے عمل تک فساد پیدا کرتا ہے


حرام کا لقمہ نیت سے فساد پیدا کرتا ہے اور عمل تک لے جاتا ہے ۔اللہ کریم نے جو اصول ارشاد فرمائے ہیں ان کو سمجھنا،سیکھنا اور پھر اختیار کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔انسانی معاشرے کی خرابی کا سبب دین اسلام کے احکامات سے دوری ہے۔اللہ کریم خا لق ہیں اور تمام مخلوق کی ہر ضرورت ہر جگہ ہر وقت پوری فرماتے ہیں۔اللہ کریم نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے۔انبیاء مبعوث فرمائے۔کلام ذاتی نازل فرمایا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رشتوں میں سب سے عظیم رشتہ بندگی کا ہے۔ اللہ کریم نے اس بشر کو اپنی عبادت اور اپنے قرب کی تڑپ عطا فرمائی یہ اتنی بڑی عطا ہے جو اللہ کریم نے صرف اس بشر کو عطا فرمائی۔نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو تعلیم اور تربیت فرمائی اور پھر تصدیق فرمائی۔کتنا عظیم اہتمام اس مخلوق کو نصیب ہوا اور قیامت تک کے لیے محفوظ بھی،زندگی کے ایک ایک پہلو میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔اولاد کی تربیت کے حوالے سے کہ عہد نبوی ﷺ سے پہلے اولا دوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا جاتا،بچیوں کوبچوں کو مفلسی اور انا کی وجہ سے نا حق قتل کر دیا جاتا۔اسلام نے اولاد کو نا حق قتل کرنا کبیرہ گناہ قرار دیا اور فرمایا جو رب کائنات تمہیں رزق دے رہا ہے ان کو بھی وہی اللہ رزق دے گا لہذا مفلسی کے ڈر سے اپنی اولادوں کو قتل نہ کرو،اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ جب ہم اپنی اولاد کو زمانے کی روش پر چھوڑ دیتے ہیں اور ان کی وہ تربیت نہیں کرتے جو دین اسلام نے فرمائی ہے تو یہ بھی قتل اولاد کے پہلو میں ہی آتا ہے۔اور یہ اُس سے بھی بڑا ظلم ہے اس سے اس کے دونوں جہاں دین اور دنیا دونوں تباہ ہو گئے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سارے معاشرے کی تعمیر سود پرہے اور پھر ہمارے حکمران امید بھی لگائے بیٹھے ہیں مطمئن بھی ہیں۔جب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ کر رہے ہیں تو حالات کیسے بہتر ہوں گے ہماری اولادیں کیسے فرمانبردار ہوسکتی ہیں۔   آج ہم معاشرے کی خرابی پر دوسروں پر تو اعتراض کرتے ہیں لیکن خود کو چھوڑ دیتے ہیں۔آج اگر ہماری اولاد نا فرمان ہے تو ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا میں نے ان کی تربیت دین اسلام کے مطابق کی ہے کیا میں جو کمائی کر رہا ہوں وہ حلال ہے جو لقمہ اپنی اولاد کو کھلا رہا ہوں وہ کمائی جائز طریقہ سے گھر میں آرہی ہے؟ پھر ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ میں جو مرضی کروں لیکن میری اولاد نیک اور فرمانبردار ہونی چاہیے ایسے نہیں ہوتا۔حرا م کا لقمہ نیت سے فساد پیدا کرتا ہے اور عمل تک لے جاتا ہے۔اولا دکی تربیت بہت ضروری ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائی۔
Haraam ka luqmah Niyat se Amal Tak Fasaad peda karta hai - 1

علماء مشائخ کا کردار معاشرے کو مثبت راہ پر چلانے کے لیے نہایت اہم ہے۔اور آپ کی اس کے لیے کوششیں قابل تحسین ہیں۔ ڈاکٹر عارف محمود علوی صدر پاکستان


