Latest Press Releases


شہید اپنی زندگی اللہ کی راہ میں قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے


علم غیب سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔مخلوق میں سے اللہ کریم جسے جتنا علم عطا فرما دیں اتنا ہی وہ جان سکتا ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زمین پر اپنا نائب مقرر فرمایا ہے اور خلیفہ کی خلافت کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس دائرہ میں رہتے ہوئے ہی اپنے امور کی انجام دہی کر سکتا ہے جو اُسے تفویض کیا گیا ہو۔ نائب بھی اپنا عمل تب اختیار کر سکتا ہے جب اُسے اس کا علم ہو کہ اس نے کون سا کام کیسے کرنا ہے۔اور یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اللہ کریم نے انسان کو مکلف مخلوق بنایا کہ وہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکے۔اس وقت اللہ کریم نے ہمیں فرصت دی ہے کہ ہم اپنے نفس کی ماننے کی بجائے اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر زندگی بسر کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے یوم دفاع پر شہداء پاکستان کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید اپنی زندگی اللہ کی راہ پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے جب اُسے انعامات سے نوازا جائے گا تو پوچھا جائے گا اور کیا چاہتے ہو تو عرض کرے گا کہ مجھے دنیا میں پھر سے بھیجا جائے اور میں پھر تیری راہ میں لڑوں اور اپنی جان تیرے راستے پر نچھاور کر دوں وہ لذت جو اس وقت نصیب ہوئی تھی وہ اس جنت میں بھی نہیں ہے۔
  انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی شئے کا عین اپنے مقام پر ہونا اللہ واحدانیت کی طرف سے وہی اس کا مقام ہے اس پر اعتراض اللہ کریم پر اعتراض ہو گا،ہر پہلو میں اپنے اللہ کریم کی طرف دیکھیں،اسباب ضرور اختیار کریں لیکن حتمی نتائج کے لیے اپنی نگا ہ ذات باری تعالی کی طرف ہی رکھیں۔یہ جو ہم صبح شام اللہ اللہ کی ضربیں اپنے قلوب پر لگا رہے ہیں خود کو دیکھیں کہ کیا میں اپنی پسند کو ترجیح دے رہا ہوں یا اپنی پسند اللہ کریم کی پسند میں ڈھل رہی ہے اپنی چاہتیں دیکھیں کس طرف ہیں اللہ اللہ کی تکرار سے بندہ مومن کو حکمت نصیب ہوتی ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Shaheed apni zindagi Allah ki raah mein qurbaan kar ke hamesha ke liye amar ho jata hai - 1

حق سے انکار کی بنیادی وجہ تکبر، انا اور ذاتی ضد ہے


جس طرح ہم دنیا کے کاموں کی تکمیل کے لیے اسباب اختیار کرتے ہیں اسی طرح دین کو سمجھنے اور سیکھنے کے لیے بھی اسباب اختیار کرنے چاہیے۔دین کی اہمیت ہمارے نزدیک کم ہے اور دنیا کی اہمیت زیادہ ہے اسی لیے ہمارے اعمال بھی ایسے ہیں۔دین کو ہم مولانا اور پیر صاحب کے سپرد کر دیتے ہیں یہ درست نہیں ہے۔تخلیقی انداز کے مطابق چلنا تقویت کا سبب ہے اور فطرتی انداز کے مخالف چلنا تکلیف کا سبب ہوگا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ حق سے انکار کی بنیادی وجہ تکبر، انا اور ذاتی ضد ہے۔اللہ کریم کی بہت عطا ہے کہ جگہ جگہ اُس کی قدرت کی نشانیاں موجود ہیں ہم استفاد ہ حاصل نہیں کر پا رہے۔اعتراض کرنے والا بھی اس بات کو ماتنا ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو اس کارگاہ حیات کو چلا رہی ہے۔کتنی ہی نشانیاں اللہ کریم کی واحدانیت کے حوالے سے موجود ہیں۔دین کا جاننا ہمارے نزدیک اہم ہو بندگی کی کیفیت اور حال سے ہم آشنا ہوں تو یہ عمل مقدم رہے گا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر صرف دنیا ہی رہ جاتی ہے۔اور بندہ اسی کے پیچھے ساری زندگی بھاگتا رہتا ہے۔
انہوں نے سید علی شاہ گیلانی مرحوم کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ بانی ئ تحریک حریت سید علی شاہ گیلانی  ؒ آزادی کشمیر کے علمبردارتھے اُن کی ساری زندگی جُہدِ مسلسل کی مثال ہے۔اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائیں۔ہم اُن کی وفات کے دکھ میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ برابر کے شریک   ہیںاور دعا گو ہیں کہ اللہ کریم سید علی شاہ گیلانی  ؒ سمیت تمام کشمیری بھائیوں اور ہمارے خواب آزادیئ کشمیر کو شرمندہئ تعبیر فرمائیں۔(امین)
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانیا جتماع بروز ہفتہ اتوار کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں بروز اتوار حضرت جی مد ظلہ العالیدن گیارہ بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کیجیے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Haq se inkaar ki bunyadi wajah taqqabur, anaa aur zaati zid hai - 1

