Latest Press Releases


آپ ﷺ کے عشق نے وہ صداقت عطا فرمائی کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے کسی کا حق نہ کھائیں


قرآن مجید بندہ مومن کو وہ حکمت عطا فرماتا ہے جس کی راہنمائی اور حدود و قیود آپ ﷺ نے مقرر فرمائی ہے۔اگر ہم بحیثیت مجموعی اللہ کے کلام سے راہنمائی لیں اور اس کی برکات سے مستفید ہوں تو ہمارے درمیان تلخیاں اور نفاق نہ ہوں گے بلکہ محبتیں ہوں گی۔ماہ ربیع الاول بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ ہم سب اپنے تمام مسائل اور اختلافات کو آپ ﷺ کے احکامات پر لے آئیں۔پھر کوئی مسئلہ نہ رہے گا۔
  امیر عبد القدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس کے موقع پر نور محل مارکی بھکر میں خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آج 18 سال بعد بھکر آیا ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں سفر نہیں کرنا چاہتا بلکہ سال بھر کی مصروفیات اس قدر ہوتی ہے ہیں کہ یہاں پہنچ ہی نہ پایا۔ماہ ربیع الاول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آپ ﷺ کے عشق نے وہ صداقت عطا فرمائی کہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے کسی کا حق نہ کھائیں۔ راستوں کو تنگ کرنے کی بجائے انہیں کھلا رکھیں،راستے بند کر کے اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنے کی بجائے دوسروں کے حق ادا کریں۔اللہ نے جو فرائض میرے ذمہ لگائے انہیں ادا کرنے کی کوشش کی جائے تو دوسروں کو ان کے حقوق مل جائیں گے۔ 
  احسان کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کی عبادت ایسے کروکہ میں اللہ کریم کو دیکھ رہا ہوں،اگر ایسا نہ ہو تو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔جب دل کی گہرائیوں میں یقین حاصل ہو جائے گا کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو اس کی زندگی بدل جائے گی اس کی خلوت اور جلوت ایک جیسی ہو جائے گی۔
  اللہ کریم نے وطن عزیز پاکستان عطا فرمایا اس کے بے شمار دشمن وہ ہیں جو سامنے ہیں اس سے زیادہ دشمن وہ ہیں جو پوشیدہ ہیں۔اگر اس کے رہنے والے اس وطن عزیز کا خیال نہیں رکھیں گے تو کیا دشمن اس کا خیال رکھیں گے۔بحیثیت قوم دیکھیں تو یہ ملک کس کا ہے اس کے ادارے کس کے ہیں ہمارا ملک ہے ہمارے ادارے ہیں ہمیں اپنے ملک کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے ملک میں تخریب ہو بلکہ ایسے بولیں جس سے اس ملک کی تعمیر ہو۔جس سے قوم میں اتفاق اور اتحاد پیدا ہو۔
  شعبہ تصوف پر بات کرتے ہوئے انہوں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا تعارف پیش کیا اور فرمایا کہ یہ صدری علوم ہیں جو سینہ با سینہ منتقل ہوتے ہیں۔یہ برکات نبوت ہیں جو قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے آرہی ہیں ملتی اسے ہیں جو صدق دل سے رجوع کرتا ہے۔آخر میں انہوں نے ظاہری بیعت لی اور اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
اس بابرکت پروگرام ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھر پور شرکت کی اس کے علاوہ صدر تنظیم الاخوان سرگودھا جناب عمر چیمہ،جنرل سیکرٹری تنظیم الاخوان پنجاب حکیم عبدالماجد اور سیکرٹری نشرواشاعت تنظیم الاخوان پاکستان جناب امجد اعوان بھی شامل تھے۔
Aap SAW ke ishhq ne woh sadaqat ataa farmai ke doosron ke haqooq ka khayaal rakhtay hue kisi ka haq nah khayen - 1

