Latest Feature Articles


آپ ﷺ کی ولادت باسعادت بے پناہ رحمتوں کا سبب


ربیع الاول کاوہ ماہ مبارک پھر سے آیا جس میں آقائے نامدار ﷺکی بعثت عالی ہوئی آپ ﷺکی ولادت مبارک اسی مبارک ماہ میں ہے آپ ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس پوری ہوئی تو بعثت اسی مہینے میں ہے آپ ﷺکا وصال اسی مہینے میں ہے اﷲ کی نعمتیں دنیا کی بے پناہ ہیںہر طرح کی مخلوق اس سے مستفید ہو رہی ہے۔قرآن کریم جب بھی بات ارشادفرماتا ہے جب بھی حضور ﷺ کا تذکرہ آتا ہے جب آپ ﷺ کی بات شروع ہوتی ہے تو بعثت سے شروع کرتا ہے۔قرآن پاک بعثت کی بات کرتا ہے۔ اﷲ پاک فرماتے ہیں زمینوں آسمانوں ساری مخلوق پر میرے بے پناہ ا حسانات ہیں سب کوپیدا کیا سب پر میرا احسان ہے۔ سب کو وجود دیازندگی دی، سب کو محبتیں دیں لیکن میرا احسان تم پر ہے کہ میں نے محمد رسول اﷲ ﷺ کو مبعوث فرما دیا۔اب یہ احسان ایسا ہے کہ تخلیق کائنات اس کے سامنے معدوم ہو گئی فروغ سینا جن انوارات کی ایک جھلک برداشت نہ کر سکا تجلیات باری سے بڑی بڑی سنگلاخ چٹانیں چٹخ چٹخ کر جل کر سرمہ بن گئیں بعثت رسالت ﷺ نے انسانی دلوں کو تجلیات باری کی آماجگاہ بنا دیا۔ان تجلیات کو ایمان لانے والے بندوں کے قلوب میں یوں سمو دیا کہ وہ ان کی غذا، دوا اور حیات بن گئی۔تیرہ برس تک حضور ﷺ کی غلامی کے لئے دنیا کی ہر اذیت برداشت کی۔ان کے وجود گرم سلاخوں سے داغے گئے، گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھے گئے، کوڑے مارے گئے،زخمی کئے گئے،بھوکا پیاسا رکھا گیا،،شہید کئے گئے،کون سا ظلم ہے جو مجبور مسلمانوں پرمکہ مکرمہ کے رہنے والے مشرکین نے روا نہ رکھا ہولیکن انھوں نے غلامی محمد رسول اﷲ ﷺ کو ہاتھ سے نہ جانے دیاہر دکھ برداشت کیاحتٰی کہ گھر،شہر، جائیدادیں چھوڑیں،سب کچھ قربان کر دیااور خالی ہاتھ ہجرت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں چلے گئے پھر مدینہ منورہ پر حملہ،بدر و احد،خندق میں کفار مشرکین نے بڑا زور لگایا،انہوں نے قربانیاں دیں،زخمی ہوئے لیکن حق غلامی ادا کرتے رہے۔
  بعثت رحمت عالم ﷺ وہ نقطہ ہے جس نے ہمیں ایمان عطا کیا اور ایمان وہ سانچا ہے جو فرد کو جو کچھ وہ پہلے تھا اس سے مٹا کر ایک نیا انسا ن بنا دیتا ہے بعثت عالی کے ساتھ جہاں معجزات و برکات ہیں وہاں ارشادات رسول ﷺ بھی ہیں جن کی پاسداری کرنا پڑتی ہے، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے اندر آنے کے لئے اپنی تراش خراش کرنا پڑتی ہے، پاکیزگی اپنانے کے لئے صفائی کرنا پڑتی ہے، ہمت و محنت سے کام لینا پڑتا ہے، رسومات ورواجات چھوڑ کر سنت رسول ﷺ اپنانا پڑتی ہیں،اپنی خواہشات کو رضائے الہٰی کے حصول کے لئے چھوڑنا پڑتا ہے اور اپنی رائے و پسند سے دستبردار ہو کر اسے حضور ﷺ کی پسند میں فنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سب کچھ کرنا حضور ﷺ کی برکات کو حاصل کرناآسان کردیتی ہیںلیکن تب جب کوئی بعثت رحمت عالم ﷺ سے حصہ پائے۔ساری قوم میلاد مناتی ہے بعثت کوئی نہیں مناتاکیوں کہ جب بعثت کا تذکرہ ہو گا توحضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور غلامی کرنا پڑے گی۔خواہشوں،جھوٹی انا،تکبر و غرور،لالچ و ہوس کے سارے بت دل سے نکالنے ہوں گے اور ان سب کی جگہ ایک اﷲ کی حکومت قائم کرنا ہو گی۔ مومن کے لیے تو قرآن کا تصور یہ ہے کہ جب اﷲ کا نبی ﷺحکم دے دے تو ان کے پاس سوائے تسلیم خم کرنے کے اور کوئی راستہ ہی نہیں کہ صدق دل سے اس کی اطاعت کر لے۔
جب حضور کی ولادت ہوئی توبے پناہ فائدے مخلوق کو پہنچے ہر طرح کا رزق،ا س میں برکت، سب سے بڑی بات کہ آپ ﷺ کے دنیا میں قدم رنجہ فرمانے سے ساری زمین مسجد بن گئی۔جو اجتماعی عذاب آتے تھے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ختم ہو گئے کیا آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ میرے زمین پر قدم رکھنے سے اجتماعی عذاب نازل ہونابند ہو گئے۔ لوگوں کی صورتیں مسخ ہونا بند ہو گئیں۔پانی میں پاک کرنے کی طاقت تھی آپ کے قدم مبارک سے اﷲ نے مٹی کو یہ تاثیر د ے دی کہ پانی سے وضو کرو تو جسم پاک ہوتا ہے اگر ضرورت تیمم کی ہو تو حضورﷺ فرماتے ہیں ہڈیاں اور اُن کا گودا تک پاک ہو جاتا ہے۔لاغر سانڈھنی پہ آپ ﷺ بیٹھے تو وہ جوانوں سے تیز ہو گئی۔دودھ خشک ہو چلا تھا نہریں جاری ہو گئیں۔جہاں جہاں حضور ﷺ قدم رکھتے وہ جگہ گلزار ہو جاتی،جس گھر میں قدم رکھتے وہ بابرکت ہو جاتاجس جانور پر سوار ہوتے وہ تیز رفتار ہو جاتا یثرب جس کا ترجمہ دارالبلاء درست ہے ایک خاص قسم کا مرض جو وہاں جاتا اس کا شکار ہو جاتایثرب کو مدینہ کس نے بنا دیا؟
ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکا وصال ہوا اور مدینہ منورہ میں صحابہ کرام ؓ پر مشکل ترین گھڑی تھی دن کو یوں معلوم ہوتا تھاجیسے رات ہو گئی ہوصحابہ کرام ؓ میں کچھ لوگ بیٹھے تھے وصال کی خبر سنی اوروہیں منجمد ہو گئے پھر ساری زندگی اٹھ نہ سکے۔ سید نا فاروق اعظم ؓ  جیسی ہستی پر بھی جذب آ گیا۔اُم ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کی بہت پیاری خادمہ تھیں جب عمر رسیدہ ہو گئیںتونبی کریم ﷺ ان کے گھر خیریت پوچھنے خود تشریف لے جاتے۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اُم ایمن کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لئے گئے جب ان کی مزاج پرسی کی تو انھوں نے زاروقتار رونا شروع کر دیا انھوں نے فرمایاکہ بی بی آپ اتنا کیوں رو رہی ہیں؟حضور ﷺ ہم سے دور تو نہیں ہیں۔ام ایمن ؓنے فرمایایہ بات میں جانتی ہوںمیںرو اس لیے رہی ہوں کہ اب قیامت تک زمین پرجبرائیل امین ؑ وحی لے کر نہیں آئیں گے۔ہم تو اس بات کے عادی تھے کہ کوئی مسئلہ ہوتافوراً بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے مسئلہ بیان کرتے جواب اﷲ کی طرف سے آتا،وحی نازل ہوتی قرآن نازل ہوتا،اﷲ کے ذاتی کلام میں جواب آ جاتا۔اب وہ نعمت ختم ہو گئی رسالت ﷺ، نبوت اورکتاب موجود ہے قیامت تک رہے گی۔اس با ت پہ رونا نہیں ہے رو اس لیے رہی ہوںکہ حضورﷺ کا وصال وحی کو ختم کر گیاحضور ﷺ اﷲ کا پیغام پہچانے اس دنیا میں تشریف لائے ورنہ یہ دنیا اس قابل ہی نہ تھی۔حضور ﷺ میدان عرفات میں تھے آیت کریمہ نازل ہوئی آج کے دن میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں جتنے انعامات کوئی مخلوق اپنے خالق سے لے سکتی تھی وہ آپ پر آج مکمل کر دیے۔تمہارا دین مکمل ہو گیا اور دین اسلام کو تمہارے لییپسند فرما لیا او ر اس پر وہ راضی ہو گیا،اب اس میں کوئی کمی بیشی قیامت تک نہیں ہو گی تو صحابہ کرام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ روزانہ انتظار رہتا تھا دیکھیں نیا حکم کون سا ہو گا؟ الحمدﷲ دین مکمل ہو گیاہماری زندگی میں مکمل ہو گیا۔ہمیں پورے دین پر عمل توفیق ارزاں ہو گئی۔سب کے علم میں تھا کہ راز گان نبوت ابوبکر صدیق ؓ ہیں تو سب نے تلاش کیا انھیں تلاش کروانھیں مبارک دیں دین مکمل ہو گیا۔آپ کو تلاش کیا تو اپنے خیمے میں بیٹھے زاروقطار رو رہے تھے انھوں نے کہا آپؓ رو رہے ہیں خوشی کا موقع ہے دین مکمل ہو گیا۔انھوں نے کہا میں رو اس لیے رہا ہوںاس دین کی تکمیل کے لئے حضور ﷺ تشریف لائے تھے ورنہ یہ دنیا اس قابل نہ تھی اور اگر دین مکمل ہو گیا تو اس کا مطلب ہے حضور ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما جائیں گے۔ انھوں نے سب کو رُلا دیاجو خوشیاں لے کر آئے تھے سب کو رُلا دیا کہ حضور ﷺ کا یہاں تشریف لانااس دین کی ترویج کے لیے تھا۔جب دین مکمل ہو گیا اور حضور نے پہنچا دیاتو پھر یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ حضور ﷺ کو یہاں رکھے اور وہی ہوا۔اس کے اسی بیاسی دن کے بعد حضورﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے تو حضورﷺ کی یہاں تشریف آوری کا مقصد اﷲ کا دین روئے زمین پر بسنے والے انسانوںکو پہچانا تھا جب یہ فریضہ مکمل ہواحضور ﷺاس دنیا سے پردہ فرما گئے۔
  ارشادات نبوی ﷺ کا مظہر تعامل صحابہ ؓ ہے، صحابہؓ نے جو عمل کیاوہ دلیل ہے کہ یہ حضور ﷺ کا حکم ہے اور تمام صحابہ ؓ  کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ  ستاروں کی مانند ہیںجس طرح ستاروں سے لوگ راہ تلاش کرتے ہیںیہ تمہاری راہنمائی کے لئے وہ ستارے ہیں تم جس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے یعنی صحابہ ؓ سارے کے سارے عادل بھی ہیں ہادی بھی ہیںجس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے۔ ذرا صحابہ ؓسے کوئی جلوس کوئی جشن ثابت کرودنیا میںکسی نے اگر واقعی کسی سے محبت کی ہے تو وہ صحابہ ؓ  محمد الرسول اﷲ ﷺ ہیںدنیا کی پوری تاریخ میںکوئی ان کی مثال نہیںاسی لیے آدم علیہ السلام سے لے کرقیامت تک تمام لوگوں سے انبیاؑء کے بعد افضل ترین لوگ ہیں۔کافر جسے ایمان ہی نصیب نہیں ہوا اس کی تو بات چھوڑیں وہ تو ہے ہی کافروہ تو اپنی خواہشات سے دین گھڑے گالیکن جوایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس کیا اختیار رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دین گھڑلے؟ اﷲ کریم ہماری خطا ئوں کو معاف فرمائے ہمیں نیکی کی توفیق دے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت

