Latest Press Releases


آپؐ کی ذات مجسم رحمت ہے آپؐ کے صدقے مخلوق پر رحمت فرمائی گئی ہے

حضرت محمد ﷺ سے جہاں رہنمائی اور مقصد حیات مخلوق کو عطا ہوا ہےوہاں اگر ہم اپنی کمزوری اور خطا ؤں سے معافی کی طلب، آپؐ کی  بارگاہ میں خلوص دل سے حاضر ہو کر کریں تو اللہ کریم  تو بہ قبول فرماتے ہیں بخشش فرماتے ہیں اللہ کریم نے ہر شئے با مقصد پیدا فرما ئی ہے انسا ن کو اللہ کریم نے اپنی اطاعت اور عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور اگر کو ئی بھی شئےاپنے مقصد پر نہ رہے تو وہ اپنے مقام سے ہٹا دی جا تی ہے 
ان خیالات کا اظہار سیرت النبی ﷺ کانفرنس او۔جی۔ڈی ۔سی۔ایل ہیڈکوارٹر اسلام آبادمیں شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان ا میر عبد القدیر اعوان نے خواتین و حضرا ت کی بڑی تعداد سے کیا ۔
انہوں نے کہا کہ آپؐ کی ذات مجسم رحمت ہے آپؐ کے صدقے مخلوق پر رحمت فرمائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اظہار محبت وہ محبت ہے جس کی حدود قیو د اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں ۔ یہ اللہ کریم کا احسان ہے کہ اس نے ماہ ربیع الاول کی بابرکت ساعتوں میں اللہ کے نام پر مل بیٹھنے کی تو فیق عطا فرمائی ہے کو شش کریں  کہ ماہ ربیع الا ول ہماری زندگی میں ہمیشہ رہے اور زندگی کا ہر لمحہ آپؐ کی حیات مبا رکہ کے مطابق گزرے اور یہ رشتہ اور اس کی قیمت انشاء اللہ روز محشر لگے گی ۔
آخر میں حضرت امیر عبد القدیر اعوان نے ملک کے تمام اداروں خصو صا ً OGDCL کی ترقی اور ملک میں امن کے لیے دعا فرمائی ۔ امیر عبدالقدیر اعوان کی طرف سے ایم ڈی  احمد حیات لک صاحب کو شییلڈ پیش کی گئی اس کے علاوہ میلاد کمیٹی کے زمہداران جن میں محمد شفیق صاحب ،راجہ ارشاد صاحب،خالد مشتاق صاحب،ساجد علی اور محمد فراز کو شیلڈ دی گئی ۔ ایم ڈی احمد حیات لک صاحب  نے امیر عبدالقدیر اعوان کا شکریہ ادا کیا اور شیلڈ بھی پیش کی 
آAp SAW ki zaat mujassam rehmat hai Ap SAW ke sadqy makhlooq par rehmat farmai gai hai - 1

اگر زندگی سے صالح اعمال نکل جائیں یہ زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے


 آپ ﷺ پر وحی الٰہی کے نزول نے ہمیں آپ ﷺ سے امتی کا رشتہ عطا فرمایا ہے جو باقی سب سے ممتا ز کر دیتا ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہوگا ملک میں استحکام ہوگا تو ہم اکثریت کے ساتھ ساتھ اقلیت کو تحفظ دے سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سارے عالمین کے لیے رحمت ہے۔اس میں کسی طرح کی تفریق نہیں ہے۔اس میں کافر و مشرک سب شامل ہیں۔آپ ﷺ کی عمر مبارک کے چالیس سال ہونے پر وحی الٰہی کا نزول ہوا اس مبارک موقع نے ہمیں امتی کا رشتہ عطا فرمایا۔ہمیں ہر حال میں اس رشتہ کو مقدم رکھنا ہے۔جب ہم بحیثیت امتی شان رسالت میں اظہار محبت کریں گے تو پھر اس میں ازخود احترام بھی ہوگا اور ان حدودو قیود کا بھی خیال رکھیں گے۔جس کا حکم ملا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دارالعرفان منارہ میں جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کے موقع پر بہت بڑے اجتماع سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔کیونکہ شان رسالت خود اللہ کریم نے قرآن کریم میں بیان فرما دی ہے۔اپنے بندے پر قرآن کریم نازل فرمایا۔ہمیں قرآن کریم کے احکامات کو دیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے  اگر زندگی سے صالح اعمال نکل جائیں یہ زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے۔اللہ کریم کی ذات میں کسی کو شریک کرنا بہت بڑا جرم ہے جس کی معافی نہیں ہے۔آج ہم نے اپنے اندر بہت سے بت بنا رکھے ہیں جنہیں شرک خفی کہا جاتا ہے۔آج یہ بات عام ہے کہ فلاں نے میرا رزق بند کر دیا ہے میری اولاد بند کر دی ہے یہ خفی شرک ہیں۔یہ آگ کی تاریں ہمارے ساتھ قبر میں لپیٹ دی جائیں گی۔آج اکثریت مسلمانوں کی صرف نام کی مسلمان ہے۔کیونکہ ہماری عملی زندگی دین اسلام کے برعکس ہے۔عین ربیع الاول کے پروگرامز میں اظہار محبت کرتے ہوئے فرض نماز چھوڑ دی جاتی ہے۔ہم نے فرائض اور احکامات کو چھوڑ کر رواجات کو مقدم کر لیا ہے۔
  یاد رہے کہ ماہ مبارک ربیع الاول میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت پورے ملک میں پروگرامز ہوئے جن میں پہلا پروگرام راولا کوٹ آزاد جموں کشمیر،کلر کہار چکوال،میانوالی،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ڈیرہ نور ربانی کھر کوٹ ادو،گوجرانوالا اور اسلام آباد شامل ہیں اس کے علاوہ مرکزی طور پر دارالعرفان منارہ میں عظیم الشان جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کا انعقاد کیا گیا ان پروگرامز میں امت کو وہ سبق یاد دلانے کی کوشش کی گئی جس کو وہ بھلا چکی ہے کہ ہمارے درمیان اتحاد و اتفاق اور اس ملک کی بقا تب ہی ممکن ہے جب ہمارے کردار اسوہ حسنہ کے مطابق ہوں گے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور نا اتفاقی سے نجات کے لیے خصوصی طو ر پر گزارشات پیش کیں۔اور یہ نصیحت بھی فرمائی کہ ہم اپنے وجود پر اسلام کا نفاذ کریں۔اپنے کردار اور دوسرے کے ساتھ معاملات پر نظر رکھیں اور یہ سب اللہ کی رضا کے لیے کریں اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔اور نبی کریم ﷺ سے محبت کی وہ حقیقت عطا فرمائیں کہ ہماری آخری سانس اس محبت پر قربان ہو۔
Agar zindagi se Saleh aamaal nikal jayen yeh zindagi aik boojh ban jati hai - 1

