Latest Feature Article


زکوٰۃ کے مصارف

صدقات دوقسم کے ہیں۔نفل صدقات اور فرض صدقات،فرض صدقات میں سر فہرست زکوٰۃ ہے۔ اسلام کا معاشی نظام دنیا کے تمام نظاموں سے منفرد اور بہترین نظام ہے کہ اللہ کا عطاکردہ ہے اللہ اپنی مخلوق کا بھی خالق ہے اور ان کی ضروریا ت کا بھی خالق ہے ان کی خواہشات و آرزوؤں کو بھی جانتا ہے اور ان کی تکمیل کے بھی وہ ذرائع صحیح ہیں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائے ہیں نفلی صدقہ مومن و کافر ہر ایک کو دیا جاسکتا ہے لیکن فرض صدقات صرف مسلمانوں کے لیے ہیں زکوٰ ۃ صرف مسلمانوں سے لی جائے گی کہ غیر مسلم پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں مسلمانوں سے ہی لی جائے گی اور مسلمانوں کو ہی دی جائے گی۔جس کے پاس کوئی رقم جو چالیس روپے سے زائد ہو اور ایک سال تک اس کے پاس محفوظ رہے اس کی ضرورت میں استعمال نہ آئے تو اس میں سے اسے ایک روپیہ زکوٰۃ کے لیے دینا فرض ہے۔گویا سومیں سے اڑھائی فیصد ٹیکس وہ ہے جو زائد ہے از ضرورت رقم پر لگے گا اور غریب مسلمانوں پر ہی خرچ ہوگا۔اس کے آٹھ مصارف ہیں جو خود اللہ کریم نے مقرر فرما دیے۔وہ کسی کی تقسیم نہیں ہے اللہ کی اپنی تقسیم ہے حتیٰ کہ اللہ کریم نے اسے انبیاء علیہم الصلوٰۃ پر بھی نہیں چھوڑا اپنی طرف سے ان کی تقسیم مقرر فرما دی اور یہ بہتر معاشی نظام ہے۔چونکہ اسلام ارتکازِ دولت کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی دولت ایک جگہ جمع ہوتی جائے، امیر امیر تر ہوتے جائیں اور غریب غریب تر ہوتے جائیں۔دنیا کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ بھی یہی ہے۔دنیامیں ایسے نظام موجودہیں کہ جس کے پاس پہلے دولت ہے وہ اور جمع کرتا جاتا ہے اور جو پہلے تہی دست ہے وہ اور غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ صرف اسلام ہے جس نے زکوٰۃ کا نظام دیا ہے جس کے سبب جوزائد از ضرورت دولت ہے وہ چالیس تیس برس میں واپس گردش میں آجاتی ہے۔ اگر ڈھائی فیصد ایک سال آئے گی تو چالیس سالوں میں گویاوہ ساری واپس گردش میں آجاتی ہے۔اسی معاشرے میں گردش کرے گی پھر اس کے نفلی صدقات کی بہت ترغیب دی بہت سے گناہوں کا کفارہ نفلی صدقات کی صورت میں فرمایا اور بہت سی خطاؤں سے تلافی کے لیے غلام آزاد کرنے کرنے کی ترغیب دی۔ اسلام غلامی کے بھی خلاف ہے اور غلاموں کو آزاد کرنے پر اللہ کریم نے بڑے اجرکا وعدہ فرمایا ہے حتیٰ کہ غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے ایک مدمصارفِ زکوٰۃ میں مقرر کی لیکن اس اطلاق صرف مسلمان غلاموں پرہی ہو گا۔
زکوٰۃ کے مصارف:
انما الصدقت للفقرائزکوٰۃ کا سب سے پہلا مصرف فقیر کی امداد ہے۔ فقیر اسے کہتے ہیں جو بالکل تہی دست ہو۔جس کے پاس نہ گھر ہو نہ ٹھکانہ،نہ روزگار ہو نہ کوئی ذریعہ معاش تو سب سے پہلا حق محتاجوں یعنی فقراء کا ہے۔والمسکین اس کے بعد غریبوں کا حق ہے۔ اصطلاح قرآن میں غریب و مسکین وہ ہو گا جس کے پاس مکان،جھونپڑا یا ٹھکانہ بھی ہے، گھر بھی ہے،کچھ مزدوری بھی کرتا ہے لیکن اس کی ضروریا ت پوری نہیں ہوتیں اس کی اتنی آمدن نہیں ہے کہ اپنی ضروریات آسانی سے پورا کرسکے تو وہ غرباء کے ضمن میں آئے گا وہ بھی مستحق ہے کہ زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جائے۔
  والعملین علیھا تیسرے وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کو جمع کرنے پر مقرر کیے جائیں گے اور جو زکوٰۃ کو جمع کرنے پر مقرر کیے جائیں یہ ضروری تو نہیں کہ وہ فقیر ہوں یا محتاج ہوں کوئی بھی اس کام پر لگ سکتا ہے اس پر مفسرین کرام، علماء فقہاء حضرات نے بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔ مفتی محمد شفیع ؒ نے ان مباحث کو معارف القرآن میں یکجا کردیا ہے سب کا محاصل یہ ہے کہ عاملین کو زکوٰۃجمع کرنے پر تنخواہ نہیں دی جاتی۔ زکوٰ ۃ جمع توایک عبادت ہے، عبادت پہ اجرت نہیں ہوتی لیکن ان کا وقت لیا جاتا ہے وہ اور کوئی اور کام نہیں کر سکتے،کاروبارنہیں کر سکتے،مزدوری نہیں کرسکتے۔شب و روز اسی میں مصروف رہتے ہیں تو جو اجر ت انھیں دی جاتی ہے تو یہ ان کے اس وقت کی اجرت ہے جو ان سے لیا جاتا ہے۔اسی سے علماء نے آئمہ مساجد جو قرآن و حدیث پڑھاتے ہیں ان کی تنخواہوں کا جواز پیدا فرمایا ہے کہ قرآن پڑھانے کی تو اجرت جائز نہیں ہے نماز پڑھانے کی اجرت بھی جائز نہیں ہے خود امام پر بھی تو نماز فرض ہے اس نے بھی پڑھنی ہے دوسروں کو پڑھادی تو اور ثواب ہوگااس پر تنخواہ کس بات کی۔ علماء یہیں سے اخذ کرتے ہیں کہ اگر کسی پابند کر دیا جاتا ہے کہ اس نے پانچوں نمازیں یہیں پڑھنی ہیں جمعہ کا خطاب یہاں مسجد میں دینا ہے تو اس کا جو وقت لیا جاتااس وقت کی اجرت دی جاتی ہے عبادت کی اجرت نہیں ہے نماز تو خود اس پر فرض تھی۔
والمولفۃ قلوبھم اور وہ لوگ جن کی تالیف قلب مقصود ہو۔کسی نے اسلام قبول کیا یا کوئی پہلے سے مسلمان ہے لیکن انتا کمزور ہے، اتنا غریب ہے کہ اس کی کمزوری کافائدہ اٹھا کر غیر مسلم اسے پریشان کر تے ہیں تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اور اس کو  محتاجی سے بچانے کے لیے فرض صدقات میں اللہ نے اس کا حق مقرر کردیا ہے کہ اسے بھی زکوٰۃ میں سے حصہ دیا جائے گا۔
وفی الرقاب غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے نہ صرف فرض صدقات میں ان کا حصہ رکھا بلکہ غلاموں کی آزادی کی ترغیب دلانے کے لیے، گناہوں کے کفارے کے طورپر اور نیکی و ثواب حاصل کرنے کے لیے غلاموں کی آزادی کو ذریعہ قرار دیا حتیٰ کہ اگر کسی سے سہواً قتل ہوجائے تو اس کی سزا بھی غلام آزاد کرنا قرار دیا۔
والغرمین مقروض لوگوں کی مدد کی جائے مقروض یہ نہیں کہ بالکل فقیرو محتاج ہی ہو کوئی صاحب حیثیت بھی ہے لیکن اس کی حیثیت اتنی نہیں ہے کہ اپنے اخراجات پورے کرکے قرضہ بھی اتار سکے آمدن اتنی ہی ہے کہ اس کا گزارہ ہورہا ہے لیکن پیسے اتنے نہیں بچتے کہ وہ قرض اتار سکے تو وہ بھی اس کا مستحق ہے اس کا قرض اتارنے میں زکوٰۃ میں سے اس کی مدد کی جائے۔
و فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ۔فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے فی سبیل اللہ سے مراد ہے کہ معاشرے کا کوئی ایسا اصلاحی کام جس سے معاشرے کی دینی اعتبار سے اصلاح ہوتی ہو یاجہاں ملکی دفاع کی بات آجائے یا کافروں سے مقابلہ آجائے۔
وابن السبیل مسافر زکوٰۃ کا مستحق ہے خواہ وہ اپنے گھر میں کتنا ہی امیر آدمی ہو لیکن اگر دوران سفر وہ بھی ضرورت مند ہوجائے تو وہ بھی مسکین ہے، محتاج ہے جیسے کسی نے اس کی جیب کاٹ لی، اس کا زادِ راہ ختم ہوگیا تو مسافرکی مدد بھی زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے۔
زکوٰۃ کے یہ آٹھ مصارف ہیں ان کے علاوہ کسی جگہ زکوٰۃ کو پیسہ صرف نہیں ہوسکتا۔جن لوگوں لو اللہ نے صاحب نصاب بنایا ہے اور توفیق دی ہے جب وہ زکوٰۃ دیتے ہیں تو ان کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ زکوٰۃ کہاں دے رہے ہیں اور کیا یہ زکوٰۃ کا مصرف ہے بھی یا نہیں۔ہم اگر دیتے بھی ہیں تو جان چھڑاتے ہیں کہ اتنے پیسے کسی پکڑا دیے اس طرح نہیں کرنا چاہیے،احتیاط چاہیے کہ جب تک وہ اپنے مصرف تک نہیں پہنچے گی دینے والے پر اسی طرح فرض رہے گی۔فرض تب ادا ہوگا جب زکوٰۃ اپنے مصرف تک پہنچ جائے گی یا کسی شخص کو آپ دیتے ہیں تو اس پر آپ کو اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ یہ شخص مصارف زکوٰۃ پر میری زکوٰۃ خرچ کرے گا۔
 