دنیا کی کوئی تہذیب،دنیا کا کوئی قانون اسلام کے کسی ضابطے اور قانون کو غلط ثابت نہیں کر سکتا


دین اسلام کے وہ ضابطے ہیں جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے عطا فرمائے ہیں جو دونوں جہاں کے متعلقہ ہیں۔دین اسلام ہر ایک کو مخاطب فرماتا ہے۔جہاں پیر اور مرید ایک برابر ہیں۔دونوں پر احکامات برابر لاگو ہوتے ہیں۔ دنیا کی زندگی ایک سفر ہے ہم سب مسافر ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا واں بھچراں،میانوالی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب۔
  ذکر الٰہی پر با ت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنے رب کو دل ہی دل میں یاد کرو۔اللہ کے حضور ماضی،حال،مستقبل سب کچھ حاضر ہے۔دنیا جہاں کی وسعتوں کو بھی اگر گناہ بھر دیں تو اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ گناہوں  کو نیکیوں میں بدل سکتی ہے۔بس انابت الٰہی کی ضرورت ہے۔نماز کے ترجمے پر دھیان دیں گے تو نماز پڑھتے ہوئے حضور حق نصیب ہوتا ہے۔نماز میں عاجزی نصیب ہوگی۔
  یاد رہے کہ اس بابرکت پروگرام کا انعقاد بھچر فلور ملز کے اونر ملک عبدالحفیظ کندی،منیر احمد کندی،ملک جواد احمد نے کیا ان کے علاوہ ملک نجیب بھچر،ایاز خاں سابق امیدوار ایم این اے،رانا عزیز الرحمان،ناظم ملک عظیم کندی،ناظم ملک میراں بخش اور حکیم عبدالماجد اعوان جنرل سیکرٹری الاخوان پنجاب اور ملک امجد اعوان سیکرٹری انفارمیشن تنظیم الاخوان پاکستان شامل تھے۔
Duniya ki koi tahazeeb, duniya ka koi qanoon islam ke kisi zaabtay aur qanoon ko ghalat saabit nahi kar sakta - 1

حق کسی کے ماننے یا نا ماننے کا محتاج نہیں ہوتا۔حق خود منوا لیتا ہے


اہل کتاب نبوت کا انکار بھی کر رہے ہیں اور نبی کی ذات کو اللہ کی ذات کا حصہ قرار دے کر بہت بڑے شرک کے مرتکب ہورہے ہیں۔جو بہت بڑا جھوٹ اور گستاخی ہے۔حالانکہ اللہ کریم کا احسان کہ اس نے انبیاء مبعوث فرمائے اپنے ذاتی کلام سے نوازا اور زندگی گزارنے کے اسلوب سکھائے انسانی زندگی کیسے بسر کرنی ہے اس کا طریقہ سکھایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہماری ضرورت کی بھی تکمیل ہو رہی ہے۔آج جو خود کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں اور اللہ کے حکم کے سامنے اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں کل روزقیامت بڑے بڑے بادشاہ بھی کہہ اُٹھیں گے کہ حقیقی بادشاہی اللہ کی ہے۔اللہ نے جسے جہاں مبعوث فرمایا ہم اس میں کوئی فرق نہیں رکھتے سب پر ایمان لاتے ہیں۔احترام کو ملحوظ خاطر لانا ہماری ذمہ داری ہے احتیاط لازم ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔نبی کریم ﷺ کی اس ماہ مبارک میں ولادت باسعادت ہوئی۔آپ ﷺ کے خدام صحابہ کرام ؓ  کا آپ ﷺ کی ذات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بغیر کلام کے جان جاتے کہ آپ ﷺ اس وقت کیا پسند فرمائیں گے۔آج بھی ہر ماہ ربیع الاول میں آپ ﷺ سے اظہار محبت کے لیے محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا ہمیں اس بات کا عہد نہیں کرنا چاہیے کہ آج سے میں اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق بسر کروں گا آج سے میں آپ ﷺ کی ادائیں اختیار کروں گا محبت کا تقاضہ تو یہی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ محافل میں جاتے ہیں فرض نماز بھی چھوٹ جاتی ہے۔یہ کون سی محبت ہے؟
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی مرکزی طور پر ملک بھر میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ کل سے جاری ہے۔جن میں پہلا پروگرام میانوالی واں بھچراں اس کے علاوہ بھکر،اسلام آباد،مظفر گڑھ،ملتان،مرکز دارالعرفان منارہ،شاہ پورسرگودھااور لاہور شامل ہیں۔
Haq kisi ke maan-ne ya na maan-ne ka mohtaaj nahi hota. haq khud Manwa laita hai - 1

