Latest Press Releases


آج معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے


آج معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی عام ہوگئی ہے۔ہر کوئی اس سے پریشا ن ہے کہ اس سے کیسے بچا جائے؟ اگر نماز باقاعدگی سے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو ان شاء اللہ اس برائی کے سمندر میں حفاظت الٰہی نصیب ہو گی۔اور یہ علاج بندہ مومن کو 14 سو سال پہلے انعام کے طور پر عطا ہوا ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نےجمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ معراج شریف کی رات آپ ﷺ کو 50 نمازوں کا حکم ہوا پھر تخفیف کرتے کرتے پانچ کی ادائیگی اُمت کے لیے مقرر ہوئیں۔لیکن ان پانچ کی ادائیگی کرنے پر اجر پچاس نمازوں کا ہوگا۔یاد رکھیں دین اسلام کا ہر پہلو ہماری ضرورت ہے اور اسی میں ہی ہماری بھلائی ہے۔دین اسلام دنیا کے ہر شعبے کے متعلق جواب دیتا ہے ابھی حضرت انسان کو فرصت ہے کہ وہ اعمال صالح اختیار کر سکتا ہے اور اس پر بحیثیت مسافر منزل با منزل گامزن ہے۔زندگی لمحہ لمحہ گزر رہی ہے۔انسان کا کردار شہادت دے رہا ہوتا ہے کہ وہ کیسی راہ پر ہے اس کے مطابق ہی اسے منزل ملے گی۔ اسوہ حسنہ ﷺ ایسا خوبصورت نمونہ اللہ کریم کی طرف سے عطا  ہواہے کہ آخری انسان تک کے لیے نشان منزل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام کو خود اپنائیں اسے کسی عالم،پیر یا مولوی کے ذمہ لگا کر خود فارغ ہو کر نہ بیٹھ جائیں،بلکہ اسے جانیں،عمل کریں اور قائم رہیں۔ہر ایک کو روز آخرت اپنے ایک ایک قول و فعل کا حساب دینا ہے جتنا کسی کے پاس اختیار ہے،طاقت ہے ان سب امور کے بارے پوچھا جائے گا  اس لیے ہمیں اپنے آپ کو دیکھنا ہے کہ اللہ کریم کی دی ہوئی ان نعمتوں کو کس راہ پر خرچ کر رہا ہوں۔زیادہ وقت نہیں ہے محدود وقت ہے نتیجہ سامنے ہوگا۔کفرو شرک کرنا اور پھر اپنی مرضی کے مطابق اعلان کرنا،آج ہم اپنی عبادات کو ضروریات دنیا کے لیے اختیار کرتے ہیں یہ بہت نازک مسئلہ ہے ہمیں اپنی نیت کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Aaj muashray mein be hiyai aur be raah rawi aam ho gayi hai - 1

جب عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر دنیا کی احتیاج نہیں رہتی


انسانی مزاج ہے کہ جزااورسزاکے اطلاق کے مطابق عمل اختیار کرتا ہے جہاں اس کو یقین ہو کہ قانون پر نفاذ ہوتے ہوئے جزااور سزا ملے گی  اس معاشرے میں جرائم کی شرح بہت کم ہوتی ہے اوروہاں بہت حد تک امن ہوتا ہے اور یہ قوانین انسان کے بنائے ہوئے ہوتے ہیںاگر وہ قوانین جو اللہ کریم نے انسان کے لیے بنائے ہیں ان کو اگر ملک میں نافذ کر دیا جائے تو معاشرے میں واقعی عدل ہو گا  مساوات ہوگی اور ہر ایک کیلیے بھلائی ہو گی اور زندگی کے ہر شعبے میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا  ان خیالات کا اظہار  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشنبدیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان نے جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر انسان کی استطاعت ہر پہلو سے مختلف ہوتی ہے جسمانی لحاظ سے دیکھ لیں یا ذہنی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ہرایک کی اپنی حیثیت ہوتی ہے اصل بات یہ ہے کہ ہمیں آخرت کی جزااور سزا کو سامنے رکھناہے اوراس کا اتنا یقین ہو کہ میرا ہر عمل اللہ کی حضور پیش ہونا ہے اور مجھے میر ے اعمال کے مطابق جزااور سزا ملنی ہے تو پھر بندے کا ہر عمل خالص اُس بارگاہ کے لیے ہو گایہ تب ہی ممکن ہو گا جب ایمان بل آخر مظبوط ہوگا اور پھر جو عمل ظاہرا" صالح ہو گا اور اس کی نیت کی درستگی سے باطنی طور پربھی نیک عمل کہلائے گا اور جب عمل اللہ کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر دنیا کی احتیاج نہیں رہتی اور اگر ہم  اپنے سے پہلے جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں انکو دیکھیںتو ان کی قبروں کے نشان تک مٹ چکے ہیں تو پھر اپنے آپ کو بھی ان کی جگہ رکھ کر دیکھیں تو پھر ہمیں اصل زندگی کا احساس ہو گا آپ وﷺ کا ارشاد ہے جس طرح دن ڈھل رہا ہو عصر کا وقت ہے اسی طرح اس دنیا کا وقت شام کے قریب پہنچ چکا ہے ہماری  زندگی تو کسی بھی لمحے برزخ میں منتقل ہو سکتی ہے اللہ کریم ہمیں دارالعمل سے برزخ میں حالت ایمان سے داخل فرمائیں 
Jab amal Allah ki khushnodi kay liye ikhtiyar kya jata hai to phir duniya ki ehtiaaj nahi rehti - 1