ہم اس لیے مغلوب ہوئے کہ ہم نے دین اسلام کے عطا کردہ سنہری اصول چھوڑ دیے

ہم اس لیے مغلوب ہوئے کہ ہم نے دین اسلام کے عطا کردہ سنہری اصول چھوڑ دیے ۔ملکی قوانین اور نظام حکومت کو باقاعدہ حرکت دینے کی ضرورت ہے ہاں کہیں بھی بدعنوانی ہے اسے روکنے سے ملک میں بہت بڑی مثبت تبدیلی آسکتی ہے ملکی سرحدوں پر سمگلنگ کے کنٹرول سے پچھلے چند دنوں میں ہمارے روپے کو کتنا استحکام ملا جو کہ آپ سب کے سامنے ہے ہمیں بعثت عالی عملی طور پر رہنمائی فرماتی ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق اور محبت و یگانگت سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا اسلام آباد چیمبر آف کامرس میں بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس سے خطاب 
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے ایمان میں کمزوری اس حد تک آگئی ہے کہ عمل ہم نے چھوڑ دیا ہے اور ہماری اس بے عملی نے رواجات کو فروغ دے دیا کہ دین میں بھی رسومات در آئی ہیں آپﷺکی شان بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے زبان گنگ ہو جاتی ہیں قران مجید میں آپ ؐ کی تعریف خود اللہ کریم فرما رہے ہیں یاد رکھیں   جب بندہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور جھکاتا ہے تو در در پر سر جھکانے سے بچ جاتا ہے اسی طرح دینی اصول اور دینی بات اتنی مستحکم ہے کہ اس کے مقابل کچھ نہیں آسکتا ۔
مزید فرمایاہمارے پاس اتنا بڑا شعبہ زراعت کا ہے کہ اگر ہم اس کے اوپر پوری توجہ دیں تو ہماری معیشت جو ہے وہ  صرف ایک شعبہ زراعت سے ہی بہتر ہو سکتی ہے صرف اس کے اوپر توجہ دینے کی ضرورت ہے  کسان کو خالص کھاد دی جائے اور سہولیات فراہم کی جائیں تو ہمارےکاشت کار بھائی ملکی معیشت میں بہت بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں 
بحیثیت مسلمان اور بحیثیت پاکستانی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کر سکے اور ہمارے ملکی حالات بہتر ہو سکیں
پروگرام کے آخر حضرت جی نے وفات پانے والے ساتھی کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا فرمائی اور اس با برکت پروگرام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کو مبارک باد دی ۔
 پروگرام  میں احسن ظفر  بختا واری( صدر آئی سی سی آئی) نے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا شکریہ ادا کیا  اس  تقریب میں  احسن بختاوری صاحب صدر آئی سی سی آئی  ظہیر الاسلام صاحب  (نائب صدر آئی سی سی آئی )،فاد وحید(سنیئر نا ئب صدر آئی سی سی آئی )چیئرمین ٹی ڈبلیو اے محمود احمد وڑیچ طارق نصرت سابق سینیئر نائب صدر آئی سی سی آئی خالد چوہدری سابقہ سنئیر وائس پریزیڈنٹ  اختر عباسی صاحب ایگزیکٹو ممبر آئی سی سی آئی اور اجمل بلوچ صاحب صدر انجمن تاجراں بھ شامل تھے
Hum is liye maghloob hue ke hum ne deen islam ke ataa kardah sunehri usool chore diye - 1