حق سے باہر بندہ تب جاتا ہے جب تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے


بندہ جب حق کو سمجھتا ہوا اس راہ سے ہٹتا ہے تو اس کا شمار بدکاروں میں ہو جاتا ہے۔کیونکہ حق تو اس طرح واضح اور روشن ہے جس طرح سورج چمک رہا ہوتا ہے۔حق سے باہر بندہ تب جاتا ہے جب تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ حق سے دور ہو کر خواہشات کی پیروی میں ڈھل جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین ہمارا اسلام ہے۔عبادات میں بنیاد  توحید ہے۔بندگی کا پہلو نصیب ہوتا ہے۔ایمانیات کے تمام پہلوؤں  پر ایمان با لغیب ضروری ہے۔اللہ کی ذات تک جانے کے لیے نبی کریم ﷺ کو ماننا پڑتا ہے۔قرآن کریم اللہ کا ذاتی کلام ہے جس کی گواہ صرف نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔اللہ کے نبی ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ کریم کن باتوں سے خوش ہوتے ہیں کن باتوں کو پسند نہیں فرماتے مخلوق میں یہ استعداد نہیں ہے کہ وہ اللہ کریم کی ذات کو جان سکے پہچان سکے ہم صرف اتنا جان سکتے ہیں کہ کوئی ہستی ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے اس سے آگے ہم میں استعداد نہیں یہ استعداد کہ اللہ کیسا ہے یہ صرف اللہ کے انبیاء کے پاس ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ذات باری تعالیٰ اتنی بلند ہے کہ وجود انسانی میں یہ استعداد ہی نہیں کہ بغیر سبب کے اللہ کریم کو جان سکے۔اگر بغیر سبب کے اللہ کریم اپنی تجلی فرمائیں ہر چیز فنا ہو جائے۔جنت کی بے شمار نعمتوں کا ذکر ہے لیکن سب سے بڑی جو نعمت اہل جنت کو نصیب ہوگی وہ دیدار باری تعالیٰ ہے۔دین اسلام پوری زندگی بسر کرنے کا طریقہ ہے دین صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ عقائد،ایمان اور معاملات تینوں دین اسلام میں داخل ہیں اگر کوئی کہتا ہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں اللہ کے نبی کو مانتا ہوں لیکن عملی زندگی میں اپنی پسند سے عمل کرتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔اللہ کریم ہمیں دین اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں بسرکرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Haq se bahar bandah tab jata hai jab taqqabur mein mubtala ho jata hai - 1