تارک الدنیا ہونا کمال نہیں،کمال یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق بھر پور زندگی بسر کی جائ


تارک الدنیا ہونا کمال نہیں،کمال یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق بھر پور زندگی بسر کی جائے.اللہ کریم کی ذات نے انسان کو جو کچھ عطا فرما دیا ہے اگر ساری زندگی سر بسجودگزرجائے کوئی دوسرا کام نہ کیا جائے تو بھی اس کاشکر ادا نہیں ہو سکتا۔اسی پہلو کو لیتے ہوئے دیکھا جائے تو ہم کمزور لوگ بتقاضائے بشریت ہمارے اندر بہت ساری کمزوریاں ہیں۔اس پر مزید غلطیاں کرتے جائیں تو ہم اس سب کو شیطان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جو کہ درست نہ ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
      انھوں نے کہاکہ اس ادراک کی ضرورت ہے کہ معرفت باری تعالی کو جانا جائے انسان کے ہر ہر عمل کو اللہ جانتا ہے۔ہرگزرنے والا لمحہ،ہر گزرنے والا دن اور ہر گزرنے والے ماہ و سال میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے علم میں ہے۔ من حیث القوم ہماری کمزوری ہے کہ بجائے ہجری سال کے عیسوی سال کی مبارک دی جارہی ہے اور اس مبارک باد میں جو پوشیدہ بات ہے یہ کہ ہماری زندگی کا ایک سال گزر گیا،کم ہو گیا اور ہم شغل میلے میں لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تارک الدنیا ہونا کوئی کمال نہیں ہے اللہ کریم نے انسان کو دنیا میں جس حیثیت میں رکھا ہے اس حیثیت میں رہتے ہوئے اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کی جائے تو یہی زندگی دنیا و آخرت کو سنوارنے کا سبب بن جاتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اُمت مسلمہ کو اس ادراک کی ضرورت ہے جو اسے آشنا کر دے کہ اللہ کریم قرآن کریم میں اسے کیا فرما رہے ہیں۔اور یہ کہ اُمت مسلمہ اپنے نبی کریم ﷺ کو جان سکے کہ وہ کیا احکامات لائے۔برکات نبوت ﷺ کی بدولت بندہ مومن کو وہ کچھ نظر آجاتا ہے جس کا ادراک ظاہری آنکھ نہیں کر پاتی۔یہ سوچ ہمیں نصیب ہو جائے کہ ہم سب محتاج ہیں تاکہ تمام امور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہوں۔
  انہوں نے کہا کہ ہماری گزرتی ہوئی زندگی ہمیں یہ شہادت دے رہی ہے کہ مسافر بہ منزل ہوتے جا رہے ہیں۔اور ایسے ایسے لوگ جن کے بغیر زندگی کا لفظ ممکن نہ تھا وہ بھی چلے گئے۔اب ہمیں یہ سوچنے کی ضروت ہے کہ میں اپنی بڑائی میں نہ پڑوں۔اور اپنی حیثیت کا بخوبی علم ہو کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں میرے منازل تب حقیقت ہوں گے جب میری عملی زندگی دین اسلام پر ہوگی۔کلام ذات باری تعالی کی سمجھ ہمیں سیدھی راہ پر لے آتی ہے۔اور اگر ہمارے اعمال درست نہ ہوں گے تو پھر معاشرے کے حالات بھی بہتر نہیں ہوں گے۔وبائی امراض کی شدت،ایک دوسرے کا لحاظ نہ ہونا یہ سب ہمارے اعمال کے سبب ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Tarik al-dunia hona kamaal nahi, kamaal yeh hai ke Allah ke hukum ke mutabiq bhar poor zindagi basr ki jai - 1