لیلتہ القدر

  ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک اس کو یعنی قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا اور اے مخاطب تجھے کیا معلو م کہ لیلتہ القدر کیا ہے؟  لیلتہ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے ہر شعبہ زندگی میں ہر حال میں ہر کام میں  فجر تک رحمت اور سلامتی ہے۔ اللہ کریم نے جہاں رمضان المبارک کو بے پناہ فضیلتیں اور بخشش کے سامان عطا فرمائے ہیں اور روزہ داروں کی بخشش اور انعامات کے وعدے کیے ہیں،وہاں سب سے بڑی بات جو قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے وہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے۔رمضان المبارک وہ با برکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا قرآن کریم اللہ کریم کا ذاتی کلام ہے اور کلام متکلم کی شان،حیثیت،عظمت اور جلالت کا امین ہو تا ہے۔ قرآن کریم اللہ کا ذاتی کلام ہے اور آخری کتاب ہے جو قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے اور اس میں قیامت تک کے حالات و مسائل کا حل اور جواب عطا فرمایا گیاہے۔اور یہ اتنا عظیم کلام ہے کہ اس کے لیے اللہ کریم نے رمضان کا مہینہ،جو سب مہینوں سے افضل ہے پسند فرمایااور ارشاد فرمایا ”ہم نے رمضان کو بھی قرآن سے عظمت و  شرف عطا فرمایا“۔پھر ارشاد فرمایا اسے ہم نے
 لیلتہ القدر میں اتارا۔مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر ایک ہی رات میں لیلتہ القدر میں نازل ہو گیا لیکن حضور اکرمﷺ پر جو نزولِ قرآن ہوا وہ بھی لیلتہ القدر میں ہوااور تیئس برسوں میں مکمل ہو ا۔قرآن کی عظمت وجلالت یہ ہے کہ جس مہینے میں نازل ہواوہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل،جس رات میں اترا وہ رات تمام راتوں سے افضل اورجس ہستی پر نازل ہو اوہ تمام رسل کے سردار،امام اور افضل ہیں۔تو قرآن کریم اللہ رب العزت کا اتنا بڑا انعام ہے کہ جس کی عظمت کو ہمارا شعور سمو نہیں سکتا۔
       لیلتہ لقدر کیا ہے؟پھر اسکی ایک جھلک دکھلادی کہ اس کی وسعتیں تو بے پناہ ہیں۔اس میں جو رحمتیں اور برکات ہیں وہ بے شمار ہیں اس کا ایک پہلو بتا دیاکہ یہ ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہے یعنی کوئی شخص ایک ہزار مہینہ باوضو رہے،ذکر کرتا رہے،مراقبات کرتا رہے، تلاوت کرتارہے،نوافل پڑھتا رہے،سجدے کرتا رہے،تسبیحات کرتارہے،درمیان میں کوئی وقفہ نہ ہو،نہ کھائے نہ پیے،نہ کہیں آئے نہ جائے اوراس ہزار مہینے یعنی تراسی برس اور چار مہینے سے اس کی ایک رات کی بیداری بہت بہتر ہے۔کتنی بہتر ہے؟ وہ حد مقرر نہیں فرمائی۔یہاں ان فرشتوں کی بات ہو رہی ہے جو سال میں صرف لیلتہ القدر میں ہی اترتے ہیں۔سال میں صرف ایک رات اترتے ہیں جو رحمت و بخشش الٰہی لے کر زمین پہ اترتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں۔والروح سے مراد علماء کی ایک جماعت نے روح الامین لکھا ہے اور بہت سے دوسرے حضرات،مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ روح سے مراد نجات یافتہ ارواح کو بھی اس رات رخصت ملتی ہے کہ زمین پر جائیں،اپنوں کو تلاش کریں،انکے لیے دعا کریں،انکے لیے برکات لے کر جائیں،روح انسانی کا عجیب معاملہ ہے۔روح نے برزخ یا آخرت میں وہ کچھ استعمال کرنا ہے جو کچھ اس نے یہاں کمایا۔اس کے سارے کا سارا مدار اس چند روزہ زندگی پر ہے اس میں وہ کیا حاصل کرتا ہے وہی جاکر اسے برزخ میں،میدان حشر میں آخرت میں،جنت میں اسی کے حساب سے ساری نعمتیں نصیب ہوں گی۔
       انعامات ِ الٰہی کی تو کوئی حد نہیں۔یعنی اللہ کی ایک مقدس کتا ب ہے جس کا ایک ایک لفظ اس کا ایک ایک حرف زندگی بھر کے گناہ بخشوانے،نجات کے لیے اور ترقی درجات کے لیے کافی ہے۔اس میں کتنی برکات ہیں جس کے نزول سے شہر رمضان کو تقدس بھی ملا،عظمت بھی ملی اور یہ ایک مہینہ اس کی ہرساعت کروڑوں لوگوں کو بخشوانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔پھر اس میں ایک خاص رات لیلتہ القدرہے جو ہر طاق رات میں تلاش کی جانی چاہیے۔اس ایک رات میں اتنی فضیلت رکھی اس کے کلام کی فضیلت کیا ہو گی۔اسے پڑھنا،اسے سمجھنا،اسکی لذت و حلاوت کو محسو س کرنا اور اس کو اپنے آپ پر نافذ کرنا،یہی تو قرآن ہے۔ قربِ الٰہی کے لیے سب سے اعلیٰ ذریعہ،فرمایا گیا اگر تم اللہ کریم سے باتیں کرنا چاہتے ہو تو نماز پڑھو،نوافل ادا کرو تم اللہ سے مخاطب ہونے کا شرف پاؤ گے لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کریم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو!اللہ تم سے باتیں کرنے لگے گا ہر آیت تمہیں مخاطب کر کے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر حقائق سے آشنا کر رہی ہے۔ پروردگار عا لم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو  تو کیا عظمت ہو گی اس کتاب کی جس مہینے میں اتری اس مہینے کو شرف بخشا،جس رات میں اتری اس رات کو ہزار وں مہینوں پر افضل کر دیا۔جس ہستی پر اتری وہ بھی کائنات کی افضل ترین ہستی ہے جوخود مخلوق ہے لیکن اس کا ثانی مخلوق میں نہیں ہے۔ افضل البشر،افضل الرسلﷺ تو فرمایا! اس میں بے پناہ فرشتے جو رحمت کے امیں ہوتے ہیں زمین پر تشریف لاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں ان انعامات کو وصول کرنے کی استعداد بھی تو ہو۔جس کے وہی دو ضابطے جونبی ؑ نے بتائے وہی ہیں،ایمان ہو،احتساب ہو،احتساب یہ ہے کہ کسی دنیاوی لالچ کے لیے کر رہا ہے،ذاتی شہرت کے لیے کررہا ہے،دولت دنیا جمع کرنا چاہتا ہے یا رضائے الٰہی کر رہا ہے۔احتساب یہ ہے کہ اپنی خواہش،اپنی آرزو کو دوسرے سے ہر کوئی بہتر جانچ سکتا ہے۔تو احتساب کرے کہ خواہش محض قربِ الٰہی،رضائے الٰہی کو پانے کی ہو تو پھر وہ نعمتیں وصول کرنے کی توفیق نصیب ہو گی۔ہماری یہ بدنصیبی ہے کہ حقائق لوگوں نے چھوڑ دیے ہیں اور حکایات کو اپنا لیا ہے علامہ مرحوم نے فرمایا ہے کہ 
یہ امت روایا ت میں کھو گئی ہے
حقیقت خرافات میں کھو گئی ہے
  لوگوں نے قصے کہانیا ں بنا لی ہیں اور قرآن کے ارشاد اور ارشادات آقائے نامدار ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔انکی پرواہ نہیں کرتے۔بھئی قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے حکایات کے سننے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر کسی کی کوئی حکایات قرآن سے استفادہ کرنے کی،حدیث پاک،سنت سے استفادہ کرنے کی ہے تو وہ سننے سے ایمان تازہ ہوتا ہے لیکن کوئی کہانی قرآن و حدیث کے باہر ہے اس کے سننے سے تو وقت ہی ضائع ہو گا،دل بھی سیاہ ہوں گے اور قوت عمل بھی ضائع ہو گی۔دین کی بنیا د حکایات اور قصوں پر نہیں ہے۔قرآن کریم نے بے شمار قصے بیان فرمائے ہیں انبیاء کے بھی اور سابقہ قوموں کے بھی،کفار کے بھی اور بڑے بڑے جابر حکمرانوں کے بھی۔آپ نے دیکھا قرآن کریم نے کہیں بھی مسلسل تاریخ بیان نہیں فرمائی۔جس قصے میں انکا کوئی ٹکڑابطور مثال لوگوں کو سمجھانے کے لیے جہاں درکار ہوا وہاں وہ ٹکڑا ارشاد فرما دیا۔ کیونکہ قرآن کا موضوع عملی اور ایمانی زندگی کی اصلاح ہے تاریخ نہیں۔اگر تاریخ ہو تی تو پھر ہر قصے کو مسلسل بیان فرماتا۔فرمایا اس رات میں وہ خصوصی فرشتے جو طلب ِ الٰہی بانٹتے ہیں۔وہ خصوصی فرشتے جو ذوق و شوق سے محبت الٰہی بانٹتے ہیں انہیں بھی چٹھی ملتی ہے اس رات کو نازل ہوتے ہیں اور نیک اور نجات یافتہ ارواح بھی کہ وہ تو اس عالم سے آشنا ہو چکی ہوتی ہیں وہ ان حقائق کے ساتھ آتی ہیں اور ان حقائق کو اپنوں کے قلوب پر القا کرنا چاہتی ہیں کہ یہ اس دنیا میں رہ کر وہ دنیا کما لیں۔اس دنیا کو کمانے کی یہی دولت ہے جو یہاں اس وقت ہمارے پاس ہے جسے ہم نے محض وقت گزارنے پر لگا دیا۔ وقت اتنی بے قیمت چیز نہیں ہے کہ اسے دھکے دے دے کر گزار ا جائے۔ایک ایک لمحہ قیمتی ہے جو لمحہ گزر گیا کوئی اسے لُٹا سکتا ہے؟ تو پھر اس میں اللہ کی یاد کیوں نہ ہو ذکر الٰہی کیوں نہ ہو،اطاعت الٰہی کیوں نہ ہو،ہر لمحے میں طلبِ الٰہی کیوں نہ ہو۔یہ کیفیات بنتی ہیں۔
سو فرمایا ایسا موقع جو زندگی میں ایک بار ہی آئے اسے کہتے ہیں سنہری موقع،یہ ہماری زندگی سنہری موقع ہے ہمیں ایک ہی بار ملی ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اس کے لمحات کو ہم کہاں خرچ کررہے ہیں کیونکہ اس پر ہماری دائمی،ابد ی زندگی کا مواد ہے۔یہ اس کی عطا ہے کہ وہ کوئی ایک لمحہ قبول کر لے تو ساری زندگی کو باغ و بہار کر دے۔ 

اعتکاف! معتکف کی ذمہ داریاں

اعتکاف کیا ہے؟اعتکاف ہے کہ رمضان المبارک میں اوصاف ملکوتی کے حصول کے لئے جو محنت کی جارہی ہے اس پر مزید اضافہ کیا جائے مزید اضافہ کیا ہے؟ گھر سے نکل آئے،کاروبار سے لاتعلق ہو گئے،بیویوں سے الگ ہو گئے،اولادکے مسائل اگر رکھ دئیے، تن تنہا ایک جان لے کر اللہ کے گھر میں مقیم ہو گئے، اعتکاف کے نویادس دنوں کے لئے سوائے اللہ سے باتیں کرنے کے اور کوئی کام نہیں اب اعتکاف میں بھی بہت سی رسومات آ گئی ہیں پردے لگا دو،ایک بندے کو بند کردواگر پانی بھی مانگنا ہو تو چٹ لکھ کرمانگے یہ ساری رسومات ہیں ضروری بات نہ کرنا بھی مکرو ہ ہے۔
  ہرکام کو اس کے کرنے کے ضابطے کے مطابق اورپورے خلوص سے کیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں باتیں مکمل ہوں خلوص نیت بھی ہو،خلوص قلبی بھی ہو پوری توجہ سے کرے اور سارے طریقے،سلیقے اور احکام کی پابندی بھی کرے اس کے بعد بھی ثمرات اللہ جل شانہٗ کی مرضی پر ہیں کس کو کتنا دیتا ہے؟ قبول فرماتا ہے یا نہیں چونکہ اللہ محتاج نہیں ہے ہم محتاج ہیں ہمیں غلط فہمی یہ ہوجاتی ہے کہ جب ہم نے خانہ پُری کردی تو کام ہوگیا یہ کام خانہ پری سے نہیں ہوتا مثلاً اعتکاف کی سعادت نصیب ہوئی یہ بہت بڑا اللہ کاا حسان ہے مسلمانوں کی کتنی ایسی تعداد ہے کہ جنہیں صلوٰۃ خمسہ بھی نصیب نہیں خود رمضان شریف میں چوریاں کرتے پھرتے ہیں ڈاکے مارتے پھرتے ہیں قتل و غارت گری کرتے پھرتے ہیں آخر کہلانے کوتووہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اللہ کی کتنی مخلوق ایسی ہے جنہیں عبادت تو نصیب ہے مگر اعتکاف نصیب نہیں ہواگنتی کے چندلوگوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اسے خانہ پوری میں ڈالنا چاہتے ہیں اپنی نیکی اور اپنی پارسائی کا اشتہار بنانا چاہتے ہیں یا اس کے مقصد کو پانا چاہتے ہیں اس کا مقصد تو یہ ہے کہ اعتکاف کے جو لمحات ہیں وہ سوائے اللہ کے کسی سے کوئی رابطہ نہ رہے یعنی رمضان اس لئے ہے کہ اوصاف ملکوتی پیدا ہوں اور رمضان میں پھر مزید اعتکاف   وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِد (البقرہ: 187) اس آیہ کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرد کا اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے،اعتکاف کے لئے مسجد میں بیٹھنا پڑتا ہے ذکر اذکار اور ذکر قلبی اوصاف ملکوتی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے اگر آپ کو اللہ نے یہ نصیب فرمایا تو اوصاف ملکوتی کا تقاضا یہ ہے وحی الہٰی کا اتباع کیا جائے پھر آپ وہ کریں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺنے کرنے کا حکم دیا ہے معتکف گویا ہر لحظہ بارگاہ الوہیت میں حاضر ہے ہر بندہ ہر آن اللہ کے روبرو ہے لیکن وہ اللہ کی طرف سے ہے بندہ تو بے خبر ہوتا ہے اپنے کاروبار میں مگن ہوتا ہے اسے تو اللہ یاد ہی نہیں ہوتا وہی چیزیں اس کے پیش نظر ہوتی ہیں جو اس کے دل اوردماغ میں ہوتی ہیں ذات باری کاتو تصور بھی نہیں ہوتا لیکن اللہ تو تب بھی ساتھ ہوتا ہے اللہ تو ہر قت ہر جگہ موجود ہے یہ سارا کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب سے نکل کرایک ایسا وقت مختص کر لینا یوں تو جب بھی مسجد میں بیٹھنے کی فرصت ملے اعتکاف کی نیت کی جاسکتی ہے اس کے لئے رمضان ہی ضروری نہیں ہے غیر رمضان میں بھی کی جاسکتی ہے نفل اعتکاف کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں جتنا وقت کسی کے پاس ہو اتنے وقت کے لئے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں رک سکتا ہے جب کہ سنت اعتکاف بیس رمضان المبارک کی افطار سے شروع ہوتا ہے اور شوال کے چاند نظر آنے پر ختم ہوتا ہے اعتکاف سنت ہو یا نفل دونوں کا مقصد متوجہ الی اللہ ہونا ہے لیکن رمضان المبارک اوراس کا آخری عشرہ جس کی بے شمار فضیلتیں اور جس میں لیلۃ القد جیسی نعمتیں اور سنت محمد رسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ اعتکاف فرماتے تھے اور جبرائیل امین کے ساتھ قرآن حکیم کا دورہ فرمایاکرتے سب سے زیادہ مصروفیت اعتکاف میں جو رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی وہ قرآن حکیم کا دور ہوتاتو معتکف کو چاہئے کہ قرآن پڑھے قرآن پڑھائے قرآن سمجھے قرآن سمجھائے قرآن بیان کرے زیادہ بہتر یہ ہے کہ دینی باتیں کرے دینی مسائل بیان کریں جو علماء تشریف رکھتے ہیں وہ مسائل بتائیں تعلیم و تعلم،دین کی بات،اللہ کی بات، حضور ﷺ کی بات کرنا ہی مقصد ہے کہ اس کے کرنے سے اعتکاف میں مزید چمک اور نورانیت آتی ہے انوارات وتجلیات آتے ہیں ضرورت سے مثلاً وضو کرنے کے لئے یا رفع حاجت سے باہرجاتا ہے تو راستے میں کسی سے غیر ضروری بات نہ کرے کسی سے ملنے نہ لگ جائے کسی سے گپ شپ لگانے نہ لگ جائے ناک کی سیدھ میں جائے ناک کی سیدھ میں واپس آ جائے وضو کرنے بیٹھے تو وضو کی تسبیحات پڑھتا رہے آتے جاتے ہوئے درود شریف پڑھتا رہے تسبیح و تمحید کرتا رہے اپنی توجہ اللہ ہی کی طرف رکھے دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے مرنے والے مرتے رہتے ہیں پیدا ہونے والے پیدا ہوتے رہتے ہیں جہاں بارش ہونی ہے ہوتی ہے جہاں دھوپ ہونی ہے ہوتی ہے جس درخت کو گرنا ہے وہ گرتا ہے جس پہ پھل لگنا ہے وہ لگتا ہے دنیا کا نظام نہیں رکتا معتکف کو خود کو اس سے الگ کرنا پڑے گا جو ہوتا ہے ہوتا رہے اور اگر اتنا حوصلہ نہیں تو اعتکاف نہ کرے فرض تو نہیں ہے سنت ہے اگر اعتکاف کرنا ہے تو پھر اس کی ساری شرائط پوری کرے اعتکاف سے غرض یہ ہے کہ آدمی اموردنیا سے لاتعلق ہو کراور کلی طور پر یکسو ہو کر متوجہ الی اللہ ہو جائے ان مخصوص دنوں میں دنیا کے جھمیلوں اوردنیاوی فکروں سے آزاد ہوجائے فلاں کام کا کیاہو گا؟فلاں جگہ کیا ہو رہا ہو؟ کون کہاں ہے؟ کوئی ہے یا نہیں؟کوئی بڑا ہے یاچھوٹا؟ کوئی کیا کر رہا ہے کیا نہیں؟ یہ چیزیں ذہن سے نکال کر اللہ کی طرف دھیان لگالے اللہ کی بات اللہ کے حبیب ﷺ کی بات سارا دن کرتے رہیں اس لئے کہ دین کی باتیں متوجہ الی اللہ کرنے میں معاون ہوتی ہیں توجہ الی اللہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتیں رکاوٹ نہیں بنتیں لیکن دنیا کی بات دنیا کی طرف متوجہ کرتی ہے اور جو توجہ ذات باری کی طرف ہے اسے کم کرتی ہے لہٰذا نقصان دہ ہے مسجد میں دنیووی باتیں کرنا، کاروبار کے بھاؤ یا نرخ پوچھنا،خرید وفرخت کرنا، گپ شپ لگانا،تفریح طبع کے لئے باتیں کرنا، موبائیل پر گپیں ہانکنا بلکہ اعتکاف میں موبائیل فون ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ مسجد سے با ہر ہونا چاہیے یہ ساری چیزیں مسجد میں ویسے ہی حرام ہیں مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں صرف اللہ کریم کی بارگاہ میں گزارشات پیش کی جاتی ہیں اور اعتکاف میں یہ پابندی مزید تاکید کے ساتھ بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ عملاً اور ذہنی طور پر افکار دنیا سے جدا ہو کر متوجہ الی اللہ رہا جائے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنی چاہیے آگے اللہ کی مرضی کہ وہ کس کی مزدوری پہ کتنی اجرت عطا فرماتا ہے؟ کون سے درخت پہ کتنا پھل دیتا ہے؟ثمرات ہمیشہ من جانب اللہ ہوتے ہیں پھل اللہ کی طرف سے لگائے جاتے ہیں مجاہدہ او ر محنت یہ بندے کے ذمے ہے رمضان مجاہدہ استراری ہے حکماً کرنا پڑتا ہے لیکن اس میں اعتکاف پھر اختیاری ہے اگر کوئی نہیں کرنا چاہتا تو فرض نہیں ہے اختیاری بھی تب تک اختیاری ہوتا ہے جب تک آپ وہ اختیار نہیں کر لیتے ہیں جب آپ اختیار کر چکے تو پھر فرض ہی کی طرح اس کی پابندی ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اعتکاف اگر ٹوٹ جائے تو قضا لازم آئے گی۔
اعتکاف کا مقصد محض ظاہری طور پر قید ہونا نہیں ہے اصل مقصد یہ ہے کہ دل کو غیر اللہ سے خالی کیا جائے اگراعتکاف میں ظاہری طور پر زبان بند ہولیکن دل امور دنیا میں ہی گردش کرتا رہے آدمی کے ذہن کو وہی فکریں اور سوچیں رہیں تو فائدہ نہ ہو گاچونکہ مقصود یہ ہے کہ دس دن متوجہ اللہ ہو کر وہ قوت حاصل کرے کہ جب واپس امور دنیا میں جائے تو دنیا کے تمام کام کرے لیکن دل اللہ کی طرف متوجہ رہے معتکف جہان سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ رہے دن ہو یا رات،گرمی ہو یا سردی،جب تک اس کا اعتکاف مکمل نہیں ہوتااس لئے کہ روئے زمین پر ایک وہ ہے اور ایک اللہ کی ذات کوئی تیسرا بندہ نہیں ہے نہ کسی کو سوچے، نہ کسی کی فکر کرے نہ کسی سے بات کرے تاکہ اللہ کریم وہ کیفیات وہ یقین اور وہ نور یقین عطا فرمائے ہم نے صرف دن یا ٹوٹل تو پورا نہیں کیامقصد کوئی محض قید گزارنا تو نہیں ہے اپنے اوپر خواہ مخواہ کی تنگی اور پابندی لگانا تو مقصد نہیں ہے مقصد تو وہ نور یقین ہے کہ ہم اللہ کو روبرو پا سکیں جیسا حدیث احسان میں ارشاد ہواکہ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ جرأت تم میں پیدا نہ ہو کہ میں اپنے اللہ کو دیکھ رہا ہوں تو یہ یقین تو کم از کم پیدا کر لو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے حق تو یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں محض سر نہیں پٹک رہا اس کے رو برو رکوع کر رہا ہوں ہر سجدہ اس کی بارگاہ میں اس کے سامنے ہے نہ صرف عبادات میں بلکہ عملی زندگی میں اُس جمال جہاں تاب کو اپنے ساتھ لے جائے۔ 
اب دیکھنا یہ ہے کہ دل میں کتنی کیفیات بدلیں؟ کتنی لذتِ عبادت بڑھی نافرمانی سے کتنا اجتناب کرنے کی توفیق ہوئی اور یاد رکھیں اطاعت احکام کی پیروی میں اپنی طرف سے چیزیں گھڑ کے اس پر قائم ہونا کسی نیکی کا سبب نہیں بنتا بلکہ ا للہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے اور کریم اپنی ناراضگی سے پناہ میں رکھے ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے ہماری خطائیں معاف فرمائے اورہمیں نیکی کی توفیق عطا کرے نیکوں کو ساتھ دے نیکی پہ موت دے اور نیک بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمین!  
 

