Latest Press Releases


امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی قاہرہ مصر 1965 میں پی آئی اے کے کریش ہونے والے جہاز کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی

Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila Naqshbandia Owaisiah ki qahira misar 1965 mein PIA ke crash honay walay jahaaz ke sho-hada ke liye Fatiha khawani - 1

بندہ مومن کو جب مضبوط تعلق مع اللہ نصیب ہو جائے تو وہ ہر شئے سے مستغنی ہو جاتا ہے


والدین بھی اگر دین کے خلاف حکم دیں تو نہیں ماننا چاہیے لیکن حسنِ معاشرت کے تحت ان کی خدمت اور اطاعت کی جائے اور جب بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے ساتھ انتہائی شفقت اور پیار سے پیش آیا جائے ان کے سامنے اُف تک نہ کیا جائے۔اپنے کسی عمل میں شرک کو نہ آنے دیا جائے چاہے وہ ظاہری ہو یا شرکِ خفی ہو۔اللہ کریم نہاں خانہ دل سے اُٹھنے والے خیالات تک کو بھی جانتے ہیں۔ہر ایک کو اپنے ہر عمل کا روز محشر حساب دینا ہو گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع سالکین سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ نماز کا پابندی بندہ مومن میں یہ وصف پیدا کرتی ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے ایسے بندے کو اللہ کریم آنے والی رکاوٹوں میں اللہ کریم صبر عطا فرماتے ہیں۔اس سب کا عملی طور پر بجا لانا ہمت کا کام ہے زمین پر اکٹر اور ضرور سے نہ چلا جائے کیونکہ اللہ کریم تکبر کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔اللہ کریم ہر پہلومیں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں۔یہ اللہ کریم کا احسان ہے کہ قرآن کریم عطا فرمایا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Bandah momin ko jab mazboot talluq ma Allah naseeb ho jaye to woh har shye se Mustaghni ho jata hai - 1

دین اسلام کے ہر حکم پر عمل کرنے میں ہی ہماری بھلائی ہے اور اللہ کریم کی عطا کہ اس کے ساتھ پھر اجرو ثواب بھی عطا فرماتے ہیں


جو رشتہ (نکاح) اللہ کے نام پر قائم ہوا اگر کسی وجہ سے نباہ نہ ہو سکے تو پھر اس رشتے کو احسن طریقے سے ختم کیا جائے اس پر بھی اللہ کریم کے احکامات موجود ہیں لہذا دین اسلام کے احکامات کے مطابق ہی طلاق بھی دی جائے۔اگر ان کے ہاں بچہ ہو تو پھر باہم رضامندی سے 2 سال تک دودھ پلایا جائے۔یہ پابندی نہیں بلکہ باہم مشاورت سے مدت رضاعت پوری کی جائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ دین اسلام میں ہے۔دین اور دنیا الگ الگ نہیں ہیں نماز کے وقت نماز پڑھ لینا صرف اسلام نہیں ہے بلکہ دنیاوی معاملات،لین دین،معاشی و معاشرتی اصول بھی دین اسلام کے اپنانے ہوں گے۔نکاح طلاق اور اولاد کے حوالے سے بھی دینی احکامات موجود ہیں ان سے ہی راہنمائی لینی چاہیے۔دین اسلام میں عدل ہے جب عدل ہو پھر فساد نہیں ہوتا۔معاشرے میں حقوق و فرائض کی تقسیم ہے کسی کا اگر حق ہے تو وہ دوسرے کا فرض ہے۔ایک اینٹ ٹیڑھی لگ جائے تو پوری دیوار ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔زندگی کے ہر پہلو کو دین اسلام کے مطابق حل کریں گے تو خود کو بھی فائدہ ہوگا اور معاشرے کی بہتری کا بھی سبب ہوگا۔زندگی تو گزر رہی ہے معاملات بھی پیش آرہے ہیں اگر ہم ان معاملات میں دینی احکامات سے فیصلے کریں گے تو زندگی میں آسانیاں ہوں گی۔کسی کی استعداد سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالا جاتا دین اسلام کا کوئی بھی حکم ایسا نہیں جسے بندہ پورا نہ کر سکتا ہو۔زندگی گزارنے کا آسان ترین طریقہ دین اسلا م ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Deen islam ke har hukum par amal karne mein hi hamari bhalai hai aur Allah kareem ki ataa ke is ke sath phir Ajr o sawab bhi ataa farmatay hain - 1