قرآن کریم کو اللہ کریم نے تمام احکامات کے ساتھ حفاظت الٰہی سے نوازا ہے


قرآن کریم جہاں کتب سابقہ کی تصدیق کرتا ہے وہاں قرآن کریم کو اللہ کریم نے تمام احکامات کے ساتھ حفاظت الٰہی سے نوازا ہے۔اور ایسے لوگ بھی کرہ ارض پر عملی طور پر موجود رہیں گے جو ایمان کے ہر حصہ پر اس طرح عمل پیرا ہوں گے جس طرح آپ ﷺ نے عمل کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا ماہانہ اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم کہ ان لوگوں کے لیے شہادت دے رہے ہیں جنہوں نے دین اسلام میں معاونت کی۔ایسے لوگ جو ایمان لائے اور مدد گار بنے اس کے لیے بحیثیت امتی بنیادی حصہ نیت ہے۔کہ خالص اللہ کی رضا کے لیے دینی مدد کے لیے تیار ہوئے۔اپنے آپ کو عملی طور پر دین اسلام پر لائے اپنا کردار درست کیا۔اور اس بات پر کامل یقین رکھا کہ مالک اللہ ہے اور ہر چیز اس کی محتاج ہے۔وہی ہر چیز کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہر چیز اللہ کریم کے روبرو حاضر ہے۔اور روز قیامت وجود کا ہر حصہ گواہی دے رہا ہوگا اور منکر نکیر جو لکھ رہے ہیں ان سے بھی کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے۔اگر ان سے کوئی چیز رہ گئی تو اللہ کریم خود ذاتی طور پر ہر ایک سے با خبر ہیں۔اللہ کریم نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار فرمایا ہے۔یہ اللہ کی بہت بڑی عطا ہے۔اللہ نے جو ہمیں وجودی استعداد عطا فرمائی،زہنی عطا فرمائی معاشرے میں حیثیت عطا فرمائی کیا ان سب کا حساب نہیں ہوگا کیا اس کے قوانین ہم پر لاگو نہیں ہوتے؟ سوچیے اور تجزیہ کیجیے کہ مجھے کیا حکم ملا اور میں کہاں کھڑا ہوں۔دین اسلام کی مثال ایسی ہے جیسے اندھیر ا میں سورج کی روشنی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Quran kareem ko Allah kareem ne tamam ehkamaat ke sath hifazat Ellahi se nawaza hai - 1

نماز وجودی ضروریات سے لے کر معاشرے میں اخلاقیات کی قدروں میں بہتری کا سبب بنتی ہے


حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک کلمہ حق لا الہ الا للہ ایک ہی ہے۔اس میں کسی طرح سے بھی شرک کی آمیزش نہیں ہے جو حکم الٰہی ہے اس میں سب برابر ہیں۔نہ کوئی عالم نہ پیر صاحب اس سے مستثنی ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ نماز وجودی ضروریات سے لے کر معاشرے میں اخلاقیات کی قدروں میں بہتری کا سبب بنتی ہے۔آج ہم نے رشتوں کے تقدس کو کھو دیا ہے۔پہلے والد اگر اولاد سے کہتے کہ کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہوجاتے تھے کیوں کا لفظ نہیں تھا وجہ نہیں پوچھی جاتی تھی کہ ایسا کیوں کہا گیا۔آج ہم جواز مانگتے ہیں۔جب اللہ کا حکم ہو وہاں کیا تعمیل درکار ہے؟ جہاں سجدے کا حکم ہے وہاں سجدہ کریں جہاں سر کٹانے کا حکم ہے وہاں سر کٹائیں گے مقصد اطاعت الٰہی ہے۔اپنے معاملات میں اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج رواجات پر چلنا آسان اور حق پر چلنا مشکل ہو چکا ہے۔عبادات ہماری ضرورت ہیں۔عمل کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔عبادات چھوڑ کر ہم اپنا نقصان کر رہے ہیں۔دنیاوی تعلقات پر ہم اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ہمیں اپنے تعلقات پر اتنا اعتماد ہوتا ہے۔ایک بار اپنے اللہ کے حکم پر کھڑ ے ہو کر تو دیکھو۔اللہ کریم پر تو اس سے زیادہ اعتماد ہونا چاہیے وہ خالق ہے مالک ہے۔یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ ہم عبادات بھی کرتے ہیں لیکن اس کے اثرات ہم پر نہیں آتے۔رکوع و سجود کا اگر ہمارے اعمال پر اثر نہیں اس کا مطلب ہے ان رکو ع و سجود میں خشوع و خضوع نہیں ہے۔ہم گنتی پورے کر رہے ہیں تعمیل حکم میں مخلص نہیں ہیں۔مخلص ہوتے تو نماز سے نتائج پیدا ہوتے ہم سے برائی اور بے حیائی چھوٹ جاتی لیکن ایسا نہیں ہے ہم نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں برائی بھی کر رہے ہیں۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Namaz wajoodi zaroriat se le kar muashray mein ikhlaqiaat ki qadron mein behtari ka sabab banti hai - 1