غزوہ بدر (معرکہ حق و باطل)

حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں سب سے پہلا جہاد غزوہ بدر ہے۔سورۃ الانفال آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے جس طرح آپ ﷺ کو اپنے گھر سے غزوہ بدر کے لیے نکالاوہ عین انصاف تھا۔اس سے پہلے کہ قاتل تیاری کر کے، مال اسباب لے کر،مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو قتل عام کرنے چڑھ دوڑیں، ان کو روکا جائے۔اس سبب کو روکنا عین انصاف تھا،عین حق تھا۔سو فرمایا جس طرح آپﷺ کے پروردگار نے، آپ ﷺ کو، آپ کے گھر سے، حق کی تدبیر کے ساتھ، انصاف کو زندہ رکھنے کے لیے، مظلوموں کی حفاظت کے لیے، ظالموں کی قوت توڑنے کے لیے، آپ کے دولت کدے سے نکالا اور(الانفال:5)مومنوں کی ایک جماعت ایسی تھی جو اسے گراں سمجھتی تھی، انہیں یہ پسند نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو لے کر اہل مکہ کے مقابلے میں چلے گئے تو وہ ایک بڑا لشکر لے آئیں گے۔جو مسلح بھی ہو گا،وہ لوگ جنگجو بھی ہوں گے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہو گی۔ ایسا نہ ہو کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی کو نقصان پہنچ جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ مشن محمدیﷺ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے کائنات کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ یہ مشن یہیں ٹھپ ہوجائے گا۔اور اس کی تائید نبی کریم ﷺ نے خودبدر میں دعا فرماتے ہوئے فرمائی۔فرمایا،یااللہ اگر یہ لوگ آج یہاں مارے گئے تو قیامت تک کوئی تیرا نام لینے والا نہیں ہوگا او کما قال رسول اللہ ﷺ۔حضور ﷺ نے دعا میں فرمایا کہ اے اللہ میں سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں اور اگر یہ لوگ یہاں کھیت رہے تو پھر قیامت تک دنیا میں تیرا کوئی نام لیوا نہیں ہو گا۔ زبان حق جب صحابہ کرامؓ  کو سارے کا سارا اسلام کہہ رہی ہے تو پھر کسی کی رائے کو کوئی اہمیت ہے؟کسی کے کچھ کہنے کی گنجائش ہے؟حتیٰ کہ(الانفال 6) ان صحابہ کرام ؓ نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا اہل مکہ کے مقابلے میں کھلے میدان میں جانا کھلی آنکھوں موت میں جانے کے مترداف ہے تو حضور اکرم ﷺ سے وہ عرض کرتے تھے کہ اے حبیب کبریا ﷺیہ خطرہ مول نہ لیا جائے۔ آپ ﷺ تشریف نہ لے جائیں۔ یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ آپ جائیں گے تو میں گھر بیٹھوں گا۔ بلکہ کچھ ایسے بچے بھی شامل تھے جن میں دو بدر میں شہید بھی ہوئے۔ایک غازی بنا۔ جس بچے کو حضور ﷺ نے فرمایا تمہاری ابھی مسیں بھی نہیں بھیگیں، تمہاری عمر کم ہے۔ تمہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتا تو وہ رو پڑاا ور اتنے دردناک طریقے سے رویا کہ حضور ﷺ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے، تمہیں اجازت ہے،آ جاؤ۔دوسرا آیا،آپ نے منع فرمایا۔ اس نے بڑا اصرار کیا، بڑی منتیں کیں۔اللہ کے رسول ﷺ مجھ پر کرم فرمائیں۔ اس کے والد نے اسے روکا، اس نے والد سے کہا کہ ابا جان! آپ مجھے جنت میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ کیوں مجھے جنت کے راستے سے روکتے ہیں؟ حضور ﷺ نے اسے بھی اجازت دے دی۔ جب تیسرا آیا تو وہ ان دونوں سے ذرا کمزور تھا۔ اس نے بھی اصرار کیاتو حضور ﷺ نے اسے اجازت نہیں دی۔اس نے عرض کی یا رسول للہ ﷺ یہ،جسے آپ نے اجازت د ی ہے، میں اسے کشتی میں بچھاڑسکتاہوں۔ میں اس سے تکڑا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا،اچھا کُشتی کرو۔ جب وہ کُشتی کرنے لگے تواس نے اس کے کان میں کہا، میں جانتا ہوں تو مجھ سے تکڑا ہے لیکن مجھے گرانا نہیں، مجھ سے گر جانا کہ مجھے بھی جہاد پرجانے کی اجازت مل جائے۔ یعنی ذوق شہاد ت کا یہ عالم تھا کہ بچے، نو عمر،جوان سب ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لینے کے خواہش مند تھے اور پھر انہی دو بچوں نے ابو جہل کو قتل کیا۔ان میں سے ایک خود بھی شہید ہوگیا، دوسرا غازی بنا۔ یہی ابوجہل کے قاتل تھے۔میدان بدر میں انہوں نے ایک صحابیؓ سے پوچھا چچا جان ابو جہل کون ہے؟ سنا ہے وہ نبی کریمﷺ کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بھتیجو تم ابوجہل کو جان کر کیا کرو گے؟ کہنے لگے ہم مقابلہ کریں گے، دیکھیں گے کہاں تک جاتا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں، میں حیران ہو گیا۔ یہ نو عمر بچے ہیں۔ بارہ،چودہ،پندرہ،پندرہ سال کے کیا کریں گے؟ ابوجہل ایک شاطر جنگجو،پرانا جرنیل ہے۔ ابو جہل گھوڑے پہ نظر آیا تو میں نے انہیں دکھایا کہ و ہ ابو جہل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ باز کی طرح اس پر جھپٹے اس سے لڑے، ان میں سے ایک شہید ہوگیا۔ لیکن ان دونوں نے اسے مار گرایا۔ 
  عریش بدر وہ مقام ہے، جہاں عارضی سا سایہ بنا دیا گیا تھاوہاں حضور ﷺ نے دعا فرمائی تھی۔ آج اس مقام پر مسجد بنا دی گئی ہے۔ وہاں آپﷺ دعا فرما رہے تھے حتیٰ کہ دوش مبارک سے ایک طرف سے چادر مبارک گر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ خدمت عالی میں حاضر تھے۔ آپ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے اللہ نے آپ کی دعا سن لی ہے،آپ اس قدر الحاح و زاری نہ کریں،اب بس کردیں (الانفال: 9)جب آپ ﷺ اپنے پروردگار سے دعا فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ دعا مومن کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور ہرکام کے لئے دعا کرنی چاہئے لیکن ایک بات یاد رکھیں صرف دعا سے کام نہیں ہوتا۔ دعا کرنے کا طریقہ وہ ہے جو نبی کریم ﷺنے بتا دیا کہ جو تین سو تیرہ خدام میسر تھے انہیں لیا،سواری کے جو اسباب میسر تھے وہ لئے، جتنا اسلحہ میسر تھا وہ لیا، 150 کلومیٹر مدینہ سے چل کر مقام بدر میں تشریف لائے، وہاں اعلیٰ مقام منتخب کیا،پانی کے چشمہ پر قبضہ فرمایا پھر بدر کے دن ان 313 کو صف آرا کیا۔ حضور ﷺ کے دست اقدس میں چھڑی تھی جس سے آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے پوری صف بندی خود حضورﷺ نے کرائی۔سارے اسباب مکمل کر کے عریش بدر میں تشریف لے گئے کہ اللہ کی مدد سے کام ہوگا،دعاسے ہوگا تو دعاکا مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ کام کرنا چھوڑ دے اور بیٹھا دعا کرتا رہے۔ یہی طریقہ حضور ﷺ نے تعلیم فرمایا عریش بدر میں جب آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔اللہ نے فرمایا میں نے قبول کرلی (الانفال 9)فرمایا اب میں آپ کے لیے اورآپ کے خدام کے لیے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں،جو صف در صف ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں،صف در صف۔چار چار،پانچ پانچ کی ٹولیاں بنا کر جس طرح فوجی آگے پیچھے چلتے ہیں اسے فوجی زبان میں (Formation) کہتے ہیں۔بارالہٰا!فرشتے تو تیری وہ مخلوق ہے، ایک ایک فرشتے نے زمین کے تختے الٹ دئیے۔ ایک ایک فرشتے نے قوموں کی قوموں کو تباہ کردیا۔ ایک ایک فرشتے نے پہاڑوں کو اُلٹ دیا تو یہاں ایک ہزار فرشتے کیا کریں گے؟ فرمایا میں جب عذاب بھیجتا ہوں تو ایک فرشتے کوبھی حکم دوں تو وہ ان کے لیے کافی ہے لیکن یہ تو میرا نبی ﷺ دعا مانگ رہا ہے، مانگنے والے کا مقام بھی تو دیکھو،کام ایک فرشتہ بھی کرسکتاہے۔لیکن عظمت نبوت یہ ہے کہ ایک ہزار بھیجے پھر تین ہزار اور بھیجیں گے کہ جوہاتھ مبارک دعا کے لیے اٹھے ہیں ان کی عظمت کے لیے،ان کی شان بتانے کے لئے، ان کا مقام بتانے کے لئے میں نے ایک ہزار فرشتہ بھیج دیا۔ (الانفال:10) اوریہ نزول ملائکہ، آپ کے لئے فرشتوں کا آنا ہی جیت کی ضمانت ہو گئی، فتح کی ضمانت ہو گئی تا کہ ان سے تمہارے دل قرار پکڑیں۔ اصل جو بات ہے ایمان اور اسلام کی، وہ یہ یقین ہے کہ دل اس بات پر جم جائیں، قرار پکڑجائیں۔تمام عبادات خواہ صلوٰۃ ہو یا تسبیح،روزہ،زکوٰۃ ہو یا حج وجہاد یہ سب اوصاف ملکوتی پیدا کرتے ہیں یعنی فرشتوں جیسی اوصاف اورجب کوئی عبادت کرے اورفرشتے اس کے پاس آئیں تو فرشتوں کا پاس آنا،اطمینان قلب اور سکون قلب کا باعث ہے اور ایمان کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ فرمایا فرشتوں کا نزول محض کفار کے قتل کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے سکینہ اور رحمت کے نزول کا سبب بھی ہے اور بے شک اللہ کریم ہی غالب اور حکمت والے ہیں۔
دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ آسمانوں سے پانی اتار دیا،بارش برسادی چونکہ چشمے کا پانی اتنا نہیں تھا کہ سارے لوگ یا کچھ لوگ غسل بھی کرسکیں اور آرام سے وضوکرسکیں۔پانی تھوڑا تھا، پینے کے استعمال کرنے کے لئے تھا۔اللہ کریم نے بارش بھیج دی۔اس سے دو بڑے کام ہوئے ایک تو جو جگہ مشرکین مکہ کے پاس تھی وہ مٹی والی زمین تھی اس میں کیچڑ ہوگیا اور دلدل بن گئی۔ جہاں لشکر اسلام مقیم تھا وہاں چونکہ ریت تھی وہ بارش سے جم گئی اورمزید مضبوط ہو گئی پھروہ نچلی جگہ تھی، ڈھلان تھی پانی سے بھر گئی۔ جنہوں نے غسل کرنا تھا، انہوں نے غسل کیا،جو وضو کرنا چاہتے تھے، انہوں نے وضو کیا۔اپنے حبیب ﷺ کو میدان کارزار میں لے آیایہ وہ خوش نصیب تھے جن کے قلوب سے اللہ کریم نے ذاتی طور پر رابطہ فرمایا اور ان کے قدموں کو جمایا پھر ان کی خاطر فرشتے نازل فرمائے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں میری معیت تمہارے ساتھ ہے، میری طاقت تمہارے ساتھ ہے، مومنین کے قلوب پرایسے انوارت القاء کرو کہ ان کے قدم جم جائیں کبھی نہ اکھڑیں۔رہ گئے مشرکین تو اللہ نے فرمایا میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا، مسلمانوں کی ہیبت ان پر طاری کر دوں گا،وہ جو بڑے فخر اور تکبر ایک ہزار کا لشکر جرار جس میں بڑے بڑے جنگجونوجوان تجربہ کاراور پرانے جرنیل اور سالار شامل تھے ان کا سارا گھمنڈ خاک میں مل جائے گا اور اللہ کریم فرماتے ہیں میں ان کے دلوں پر مسلمانوں کا رعب طاری کردوں گا۔ (الانفال:12)اور فرمایا ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کفار کے سر اس طرح قلم کروکہ تلوار تو گردن پرپڑے، سر کٹ جائے لیکن اس کے جسموں کے پورپور سے،ہر جوڑ سے، ہر ہڈی سے درد کی ٹیسیں نکلیں۔نبی کریم ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے صحابہ کرام ؓ  کو فتح کی خوشخبری بھی دی تھی اور حضور ﷺ نے میدان جنگ میں مختلف جگہوں کی نشاندہی فرماکر مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کے قتل ہونے کی پیش گوئی فرمائی کہ وہ فلاں یہاں قتل ہوگا،فلاں یہاں قتل ہوگا، فلاں اس جگہ قتل ہوگا اور غزوہ بدر کی فتح کے بعد دیکھا گیا کہ جہاں جہاں حضوراکرم ﷺ نے جن لوگوں کے لیے نشاندہی فرمائی تھی، ان کے لاشے وہیں پڑے تھے، اسی جگہ پر قتل ہوئے۔ تو یہ صرف قتل نہ ہوئے بلکہ اس قتل میں عذاب الہٰی کی ایک کیفیت ایسی تھی کہ تلوار تو گردن پرپڑتی تھی، سر اڑ جاتا تھا لیکن درد جسم کے پورپورمیں ہوتا تھا،ہرجگہ،ہرہڈی،ہرریشے میں الگ سے درد کی ٹیسیں اٹھتی تھیں۔
ان کے ساتھ اتنا سخت اور اتنا شدید عذاب کا سلوک کیوں ہوا؟ ان پر اتنا در دناک عذاب کیوں وراد ہوا؟ مشرکین مکہ اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا محاذ تھے اور عرب کے اردگرد کے قبائل اس انتظار میں تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر حضور اکرم ﷺواقعی اللہ کے رسول ہیں تب ہی مکے والوں پر فتح پا سکیں گے، ورنہ مکے والے اتنے مضبوط ہیں کہ اگر معا ذاللہ حضور ﷺ کا دعویٰ سچا نہیں ہے تو پھر یہ اور ان کے ساتھی مکے والوں کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے۔ یہ ایک تصو رتھا،جزیرہ نمائے عرب کے باقی سارے قبائل میں اوروہ اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اگر مکے والے غالب آتے ہیں تو قصہ ختم ہوگیااور اگر حضور ﷺمکے والوں پر غالب آ جاتے ہیں تو پھر اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا، ہمیں بھی اسلام قبول کر لینا چاہیے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ہمیں بھی ایمان لے آنا چاہیے۔ ان قبائل کا اندازہ تو یہ تھا کہ اگر ہم پلہ بھی ہوں تو اگرمکے سے ہزار آدمی نکلا ہے توحضور ﷺ کے ساتھ بھی ہزار آدمی یا بارہ سو یا ان سے زیادہ بھی ہوں تو پھر بھی مکے والے بڑے ماہر جنگجو، بڑے دلیر،بڑے جرأت مند اور فن شمشیر زنی میں بڑے تاک ہیں اور ان کا ہرانا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن اللہ کریم ساری کائنات کودکھلانا چاہتے تھے کہ حق حق ہوتا ہے اور حق غالب آ کے رہتا ہے اور باطل باطل ہوتا ہے، مٹ جانا باطل کا مقدر ہوتا ہے۔