دین اسلام موجودہ جدت کے دور میں بھی ہماری زندگیاں اعتدال پر لے آتا ہے


 دین اسلام موجودہ جدت کے دور میں بھی جہاں ہمیں منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے وہاں ہمارے اعمال چاہے دنیاوی ہی کیوں نہ ہوں انھیں عبادت کے درجے پر لے آتا ہے۔اور اسلام کی یہ بہت بڑی خوبصورتی ہے کہ جہاں ہم جان لینے کے در پہ ہوتے ہیں وہاں جان نچھاور کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔دین اور دنیا الگ الگ نہیں ہیں دنیا کے کاموں کو دین کے مطابق کرنا ہی اسلام ہے۔دینی احکامات پر چلنے سے دنیا میں بھی عزت نصیب ہوتی ہے۔صاحب ایمان کی نشانی ہے کہ وہ دنیا کی زندگی اللہ کریم کے احکامات کے مطابق گزارتا ہے۔توحید بنیاد ہے آج وقت ہے کہ ہم اللہ کریم کے حضور بخشش طلب کریں اُسے معاف فرمانا پسند ہے محبو ب ہے۔جب کلمہ پڑھ لیا پھر اپنے اختیارات دربار رسالت ﷺ میں دے دیے۔پھر بات صرف اتباع کی ہے۔اپنی پسند نبی کریم ﷺ کی پسند میں ڈھال دی۔ہمارے معاملات میں ہماری پسند اور عقل ختم ہو جائے جو بھی کرنا ہو نبی کریم ﷺ کی پسند سے ہو۔اس زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے جو کچھ اُس نے دیا ہے سب اُسی کا ہے میرا کچھ بھی نہیں یہ وجود بھی اسی کا دیا ہوا ہے۔خاک کا مالک بھی وہی ہے ہوا اور پانی کا مالک بھی وہی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ جدت سے ہم نے تعمیر کم کی ہے جبکہ تخریب زیادہ ہوئی ہے۔مزاج انسانی سے بے شمار تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو ہمارے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ہم کیسے فیصلے کرتے ہیں اس کا انحصار ہمارے مزاج پر ہے۔زندگی تو ہر حال میں بسر کرنی ہے دیکھنا یہ چاہیے کہ میرا دن کیسا گزرا اور رات کیسی بسر ہوئی کیا اس میں اللہ کریم کی رضا شامل تھی یا اس کی نافرمانی میں بسر ہوگئی۔ہر کوئی سمجھتا ہے یہ میری زندگی ہے جیسے چاہوں بسر کروں۔دینی حدودو قیود سے ہم بہت دور چلے گئے ہیں۔ضروریات اور ان کی تکمیل کے زرائع جو خالق کائنا ت نے ہمیں تعلیم فرمائے ہیں وہ سب سے آسان ترین راستہ ہے زندگی گزارنے کا۔ان پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ہم نے زندگی کے سارے معاملات میں رسم و رواجات لے آئے ہیں خوشی غمی،نکاح و طلاق ہر بات میں ہم نے اپنی پسند کو دخل دیا ہے رواجات کی پیروی میں لگے ہیں اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں ہمیں اپنے معاملات میں دینی احکامات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ وہم ہو گیا ہے کہ میں نہ ہوا تو پتہ نہیں کیا ہوگا،میرے خاندان کا کیا بنے گا اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ کسی کے جانے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہر ایک کی ہر ضرورت اللہ کریم پوری فرماتے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Deen islam mojooda jiddat ke daur mein bhi hamari zindaganian aitdaal par le aata hai - 1