جو وقت تخریب میں ضائع کر رہے ہیں اُسے تعمیر میں لانا چاہیے


اللہ کی رضا سے مراد یہ ہے کہ جس راہ کے اختیار کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے اُسے اختیار کیا جائے۔ہم محتاج ہیں اسے احتیاج نہیں ہے۔آج ہم نیک لوگوں کو مانتے ہیں کہ فلاں بزرگ اللہ کے ولی ہیں لیکن خود وہ نیکی اختیار نہیں کرتے،ہم اپنی زندگی کو اپنی پسند کے مطابق بسر کرتے ہیں بلکہ نیکی بھی دنیاوی کسی فائدہ کے لیے کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ پڑھنے سے مجھے فلاں چیز مل جائے فلاں عہدہ مل جائے۔یہ درست نہیں ہے۔اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ جو وقت تخریب میں ضائع کر رہے ہیں اُسے تعمیر میں لانا چاہیے۔کیونکہ ہر عمل کے اپنی ذات پر بھی اثرات ہوتے ہیں اور معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔اگر برائی کی جائے گی تو معاشرے پر برے اثرات مرتب ہوں گے اگر نیک عمل ہوگا تو اس سے معاشرے کی تعمیر ہوگی معاشرے میں بہتری آئے گی۔اگر ہر بندہ شام کو سونے سے پہلے عملی زندگی پر دھیان دے کہ آج دن بھر کتنی نیکی کی اور کتنے اعمال نا فرمانی میں چلے گئے تو کسی دوسرے کی ذات پر بحث کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے سے اچھائی کی توقع رکھنے کی بجائے خود اچھائی اختیار کریں۔معاشرہ خود بخود اچھا ہو جائے گا۔ہمارے قریب انصاف یہ ہے کہ جو مجھے ملنا چاہیے وہ ملے لیکن جہاں ادائیگی کرنی ہے وہاں سے رعایت مل جائے۔روز محشر ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجے ہیں۔اپنے روز کے معمولات دیکھیں کہ دن میں کئی بار مواقع ملتے ہیں جہاں ہم نے صحیح اور غلط میں سے ایک کو چننا ہوتا ہے خود کو دیکھیں کیا میں حق کو چن رہا ہوں یا نا حق کی طرف جا رہا ہوں یہی ہمارا ایمان ہے اگر ایمان مضبوط ہوگا،جزا و سزا پر یقین کامل نصیب ہے تو بندہ حق کو چنے گا اگر اس بات کی پرواہ نہیں کہ مجھے حشر کو ایک ایک سانس کا حساب دینا ہے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے تو پھر جان لیں کہ آپ کا ایمان کمزور ہے،آپ کا اللہ کریم اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ تعلق مضبوط نہیں ہے جس وجہ سے آپ حق کو چھوڑ کر نا حق کی طرف جا رہے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔ 
Jo waqt takhreeb mein zaya kar rahay hain ussay taamer mein lana chahiye - 1

اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنا ہی اصل کامیابی ہے


ہم مخلوق ہیں ہماری سوچ بھی محدود ہے اللہ کریم نے جو احکامات اس بشر کے لیے فرمائے ہیں وہی انسان کے لیے سب سے مفید ہیں۔اللہ کریم نے عدل کا حکم فرمایا ہے اب اگر ہم اپنی زندگیوں میں عدل کو نافذ نہیں کریں گے اور عدل بھی وہ جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے اگر ہم اپنی پسند و ناپسند پر عدل قائم کریں گے تو اس سے فائدہ کی بجائے فساد ہو گا۔کیونکہ اس میں ہماری پسند شامل ہو جائے گی،زندگی کے ہر شعبے میں عدل کی ضرورت ہے جس نظام ہائے زندگی میں عدل نہ ہوگا وہ نظام نہیں چل سکتا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ عدل اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیے جس نے اپنے آپ سے انصاف نہیں کیا وہ کسی کے ساتھ بھی انصاف نہیں کر سکتا۔اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں ان حقائق سے آشنا فرمایا جو حقیقی ہیں۔جو انجام سے آگاہی کا سبب ہیں۔اللہ کریم کے ہر حکم میں حکمت ہے۔اللہ کریم نے ہمیں درست اور غلط سے آشنا فرما دیا۔کائنا ت کی ہر چیز میں اللہ کریم نے اعتدال رکھ دیا ہے اب اگر ہم اعتدال کا دامن چھوڑ دیں گے تو اس کے نتائج ایسے ہی ہوں گے جیسے آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھ رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اپنے گھر سے عدل شروع کریں آپ کو اس کے مثبت نتائج ملنا شروع ہو جائیں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں عدل ہو کیا ہم خود ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اپنے کاروبار میں معاشرے میں ہم سب اس وطن عزیز کی ایک اکائی ہیں اگر ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کرنا شروع کردیں تو ملک میں خود بخود عدل نافذ ہو جائے گا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Allah aur Allah kay Rasool SAW kay hukum ke mutabiq zindagi guzaarna hi asal kamyabi hai - 1

اپنی غلطیوں پر قائم رہنا پھر اس کا جواز پیش کرنا درست نہ ہے


 ہر بندہ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دیکھے کہ وہ حق پر کھڑا ہے یا اس کے قدم نا حق کی طرف ہیں  اپنی غلطیوں پر قائم رہنا پھر اس کا جواز پیش کرنا درست نہ ہے۔کیونکہ ہمارے فیصلے یہ بتا رہے ہیں کہ ہم کس راہ کے مسافر ہیں۔اور پھر اکثریت کے فیصلے اور اعمال معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں۔اور یہ سب نتائج آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ان خیالات کا ا ظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ آج ہم جو چاہیں گے وہی ہمیں ملے گا جیسے کوئی زمین تیار کرکے جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔یہ قانون قدرت ہے کہ جو بندہ برائی کی راہ چنے تو پھر اسے ایسی ہی محافل اور لوگ میسر ہوتے ہیں جو اسی راہ کے مسافر ہوتے ہیں اور اگر راہ حق پر چلے گا تو اسے وہ لوگ اور وہ صحبت میسر ہوگی جو نیک اور صالح ہوں گی اور روز محشر بھی اسے انہی لوگوں کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ کریم ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اُٹھائے جن پر اللہ کریم انعام فرمائیں گے اور ہمہ وقت دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
  آخر میں انہوں نے وبائی مرض (کورونا وائرس) سے نجات اور ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Apni ghaltion par qaim rehna phir is ka jawaz paish karna durust nah hai - 1

مسلمان وہ قوم ہے جسے اللہ کریم نے دنیا اور آخرت کے ہر سوال کا جواب عطا فرمایا


دشمن کے اطمینان کے لیے اقدامات اٹھانا دشمنی کو ختم نہیں کرتا بلکہ اپنی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔ جب تک دشمنی کی بنیاد کو ختم نہ کیا جائے امن کا حصول ناممکن ہو گا۔ ہماری پالیسی ایسی ہے جو کہ مضبوط بنیادوں پر نہ ہے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر عبد القدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان وہ قوم ہے جسے اللہ کریم نے دنیا اور آخرت کے ہر سوال کا جواب عطا فرمایا اور ہم آج اپنی اصل میراث سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ موجودہ وبائی مرض کی ویکسین کے لیے دنیائے کفر کی طرف دیکھ رہے ہیں جو کہ اس ساریحق کو مانتے ہی نہیں۔ کاش کہ مسلم امت کی اسباب پر ایسی دسترس ہوتی کہ مخلوق ہماری طرف دیکھتی۔ کرونا مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کی جائیں اور اس بحث میں نہ پڑا جائے کہ یہ بیماری ہے ہی نہیں کیونکہ یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بیماری کی وجہ سے کئی لوگ معاشی تنگی کا شکار ہیں اور مسلمان کا مسلمان پر جو حق ہے اس میں یہ بھی کہ اپنے پڑوسی کا خیال رکھا جائے اور غرباء اور ضرورتمندوں کی مدد کی جائے۔ ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ہمیں یہ علم ہی نہ ہو کہ میرے ساتھ گھر والا پڑوسی بھوکا سو رہا ہے۔ اللہ کریم ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے کہ ہم اپنے بہن بھائیوں کا خیال رکھ سکیں اور ہمارے اعمال ایسے ہوں کہ غیر مسلم بھی دین اسلام کی طرف راغب ہوں۔
Musalman woh Qoum hai jisay Allah kareem ne duniya aur akhirat kay har sawal ka jawab ataa farmaya - 1