رمضان المبارک اورحصول تقوی

 فرمایا:   ترجمہ: (مومنو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں،جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تا کہ تم پرہیز گار بنو)  البقرہ:183
یہ خطاب خاص مومنین کے لیے ہے۔یہ ان کی روحانی تربیت اور حصولِ رحمت کے لیے ایک خاص اہتمام ہے روزے کی فرضیت محض مشقت نہیں بلکہ ایک خاص مقصد کے حصول کے لیے ایک تربیتی پروگرام ہے اور وہ مقصد ہے حصولِ تقویٰ،تقویٰ ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو اللہ کی نافرمانی سے روک دے اور عملاً اللہ کی عظمت سے آشنائی نصیب ہو یعنی انسان کا ہر عمل اس بات کی گواہی دے کہ اسے اللہ سے تعلق عبدیت حاصل ہے اور وہ اپنی حثیت کے مطابق اللہ کی عظمت سے آشنا ہے گویا روزہ وہ نعمت ہے جس کے نتیجے میں مومن کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے ایک ایسا تعلق نصیب ہو جائے جو ہاتھ کو اُٹھنے اور قدم کو چلنے سے تھام لے اور حدود اللہ سے تجاوز نہ کرنے دے۔
             رمضان المبارک  بہت برکتوں،رحمتوں اور بہت زیادہ بخشش کا مہینہ ہے۔یہ ماہ ِمبارک اپنی برکات اپنے انعامات اور اللہ کی عطا و بخشش کے اعتبارسے تمام مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔جسے اللہ کریم نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اور انسانی فطرت اورمزاج کے مطابق اس کا اہتمام فرمایا ہے کہ ساری کائنات سے کاٹ کر جائز ضروریات سے بھی مقررہ اوقات میں کنارہ کش کرکے اپنے روبرو بٹھا کر شرف ہم کلامی عطا فرمایا۔ اللہ کریم فرماتے ہیں یہی تو وہ مہینہ ہے جس میں مَیں نے تم سے بات کی اور جس کی خوشی میں ہر سال یہ پورا مہینہ تمہیں عطا کر دیا۔جب تم مجھے بھول رہے تھے مجھ سے دور جارہے تھے مجھ سے بچھڑ رہے تھے اور دنیا کی رنگینیوں پر فریفتہ ہو رہے تھے میں نے تمہاری خواہشات کو کاٹ دیا تم پر قدغن لگائی کہ مقررہ اوقات میں ان کو چھوڑ دو اور میرے رو برو ہو جاؤ تمہیں بٹھا کر میں نے اپنا نغمہ چھیڑا اپنے ذاتی کلام سے نوازا،میں نے تم سے باتیں کیں۔ تمہیں پکارا اور اپنا دامانِ شفقت کھول کر رکھ دیا۔رمضان المبارک کی اصل اساس یہ ہے کہ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جسے ایک خاص تقدس ایک خاص اعزازدے کر ایک سر بلندی دے کر اس لیے منتخب فرمایا گیاکہ اس میں اللہ کا کلام نازل ہوا ہر نبی ؑ پر جو کلام الہی نازل ہوا اس کی ابتدا رمضان المبارک ہی میں ہوئی اور قرآن کریم بھی سارے کا سارا علم الہی سے لو حِ محفوظ میں آیا، لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا  پر رمضان المبارک میں منتقل  فرمایا گیا او ر  نزول  وحی کی ابتد ا  اسی ماہِ مبارک میں ہوئی پھر مسلسل نازل ہوتا رہا۔اس مہینے کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ    مشتِ غبارمیں وہ اہلیت پیدا کرتا ہے وہ پاکیزگی پیدا کرتا ہے،وہ طہارت پیدا کرتا ہے،وہ لطافت لے آتا ہے کہ کلامِ الہی کو سننے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیقِ ارزاں ہو جاتی ہے۔جس میں عملاً یہ تربیت  دی جاتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جہاں یہ تقدس نہیں ہو تا وہاں کلامِ الہی سے ہدایت نصیب نہیں ہو تی ہے۔سو رمضان کا مجاہدہ کرنا ہے تراویح پڑھنا ہے،روزہ رکھنا ہے،بھئی مجاہدہ کرنا ہے تو تقویٰ کے حصول کے لیے کرو۔اللہ کو پانے اور اُسے راضی کرنے کے لیے کرو۔اس کے قرب کو پانے کے لیے کرو۔اس کا قرب مل گیا تو جنت آپ کے قدموں میں ہو گی اور اس مقصد ہی سے ہٹ گئے تو اس کا قرب کیسے ملے گا؟
یوں تو رمضان کی ہر رات کا قیام تراویح اور تہجد،ہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے۔دن بھر اللہ کی فرمانبرداری میں جائز امور سے پرہیز بندہ مومن کو ذات باری سے ایک خاص قرب عطاکرتا ہے کہ اللہ تو رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب تر ہے۔لیکن قریب ہونا اور بات ہے اور بندے کو قرب کا احساس ہو یہ اور بات ہے تو روزہ اس احساس کو بیدار کرتا ہے کہ تیر امالک تیر ے پاس ہے یہ احساس ترقی کرتا ہے اور بندہ اپنا محاسبہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔یعنی پہلے عشرے میں رحمتِ خداوندی سے احساسِ زیا ں پیدا ہو اجیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت عامہ کا ہے۔ جس میں رحمت باری کا سیلاب امڈتا ہے  اور رحمت باری ہر لحظہ ہر آن پورے جوبن سے برس رہی ہوتی ہے۔  خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے کاسۂ دل کو سیدھارکھتے ہیں۔ اگر کہیں کمی ہوتی ہے تو ٹیڑھا پن کاسۂ دل میں ہوتا ہے۔باران رحمت میں کمی نہیں ہوتی کہیں ہمارے اعتقاد کی کمزوریاں،کہیں رسومات کی پیروی،کہیں ہمارے کردار کی خامیاں ہمارے کاسۂ دل کو ٹیڑھا کر دیتی ہیں اور اس میں کچھ نہیں پڑتا۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے کاسۂ دل کو سیدھا رکھا اور رحمت باری سے بھر لیا۔دوسرے عشرے تک احساسِ ندامت نے زور پکڑا اور اصلاح احوال،توبہ اور مغفرت کے لیے کوشاں ہواجب اپنا احتساب کرنے کا حوصلہ آیا تو تیسرے عشرے کی طاق راتوں میں اپنے ربِّ کریم کی بے پایاں مغفرت کا طالب ہوا۔راتوں کو قیام کا ذوق عطا ہوا تو اللہ کریم کی طرف سے مزید سہولت عطا ہوئی۔
رمضان المبارک کو اپنے نقوش ثبت کرنے چاہئیں عملاً اور شکلاً جو روزہ ہے کہ کھانے پینے سے رک گئے یا اور امور سے رک گئے یہ پابندی تو ختم ہو گئی۔رمضان المبارک کا مہینہ تو گزر گیا لیکن ہر خطا سے رکنے کی پابندی کو اگر طبیعت میں جگہ دے گیا تو رمضان گیا نہیں رمضان موجود ہے۔اگر جھوٹ بولنے سے ڈرلگتا ہے تو رمضان موجود ہے،اس کی برکات موجود ہیں۔اگر حرام کھانے سے ڈر لگتا ہے تو رمضان موجود ہے،اس کی برکات موجود ہیں۔اطاعت الہی کی رغبت باقی ہے تو رمضان باقی ہے اسکی برکات باقی ہیں۔اور اگر یہ چیزیں نصیب نہیں ہوئیں تو پھر واقع رمضان گزر گیا اور یا د رکھیں گزرے ہوئے لمحات لوٹا نہیں کرتے۔ ا ساتھ اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنی خطاؤں کی بخشش چاہتے ہوئے اپنے گناہوں اور لغزشوں کو پیش نظر رکھ کر اللہ سے بخشش طلب کی اور ماہ رمضان المبارک کا روزہ رکھا تو ایک روزہ زندگی بھر کی خطاؤ ں کی بخشش کے لیے کافی ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا ایمان بڑا مضبوط ہے یا د رکھیے جو ایمان اللہ کی نافرمانی کرنے سے روکنے کا کام نہیں کرتا وہ مضبوط نہیں کمزور ہے۔جو ایمان حرام کھانے کو برداشت کر لیتا ہے اور حلال پہ اصرار نہیں کرتا  جو ایمان فرائض کی پابندی سے محروم انسان کے ساتھ گزارا کرتا ہے وہ کمزور ہے۔ آج ہمارے ایمان میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو رسومات ہم نے خود ایجاد کیں انہیں ہم اپنے لیے باعث عزت سمجھ کر پوری پابندی سے ان پر یمل کرتے ہیں وہ شادی کی ہوں،جنازے کی ہوں مرنے والے کی ہوں پیدا ہونے والے کی۔ہر رسم کو ہم فرض عین سے زیادہ اہمیت دے کر نبھاتے ہیں۔اس لیے کہ اس میں ہم اپنی اور اپنے ذاتی وقار کو داؤ پر نہیں لگا سکتے۔جب اطاعت الہی کی بات آتی ہے تو ہم نرم پڑ جاتے ہیں۔طبیعت خراب ہو تو نماز چھوٹ جاتی ہے۔مہمان آجائیں تو ذکر الہی رہ جاتا ہے۔حلال و حرام کی تمیز بہت کم رہ جاتی ہے۔یہ کمزور ایمان ہے۔
 رمضان کے روزے تم پر فرض کیے جانے کی غرض و غایت ہی یہی ہے کہ تمہیں صفتِ تقویٰ عطاہو جائے یعنی تمہاری روحیں،تمہارے اندر کا انسان بہار آشنا ہو سکے،پھل پھول سکے اپنی خوشبو دے سکے اور اپنے کمال کو پا سکے۔یہ مہینہ صرف روزوں کا نہیں حقیقی تبدیلی کا مہینہ ہے۔یہ ایک بھٹی ہے جس طرح سونے کو بھٹی میں ڈالا جائے تو اس کا کھوٹ نکل جاتا ہے۔اس طرح رمضان کے تیس دن ایک بھٹی ہے۔اس میں سے مومن کندن بن کر نکلتاہے۔ اللہ کریم اس پر استقامت دے اور آئندہ نیکی پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائیں تو بندہ روزے کے مقصد کو پا گیا۔اللہ کریم تم سے بیگار نہیں لینا چاہتے،تم پر بوجھ نہیں لادنا چاہتے،بلکہ تمہیں وہ طرزِ عمل بتا رہے ہیں جس میں تمہیں اللہ سے ایک خالص تعلق پیداہو جائے گا،تم اللہ سے محبت کرنے لگو،اللہ کو چاہنے لگواور اس حد تک اللہ کے طالب بن جاؤ کہ تمہیں اللہ کی نافرمانی کا تصور بھی نہ آئے۔انسان کو مجبور کرنے یا اس پر مصیبت ڈالنے یا اس پر بوجھ ڈالنے کے لیے نہیں بلکہ یہ تونری آسانیاں ہیں۔آپ معاشر ے میں اور زندگی میں دوسرے طریقوں کو بھی آزما کر دیکھ لیں اور اسی طرح کام کو شرعی طریقے سے بھی کرکے دیکھ لیں تو شرعی طریقے سے کام کرنا غیر شرعی طریقے کی نسبت آسان ہو گا۔اس میں آسانی بھی ہے،اس میں اللہ کی رحمت بھی ہے اور اس یں اللہ کی یا قدم قدم پہ وابستہ ہے ایک ایک دم کے ساتھ وابستہ ہے۔آپ جو کام کر رہے ہیں وہ جب اللہ کے حکم کے مطابق کر رہے ہیں،نبی کریمﷺ کی سنت کے مطابق کر رہے ہیں تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی یا د بھی اس میں دم دم کے ساتھ وابستہ ہے اور یہی مقصدِ حیات ہے۔یہ سعادت ہے کہ تمہیں اللہ کریم سے اتنا تعلق پیدا ہو جائے،اتنی محبت پیدا ہو جائے،جنوں کی حد تک عشق پیدا ہو جائے کہ تم متقی بن جاؤ یعنی اللہ کی نافرمانی برداشت نہ کر سکو۔

معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم

 
 پندرہواں پارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا ء میں نبی کریم ﷺ کے سفرِ معراج کا ذکر خیر ہے۔ لہٰذا یہ سورۃُ الاَسراء بھی کہلاتی ہے۔سورۃ کے آغاز میں فرمایا:  ”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات میں مسجد ِحرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیر کرائی۔وہ مسجد اقصیٰ جس کے ارد گرد اللہ نے بہت برکت رکھی ہے تاکہ انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔بے شک اللہ دیکھنے، سننے والے ہیں“۔ (بنی اسرآءِ یل:1) واقعہء معراج ہجرت سے تین سال قبل یعنی نبوت کے دسویں سال پیش آیا۔نبی کریم ﷺ رات کو آرام فرما رہے تھے کہ جبرائیل اٰمین تشریف لائے، جنت کی سواری بُرّ اق بھی ساتھ لائے۔ انہوں نے آپ  ﷺ کو جگایا۔آپﷺ اُن کے ہمراہ بُرّاق پر جلوہ افروز ہو کر بیت المقدس تشریف لے گئے۔اس سفر کو اَسراء اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ راتوں رات کیاجانے والا سفر تھا اور رات کے سفر کو اسراء کہتے ہیں۔بعض لوگوں کی رائے میں معراج ایک روحانی سفر تھا اور روح اقدسﷺ نے تمام حالات کو مشاہدہ کیا۔ اس زمانے میں شب بھر میں مکہ مکرمہ سے بیت المقدس پہنچنا اور واپس پلٹ آنا۔انوکھی بات تھی بلکہ ناممکنا ت میں سے تھا کہ یہ مہینوں کا سفر تھا۔ لیکن یہ اللہ کریم کی قدرت کاملہ کا اظہار تھا۔جو لوگ اس کو روحانی سفر کہتے ہیں انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ اللہ کریم نے اس آیہ ء مبارکہ میں نبی کریم ﷺ کے لئے  ”بعبدہ“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہے ”بندہ“  اور بندہ نہ تو صرف روح کو کہتے ہیں، نہ ہی صرف بدن کو بلکہ روح مع الجسد کو  ”بندہ“ کہتے ہیں۔
 فرمایا جن بلندیوں تک چاہا۔ حضور ﷺ کو لے گیانہ حضور ﷺ کو کوئی دھوکہ لگا نہ غلط فہمی ہوئی۔ہر چیز جیسے تھی آپ نے ویسے دیکھی، ویسے سمجھی  انتہائی قرب جو مخلوق کو خالق سے نصیب ہو سکتا ہے وہ آپ ﷺ کو نصیب ہوا۔ اللہ کا ذاتی کلام قلب اطہر پر وارد ہوا۔ آپﷺ نے فرشتے بھی دیکھے، آسمان بھی دیکھے، لوح محفوظ بھی دیکھے، جنت و دوزخ کا بھی ملاحظہ فرمایا۔ برزخ اور برزخ کے واقعات بھی دیکھے،جلالت باری تعالیٰ کوبھی دیکھی اور معراج کے بعد آ کر بیان فرمائے۔ جہاں تک حضور ﷺ پہنچے وہاں تک مخلوق میں سے دوسرا کوئی پہنچ ہی نہیں سکتا۔ جتنا ممکن تھا ذات باری کے قریب ہونا، اتنا حضور ﷺقریب گئے۔ کوئی فاصلہ رہ نہ گیااور یہ سب کچھ حضور ﷺ کے قلب اطہر نے قبول کیا۔جو کچھ حضور ﷺ نے ظاہری آنکھ سے دیکھا۔ اس پر بھی تم اعتراض کرتے ہو؟ جس کا آپ ﷺ نے مشاہدہ فرمایا۔  اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی     )النجم:12) اس پر تمہیں اعتراض ہے۔ جھگڑا کرتے ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں میں بھی، چشم دید چیز ہے۔اللہ گواہ ہے کہ حضور ﷺ نے جو دیکھا  حق دیکھا۔جو سمجھا، حق سمجھا۔تم کہتے ہو۔ نہیں، آپ ایسے ہی کہہ رہے ہیں،ایسا نہیں ہو سکتا۔بھئی تم جاہل ہو۔ دیکھی ہوئی چیزوں پر اعتراض کرتے ہو۔
اُس زمانے میں کفار اعتراض کرتے تھے۔ آج ہم کس دور میں آ گئے ہیں کہ جو بندہ مسلمان ہونے کا دعوے دار ہے۔ اسے بھی معراج پر اعتراض ہے؟ ہمارے مسلمان دانشور اور قومی راہنما قسم کے لوگ بھی کہتے ہیں جی یہ ایک خواب تھا جو حضور ﷺ نے دیکھا۔جسم اطہر تو وہیں تھا۔ جسمانی طور پر حضور ﷺ تشریف نہیں لے گئے۔ خواب تو ہر بندہ دیکھ سکتا ہے۔ اگر حضور ﷺ اہل مکہ کو کہتے میں نے یہ خواب دیکھا ہے تو انہیں کیا اعتراض ہو سکتاتھا؟ اعتراض تو اس بات پر تھا کہ آپ جسم اطہرﷺ سمیت کیسے بیت المقدس گئے؟ ہمیں مہینے لگتے ہیں۔بڑا اچھا تیز رفتار،صحت مند، اونٹ ہو۔ بھگا بھگا کرلے جائیں تو مہینوں کے حساب کاسفر ہے اور آپ بیت المقدس گئے بھی اور واپس بھی آگئے اور پھر وہی رات کا لمحہ،کوئی وقت نہیں لگا۔یہ تو مشرکین کو بھی علم تھا کہ حضور ﷺ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ میں جسم اطہرﷺ سمیت بیت المقدس گیا  وجود اطہرﷺ سمیت آسمانوں پر گیا۔عرش اولیٰ پر گیا۔ برزخ دیکھا، جنت کو دیکھا،دوزخ کا ملاحظہ فرمایا۔لوگ کہتے تھے یہ آسمانوں کی بات توہماری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن ہم زمینی فاصلے تو سمجھ سکتے ہیں پھر انہوں نے سوال بھی کیا کہ اگر آپ ﷺبیت المقدس گئے ہیں تو ہم بھی بارہا وہاں گئے ہیں۔ ہم نے وہ مسجد دیکھی ہے۔ اس کی کھڑکیاں،اس کے دروازے،اس کی دیواریں،اس کے ستون، ہم نے گنے ہوئے ہیں۔ آپ بتائیں اس کی کھڑکیاں کتنی تھیں؟ آپ یہ ارشاد فرمائیے اس میں دروازے کتنے تھے؟ کس سمت تھے؟ستون کتنے ہیں؟ دیواریں کتنی ہیں؟ چھت کس قسم کی ہے؟ فرش کیسا ہے؟ 
 حضور ﷺ معراج پر تشریف لے گئے۔ ایک پتھر جو انبیاء سے پہلے بھی منسوب تھا اور اس پتھر پر بعض انبیاء کو ذبح کیا گیا، شہید کیا گیا۔ خون کاداغ اب تک باقی ہے۔اس پتھر میں ایک سوراخ ہے۔ جس کے ساتھ حضورﷺ نے بُرّاق باندھا پھر مسجد میں تشریف لے گئے۔تمام انبیاء روح مع الجسد وہاں تشریف لائے۔یہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے کہ صرف انبیاء  ؑکی روحیں آ گئیں۔نہیں،سارے انبیاء  ؑوجود عالی اورروح سمیت جس طرح دنیا میں زندہ انسان ہوتا ہے، اس طرح وہاں تشریف لائے۔آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور آسمانوں کو روانہ ہو گئے۔ حضورﷺ کھڑکیاں، دروازے اور روشن دان تو نہیں گنتے رہے۔ لیکن مشرکین نے کہاکہ اگر آپ وہاں گئے ہیں تو آپ کوعلم ہوگا تو حضور ﷺ کا ارشاد حدیث شریف میں ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے کردی۔ کفار پوچھتے جاتے،میں بیت المقدس دیکھ دیکھ کر بتا دیتا۔کھڑکیاں کتنی ہیں؟ میں گن کر بتا دیتا۔اتنی ہیں،ستون کتنے ہیں؟ میں بتا دیتا۔ اتنے ہیں، پھر انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر آپ بیت المقدس گئے ہیں تو ہمارا ایک تجارتی قافلہ جو بیت المقدس گیا ہواتھا۔وہ راستے میں کہاں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا۔ میں نے دیکھا ہے۔فلاں جگہ پر تھے۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا۔ اس کا یہ رنگ تھا۔ اسے تلاش کر رہے تھے۔پھر وہ انہیں مل بھی گیا اورتین یا چار دنوں بعد فلاں وقت وہ قافلہ یہاں پہنچ جائے گا۔ کفار یہ بھی انتظار کرتے رہے اور عین اس وقت تک قافلہ پہنچ بھی گیا۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ واقعی ہم اس منزل پر تھے اور ہماراایک اونٹ گم ہوگیا تھا۔ ہم سارا قافلہ روک کر اونٹ تلاش کررہے تھے۔ یہ سارے دلائل سننے کے بعد پھر انہوں نے کہہ دیاکہ ہم نہیں مانتے ہیں۔ یہ کوئی جادو ہے۔
 حضور ﷺ نے جبرائیل امین کو ان کے اصل وجود میں دوسری بار دیکھا  وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَۃً اُخْرٰی ) النجم:(13 پہلی مرتبہ افق پر دیکھا تھا۔جب حضرت جبرائیل امین نے زمین و آسمان کو بھر دیا تھا۔ دوبارہ پھراس اصلی وجود میں حضور ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ کہاں ہوئی؟  عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی)النجم: (14اس بیری کے درخت کے پاس جو آسمانوں اور عرش اولیٰ کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ جو انتہا پر ہے۔ جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہاں ایک بیری ہے۔جہاں آسمانوں کی حد ختم ہوجاتی ہے اور آگے عرش الہٰی کے معاملات شروع ہوجاتے ہیں۔اس بیری کاایک ایک پتہ اتنا بڑا ہے کہ ہر پتے پر کسی نہ کسی فرشتے کا دفتر لگا ہوا ہے۔ وہ اس لئے بھی اہم ہے کہ احکام الہٰی عالم بالا سے، اس بیری پر، ان دفاتر میں نازل ہوتے ہیں اوروہاں سے فرشتوں کو تقسیم ہوتے ہیں۔ نظام عالم اس طرح چلایاجاتاہے سارے اعمال جو زمین سے جاتے ہیں۔اسی سدرۃ المنتہیٰ پر جو بیری ہے۔ وہاں پہنچتے ہیں اورفرشتے وہاں سے وصول کرکے بارگاہ الہٰی میں پیش کرتے ہیں۔ فرمایا جب حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو وہ بھی اتنی وسیع جگہ ہے کہ زمین و آسمان کی خلاء سے بڑی ہے۔وہاں بھی جبرائیل امین کو ان کی اصلی حالت میں حضور ﷺ نے ملاحظہ فرمایا۔جب حضور ﷺ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے تو تجلیات ذاتی مترشح ہوئیں۔یہ آپﷺ کا مقام  ”عبدیت“  تھاکہ وہاں حضور ﷺ کا استقبال فرمایا گیا۔ اللہ تو ہر جگہ، ہر وقت موجود ہے۔ لیکن قرب الہٰی کے مدارج ہیں۔ جب کوئی بہت پیارا مہمان آتا ہے تو صاحب خانہ بادشاہ بھی ہو تو کم از کم دروازے پر آکر اس کا استقبال کرتا ہے تو فرمایا جب آپ ﷺعالم افلاک کی انتہا پر پہنچے   اِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشٰی)النجم(16: تو تجلیات ذاتِ باری نے، جمال باری نے سدرۃالمنتہیٰ کو ڈھانپ لیا۔گویا حضور ﷺ کا اللہ کریم استقبال فرما رہے ہیں۔آپﷺ تشریف لے آئے۔ مہمان کو میزبان خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ اس کی کیفیات،اللہ جانے، اللہ کا رسولﷺ جانے۔ ہماری سمجھ سے باہر، قوت گویائی سے بالاتر، الفاظ سے بہت بڑ ی ہیں، نہ کوئی سمجھ سکتا ہے، نہ کوئی جان سکتا ہے۔ جس نے دیکھا، وہ جانے۔ جس نے دکھایا، وہ جانے۔ اپنے پروردگار کے حضورﷺ نے بڑے عجائبات دیکھے  لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی) النجم (18: آپ ﷺ نے جو ارشاد فرما دیے۔ وہ تو چند باتیں تھیں۔جو ہماری سمجھ میں بھی آ گئیں۔ نمازیں فرض ہو گئیں، ہماری سمجھ میں آ گئیں۔ اب نمازیں کیسے فرض ہوئیں؟کلام میں لذت ِکلام کیا تھی؟  حضورﷺ جب اللہ سے کلام فرما رہے تھے نظر کیا آرہا تھا؟ تجلیات نظر آ رہی تھیں، یا ذات باری نظر آ رہی تھی؟ کلام کیسے ہورہا تھا؟  فرمایایہ تمہارے سمجھنے کی باتیں نہیں ہیں۔ تمہارے سمجھنے کی یہ بات ہے کہ وہاں پانچ نمازوں کا تحفہ ملا۔ اللہ نے فرمایا آپ ﷺکی امت پر پچاس نمازیں رات دن میں فرض ہیں۔ قبول کر کے آپ ﷺ نے واپسی کا ارادہ کیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عرض کی یار سول اللہ ﷺ واپس جائیے،اللہ کریم سے عرض کیجئے کہ کچھ کم کر دیں۔ میری امت پر دو نمازیں فرض تھیں، وہ پڑھنی انہیں مشکل ہو گئی تھیں۔لوگ چھوڑ گئے تھے۔ آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ دس کم ہو گئیں،چالیس رہ گئیں۔واپسی پرحضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی۔ حضورﷺ واپس جائیے پھر گئے، تیس رہ گئیں۔پھر گئے،بیس رہ گئیں۔ پھر گئے، دس رہ گئیں۔ پھر گئے، پانچ رہ گئیں۔ جب پانچ رہ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنی امت سے کہوروزانہ پانچ نمازیں پڑھے،میں انہیں پچاس کا درجہ دوں گا۔ جو نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ ثواب ان کاملے گا۔ جو رعایت کرکے پانچ کردی گئی ہیں۔یعنی پڑھیں پانچ، درجات پچاس کے دوں گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر عرض کی یا رسول ا للہ ﷺواپس جائیے پانچ نمازیں زیادہ ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا اب مجھے شرم آتی ہے۔ مجھے فرمایا گیا ہے کہ میں پانچ نمازوں کا اجر پچاس کے برابردوں گا۔اب مجھے اللہ تعا لیٰ سے حیا آتی ہے۔ میں واپس نہیں جاتا۔  
معراج میں کیا نبی کریم ﷺ کو دیدارِ باری نصیب ہوا؟ اس میں علماء کی دو رائے ہیں۔ایک طبقہء علماء اس با ت کا قائل ہے کہ دنیوی زندگی میں اللہ کریم کی زیارت ممکن نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا۔اے اللہ مجھے اپنا جمال دکھائیے۔ میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ارشاد ہوا   قَالَ رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ (الاعراف 143) کہ آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ دنیا کی مادی آنکھوں میں وہ طاقت نہیں ہے کہ جمال باری کو دیکھ سکیں۔ البتہ آخرت میں، میدان حشر میں، حساب کتاب کے وقت بھی، اللہ کے مقرب بندوں کو اللہ کا دیدار نصیب ہو گا۔ ایک حدیث شریف میں یہ روایت ملتی ہے کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کیا ہم اللہ کو سامنے دیکھیں گے؟ حضور ﷺ کے ارشاد کا مفہوم ہے فرمایا،  ”جس طرح چاند کو دیکھتے ہو اسی طرح جنت میں ہر جنتی کو اپنی حیثیت اور درجے کے مطابق دیدارِ باری نصیب ہو گا“  تو علماء کا یہ طبقہ اس رائے کا قائل ہے کہ اس دنیا میں دیدارِ باری نا ممکن ہے۔
دوسرا طبقہ ء علماء جو دیدارِ باری ہونے کا قائل ہے،وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اُس وقت اِس دارِ دنیا میں،اس زمین پر نہیں تھے۔ آپ ﷺ بالائے آسمان اور قرب الہٰی کی اُن منا زل میں تشریف لے گئے جو عرشِ عظیم سے بھی بالاتر ہیں۔وہ عالمِ بالا ہے اوروہاں دیدارِ باری ہونا محال نہیں ہے۔ لہٰذا وہاں دنیا کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ معراج کے بارے بات کا آغاز  ”سبحٰن الذی“(بنی اسرآءِ یل:1) سے کیا گیا کہ اللہ کریم پاک ہے جو چاہے کر سکتا ہے، اس کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں وہ ہر چیز پر قادر ہے اس نے اپنے حبیب ﷺ کو سفر کرایا، انہیں بالائے عرش لے گیا وہ قادر ہے اس نے آخرت کا مشاہدہ کرایا،یہ اس کی قدرت ہے جو چاہے کر سکتا ہے فرمایا، ”اور یہ بھی یاد رکھو کہ تمہاری ہر حرکت،ہر سکون،ہرنظریے،ہر عقیدے،ہرخیال،ہر ارادے کو اللہ کریم دیکھ رہے ہیں اور ہر بات کو اللہ کریم سن رہے ہیں“۔
 