 اسلامی سال کی ابتدا محرم سے ہوتی ہے بے شمار قربانیوں سے یہ سال شروع ہوتا ہے امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم محرم 24 ھ کو شہادت کے بعدروضہ اطہر میں دفن کئے گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت خانوادہ نبوت کی مظلومانہ شہادت ایک عظیم داستان ہے جو اسلامی کیلنڈرکی ابتدا کو نور شہادت سے منور کر دیتی ہے۔ 14 صدیوں میں سال کا کوئی دن، کوئی رات ایسی نہ ہو گی جو شہادت سے عبارت نہ ہولیکن عجیب بات یہ ہے کہ سال کاآخری مہینہ ذوالحجہ آتا ہے اور ذوالحجہ بھی سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار لئے ہوئے ہے ہمیں سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی میں بھی تمام انسانی محبتیں،تمام انسانی جذبے اور تمام انسانی رشتے قربان ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اسی طرح شہادت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایک اتنا ہی عظیم واقعہ ہے جس کے اثرات تاریخ انسانی پر مرتب ہوئے اور روش زمانہ جو عہد نبوت میں اصلاح پزیر ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنافاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں بھی اسی طرح روبہ کمال رہی اسی لئے محققین لکھتے ہیں کہ خلافت شیخین (سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) علی منہاجِ نبوۃ تھی یعنی اس میں وہ طریقہ، وہ سلیقہ، وہ برکتیں، وہ رحمتیں، وہ جذبہ ایمان اسی طرح روبہ کمال رہا جس طرح عہد نبوی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃوالسلام میں تھا لیکن ایک فرد کی شہادت نے تاریخ انسانی کو اس کمال سے محروم کر دیا۔
 نبی علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر جو میرے بعدہیں ان کا ہے پھر جو ان کے بعدہیں ان کا ہے انہیں قرون ثلاثہ کہا جاتا ہے یہ تین زمانے خیرالقرون کہلاتے ہیں ایک عجیب زمانہ جس میں حاضر ہونے والا ہر فردِبشر شرف صحابیت سے سرفراز ہواایک نگاہ میں اسے سارے کمالات حاصل ہو گئے اس کا دل بدل گیا، اس کا ضمیر بدل گیا اور اس کی سوچ بدل گئی وہ قبائل جو لوٹ کر کھانا اپنا روزگار سمجھتے تھے اور قتل وغارت گری جن کا شعار تھا، جسے وہ اپنی بہادری کے طور پر فخریہ پیش کیا کرتے تھے وہ محنت کر کے کھانے لگے اور اس میں سے دوسروں کو بھی کھلانے لگے جو چوری اور ڈاکے میں مشہورتھے وہ عدل میں معروف ہو گئے جو جہالت میں دنیا بھر میں مشہور تھے وہ ترویج علم کے منارہ نور بن گئے اور روئے زمین کے عادل ترین حکمران قرارپائے سیاسیات اور حکومت کے امور میں بھی وہ سنگ میل ثابت ہوئے اور جو انداز عہد فاروقیؓ میں حکومت کو دئے گئے، کتنی عجیب بات ہے کہ آج تک کوئی ان پر اضافہ نہ کر سکا۔ یہ محکموں کی تقسیم،مختلف شعبوں میں مختلف درجے، حکومت میں گورنر اور وزیر اور پھر صوبے، ضلعے،تحصیلیں،گاؤں،زمین کی پیمائش،زمین کا لگان،مالیہ، ملکیت،بنیادی محکمے بحری بیڑے کی تشکیل، فوج اور فوج کی چھاؤنیاں، پولیس اور اس کا طریقہ کار، عدلیہ اورانکے حکام کی حدود۔یہ سارا وہ نظام ہے جو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترتیب دیا تھا۔ 
جمہوریت کیا ہے؟ کہ ملک میں بسنے والے ہر شہری کی رائے کی ایک اہمیت ہو اجتماعی طور پر انسانی برادری کے ایک ہونے کاسب سے پہلا بنیادی تصور اللہ، اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب نے دیا لفظ ”الناس“ سب سے پہلے قرآن نے استعمال کیااس سے پہلے مغرب والے تھے یا مشرق والے، شمال والے تھے یا جنوب والے،مختلف ممالک،قومیں یا قبائل تھے جن میں سے ہر ایک صرف اپنی ہی بات کیا کرتا تھا دوسرے کی فکر کوئی نہیں کرتا تھایہ فلسفہ دینِ برحق نے دیاجس طرح پوری امت کے ذمے لگایا کہ  ”اخرجت الناس“  اب الناس میں ایمان کی قید نہیں ہے۔الناس میں مومن و کافر سب آتے ہیں، ساری اولادِآدم پر الناس کا اطلاق ہوتا ہے عہد فاروقیؓ میں ویلفیئر سٹیٹ منظم ہو چکی تھی کہ بیت المال اورمال زکوٰۃ، تعلیم اور علاج،بے روزگاروں کے و ظائف، بیماروں، بیوگان اور یتیم بچوں کی سن بلوغت تک کفالت۔مومن تو مومن کافر جو معذورین تھے ان پر نہ صرف جزیہ معاف کر دیا جاتابلکہ انہیں بیت المال سے وظیفہ دیاجاتاجو Structure سیدنا فاروق اعظم ؓنے بنایا تھا آج تک دنیا کی کوئی حکومت اس پر اضافہ کر سکی نہ اس میں کوئی تبدیلی کر سکی سوشلسٹ، جمہوری یاشہنشاہیت پسندہو ہر حکومت کے لئے فاروقی نظا م، نمونہ ہے اور دنیا کی ساری حکومتوں کی تاریخ دیکھ لیجیئے سب کی مجبوری ہے کہ اس کوFollowکریں۔سب کا طریقہ کار وہی ہے نام اپنا اپنا دیتے رہتے ہیں اللہ نے اتنی وسعت نظری کسی کو دی ہی نہیں کہ اس میں تبدیلی کر سکے ایک شخص نے اپنے عہد حکومت میں گھوڑے کی پیٹھ پر یا پیدل چل کر چھبیس لاکھ مربع میل علاقہ فتح کیا۔ اس کے سپاہیوں نے پینتیس ہزار بہت بڑے بڑے شہر آباد کئے جن میں نامور قلعے بھی تھے چھبیس لاکھ مربع میل مفتوحہ علاقہ صرف فتح نہیں ہوا بلکہ چھبیس لاکھ مربع میل علاقے میں کسی بوڑھے کی آہ سنائی نہیں دیتی،کسی عورت کی چیخ سنائی نہیں دیتی،کسی بھوکے بچے کے رونے کی آواز نہیں آتی اور کوئی کافر بھی نہیں کہہ سکتا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی یا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی سپاہی نے میرے ساتھ ظلم کیا۔ 
مغرب میں سے سب سے پہلے برطانیہ نے ویلفیئر سٹیٹ بنائی جارج ہفتم کے زمانے میں اس کی بنیاد رکھی گئی اس کے بعد برطانیہ میں ملکائیں آ گئیں جس پروفیسر نے اس کی بنیاد رکھی اس نے بتایا کہ مجھے بادشاہ نے اس کمیٹی کا سربراہ بنایا تھاجسے برطانیہ کو ویلفیئر سٹیٹ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی میں نے بڑے غور اورگہری نظر سے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا، اس کی مختلف تفسیریں اور تراجم پڑھے پھر میں نے تاریخ سے عہد فاروقیؓ کو نکالا، ان کے نظام کو پڑھا تو مجھے سمجھ آئی کہ قرآن سے تو مجھے اشارے ملے ہیں لیکن ان کی عملی تعبیرفاروقاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعین کر دی لہٰذا میں نے عہد فاروقیؓ کا نظام جوں کا توں لا کر بادشاہ کے سامنے رکھ دیا فرق صرف یہ رہا کہ اس عہد میں زکوٰۃ فرض تھی اور ان کی آمدن کی مد زکوٰۃ تھی جب کہ ہم نے اپنی آمدنی کی مد مختلف ٹیکسوں پر رکھی زکوٰۃ بھی ایک ٹیکس تھی اور ہم نے اپنی ضرورت کے مطابق ٹیکس لگائے لیکن اس کی ساری تقسیم اسی طرح ہوتی ہے اور آج بھی برطانیہ اپنی عام زبان میں اس ویلفیئر سٹیٹ کے سسٹم کو The Umer's Laws   ہی کہتے ہیں جب اس قانون کا حوالہ دینا ہوتو وہ کہتے ہیں کہ 
    This is according  to Umer's Laws.......so and so  
اللہ کا وہ عظیم بندہ جس کے بنائے ہوئے طرزِ حکومت اور  Welfare کے تصور پر کوئی اضافہ نہ کر سکا، اس لئے نہ کر سکا کہ سارا نظام ہی وہ تھا جو اللہ کی کتاب میں نازل ہوا اور صحابہؓ کا کمال یہ تھا کہ وہ اتنے ذہین تھے کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبے میں کہہ دیا کہ لوگو! اگر مجھ سے حضورﷺ کا اتباع اور آپ ﷺ کی سنت اور صحیح طریقہ چھوٹ جائے تو کیا کرو گے؟ ایک بدوی کھڑا ہو گیا اور اس نے میان سے تلوار نکال لی اور کہا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اگر دائیں بائیں ہوں گے تو ہم آپ کو سیدھا کر دیں گے ابھی ہم میں جان ہے اگر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے تو بھی قرآن سمجھنا جانتے تھے کہ انہوں نے براہ راست حضرت محمدرسول اللہ ﷺ سے سیکھا تھا۔ 
شیخین کریمین کا عہدِ خلافت علیٰ منہاج النبوہ رہا اور وہی برکات اسی طرح بٹتی رہیں لیکن ایک فرد کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اللہ کی کائنات کوایک بندے کے اٹھنے سے.......لیکن شاید ہر بندہ مختلف ہوتا ہے اور ہر جانے والا ایک خلاء چھوڑ جاتا ہے اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا خلاء دوبارہ پر نہیں ہوتاایک ہستی اٹھ گئی دنیا سے،ایک ہستی وصال الہٰی پا کر برزخ میں جلوہ افروز ہوئی آقائے نامدار حضرت محمدرسول اللہ ﷺ، اللہ کے آخری نبی تھے لیکن آپﷺ بھی ایک انسان تھے توانسان تو روز آتے جاتے ہیں کیا فرق پڑا.......؟ اتنا بڑا فرق پڑا کہ وحی الہٰی ختم ہو گئی، قیامت تک کسی پر دوبارہ نازل نہیں ہو گی اللہ کی طرف سے وحی لانے والا جبریل امین جس کی خدمت حضرت آدم علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمین پر جلوہ افروز ہونے سے شروع ہوئی اور جو ہر عہدمیں ہر زمانے میں ہر قوم میں مبعوث ہونے والے انبیاء کی طرف اللہ کی ہدایات لاتا رہا اور کیسا عجیب زمانہ تھا کہ لوگ سوال زمین پر کرتے تھے جواب عرشِ الہٰی سے آتاتھامسئلہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت عالی میں پیش ہوتا جواب کے لئے جبریل امین تشریف لاتے کہ اللہ کریم اس کا جواب یہ فرمارہے ہیں صرف ایک ہستی کے پردہ فرمانے سے قیامت تک کے لئے سلسلہ وحی منقطع ہو گیا۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک فرد کے اٹھنے سے کچھ نہیں ہوتا.........؟ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایک فرد تھے، ایک انسان تھے چھوٹے سے ایک عام عرب قبیلے، بنو عدی کا ایک عام سا فرد، خطاب کا بیٹا، لیکن صحبت پیغمبرﷺ نے کن عظمتوں اور کن بلندیوں تک پہنچایا، عمرسے فاروقؓ بنا دیا......حق وباطل میں امتیاز کرنے والا......... حق وباطل میں تفریق کرنے والا........سچ اور جھوٹ کوالگ الگ کرنے والا......ظلم اور انصاف کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والا...... 
بیت المقدس کی فتح کے وقت نصرانیوں کے علماء نے شرط لگائی تھی کہ آپ اپنے امیر کو لے آئیں ہم دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ یہ خلیفہ دوم ہے اور اس کے ہاتھ پر شہر فتح ہونا ہماری کتاب میں لکھا ہوا ہے ہم لڑیں گے نہیں اور اگر وہ بندہ نہیں ہے تو ہم لڑیں گے اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تشریف لے گئے اور انہوں نے دیکھا تو شہر خالی کر دیا کیو نکہ حضورﷺ کی ذات تو بہت بلند ہے آپ ﷺ کے خدام کے بارے میں بھی ان کے پاس حلیے، قد، عادات و خصائل اور لباس تک کی پیش گوئیاں موجود تھیں۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مرض تھا ان کے پیٹ میں ایسی بیماری تھی کہ جوَ کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا اور مدینہ منورہ میں ایسا قحط پڑا کہ گندم کی روٹی کسی کو میسر نہیں تھی آپ جوکھاتے تھے اور بیمار رہتے تھے پیٹ خراب ہو جاتا تھا کام نہیں کر سکتے تھے حرج ہوتا تھا طبیب نے عرض کی کہ حضرت ایک آدمی کے لئے تو گندم ملنا محال نہیں ہے جو آپ نہ کھائیں خلافت کانقصان بھی ہوتا ہے اپنے دفتری امور پورے نہیں کر سکتے اور اس پر مزید یہ کہ ایذا ہوتی ہے مروڑ اٹھتے ہیں تکلیف ہوتی ہے۔ فرمانے لگے بات تو تیری ٹھیک ہے لیکن جو بندے اللہ نے میرے سپرد کر دیئے ہیں یہ جو کھائیں اور میں غلہ کھاؤں تو کل اللہ کے حضورمیری طرف سے تم جواب دو گے ہے تجھ میں جرأت۔جب تک عام شہری کو غلہ نہیں ملتا عمر کو حق حاصل نہیں کہ وہ غلے کی روٹی کھائے۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایاکہ دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھوکا رہ گیا تو عمر ابن خطابؓ پکڑا جائے گا کہ تجھے سلطنت اس لئے تو نہیں دی  کہ میری مخلوق پر ظلم ہو اور وہ بھوکے بلک بلک کر مر جائیں سفر آخرت کے وقت کسی نے عرض کیا کہ آپ اپنے بیٹے عبداللہ کو اپنا جانشین بنائیں اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کام کے اہل بھی تھے وہ عہد صحابہ ؓ کے مانے ہوئے فقیہہ تھے آج بھی ان کی سند اختیار کی جاتی ہے تو آپ ؓنے فرمایا میدان حشر میں جواب دینے کے لئے خطاب کی اولاد میں سے میں اکیلا کافی ہوں مشورہ دینے والے سے فرمایا کہ تو یہ چاہتا ہے کہ میرا سارا خاندان جواب دہی کے لئے میدان آخرت میں پکڑا ہوا کھڑا ہو کہ تو نے میرے بندوں کے ساتھ کیا کیا؟
ذوالحجہ کے آخر میں آپ کومسجد نبویﷺ میں دوران نماز فیروز نامی ایک غلام جو مسلمان نہیں تھا،نے زخمی کیا زخم اتنے کاری تھے، پیٹ اس بری طرح سے پھٹا تھا، دو دھاری خنجر کے زخم تھے کہ دودھ اگر آپ کے منہ میں ڈالا جاتا تو زخموں سے باہر نکل جاتاحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ ایک یہودی جراح کو لینے کے لئے تشریف لے گئے ایک معروف جراح جو زخموں میں بہت ماہر تھا(تلوار کا زمانہ تھا،زخم لگتے تھے اور اس وقت عجیب وغریب مرہمیں اور طریق ِجراحت ایجاد تھے)جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس پہنچے توآپ نے فرمایا کہ امیر المومنین کی حالت بہت مخدوش ہے، تم میرے ساتھ چلو اس نے ملازم سے گھوڑا تیار کرنے کا کہا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نہیں، اس طرح تو دیر لگ جائے گی تم اپنا یہ بغچہ اٹھاؤ اور میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ابھی راستے میں ہی تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا......گھوڑا روکا.....جراح سے کہا کہ تمہیں تکلیف تو ہو گی لیکن ابھی تم گھر کے قریب ہو، میں تمہیں اتار دیتا ہوں، تم واپس چلے جاؤ، مجھے مدینہ منورہ جلدی پہنچنا ہے جراح نے کہا کہ عجیب بات ہے آپ نے مجھے گھوڑا لینے دیا،نہ تیار ہونے دیا، لباس تک تبدیل نہیں کرنے دیا اور اب مجھے کہہ رہے ہو کہ واپس چلے جاؤ......!  فرمایا تمہاری ضرورت نہیں رہی۔اس نے کہا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میری ضرورت نہں رہی؟ فرمایا یہ جو بکریاں ہیں سامنے دیکھ رہے ہویہ کسی دوسرے آدمی کی ہیں اور جس فصل میں گھس گئی ہیں یہ کسی اور بندے کی ہے اور یہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ فاروق اعظمؓ دنیا سے اٹھ چکے ہیں.....وہ حیران ہو گیا واپس چلا گیا لیکن اس نے وقت نوٹ کر لیا اور جب بعد میں اس نے تصدیق کی اور اسے پتہ چلا کہ واقعی اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دارِفانی سے رخصت ہو چکے تھے تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔
 ایک وجود حدِّ فاصل تھا نیکی اور برائی کے درمیان ایک وجود کی یہ برکت تھی کہ کسی کا جانور کسی دوسرے کی فصل میں نہیں گھستا تھا اسی لئے نبی کریم ﷺنے آپ کو فاروق ؓکہا تھا وہ عظیم ہستی یکم محرم الحرام کو روضہ اطہر میں حضرت صدیق اکبرؓ کے پہلو میں آسودہئ خاک ہوئی وہ خاک جس کا رتبہ کائنات سے بڑھ کر ہے علمائے حق فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی عظمت اس زمین کی ہے جس پر بیت اللہ ایستادہ ہے یہ مرکز ہے زمین کایہ وہ نقطہ ہے جو زمین پر سب سے پہلے تخلیق ہوا اور یہیں سے ساری زمین پھیلائی گئی اور یہ وہ مرکز ہے جس پر ہمہ وقت اللہ کی تجلیات ذاتی متوجہ رہتی ہیں لیکن مدینہ منورہ کی خاک اقدس کا وہ حصہ جو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی آرام گاہ ہے وہ اس زمین سے افضل ہے اس لئے کہ نبی اکرم محمدرسول اللہ ﷺ کا وجود پاک اس مٹی سے مَس کررہاہے وہ خاک ہی ایسی ہے وہ ٹکرا ہی ایسا ہے۔منبر اطہر سے لے کر روضہ اطہر تک فرمایا ”یہ ٹکرا جو میرے منبر اور میرے حجرہ مبارک کا ہے یہ سارا وہ حصہ ہے جو اللہ نے جنت میں سے کہا ہے“۔آپﷺ کے قیام کے لئے یہ خطہ جنت سے اتارا گیاجن سالوں میں مسجد نبوی ﷺکی توسیع ہو رہی تھی ان دنوں میں وہاں حاضر تھا آپ مدینہ منورہ کے کسی ہوٹل،کسی مکان یا کسی بھی جگہ ہوں تو ایک شور آپ کو مسلسل سنائی دیتا رہتا لیکن مسجد نبوی ﷺ کے دروازے سے آپ اندر ہو جائیں تو کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اس کا میں چشم دید گواہ ہوں کوئی آواز،کوئی صدا جرأت نہیں کرتی تھی ان حدود کو عبور کرنے کی جو مسجد نبویﷺ کی ہیں اسی روضہ اطہر میں سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جگہ ملی اور حضورﷺ کی حدیث میں موجود ہے کہ عیسیٰ علی السلام نازل ہوں گے زمین پر رہیں گے ان کا وصال ہو گا۔ ایک قبر ان کی یہاں بنے گی اور ابھی تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے آپ ﷺ کے ارشاداتِ عالی میں موجود ہے کہ قیامت کو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح اٹھیں گے کہ ایک طرف میں ہوں گا اور ایک طرف عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور درمیان میں یہ دونوں ہوں گے۔  

حسینیت اور یزیدیت

                                                                                       
         محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور ذوالحج آخری۔محرم الحرام سے ذوالحج تک سارے سال کا جائزہ لیا جائے تو تاریخِ اسلام بے شمار قربانیوں کی آئینہ دار ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نشانِ منزل کی حیثیت رکھتی ہیں کہ کیسے اتباعِ رسالت کے لیے جانوں کے  نذرانے پیش کر کے قربِ الٰہی کی منازل حاصل ہو سکتی ہیں!تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کس محنت،محبت اور کس درد سے اسلام کی عمارت تعمیر فرمائی۔مکی زندگی کے مصائب کو دیکھتے ہوئے مدنی زندگی کی مشکلات کا مطالعہ کریں تو خلافتِ اسلامیہ کی ترتیب کا محور مدنی زندگی دکھائی دیتی ہے۔آپ ﷺ کے وہ خدام کہ جن کی خدمتگار ی پر خود قرآن کریم گواہ ہے،کس عجز وانکساری اور خندہ پیشانی سے آپ ﷺ کے احکامات مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے غزوات وسرایہ سے گزرتے ہو ئے اسلامی عمارت کی تعمیر میں سرگرم عمل رہے۔مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سی ریاست سے مملکتِ اسلامیہ معلوم دنیا کے تین حصوں تک پہنچی لیکن جونہی اس خلافتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی تو ساتھ ہی مشرکین و منافقین و یہود کی سازشیں ظاہر و پوشیدہ طور پر شروع ہو گئیں اس کے ثبوت میں دو عناصر مثال کے طور پر بیان کیے جا سکتے ہیں۔ایک یہود کی اسلام مخالف سازشوں کا اس حد تک بڑھنا کہ انھیں ان کے قلعوں سے نکال باہر کرنا۔دوسرا خطہ عرب اور ملک ِ فارس کی تہذیبوں کا آپس میں تاریخی تقا بل کا ہونا۔جب فتوحات ِاسلامیہ کے سامنے تہذیب ِفارس اس قابل نہ رہی کہ میدانِ کارزار میں مجاہدینِ اسلام کا سامنا کر سکے تو اس کا بھی یہ انداز اختیار کرنا کہ مختلف سازشی عوامل کے ذریعے جہاں تک ہو سکے نبی کریم ﷺ آپ کے خدام ؓ اور خانوادہ رسول سے اپنے تہذیب و تمدن کے اجڑنے اور عینِ حق یعنی اسلام کے پھیلنے کا بدلہ لیا جائے۔
        کوفہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر یہ دونوں سازشی عوامل ظاہر ی طور پر اکھٹے ہو گئے۔اب جبکہ میدانِ کارزار میں مد مقابل نہیں ہو سکتے تھے تو ان کے لیے بہتر طریقہ یہی ہو سکتا تھا کہ وہ دینِ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے خلاف برسرِ پیکار رہیں۔ یکم محرم الحرام جہاں اسلامی سال کا پہلا دن ہے وہیں خلیفہ دوم حضرت عمرِفاروقؓ کا یوم شہادت بھی ہے اور اس عظیم شہادت کے محرکات کے سلسلے میں تاریخ کے اوراق اسی کوفہ کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔پھر علی ا لترتیب حضرت عثمانِ غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادت کی کڑیاں بھی انھیں عوامل کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔اب دیکھیں کہ انسان جب انسانیت کی بلندی سے گرتا ہے تو ظلمتوں کی حدود کو کہاں تک پارکرتا چلا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا میں وہ خون بہایا گیا جو نبی اکرم ﷺ کے مبارک خون کا حصہ تھا۔یوں تو خون حرام ہے لیکن یہ وہ خون تھا کہ جس کے پینے والے صحابی رسولؐ  کو نبی اکرمﷺ نے وہاں تک ارشاد فرما دیا کہ اب تم پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔یہ خون اُس ذات سے وابستہ تھا جسے اللہ رب العزت نے مجسم رحمتِ پیدا فرمایا،خالق اور مخلوق میں رحمتِ باری تعالیٰ کے پہنچنے کا واحد ذریعہ بنائی اور جس ذات پر اپنی جان،والدین،اولاد تک کو قربان کردینے کا جذبہ نہ ہو تو انسان مقصدِ تخلیق کو نہیں پا سکتا اور وہ عیمان جو کہ شرط ہے قربِ الٰہی کا حاصل نہیں کر سکتا۔وہ ذات کہ جس ذات کی شفاعت کے بغیر روز محشر کوئی رحمتِ باری کو نہیں پا سکتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس ذات کی خاطر جان،مال،آبرو،والدین،اولاد جو کچھ ہوقربان کر دیا جاتامگر جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جب انسان،انسانیت کی سطح سے گرتا ہے تو پھر وہ ظلمتوں کی حدوں کو پار کر جاتا ہے اور یہ واقعہ کربلا کہ جس کی تاریخ دس محرم الحرام حرفِ عام میں ہے،خواہ اس کی تاریخ سے کلی طور پر اتفاق نہ بھی ہو اس واقعہ کی صداقت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔
     یزیدیت کیا تھی؟ کہ وہ شخص جس نے خلافت ِ اسلامیہ میں پہلی بار اقتدار،فوج،طاقت،حکومت اپنی سمجھ لی تھی۔اس کے اس انداز پر خانوادہ رسول نے اتفاق کرنے کی بجائے اُس خون کو کہ جس کی حرمت میں پہلے بیان کر آیا ہوں،کربلا کی خاک میں ملانا بہتر سمجھا اور اگر مثال کے طور پر یہ گمان کیا جائے کہ روزِ محشرحضرت امام حسین ؓ سے نبی اکرمﷺ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے میرا خون اس طرح سے خاکِ کربلا میں کیوں ملا دیا؟ تولامحالہ یہ جواب ذہن میں آتا ہے کہ اے نانا ایک طرف آپ کا بتایا ہوا حق کا راستہ تھا اور دوسری طرف یہ خون۔میں نے آپ کے حکم کے مطابق اس خون کو خاک میں ملادینا بہتر سمجھا۔حضرت آدم سے لے کر روزِ قیامت تک دوہی اندازِ فکر ہمیشہ انسانیت کے سامنے رہیں گے۔ایک یزیدیت کا اور دوسرا حسینیت کا۔آج ہمیں بھی انہی دو نظریات میں سے کسی ایک نظریہ پر قائم ہونا ہے۔ایک طرف 
نبی اکرم ﷺ کی راہنمائی ہے اور دوسری طرف اس کے مقابل حزب الشیاطین کا راستہ ہے۔تو کیا یہ کافی ہو گا کہ محرم الحرام کے چند ایام میں رواجی طور پر ان واقعات کو  یا د کرلیں۔کچھ دیگیں پکائیں،محافل منعقد کریں؟ یا اپنی ذات کی سوچ سے عمل تک اتباعِ محمد رسول اللہ ﷺ کے تابع کریں چاہے اس کے لیے ہمیں واقعہ کربلا جیسی عظیم 
 قربانی کی سنت کو تازہ کرنا پڑے؟
         اس واقعہ کا اگر بغور مطالعہ کریں اور آج کے حالات کو دیکھیں تو یہ بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جو اسلام مخالف قوتیں تب تھیں وہی آج بھی شدومد سے نبی کریمﷺکی ذات کے خلاف برسرِ پیکارہیں۔مگر ضرورت اس دعا کی ہے کہ 
 ہے  
لشکرِکوفی  تو  آمادہ پیکار     دے ہم کو خدایا تو حسین ابن علی دے 