ہمیں اپنے کرداراور گفتار میں سچ کے ساتھ معاشرے میں تبلیغ کرنی ہوگی


سب سے پہلے بحیثیت مسلمان اس کے بعد بحیثیت قوم اپنے اس وطن عزیزکی تعمیر و ترقی میں اپنے کردار کو دیکھنا ہوگا۔انھوں نے سالکین سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیں کہ سب سے بڑی تبلیغ ہمارے نزدیک ایام نہیں ہیں، ماہ و سال نہیں ہیں۔جس راہ پر انسان چلتا ہے وہ راستہ سفر کرنے والے کی شہادت دیتا ہے۔جب بات معاملات کی آئے گا تو شرف قبولیت میں معاملات کا کلیدی کردار ہے۔ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اویسیہ سوسائٹی ٹاؤن شپ لاہور کی جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب فرماتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ سب سے بڑی جو تبلغ ہے وہ ہمارا کردار ہے۔آپ ساری زندگی تبلیغ پر صرف کردیں لیکن آپ کے کردار میں جو جھوٹ ہو گا اس سے معاشرے میں خرابی پیدا ہوگی۔آپ کہیں ایک قدم نہ اٹھائیں مگر آپ کے کلام میں سچ ہو تو وہ سچ جھوٹ پر غالب آجائے گا۔ہمیں اپنے کرداراور گفتار میں سچ کے ساتھ معاشرے میں تبلیغ کرنی ہوگی۔ہماری گفتار حق اور سچ ہو،ہمارا کردار صالح ہو۔ لطائف پر محنت کریں مراقبات پر محنت کریں ساری زندگی اس پر محنت کریں حضرت امیر محمد اکرم اعوانؒ نے ساری زندگی اس پر محنت کی۔ 
انھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا کے مقام کو دیکھتے ہیں کہ میرا مقام کس جگہ تھااپنی انا کو وہاں رکھیں جہاں آخرت کی بات ہے۔دنیا کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا اور زندگی کی مثال کشتی اور پانی کی ہے کشتی جب تک تیرتی ہے کنارے پر پہنچ جاتی ہے مگرجیسے ہی اس میں پانی آجاتاہے تو کشتی ہچکولے کھانا شروع ہوجاتی اور اس کا پانی کے اوپر تیرنا مشکل ہوجا تا ہے۔ اسلام ایثار کا درس دیتا ہے،اسی جہان فانی میں زندگی بسر کرو گے تو کسی کا حق ادا ہو گا،کسی کی مدد ہوگی، تارک دنیا ہونا مشائخ عظام نے نہیں سکھایا۔ہمیں دنیا میں ویسے رہنا ہے جہاں ایک ایک عمل اتباع رسالت ﷺ میں گزرے جب وقت آخرت ہو تو زبان ذکر الٰہی سے تر ہو۔
1978ء میں اویسیہ سوسائٹی لاہور حضرت مولانا اللہ یار خان ؒ کے زیر سایہ معرض وجود میں آئی۔گیارہ ستمبر1987ء میں حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوانؒ نے اویسیہ سوسائٹی کا سنگ ِ بنیاد رکھا۔1987ء میں قرعہ اندازی کے ذریعے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے بیعت شدہ ساتھیوں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے اور اسی دن صقارہ کالج کے لیے 12کنال اراضی الاٹ ہوئی۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ کے زیرسایہ 1990ء میں صقارہ کالج کی تعمیر مکمل ہوئی۔حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ کا نظریہ تھا کہ ہم ایک ایسا تعلیمی نظام رائج کریں جس میں بچے جدید طرزپر تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دین کا بھی مکمل علم حاصل کریں ان کے نظریے کے مطابق ہمارے تعلیمی نظام میں یہ دونوں علوم یکجا ہونے چاہئیں تاکہ ہمارے بچے جب تعلیم سے فارغ ہو ں تو وہ انجیئیرز،ڈاکٹرز،سائنسدان اور بزنس میں ہونے کے ساتھ ساتھ دین اسلام کا بھی مکمل علم رکھتے ہوں۔اس نظریے کے ساتھ ہمارا کردار قرآن وسنت میں ڈھل جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اویسیہ سوسائٹی میں علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے مولانا اللہ یار ؒ خان ٹرسٹ قائم کیا جہاں آج بھی ہر مہینے کی آخری اتوار کو فری میڈیکل  کیمپ لگتا ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا فری چیک اپ ہونے کے ساتھ فری ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ 
سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و تنظیم الاخوان لاہور ڈویژن کے تمام اضلاع سے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔شرکت کرنے والوں میں مرکزی سیکرٹری نشرواشاعت امجد محمود اعوان، مخدوم الطاف احمد صاحب مجاز سلسلہ عالیہ لاہور، تاج محمود چشتی صدر تنظیم الاخوان لاہورڈویژن، عامر ندیم جنرل سیکرٹری لاہور ڈویژن، محمد اکرم سیکرٹری نشرواشاعت لاہور، راشد عبدالقیوم صدر تنظیم الاخوان لاہور،عبدالرحمن جج جنرل سیکرٹری لاہور، عبدالمالک منصوری سیکرٹری نشرواشاعت لاہورکے علاوہ علاقے کی سماجی و سیاسی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
Hamein apne Kirdar aur guftaar mein sach ke sath muashray mein tableegh karni hogi - 1