 
 
       
 

اسلام میں عورت کا مقام

ارشاد باری تعالیٰ ہے  وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی (الیل:3) اور اس بات کی قسم جس نے مذکر اور مونث پیدا فرمائے۔بڑی عجیب قدرت باری ہے کہ اس نے تمام مخلوق میں نر اور مادہ پیدا فرما دیے۔ پرندوں، کیڑوں مکوڑوں اور انسانوں میں حتیٰ کہ درختوں تک میں نراور مادہ درخت ہیں۔بیٹا پیدا ہوتا ہے۔وہی اس کی والدہ ہے،وہی اس کا والد ہے، وہی چھت ہے،وہی گھر ہے، وہی کمرے ہیں، وہی غذا ہے، وہی لباس ہے۔ بیٹی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بھی وہی والدین ہیں، وہی ماں ہے، وہی باپ ہے۔ لیکن بیٹے کا کردار اپنا ہے۔ بیٹی کا کردار اپنا ہے۔ بیٹے کی جسمانی ساخت اپنی ہے، بیٹی کی اپنی ہے۔ بیٹے کا قد کاٹھ اپنا ہے، بیٹی کا اپنا ہے۔ بیٹے کا لباس اپنا ہے، بیٹی کا اپنا ہے۔ استعداد کار کام کرنے کی۔ طاقت مرد میں اور ہے،خاتون میں اور ہے۔ کام کرنے کا فطری رحجان مرد کا اپنا ہے، خاتون کا اپنا ہے۔ ذمہ داریاں مردکی اپنی ہیں، خاتون کی اپنی ہیں۔ اجر دونوں کو اس ایک احکم الحاکمین نے دینا ہے۔ لیکن ایک جیسے کام پر نہیں دینا اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنے پر دینا ہے۔ مثلاً باپ کے ذمے ہے کہ وہ حلال رزق جائز وسائل سے پیدا کرکے اولاد کو پالے۔ ماں کے ذمے ہے کہ جو رزق باپ لاتا ہے اس کی حفا ظت کرے،اسے ضائع نہ کرے اور بچوں کو پیار سے پالے اور اچھی تربیت کرے۔اب کام دونوں کے مختلف ہیں۔ایک کا کام لانا ہے اوردوسرے کا کام خرچ کرنا ہے۔ اجر دونوں کو ملے گا۔اپنی اپنی ذمہ داری کس خلوص سے کس حد تک پوری کی؟ جیسے آپ کے پاس ملازمین ہیں یا فوج ہے تو فوج میں ایک افسر ہے اور دوسرا سپاہی۔ایک سپاہی کی اپنی ذمہ داری ہے، افسر کی اپنی ذمہ داری ہے۔ سپاہی کو اگر انعام ملے گا تو اس کی اپنی جو ذمہ داری ہے اسے اچھی طرح ادا کرنے پر ملے گا۔ افسر کو انعام ملے گا جو اس کی اپنی ذمہ داری ہے وہ پوری کرنے پر ملے گا۔ایسا نہیں ہوتا کہ سپاہی نے افسر کا کام کیاتو اسے انعام ملا۔ یا افسر نے سپاہی کی ڈیوٹی دی تواسے انعام ملا۔ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح مرد وعورت اجر میں برابر ہیں۔ مالک دونوں کا ایک ہے لیکن یہ تخلیق انسانی بتا رہی ہے کہ ہر شخص کے ہر کام کے نتائج اپنے ہیں۔ اگر کوئی خاتون ہے تو وہ خواتین کے ہی کام بخوبی ادا کرسکتی ہے 
 آج کل تہذیب جدید کا ایک مسئلہ چل نکلا ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں۔ جب چھٹی صدی عیسوی کے آخر اور ساتویں صدی کی ابتداء میں طلوع اسلام ہوا اور آقائے نامدار ﷺمبعوث ہوئے تو اس وقت اس فقرے کے علمبردارکہاں تھے؟ آپ جانتے ہیں؟یہ عورت کوانسان ہی نہیں سمجھتے تھے۔ ہندوستان میں خاوند مر جاتا تو زندہ عورت کو اس کے ساتھ جلا دیا جاتا۔یعنی عورت کی قیمت یہ تھی کہ اگر کوئی عورت بیوہ رہ جاتی،اگرخاوند کے ساتھ جلتی نہیں تھی اوردوسری شادی تووہ کر ہی نہیں سکتی تھی لیکن اس کی زندگی موت سے بد تر ہو جاتی تھی۔ اس سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ اسے کوئی کھانا دینا پسند نہیں کرتاتھا۔ کپڑے اچھے نہیں پہن سکتی تھی۔میں افریقہ کے ایک سیاح کی ڈائری پڑھ رہا تھا اس نے لکھا میں ایک جگہ پہنچاتو ایک بوڑھیا گوشت پکا رہی تھی۔ اس نے مجھے دیا کہ یہ بہت مزے دار گوشت ہے یہ بوٹی سب سے لذیذ ہے تو میں نے پوچھا کہ یہ کس چیز کا گوشت ہے جو بڑا شوق سے پکا رہی ہو؟ تو کہنے لگی کہ ہمارا قبیلے کی ایک عورت تھی، جوان۔ اس کی چار، پانچ سال شادی رہی۔ اس کے ہاں اولاد نہیں تھی تو میاں نے گھر سے نکال دیا۔ شادی کے بعد والدین تو گھر میں آنے نہیں دیتے تو وہ جنگل میں چلی گی۔میرے بیٹے اس کا شکار کر کے لائے تھے۔یہ اس کا گوشت ہے اور یہ جو بوٹی میں تمہیں دے رہی ہوں یہ بازو کی مچھلی کی بوٹی ہے۔ یہ بڑی لذیذ ہوتی ہے۔ چائینہ میں اب تک وہ تصاویر تاریخ کا حصہ ہیں کہ جب بچی پیدا ہوتی تو اسے لوہے کا جوتا پہنا دیا جاتاتا کہ یہ بڑی ہو کر چلنے پھرنے کے قابل ہی نہ رہے۔بڑی ہو جائے لیکن پاؤں اتنے ہی رہیں اور یہ آزادی سے چل پھر نہ سکے، کہیں آ جا نہ سکے۔ ہماری محتاج اور غلام ہی رہے۔ وسط ایشائی ریاستوں میں جو جب چاہتا،جسے چاہتا، چھین لیتا،پکڑ کر لے جاتا۔ یہ جو حقوق کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ان کی تاریخ اس بات سے بھری پڑی ہے کہ بات بات پر عورتوں کوزندہ جلایا کرتے تھے اور کہتے تھے یہ witch ہے،جادوگرنی ہے۔ اسے جلادو۔ ایک کھمبا سا گاڑھ کر عورتوں کو اس کے ساتھ باندھ دیتے اور اس کے نیچے لکڑیاں رکھ کر آگ جلا کر تماشا دیکھا کرتے۔ یہ کہاں سے آ گئے،حقوق کے علمبردار؟ عورت کو انہوں نے کیسے برابر کردیا؟ 
یہ بڑا عجیب دھوکہ ہے کہ جو خاتون کی ذمہ داریاں تھیں وہ تو فطری تھیں۔ اسے تو کوئی بدل نہیں سکتا۔عورت تو وہ ہے۔ اس کا جسم عورتوں والا ہے۔ اس کا مزاج عورتوں والا ہے۔ اس کی قوت عورتوں والی ہے۔ بچے اسی نے پیدا کرنے ہیں۔ اب برابری کیا ہے؟ مرد کی ذمہ داریاں بھی اس پر ڈال دیں کہ تم بازار میں نکلو۔ تم روزی کماؤ۔ تم مشقت کرو۔کیا ہوا؟یعنی عورت کے کام تو تم نے ہی کرنے ہیں۔ تم مرد کے کام بھی کرو۔ برابر ہو گئی کون سی برابری ہے؟ برابرکرو نا۔ ایک بچہ خاتون کے پیٹ سے پیدا ہو،دوسرا مرد کے پیٹ سے پیدا ہو،اگلا پھر خاتون سے پیدا ہوگا، اگلا مرد سے۔ برابری، برابری ہونی چاہیے۔ جو چیزیں فطری ہیں، تخلیقی ہیں۔ان میں برابری کا مفہوم اسلام میں یہ ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے ہے پوری دیانت داری سے وہ کام اس سے لیا جائے۔ دونوں سے برابر سلوک کیا جائے۔جو جس کا کام نہیں ہے اس کا بوجھ اس پر نہ ڈالا جائے۔ جو جس کا حق بنتا ہے بلاتکلف اسے پہنچایا جائے۔ اس کے حصول میں دونوں برابر ہیں۔ ایک سپاہی اور ایک جرنیل برابر ہیں۔ سپاہی کو سپاہی کی تنخواہ بلا تکلف مل جائے۔ جرنیل کو جرنیل کی تنخواہ بلاتکلف مل جائے۔یہ برابری نہیں ہو سکتی کہ جرنیل اور سپاہی کی تنخواہ ایک برابر کردی جائے۔ کوئی کرسکتا ہے ہمارے معاشرے میں؟ورنہ توآپ ہاتھ کی ان دو انگلیوں کو برابر نہیں کرسکتے۔کیا کریں گے؟اس انگلی کو کاٹ دیں گے، انگلی برابر ہو جائے۔ دو آنکھوں کی نظر برابر نہیں ہوتی، فرق ہوتا ہے۔ دو کانوں کی سماعت برابر نہیں ہوتی، سر کے سارے بال برابر نہیں ہوتے، دو ہاتھوں کی قوت برابر نہیں ہوتی، دائیں کی اور ہے بائیں کی اور ہے۔ آپ کس طرح برابری کریں گے؟ دائیں ہاتھ سے وہ کام لیا جائے جو دائیں ہاتھ کاہے۔بائیں ہاتھ سے وہ کام لیا جائے جو بائیں ہاتھ کا ہے۔ یہ برابری ہے۔اس برابری کو صرف نام برابری کا دے کر نظام قدر ت کو Disturb  کرنا اس میں مدخل ہونا۔اس کو برباد کرنا۔یہ عورت کو کچھ دینا نہیں اسے تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ دھوکہ ہے۔ فراڈ ہے اور خاتون کو رسوا کردیا گیا۔کیا عزت بچی خاتون کی؟ آپ مغرب کواور غیر مسلم اقوام کوتو چھوڑیں۔ میں اپنے ملک کے اخبارات روزانہ دیکھتا ہوں۔ میں سر ورق اٹھاتا ہوں یا ویکلی(weekly) ایڈیشن دیکھتاہوں۔ میرا تاثر یہ ہے، ہو سکتا ہے میں غلط ہوں۔ میری رائے خراب ہو۔ میرا تاثر یہ ہے کہ خواتین کی تصاویر اس طرح لگی ہوتی ہیں۔گویا یہ قوم بیبیوں کو نیلام کرنا چاہتی ہے۔ کوئی شرم نہیں ہے،کوئی حیا نہیں ہے،کوئی اللہ کا خوف نہیں ہے، کوئی آخرت کی فکر نہیں ہے۔ عورت کا معنی ہے، پوشیدہ چیز، چھپائی گئی چیز، پردے میں رکھی گئی چیز،جو فرد اخباروں کی زینت بن گیا،وہ عورت کیسے رہا؟ انہی اخباروں میں اگلے روز پکوڑے بک رہے ہوتے ہیں،انہی میں اگلے لوگ روز جوتے لپیٹ کر لوگ لے جا رہے ہوتے ہیں  عورت کو انسانیت کا درجہ اسلام نے دیا۔ اسلام دین فطرت ہے اورجو استعداد اللہ نے کسی میں پیدا کی ہے۔اس کے مطابق ذمہ داری نبھانے کااللہ حکم دیتا ہے۔ مَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی کہ قدرت اس بات پر گواہ ہے کہ جسے مرد بنایا ہے۔ اس سے وہی کام ہوں گے۔جو مرد کی ذمہ داری فطرت نے رکھی ہے۔  وَالْاُنْثٰٓی جسے مادہ بنادیا ہے۔ ماں ایک ہے، باپ ایک ہے، ایک پیٹ سے پیدا ہوئے،ایک گھر میں پلے بڑھے۔لیکن خاتون کی ذمہ داریاں اپنی ہیں، مرد کی ذمہ داریاں اپنی ہیں۔ اس کا قد کاٹھ اپنا ہے،عورت کا اپنا ہے۔مرد کی جسمانی قوت اپنی ہے، خاتون کی اپنی ہے۔ مرد کی ذہنی قوت اپنی ہے، عورت کی اپنی ہے۔ ہر چیز مزاج تک اپنے اپنے ہیں۔اسلام نے خاتون کو مرد کے برابر کے حقوق دیے ہیں۔ عورت اورمرد برابر ہیں یعنی برابر اس بات میں ہیں کہ مرد اپنی ذمہ داری پوری کرے،عورت اپنی ذمہ داری پوری کرے،اس میں برابر ہیں۔ مرد سے وہ کام لیا جائے جو مردوں کے ذمے ہے۔خاتون کو وہ ذمہ داری دی جائے جو خواتین کے ذمے ہے۔ دونوں برابر ہیں۔ مرد کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ عورت کے ساتھ وہ عزت واحترام کا سلوک کیا جائے جس کی وہ مستحق ہے۔ برابری کا یہ مطلب ہے کہ دونوں سے جو ان کی ذمہ داری قدرت نے لگائی ہے۔ وہ کام پوری دیانت داری سے لیا جائے اور جو ان کا حق بنتا ہے وہ برابر، برابر دونوں کو بغیر کسی تکلف کے دیا جائے۔ یہ برابری ہے۔ 