بہترین تبلیغ عملی تبلیغ ہے


 علم صرف جاننے کا نام نہیں ہے بلکہ اُس جاننے پرخلوص کے ساتھ عمل کرنے کا نا م ہے۔تعلیمات ِ محمد الرسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوں تو خلوص کے ساتھ عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔اور ایسے لوگوں کو ہی عالم ِ ربانی کہا جاتا ہے۔اسے ہی تصدیق بالقلب کہا گیا ہے۔جو لوگ نسل در نسل غلام تھے جب بعثت محمد الرسول اللہ ﷺ سے ایمان نصیب ہوا پھر چاہے کوئی گردن کاٹ دے یا آگ میں جلا دے کوئی ان کا ایمان کمزور نہیں کر سکا کیونکہ ان کا ایمان نہاں خانہ دل تک رسائی کر چکا تھا۔انہیں تصدیق بالقلب بھی اس درجہ کا نصیب ہوا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی یہ وہ لوگ تھے جنہیں براہ راست کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اعتمادالی الرسول ﷺ کا نام دین ہے۔ نزول قرآن کی واحد گواہ آپ ﷺ کی ذات اقدس ہے۔باقی ساری مخلوق کو جو اللہ کا کلام نصیب ہوا واحد ذات محمد الرسول اللہ ﷺ کی ہے جہاں سے نصیب ہوا۔اس ماننے میں آپﷺ کا امتی ہونے میں پھر کس درجے کا صدق درکار ہے؟کس درجہ کا یقین چاہیے؟ہم نے تو اللہ کی ذات کو بھی آپ ﷺ کے ارشادات سے جانا اور پہچانا،ہم نے قرآن کریم یہ اللہ کی کتاب ہے آپ ﷺ کے ارشاد پر مانا۔دین کیا ہے؟ اعتماد الرسول ﷺ کا نام دین ہے۔اور یہ اعتماد بھی اس بحر سے نصیب ہوتا ہے جو بحر قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے جاری ہے۔ہم اس دنیا میں زندہ باد اور مردہ باد میں مصروف ہیں یہی وقت ہے اپنے اللہ سے وہ صدق مانگیں جو ایمان کے اس درجہ پر لے جائے کہ میں ہر وقت اپنے اللہ کے روبرو ہوں۔ آج دین میں آمیزش کی جاتی ہے اپنی پسند کے مطابق دین بیان کیا جاتا ہے۔ کیا یہ جچتا ہے کہ ہم اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کی بات سنائیں اور اس میں ہماری اپنی پسند کا دخل ہو؟
 اللہ کریم ہمیں معاف فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔استقامت فی الدین اور خلوص دل عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Behtreen Tableegh Amli Tableegh hai - 1