         
                                                                                         

شخصی اور فکری آزادی


14 اگست 1947 بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا مبارک دن ہے۔انسانی دسترس جتنی بھی ترقی کرتی جائے بہرحال محدود ہے۔اسی طرح ایام کا شمار بھی محدود ہے۔مواقع بدل جاتے ہیں،نسل در نسل تبدیلیاں وقوع پزیر ہو جاتی ہیں مگر تواریخ وایام پلٹتے رہتے ہیں۔امسال بھی 14 اگست،یوم آزادی کی آمد ہے تقریباً 73سال گزرنے کے باوجود ہم ہیں کہ آزادی کی روح سے نا آشنا ہیں۔آزادی یعنی وہ جو اپنی مرضی سے عمل کرسکے۔آزادی کے دوپہلوہیں،ایک شخصی آزادی اور دوسری فکری آزادی۔شخصی آزادی کہ جس میں ایک شخص اپنے ہر عمل کے اختیار کرنے میں کسی کا پابندنہ ہو،اپنی مرضی کا مالک ہو۔فکری آزادی کہ کسی عمل کے اختیار کرنے کے ارادے میں بھی آزاد ہو یعنی کسی عمل کے اختیار کرنے میں کسی اور کی تقلید نہ کرنے اور کسی غیر قوم یا فرد کی رَوش کو اپنی راہ نہ سمجھے۔1857ء کی جنگ آزادی سے لے کر 14اگست1947ء تک برصغیر کے مسلمانوں نے بڑے بڑے خوبصورت اور دلیر بیٹے اپنی قوم کی بنیادیں استوار کرنے میں لگائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈین نیشنل گانگرس جو کہ 1885ء میں معرض وجود میں آئی،کے دھوکے سے نکل کر1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا اورعلامہ اقبال کے دوقومی نظریے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی قوم کے ہمراہ 14اگست1947ء کے دن کو پایا۔ان تمام عظیم قربانیوں کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ انگریز کی وہ سلطنت کہ جس میں سورج غروب نہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھاجنگ عظیم اوّل اور دوم کے زخموں سے جانبر نہ ہوسکی اور مجبور ہوگئی کہ مفتوحہ علاقوں کو واپس لوٹا دیا جائے۔ 14اگست1947ء وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا دن ہے اس کے پرچم کے ہوا میں لہرانے پہ لاکھوں لوگوں نے نے اپنے خون کی سلامی پیش کی۔آج اس قوم کی آزادی کی عمر73سال ہورہے مگر کیا وجہ ہے یہ آزادی لسانی تعصب کی تلخی کو دور نہ کرسکی؟ یہ آزادی فرقہ واریت کے شعلوں کو ٹھنڈا نہ کرسکی؟ یہ آزادی ایک آزاد انسان کو آزادی کے اصل مفہوم سے آشنا نہ کرسکی۔
لفظ "ملک" فقط خطہ زمین کو نہیں کہا جا سکتا ہاں مگر باسیوں کے وجود سے اپنے معنی کی تکمیل پاتا ہے اور انسانی  معاشرے کی ترقی کا انحصار حقوق و فرائض کی مساوی تقسیم پر ہوتاہے اور مساوات آزادی کے بنا ممکن نہیں۔بحمدللہ بحیثیت مسلمان وجود انسانی کے تخلیقی عناصر کی جو راہنمائی نصیب ہوتی ہے اس کے تحت مٹی،آگ،ہوا،پانی اور ان عناصر کی آمیزش سے پانچواں عنصر نفس ہے۔نفس کا وجود غیر مرئی ہے مگر وجود ہے جیسے کان وجود رکھتے ہیں مگر شنوائی غیر مرئی ہے،آنکھیں وجود رکھتی ہیں مگر نظر غیر مرئی ہے۔عناصرِ وجود کا عالم خلق سے ہونا نفس کی خلق کی طرف رغبت کا سبب ہے۔اس لیے انسانی معاشرے کی معراج کے لیے قوانین کا ہونا بے معنی ہے سوائے نفاذ کے وگرنہ صدیاں بھی گزر جائیں تو بھی آزادی کے معنی سمجھ نہیں آسکتے۔
اقوام عالم کی محکومی و آزادی کو تاریخ کے اوراق میں دیکھنے سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جب کوئی قوم محکوم ہو جائے تو اس کی قدریں تک محکومی کی نظر ہو جاتی ہیں اور پھر چاہے غالب قوم کسی بھی سبب سے محکوم قوم کو آزاد بھی کر دے تو بھی قدریں واپس نہیں آتیں۔زبان وانداز ہو یا لباس و معاشرت،غیر کا ہی اعلی لگتا ہے جیسے آج ہمارے معاشرے کا حا ل ہے ہاں مگر قوت بازو  آزادی کا سبب بنے تو قومیں جی اُٹھتی ہیں اور ظاہری آزادی کے ساتھ ذہنی آزادی کی حقیقت تک بھی پہنچ جاتی ہیں۔
برصغیر پہ قابض ہونے کے بعد لارڈمیکالے نے جو رپورٹ ملکہ کو لکھی اس کے مطابق ایسی قوم جس لٹریسی ریٹ چوراسی فیصد سے بھی زیادہ ہو کو زیادہ دیر تک محکوم نہیں رکھا جاسکتا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پھر ہمارا نظام ِ تعلیم بری طرح سے تباہ کیا گیا اور ہماری ظاہر غلامی سے فکری غلامی تک جکڑ دیا گیا۔بے شک 14اگست ہماری ظاہری یا ذاتی آزای کا دن ہے مگر 73سال کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمیں تاحال من حیث القوم فکری آزادی درکا رہے۔فطری بات ہے کہ کوئی بھی تخلیق اپنے وجود میں مقصدِ تخلیق کا عنصر رکھتی ہے۔قرآن و حدیث میں بے شمار دفعہ واضح طورپر انسان کا مقصدِ تخلیق ملتا ہے اور بحیثیت مسلمان جب آزادی کا اصل مفہوم بیان کیا جائے گاتو وہ ا س کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلمان اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے تابع ہوکر غیر اللہ کی غلامی سے آزادی ہے۔
16رمضان المبارک 8ہجری فتح مکہ کا دن ہے۔ ورقہ بن نوفل کی پیش گوئی،کاش میں اس دن زندہ ہوں جس دن آپ ﷺ کو شہر بدر کردے گی تو میں آپﷺ کی معاونت کروں،کے دن سے لر کے فتح مکہ کے دن تک نبی کریمﷺ کیسے کیسے مراحل سے گزرے۔ آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین کہ جن کے صدقے رزق نصیب ہوا،انھیں اور ان کے رفقا کو سوکھے چمڑے ابال کر کھانے پڑے۔ آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے لیکن آپ ﷺ نے سنگ بدستوں پر پہاڑوں کا الٹادیاجاناپسندنہیں فرمایا۔وطن چھوڑا،عزیز واقارب کے وجود کے مثلے ہوئے اورنجانے کتنی قربانیوں کے وہ دن آیا کہ بالآخر کفر کی کمر ٹوٹی اور آپ ﷺ اونٹنی پر سوار اتنا سر جھکائے کہ کوہان سے لگے،شہر مکہ میں داخل ہوئے اور۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ عظیم دن ہمیں یاد نہیں اور شکاگو کے مزدور کی موت اتنی یا د ہے کہ اس دن قومی چھٹی ہے،اپنے اجداد کی پگڑیاں یاد نہیں کہ ایوانِ سلطنت میں بغیر پگڑی کے بیرا قبول نہیں۔ہندو ماتھے پر تلک لگائے دنیا گھومے اور ہمارے سرکاری دورے ٹائی کوٹ کے بغیر ادھورے ہیں۔قوم کا لیڈر قوم سے زبانِ غیر میں مخاطب ہو۔۔۔۔۔۔۔اور فکری غلامی کیا ہوتی ہے؟
ہمیں ضرورت ہے کہ ہم 14اگست کو پرچم کشائی کے بعد جب قومی ترانہ پڑھیں تو پہلے کلمہئ طیبہ پڑھیں۔اپنا نظام ِ تعلیم بہتر اور یکساں بنائیں،اپنے بچوں کو اغیار کی نہیں بلکہ اپنی تاریخ پڑھائیں۔جب قومی حمیت جاگے گی تو فکری آزادی حاصل ہوگی تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم آزاد ہیں۔  کسی بھی ریاست کی کامیابی کاانحصار پانچ بنیادی نظام ہوتے ہیں۔تعلیم،انصاف،معیشت،صحت اورسیاست۔اے کاش  یہ14 اگست ہمیں یہ باور کرانے کا سبب بن جائے کہ ہمارے یہ پانچ بنیادی نظام ہمارے ہی مرتب شدہ ہیں اور کیا یہی طرز ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں!
تمام کمزوریوں کے باوجود ایک اصول ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہے کہ کبھی بھی ایک غلطی دوسری غلطی کے صحیح ہونے کا جواز نہیں ہو سکتی اس لیے ضروری ہے کہ کسی کے غلط عمل کو دیکھ کر "میں " غلط نہ کروں۔میرا ملک ہے،میری قوم ہے،میرا قانون ہے،میرے ادارے ہیں 
 "  میں "ملک وقوم کی ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں ہوں۔
پاکستان زندہ باد!تمام اہل وطن کو یوم ِ آزادی مبارک!
 















                                                                
۔























کیا ہم آزاد ہیں

 اگست کا مہینہ ہے،سرکاری اور سیاسی سطح پر جشن آزادی منانے کی تیاریاں زوروں پرہیں یقیناً اس کا خرچہ اربوں تک جائیگا چونکہ کروڑوں کا خرچ تو یہ قوم بسنت منانے پہ کرتی ہے۔میرے خیال میں جشن آزادی ا ن لوگوں کو منانا چاہیے جو واقعی آزاد ہوں اور اس کانام جشن آزاد ی صحیح نہیں ہے بلکہ یہ ایک یادگار دن ہوتا ہے اور یہ دن آنے والی نسلوں کو حصول آزادی کے لئے جو قربانیاں دی گئیں، جو مشکلات پیش آئیں اور جو قیمت ادا کی گئی،سے آگاہ کیا جاتا ہے تا کہ وہ اپنی اس آزادی کو ایک عام سی بات نہ سمجھیں ان کے علم میں ہوکہ اس کے لئے کتنی جانیں دی گئیں؟کتنے گھر قربان ہوئے؟کتنی جاگیریں اجڑیں؟کتنی عزتیں لٹیں؟ کتنے لوگ قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے؟ اورکتنے لوگوں کے وجود خاک میں ملے؟ تب جا کر کچھ لوگوں کو آزادی نصیب ہوئی۔
 جشن تو ایک فضول سی اچھل کود،تفریح اور تماشے کا نام ہے، آزادی کا جشن نہیں ہوتا۔یوم آزادی تو ایک تاریخی اور یادگار دن ہوتاہے جسے پوری متانت اور سنجیدگی سے منایا جائے۔ سجدہ شکر بجا لاتے ہوئے آزادی کی تاریخ دہرائی جائے۔ پٹاخوں پر اور رنگ برنگی جھنڈیوں پر پیسے ضائع کرنے کی بجائے بیوہ عورتوں کی نگہداشت او ر تعلیم میں مستحق کی مددپر خرچ کیا جائے۔ جس طرح اسلام میں عید منائی جاتی ہے کہ اللہ کا شکر بھی ادا کیاجائے اور ہر مفلس بے کس و بے بس کو اچھے کھانے میں شریک بھی کیاجائے اسی طرح آزادی کا دن منایا جانا چاہیے کہ کم از کم ایک صبح کو تو چودہ کروڑ بندوں میں سے کوئی بھوکا نہ رہے،کسی کی آبرو نہ لٹے، کیا کوئی ضمانت دے سکتا ہے کہ چودہ اگست کو کہیں ڈاکہ نہیں ہو گا؟کسی کی آبرو نہیں لٹے گی،کہیں چوری نہیں ہو گی، کوئی رشوت نہیں لے گا۔اگر یہی سب کچھ ہونا ہے تو آزادی کس بلا کا نام ہے؟ اور جب ہمارے سوچنے پر پابندی ہے۔ تعلیم ہم اپنی مرضی سے حاصل نہیں کر سکتے۔ سیاست اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے۔عدلیہ میں ہمارا دخل نہیں ہے۔ جہاں ہمیں اسلام کو اپنا طرز حیات بنانے کا اختیار نہیں وہاں جشن آزادی کیسا؟
  لوگ کہیں گے جی کیوں اختیار نہیں؟ ہم نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں،اذانیں دیتے ہیں، حج اداکرتے ہیں اورزکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ موجودہ دورمیں اسلام کا سب سے بڑا دشمن اوربدترین ریاست اسرائیل ہے۔ کیااسرائیل کے قبضے، امریکہ،جاپان میں جو مسلمان ہیں وہ نمازیں نہیں پڑھتے،روزے نہیں رکھتے اور حج نہیں کرتے۔ہندوستان میں جو مسلمان ہیں وہ ہم سے زیادہ نیک ہیں نمازیں پڑھنا آزادی نہیں ہے۔ہم تو نماز بھی آزادی سے نہیں پڑھ سکتے۔ جبکہ ہندوستان میں پہرے کے بغیر پڑھی جاتی ہے۔
 دور غلامی میں جنہیں غلام رکھا جاتا تھا ان کے کھانے، پینے،لباس اور سونے جاگنے کی فکرمالک کوہوتی تھی۔کام تواس سے رات دن لیتا تھالیکن اس کے زندہ رکھنے کی فکراسے ہوتی تھی۔اب اس نئے زمانے میں غلامی کے انداز بھی بدل گئے کہ غلام کام توآقاکے لئے کرے اور اپنی حیات کی فکر بھی خود کرے۔ یہ جدید دور کی غلامی ہے۔آپ نے دیکھا دیہات میں یا بھٹوں پر یا خانہ بدوشوں کے پاس عام قسم کے گدھے ہوتے ہیں کچھ گدھے بھی خوش نصیب ہوتے ہیں کہ وہ دانہ کھاتے ہیں۔ کچھ ان سے دوسرے درجے پرہوتے ہیں جنہیں چارا اورسوکھی گھاس تومل جاتی ہے۔ایک تیسرے درجے کے گدھے ہوتے ہیں ان پر وہ سارا دن بھٹے پر مٹی ڈھوئیں گے  خانہ بدوش جھگیاں لاد کر چلیں گے زمیندار کھاد ڈھوتا رہے گا سارا دن اس پر اور جب کام ختم ہوگا تو اس پر سے پالان وغیرہ اتار کر اسے ڈنڈا مارے گا کہ جاؤ اپنا پیٹ بھرو وہ بے چارا کسی روڑی کے ڈھیر پہ کھڑا ہے یا کسی گلی سے گھاس کھا رہا ہے کہیں سے اپنا پیٹ بھرکے خود آئے گاصبح اس کی پشت پر پھر پالان ہو گا،مالک کا ڈنڈا اور بوجھ بھی کمر پر ہو گا۔ہم بھی ضرور جشن منائیں کہ ہم بھی تیسرے درجے کے انسان بن گئے اسی لئے ہمیں تھرڈ ورلڈ کہا جاتا ہے تھرڈ ورلڈ کے پیچھے فلاسفی یہی ہے کہ ہماری مرضی کے مطابق دن رات کام کرو۔ 
 علمائے کرام کو یاد ہو گا کہ انگریز کی حکومت میں جب امن قائم ہو گیا، جھگڑے ختم ہو گئے،سکھوں کی حکومت ختم ہو گئی، ریاستوں نے سرنگوں کر دیا اور بنگال سے لے کر کابل کی سرحد تک اور ہمالیہ سے دکن تک تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ایک قانون کی علمداری ہو گئی، عدالتیں بن گئیں،زمین کے بندوبست ہو گئے،بظاہر سارا امن قائم ہو گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ جب انگریزوں کے خلاف جہاد ہو رہا تھا تو اس وقت برصغیر دارالحرب تھا اب کیا یہ دارالامن قرار پائے گا؟علماء کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ برصغیرمسلمانوں کے لئے دارالحرب ہے کہ بظاہر قتل وغارت گری نہ سہی لیکن مومن کی معاش،تعلیم،انصاف کے اداروں،عدلیہ، اقتدار اعلیٰ اور سیاسیات کے راستوں پر کافرانہ نظام کا غلبہ ہے لہٰذا اس میں جہاد فرض ہے اور یہ دارالحرب ہے۔ جب یہ دارالحرب قرار دیا گیا تو ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔کیا اب پورے برصغیر میں جمعے کی نماز چھوڑ دی جائے؟جس پر یہ فیصلہ ہوا کہ جمعے کی نماز نہ چھوڑی جائے لیکن جمعے کے بیان یا خطبے اور دو فرض ادا کرنے کے بعد چار رکعت ظہر کے بطور احتیاط ادا کیے جائیں۔ نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد اس لئے برقرار رکھا گیا کہ پورے برصغیر میں جمعہ بند کرنا مناسب نہیں ہے لیکن چونکہ دارالحرب ہے،جمعہ ادا نہیں ہو گا لہٰذا احتیاطً جمعہ پڑھنے کے بعد اپنے چار رکعت فرض ظہر کے دہرا لیجئے۔