ہماری بے عملی نے اس ماہِ مبارک کو روا جات کی نذر کر دیا ہے

بعثت رحمت عالم ﷺ اور ولادت با سعادت سے اس کرۂ ارض پر تمام مخلوقات پر وہ رحمت کی بارش ہو ئی جس سے ریت کے ذروں سے لے کر عرش تک سب مستفید ہو ئے۔آپﷺ پر وحی کا نزول آپ کی ولادت سے ٹھیک چالیس سال بعد اسی ماہِ مبارک میں ہوا جس کی نزاکت یہ ہے کہ ہماری زند گیوں کا مقصد اس میں مضمر ہے ہماری انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی، جو کہ حاکم وقت تک  جاتی ہیں سب پر فرض ہو جا تا ہے کہ اپنے ہر عمل کو آپﷺ کی اتباع میں لے آئیں ان خیا لات کا اظہار  بعثت رحمت عالم ﷺ کا نفرنس سے ہزاروں مرد و خواتین سے ھیون مارکی گوجرانولہ میں امیر عبد القدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے کیا 
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ قرآن مجید ہمیں کیا حکم دیتا ہےاسی آیت کریم میں صحابہ  ؓ کو راضی ہونے کا پروانہ عطا فرمایا جا رہا ہے تو یہ تو وہ ہستیاں ہیں جو اس راہ کے سنگ میل ہیں جن کو عبور کرنا تو درکناربلکہ سو چنے کا بھی تصور نہیں کر سکتے ۔آپﷺ کی زندگی میں 80 سے زائد غزوات و سرائع ہوئے جو کہ آپ ﷺ کی زندگی پر تقسیم کریں تو کو ئی دن خالی نہیں بچتا وطن عزیز میں دو دن پہلے المناک حملے میں 60 سے زیادہ معصوم شہری شہید ہو ئے یہ سراسر ظلم ہے یہ ہمار ے درمیان دین کے نام پر تفریق پیدا کرنے کی کو شش ہے اور ہماری قومی حمیت کو خدانخواستہ ایسا نقصان پہچانے کی کوشش ہے کہ یہ بحیثیت قوم سلامت نہ رہیں یہ وطن عزیز  لاالہ کے نام پر وجود میں آیا اور ہم آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو چھوڑ کر ذلیل و خوار ہو رہے ہیں انصاف نہ ہو نے کی وجہ سے تکلیف سے بھری زندگی گزار رہے ہیں ۔
اس ماہ مبارک میں تجدید کریں کہ اپنی اصلاح دین کے مطابق کر لیں ہماری بے عملی نے اس ماہِ مبارک کو روا جات  کی نذر کر دیا ہے ۔آج سے 20،30سال پہلے تو اس طرح کے رواجات نہ تھے دین کے نام پر جو کہ آگے بڑھتے جا رہے ہیں ان محافل میں ہم فرض نماز کو چھوڑ دیتے ہیں جو کہ درست نہیں  ہے۔
حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے اس وطن عزیز کو ایک نعرہ " رب کی دھرتی رب کا نظام "دیا ہے اور فرما یا  تھا اس وطن عزیز کا مقدر ہے کہ اس پر اسلام کا نفاذ ہو گا اسے کو ئی نہیں روک سکتا ۔اور انشا ءاللہ یہ ملک دین اسلام پر وجود میں آیا ہے اس پر اسلام کی حکومت قائم ہو گی ۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Hamari be amli ne is mahe mubarak ko ravajaat ki Nazar kar diya hai - 1

درود شریف کی کثرت سے ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا ہوتی ہے


 ماہ مبارک ربیع الاول کی نسبت سے آج ہم یہاں جمع ہیں یہ اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے۔آپ ﷺ کی ذات کریم پر اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور اسی نسبت سے ہم پر بھی احسان فرمایا یہ انعام فرمایا کہ ہم بھی آپ ﷺ کی ذات اقدس پر درود و سلام بھیجیں۔آپ ﷺ کے زمانہ مبارک سے صدیوں کے فاصلے پر آج ہم اس دور سے گزر رہے ہیں جب ہمارے جائے نماز کی بنائی میں بھی سود شامل ہے. اس سب کے باوجود اللہ کریم ہم پر مہربانی فرمائیں کہ ہمارا نبی کریم ﷺ سے یہ اظہار محبت اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا ڈیرہ نور ربانی کھر،کو ٹ ادو میں جمعتہ المبارک کے روز جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ پر ہزاروں مرد و خواتین سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ محبت رسول ﷺ اس وقت تک اپنی معراج کو نہیں پہنچ سکتی جب تک آپ ﷺ سے محبت جان،مال،اولا د یعنی دنیا کی ہر چیز سے زیادہ نہ ہو۔آپ ﷺ پر درود شریف کی کثرت سے ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا ہوتی ہے۔آپ ﷺ سے ایک صحابی ؓ نے پوچھا کہ میں درود شریف کے لیے اگر آدھا وقت مختص کر لوں تو کیا مناسب ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر بڑھا لو تو اور اچھا ہے پھر پوچھنے پر فرمایا اگر سارا وقت درود شریف کے لیے مختص کر لو تو دنیا و آخرت کی بہتری کے لیے کافی ہے۔
  تصوف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلاسل تصوف وہ نسبت ہے جو قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے جا جوڑتا ہے۔سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ذکر قلبی کرایا جاتا ہے اس ذکر کو اگر آپ اپنی زندگی کے معمولات میں لے آئیں تو اس سے گناہ سے نیکی کی طرف سفر شروع ہو جائے گا۔اس موقع پر حضرت جی مد ظلہ العالی نے سب کو ذکر قلبی بھی کرایا اور بیعت سے نوازا۔
  آخر میں انہوں نے ملک رضا ربانی کھر ایم این اے کے والد محترم ملک نور ربانی کھر کی مغفرت کے لیے اور ملک وقوم کی ترقی کے لیے خصوصی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Duroood shareef ki kasrat se hamein duniya o akhirat ki bhalai ataa hoti hai - 1