ویلنٹائن ڈے

بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے عشق کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جنس مخالف ہو جنس مخالف ہماری ضرورت ہے ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق؟عشق ایک کیفیت کانام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے اس کے جواب میں جوآپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے اور سوائے اللہ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو نما کررہا ہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یانا جانیں وہ چلا رہا ہے پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اللہ سے آشنا کردیااگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ، اپنی فکر سے اللہ تک نہیں پہنچ سکتے تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ﷺ سے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کردی اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اللہ کی بارگاہ میں سرخرو۔انسانوں کااتنا زیادہ بھلا چاہنے والاکون ہے؟ لوگوں نے پتھر برسائے،تلواریں چلائیں، جنگیں کیں، مخالفت کی لیکن اس ہستی نے ان کا بھی بھلا چاہا اللہ کریم نے فرشتوں کو فرمایا کہ میرے نبیﷺ سے اجازت لے لو اور طائف والوں پر پہاڑ الٹ دوتوآپ ﷺ نے فرمایااے اللہ انہیں تباہ نہ کران کو ہدایت دے اور اگر یہ ہدایت نہیں پائیں گے تو شاید ان کی اولادیں ہدایت پا جائیں پتھر مارنے والوں کی بہتری چاہی حالانکہ خون مبارک  نعلین مبارک میں جم گیا تھا، زخموں سے چور تھے اور اگرکوئی کسی شہر،کسی گاوں جاتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارنے لگ جائیں تو وہ کتنا صبر کرے گا؟ دل کی کیسی کیفیت ہو گی؟پھر وہ بندہ ان پتھر مارنے والو ں کی بہتری چاہے تو کیسی کریم ذات ہے؟اگر ہم ان کے کرم سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے رشتہ توڑا ہوا ہے وہ تو ان پر بھی کرم برساتے ہیں جنہوں نے انہیں پتھر برسائے تو اگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے باقی ہماری ضرورتیں ہیں بھائی پیسے سے محبت نہیں ہے پیسہ ہماری ضرورت ہے اقتدار سے محبت نہیں ہے اقتدار ہماری ضرورت ہے ہم خود کو بڑا بنانا چاہتے ہیں جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے جنس مخالف جب ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں تواگر دونوں کے رشتے میں خلوص ہو تودونوں ایک دوسرے کااحترام کرتے ہیں اسے محبت کہتے ہیں لیکن یہ بہت ادنیٰ درجہ ہے محبت کا یہ ضرورتوں کی محبت ہے ہم اولاد سے محبت کرتے ہیں بچوں سے پیار چھوٹے چھوٹے بچے راتوں کو جاگ کر پالتے ہیں کما کر کھلاتے ہیں بڑا ہو کر اگر کمائی نہ کرے نافرمان ہو جائے کہا ں جاتی ہے محبت؟ محبت ہوتی تو ختم نہ ہوتی ضرورت تھی پوری نہیں ہوئی تم ہم ڈس ہارٹ ہوگئے توقعات پوری نہیں ہوئیں اس کو ہم نے محبت کا نام دے رکھا ہے کیونکہ یہ دولت سے محبت یا عورت سے محبت یہ ساری خرافات ہیں یہ ضرورتیں ہیں اور ضرورت کہیں سے بھی پوری ہوجاتی ہے کوئی ہمیں پیار سے پانی پلا دے تو ہمیں اس کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے لیکن یہ محبت کا ادنیٰ درجہ ہے اورعشق تو بہت بڑا جذبہ ہے جو میں نہیں سمجھتا کہ رسول ﷺ کے سوا کسی ہستی سے ہو سکتا ہے؟ 
  ملکوں میں آئین و دستوربنتے ہیں لیکن خود ان کے ملک میں اس پر عمل نہیں ہوتا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش وبودوباش الگ ہوتی ہے طریقے الگ ہوتے ہیں لیکن فرمایا  یہ زمانہ گواہ ہے اہل علم گواہ ہیں خود قلم گواہ ہے اور تمام وہ باتیں جو قلم سے لکھی گئیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آپ ﷺ کا معجزہ عظیم ہے کہ آپ نے ایسا کردیا اور صرف اس وقت کے لیے نہیں تب سے لے کر قیامت تک یہ انقلاب جاری رہے گا تو دو طبقے بن گئے دو جماعتیں بن گئیں دوفریق بن گئے ایک اسلامی نظام کو مٹانے کے درپے ہے دوسرا اسلامی نظام کو زندہ قائم کرنے پر جانیں لٹا رہا ہے یادرکھیں جو لوگ اسلامی نظام کے حق میں ہیں وہ اس بات پر نہیں رہتے کہ حکومت نظام لائے توہم اختیار کریں گے وہ اپنی زندگی پہلے ہی اس نظام کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور حضور ﷺ کی معیت اسی کو نصیب ہو گی جو عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک کو سنت کے مطابق ڈھال لے اگر کوئی چاہتا ہے مسلمان ہے کلمہ پڑھتاہے نمازیں پڑھتا ہے اچھی بات ہے زکوٰۃ دیتا ہے اور حج کرتا ہے اچھی بات ہے اللہ کریم اس کا قبول کرے صدقہ،خیرات کرتا ہے اچھی بات ہے لیکن اپنے روز مرہ کے لین دین، معامالات،عدالتیں، سیاست،نظام تعلیم، معاشی اور معاشرتی نظام میں کہتا ہے یہ میں کافروں جیسے کروں گا انہیں ناراض نہیں کرنا جیسے بھی ہیں ان کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے تو ان کو خفا نہیں کرنااسے منافقت کہتے ہیں منافقت کفر کی بدترین قسم ہے اللہ ہمیں پناہ دے۔آج کے مسلمان ماسوائے چند خوش نصیب ریاستوں کے ساری حکومتیں اس میں پھنسی ہوئی ہیں کوئی امریکہ کی خوشنودی کے لئے کوئی روس کی رضامندی کے لیے کوئی یورپ کی خوشنودی کے لئے کافرانہ نظامِ معیشت،کافرانہ نظام عدالت، کافرانہ نظام تعلیم، کافرانہ لباس،کافرانہ حلیے، کافرانہ انداز، کافرانہ رسومات اپنائے ہوئے ہیں آپ نے کبھی سوچا۔
الحمد اللہ میں روئے زمین پر پھرا ہوں اللہ نے مجھے توفیق دی شلوار قمیض ویسٹ کوٹ اور پگڑی پسند کرتے تھے تعریف کرتے تھے عزت کرتے تھے یہ زرعی کھسے جو ہم پہنتے ہیں یہاں مجھ سے برطانوی اور امریکی نو مسلم لے کر گئے میں نے ایک امریکی سے پوچھا بھئی تم وہ کھسہ لائے تھے اس کا کیا ہوا؟اس نے کہا وہ کھسہ میں نے ڈرائنگ روم میں دیوار سے ٹانگا ہوا ہے یعنی اتنا اسے وہ تحفہ نادر لگا لیکن کبھی آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ روئے زمین پر کسی کافر کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کررہے ہوتے ہیں؟ آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کرکے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں؟کسی امریکن، کسی یورپین،کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں،پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ کسی کافر ملک نے رمضان کی یا قربانی کی عید منائی؟ کسی کافر ملک میں عید کے ایک دن پر چھٹی کی گئی؟ تو پھر وہاں جو خرافات ہوتی ہیں وہ آپ کیوں اپنا لیتے ہیں؟ شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ ہفتہ یہودیوں کا متبرک دن تھا اتوار عیسائیوں کا متبرک دن تھا جمعہ مسلمانوں کو متبرک دن کے طور پر عطا ہواہفتے کے دنوں میں سب سے مبارک دن اسے کافروں نے کہہ دیا یہ سیاہ دن ہے اور اس دن یہ یہ کام کرنے ہیں وہی کام اب آپ پاکستان میں کر رہے ہیں ہم مسلمان ہیں؟ مسلمان دنیا سے گزر جاتا ہے تو مسلمان جمع ہو کر اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں عیسائی، یہودی، کافرمرجاتا ہے تو وہ موم بتیاں جلاتے ہیں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں آپ بھی اب موم بتیاں جلاتے ہیں اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں کبھی انہوں نے فاتحہ خوانی کی جس طرح آپ کرتے ہیں؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لئے دعا کی؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لیے اپنی کتاب ہی بیٹھ کر پڑھی؟ قرآن نہ پڑھتے یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس کتاب ہے تورات و انجیل کبھی انہوں نے انہیں پڑھنے کا اہتمام کیا؟ تو پھر آپ کو شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ان کے تہوار مناتے ہیں؟ اور کیا یہ اسلام ہے؟ یہ منافقت ہے جو بدترین کفر ہے

نشان منزل (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)

