Latest Feature Articles


عید الاضحی


اسلام میں دو ہی تہوار ہیں۔ ایک رمضان المبارک کے تشکر کے طور پر جسے ہم یوم عید کہتے ہیں اور دوسرا تہوار عید قربان یا عید الاضحی ہے۔ عیدالاضحی حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم اثیار کی نہ صرف یاد گار ہے بلکہ اس میں حکمت الہٰی یہ پوشیدہ ہے کہ جو اجر، جو برکات،جوکیفیات اور جس طرح کی رحمتیں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کو قربان کرتے ہوئے نازل ہوئیں تھیں۔اُن میں امتِ محمدیہ علی صاحبہ الصلوہ والسلام کو بھی شریک بنا دیاگیا۔
سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی تھی کہ اللہ کریم نے اِس عمر میں آپ کوبیٹاعطا فرمایا۔پہلے تو آپ کو یہ حکم ملا کہ اپنی زوجہ محتر مہ اور معصوم بچے کو وہاں چھو ڑ آؤ جہاں آج بیت اللہ شریف ہے۔حضرت جبرائیل امین ؑ نے رہنمائی کی اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں وہاں چھوڑ آئے۔ اس وقت وہاں سینکڑوں میلوں تک کسی آبادی کا کوئی نشان نہیں ملتا۔حضرت حاجرہ ؓ کا پانی کی تلاش میں بے تاب وبے قرار ہو کر پہاڑوں پر دوڑنا،حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی بے تابی، آب زم زم کا وہاں سے نمودار ہونا۔
حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کے بارے قرآن ِحکیم بتاتا ہے۔”فلما بلغ معہ السعی“۔ ((37:102 یعنی جب وہ اس قابل ہوئے کہ انگلی پکڑ کر ساتھ چل سکیں تو اللہ نے حکم دیا کہ آپ علیہ السلام اسے میری راہ میں قربان کر دیں۔قربانی کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کے ساتھ لفظ ”خلیل اللہ“ ہے۔یوں تو سارے نبی اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ہر ولی اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ ہر مسلمان اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ اللہ سے دشمنی تو صرف کافر کے نصیب میں ہے لیکن بعض لوگ اِس دوستی میں اِس حد تک آگے چلے گئے کہ یہی اُن کا نشان بن گیا۔ آپ اندازہ کریں کہ جس اللہ کے بندے کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی ہو۔اُس عمر میں فرزند عطا ہو۔ جس کی پیشانی میں نورِ نبوت درخشاں ہو پھر اس بچے کی عمر کا وہ حصہ جو بچپنے والا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ حکم دیا جائے کہ اِسے میری راہ میں قربان کر دو۔اِس کیلئے کتنی محبت چاہئے حکم دینے والے کے ساتھ؟ کہ آدمی اس کی گردن پر چھری رکھ دے۔
یہ وہ نظارہ ہے جو رب العالمین نے اُن فرشتوں کو بھی کرایا جو کہتے تھے کہ تخلیق ِآدم سے کیا فائدہ ہو گا؟ یہ زمین پر فساد ہی کریں گے۔اللہ کریم نے اُنھیں دکھا دیا کہ ان میں ایسے بھی ہیں کہ جو سب کچھ میرے اشارے اور میرے نام پر میری خوشی اور میری رضا کیلئے انتہا ئی عزیز ترین متاع اپنے ہاتھوں لٹا سکتے ہیں۔جب آپ علیہ السلام نے بسمِ اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی۔ خون کے فوارے ابلنے لگے۔ لاشہ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا۔آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دیکھا سیدنا حضرت اسمعٰیل علیہ السلام ساتھ کھڑے مسکرا رہے ہیں اور دنبہ کٹا پڑا ہے۔ پریشان ہو گئے۔یا اللہ کیا میری قربانی قبول نہیں ہوئی؟ تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا۔  ”قد صدقت الریا یا ابراہیم“  ((37:105  ”اے ابراہیم!بے شک آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا“۔ یہ میری مرضی کہ میں نے حضرت اسمٰعیل کو بچا دیا اور دنبہ ذبح کرا دیا  ”وفدینہ بذبح عظیم“ ((37:107 میں نے اس کے بدلے بے شمار قربا نیاں قبول کر لیں۔ چنانچہ یہ ذبح عظیم ہے۔ اس میں اُس وقت سے لیکر قیامت تک جتنے لوگ شہید ہونگے۔ وہ مکہ مکرمہ، مدنیہ منورہ، غزواتِ نبوی علیہ الصلوۃ والسلام اور اُس کے بعد ہوئے۔کوئی لاشہ جو بدر واُحد میں تڑپا یا کربلا میں خانوادہ نبوی ﷺ کے چراغ اور جگر گوشے ہوں یا آج افغانستان، کشمیر، فلسطین، عراق اور پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ بطفیلِ محمدﷺ ہر شہید کو ذبح اور قربانی کی لذت میں شریک کر دیا اور اُس قربانی کو حج کا رکن بھی قرار دے ِ دیا۔