(ماہ ربیع الاول وہ ماہ مقدس ہے جو ہمارے دلوں پر ہر سال یہ دستک دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ٓپﷺ کے اسوہ حسنہ پر لے آئیں)

ماہ ربیع الاول وہ ماہ مقدس ہے جو ہمارے دلوں پر ہر سال یہ دستک دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ٓپﷺ کے اسوہ حسنہ پر لے  آئیں .بعث عالی ﷺ مومنین پر اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے کہ جس سے بندہ اے مومن کو امتی کا وہ رشتہ عطا ہوتا ہے جو کہ روز محشر جہاں شفاعت محمدﷺ سے بہرہ مند فرمائے گا اور جب کسی کو کوئی سایہ میسر نہ ہو گا تو اس وقت آپﷺ کی رحمت کے سائے میں جگہ عطا ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے بعثت رحمت عالم ﷺکانفرنس
رائل تاج مارکی ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہزاروں خواتین حضرات سے خطا ب کر تے ہوئے کیا
انہوں نے مزیدکہا کہ اس وقت سارا معاشرہ یہ گلا کر رہا ہے کہ فلاں ٹھیک نہیں ہے لیکن بحثیت انفرادی ہم اپنے عمل کو نہیں دیکھ رہے کہ وہ  کتنا دین اسلام کے خلاف ہے کیونکہ دعوی محبت و عشق ﷺ اسو قت تک صادق نہیں ہو سکتا جب تک اس کی شہادت اس کے اعمال نہ دیں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ اے ایمان والو! اللہ کے پیغمبر سے سبقت نہ کیا کرو اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارا ہر عمل آپ ﷺ کی اتباع میں ہو زندگی کا ایک ایک لمحہ انتہائی قیمتی ہے اپنے ہر سانس کو اللہ کی نام کے ساتھ مزین کریں اور اس کے لئے سلاسل ِ تصوف میں ذکر قلبی کرایا جاتا ہے جو کہ سینوں میں وہ کیفیت انڈیل دیتا ہے جو کہ سینہ اطہر ﷺ سے تسلسل کے ساتھ آ رہی ہیں
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے حاضرین محفل سے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ظاہری بعیت لی اس بابرکت محفل میں محمد جنید انوار ایم  این  اے  ٹوبہ ٹیک سنگھ نے بھی شرکت کی اس کے علاوہ صاحب مجاز محمد حفیظ،محمد نواز،اظہر خورشید،نواز صاحب جھنگ نے شرکت کی.
Mah-e- Rabiey al-awwal woh mah muqaddas hai jo hamaray dilon par har saal yeh dastak deta hai ke hum apni zindagion ko Ap SAW ke Uswah husna par le ayen ) - 1

حضرت محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ نے امت محمدی ﷺ کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ہر قسم کے تسلط سے آزاد کر دیا