حسینیت اور یزیدیت دو راستے متعین ہوگئے اب ہمارا انتخاب ہے کہ کونسا راستہ اختیار کرنا ہے


 حسینیت اور یزیدیت  دو  راستے متعین ہوگئے  اب ہمارا انتخاب ہے کہ کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔  آج ہمارے سامنے دو  راستے ہیں  ایک حسینیت کا اور دوسرا یزیدیت کا، اس وقت معاشرے میں ہر لمحہ کربلا برپا ہے ہر لمحے ہمارا امتحان ہے کہ ہم حضرت حسین ؓ  کی زندگی مبارک کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی راہ کا تعین کریں اور اللہ کی راہ میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کریں اپنی پسند سے لے کر اپنی جان قربان کرنے تک ہر بات میں ہر کام میں اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کی پسند کو مقدم جانیں۔اورمعاشرے میں کسی قسم کے فسادکا حصہ نہ بنیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہر سینے میں کربلا کی کیفیت موجود ہے۔حضرت حسین ؓ کی قربانی محض اس لیے تھی کہ یزید نے امارت کے لیے اپنی ذاتی پسند کو ترجیح دی اور اُس کا یہ فیصلہ اللہ کریم کی مرضی کے خلاف تھا۔جس پر حضرت حسین ؓ نے بیعت نہ کی اور خاندان نبوت ﷺ قربان کر دیا۔وہ ریت مقدس خون سے سیراب ہوئی۔  آج ہمیں اپنی زندگیوں کاجائزہ لینا چاہیے کہ ہمارے دعوی محبت میں اور ہمارے عمل میں کتنا فاصلہ ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کا رخ اُس راہ کی طرف موڑیں جو راہ حضرت حسین ؓ نے اختیار کی،کربلا کے عظیم سانحہ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ حق پر رہیں چاہے اس کے لیے ہمیں کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔
  انہوں نے مزید سالکین سے شعبہ تصوف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی معمول اختیار کرنے کو کہا جائے  وہ روزانہ کی بنیاد پر کریں اور ویسے ہی کریں جیسے کہا جائے اس میں کمی بیشی نہ کی جائے وہی عمل نتائج دے گا جو روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے چاہے چھوٹا عمل ہی کیوں نہ ہو۔اگر کسی معمول کی روزانہ ایک تسبیح کر سکتے ہیں تو پھر ایک ہی کریں لیکن روزانہ کریں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی او ربقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Hussainiyat aur yazeediat do rastay mutayyan hogaye ab hamara intikhab hai ke konsa rasta ikhtiyar karna hai - 1

اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کو اختیار کر کے خانوادہ رسول ﷺ کی سنت کو تازہ کرنا چاہیے