 آزادی ہمیں کس بات سے حاصل کرنی تھی؟کافرانہ نظام سے،سود کے معاشی نظام سے آزادی چاہیے تھی، عدلیہ میں وہ قانون چاہیے تھا جو اللہ کے رسول ﷺ نے اللہ کی کتاب کی صورت میں عطا فرمایا۔سیاسیات کا وہ راستہ چاہیے تھا جو آزادانہ ہے۔جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے عطا فرمایا۔تعلیم وتعلم میں وہ انداز چاہیے تھا جو آزاد ہو۔جو غیر کی چھاپ سے پاک ہو۔جو آدمی کو علم عطا کرتا ہو۔ ہمارا نظام تعلیم علم عطا نہیں کرتا خبر دیتاہے۔ اخبار میں سارے جہان کی خبریں چھاپ دو اس کی صحت پرکوئی اثر نہیں پڑتا۔اگریہ حال انسان کا ہو تو وہ بدکار ہے تو بدکارہی رہے گا، چور ہے تو چور ہی رہے گا، سست ہے تو سست ہی رہے گا، بے دین ہے تو بے دین ہی رہے گا اور لکھنا پڑھناسیکھ جائے جمع تفریق بھی سیکھ جائے تو اسے علم سمجھنا نادانی ہے۔
  انگریز نے جو نظام تعلیم بنایا۔وہ یہاں علم تقسیم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے تو علم کے راستے روکے لیکن کاروبار سلطنت چلانے کے لئے جس طرح کمپیوٹر میں خبر فیڈ کی جاتی ہے اس طرح کچھ ذہنوں میں اعدادوشمار یا الفاظ و حروف ثبت کرنا چاہتا تھا کہ وہ چٹھی پڑھ سکیں،دو اور دو چار جمع کر سکیں۔ علم وہ ہوتا ہے جو انسان کی سوچ بدل دے،اس کا حال بدل دے،اس کی فکر بدل دے،۔اس کا نظریہ تبدیل کر دے، اسے معاملات میں وہ شعور عطا کردے جو حقیقت پر مبنی ہو۔
 اب علم بھی نہیں ہے۔اپنی آزادی سے ہم کوئی چیز خرید بھی نہیں سکتے خواہ مخواہ عجیب و غریب ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں اپنی مرضی سے ملکی منصوبے نہیں بنا سکتے،اپنی مرضی سے سفیر اور وزیر مقرر نہیں کر سکتے اور اگر یہ کہا جائے کہ ہم اپنی مرضی سے جرنیل بھی نہیں بنا سکتے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ہمارے ایک ریٹائرڈ آرمی چیف جو وائس چیف بھی بڑا عرصہ رہے ایک دن فرمانے لگے کہ اس ملک میں جتنے بھی آرمی چیف آئے ہیں وہ مغربی طاقتوں نے بنوائے ہیں۔تو کیا ایسے لوگوں کو اپنے آپ کو آزاد سمجھنے کا اور جشن آزادی پہ اربوں روپیہ لٹانے کا کوئی حق پہنچتا ہے؟ کیا مداری کا بندر آزاد ہوتا ہے؟کیا فال نکالنے والے کاطوطا آزاد ہوتا ہے؟ہماری آزادی اسی پالتو طوطے کی آزادی ہے کہ فال نکالو،چوری کھاؤ،مٹھائی کھاؤ،میوہ کھاؤ اور پھر پھرا کر پھر اسی پنجرے میں جا کر آرام کرو۔
 ایک جگہ ہسپتال بنتا ہے کسی غریب کو صرف یہ سپورٹ ملتی ہے کہ وہ ہسپتال جاتا ہے ڈاکٹر کہتا ہے شام کو میرے گھر یا کلینک پہ آنا۔جہاں اسے مفت دوائی ملتی مفت معائنہ ہونا چاہیے وہاں نہیں ہوتا،وہ گھر پہنچتا ہے، اسے پانچ روپے کی دوا پچاس میں دیتے ہیں اور پھر یہ ضروری نہیں کہ دوائی اصل بھی ہو۔
 پاکستان میں کتنے سکول ایسے ہیں جن میں اساتذہ نے باریاں بنا رکھی ہیں اگر دس ہیں تو پانچ آئیں گے۔ اگلے دن وہ پانچ ہوں گے دوسرے پانچ نہیں ہوں گی۔ تنخواہ دس لے رہے ہیں۔کام تین چار پانچ کر رہے ہیں۔ انفرادی طور پر کتنے لوگ اس پر احتجاج کرتے ہیں درخواستیں بھی دیتے ہیں۔اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا جوجرم کرتا ہے پولیس سے بانٹ کر کھاتا ہے اس سے کوئی نہیں پوچھتا جو پولیس کو حصہ نہیں دیتا وہ پکڑا جاتا ہے۔پولیس بھی جانتی ہے کہ اس علاقے میں جس کے لوگوں نے برطانوی عہد میں الآمین اور برلن سے لے کر جاپان کے مورچوں تک داد لی تھی۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے جاپانیوں کے ایراوتی کے مورچے توڑے تھے جہاں سے اس کی شکست ہوئی تھی اور رومیل کو شکست دے کر الآمین کا مورچہ چھینا تھا۔ ابھی بھی لوگ زندہ ہیں۔اسی زمین کے بچے تھے جنہوں نے چونڈہ میں ہندوستانی ٹینکوں سے ٹینک ٹکرا دیے تھے۔تعلیمی سہولت نہیں ہے لیکن پدھراڑ سے لیکر خیرپور تک دیکھ لو کہوٹ جیسے پسماندہ گاؤں نے بھی اس قوم کو جرنیل دیئے کتنے قابل لوگ اس علاقے کے ایک ایک گاؤں نے دیئے لیکن علاقے میں سہولت کیا ہے؟ جو بچے بھیڑیں چراتے مر جاتے ہیں اگر انہیں تعلیم دی جاتی تو شاید ان میں کتنے دانشور، ادیب، شاعر، عالم اور جرنیل ہوتے یہ بنیادی اوراجتماعی مسائل ہیں ہمارے۔
 انگریز نے برصغیر میں پہلے سے رائج اسلامی نظام کو اول و آخر تبدیل کرکے اپنا نظام نافذ کر دیا جب ہم آزاد ہوگئے تو آزادی کا معنی تو یہ تھا کہ ہم اس پورے نظام کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیتے اور اپنا نظام رائج کرتے لیکن آزادی ہے کہ قوم پر وہی استحصالانہ نظام نافذ ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں وہی زنجیریں ہیں وہی بیڑیاں ہیں۔گلے میں وہی طوق ہیں اگر تبدیلی آئی تو صرف اتنی کہ انگریز آقا کی جگہ مقامی آقا آگئے۔مقامی لوگوں میں سے جو ملک کے غدار اور انگریز کے وفادار تھے اپنے ان خدمت گاروں کو انگریز جاتے ہوئے ان زنجیروں کا سرا پکڑا گیا اور ہمیں ا خوش فہمی میں مبتلا کر گیا کہ ہم آزاد ہیں۔
کیا کسی آزاد ملک میں ایسا ہونا ممکن ہے؟کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت ساٹھ ججوں کو آن واحد میں کوئی حکمران اٹھا کر پھینک دے اور ان کا کوئی فریاد رس بھی نہ ہو کسی آزاد ملک کے کسی شہری کو بیچ بازار کوئی اٹھا کر گوانتا ناموبے کی جیل بھجوا دے اور اس کے بیوی بچے لا پتہ افراد کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہیں اور ان کی
 فریاد سننے والا کوئی نہ ہو۔یہ آزادی نہیں بدترین غلامی ہے،ہم غلاموں کے غلام بن چکے ہیں۔
  نظام حیدرآباد دکن جشن آزادی منا رہے تھے ان کے ایک وزیرنے حفیظ جالندھری سے کہا کہ آپ بھی قصیدہ لکھیں۔انہوں نے قصیدہ لکھا جس میں اسی شعر تھے۔انہوں نے وہ قصیدہ نظا م صاحب کے سامنے پڑھا۔وہ نصف تک پہنچے تو نظام صاحب اٹھ کر ناراض ہو کر زنان خانے میں چلے گئے اوروزیر صاحب نے حفیظ صاحب کو اپنی گاڑی میں بٹھایا حیدر آباد کے بارڈر پر پہنچ کر کہا کہ اب آگے مجھے نہیں پتہ کیاکرو گے لیکن حیدر آباد سے نکل جاؤ یہاں زندہ نہیں بچو گے۔ حفیظ جالندھری نے کہا تھا کہ
 سانپوں  کو  آزادی  ہے  آباد گھروں میں بسنے کی  سر میں ان کے زہر بھی ہے اور عادت بھی ہے ڈسنے کی
 شاہین کو  آزادی ہے  آزادی سے  پرواز  کرے 
 اور ننھی  ننھی چڑیوں  پر  جب چاہے مشق ناز کرے
 شیروں  کو  آزادی  ہے  آزادی  کے  پابند  رہیں 
 جس کو  چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں پیئں آنند  رہیں 
 مجھے اس قصیدے کے یہ تین شعر یاد رہ گئے ہیں۔ جشن ہمیں بھی ضرور منانا چاہیے کیوں کہ حیدر آبادی آزادی ہمیں بھی حاصل ہے۔سانپ،بھڑیے،شیر،جواری اورشرابی بھی آزادہیں۔بدکاری کے اڈے چلانے والے اور جوا خانے بھی آزادی سے چل رہے ہیں۔قوم میں غیرت کا فقدان ا س حدکو چھو رہا ہے کہ جگہ جگہ سے خطوط آتے ہیں کہ جی فلاں جگہ یہ ہو رہاہے اس کیلئے کچھ کیاجائے نیچے لکھا ہوتا ہے ایک خیر خواہ،خدا کا ایک بندہ۔اب اپنا نام لکھنے کی جرأت نہیں ہے۔جہاں غیرت یا ایمان نہیں ہوتا وہاں احتجاج نہیں کیا جاتا۔پیشہ ور عورتوں کے جو دلال ہوتے ہیں ان کے خاندان کے لوگوں میں غیرت نہیں ہوتی وہ احتجاج نہیں کرتے۔کون ان کے گھر آیا؟ کب آیا؟ کب گیا؟کبھی سنا آپ نے کہ کسی نے احتجاج کیاہو؟جس بند ے میں اتنی غیرت نہیں ہے کہ وہ اپنا نام ظاہر کرے تو بے غیرت کو احتجاج کرنیکا حق نہیں ہوتا۔ 
 آزادی، آزادی فکر کا نام ہے۔ آ زادی،آزادی حیات کانام ہے۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول کے لئے بڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں لیکن جب مل جاتی ہے تو پھر اس کے لئے رو زلڑنا پڑتا ہے۔اپنے آپ سے،افکاراور حالات سے کہ پھرآزادی نہ کھو بیٹھیں۔ آزادی کی حفاظت کے لئے ہر طلوع ہونے والا سورج جدوجہد کا پیغام لے کر آتا ہے اور جو نہیں کر سکتے وہ آزاد نہیں رہتے اب زمانہ بدل گیا ہے۔
 نیرنگی سیاست  دوراں  تو  دیکھئے
 منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
 عبدالرب نشتر نے اس شعر میں فرمایا کہ سیاست کی نیرنگیاں بھی عجیب ہیں جو اس وقت آزادی کی مخالفت کرتے تھے آج وہ اقتدار میں ہیں اور ہم جنہوں نے جانیں لڑائیں ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں کہ یہ کیسے لوگ ہیں؟
 میں یہ بات باور کرانا چاہتاہوں کہ ہمیں جشن آزادی زیب نہیں دیتا کہ ہم آزاد نہیں ہیں بلکہ ہمیں ابھی حصول آزادی کی جدوجہد کرنا ہے۔جہاں ہم اپنے عقیدے کا مطابق اپنے معاشی،عدالتی،سیاسی، تعلیمی معاملات،اپنا مستقبل  اور اپنا حال قرآن وسنت کے سانچے میں ڈھال سکیں۔جہاں ہر ایک کے لئے سلامتی ہو۔ امن ہوہر ایک کو انسانی حقوق ملیں ہر ایک کے لئے عبادت کی آزادی ہو۔،رزق حلال میسر ہو۔ عزت و آبرو کا جانومال کا تحفظ میسر ہو۔ہمیں وہ اسلام چاہیے اور وہ ہماری خواہش وآرزو سے اور نری دعاؤں سے نہیں ملے گا۔جن لوگوں نے صرف گوشہ نشینی اور دعاؤں پہ تکیہ کیا ہے انہیں یہ بتا دوں کہ دعا کا سلیقہ یہ ہے کہ
مکے کے ہزار ٹرینڈجانباز اور منتخب لڑاکے شہسوار وافر راشن، وافر اسلحہ،وافر سواری،تمام اسباب جنگ کے ساتھ بدر میں خیمہ زن ہیں اور دوسری طرف اللہ کا حبیب ﷺ  کے ساتھ تین سو تیرہ افراد کل چھ زریں، دو گھوڑے،آٹھ تلواریں، کچھ تیر کمانیں اورراشن میں پانچ پانچ کھجوریں۔لشکر کو صف آرا کرکے نبی رحمت ﷺ نے عریش بدرمیں دعا کے لئے دست مبارک اٹھا دیئے۔ اے اللہ آج میں سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں اگر یہ لوگ یہاں کھیپ رہے ”فلن تعبدا ابدا“قیامت تک لوگوں کی پیشانیاں تیرے سجدوں سے محرو م ہوجائیں گی۔مکے کے چیدہ چیدہ کافر مارے گئے ستر قید بھی ہو گئے بڑے بڑے جواں مرد اور بڑے بڑے پہلوان۔جب ہم نتیجے پر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے محمد رسولﷺ کی عریش بدر کی دعا کا نتیجہ تھا۔جب دعا ہی سے سارا کام ہونا تھا تو حضورﷺ مدینہ طیبہ میں ہاتھ اٹھا دیتے تو کام ہو نہ جاتا۔لیکن دعا کا سلیقہ سکھایا۔نبی علیہ الصلوۃوالسلام نے کہ جوتمہارے بس میں ہے وہ کر گزرو،ڈیڑھ سو کلو میڑسفر کرو، بدر میں پہنچو،روزہ قضا کرو، ٹوٹا پھوٹا اسلحہ ہے لے آؤ،اپنی جان حاضر کرکے اب موقع ہے دعا کا اب دعا کرو خدایا مدد کر۔
 محمود غزنوی نے ہندوستان پرسترہ حملے کئے اس کا ٹارگٹ سومنات کا بت تھا۔ وہاں جب پہنچا تو ہندوستان کے سارے ہندو راجے مہاراجے اس بت کی حفاظت کے لئے اکٹھے ہو گئے تب سلطان نے زمین پر سر رکھ کر اللہ کو پکارا کہ اے اللہ میں نے سترہ حملے کیے جان لڑا دی بندے شہید کرائے غزنی سے گجرات کاٹھیاواڑ تک کا راستہ صاف کیا اب تیری عطا سے میں یہاں پہنچا ہوں۔اب مجھے یہاں سے نامراد نہ لوٹانا۔پورے ہندوستان کے لشکر تھے اللہ نے ایسی مدد کی کہ سب کو شکست ہوئی اور سلطان اس بت کو توڑ کر لے گیا اور غزنی کی مسجد کی سیڑھیاں اوردروازے بنا دیں۔اب وہ غزنی میں دعاکرتا کہ اللہ مجھے سومنات پر فتح دے دے تو وہ مسنون طریقہ نہ ہوتا۔
 صلاح الدین ایوبی ساری عمر لڑتا رہا جب بیت المقدس کے دروازے پر پہنچا تو ہاتھ اٹھا دیئے کہ اللہ یہاں تک پہنچنا میرے ذمے تھا اسے آزاد کرانا تیراکام ہے۔اے دعا گوؤو! دعا مانگو میدان میں نکل کر،اپنا نام لکھ کر مشورے مت دو،اپنی جان پیش کر کے دعا مانگو دین برحق کے غلبے،انصاف کے قیام، حقوق انسانی کی بحالی، غریب کو بھی زندگی میں حصہ دینے،غریبوں کے بچوں کی تعلیم،غریبوں کے علاج معالجے،ان کے اسلامی اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے میدان میں اترواور پھر دعا مانگو۔وہ قادر ہے، حیی وقیوم ہے۔نبی علیہ السلام بھی وہی ہیں۔ کتاب بھی وہی اور دین بھی وہی ہے۔ ہم بدل گئے ہیں اگر ہم ٹھیک ہو جائیں تو فرشتے آج بھی اتر آئیں گئے۔اللہ کریم ہماری قوم کو آزادی کا شعور دے اور اس کی قدروقیمت سے آگاہ کرے اور اسے قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آزادی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی غلامی کانام ہے اس سے باہر آزادی کا کوئی تصور نہیں