ضروریات دین کا جاننا ہم سب پر فرض ہے


وطن عزیز میں قانونِ وراثت اسلامی ہے اس قانون میں اتنا توازن ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نا ممکن ہے۔لیکن آج جب ہم جائیداد کی تقسیم پر دست و گریباں ہوتے ہیں تو یہ ہمارے اندر کی بدنیتی ہے۔اگر ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہیں،طلاق دینے کے بعد اپنے جملوں کا رد و بدل کر کے فتوی لیتے ہیں ایسا کرنا بہت بڑا جرم ہے۔اس طرح کرنا حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کے مترادف ہے۔یاد رکھیں ضروریات دین کا جاننا ہم سب پر فرض ہے کیونکہ ان مسائل کو جانیں گے توعمل کرپائیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روزخطاب۔
انہوں نے کہا کہ وضو،نماز اور بنیادی ارکان اسلام پر صحیح عمل کرنے کے لیے ان مسائل کا جاننا ضروری ہے۔اپنے گھروں میں جہاں ہم دنیاوی تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں وہاں دینی مسائل سے آگاہی ہونا بھی بہت ضروری ہے۔جب تک وضو کا ایک ایک حصہ سمجھ کر نہ کیا جائے تو نما زکی ادائیگی ہی نہیں ہو گی۔اگر نماز میں ایسا عمل ہو جائے جو نماز کو باطل کر دے تو نماز پڑھتے ہوئے وہ نہ پڑھنے کے برابر ہوگی۔اس لیے روزانہ دس سے پندرہ منٹ گھر میں ایک پریڈ ایسا ہونا چاہیے جس میں دینی مسائل سے آگاہی ملے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ شریعت اسلامی میں ایسی بات جو دین اسلام میں نہیں ہے اس کو تبدیل کر کے مخلوق کو بتایا جائے یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ ایسے مسائل میں انتہائی باریکی سے دیکھ کر راہنمائی فرمائیں۔کیونکہ عام آدمی صرف قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ کر عمل نہیں کر سکتا جب تک اس کے معنی و مفاہم کی راہنمائی اجماع اور اسوہ رسول ﷺ سے نہ ملے۔
اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Zaroriyat e deen ka janna hum sab par farz hai - 1

بندے کو اللہ سے جوڑنے کا نام اسلام ہے۔


 بندے کو اللہ سے جوڑنے کا نام اسلام ہے۔اللہ کی رضا،قرب اور برکات رسول ﷺ کا حصول بہت بڑا مقصد ہے۔ ان اجتماعات میں باطنی تربیت سلسلہ عالیہ میں اس طرح کی جاتی ہے کہ ہر فرد معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ان تعلیمات سے اتحاد،اتفاق اور یگانگت کا درس ملتا ہے جس کی تعلیم دین اسلام فرماتا ہے۔آج ہم عبادات کرتے ہیں لیکن ساتھ یہ سوچ ہوتی ہے کہ ہمیں اب کوئی تکلیف و پریشانی نہ ہو حالانکہ عبادات تو رضائے باری تعالی کے لیے کی جاتی ہیں۔ہمیں اپنی عبادات کو سودے بازی کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔آپ ﷺ رحمت اللعالمین مجسم رحمت ہیں جنہوں نے غزوہ خندق کے موقع پر بھوک سے نڈھال ہو کر اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے۔آج ما شما ء کی حیثیت کیا ہے کہ ہم دو سجدے کر کے یہ خیال کریں کہ ہم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔آپ ﷺ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلنے سے بندہ با منزل ہو جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ اجتماع کے آخری روز خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے۔قرآن کریم اپنے مکمل معانی و مفاہیم کے ساتھ، اور اس پر عمل کرنے والے قیامت تک موجود رہیں گے۔اپنی عملی زندگی میں ملک و قوم کا درد محسوس کرتے ہوئے کوئی لفظ جو آپ بولیں وہ بھلائی والا ہو اور معاشرے سے انتشار کم کرنے کا سبب ہو۔مرکز دارالعرفان کی پہلی اینٹ نصف صدی سے بھی پہلے قاسم فیوضات حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے رکھی۔مرکز دارالعرفان منارہ میں اللہ اللہ کی محنت مسلسل چلی آرہی ہے۔مقصد دین اسلام،اللہ کی رضا اور قرب الہی کا وہ راستہ جو اللہ کے نبی ﷺ نے عطا فرمایا اور ان برکات کا حصول ہے جو سینہ اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے آرہی ہیں۔اللہ کریم سب کو استقامت فی الدین عطا فرمائیں۔
یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری تھا جس کے آخری روز پاکستان کے تمام ڈویژن کا سلسلہ عالیہ اور الاخوان کے کام کے حوالے سے تقابلی جائزہ لیا گیا جس میں پہلے،دوسرے اور تیسرے نمبرز پر آنے والے ڈویژن میں حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی نے اپنے دست مبارک سے ذمہ داران میں شیلڈ تقسیم کیں۔اس کے علاوہ دارالحفاظ کے پانچ طلباء کا قرآن کریم حفظ مکمل ہونے پر حضرت نے اپنے دست مبارک سے دستا ر بندی بھی فرمائی۔
اس بابرکت پروگرام میں سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی اس کے علاوہ سینٹرز،شعبہ صحافت اور ٹی وی اینکر نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس با برکت پروگرام میں خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
آخر میں حضرت جی مد ظلہ العالی نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Bande ko Allah se jorne ka name Islam hai - 1