محرم الحرام کے ماہ مقدسہ میں ہمیں اپنی عقیدت،اپنا درد دل اور محبت کے اظہار کورواجات کی نذر کرنے کی بجائے اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کو اختیار کر کے خانوادہ رسول ﷺ کی سنت کو تازہ کرنا چاہیے۔  محرم الحرام کے ان ایام میں ہم خانوادہ رسول ﷺ حضرت حسین ؓ کی اُس قربانی کو یاد کرتے ہوئے اعمال اختیار کریں کہ جنہوں نے اپنے سمیت اپنا سارا خاندان تہہ تیغ کرا دیا لیکن دین محمد ی ﷺ پر آنچ نہ آنے دی۔آج ہمیں بھی رواجات سے نکل کر اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اور اپنے دل کے درد اور محبت کا اظہار انہی حدود و قیود میں رہ کر کرنا ہو گا جو اللہ کریم نے مقرر فرما دی ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ ایمان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کا اتباع کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے انعامات جنت میں بے شمار نعمتوں کی صورت میں ملیں گے۔اور آج یہاں اس دار دنیا میں جنت کی نعمتوں کی مثال بھی نہیں دی جا سکتی۔اس دنیا میں جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو اس کے عمومی اور خصوصی دونوں پہلو دیکھتے ہیں جب جنت کے انعامات کی بات آئے گی وہاں صرف خصوصی پہلو ہی ہو گا عمومی نہیں۔  کہ صاحب جنت جس کا درجہ آخری ہو گا سب سے کم ہو گا اس کے محلات بھی اس دنیا سے وسیع ہونگے۔
  یاد رہے کہ 14 اگست 2021 بروز ہفتہ چکوال پریس کلب میں یوم آزادی سیمینار کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں چکوال پریس کلب کی طرف سے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی کو بحیثیت صدر محفل مدعو کیا گیا ہے اور پرچم کشائی کے بعد آپ کا خصوصی بیان بھی ہو گا بعد میں ملک و قوم کی بقا اور سلامتی کے لیے اجتماعی دعا ہو گی۔
Itebaa Mohammad-ur-Rsool Allah SAW ko ikhtiyar kar ke khanwad-e-Rasool SAW ki sunnat ko taaza karna chahiye - 1

دل کی اصلاح بندہ مومن کی نیت کو سیدھا کر دیتی ہے۔


 اسلامی سال کا آغاز (یکم محرم الحرام)حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ہوتا ہے۔جن کے بارے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے۔ اسلام کی اس عمارت کی تعمیر میں صحابہ کرام کی ہڈیاں،گوشت اور خون لگا ہے۔آج ہمیں اعتراضات میں پڑنے کی بجائے اسلام کی اس عمارت کی حفاظت کرنی چاہیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کادارالعرفان منارہ میں  دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع  کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے تابع رہتے ہوئے زندگی بسر کریں۔اگر ہم مومن ہونے کا دعوی رکھتے ہیں تو اس کا ثبوت ہمارا کردار ہو گا ہم دن بھر کتنا سچ بولتے ہیں،ہمارا لین دین کتنا کھرا ہے،آج ہمارے اندر برائی عا م ہو چکی ہے اور اس برائی پر من حیث القوم کوئی آواز نہیں اُٹھا رہا بلکہ اعتراضات بھی اگر کیے جا رہے ہیں تو وہ بھی دین اسلا م پر!  اللہ کریم نے ہمیں اس اجتماع میں اپنے نام پر جمع فرمایا ہے اللہ کریم ہمارے اندر وہ درد پیدا کریں جس سے ہمارے قلوب کی اصلاح ہو۔یاد رکھیں قلوب کی اصلاح بندہ مومن کی نیت کو سیدھا کر دیتی ہے۔
  آخر میں انہوں نے کورونا سے حفاظت اور ملک و قوم کی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔  یاد رکھیں کہ 14 اگست کو امیر عبدالقدیر اعوان چکوال پریس کلب میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی بھی ہوگی  اور خصوصی خطاب بھی فرمائیں گے
Dil ki islaah bandah momin ki niyat ko seedha kar deti hai . - 1