حج اپنے سینوں میں عشق رسول ﷺ موجزن کرنے کا ذریعہ

حج کیا ہے؟ اسلام کے ا رکان میں سے ایک رکن حج ہے اسلام کے بنیادی ستون یا ارکان پانچ ہیں۔ کلمہ طیبہ، اللہ کی ربوبیت،نبی رحمت ﷺ کی نبوت کا اقرار اور غیر اللہ کی ربوبیت کا انکار اس کے بعد پانچ وقت کی فرض نماز کی پابندی،تیسرا ہر سال رمضان المبارک کے روزے، چوتھا رکن زکوٰۃ اور پانچواں حج ہے یہ زکوٰۃ اورحج کو چوتھے اور پانچویںنمبر پر اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ ہر ایک پر فرض نہیں ہیںان کے لیے ایک خاص مالی معیار ہے۔حج اس آدمی پر فرض ہوتا ہے جو مالی اعتبار سے اس قابل ہو کہ آنے جانے اور وہاں کی رہائش کا خرچ اس کے پاس ہو جتنا عرصہ گھر سے باہر رہنا ہے اتنے عرصے کا خرچ اپنے زیرِکفالت حضرات کو دیکر کر جائے اس کی صحت اس کو آنے جانے کی اجازت دیتی ہو یہ ساری باتیں ہوں تو پھر اس پر حج فرض ہوتا ہے ان میںسے ایک بھی بات نہ پائی جائے تو حج اس پرفرض نہیںہوتااگر حیثیت ہو تو مسلمان بیت اللہ شریف میں جائے حج کے ارکان ہیںلیکن ان سب ارکان کا حاصل اور ایک نتیجہ بھی ہے اگر آپ مختصر ترین الفاظ میں بیان کر جائیں تو وہ یہ ہو گا کہ اللہ کریم کے سامنے ہتھیار پھینک دینے کا نام حج ہے یعنی اپنے اختیار اور ارادے سے کفن لپیٹ کر غسل کر کے دو نفل ادا کر کے بیت اللہ شریف میں حاضر ہو کر اللہ کے روبرو یہ اقرار کر کے کہ خدا یا جو ہو چکا وہ ہو چکا تو گزشتہ معاف کر دے آئندہ کے لیے وعدہ کرتا ہوں تیری نا فرمانی نہیں کروں گا اللہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا نام حج ہے اب ظاہر ہے کہ کوئی بار بار تو شکست تسلیم نہیں کریگا شکست یا فتح کا فیصلہ تو ایک بار ہو جاتا ہے اس لیے حج زندگی میں ایک بار فرض ہے اگر کوئی اس ایک بار پر قائم نہیں رہتا تو دس بار بھی کر آئے کیا فرق پڑے گا انسان تو وہی ہے۔
جن کے پاس وسائل نہیں ہیں جو وہاں نہیں پہنچ سکتے ذرائع نہیںہیں ان کیلئے ہر جمعہ حج کی فضیلت رکھتا ہے ہمیں کس نے بتا یا کہ مکہ مکرمہ جائو؟ یہ بتایا ہے نبی رحمت ﷺ نے تو وہی اللہ کا رسولﷺ جب ارشاد فرمارہے ہیں کہ اگر تمھارے پاس وسائل نہیں ہیں تو تم ہر جمعہ کو حج کیا کرو۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو شخص فجر کی نماز پڑھ کر اپنی جائے نماز یا مسجد کو نہیں چھوڑتا کہ اشراق پڑھ کر جائو ں گا تلاوت کر تا ہے ذکر و اذکار کرتا ہے حتیٰ کہ سورج نکل آتا ہے وہ اشراق کے دو یا چار نفل پڑھ کے چلا جاتا ہے تو اسے حج نہیں حج کے ساتھ عمرے کا ثواب ملتا ہے یا جو شخص جمعہ کی ادائیگی کے لیے غسل کرتا ہے کپڑے بدلتا ہے جامع مسجد جا کر جمعہ ادا کر تا ہے تو حضور ﷺ فرماتے ہیں غریب کا حج اس کی جامع مسجد ہی میں ہے تو جو وہاں نہیں پہنچ سکتے وہ اپنے قریب اپنے جمعہ کی مساجد میں جائیں یہ بھی تو اللہ کی مسجد یں ہیں یہیںسے اللہ سے بات کر لو کہ خدایا وہاں تک جانے کے تو نے مجھے اسباب نہیں دیئے کہ وہاں سرنگوں کرتا تو نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے تو میں یہاں ہی تیری بارگاہ میں اعتراف شکست کرتا ہوں اور تیری حکومت قبول کرتا ہوں اور مسلمان کم از کم اتنی شکستگی تو پیدا کرے کہ اللہ کو اپنے سے بالا جانے اور اللہ کی حکومت کو قبول کرے اگر ہم یہ بھی نہ کر سکیں تو ہم کس منہ سے مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے کردار پر نظر کریں ہم اپنے آپ کے ذمے دار ہیں اپنے آپ کو اللہ کے روبرو پیش کرکے اپنے اختیارات اسکے حوالے کرنا چاہیے اور اپنے لیے اللہ سے نجات مانگنا چاہیے۔ 
حج کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے گذشتہ اعمال کو لاکر وہاں رکھ دیں کہ خدایا میرا سرمایہ تو ہی ہے لیکن میں تیرا عاجز بندہ ہوں اور میںآج تیرے سامنے اپنے اختیار سے دستبردار ہوتا ہوں میں اپنے لیے کچھ نہیں سوچوں گا میں اپنے لیے کچھ نہیں کروں گا میں اپنی مرضی سے کہیں جاؤ ں گا نہیں تو مجھے حکم دے گا تو میں کہیں جاؤ ں تو اجازت دے گا تو میں سوؤں گا تو جگائے گا تو میں جاگ اٹھوں گا تو کہے گا تو میں سجدہ کروں گا تو کہے گا بس کر میں بس کروں گا آج میری حکومت ختم اور تیری حکومت کو میں قبول کرتا ہوں۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم جہاں بھی ہیں وہاں رب جلیل سے یہ عہد کریں کہ خدایا تو ہماری توبہ قبول فرما اور ہمیں بھی اپنے گھر پہ حاضری کی سعادت نصیب فرما روضہ اقدس کی زیارت نصیب فرما طواف سعی نصیب فرما عرفات میںجانے کی سعادت نصیب فرما اللہ قادر ہے سب کو عطا فرما سکتا ہے لیکن اس حال میں کہ تو ہم سے راضی ہو اور ہم تیرے اطاعت گزار بندے بن چکے ہوں ہمارے دل کی د ھڑکنیں ہوں اور تیرا نام ہو ہمارے اعضاء وجوارح ہوں اور تیری اطاعت ہو ہماری پیشا نیاں ہوں اور تیرا دروازہ ہو ہمارے ہاتھ اٹھیں توتیری بارگاہ میں سر جھکیں تو تیرے حضوراسی پہ زندہ رکھ اسی پہ موت نصیب فرما اورایسے ہی لوگوں کے ساتھ یوم حشربھی اکٹھا فرما جس ہستی کی دعوت پر لبیک کا اثر یہ ہوا کہ آپ  نے اتنا طویل سفر کیا اور اب آپ کے دل کی دنیا ہی بدل گئی ہجرت کی حقیقت کیا ہے؟ جس ٹھکانے کو اللہ کیلئے چھوڑ دیں ایسے ٹھکانے پہ چلے جائیں جہاں اللہ کا حکم ہوآپ نے شہر یا ملک چھوڑ دیا لیکن اس سے بھی کڑی ہجرت یہ ہے کہ آپ بُری عادتیں چھوڑ دیں اپنے مزاج کو بدلیں سوچ کو بدلیں کردار کو بدلیں ہجرت کی بنیاد بھی یہی ہے کہ جہاں جہاں ہم اللہ کے نافرمان ہیں وہاں سے نکل آہیں اور وہ طریقہ اپنائیں جو رب جلیل کو پسند ہے اگر ایسا کر لیا تو پھر تم حرام کیسے کھا سکتے ہو؟ تم کس طرح سے بہو بیٹوں کو بے آبرو کر سکتے ہو؟تم کس طرح اللہ کی اطاعت باقی زندگی میں چھوڑ سکتے ہو؟ جبکہ تمھیں تو اللہ نے اپنے گھر کا طواف نصیب فرمایا اب تم اللہ سے محبت کرنے والے بلکہ اللہ سے عشق کرنے والے ہوتمھارے ہاتھ اٹھیں تو اطاعت رسولﷺ میں،تمھارے سینوں میں عشق رسول ﷺ موجزن ہے کہ تمھیں درِاقدس پہ حاضری نصیب ہوئی اب تم عام آدمی نہیں ہو لہذا اپنی ذمہ د اریو ں کا احساس کرو اپنی اور معاشرے کی اصلاح کرو اللہ کریم ہمیں توفیقِ عمل دے۔آمین


قربانی کا حاصل

ہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہم قربانی اس لیے کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور قربانی کرنے کا حکم دیا۔آپ ﷺ نے حج کے موقع پر بھی قربانی کی اور حج کے علاوہ ہر عید قربان پر بھی قربانی کی۔ قربانی ایک عمل ہے جس سے قربانی کے جانور کو معین دنوں میں اللہ کی راہ میں ذبح کرنے سے وہ کیفیت نصیب ہو تی ہے جو حضرت ابراھیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنی شان کے مطابق نصیب ہوئی اور ہر مسلمان کو اپنی حیثیت اپنی استعداد،اپنے خلوص کے مطابق نصیب ہو تی ہے۔قربانی کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز دنیا کا کوئی کام کوئی محبت،کوئی پیار،کوئی عزیز ترین رشتہ،کوئی محبوب ترین شے اللہ کی اطاعت کے مقابلے میں رکاوٹ نہ بنے۔
ظاہر ہے کہ ہر عبادت کے اپنے انوارات اور اپنے ثمرات ہو تے ہیںاور ہر بندے کے الگ ہوتے ہیں کیونکہ ہر بندے کا اللہ سے رشتہ الگ ہو تا ہے ایک ہی جگہ دس بندے نماز پڑھتے ہیں لیکن ہر ایک کی کیفیت الگ ہو تی ہے۔اس کے ایما ن اس کے خلوص اور اس کے دل کی گہرائی کے اعتبارمختلف ہو تی ہے۔اسی طرح ہر اطاعت پر بندے کی حیثیت کے مطابق انوارات و برکات نازل ہو تی ہے۔اسی واقعہ میں دیکھیے ایک ابراھیم خلیل اللہ ایک اسماعیل ذبیح اللہ۔دونوں اللہ کے اولوالعزم رسول ہیں۔ایک ذبح کرنے والا، ایک ذبح ہونے والا اور یہ سب محض اللہ کے نام پر اللہ کے حکم پر ساری محبتیں،سارے تعلقات،سارے رشتے اپنا اور اولاد کا سارا مستقبل چھری کی ایک جنبش کے نیچے ہے۔اس پر کس قسم کی رحمتیں نازل ہوں گی۔کس طرح کی تجلیات برسی ہوں گی۔کون سی کیفیات عطا ہو ئی ہوں گی۔اب یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے امت محمدیہ علیٰ صاحب الصلوۃ والسلام کو قربانی کرنے کا حکم دے دیا۔آج ہمیں بطفیل محمد رسول اللہ ﷺ اللہ نے یہ سعادت بخشی ہے کہ ہم بھی اللہ کی راہ میں جانور ذبح کریں اور ان رحمتوں کا،ان عنایات کا اور اللہ کی اس بخشش کا مزا لیںاور وہ کیفیات ہم پر بھی وارد ہوں۔اس بخشش سے ہم بھی حصہ لیں تو یہ قربانی کی حقیقت ہے اور عوام الناس کے لیے روئے زمین پر اللہ نے یہ رحمت کا دروازہ کھول دیا کہ جو مسلمان جہاں ہے وہ اس دن قربانی کرے تو اللہ کریم اسے وہی برکات عطا فرما دیتا ہے اور اسے سمجھ آجاتی ہے کہ دین کا مقصد کیا ہے؟دین مکمل اطاعت کانام ہے۔
          رب کریم کا یہی وہ احسان ہے کہ اس نے ابراھیم کے اس عمل میں نبی کریم ﷺ کی امت کو شریک فرمایا اور قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔اسی تاریخ پر کرنے کا حکم فرمایا اور اس دن یومِ عید قرار دیا اور پھر اس قربانی پر وہ کیفیت نازل ہوئی اس کیفیت کے اجر کو ہر انسان اپنی عملی زندگی کو پرکھ کر خود جان سکتا ہے۔قربانی کا مقصد اس جزبے کو حاصل کرنا ہے جس سے بندہ اللہ کی خوشنودی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرے اور اس کے حصول کا ذریعہ اللہ نے قربانی رکھا ہے۔حضور ﷺ نے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور سکھایا ہے کہ اللہ کی 
 خوشنودی کے لیے قربانی کرو۔
            یہ یقینی بات ہے کہ اگر ہم نے خلوص کے ساتھ قربانی کو تو صرف بکرا قربان نہیں ہو گا صرف جانور ذبح نہیں ہو گا بلکہ اللہ کی توفیق بھی عطا ہو گی کہ ہم اللہ کے لیے اپنے مفادات کو بھی قربان کر سکیں۔ہم عبادات کے اوقات میں آرام قربان کر سکیں۔ہم حلال کے مقابلے میں حرام کو چھوڑ سکیں۔ہم بھوک قبول کر لیں اور حرام نہ کھائیں۔جھوٹ بولنا چھوڑ دیں خواہ ایثار کرنا پڑے۔کہیں نقصان بھی اٹھانا پڑے۔اگر ہم نے حضور ﷺ کے احکامات کے مطابق قربانی کی،خلوص کے ساتھ کی تو ہماری قربانی قبول ہو گی اور جب کوئی
 ذرہ ان انوارات کا نصیب ہوا تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم میں عاداتِ ابراھیمی آنا شروع ہوجائیں گی ہم بھی اپنے مفادات اللہ کے احکام پر قربان کرنے کا حوصلہ پالیں گے۔قربانی کے اس ایک نتیجے سے ہی ہم پرکھ سکتے ہیں کہ ہماری قربانی رسمی رواجی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی۔کیا میرے دل میں وہ جذبہ آیا ہے یا نہیں۔ہر ایک کے دل کا حال یا اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک بندہ خود اندازہ کر سکتا ہے۔حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اللہ کے لیے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔حقیقی قربانی تو ان خوش نصیبوں کی ہے جو راہ حق میں کام آئے۔