اسلام وہ حقیقت ہے کہ منکر بھی جسے انکار کے باوجود کلی طور پر جھٹلا نہیں سکتا،اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور تمام فطری تقاضوں کو بہترین طریقے سے پورا فرماتا ہے اس لیے دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے بھی ”تحقیق“باآوازبلند یہ ثابت کرتی نظر آتی ہے کہ انسان اسلام کے وضع کردہ اصولوں کے بغیر دنیاوی ترقی کی منازل بھی طے نہیں کر سکتا۔جب اس کے ظاہری پہلو سے بڑھ کر باطنی پہلو پہ توجہ مبذول ہو تو سمجھ آتی ہے کہ یہ عظیم اور انمول مگر واحد ذریعہ ہے جو بشر کو بندہ بناتا ہے اور بندے کو تراش کر بندگی کی لذتوں سے آشنا کر دیتا ہے۔بتوفیق الٰہی یہ آشنائی گرہیں کھولتی جاتی ہے کہ خالق کون ہے؟مخلوق کی کیا حیثیت ہے؟کارگہہ حیات کیا ہے اورامتحان کیا ہے؟زندگی کیا ہے اور موت کیا ہے؟مردود کون ہے اور مقرب ہونا کیا ہے؟فنا کی حدود کیا ہیں اور حیات ابدی کیا ہے؟
اللہ پاک نے انبیا ورسل علیھم السلام کو مخلوق کی تربیت کا فریضہ سونپا اور ان عظیم ہستیوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کو امام الانبیاؑ مبعوث فرمایا۔اگر کل بشریت کو دوحصوں میں تقسیم کیا جائے تو ایک جماعت انبیاء ورسل علیھم السلام کی اور دوسری غیر انبیا کی ہو گی۔امت محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کریم نے بے شمار عظمتوں میں سے ایک ایسی منفردعظمت عطا فرمائی ہے کہ جس کا ذکر بھی کلام ذاتی میں فرمایاکہ کل بشریت میں دو ہستیاں ایسی ہیں جنہیں معیت ذاتی نصیب ہوئی۔
تما م انبیاء  ؑ کو ہمیشہ معیت نصیب رہتی ہے لیکن وہ معیت صفاتی ہوتی ہے۔اہل اللہ کو جو معیت نصیب ہے وہ بندے کی صفات سے مشروط ہوتی ہے۔انبیاء ؑ میں نبی اکرمﷺ اور غیر انبیاء میں حضرت ابو بکر صدیقؓ  وہ ہستیاں ہیں جن کی ذات ہائے مقدسہ کو اللہ کریم کی ذاتی معیت نصیب ہے۔فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَاَ ]التوبۃ9:40[  پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وقت ہجرت نبی اکرمﷺ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے کندھوں پہ سوار تھے تو عالم خلق کو حضورﷺ سے تعلق حضرت صدیق اکبرؓ کے وجود مبارک سے نصیب تھا۔عشق نبویﷺ کی بات ہو یا اطاعت رسولﷺ کی،بندگی کی عظمتیں ہوں یا نبیﷺ کی تربیت کا عملی نمونہ اگر نشانِ منزل کے طور پر چناؤ کرنا ہو تو سر فہرست نام مبارک آئے گا۔حضرت ابو بکر صدیقؓ۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ کی پیدائش عام الفیل سے تین سال بعد بمطابق 50ق ھ574/ ء کو عثمان بن ابی قحافہ کے گھر مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔آپؓ کی والدہ ماجدہ کانام ام الخیر سلمیٰ اور قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم تھا۔آپؓ کا سلسلہ نسب ساتویں پشت پر جا کر نبی کریم ﷺ سے ملتا ہے۔آپؓ کی ازواج مبارکہ کی تعداد چار،تین بیٹے اور تین ہی بیٹیاں تھیں۔آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا آپ ؓ اہل مکہ میں متمول اور قابل احترام حیثیت کے مالک تھے۔آپ ؓ کا دور خلافت دو سال تین ماہ اور گیارہ دن تھا۔آپؓ نے 22جمادی الثانی 13ہجری بمطابق23اگست 634ء کو تریسٹھ برس کی عمر میں مدینہ منورہ میں دار فانی سے پردہ فرمایا۔
آپؓ  ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَمَثَلُہُمْ فِی الْاِِنْجِیْلِ  ]الفتح48:29[   کی شان کے مطابق نبی کریم ﷺکی خدمت میں بچپن ہی سے مامور فرما دئیے گئے۔بالغ افراد میں کسی ہچکچاہٹ کے بغیر پہلی ہی دعوت پرمشرف بااسلام ہوئے۔آپﷺ کی مکی زندگی سے لے کر وصال نبوی ﷺکے دن پیشانی مبارک پر بوسہ دینے تک ہمہ وقت حاضر خدمت اور تعمیل حکم میں سر تسلیم خم رہے۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکا دیا مگر ابو بکر صدیقؓکے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا۔آپؓ واحدہستی ہیں جنہیں مسلسل چار نسل تک شرف صحابیت نصیب ہوا۔والد محترم حضرت ابی قحافہ،آپؓ،صاحبزادے حضرت عبدالرحمن اور پوتے حضرت ابو عتیق محمدؓ۔آپؓ کے پہلے نام عبد الکعبہ کی تبدیلی عبد اللہ کے ساتھ،صدیق اور عتیق کے القابات دربار رسالت سے نصیب ہوئے۔آپؓ نے وصال نبویﷺ کے امتحان میں ثابت قدم رہتے ہوئے نو زائدہ اسلامی ریاست کو انتہائی قلیل دور خلافت میں مضبوط بنیاد پر کھڑا کر دیا۔آپؓ تدوین قرآن،ابتداتسخیرِ عراق وشام،منکرین زکوٰۃکا سد باب نیزانسداد فتنہ ارتداد کا سبب بھی ہوئے۔
آپؓ کے وصال ِمبارک کے مہینے میں لکھتے ہوئے یہ سوچ رہا ہوں کہ آج ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ جن لوگوں کی زندگیاں حصولِ زر کے لیے ساز وآواز میں گزریں وہ تو قومی سرمایہ گردانے گئے ااور ان کی پیدائش وموت کے دن ہمیں خوب یادرہتے ہیں مگر وہ ہستیاں جن کی زندگیاں نشان ِمنزل بنیں ان کی یادیں ہم فراموش کیے بیٹھے ہیں۔       
 
 

علم غیب اور علم لدنی

لوگوں میں یہ بحث چلتی رہتی ہے اور میرے خیال میں یہ فضول بحث ہے کہ علم غیب کیا ہے اور آدم علیہ السلام کو کائنات کی ہر چیز کے بارے میں بتا دیا گیا توو ہ بھی عالم الغیب ہوگئے۔یہ درست نہیں ہے۔علم غیب وہ ہوتاہے جو بغیر کسی سبب کے جانا جائے اور جو جانتا ہو وہ عالم الغیب ہے۔ یہ شان صرف اللہ کی ہے جو بغیر کسی کے بتائے جانتاہے‘ بغیرکسی کے دکھائے دیکھتاہے‘ کسی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں ہے‘ ہر چیز کو ہر وقت ہر آن جانتاہے‘ یہ صرف اللہ کی خصوصیت ہے۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو‘ اللہ کے مقرب بندوں کو علوم عطا کیے جاتے ہیں۔ا ب جس کی خبر دی جائے‘ بتا یا جائے وہ غیب نہیں رہتا۔بتانے والے نے بتا دیاتو غیب ختم ہوگیا۔ ہاں‘ آپ کہہ دیں کہ اس بندے کو اللہ نے غیب پر مطلع کردیا یا غیب کی خبر دے دی تو وہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شان ہے کہ بے شمار ایسے غیب ہیں جونبیوں اور رسولوں کو بتائے جاتے ہیں۔
لوگو! اللہ کی شان اس سے بلند ہے کہ تم سب کو غیب پر اطلاع دے لیکن جسے چاہتاہے اس کے لئے چن لیتاہے‘یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو‘ اپنے رسولوں کو‘ اپنے نبیوں کو‘ اوریہ بھی طے شدہ بات ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کو جتنے ضروری علوم دیے گئے ان سب سے زیادہ علوم آقائے نامدار حضرت محمدﷺ کو عطا فرمائے۔ ہر نبی کو اس کی اپنی ضرورت اور اس کی امت کی ضرورت کے مطابق احکام ِشریعت اور دنیا و آخرت کے علوم عطا فرما ئے گئے۔ نبی کریمﷺ چونکہ سارے نبیوں کے بھی نبی ہیں۔ساری امتوں کے بھی‘ ان کے نبیوں کے واسطے سے نبی ہیں‘ امام الانبیاء ہیں اور بعثت سے ہمیشہ کے لئے آپ کی نبوت جاری وساری ہے توان سارے زمانوں میں جو ہوناچاہیے تھا‘جو درست ہے‘ جو غلط ہے وہ سارے علوم نبی کریمﷺ کو عطا فرمائے گئے لیکن وہ علم غیب نہیں ہے وہ اطلاع علی الغیب ہے۔ غیب پر مطلع فرما دیا گیا۔یہ بحث فضول ہے کہ علم غیب کسے ہوتاہے؟ علم غیب خاصہ ہے اللہ تعالیٰ کا۔ وہ بغیر کسی کے بتائے‘ بغیر کسی ذریعے‘ بغیر کسی واسطے کے جانتاہے اورجو غیب نبی جانتے ہیں وہ اطلاع علی الغیب ہوتی ہے کہ اللہ انہیں غیب پر مطلع فرما دیتاہے۔انبیاء علیہم السلام کو فرما دیتا ہے‘ اولیاء اللہ کو فرمادیتاہے‘ اس کی اپنی مرضی کہ جسے چاہے بتاد ے۔  
حضرت آدم علیہ السلام کو تما م چیزوں کا علم دے دیا۔اولاد آدم جتنی چیزیں ایجادکرتی جارہی ہے‘جتنی تحقیقات کرتی جارہی ہے‘ آج انسان نے سب سے چھوٹا ایٹم کا ذرہ  چیر کر دریافت کر لیاکہ اس کے اندر بھی مثبت ومنفی نظام جاری ہے۔ اس کے اندر ایک کارخانہ ہے جس میں مثبت بھی ہے اور منفی بھی ہے۔ سب سے چھوٹے ذرے کوچیر اجائے توایک دھماکہ ہوتاہے جسے ایٹمی دھماکہ کہتے ہیں۔ ہر ایٹم کا سینہ چیرنے سے یہ دھماکہ ہوجاتاہے۔ بنی آدم نے جو آج آکر دریافت کیا‘ یہ آدم علیہ السلام کو وہاں بتا دیا گیا۔جوجو علوم انسان نے دریافت کیے ہیں یا جو آئندہ کرے گا وہ سارے موروثی علم ہیں جو آدم علیہ السلام کو عطا فرمادیے گئے۔اور پھر فرشتوں سے کہا یہ کائنات کی چیزیں تمہارے سامنے ہیں  ذرا ان کے بارے مجھے بتاؤ ان چیزوں کے نام کیا ہیں۔ یہ کس کام آتی ہیں‘ ان میں کون سی چیز نفع بخش ہے‘ کون سی نقصان دہ ہے‘ اگر تم خبر رکھتے ہوکہنے لگے اے اللہ ہمیں کوئی خبر نہیں  ہمیں صرف وہ خبر ہے جو آپ نے ہمیں بتایا۔ آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ بارش برسانی ہے تو یہ ہم نہیں جانتے کہ بارش سے ہو تا کیا ہے۔ جس کو یہ بتایا کہ فصل اگانی ہے اسے یہ خبر نہیں کہ اس سے آگے کیا ہوتاہے‘ اس میں نفع کیا ہے‘ نقصان کیاہے۔
اب ان چیزوں سے ہمارا تعلق نہ واسطہ‘ ان کے بارے میں ہم تو کچھ نہیں جانتے تیری ذات جانتی ہے اور تیری ذات دانا تر ہے۔ تو حکیم ہے‘ تو ہی جانتاہے۔فرمایا اے آدم علیہ السلام اب تُو ان چیزوں کی خصوصیات اور ان کے نام بتا۔ علم اللہ کی طرف سے آتاہے اس کے لئے کوئی وقت درکار نہیں ہوتا‘کوئی عرصہ نہیں لگتا۔ اس نے دے دیا اور لینے والے کو وصول ہوتا گیا‘ اس کو علم لدنی کہتے ہیں۔ اس طرح فرشتوں پر علم کے حساب سے حضرت آدم علیہ السلام کی برتری ظاہر کی۔ صوفیاء اپنا خلیفہ یا نائب اس کو بناتے ہیں جس پر انہیں اعتماد ہو کہ اس فن میں اس کے پاس صرف عمل نہیں علم بھی ہے۔ مجاہدہ اور عمل تو ضروری بات ہے لیکن مجاہدہ تو سارے لوگ کرتے ہیں۔ اپنی طرف سے تو سارے لوگ کوشش کرتے ہیں لیکن اسے جاننا‘ اس کی باریکیوں کو سمجھنا فضیلت کا سبب ہے اور خلافت کے لئے صرف عمل ہی نہیں‘ علم بھی ضروری ہے اوریہ علم کتابوں سے نہیں ملتا۔حضرت آدم علیہ السلام نے کونسی کتاب پڑھی تھی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کتنے لوگ تھے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن جس مسئلے پر صحابہ کرام کی رائے آجائے تو سارے لکھنے پڑھنے والے خاموش ہو جاتے ہیں‘ اس لئے کہ انہوں نے محمدرسول اللہ ﷺ سے سن کر جواب دیا‘ جو جاننا ہے وہ محض لکھنے پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ وہ جانتے تھے‘ اللہ چاہے تو کسی کو اپنی طرف سے علم کا خزانہ عطا کردے۔
حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں قران کریم میں فرمایا گیا کہ ”ہم نے اسے اپنی طرف سے علم عطا کردیا۔“(سورۃ الکھف:65) اسے علم لدنی کہتے ہیں۔ اصطلاح میں جس نے کسی مدرسے میں یا کسی استاد سے تو نہ پڑھا ہو لیکن اللہ اسے علوم کے خزانے عطا فرما دے تو اسے علم لدنی عطا ہوگیا۔ ایسے لوگوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن کے اسماء گرامی اولیا اللہ میں ملتے ہیں اور ایسے حضرات بھی ملتے ہیں جوخود تو پڑھے لکھے نہیں تھے یا معمولی پڑھے لکھے تھے مگر بڑے بڑے علماء ان کی خدمت میں حاضر ہو کر مسائل کا حل دریافت کرتے تھے‘ اس لئے کہ اللہ نے انہیں علوم عطا کردیے۔ بات یہاں بھی یہی تھی حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اسماء سکھائے اور فرشتوں کے سامنے یہ بات رکھی کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں بتائیں۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ ہمیں تو کوئی علم نہیں۔ہاں وہ باتیں جانتے ہیں جو آپ نے بتائیں اور آپ کی یہ شان ہے‘ آپ علیم بھی ہیں‘اور حکیم بھی ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کو ارشاد ہو ا”اے آدم ان چیزوں کے بارے‘ ان کے اسماء کے بارے‘ان کی خصوصیات کے بارے میں آپ بیان کریں۔“ جتنا اللہ نے چاہا اتنا انہوں نے بیان کردیا۔ فرمایا:میں نے تم سے نہیں کہا تھاکہ ز مینوں اور آسمانوں کے سارے غیب میں جانتاہوں جس بات کا اظہارتم نہیں کرتے‘ تمہارے دلوں میں کیاہے وہ بھی میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو‘ میں وہ بھی بہت اچھی طرح سمجھتاہوں۔اللہ کریم ہم سب کی حفاظت فرمائے۔(آمین)