ہر برائی کائنات میں ظلمت کا سبب بنتی ہے


قرآن کریم کے مفاہیم اور الفاظ کے نتائج بھی وہی ہیں جو آپ ﷺ نے ہمیں بتا دئیے۔آج اگر کوئی قرآن کریم کی آیات سے اپنی پسند کا ترجمہ کر کے لوگوں کو بتاتا ہے تو یہ وہ مذموم کوشش ہے جو حق کو بیچنے کے مترادف ہے۔یاد رکھیں حق کا راستہ ایک ہی ہے جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنا دیا ہے اور یہ سب اللہ کریم نے حضرت انسان کے لیے بنایا ہے۔پھر آسمان سے پانی برسایا جس کے ہر قطرے میں حیات سمو دی ہے جس سے کئی قسم کی اجناس،پھل اور پھول پیدا فرمائے یہ سب کچھ بارش کے برسنے کے نتیجے سے ہوا۔اسی طرح ہر شئے کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے عمل بد یا حد سے باہر کوئی قدم اُٹھتا ہے تو یہ عمل کائنات میں ظلمت کا سبب بنتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اس کار گاہ حیات میں جب کسی پر کوئی مصیبت آتی ہے تو اللہ کریم سے مدد طلب کرتا ہے اور جب اللہ کریم اس سے یہ مصیبت ہٹا دیتے ہیں راحت عطا فرماتے ہیں تو بندہ بھول جاتا ہے کہ اس مصیبت کو ہٹانے والے میرے پرور دگار ہیں۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ظاہر کے ساتھ ساتھ باطنی اصلاح بھی ضروری ہے۔کیونکہ ماننے کے ساتھ ضروری ہے کہ قلب بھی اس بات کی تصدیق کرے جو زبان سے ادا ہو رہا ہے۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 7,6 اگست بروز ہفتہ اتوار دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقادہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں اور اپنے قلوب کو برکات نبوت سے منور کرتے ہیں۔ 7 اگست بروز اتوار دن گیارہ بجے  شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔
Har buraiee kaayenaat mein zulmat ka sabab banti hai - 1

تقوی کے حصول کے لیے عبادات کا اختیار کرنا ضروری ہے


اللہ کریم نے کر ہ ارض پر دو قسم کی مخلوق ایسی پیدا فرمائی ہے جو کہ مکلف ہے۔ایک انسان جسے مٹی سے پیدا فرمایا اور دوسری جن جسے آگ سے پیدا فرمایا۔اور ان کے مقصد تخلیق کے بارے فرمایا کہ میں نے انہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔یاد رکھیں جب کسی شئے کا کوئی مقصد ہوتا ہے تو پھر اس مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع بھی ہوتے ہیں وہ بھی اللہ کریم نے عطا فرمائے۔راہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے،خوب اہتمام فرمایا۔تا کہ تمہیں تقوی نصیب ہو جائے ایک تعلق نصیب ہوجائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ رسم و رواجات میں بڑی باقاعدگی نظر آتی ہے،فرائض میں نہیں۔ فرائض چھوڑ کر کہتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔جو اُس کے ذمہ ہے اس کے لیے ہم تڑپ رہے ہیں اور جس کام کے لیے تڑپنا چاہیے تھا وہ ہم چھوڑ چکے ہیں۔ ہم نے عبادات کو بھی سودے بازی سمجھ رکھا ہے۔کہ میں نے اتنی عبادت کر لی اب اللہ کریم کی طرف میرا بہت حساب نکلتا ہے۔حالانکہ عبادات اس لیے کرنی چاہیے کہ اس نے ہمیں پیدا فرمایا۔زندگی عطا فرمائی شرف انسانیت بخشا۔اپنی عبادت کو پسند فرمایا۔اس سے بڑی عطا اور کیا ہو سکتی ہے۔یہ وجود یہ سانسیں یہ سب بھی تو اُسی کی عطا ہے۔
 ٍ انہوں نے مزید کہا کہ تقوی کی معراج یہ ہے کہ بندہ ہمہ وقت یہ سمجھے کہ میں اللہ کریم کے روبرو ہوں۔اللہ کریم متقی کی کیفیت عطا فرمائیں، عبادات کے بغیر تقوی نصیب نہیں ہوتا۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Taqwa ke husool ke liye ebadaat ka ikhtiyar karna zaroori hai - 1