ملکی اور قومی سطح پر دین اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے


  موجودہ دور میں ہم ایمان کی اس سطح پر آگئے ہیں کہ دین اسلام کے اصولوں اور قوانین کو اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ طلاق کی شرح بہت زیادہ ہو چکی ہے لیکن جب اس سے متعلق پوچھا جائے تو کہتے ہیں میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا غصے میں دے دی۔یہ سب تاویلیں ہیں جو ہم نے بنا رکھی ہیں۔حالانکہ یہ بہت بڑا جرم ہے کہ ہم اس چیز کو حلال جانیں جو اسلام نے حرام کر دی ہوئی ہے اور اسے حرام کر لیں جو دین اسلام نے حلال کی ہے۔ایمان کی دولت میں وہ قوت ہوتی ہے کہ یہ مخلوقِ خدا کو انصاف پہنچانے کا سبب بن جاتی ہے۔آپ ﷺ نے ایک ایک فرد کی تربیت فرمائی اور ایسا سینچا کہ انہوں نے ایک دوسرے کے لیے جا ن دے دی۔ آج کا مسلمان قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے ارشادات سے راہنمائی لینے کی بجائے کافر و مشرک کے پاس جا رہے ہیں کہ آپ کوئی طریقہ اور سلیقہ سکھاؤ جس سے ہم میں بہتری آسکے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکی اور قومی سطح پر دین اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔اسلام کے مطابق زندگی گزارنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ دنیا چھوڑ دیں بلکہ دنیا میں اس طرح رہیں جیسے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے۔اپنے بچوں کودنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی تعلیم بھی دی جائے۔تاکہ جب وہ معاشرے میں ایک فرد کے طور پر نکلے تو اسے ضروریات دین کا علم ہو اور وہ ایک مثالی مسلمان بنے۔حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں جب زلزلہ آیا تو آپ نے زمین پر درہ مارا اور فرمایا کیوں کانپ رہی ہے کیا تمہارے اوپر انصاف نہیں ہو رہا؟ آج اگر بحیثیت مجموعی دیکھیں تو زندگی کا کون سا شعبہ ہے جہاں اسلام نافذ ہے؟
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری سالانہ اجتماع تزکیہ نفس کے لیے ہے جو بندہ مومن کی ضرورت ہے،وہ داغ جو گناہوں سے ہمارے قلوب پر لگ چکے ہیں ان کو دھونے کے لیے یہ اللہ اللہ کی ضربیں قلوب پر لگائی جاتی ہیں۔اللہ کریم نے رو ز قیامت تک مخلوق خدا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اسباب پیدا فرمائے ہیں۔اپنے اللہ سے دلوں استحقام مانگا جائے،حلال و حرام کا خیال رکھیں،حقوق و فرائض کا خیال کریں۔اللہ کریم دین اسلام کی سمجھ عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Mulki aur qaumi satah par deen islam ke sunehri usoolon ko amli tor par nafiz karne ki zaroorat hai - 1