نکاح اور طلاق سے متعلقہ احکامات اللہ کریم کی حدیں ہیں ان سے تجاوز ظلم ہے


طلاق اور حلالہ سے متعلق قرآن کریم میں واضح احکامات موجود ہیں۔اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود پر اپنی پسند یا ناپسند کا اطلاق تجاوز ہو گا مرد کو اللہ کریم نے طلاق کا اختیا ر دیا ہے لیکن خاتون کو ایذا کی غرض سے پابند رکھے اور طلاق نہ دے تو یہ سرا سر ظلم ہے۔اس زیادتی کا حساب دینا ہوگا۔ مد ت معین کر کے نکاح کرنا جائز نہیں جو کہ آج کل حلالہ کے نام پر عام ہو رہا ہے۔یہ تجاوز اللہ کریم کے ارشادات کے ساتھ مزاق ہے۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے کہا کہ آج کل معاشرے میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام پر عمل چھوڑ دیا ہے۔دینی احکامات کا علم ہونے کے باوجود ہم اپنی پسند سے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔حالانکہ کہ اگر کسی عورت کے ساتھ آپ کا نبھانہ ہو رہا ہو تو طلاق کی اجازت ہے جسے ہم نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ایسے اختیار کیا ہے کہ دونوں خاندانوں میں باہم دشمنی اور دست و گریبان ہونے کا سبب بن گیا ہے۔اسی وجہ سے خاندانوں میں فساد پیدا ہو رہے ہیں۔عورت کے لیے یہ تکلیف کافی نہیں کہ اس نے زندگی گزارنے کے لیے نکاح کیا اور اب علیحدگی کا دکھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔طلاق کے بعداگرخاتون کو ایذا دینے کی غرض سے کوئی اقدام اٹھایا جائے گا تو یہ ظلم ہو گا جس کی جواب دہی ہو گی۔اور اسے اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز سمجھا جائے گا۔حلالہ سے مراد یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کیا جائے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے ناچاکی ہوجائے اور نبھا نہ ہو سکے وہاں سے بھی طلاق ہو جائے تو عدت پوری کرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔نکاح و طلاق کو مذاق نہ بنایا جائے۔
 اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq se mutaliqa ehkamaat Allah kareem ki hade hain un se tajawaz zulm hai - 1

ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں


خشیتِ الٰہی سے بندہ مومن کے قلب میں اس طرح کاڈر ہوتا ہے کہ میرے اعمال اس طرح کے نہ ہیں جس طرح اللہ کریم کی شان ہے یہی لوگ ہیں کہ جو بھی ان کے پاس ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہ نیک اعمال اختیار کرکے بھی لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروز ہ ماہانہ اجتماع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ  جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں یہ فرصت اللہ نے عطا کی ہے۔اس میں سستی اور کاہلی نہ ہونے پائے۔اور اپنے تمام اعمال کو اس طرح اختیار کرے کہ اس دنیا پر ترجیح نہ دے۔کیونکہ دنیا تو اللہ نے تقسیم کر دی ہے اور آخرت میں جن اعمال پر اچھا یا برا نتیجہ ملنا ہے ان کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔اور اللہ نے بندوں کو وہی حکم دیا ہے جسے وہ برداشت کر سکتا ہے۔اور اس میں یہ استطاعت بھی ہوتی ہے۔ہر بندہ کا ہر عمل لکھنے والے نے لکھ رکھا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بدلہ اللہ دے گا اور نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر عطا ہوتا ہے اور برائی کی سزا اتنی ہی ہے جتنی اس نے کی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟ فلسطین کی بات ہو یا کشمیر کی ہم خود کو نحیف محسوس کرتے ہیں جس کی مضبوطی ضروری ہے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔جو نظام موجود ہے اس کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روز 14 فوج کے سپوتوں کو شہید کیا گیا اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان والوں سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزری۔ اسلام مخالف قوتیں،پاکستان کی مخالف قوتیں برسرِ پیکار ہیں یہ چاہتے ہیں کہ حق غالب نہ ہو اور نہ یہ حق پر عمل پیرا ہوں یادرکھیں حق نے غالب ہونا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ مسلمان کا باعمل ہونا اس سب کا حل ہے۔ہمارے ملک میں غذا اور دوا کی دستیابی نہ رہی۔اعلی سطح پر بیانات مزید نفرت کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے خاندان اور بچوں کو تحفظ دیں۔اور اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں دین پر عمل پیرا ہونا اور والدین کا احترام موجود ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ذکر قلبی کی اہمیت پر بات کی اور سالکین کو اجتماعی ذکر بھی کرایا۔ذکر کے بعد ملک و قوم کی سلامتی اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی گئی۔
Hamari zindagi mein aap SAW ke tarbiyat Yafta sahaba karaam RA jaisi hastiyon ke aamaal nshanِ manzil ki soorat mein hain - 1

اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ظلم ہے


  کوئی ذمہ دار اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔مراعات ساری چاہیے،سہولتیں ساری ہونی چاہیے لیکن ذمہ داری ادا نہیں کرنی۔تو کیسے معاشرہ چلے گا۔سارا ملک ہم نے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے  بندہ مقصد حیات چھوڑ دے تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا ہے،نبی کریم ﷺ نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے۔دین پر عمل کرنا ہمیں مشکل لگتا ہے اور بے دینی میں ہم آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔اللہ کریم کے فیصلوں میں حکمت ہے وہ حکیم ہے ہمیں اپنی پسند اور انا کو رد کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔بندگی کا رشتہ اعمال میں تقویت پیدا کرتا ہے۔جب اپنی حالت ایسی ہوگی تو پھر ہم فلسطین کی کیا مدد کریں گے،کشمیر بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکیں گے جب تک ہم میں بے دینی ہوگی بہتری نہیں آئی گی۔تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی قوانین میں ہے جب تک ہم وطن عزیز پر ان کا نفاذ نہیں کریں گے ہم ایسے ہی تجربات سے گزرتے رہیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
  انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت زندگی کے دو حصے ہیں بقائے ا نسانی کا سبب ہیں ایک کو بھی ہٹا دو زندگی نہیں گزر سکتی۔مرد اور عورت کے جو مقام ہیں جو حیثیت ہے اللہ کریم نے ارشاد فرمائی ہے ہر ایک کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔مغرب تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے دور کرنا چاہتا ہے۔مغرب میں عورت اور مرد کی برابری کو بڑا اچھالا جاتا ہے اس کی برابری کیا ہے؟اسلام مرد کو ایک درجہ زیادہ دیتا ہے لیکن عورت کے حقوق اپنی جگہ قائم ہیں۔مغرب نے عورت کو اشتہار کے طور پر پیش کیا اور یہ عورت کی تضحیک ہے۔اسلام میں عورت کا مقام ماں،بہن بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہے اس سے بڑا مقام کیا ہو سکتا ہے۔اسلام عین طلاق میں بھی عورت کے حقوق کا تحفظ فرماتا ہے۔جب ہم غیر مسلم کو فالو کریں گے تو وہ شیطان کی پیروی ہوگی۔جدت کے ساتھ چلتے چلتے ہم نے اپنا مقام کھو دیا۔عورت کو عزت دی ہی اسلام نے ہے اسلام سے پہلے عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اسلام نے ماں کا مقام بیان فرمایا،جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی جس کا احترام اولاد پر فرض قرار دے دیا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 4،5 نومبر 2023 بروز ہفتہ،اتوار کو  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس میں سالکین سلسلہ عالیہ ملک بھر سے اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور اتوار دن گیار ہ بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیرا عوان  مد ظلہ العالی بیان فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی ہر ایک کے لیے دعوت عام ہے۔اس بابرکت اجتماع میں شرکت کر کے برکات نبوت ﷺ سے  اپنے دلوں کو منور فرمائیں
Allah kareem ki muqarrar kardah hudood se tajawaz zulm hai - 1

نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے


 دنیا کی زندگی کو دینی اصولوں کے تحت لایا جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دوافراد،دو خاندان بلکہ معاشرے پراس کے اثرات پڑتے ہیں نکاح بھی اللہ کے نام پر اختیار کیا جائے اور اللہ کریم کی حدودو قیود کے مطابق زندگی گزاری جائے تبھی کامیاب زندگی بسر ہو گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ میاں اور بیوی دونوں کی حیثیت اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہے اور وہ حیثیت احکامات دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔دینی احکامات پر عمل کیا جائے تو ہر کوئی اپنے مقام پر رہتا ہے۔نکاح اور طلاق کے معاملات میں ہم نے اپنی طرف سے اس میں بہت کچھ داخل کر لیا ہے جس سے میاں بیوی اور خاندانوں میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جہاں ہر کوئی اپنے حق کی بات کرتا ہے وہاں اس کے ذمہ فرائض بھی ہیں۔جب ہم اللہ کے حکم سے نکل کر کسی با ت کا حل تلاش کرتے ہیں وہاں پھر ہم ٹھوکر کھاتے ہیں۔ہم گلے کرتے ہیں شکوے کرتے ہیں لیکن اپنے بداعمال نہیں چھوڑ رہے۔جب ہم بے عملی اختیار کریں گے تو اصلاح کیسے ہوگی اور اگر اصلاح نہیں ہوگی تو سکھ کیسے نصیب ہو گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ میاں بیوی کا رشتہ معاونت کا ہے جب وہ ایک دوسرے کے معاون ہوں گے تو اس کے اثرات اولاد پر بھی پڑیں گے اولاد بھی صالح ہو گی۔اور نیک اولاد بہترین صدقہ جاریہ ہے۔بستر مرگ پر رونا رونے سے بہتر ہے کہ آج عمل کا وقت آج عبادات کے قابل ہیں آج ہم کیوں بھاگ رہے ہیں کیوں نیکی اختیار نہیں کر رہے۔رشتوں کے اصول اللہ کریم نے عطا فرمائے ہیں نبی کریم ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کریں تو دنیا بھی آسان ہوگی اور آخرت کی تعمیر بھی ہوتی جائے گی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq ki insani muashray mein bohat ziyada ahmiyat hai - 1