جو آنکھ آپ ﷺ کو نہ پہچان سکی وہ حقیقت میں اندھی ہے


ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے ہم سوچتے کچھ  اور کرتے کچھ ہیں۔ہمارے اعمال بحیثیت مجموعی ایسے ہو گئے ہیں جن کے ظاہر اور باطن میں فرق ہے۔اس نفاق نے معاشرے میں وہ تعفن پھیلایا ہے کہ جس کی وجہ سے معاشرے میں مثبت تبدیلی نا ممکن ہے۔  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ جو آنکھ آپ ﷺ کو نہ پہچان سکی وہ حقیقت میں اندھی ہے۔اگر آج ہم نے ارشادات محمد الرسول اللہ ﷺ کو نہ سمجھا تو ڈر ہے کہ پھر وہی حالت جو اُس زمانہ میں کفار کی تھی کہیں ہمارے کردار میں بھی نہ آ جائے کہ ہم دعوی بھی کریں کہ آپ ﷺ کو مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی نہ مانیں یعنی آپ ﷺ کو اللہ کا رسول بھی مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل نہیں کرتے تو یہ حالت کس زمرے میں آئے گی۔سوچنے کی ضرورت ہے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے یا ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ہم سوچتے کچھ ہیں کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں یہ بہت بڑی خرابی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ولی اللہ اُسے کہتے ہیں جو فرائض ادا کرنے والا ہو۔فرائض کی ادائیگی قرب الٰہی کی طرف لے کر جاتی ہے اللہ کی رضا کا سبب بنتی ہے۔جس سے بندہ مومن کو اللہ کریم کی دوستی نصیب ہوتی ہے ایک تعلق نصیب ہوتا ہے پھر وہ نفلی عبادات سے اس تعلق کو مزید مضبوط تر کرتا چلا جاتا ہے ورنہ قرآن کریم میں ہے کہ ہر صاحب ایمان اللہ کا دوست ہے۔ہر ایک کا اپنے اللہ کریم کے ساتھ اپنا تعلق ہے جس کے مختلف مدارج ہیں کوئی کسی درجہ پر ہے کوئی کسی درجہ پر۔اور یہ ساری کی ساری عطا اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ میں ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Jo aankh Aap SAW ko nah pehchan saki woh haqeeqat mein andhi hai - 1

مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے


مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے۔اچھائی کرتے ہوئے بھی یہ خیال رکھیں کہ میری نیکی سے دوسرے کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی۔اگر کوئی گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے گا تو ممکن ہے کہ اسے توبہ نصیب ہو جائے اور اگر کوئی گناہ کو ثواب سمجھ کر کرتا رہے گا عبادت سمجھ کر کرتا رہے گا تو اس سے توبہ کی توفیق بھی سلب ہو جاتی ہے۔دین اسلام کے ظاہری طور پر ماننے کے ساتھ ساتھ دل کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
      انہوں نے مزید کہا کہ جھوٹا،عہد توڑنے والا اور امانت میں خیانت کرنے والا پکا منافق ہے۔نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ملتا ہے کہ جس میں یہ تین عادات پائی گئیں وہ پکا منافق ہے ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ان میں سے کوئی عادت تو نہیں جب ہم بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اگر کسی سے وعدہ کریں تو کیا اسے پورا کرتے ہیں اور کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کلمہ طیبہ ایسا انعام ہے،ایسا رشتہ ہے،ایسا اللہ کریم سے وعدہ ہے اس میں جتنی کوئی خیانت کرے گا اس کے معاملات اتنے خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ساری خرابیاں دین اسلام سے دوری کی وجہ سے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی اعلی اخلاقی قدریں اگر ان کا جائزہ لیں تو وہ دین اسلام کے اصولوں پر مبنی ہیں۔شجرو ہجر آپ ﷺ پر درود و سلام پیش کرتے لیکن جس مخلوق کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا،کلام ذاتی نازل فرمایا گیا یہ کتنی بڑی عطا ہے۔اگر اس کے باوجود کوئی ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس نے بہت بڑا اپنا نقصان کیا اس نے جیسے تجارت میں نقصان ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر کہ اصل بھی گنوا بیٹھایعنی ہدایت کے بدلے  گمراہی خرید لی۔قرآن کریم ایسے لوگوں کی مثال یوں بیان فرماتے ہیں کہ جیسے کسی کو روشنی عطا ہو اور پھر وہ سلب کر لی جائے تو پہلے سے بھی زیادہ اندھیرا محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی پسند کی۔
حق کا اختیار کرنا دنیا و آخرت میں فائدہ کا سبب ہوتاہے راحت کا سبب ہوتاہے حق کا چھوڑنا حق کے مقابل آنے کے مترادف ہے جس سے دنیا و آخرت میں تکلیف ہو گی۔اللہ کریم ہمیں حق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
Musalman ke qoul o feal se makhlooq ko faida milna chahiye - 1