 علماء مشائخ کا کردار معاشرے کو مثبت راہ پر چلانے کے لیے نہایت اہم ہے۔اور آپ کی اس کے لیے کوششیں قابل تحسین ہیں۔  ڈاکٹر عارف محمود علوی صدر پاکستان
 معاشرے میں باہم اتفاق واتحاد اور فروعی اختلافات کے خاتمے کے لیے ہم کردار ادا کرتے آ رہے ہیں۔ امیر عبدالقدیر اعوان
ہمارا مشن ہے کہ ایسے افراد معاشرے کو دئیے جائیں جو اعمال و کردار کے لحاظ سے سنت خیر الانعام کے پابند ہوں۔ اسی مشن کی تکمل کے لیے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ علیہ نے صقارہ ایجو کیشن سسٹم متعارف کرایا۔ جس میں پڑھنے والے طلباء دین اور دنیا کے علوم حاصل کر رہے ہیں تا کہ جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں تو ایک بہترین کردار کے مالک ہوں۔ اس کے علاوہ الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ہر ماہ ملک کے مختلف پسماندہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں ماہر ڈاکٹرز  ہزاروں کی تعداد میں مستحق افراد کا مفت معائنہ کرتے ہیں اور مفت ادویات بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ 
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ملک زرعی ملک ہے اس کے اس شعبہ پر اگر توجہ دی جائے اور دوبڑ ی فصلیں سال میں لی جائیں تو ان شاء اللہ غریب کے لیے روٹی کا نوالہ سہل رہے گا۔صدر پاکسان نے کہا کہ مسجد اور ممبر کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے اور یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں سے جو پیغام آپ قوم کو دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان کے ہمراہ صاحبزادہ شہید اللہ اعوان اور سیکرٹری اطلاعات پاکستان الاخوان امجد اعوان بھی تھے
Ulama Mashaiykh ka kirdaar muashray ko masbet raah par chalanay ke liye nihayat ahem hai. aur aap ki is ke liye koshishen qabil tehseen hain. Dr Arif Mahmood alvi Saddar-e-Pakistan - 1

قرآن کریم میں فرمائے گئے اصولوں سے ہی حقیقی ریاست مدینہ کا قیام ممکن ہوگا۔


ریاست مدینہ کے وہ اصول جو نبی کریم ﷺ نے نافذ فرمائے وہی اصول اپنا کر یورپ اور مغرب ہم سے آگے نکل گئے اور ہم دعوی ایمانی کے باوجو د ان اصولوں کو چھوڑ کر پیچھے رہ گئے۔اللہ کریم نے ریاست مدینہ کے دس اصول قرآن کریم میں ارشاد فرمائے جن سے ایک خوبصورت معاشرہ کی تشکیل ہو سکتی ہے۔جہاں جہاں جس نے بھی ان اصولوں کو چھوڑ ا تو پھر اُس معاشرے میں افراتفری ہی پھیلی۔آج ہم ریاست مدینہ کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ اصول نہیں اپنا رہے۔جس دن ہم نے ان اصولوں کو اپنے معاشرے پر نافذ کردیا اس دن اس ملک کو ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ صرف دین اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے سے ہی معاشرے میں پھیلی بے حیائی اور برائی سے بچا جا سکتا ہے کہ ہمیں ان اخلاقیات کو اپنانے کی ضرورت ہے جو دین اسلام نے فرمائی ہیں۔والدین کے حقوق ان کا احترام،اولاد کی وہ تربیت جس کا حکم ہمیں قرآن کریم فرماتا ہے اس گمراہی کے دور میں ایسی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام دشمن عناصر اپنی پوری قوت کے ساتھ اس کام پر لگے ہیں کہ شیطنت کو کن کن ذرائع سے لوگوں تک پہنچایا جائے۔ برائی پھیلانے کے لیے ہر فورم استعمال کیا جا رہا ہے تو اس دور میں جتنا کوئی اسلام کے اندر آتا جائے گا،جتنا کوئی اسلام کی تعلیمات کو اپنائے گا وہ اسلام دشمن عناصر کی ان چالوں سے محفوظ رہے گا اللہ کریم اس کی حفاظت فرمائیں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ عبادات کو خالص اللہ کی رضا کے لیے اپنائیں۔اللہ کریم کے ساتھ سودے بازی نہ کریں کہ میں نماز پڑھوں تا کہ میری مشکلات حل ہو جائیں،فلاں وظیفہ پڑھو ں تا کہ رزق میں اضافہ ہو۔بلکہ اپنے اللہ کریم کے حضور اس لیے سربسجود ہوں کہ اس کی مہربانی اس نے ہمیں پیدا فرمایا اور پھر اپنی عبادت کے لیے پسند فرمایا یہ بھی اس کا احسان ہے کہ بندگی نصیب فرمائی۔تو اللہ اللہ کرنے سے بندہ میں خلوص پیدا ہوتا ہے جس سے اس کی عبادات خالص ہوتی ہیں اور شرف قبولیت کو پہنچتی ہیں۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Quran kareem mein farmaiye gaye usoolon se hi haqeeqi riyasat madinah ka qiyam mumkin ho ga . - 1

یکجہتی کشمیر کے لیے اُسی جذبہ ایمانی کی ضرورت ہے جو ایک بیٹی کی پکار پر محمد بن قاسم ؒ کو یہاں لےآیا