نبی کریم ﷺ کا کامل اتباع نصیب ہوجائے تو زندگی کا ہر لمحہ عبادت شمار ہوتا ہے


 مخلوق میں کسی کی قسم اُٹھانا جائز نہیں ہے۔قسم صرف اللہ کریم کی اُٹھائی جائے وہی ذات ہے جو ہماری ہر ہر حرکت سے واقف ہے۔جس کی قسم کھائی جا رہی ہو اس کی گواہی بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو  جانتا بھی ہو کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی۔ہم نے اس بات کو بھی رواجات کی نذر کردیا ہے بات بات پر قسم اُٹھانا درست نہیں ہے۔ہم قسم اس لیے اُٹھاتے ہیں کہ ہماری بات کا وزن بڑھ جائے۔صرف ایسی بات پر ہی قسم اُٹھانی چاہیے جو پرہیز گاری کی ہو اور اصلاح کی ہو۔جان بوجھ کر جھوٹی قسم اُٹھانے کے بارے روز محشر پوچھا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے احکامات زندگی گزارنے کا آسان ترین راستہ ہیں۔ان پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی بھی آسان ہوتی ہے اور آخرت کی تعمیر بھی ہو رہی ہوتی ہے۔صالح اعمال کی بنیاد نور ایمان ہے۔اللہ کریم ہمیں امتی کے رشتے کی باریکی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آج صاحب ایمان مغلوب ہیں اور غیر مسلم غالب ہیں۔وہ دنیا کی زندگی میں دینی اصول اختیار کیے ہوئے ہیں انہوں نے تحقیق کی نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا قرآن کریم سے نتائج اخذ کیے تو جب انہوں نے وہ اصول اختیار کیے تو دنیا کی زندگی میں فائدہ اُٹھا رہے ہیں ہمیں لیڈ کر رہے ہیں جبکہ ہم مسلمان بے عملی کی نذر ہو چکے ہیں ہم مان رہے ہیں لیکن عمل نہیں کر رہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nabi kareem SAW ka kaamil itebaa naseeb ho jaye to zindagi ka har lamha ibadat shumaar hota hai - 1

اللہ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق مخلوق کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے


 میاں اور بیوی کا رشتہ اللہ کے نام پر قائم ہوتا ہے اس کو اللہ کریم کے بتائے ہوئے احکامات پر گزارنے سے زندگی سہل اور سکون والی ہو جاتی ہے جب ہم اس رشتے کو جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاونت کا ہے مقابل لے آتے ہیں کہ میں نے دوسرے کو فتح کرنا ہے تو پھر زندگی میں تلخیاں جنم لیتی ہیں۔جہاں یہ خواہش ہوتی ہے کہ میرے حقوق پورے ہونے چاہیے وہاں ہمارے ذمے جو فرائض ہیں ان کی ادائیگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کریم کے احکامات کے مطابق ازدواجی زندگی گزاری جائے تو معاشرے سے بے حیائی ختم ہو جاتی ہے۔ آج ہمیں اپنی زندگی کو ایسے بسر کرنا چاہیے کہ اس سے آخرت کی تعمیر بھی ہوتی جائے۔بچوں اور بچیوں کے رشتے کرتے وقت بنیادی طور پر اس بات کو مدنظر رکھیں کہ اس گھر میں اس خاندان میں دین ہے۔اس سے رشتے میں ٹھہراؤ بھی نصیب ہوگا اور خوشی بھی۔نیکی کرتے وقت ایک دوسرے سے معاملات کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ میرے اللہ کریم کا حکم ہے۔اس حکم کی بجاآوری سے میرے اللہ کریم مجھ سے راضی ہوں گے۔اللہ کریم نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔ہم زبردستی ہاتھ چھڑا کر جہنم جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہاکہ اللہ کریم کے ساتھ مضبوط تعلق مخلوق کی غلامی سے آزاد کر دیتا ہے۔جب توقعات مخلوق سے وابستہ ہو جائیں وہ کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ہر بندے میں فطری طور پر یہ حصہ موجود ہے کہ وہ حق کو سمجھ بھی سکتا ہے اور اختیار بھی کر سکتا ہے۔ابھی ہمارے پاس وقت ہے ہم اس دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔قرآن کریم موجود ہے اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ ہماری راہنمائی فرما رہے ہیں تو چاہیے کہ ہم اپنی زندگیاں اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم کے مطابق بسر کریں اسی میں دونوں جہاں کی کامیابی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے فلسطین کے مسلمانوں اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی
Allah kareem ke sath mazboot talluq makhlooq ki ghulami se azad kar deta hai - 1