احکامِ حج

حج کس پر فرض ہے؟
 حج اس پر فرض ہے جس کے پاس آنے جانے اور قیام کا خرچ ہو اور جتنا عرصہ اس نے گھر سے باہر رہنا ہے اتنے عرصے کے اخراجات بچوں کو بھی دے کر جائے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ ہوں اور اگر اتنی مالی حیثیت نہیں تو اس پر حج فرض نہیں حج صاحب ِاستطاعت پر فرض ہے  ’’وتزودّوا ‘‘اور حج پر جانے کے لیے حج کا اہتمام کرو جس کے پاس اخراجات نہیں ہیں اس پر حج فرض ہی نہیں ہے’’فان خیرالزاد التقویٰ‘‘ اور بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اخراجات کا اہتمام ہے تو ضرور جائو اور نہیں ہے تو جو فرائض عائد ہیں انھیں پورا کرو اجر اللہ نے دینا ہے اس لیے کہ سفر حج مقصد نہیں مقصد اللہ کی اطاعت ہے جس پر حج فرض نہیں وہ لوگوں سے مانگ کر حج پر کیوں جاتا ہے؟ یہی حال عامۃ الناس کا ہے مانگتے پھرتے ہیں کہ مدد کیجیے میں نے حج پر جانا ہے میری بڑی آرزو ہے لیکن پیسے نہیں ہیں اگر پیسے نہیں ہیں تو حج اس بندے پر فرض ہی نہیں ہے ان سے پوچھا جائے کہ حج تو آپ پر فرض نہیں ہے لیکن جو باتیں آپ پر فرض ہیں کیا وہ آپ نے پوری کر لی ہیں؟ صرف حج ہی تو اللہ کا حکم نہیں ہے حج بھی تو اللہ کے احکام میں سے ایک حکم ہے نرا مکہ مکرمہ جانا مقصد نہیں ہے مقصد ہے اللہ اوراللہ کے رسولﷺ کی فرمانبرداری جو چیز اللہ نے کسی پر فرض ہی نہیں کی اس کا اُسے بہت شوق ہے اور جو فرائض اس کے ذمے ہیں اس کی اُسے فکر ہی نہیںاللہ کی اطاعت کا جذبہ زندہ رہے یہ فرض ہر ایک پر ہے اس جذبے کے ساتھ جو فرائض جس پر ہیں وہ دیانتداری سے ادا کرے اُسے اللہ وہیں اجر عطا فرمائے گا حضور ﷺنے ایسے شخص کو جس کے پاس حج کے اخراجات کی سکت نہیں، خوشخبری سنائی ہے کہ وہ جمعہ کا اہتمام کرے خلوص کے ساتھ جمعہ پڑھے ہر جمعہ میں حج کا درجہ پائے گا اشراق کے نوافل ادا کرے عمرے کا ثواب پا لے گا سو سفر کرنا غرض نہیں غرض اللہ کی اطاعت ہے۔
حقیقت ِحج
بیت اللہ روئے زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے جس پر ہرحال ہر وقت اللہ کی ذاتی تجلیات برستی رہتی ہیں تجلیات باری ہمہ وقت اس پر متوجہ رہتی ہیں اور کعبۃ اللہ اس کیفیت سے کبھی خالی نہیں رہتا حاجی وہاں اس حال میں حاضر ہوتا ہے کہ جس حال میں اللہ کے بندے میدانِ حشر میں اللہ کے حضور حاضر ہوں گے حاجی وہ حال اسی فانی دنیا میں اسی عالم ِفناء میںبناکر اللہ کے رُوبرو جا کر کہتا ہے ’’لبیک اللّٰھُمَّ لبیک‘‘ اے اللہ میں حاضر ہوں’’لاشریک لک لبیک‘‘ تیرا کوئی شریک نہیں میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں’’ ان الحمدوالنعمۃ لک والملک‘‘بے شک تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں تمام نعمتیں تیری ہیں اور تمام ملک تیرا ہے کسی کا اس میں کوئی دخل نہیں’’لاشریک لک‘‘ تیرا کوئی شریک نہیں۔
یہ ایک کیفیت ہے جو انسان کی سوچ اوراس کے دل کی گہرائیوں سے تعلق رکھتی ہے یہی وہ قلبی کیفیت ہے جو حج سے مقصود ہے جس کے بارے حضورِ اکرم ﷺکا ارشاد پاک ہے کہ جس نے حج کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا گویا وہ دنیا میں آج پیدا ہوا ہے اس کے سارے گناہ دُھل گئے گناہ تو دُھلنے ہی تھے جب وہ اللہ کریم کے رُوبرو کھڑا ہو گیا تجلیاتِ ذاتی اس پر پڑیں تو گناہ تو دُھل ہی جانے تھے لیکن بندہ رُوبرو کھڑا تو ہو ایک واقعہ اس ضمن میں یاد آتا ہے کہ ہندوستان سے ایک صاحب حج پر تشریف لے گئے اور اپنے ایک بزرگ عالم ِدین کو مکہ مکرمہ سے پیغام بھیجوایا کہ میرے فلاں کام کو دیکھ لیجیے اور فلاں کام کا دھیان رکھیے گا تو ان بزرگ نے جواباً اُسے لکھا کہ تمہیں حج پر نہیں جانا چاہیے تھا کہ تمہارا وجود تو حرم میں ہے اور تمہارا دِل ہندوستان میں ہے اس سے بہتر ہوتا کہ تمہارا وجود ہندوستان میں رہتا اور دل حرم میں رہتا تو حج سے مطلوب تو وہ باطنی کیفیت ہے کہ بندہ دِل کی گہرائی کے ساتھ خود کو اللہ کے رُوبرو کھڑا محسوس کرے اور اس کا اثرتادمِ مرگ ہی نہیں مرنے کے بعد بھی باقی رہے قبر میں بھی تجلیاتِ باری اور اللہ کی حضوری نصیب رہے حشر میں بھی اللہ کی حضوری اور اس کی تجلیات نصیب ہوں۔
حج اور عمرہ
بیت اللہ کے ساتھ دو عبادتیں متعلق ہیں ایک حج جو صرف ماہ ذی الحجہ کے پانچ دِنوں میں مقررہ مناسک کی ادائیگی ہے حج دوسرے ایام میں نہیں ہو سکتا دوسری عبادت عمرہ ہے جو حج کے پانچ دِنوں کے علاوہ باقی سارا سال ہر وقت ہو سکتا ہے عمرے میں صرف تین کام ہیں ایک یہ کہ میقات سے یا میقات سے پہلے عمرہ کا احرام باندھنا دوسرے مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کرنا تیسرے صفا مروہ کے درمیان سعی کرنا اس کے بعد سَر کے بال کٹوا کر احرام ختم کر دینا۔
حج کی اقسام
عمرے کو حج کے ساتھ جمع کرنے نہ کرنے کے اعتبار سے حج کی تین قسمیں ہو جاتی ہیں۔
ماہِ شوال سے حج کے مہینے شروع ہو جاتے ہیں یعنی شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دس دِن شوال سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں۔ 
حج کی پہلی قسم قِران ہے
حج کے مہینوں میں میقات سے حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ لے اس کو اصطلاحِ حدیث میں قِران کہا گیا ہے اس کا احرام حج کے اختتام پر کھلتا ہے آخر ایام ِ حج تک حاجی کو احرام کی حالت میں رہنا ہوتا ہے قِران کی افضلیت زیادہ ہے بشرطیکہ اس طویل احرام کی پابندیوں کو احتیاط کے ساتھ پورا کر سکے۔
دوسری قسم تمتع ہے
 اس کی صورت یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھے اس احرام میں حج کو شریک نہ کرے، پھر مکہ مکرمہ پہنچ کر افعالِ عمرہ سے فارغ ہونے اور بال کٹوانے کے بعد آٹھویں ذالحج کو مسجد ِحرام سے حج کا احرام باندھے اس کو تمتع کہتے ہیں اس میں یہ سہولت ہے کہ احرام کی پابندیوں سے عمرہ کے بعد فارغ ہو جاتا ہے۔
تیسری قسم کا نام افراد ہے
 اس کی صورت یہ ہے کہ سفر کے وقت صرف حج کی نیت کرے اسی کا احرام باندھے عمرہ کو حج کے ساتھ جمع نہ کرے۔
احرام
دو اَن سِلی چادروں میں عمرہ اور حج کی نیت سے ملبوس ہونا حالت ِاحرام ہے صرف نیت کرنے سے احرام شروع نہیں ہوتا بلکہ الفاظ تلبیہ پڑھنے سے شروع ہوتا ہے الفاظ تلبیہ پڑھتے ہی احرام شروع ہو جاتا ہے مرد حضرات اس سے پہلے سَر کو چادر سے کھول دیں اور بلند آواز سے تلبیہ کہیں خواتین فرض پردے کے ساتھ آہستہ تلبیہ پڑھیں۔
احرام کی پابندیاں
  1. احرام کی حالت میں مندرجہ ذیل اشیاء ناجائز ہیں:
  2. مردوں کو سِلے ہوئے کپڑے پہننا۔
  3. مرد کا سَر کو اور عورت کا چہرہ کو ڈھانپنا۔
  4. کپڑوں یا بدن کو خوشبو لگانا، خوشبودار صابن استعمال کرنا، خوشبودار تمباکو یا کوئی خوشبودار چیز کھانا۔
  5. ناخن کاٹنا۔
  6. جسم کے کسی حصہ سے بال کاٹنا۔
  7. شکار مارنایا شکاری کی مدد کرنا۔
  8. نباتات، پودوں کا کاٹنا۔
  9. لڑائی جھگڑا کرنا۔
  10. بی بی سے مباشرت اور اس کے تمام متعلقات یہاں تک کہ کھلی گفتگو بھی۔
  11.  سر یا بدن کی جوئیں مارنا۔
ممنوع امور
حج اور عمرہ اللہ کے سامنے حاضر ہونے کے یقین کو دِل میں اُتارنے کا اکسیر نسخہ ہے اس لیے اللہ کریم نے فرمایا کہ جو کوئی حج کا ارادہ کر لے تو پھر یہ بات یاد رکھے اس سفر میں’’لارفث ولا فسوق ولاجدال‘‘ کسی فحش بات یا کسی طرح کی نافرمانی یا کسی قسم کے نزاع کی دورانِ حج کوئی گنجائش نہیں ان باتوں سے اپنی پوری کوشش سے بچے کہ یہ سعادت روزروز حاصل نہیں ہو سکتی اور ذرا سی کوتاہی بھی اس کے حُسنِ کمال کو ضرور متاثر کرتی ہیں اگرچہ بعض فسوق ایسے بھی ہیں جن سے حج ہی فاسد ہو جاتا ہے ، جیسے حالت ِاحرام میں وقوفِ عرفات سے پہلے بی بی سے صحبت کر لی تو حج فاسد ہو گیا بطورِ جرمانہ قربانی بھی دے گا اور اگلے سال پھر حج بھی کرے گااسی طرح ہجوم خلائق میں اکثر نوبت جھگڑے کی آتی ہے کبھی سفر کے ساتھیوں کے ساتھ، کبھی خریدوفروخت کے وقت پھر مسلسل سفر اور جگہ جگہ عارضی قیام، وقت بے وقت کھانے پینے سے تھکاوٹ اور مزاج میں برہمی اور عبادات میں سستی آ سکتی ہے ان سب چیزوں کا سب سے زیادہ موقع یہیں بنتا ہے جس سے بچنا اور پوری کوشش سے بچنا ضروری ہے، جس کی ایک ہی صورت ہے کہ نگاہ صرف بیت پر نہ ہو بلکہ صاحب ِبیت کی عظمت سے دِل منور ہو اور یہ یقین ہو کہ اللہ اعمال کو دیکھنے والا ہے اور ان مواقع سے بچنے کی کوششیں بھی اللہ کی رضاجوئی کے لیے ہوںیہ ایک نہایت ضروری لیکن بہت باریک بات ہے اس کا احساس رکھنا نہایت اہم اور اشد ضروری ہے وہ یہ کہ نیکی اور بھلائی اللہ کریم کو خوش کرنے کے لیے کی جاتی ہے لیکن انسان اس بات پر بضد رہتا ہے کہ میں ایسا کروں گا تو لوگ کیا کہیں گے؟ یا ایسا کروں گا تو لوگ مجھے اچھا سمجھیں گے اس طرح وہ اپنی نیکیاں ضائع کرتا ہے کہ کام تو وہ درست کر رہا ہوتا ہے لیکن اُسے اُمید ہوتی ہے کہ دیکھنے والے اُسے بھلا اور نیک سمجھیں تو یہ نہایت غلط سوچ ہے کوئی غلط کام لوگوں کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا اور اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرنا اس کا نتیجہ دوہرا عذاب ہے کہ ایک تو برائی اختیار کی دوسرا بندوں کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم رکھا انسانوں کی رضامندی مد ِنظر رکھی تو عذاب کئی گنا بڑھ گیا۔ایک نیکی کی، نیک کام کیا، اگر نیکی اللہ کی رضا کے لیے کی جاتی تو اجر ملتا لیکن کرنے والے نے اس سے یہ اُمید رکھی کہ لوگ اچھا سمجھیں تو پھر وہ نیکی بھی جرم بن گئیتجارت کی غرض سے حج پر جانے سے حج ادا نہیں ہوتاکوئی اس نیت سے وہاں جائے کہ وہاں سونا سستا اور اچھا ملتا ہے خرید کر لے آئوں گا وطن لا کر بیچ دوں گا یا کسی اور چیز کے بارے یہ رائے رکھ کر اس پرعمل کرے گا، اس نیت سے جائے گا تو حج نہیں ہو گا ہاں حج کی نیت سے گیا وہاں رہتے ہوئے کوئی مزدوری مِل گئی یا کوئی چیز سستی مِل گئی خرید لی تو وہ منع نہیں ہے’’لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم‘‘  یعنی مقصد اصلی حج ہو ساتھ میں مزدوری یا تجارت کر لی توکوئی حرج نہیں اور اگر مقصد ہی مزدوری کرنا، پیسہ کمانا یا تجارت کرنا ہو تو پھر حج نہیں ہو گا۔
احرام کہاں اور کس وقت باندھا جائے؟
اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے گرد چاروں طرف کچھ مقامات متعین فرما دیئے ہیں، جہاں پہنچ کر مکہ مکرمہ جانے والوں پر احرام باندھنا واجب ہے خواہ حج کا احرام باندھے یا عمرہ کا ان مقامات کو میقات کہتے ہیں یہ پابندی میقات سے باہر رہنے والوں پر عام ہے، جب بھی وہ مکہ مکرمہ کے لیے حدودِ میقات میں داخل ہوں خواہ وہ کسی تجارتی غرض سے جا رہے ہوں یا عزیزوں، دوستوں سے ملاقات کے لیے ان کے ذمے بیت اللہ کا یہ حق ہے کہ میقات سے احرام باندھ کر داخل ہوں حج کا وقت ہے تو حج کا ورنہ عمرہ کا احرام باندھیں بیت اللہ کا حق ادا کریں پھر اپنے کام میں مشغول ہوں۔
میقات یہ ہیں
ذوالحلیفہ یہ مدینہ منورہ کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔
جحفہ یہ ملک شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔
قرن المنازل یہ نجد سے آنے والوں کے لیے ہے۔
یلملم یہ اہلِ یمن و عدن کا میقات ہے اہلِ پاکستان و ہندوستان کے لیے بھی یہی میقات مشہور ہے۔
ذاتِ عرق یہ عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ہے۔
یہاں ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اہلِ پاکستان کو علمائے کرام تاکیداً ملکی ہوائی اڈوں پر ہی سے احرام پہننے کی ہدایت کرتے ہیں کہ جہاز حدود میقات سے گزر کر جدہ جا اُترتا ہے احرام کی اپنی پابندیاں ہیں جن کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اِس لیے اس مسئلہ کی وضاحت کی جاتی ہے تاکہ اس رعایت سے فائدہ اُٹھایا جا سکے اور احرام کی پابندیوں کو اچھی طرح پورا کیا جا سکے وہ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو اور وہ سفر کرتا ہوا میقات سے گزر جائے تو اُسے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں، جب وہ شخص زمین پر قدم رکھ کر میقات سے گزرے گا خواہ کسی بھی مقصد سے گزرے اس پراحرام باندھنا لازمی ہو گا اس لیے بذریعہ ہوائی جہاز سفر کرنے والوں کے لیے ہوائی اڈوں پر حالت ِاحرام میں ہونا لازم نہیں ہے یہ ایک سہولت ہے جسے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ جدہ تک آرام سے اپنے لباس ہی میں سفر کریں وہاں سے احرام باندھیں یا راستے میں میقات کے مقام پر مسجد بنی ہوئی ہے وہاں سے احرام باندھ لیں لوگ اس سہولت سے واقف نہیں ہیں وہ یہاں سے احرام تو باندھ لیتے ہیں لیکن احرام کی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے ان چیزوں کا مطالعہ پہلے کر لینا چاہیے یا کسی سے پوچھ کر سیکھ لینی چاہئیں۔
حج کے پانچ دِن
پہلا دن 8ذی الحجہ
فجر کی نماز بیت اللہ میں ادا کر کے طلوعِ آفتاب کے بعد منیٰ کو روانگی قِران اور افراد  حج کرنے والوں نے تو احرام پہلے سے باندھے ہوئے ہیںتمتع کرنے والے نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا تھا وہ آج احرام باندھیں طواف کریں دوگانہ ادا کریں، حج کی نیت کریں، تلبیہ پڑھیںاور منیٰ روانہ ہو جائیںمنیٰ میں آٹھویں تاریخ کی ظہر سے نویں تاریخ کی فجر تک پانچ نمازیں پڑھا اور اس رات کو منیٰ میں قیام کرنا سنت ہے۔