آج کشمیر پر بھارتی تسلط اور لاک ڈاؤن کو ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور ہم زبانی احتجاج کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ہمارا ماضی ہمیں راہنمائی دیتا ہے کہ اسی خطہ زمین کی ایک بیٹی کی آہ پر محمد بن قاسم ؒ یہاں تشریف لائے اور اس کی ناموس کی حفاظت کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔آج ہمیں بھی اُسی غیر تِ ایمانی کی ضرورت ہے کہ عملی طو ر پر اس کا تدارک کیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبار ک کے موقع پر
 یوم کشمیر پربات کرتے ہوئے کیا۔
 انہوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی ہمارے اوپر مردہ پن ہے اور یہ مردہ پن اس لیے ہے کہ ہم بے عملی کا شکار ہیں۔ہم انفرادی طورپر اپنے اعمال کو دیکھیں کہ کیا ہمارے اعمال دین اسلام کے مطابق ہیں یا تجاوز میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔اگر ہم نے اس روش کو نہ چھوڑا تو روز آخرت ہمیں ایک ایک بات کا حساب دینا ہوگا اور پھر اُس بارگاہ میں کوئی غلط بیانی نہ ہو سکے گی۔کیونکہ اللہ کریم ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ باعمل مسلمان کا ہر عمل معاشرے میں سکھ کا سبب بنتا ہے۔جو غیر مسلم کے لیے ایسا نمونہ ثابت ہوتا ہے کہ انہیں بھی اسلام سے رغبت ہو جاتی ہے۔یاد رہے کہ کل بروز ہفتہ 6  فروری کو دارالعرفا ن منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں بروز اتوار دن 11:00 بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ 15 رکنی وفد یو کے سے اپنی تربیت اور ذکر قلبی اختیا ر کرنے کے لیے ایک ہفتہ سے دارالعرفان منارہ میں موجود ہے۔اللہ کریم تمام مسلمانوں کو برکات نبوت ﷺ سے مستفید فرمائیں۔
yakjahti Kashmir ke liye usi jazba imani ki zaroorat hai jo aik beti ki pukaar par Mohammad Bin Qasim Reh. ko yahan le aaya - 1

اللہ کا ذکر بندہ مومن میں حضوری کی وہ کیفیت پیدا کرتا ہے کہ وہ خود کو اللہ کے روبرو پاتا ہے


برائی کا ہر عمل، مزید برائی میں ڈبونے کا سبب بنتا ہے اورہر گناہ قلب انسانی پر ایک سیاہ داغ لگا دیتا ہے،جب شیطنت اختیار کی جاتی ہے توشیطانی وصف انسانوں میں بھی آجاتے ہیں اور پھر ایسے انسان شیطان کے معاون بن جاتے ہیں۔یاد رکھیں کہ انسانی قلب کی صفائی ذکر الٰہی سے ہی ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
  انہوں نے کہا کہ بندہ جب برائی میں حد سے بڑھتا ہے تو اسے برائی اچھی لگنی شروع ہو جاتی ہے یعنی برائی ہضم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور یہ بہت بڑی بد بختی ہے۔جب بندہ کے اعمال صالح نہ ہوں تو آخرت کے اثرات اسی دنیا میں آناشروع ہو جاتے ہیں۔اسی دنیا میں ہی بربادی شروع ہو جاتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ عزت و ذلت کا معیار وہ ہے جو قرآن کریم ارشاد فرما رہا ہے وہ نہیں جو اپنی ذات کے میعار کو سامنے رکھ کر کیا جا رہا ہو۔ہم قرآن کریم کے ہوتے ہوئے زندگی کا میعار اپنی پسند سے کریں او ر اپنے فیصلوں میں تجاوز اختیار کریں اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے۔قرآن کریم اللہ کی یاد کا حکم فرماتا ہے اور اس میں بے شمار انعامات ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بندہ مومن کو وہ حضوری کی کیفیت نصیب ہو جائے کہ اپنے اللہ کے روبرو ہونے کا یقین دل میں اتر جاتا ہے۔اور یہ احساس اسے کئی برائیوں سے بچا لیتا ہے۔
  آخر میں انہوں نے اولاد کی تربیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اولاد کی تربیت صحیح نہ کی گئی اور اسے کفر و شرک تک پہنچنے کے اسباب ختم نہ کیے تو یہ بہت بڑا جرم بن جائے گا۔جہاں ہم دنیاوی علوم کے لیے دن رات ایک کر رہے ہوتے ہیں اور اپنی جان مال لگا رہے ہوتے ہیں وہاں دیکھنا یہ کہ کیا ہم نے اپنی اولاد کو دین کی تعلیم بھی دی۔ایسے اسباب اختیار کیے جن کے وسیلے سے ہماری اولا د دین کی تعلیم حاصل کر سکے۔حقوق وفرائض کی وہ تقسیم جو اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہم نے اپنی اولاد کو سکھائے آج ہم چاہتے کہ ہم جیسے مرضی زندگی بسر کریں لیکن ہماری اولاد نیک ہو،خود جھوٹ بولیں اور اولاد سے سچ کی امید رکھیں یہ خود سے دھوکہ ہے اولاد کی تربیت کے لیے خود کو والدین کو بھی بدلنا ہوگا اپنے کردار میں بہتری لانی ہوگی تب اولاد سے بھی امید رکھی جا سکتی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Allah ka zikar bandah momin mein huzoori ki woh kefiyat peda karta hai ke woh khud ko Allah ke rubaroo paata hai - 1