معاشرے کی تنگی اور تکلیف ہمارے کردار سے ہے


 معاشرے کی تنگی اور تکلیف ہمارے کردار سے ہے ہم بحیثیت مجموعی بے عمل ہوگئے ہیں ہماری کمزوریوں کو کس نے درست کرنا ہے
 ہم بحیثیت مجموعی باعمل نہیں رہے ہمارے کردار کی وجہ سے ہم پر تنگی اور تکالیف آرہی ہے ہمیں اپنے کردار کو ہر لحاظ سے درست کرنا ہوگا۔مومن کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ بندہ صداقت اور سچائی پر قائم رہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کے جو اوصاف اللہ کریم فرما رہے ہیں ہم اس حکم کو سامنے رکھ کر اپنے آپ کو پرکھیں تو سمجھ آئے گی کہ ہم عمل سے کتنے دور ہو گئے ہیں۔اگر ہم سب اپنے فرائض کو دیکھنا شروع کر دیں تو معاشرے میں ٹھہراؤ آسکتا ہے۔ہم مغرب کی تقلید کرتے ہوئے صرف حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ہم حقوق مانگتے ہوئے اپنے فرائض بھول جاتے ہیں تو اس طرح توازن کیسے ہوگا اور یہ عمل کتنی مخلوق کے ساتھ زیادتی کا سبب بنے گا۔تو پھر نتائج ایسے ہی ہوں گے جیسے آج ہیں۔
  وبائی مرض کورونا وائرس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ کریم اس وبائی مرض سے نجات عطا فرمائے سب کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔اللہ کریم ہماری غلطیوں کو معاف فرمائیں۔ہمارے اندر یہ احسا س ہونا چاہیے کسی دوسرے کی تکلیف دیکھیں تو خود بھی تکلیف محسو س کریں یہ ایک مومن کی صفت ہے۔
  مرکز دارالعرفان منارہ میں دم کیا ہوا نمک استعمال کریں ان شاء اللہ اس وبائی مرض سے حفاظت نصیب ہوگی۔اور اس کے علاوہ علاج بالغذا کا نسخہ بھی بہت مفید ہے اسے بھی ضرور استعمال کریں اور دوسروں کوبھی آگاہ کریں۔
  آخر میں انہوں نے دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کریم ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائیں ایسا کردار عطا فرمائیں جس سے غیر مسلم بھی مستفید ہوں اور ہم اپنے کردار سے ان کو دین کی طرف راغب کرسکیں۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Muashray ki tangi aur takleef hamaray kirdaar se hai - 1

معافی اور توبہ ایسی ہو کہ آنے والی زندگی شہاد ت دے


وطن عزیز میں جو قوانین موجود ہیں اگر ان کا اطلاق مساوات کے ساتھ کر دیا جائے اور کسی کے ساتھ کوئی رعائت نہ برتی جائے تو ملک سے مسائل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ کون کتنے خلوص سے ان قوانین کا نفاذ کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ آج ہم ملک میں قوانین پربحث کرتے ہیں کہ ایسے ہونی چاہیے،ان میں فلاں تبدیلی ہونی چاہیے۔میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر انہی قوانین کو ایمانداری کے ساتھ نافذ کر دیا جائے تو ان شاء اللہ مسائل نہ رہیں گے۔ہاں اگر کوئی کرنا نہیں چاہتا اللہ نے اُسے اختیار بھی دے رکھا ہے تو روز محشر ہر ایک نے اپنے اختیارات کا جوابدہ ہونا ہے۔تو وہاں اگر کسی سے سوال یہ ہوگیا تو وہ لمحہ بہت کٹھن ہو جائے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام اعتدال کا راستہ ہے اور یہی صراط مستقیم ہے جہاں بھی ہم کسی سے زیادتی کرتے ہیں یا وہ عمل اختیار کرتے ہیں جو کہ منع ہے تو یہ سب ہمارے اندر تکبر اور انا کے سبب سے ہے۔اور یہی ظلم ہے کہ کسی چیز کو اس کی اصل جگہ پر نہ رکھا جائے۔
  یاد رہے کہ 6,5  دسمبر بروز ہفتہ،اتوار کو دارالعرفا ن منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع منعقد ہو رہا ہے جس میں  حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی براہ راست اتوار دن 11 بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔ 