دوسرا دِن 9ذی الحجہ یومِ عرفہ
 آج حج کا سب سے بڑا رُکن ادا کرنا ہے بلکہ اصل حج آج ہی ہے طلوعِ آفتاب کے بعد جب کچھ دُھوپ پھیل جائے منیٰ سے عرفات کو روانہ ہو جائیں اور وقوفِ عرفات کریں نویں ذی الحجہ کو ظہر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا حج کا رُکن اعظم ہے یہاں ظہر اور عصر کی دونوں نمازیں ظہر کے وقت میںادا کی جائیں وقوف کا سارا وقت دُعا اور ذکر اللہ میں صرف کریں وقوفِ عرفات کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں وہاں مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو عشاء کے وقت پڑھیں اور شب مزدلفہ میں قیام کریں۔
حج کا تیسرا دِن 10ذی الحجہ
آج عید کا دِن ہے اس میں حج کے بہت سے کام فرائض و واجبات کی ادائیگی کرنا ہے اس لیے آج حجاج کے لیے عید کی نماز معاف ہے طلوعِ فجر سے طلوعِ آفتاب تک مزدلفہ ٹھہریں، پھر منیٰ کو روانہ ہوں منیٰ پہنچ کر پہلا کام جمرہ عقبہ پر سات کنکریوں سے رمی کرنا ہے کنکریاں مزدلفہ سے چُن لینا مستحب ہے جمرات کے پاس گری ہوئی کنکریاں اُٹھانا جائز نہیں اس کا مسنون وقت طلوعِ آفتاب سے زوالِ آفتاب تک ہے زوال سے غروب تک بھی جائز ہے ضعیف، بیمار اور عورتوں کے لیے غروب کے بعد بھی جائز ہے اور مکروہ نہیں ہے آج کے دِن کا تیسرا واجب قربانی ہے، جب تک قربانی ہو نہ جائے سَر کے بال نہ منڈائے، جن کے پاس قربانی کرنے کی گنجائش نہیں وہ قربانی کے بدلے دس روزے رکھے شرط یہ ہے کہ تین روزے عرفہ تک رکھیں بقیہ سات روزے واپسی کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں قربانی بارھویں ذالحجہ تک کی جا سکتی ہے لیکنقِران اور تمتع کرنے والے جب تک قربانی نہ کر لیں ان کے لیے بال منڈوانا جائز نہیں اور نہ ہی احرام سے خارج ہو سکتے ہیں دس ذالحجہ کو طواف زیارت کرے اس کا افضل وقت دسویں ذالحجہ ہے اوربارھویں تاریخ کو آفتاب غروب ہونے سے پہلے پہلے کر لے تو بھی جائز ہے۔طواف زیارت اور سعی کے بعد دسویں تاریخ کے سب کام پورے ہو گئے اب منیٰ واپس جائے۔
حج کا چوتھا دِن 11ذالحجہ
دو یا تین دن منیٰ میں رہنا جمرات کو رمی کرنا اور ان دِنوں کی راتیں منیٰ میں گزارنا ہے۔
حج کا پانچواں دن 12ذالحجہ
اگر قربانی یا طواف زیارت ابھی تک نہیں کر سکا تو آج بھی کر سکتا ہے آج کا اصل کام تینوں جمرات کی رمی کرنا ہے اب تیرھویں تاریخ کی رمی کے لیے منیٰ میں مزید قیام کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے بارھویں کی رمی سے فارغ ہو کرمکہ مکرمہ جا سکتا ہے بشرطیکہ غروبِ آفتاب سے پہلے منیٰ سے نکل جائے۔
طوافِ وداع
میقات سے باہر رہنے والوں پر واجب ہے کہ جب مکہ شریف سے واپس جانے لگیں تو رُخصتی طواف کریں یہ حج کا آخری واجب ہیقرآنِ حکیم میں احکامِ حج کی آیات کو ان الفاظ پر ختم کیا گیا ہے  ’’واتقواللّٰہ‘‘ کہ یہ بنیادی بات ہے کہ اپنا معاملہ ربِ جلیل کے ساتھ درست رکھو حج کے ارکان فرائض و واجبات کا پورا خیال رکھو فرائض و واجبات اور سنن کو اپنے اپنے موقعوں پر پورے پورے ادا کرو اور ان کی ادائیگی کا پورا لحاظ رکھو۔
حج کا حاصل
حج کا حاصل بھی یہی ہے جو تمام عبادات کا حاصل ہے کہ بندے کا تعلق ربِ کریم کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جائے اُسے حضوری حق نصیب ہو جائے ہمہ وقت اپنے پروردگار کو حاضر سمجھے اللہ تو ہر وقت ہر جگہ موجود ہے ہم نے اپنی کسی کوشش ، کاوش یا عبادت و دُعا سے اللہ کریم کو بلانا نہیں ہے وہ فرماتا ہے:’’وھومعکم اینماکنتم‘‘ تم کہیں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے، تو پھر یہ حضوری حق کے لیے محنت کیا معنی رکھتی ہے؟ حضوری حق سے مراد یہ ہے کہ ہمیں بھی اس کا ادراک ہو اللہ تو موجود ہے ہم اس سے غائب ہوتے ہیں ہمارا یہ احساس بھٹک جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے یا یہ احساس مر جاتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے حج ادا کرنے سے صرف حاجی کہلانا مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان کو قربِ الٰہی نصیب ہو تو وہ بالکل بدل جائے جب وہ سوچے تو اُسے احساس ہو کہ میرا اللہ میرے پاس ہے بولنے لگے تو یہ احساس ہو کہ میرا اللہ سُن رہا ہے کوئی کام کرنے لگے تو اُسے پتہ ہو کہ میرا اللہ میری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے یہ احساس اگر کسی کو نصیب ہو جائے یہ شعور بیدار ہو جائے تو وہ کتنا بھلا انسان بن جائے گااگر کسی کو حرم کی حاضری نصیب ہوتی ہے ایمان کے ساتھ بیت اللہ شریف تک رسائی ہوتی ہے تو یہ اللہ کا ایک کرم ہے اور بندہ وہاں پہنچ کر سستی کرتا ہے کوتاہی کرتا ہے اور جو احساس نصیب ہونا تھا کہ اللہ بہت بڑا ہے اور بندہ اس کی عاجز مخلوق ہے وہ اُسے حاصل نہیں ہوتا اور اس کے بجائے وہ اپنی بڑائی کے زُعم میں مبتلا ہو جاتا ہے اُسے اپنے پارسا ہونے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے تو یہ کام بالکل ہی بدل گیا ہمارے زمانے کے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ یہ سفر ہر حال میں مبارک ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے اگر سفر حج میں بھی اور ارکانِ حج کی ادائیگی میں بھی لاپرواہی اور کوتاہی کو اختیار کیا تو یہی بات غضب ِالٰہی کو دعوت دینے کا سبب بن جاتی ہے بیت اللہ کی ایک نماز جہاں ایک لاکھ کا ثواب پاتی ہے، وہاں کی نماز کو چھوڑ دینا گویا ایک لاکھ کو ضائع کرناہیحج کی تمام منزلوں پر اللہ کریم بار بار اپنی طرف متوجہ ہونے اپنی رضا کو حاصل کرنے کی طرف رغبت دلاتے ہیں، کبھی فرمایا:اللہ کے لیے حج اور عمرہ کرو، کبھی فرمایا: عرفات سے لوٹو تو شعرالحرام کے پاس اللہ کو یاد کرو جیسا تمہیں بتلایا گیا ہے قرآن کے اس حکم  ’’کماھداکم‘‘ جس طرح تمہیں ہدایت کی گئی ہے، سے یہ واضح ہوا کہ کوئی عبادت اور طریقۂ عبادت اس وقت تک مقبول نہیں، جب تک اس کی سند سنت ِرسولﷺ سے حاصل نہ ہو عبادات میں بھی اور عام معاشرت میں بھی کوئی شخص کبھی اپنے لیے امتیازی صورت اختیار نہ کرے کہ اس سے نفرت اور باہمی دُشمنی اور مِل کر رہنے سے باہمی اخوت اور محبت پیدا ہو گی لہٰذا سب کے ساتھ مِل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنی کوئی امتیازی شان نہ چاہو بلکہ اللہ سے استغفار چاہتے رہو۔
’’فاذکرواللّٰہ‘‘
جب ارکان حج پورے کر چکو تو اللہ کو کثرت سے یاد کرو مصروفیت کے دِن ہوں یا فراغت کے سفر ہو یا قیامِ حج ہو یا عید کوئی دِن کوئی لمحہ یا کوئی حال ذکر ِالٰہی سے خالی نہ ہو، یعنی تمام عبادات کا حاصل یہ ہے کہ بندے کا یہ شعور بیدار ہو جائے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے تو ذِکر کیا ہے؟جس کا حکم اللہ دے رہے ہیں’’فاذکرواللّٰہ‘‘ اللہ کو یاد رکھنا ہی اللہ کا ذِکر ہے جس کام کے کرنے میں اللہ کی رضا مقصود ہو وہ کام عملی ذکر ہے، جب ہم زبان سے نیک بات کہتے ہیں، تلاوتِ قرآن کرتے ہیں درود شریف پڑھتے ہیں بھلا مشورہ دیتے ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں یہ سب لسانی ذِکر ہے تیسری قسم یہ ہے کہ اللہ کی یاد دِل میں رچ بس جائے اور یہ مقصد ِحیات ہے کہ دِل میں اللہ کی یاد اس طرح بس جائے کہ موت آ جائے زندگی منقطع ہو جائے لیکن یادِالٰہی منقطع نہ ہو یہ انھیں نصیب ہوتا ہے جو ساری زندگی اللہ کی یاد دِل میں بسائے رکھتے ہیں وہ دِل ایسا آباد ہو جاتا ہے کہ اُسے موت بھی ویران نہیں کر سکتی موت بھی انھی دِلوں کو ویران کرتی ہے جو زندگی میں ویران ہوتے ہیں ایسے دِل جو زندگی میں یادِالٰہی سے محروم ہوتے ہیں انھیں موت اس طرح ویران کرتی ہے کہ زندگی میں حیات جسمانی کا رشتہ تھا موت وہ رشتہ کاٹ دیتی ہے لیکن جو دِل زندگی میں یادِالٰہی کو اپنے اندر سمو لیتے ہیں انھیں زندگی میں حضور حق نصیب رہتا ہے موت اُن سے یہ حضورِ حق نہیں چھین سکتی موت انھیںاللہ کی یاد سے جدا نہیں کر سکتی حج کا حاصل یہی احساسِ تشکرہے کہ اللہ نے حضور نبیٔ رحمت ﷺکومبعوث فرماکہ یہ احسان فرمایا کہ بندوں کو ہدایت آشنا کر دیا لہٰذا اللہ کا ذِکر کرو۔
حج افضل ترین عبادت ہے اس میں ذکروفکرشکرواحسان مجاہدہ و امتحان سب کچھ موجود ہے اور اگر حج میں بھی کسی کا مقصد اور نیت یہی رہی کہ لوگ میرا احترام کریں مجھے دُنیا میں بہت سی دولت مِل جائے یعنی مقصد حصول دنیا ہی ہو تو وہ ایسا محروم ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں رہتاکچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حج سے حضورِ حق کے متلاشی ہوتے ہیں۔ ہوتے وہ بھی انسان ہی ہیں انسان محتاج ہے، اس کی ضروریات ہیں، لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کی ساری ضروریات اللہ کریم نے ہی پوری کرنی ہیں تو وہ اللہ سے ایسی دُعا مانگتے ہیں کہ اے اللہ دُنیا میں بھی ہم پر رحم فرما بھلائی عطا فرما آخرت میں بھی ہم پر رحمت فرما ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور آگ کے عذاب سے بچا لے ایسے لوگ دونوں جہانوں میں اپنی محنت کا بہت بڑا صلہ پاتے ہیں یہ لوگ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ کا نظام بہت مضبوط ہے انسان جو کرتا ہے اس پر اللہ کی گہری نظر ہے اور اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے۔
بڑا عجیب نظام ہے ربّ العالمین کا انسان کی سمجھ اور اس کی دانش کا قصور ہے، ورنہ برائی کی تکلیف اور دُکھ دنیا میں بھی نقد ملتاہے آدمی جب غلط کاری کرتا ہے یا اللہ کے احکام سے رُوگردانی کرتا ہے اور حکمت ِالٰہی کو نہیں سمجھتا تو دُنیا میں بھی اس کی سانسیں اس کے لیے عذاب بن جاتی ہیں اس کے دِل کو سکون نہیں ملتا اس کے دل پر آخرت کا عکس پڑتا رہتا ہے اگر آخرت میں اپنے لیے جہنم خرید رہا ہوتا ہے تو اس کی تپش یہاں دُنیا میں بھی اس کے دِل کو پہنچتی رہتی ہے اسے سکون نصیب نہیں ہوتا اور نیکی کرتا ہے تو آخرت میں اس کے درجات بلند ہوتے ہیں اور دُنیا میں بھی سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے دُنیا میں بھی اس کی ٹھنڈک اور خوشبو اُسے نصیب رہتی ہے اللہ نقد در نقد حساب کرتا ہے، ادائیگی فوراً ہوتی ہے جو کچھ بندہ کرتا چلا جاتاہے اس کی ادائیگی اُسے ہوتی چلی جاتی ہے نیکی کی ادائیگی سکون ہے، بندہ اطمینان سے جیتا ہے برائی بے سکونی پہنچاتی ہے لوگ دُکھوں کو بھلانے کے لیے نشے کرتے ہیں جب ہوش میں آتے ہیں دُکھ کئی گنا بڑھ چکے ہوتے ہیں پہلے ایک دُکھ تھا پھر مال ضائع کرنے کا دُکھ، آبرو ضائع ہونے کا دُکھ اور بڑھ جاتا ہے اور اگر اللہ کی اطاعت کی جائے، آخرت کا دھیان رکھا جائے اور یہ دُعا کی جائے کہ اللہ دُنیا بھی اچھی عطا کر اور آخرت بھی بہترین عطا فرما تو اللہ دونوں جہانوں کی بھلائیاں عطا فرما دیتا ہے۔
حج میں اس بات کا خیال رکھو کہ تمہیں اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے اللہ سے رشتہ استوار کرنا ہے حضورِ حق کو دل میں جاگزیں کرنا ہے، پھر حج کے بعد کہیں بھی جائو تو تمہارا پروردگار تمہارے ساتھ ہو تنہا ہو یا مجلس میں ہو ہر وقت تمہارا اللہ تمہارے ساتھ ہو یہی حج کا حاصل ہے اسی پر خاتمہ بالایمان نصیب ہو گا اسی سے قبر روشن ہو گی اسی سے برزخ روشن ہو گا اسی سے حشر کے دِن عزت نصیب ہو گی آگ سے بچائو نصیب ہو گا اور اگر محض رسمیں ادا کرتے رہے اور حضورِ حق نصیب نہ ہوا تو کتنا بدنصیب ہے وہ شخص جو حج کا سفر کر کے حرم سے ہو کر پھر بھی محروم رہے لہٰذا اللہ کی نسبت کو زندہ رکھو اور یہ بات یاد رکھو کہ واپس مڑ کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے تم ہزار تبدیلیوں سے گزرو، ہزار انقلاب سے گزرو، بچپن، جوانی، بڑھاپا، دولت کماکر،عہدے پاکر یا مفلسی وغریبی میں گزرے، لیکن بعد موت ہوائوں میں بکھر جائو یا زمین میں منتشر ہو جائو واپس بارگاہِ الوہیت میں حاضر ہونا ہے قرآنِ حکیم نے حج کا مقصد حضورِ حق کا شعور بتایا ہے قرآن کا مقصد محض باتیں کرنا نہیں ہے انسان کی اصلاح کرنا ہے اسے اللہ کی ناراضگی سے بچانا ہے اس لیے یہ ہر عبادت کو اور زندگی کے ہر پہلو کو اتنی خوبصورتی سے زیربحث لاتا ہے کہ آدمی کو کوئی غلط فہمی نہیں رہتی حج رسم نہیں ہے اس کے احکام کو دِل کے کانوں اور دِل کی آنکھوں سے دیکھنا اور سننا چاہیے۔
حج کے جملہ احکام کیفیاتِ قلبی سے متعلق ہیں حدیث شریف میں وارد ہے کہ حج سے فارغ ہو کر آنے والا گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر آتا ہے جیسے وہ آج پیدا ہوا تھا اس حدیث کے آئینے میں حاجی کو دیکھنا ہے کہ اسے گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہوئی ہے تو دِل گناہوں سے متنفر ہو جائے گا ہاتھ پائوں اللہ کی نافرمانی سے رُکیں گے کہ دورانِ حج بھی تو ہر مقدس مقام پر اس نے گزشتہ سے معافی مانگی اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔
قبولیت حج کی دلیل
یہی ہے کہ دِل دُنیا کی محبت سے خالی ہو جائے اور آخرت کی رغبت پیدا ہو جائے۔
اللہ ہمارے گناہ معاف فرمائے اپنی اور اپنے حبیب ﷺکی اطاعت نصیب فرمائے توبہ قبول فرمائے نیک انجام میسر فرمائے۔
اللہ حج بھی نصیب کرے اور فرائض کی ادائیگی بھی نصیب ہو تو ضروری یہ ہے کہ ان سب عبادات کا حاصل حضورِ حق نصیب ہو اللہ کریم سب کو نصیب فرمائے۔ آمین۔