حضرت محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ نے امت محمدی ﷺ کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ہر قسم کے تسلط سے آزاد کر دیا اور در در پر سر جھکانے کے بجائے ایک واحد و لا شریک سے اپنی ہر ضرورت کی تکمیل کرنے کی تعلیم سے نوازا آج ہم ماہ ربیع اوّل میں اظہار محبت علانیہ تو کر رہے ہیں حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے  کہ ہم اپنی زندگیوں کو دین اسلام کے تحت لے آئیں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا راج محل مارکی میانوالی میں ہزاروں خواتین و حضرات سے بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب 
انہوں نے مزید کہا کے دین اسلام سراط مستقیم ہے اس راہ پر چلنے سے دنیوی زندگی بھی سہل ہو جائے گی اور ہمارے درمیان جو نفاق اور جھگڑے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے اور ہمارا مثبت کردار ملک اور قوم کو مشکل حالات سے نکالنے کا سبب ہو گا ہم جب اسوہ رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو ں گے تو دشمن جو کہ ہمارے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انکے عزام خاک میں مل جائیں گے اپنی عبادات میں خشوع و خصوع شعبہ تصوف میں اللہ اللہ کی تکرار سے حاصل ہو تا ہے اور یہ برکات جو کہ سینہ اطہرﷺ سے آ رہی ہیں تسلسل کے ساتھ سینہ بہ سینہ آگے تقسیم ہو رہی ہے اور یہ وہ بہر ہے جو بندہ مومن کو اللہ کے روبرو کھڑا کر دیتا ہے آج ہم نے تصوف کو اولاد کے حصول جادو ٹونہ و جنات سے چھٹکارا سمجھ لیا ہے جو کہ بلکل غلط ہے 
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں خواتین و حضرات سے ظاہری بعیت لی اور ملک و قوم کی سلامتی اتحاد ویگانگت کے لئے دعا فرمائی۔پروگرام ھٰذا میں علی حیدر نور خان نیازی مسلم لیگ نون،ایاز خان نیازی پی پی پی، چیف ایڈیٹر نوائے شرر راناامجد اقبال،صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب گلیشیر خان،جنرل سیکرٹری حبیب الرحمن،غلام حسین اعوان،صدر انجمن تاجران مسلم بازار عبدالمالک خان،سابق تحصیل ناظم حاجی خورشید انوار بٹیاں ایڈوکیٹ ہمایوں علوی جنرل سیکرٹری الاخوان پنجاب عبدالماجد اعوان،سیکرٹری اطلاعات امجد اعوان،صاحب مجازین سلسلہ عالیہ  میجر غلام قادری،ہیڈ ماسٹر محمد خان،حاجی رفیق،ڈویزنل صدر الاخوان عمر ممتاز چیمہ،جنرل سیکرٹری ارشاد حسین۔ضلعی ذمہ داران شریف کنندی حافظ عبدالماجد خان محمد ریاض و دیگر شریک تھے
Hazrat Mohammad SAW ki baissat mubarika ne ummat Muhammadi SAW ko ghulami ki zanjeeroon se nikaal kar har qisam ke tasallut se azad kar diya - 1

اپنی تمام عبادات کا رخ اللہ کریم کی طرف رکھیں اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں


اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا ہے اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اپنے بچوں کو قرآن کی تلاوت ترجمہ اور تفسیر پڑھائیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی تفسیر کے مطابق ڈھال لیں۔اپنی تمام عبادات کا رخ اللہ کریم کی طرف رکھیں اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں کوئی بھی عمل کرتے وقت آخرت پر نگاہ رکھی جائے۔مخلوق کو دعوت دیں اس اللہ اللہ کی نعمت عظمی کو عام بندوں تک پہنچانا بھی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔اپنا اختیار جہاں تک ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات پر عمل کروانے میں لگاؤاور ماننے کو عمل تک لانا ہی
 مقصو د ہے۔اور یہی لوگ ہدایت پر اور مقصد حیات کو پانے والے ہیں۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کی آمد آمد ہے لو گ نبی کریم ﷺ سے اظہار محبت بھی کرتے ہیں لیکن اگر اس اظہار محبت کو رواجات کی نذر کر دیا جائے تو پھر وہ محبت نہیں رہے گی۔محبت رواج نہیں ہوتی۔یہ غلط العام کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے یہ وہ بارگاہ ہے جہاں حکم مقدم ہوگا اپنی پسند کو آپ ﷺ کے حکم پر قربان کر دینا مقدم ہے۔دنیا کی محبت میں بھی تب ہی صدق ہو گا جب وہ محبت نبی کریم ﷺ کے تحت ہوگی جب اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہوگا۔اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں۔اپنے ہر کام کی نسبت اللہ کریم کی طرف رکھیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Apni tamam ebadaat ka rukh Allah kareem ki taraf rakhen apni zaat ko is mein nah anay den - 1

دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے


 ضابطہ اصول،قوانین پر عمل درآمدقوموں کو قوم بناتے ہیں ورنہ یہ قوم نہیں بلکہ ایک ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔ملکی سطح پر ایک شور اور بدنظمی نظر آتی ہے۔نہ کوئی بات سنا سکتا ہے اور نہ کوئی سننا چاہتا ہے۔یہی حال اگر ہم ملک سے گھر وں پر لے آئیں تو اپنے خوبصورت رشتوں ماں باپ،بہن بھائی،میاں بیوں اور اولاد کو جب حکم الٰہی کے مطابق نبھاتے ہیں تو ان میں کتنا پیار اور لحاظ ہوتا ہے اور جب ہم اپنی ذاتی خواہش اور انا کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے تو تلخی آجائے گی۔آج اس درجہ کی بے حیائی ہے کسی رشتے کا تقدس باقی نہیں رہا۔خاندان بکھر گئے۔والدین کچھ اور چاہ رہے ہیں اولاد کچھ اور کر رہی ہے۔سنت خیر الانام دیکھیں،سیرت پاک کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کی تربیت کریں تا کہ ہم زندگی کو حق کے مطابق گزارسکیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے۔ہمیں اپنی زندگی دین اسلام کے مطابق گزارنی چاہیے ذاتی مرضیات شامل کریں گے تو نقصان اُٹھائیں گے۔ہمارے نقصانات ہمارے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔کامیابی ملے تو کہتے ہیں کہ اس میں میراکمال ہے اگر پریشانی آجائے تو اللہ کریم کے ذمہ لگا کر خود بری ہو جاتے ہیں۔ہم مخلوق کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اور وہ ہم سے راضی نہیں ہوتی ہم نے اپنی زندگی کو مصیبت میں اس لیے ڈال رکھا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ عنداللہ اس عمل کا کیا نتیجہ ہوگا۔ 
  یادرہے کہ دارالعرفان منارہ میں دوروزہ روحانی اجتماع کا انعقاد 2،3 ستمبر بروز ہفتہ اور اتوار کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لاتے ہیں ہر خاص و عام کو دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی بروز اتوار دن 11 بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔
Deen islam ke har hukum mein aitdaal hai - 1

سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں


عام آدمی سے لے کر مملکت خدادادتک سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں۔غریب آدمی کا نوالہ مشکل ہو گیا ہے۔اس معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ہم انہی ممالک سے ماہرین بلاتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس بحران میں دھکیلا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارا بھلا سوچیں گے یا اپنا فائدہ چاہیں گے۔ہم وہ نظام معیشت نہیں اپنا رہے جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔عقل پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ باقی سارے تجربات کیے جا رہے ہیں اور ان تجربات کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔اللہ کرے ہمارے حکمران اسلامی نظام معیشت کو وطن عزیز پر نافذ کریں تا کہ ہم بھی ان بحرانوں سے نکل سکیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ شراب اور جواء کی اصل حرام ہے۔پکے دوزخی کی ایک خصلت یہ بھی ہے کہ وہ شرابی ہوگا۔جتنی کوئی دنیا میں شراب پئیے گا اتنی اسے جہنم میں پیپ پینی پڑے گی۔جس چیز کو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے حرام قرار دیا ہو اس سے کبھی بھی مخلوق کو فائدہ نہیں ہو سکتا۔شراب اور جواء سے معاشرے میں خرابی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ایسے لوگ جو قرآن کریم کا اپنی مرضی سے ترجمہ کرنا چاہتے ہیں دین اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق اختیار کرنا چاہتے ہیں ایک دن کہیں گے کا ش ہمیں موت آ جائے اور خاک ہو جائیں۔آج وقت ہے اپنی اصلاح کریں اپنی اولاد کی تربیت کریں بڑے بڑے نام آج زمین میں دفن ہیں خاک کے ساتھ خاک ہو گئے نشان تک نہیں رہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Soodi maeeshat mein is terhan jakray hue hain ke hum rozbroz pasti ki taraf ja rahay hain - 1