Maffi aur tauba aisi ho kay anay wali zindagi shahadat day - 1

وبائی مرض(کورونا وائرس) مقابلے سے نہیں توبہ سے جائے گی۔ہر ایک کو چاہیے کہ اللہ کے حضور معافی کا طالب ہو


کورونا وائرس کی دوسری لہر سے جہاں پوری دنیا متاثر ہوئی ہے وہاں ملک پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔لیکن ہمیں جہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہیں وہاں رجوع الی اللہ کر کے خلوص دل سے اپنے گناہوں کی معافی بھی طلب کرنی چاہیے۔ہر ایک کا عمل معاشرے میں اثر انداز ہوتا ہے۔ہر بندہ انفرادی سطح پر اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کرے۔ قدرتی آفات مقابلے سے نہیں بلکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر توبہ کرنے سے ختم ہوتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم سے دوستی سے مراد یہ ہے کہ ہم کتنے بندگی پر ہیں کیونکہ ہم جتنا احکامات الہی پر عمل پیرا ہوں گے اتنی اللہ کریم سے ہماری دوستی گہری ہو گی۔بندے اور اللہ کریم کی دوستی خالق اور مخلوق والی ہو گی۔بندہ کے لیے بندگی ہی سب سے بڑامقام ہے اور منزل حقیقی کو پانا ہی اصل کامیابی ہے۔عمل صالح کا جاننا اور اس پر عمل پیرا ہونا اور پھر اس پر مرتے دم تک قائم رہنا اور یہ قائم رہنا ہی بندہ مومن کو سلامتی کے گھر تک پہنچاتا ہے۔
  یاد رہے کہ 6,5 دسمبر بروز ہفتہ اتوارکو دارالعرفان منارہ میں ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد ہو گا۔جس میں ہر آنے والے کو مرکز ی طور پر یہ ہدایات ہیں کہ وہ حکومتی سطح پر اختیار کی گئی حفاظتی تدابیر کو مکمل کر کے آئیں۔بیمار اور ضعیف حضرات سفر سے اجتناب کرتے ہوئے گھر پر اپنے معمولات اختیار کریں۔
  آخر میں انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی اس وبائی مرض کورونا سے حفاظت اور اس کے خاتمے کے لیے دعا فرمائی۔
This epidemic (Corona Virus) cannot be overcome by fighting it, rather, by offering tauba.”
- Ameer Abdul Qadeer Awan(mza) 

The second wave of Corona Virus has affected the whole world, and there has been a major increase in the number of patients in Pakistan specially. Though we must adopt all precautionary measures, we must also turn towards Allah Ta’ala and wholeheartedly, beg forgiveness for our sins. Every individual’s actions leave a mark upon the society. Hence, everyone should, individually hold himself accountable to his Allah. Natural disasters cannot be battled down by force, but are overcome by offering repentence, individually and collectively (as a community).  
This is the opinion expressed by Ameer Abdul Qadeer Awan(mza), Sheikh, Silsila Naqshbandia Awaisia and the chief of Tanzeem Al Ikhwan, during his Juma address. 

               He said that having a bond with Allah Ta’ala means having a bond of Abudiyat with Him; the more we bow down to His commandments, the deeper grows our bond with Him, the bond that exists between Allah and His servant would be that of the Creator and the created. Serving Allah Ta’ala is the highest station that His servant can gain and herein lies his true destiny and success; having knowledge of the amaal e saleh, practising them and being steadfast on this path till the dying breath, this steadfast commitment will surely lead him to the ultimate abode of peace. 

   comply with all the precautionary measures as directed by the government. Indisposed and the elderly are requested not to travel, and perform their routine practise at home. 
             Lastly, he prayed for protection against the rapidly spreading epidemic in the country and for its speedy eradication.
Wabai marz ( corona virus ) muqablay se nahi tauba se jaye gi. har aik ko chahiye kay Allah ke huzoor maffi ka taalib ho - 1