زکوٰۃ کے مصارف

صدقات دوقسم کے ہیں۔نفل صدقات اور فرض صدقات،فرض صدقات میں سر فہرست زکوٰۃ ہے۔ اسلام کا معاشی نظام دنیا کے تمام نظاموں سے منفرد اور بہترین نظام ہے کہ اللہ کا عطاکردہ ہے اللہ اپنی مخلوق کا بھی خالق ہے اور ان کی ضروریا ت کا بھی خالق ہے ان کی خواہشات و آرزوؤں کو بھی جانتا ہے اور ان کی تکمیل کے بھی وہ ذرائع صحیح ہیں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائے ہیں نفلی صدقہ مومن و کافر ہر ایک کو دیا جاسکتا ہے لیکن فرض صدقات صرف مسلمانوں کے لیے ہیں زکوٰ ۃ صرف مسلمانوں سے لی جائے گی کہ غیر مسلم پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں مسلمانوں سے ہی لی جائے گی اور مسلمانوں کو ہی دی جائے گی۔جس کے پاس کوئی رقم جو چالیس روپے سے زائد ہو اور ایک سال تک اس کے پاس محفوظ رہے اس کی ضرورت میں استعمال نہ آئے تو اس میں سے اسے ایک روپیہ زکوٰۃ کے لیے دینا فرض ہے۔گویا سومیں سے اڑھائی فیصد ٹیکس وہ ہے جو زائد ہے از ضرورت رقم پر لگے گا اور غریب مسلمانوں پر ہی خرچ ہوگا۔اس کے آٹھ مصارف ہیں جو خود اللہ کریم نے مقرر فرما دیے۔وہ کسی کی تقسیم نہیں ہے اللہ کی اپنی تقسیم ہے حتیٰ کہ اللہ کریم نے اسے انبیاء علیہم الصلوٰۃ پر بھی نہیں چھوڑا اپنی طرف سے ان کی تقسیم مقرر فرما دی اور یہ بہتر معاشی نظام ہے۔چونکہ اسلام ارتکازِ دولت کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی دولت ایک جگہ جمع ہوتی جائے، امیر امیر تر ہوتے جائیں اور غریب غریب تر ہوتے جائیں۔دنیا کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ بھی یہی ہے۔دنیامیں ایسے نظام موجودہیں کہ جس کے پاس پہلے دولت ہے وہ اور جمع کرتا جاتا ہے اور جو پہلے تہی دست ہے وہ اور غریب ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ صرف اسلام ہے جس نے زکوٰۃ کا نظام دیا ہے جس کے سبب جوزائد از ضرورت دولت ہے وہ چالیس تیس برس میں واپس گردش میں آجاتی ہے۔ اگر ڈھائی فیصد ایک سال آئے گی تو چالیس سالوں میں گویاوہ ساری واپس گردش میں آجاتی ہے۔اسی معاشرے میں گردش کرے گی پھر اس کے نفلی صدقات کی بہت ترغیب دی بہت سے گناہوں کا کفارہ نفلی صدقات کی صورت میں فرمایا اور بہت سی خطاؤں سے تلافی کے لیے غلام آزاد کرنے کرنے کی ترغیب دی۔ اسلام غلامی کے بھی خلاف ہے اور غلاموں کو آزاد کرنے پر اللہ کریم نے بڑے اجرکا وعدہ فرمایا ہے حتیٰ کہ غلاموں کو آزاد کرنے کے لیے ایک مدمصارفِ زکوٰۃ میں مقرر کی لیکن اس اطلاق صرف مسلمان غلاموں پرہی ہو گا۔
زکوٰۃ کے مصارف:
انما الصدقت للفقرائزکوٰۃ کا سب سے پہلا مصرف فقیر کی امداد ہے۔ فقیر اسے کہتے ہیں جو بالکل تہی دست ہو۔جس کے پاس نہ گھر ہو نہ ٹھکانہ،نہ روزگار ہو نہ کوئی ذریعہ معاش تو سب سے پہلا حق محتاجوں یعنی فقراء کا ہے۔والمسکین اس کے بعد غریبوں کا حق ہے۔ اصطلاح قرآن میں غریب و مسکین وہ ہو گا جس کے پاس مکان،جھونپڑا یا ٹھکانہ بھی ہے، گھر بھی ہے،کچھ مزدوری بھی کرتا ہے لیکن اس کی ضروریا ت پوری نہیں ہوتیں اس کی اتنی آمدن نہیں ہے کہ اپنی ضروریات آسانی سے پورا کرسکے تو وہ غرباء کے ضمن میں آئے گا وہ بھی مستحق ہے کہ زکوٰۃ سے اس کی مدد کی جائے۔
  والعملین علیھا تیسرے وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کو جمع کرنے پر مقرر کیے جائیں گے اور جو زکوٰۃ کو جمع کرنے پر مقرر کیے جائیں یہ ضروری تو نہیں کہ وہ فقیر ہوں یا محتاج ہوں کوئی بھی اس کام پر لگ سکتا ہے اس پر مفسرین کرام، علماء فقہاء حضرات نے بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔ مفتی محمد شفیع ؒ نے ان مباحث کو معارف القرآن میں یکجا کردیا ہے سب کا محاصل یہ ہے کہ عاملین کو زکوٰۃجمع کرنے پر تنخواہ نہیں دی جاتی۔ زکوٰ ۃ جمع توایک عبادت ہے، عبادت پہ اجرت نہیں ہوتی لیکن ان کا وقت لیا جاتا ہے وہ اور کوئی اور کام نہیں کر سکتے،کاروبارنہیں کر سکتے،مزدوری نہیں کرسکتے۔شب و روز اسی میں مصروف رہتے ہیں تو جو اجر ت انھیں دی جاتی ہے تو یہ ان کے اس وقت کی اجرت ہے جو ان سے لیا جاتا ہے۔اسی سے علماء نے آئمہ مساجد جو قرآن و حدیث پڑھاتے ہیں ان کی تنخواہوں کا جواز پیدا فرمایا ہے کہ قرآن پڑھانے کی تو اجرت جائز نہیں ہے نماز پڑھانے کی اجرت بھی جائز نہیں ہے خود امام پر بھی تو نماز فرض ہے اس نے بھی پڑھنی ہے دوسروں کو پڑھادی تو اور ثواب ہوگااس پر تنخواہ کس بات کی۔ علماء یہیں سے اخذ کرتے ہیں کہ اگر کسی پابند کر دیا جاتا ہے کہ اس نے پانچوں نمازیں یہیں پڑھنی ہیں جمعہ کا خطاب یہاں مسجد میں دینا ہے تو اس کا جو وقت لیا جاتااس وقت کی اجرت دی جاتی ہے عبادت کی اجرت نہیں ہے نماز تو خود اس پر فرض تھی۔
والمولفۃ قلوبھم اور وہ لوگ جن کی تالیف قلب مقصود ہو۔کسی نے اسلام قبول کیا یا کوئی پہلے سے مسلمان ہے لیکن انتا کمزور ہے، اتنا غریب ہے کہ اس کی کمزوری کافائدہ اٹھا کر غیر مسلم اسے پریشان کر تے ہیں تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اور اس کو  محتاجی سے بچانے کے لیے فرض صدقات میں اللہ نے اس کا حق مقرر کردیا ہے کہ اسے بھی زکوٰۃ میں سے حصہ دیا جائے گا۔
وفی الرقاب غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے نہ صرف فرض صدقات میں ان کا حصہ رکھا بلکہ غلاموں کی آزادی کی ترغیب دلانے کے لیے، گناہوں کے کفارے کے طورپر اور نیکی و ثواب حاصل کرنے کے لیے غلاموں کی آزادی کو ذریعہ قرار دیا حتیٰ کہ اگر کسی سے سہواً قتل ہوجائے تو اس کی سزا بھی غلام آزاد کرنا قرار دیا۔
والغرمین مقروض لوگوں کی مدد کی جائے مقروض یہ نہیں کہ بالکل فقیرو محتاج ہی ہو کوئی صاحب حیثیت بھی ہے لیکن اس کی حیثیت اتنی نہیں ہے کہ اپنے اخراجات پورے کرکے قرضہ بھی اتار سکے آمدن اتنی ہی ہے کہ اس کا گزارہ ہورہا ہے لیکن پیسے اتنے نہیں بچتے کہ وہ قرض اتار سکے تو وہ بھی اس کا مستحق ہے اس کا قرض اتارنے میں زکوٰۃ میں سے اس کی مدد کی جائے۔
و فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ۔فی سبیل اللہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ہے فی سبیل اللہ سے مراد ہے کہ معاشرے کا کوئی ایسا اصلاحی کام جس سے معاشرے کی دینی اعتبار سے اصلاح ہوتی ہو یاجہاں ملکی دفاع کی بات آجائے یا کافروں سے مقابلہ آجائے۔
وابن السبیل مسافر زکوٰۃ کا مستحق ہے خواہ وہ اپنے گھر میں کتنا ہی امیر آدمی ہو لیکن اگر دوران سفر وہ بھی ضرورت مند ہوجائے تو وہ بھی مسکین ہے، محتاج ہے جیسے کسی نے اس کی جیب کاٹ لی، اس کا زادِ راہ ختم ہوگیا تو مسافرکی مدد بھی زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے۔
زکوٰۃ کے یہ آٹھ مصارف ہیں ان کے علاوہ کسی جگہ زکوٰۃ کو پیسہ صرف نہیں ہوسکتا۔جن لوگوں لو اللہ نے صاحب نصاب بنایا ہے اور توفیق دی ہے جب وہ زکوٰۃ دیتے ہیں تو ان کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ زکوٰۃ کہاں دے رہے ہیں اور کیا یہ زکوٰۃ کا مصرف ہے بھی یا نہیں۔ہم اگر دیتے بھی ہیں تو جان چھڑاتے ہیں کہ اتنے پیسے کسی پکڑا دیے اس طرح نہیں کرنا چاہیے،احتیاط چاہیے کہ جب تک وہ اپنے مصرف تک نہیں پہنچے گی دینے والے پر اسی طرح فرض رہے گی۔فرض تب ادا ہوگا جب زکوٰۃ اپنے مصرف تک پہنچ جائے گی یا کسی شخص کو آپ دیتے ہیں تو اس پر آپ کو اتنا اعتماد ہونا چاہیے کہ یہ شخص مصارف زکوٰۃ پر میری زکوٰۃ خرچ کرے گا۔
 

لیلتہ القدر

  ارشاد باری تعالیٰ ہے بے شک اس کو یعنی قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا اور اے مخاطب تجھے کیا معلو م کہ لیلتہ القدر کیا ہے؟  لیلتہ القدر ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے ہر شعبہ زندگی میں ہر حال میں ہر کام میں  فجر تک رحمت اور سلامتی ہے۔ اللہ کریم نے جہاں رمضان المبارک کو بے پناہ فضیلتیں اور بخشش کے سامان عطا فرمائے ہیں اور روزہ داروں کی بخشش اور انعامات کے وعدے کیے ہیں،وہاں سب سے بڑی بات جو قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہے وہ رمضان المبارک کی خصوصیت ہے۔رمضان المبارک وہ با برکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کا نزول ہوا قرآن کریم اللہ کریم کا ذاتی کلام ہے اور کلام متکلم کی شان،حیثیت،عظمت اور جلالت کا امین ہو تا ہے۔ قرآن کریم اللہ کا ذاتی کلام ہے اور آخری کتاب ہے جو قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے اور اس میں قیامت تک کے حالات و مسائل کا حل اور جواب عطا فرمایا گیاہے۔اور یہ اتنا عظیم کلام ہے کہ اس کے لیے اللہ کریم نے رمضان کا مہینہ،جو سب مہینوں سے افضل ہے پسند فرمایااور ارشاد فرمایا ”ہم نے رمضان کو بھی قرآن سے عظمت و  شرف عطا فرمایا“۔پھر ارشاد فرمایا اسے ہم نے
 لیلتہ القدر میں اتارا۔مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر ایک ہی رات میں لیلتہ القدر میں نازل ہو گیا لیکن حضور اکرمﷺ پر جو نزولِ قرآن ہوا وہ بھی لیلتہ القدر میں ہوااور تیئس برسوں میں مکمل ہو ا۔قرآن کی عظمت وجلالت یہ ہے کہ جس مہینے میں نازل ہواوہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل،جس رات میں اترا وہ رات تمام راتوں سے افضل اورجس ہستی پر نازل ہو اوہ تمام رسل کے سردار،امام اور افضل ہیں۔تو قرآن کریم اللہ رب العزت کا اتنا بڑا انعام ہے کہ جس کی عظمت کو ہمارا شعور سمو نہیں سکتا۔
       لیلتہ لقدر کیا ہے؟پھر اسکی ایک جھلک دکھلادی کہ اس کی وسعتیں تو بے پناہ ہیں۔اس میں جو رحمتیں اور برکات ہیں وہ بے شمار ہیں اس کا ایک پہلو بتا دیاکہ یہ ایک رات ہزار مہینے سے بہتر ہے یعنی کوئی شخص ایک ہزار مہینہ باوضو رہے،ذکر کرتا رہے،مراقبات کرتا رہے، تلاوت کرتارہے،نوافل پڑھتا رہے،سجدے کرتا رہے،تسبیحات کرتارہے،درمیان میں کوئی وقفہ نہ ہو،نہ کھائے نہ پیے،نہ کہیں آئے نہ جائے اوراس ہزار مہینے یعنی تراسی برس اور چار مہینے سے اس کی ایک رات کی بیداری بہت بہتر ہے۔کتنی بہتر ہے؟ وہ حد مقرر نہیں فرمائی۔یہاں ان فرشتوں کی بات ہو رہی ہے جو سال میں صرف لیلتہ القدر میں ہی اترتے ہیں۔سال میں صرف ایک رات اترتے ہیں جو رحمت و بخشش الٰہی لے کر زمین پہ اترتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں۔والروح سے مراد علماء کی ایک جماعت نے روح الامین لکھا ہے اور بہت سے دوسرے حضرات،مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ روح سے مراد نجات یافتہ ارواح کو بھی اس رات رخصت ملتی ہے کہ زمین پر جائیں،اپنوں کو تلاش کریں،انکے لیے دعا کریں،انکے لیے برکات لے کر جائیں،روح انسانی کا عجیب معاملہ ہے۔روح نے برزخ یا آخرت میں وہ کچھ استعمال کرنا ہے جو کچھ اس نے یہاں کمایا۔اس کے سارے کا سارا مدار اس چند روزہ زندگی پر ہے اس میں وہ کیا حاصل کرتا ہے وہی جاکر اسے برزخ میں،میدان حشر میں آخرت میں،جنت میں اسی کے حساب سے ساری نعمتیں نصیب ہوں گی۔
       انعامات ِ الٰہی کی تو کوئی حد نہیں۔یعنی اللہ کی ایک مقدس کتا ب ہے جس کا ایک ایک لفظ اس کا ایک ایک حرف زندگی بھر کے گناہ بخشوانے،نجات کے لیے اور ترقی درجات کے لیے کافی ہے۔اس میں کتنی برکات ہیں جس کے نزول سے شہر رمضان کو تقدس بھی ملا،عظمت بھی ملی اور یہ ایک مہینہ اس کی ہرساعت کروڑوں لوگوں کو بخشوانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔پھر اس میں ایک خاص رات لیلتہ القدرہے جو ہر طاق رات میں تلاش کی جانی چاہیے۔اس ایک رات میں اتنی فضیلت رکھی اس کے کلام کی فضیلت کیا ہو گی۔اسے پڑھنا،اسے سمجھنا،اسکی لذت و حلاوت کو محسو س کرنا اور اس کو اپنے آپ پر نافذ کرنا،یہی تو قرآن ہے۔ قربِ الٰہی کے لیے سب سے اعلیٰ ذریعہ،فرمایا گیا اگر تم اللہ کریم سے باتیں کرنا چاہتے ہو تو نماز پڑھو،نوافل ادا کرو تم اللہ سے مخاطب ہونے کا شرف پاؤ گے لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کریم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو!اللہ تم سے باتیں کرنے لگے گا ہر آیت تمہیں مخاطب کر کے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر حقائق سے آشنا کر رہی ہے۔ پروردگار عا لم تم سے بات کرے تو پھر قرآن پڑھو  تو کیا عظمت ہو گی اس کتاب کی جس مہینے میں اتری اس مہینے کو شرف بخشا،جس رات میں اتری اس رات کو ہزار وں مہینوں پر افضل کر دیا۔جس ہستی پر اتری وہ بھی کائنات کی افضل ترین ہستی ہے جوخود مخلوق ہے لیکن اس کا ثانی مخلوق میں نہیں ہے۔ افضل البشر،افضل الرسلﷺ تو فرمایا! اس میں بے پناہ فرشتے جو رحمت کے امیں ہوتے ہیں زمین پر تشریف لاتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں ان انعامات کو وصول کرنے کی استعداد بھی تو ہو۔جس کے وہی دو ضابطے جونبی ؑ نے بتائے وہی ہیں،ایمان ہو،احتساب ہو،احتساب یہ ہے کہ کسی دنیاوی لالچ کے لیے کر رہا ہے،ذاتی شہرت کے لیے کررہا ہے،دولت دنیا جمع کرنا چاہتا ہے یا رضائے الٰہی کر رہا ہے۔احتساب یہ ہے کہ اپنی خواہش،اپنی آرزو کو دوسرے سے ہر کوئی بہتر جانچ سکتا ہے۔تو احتساب کرے کہ خواہش محض قربِ الٰہی،رضائے الٰہی کو پانے کی ہو تو پھر وہ نعمتیں وصول کرنے کی توفیق نصیب ہو گی۔ہماری یہ بدنصیبی ہے کہ حقائق لوگوں نے چھوڑ دیے ہیں اور حکایات کو اپنا لیا ہے علامہ مرحوم نے فرمایا ہے کہ 
یہ امت روایا ت میں کھو گئی ہے
حقیقت خرافات میں کھو گئی ہے
  لوگوں نے قصے کہانیا ں بنا لی ہیں اور قرآن کے ارشاد اور ارشادات آقائے نامدار ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔انکی پرواہ نہیں کرتے۔بھئی قرآن اور حدیث کے ہوتے ہوئے حکایات کے سننے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر کسی کی کوئی حکایات قرآن سے استفادہ کرنے کی،حدیث پاک،سنت سے استفادہ کرنے کی ہے تو وہ سننے سے ایمان تازہ ہوتا ہے لیکن کوئی کہانی قرآن و حدیث کے باہر ہے اس کے سننے سے تو وقت ہی ضائع ہو گا،دل بھی سیاہ ہوں گے اور قوت عمل بھی ضائع ہو گی۔دین کی بنیا د حکایات اور قصوں پر نہیں ہے۔قرآن کریم نے بے شمار قصے بیان فرمائے ہیں انبیاء کے بھی اور سابقہ قوموں کے بھی،کفار کے بھی اور بڑے بڑے جابر حکمرانوں کے بھی۔آپ نے دیکھا قرآن کریم نے کہیں بھی مسلسل تاریخ بیان نہیں فرمائی۔جس قصے میں انکا کوئی ٹکڑابطور مثال لوگوں کو سمجھانے کے لیے جہاں درکار ہوا وہاں وہ ٹکڑا ارشاد فرما دیا۔ کیونکہ قرآن کا موضوع عملی اور ایمانی زندگی کی اصلاح ہے تاریخ نہیں۔اگر تاریخ ہو تی تو پھر ہر قصے کو مسلسل بیان فرماتا۔فرمایا اس رات میں وہ خصوصی فرشتے جو طلب ِ الٰہی بانٹتے ہیں۔وہ خصوصی فرشتے جو ذوق و شوق سے محبت الٰہی بانٹتے ہیں انہیں بھی چٹھی ملتی ہے اس رات کو نازل ہوتے ہیں اور نیک اور نجات یافتہ ارواح بھی کہ وہ تو اس عالم سے آشنا ہو چکی ہوتی ہیں وہ ان حقائق کے ساتھ آتی ہیں اور ان حقائق کو اپنوں کے قلوب پر القا کرنا چاہتی ہیں کہ یہ اس دنیا میں رہ کر وہ دنیا کما لیں۔اس دنیا کو کمانے کی یہی دولت ہے جو یہاں اس وقت ہمارے پاس ہے جسے ہم نے محض وقت گزارنے پر لگا دیا۔ وقت اتنی بے قیمت چیز نہیں ہے کہ اسے دھکے دے دے کر گزار ا جائے۔ایک ایک لمحہ قیمتی ہے جو لمحہ گزر گیا کوئی اسے لُٹا سکتا ہے؟ تو پھر اس میں اللہ کی یاد کیوں نہ ہو ذکر الٰہی کیوں نہ ہو،اطاعت الٰہی کیوں نہ ہو،ہر لمحے میں طلبِ الٰہی کیوں نہ ہو۔یہ کیفیات بنتی ہیں۔
سو فرمایا ایسا موقع جو زندگی میں ایک بار ہی آئے اسے کہتے ہیں سنہری موقع،یہ ہماری زندگی سنہری موقع ہے ہمیں ایک ہی بار ملی ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اس کے لمحات کو ہم کہاں خرچ کررہے ہیں کیونکہ اس پر ہماری دائمی،ابد ی زندگی کا مواد ہے۔یہ اس کی عطا ہے کہ وہ کوئی ایک لمحہ قبول کر لے تو ساری زندگی کو باغ و بہار کر دے۔