اب شہید تو شہید ہو کر لطف لے گئے۔ حجاج کرام نے مکہ مکرمہ، منٰی میں جا کر اپنی قربانیاں پیش کر کے ثواب لے لیا۔عامۃ المسلمین کہاں جائیں؟ اللہ نے فرمایا جو مسلمان روئے زمین پرجہاں بھی ہو، جو جانور اُسے پسند ہو،خوبصورت اورپیارا لگے، میری راہ میں قربان کر دے، میں اُسے بھی ذبحِ عظیم میں شامل کر دونگا،وہی برکات، انوارات اوروہی رحمتیں اُس پر وارد ہونگی جو سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا حضرت اسمعٰیل علیہ السلام پر اس وقت وارد ہوئیں تھیں۔ 
لہذا قربانی محض رسم نہیں ہے۔ یہ اس طرح بھی نہیں ہے کہ خانہ پرُی کی جائے۔اگر ہم نے پورے خلوص سے قربانی کی تو صرف دنبہ قربان نہیں ہوگا، صرف جانور ذبح نہیں ہو گا، بلکہ اللہ ہمیں توفیق دے گاکہ ہم اُس کی اطاعت کے لیے اپنے مفادات قربان کر سکیں۔ عبادات کے اوقات میں آرام اور حلال کے مقابلے میں حرام قربان کر سکیں۔ ہم میں عاداتِ ابراہیمی ؑ آنا شروع ہو جائیں تو یہ قربانی کا ایک نتیجہ ہے۔جسے ہم پرکھ سکتے ہیں کہ کیا ہماری قربانی رسمی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی؟ ہمارے دل میں جذبہ آیایا نہیں۔ہر ایک کا حال اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک انسان خود اندازہ کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت سوچو کہ میں کیاقربان کرنے چلا ہوں؟ یہ کس نے حکم دیا تھا؟ یہ سنتِ ابراہیمی تھی بطفیلِ محمد ﷺرب ِکریم نے انعام میں عطا کر دی کہ امتِ مرحومہ اس سعادت سے محروم نہ رہے پھر اسے یومِ عید قرار دے دیا۔ فرمایا پہلے دوگانہ ادا کرو پھر قربانی کرو اور سوچ کر کرو کہ اے اللہ تو کتنا کریم ہے، مجھے اجر وہ دے رہا ہے گویا میں بیٹا ذبح کر رہا ہوں، جبکہ میں ایک جانور ذبح کر رہا ہوں۔ اُس درد کو محسوس کرو کہ اگر بیٹا ذبح کرنا ہوتا تو تمہارے دل کا کیا عالم ہوتا؟ربِ کریم نے اس چھوٹی سی قربانی پر اتنا بڑا دردِدل عطا کر دیا۔اب یہ تو اپنے شعور کی بات ہے کہ ہم وہ کیفیت، قرب اور دردِ دل کتنا حاصل کرتے ہیں؟ حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اللہ کے لئے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔جو راہ حق میں کام آئے۔ خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طنیت را۔کیا پاک مزاج لوگ تھے۔ہم بہرحا ل جانور ذبح کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ قربانی قبول ہو گی؟ اس میں ہمارا خلوص اور سرمایہ مشتبہ ہوتا ہے۔ ہمارے طریقے خلاف سنت بلکہ رسومات پر مبنی ہوتے ہیں اور عبادت تو وہی ہے جو نبی علیہ الصلوٰۃ کے طریقے اور حکم سے ہو۔اپنی مرضی سے نہیں۔سو ہم سے ہزاروں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔
 قارئین گرامی!قربانی کی حقیقت کو وہ لوگ پا گئے جو محض بقائے دین اور احیا ئے دین کے لئے واقعی قربانی دے رہے ہیں اور دیتے چلے جا رہے ہیں۔ آخری کتاب قرآن حکیم ہے۔ جب تک اللہ نے دنیا کو قائم رکھنا ہے۔ تب تک نبوت بھی رہے گی۔ یہ دین بھی رہے گا۔ لیکن دنیا عالم اسباب ہے۔اس میں کس کس کو اس سعادت سے سرفراز کرتا ہے؟ یہ اس کی پسند ہے۔ ہماری کوشش یہ ہو کہ جب جانور قربان کریں تو یہ دعا بھی کریں کہ اے اللہ!  نہ صرف ان جانورں کی قربانی ہم سے قبول فرما بلکہ ہماری ذاتی قربانی بھی قبول فرما۔قربانی کی عید تو شاید ڈھائی دن کی ہے لیکن قربانی کا موسم ڈھائی دن کا نہیں ہے۔یہ ڈھائی دِن کی عید جانوروں کی قربانی کی ہے۔ جان و مال کی قربانی، عشق و محبت کی قربانی،درددل کی قربانی کا موسم اپنے جوبن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ خوش نصیب ہوں گے جن کے دل میں اللہ سے عشق ہو گا۔اللہ کے حبیب ﷺ سے محبت ہو گئی۔ اللہ انہیں چن لے گا۔
اللہ کریم ہماری قربا نیوں کو قبول فرمائے دین ِبرحق پر زندہ رکھے اور دین ِبرحق پر موت نصیب فرمائے اور دین دار بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمین  


شب برات

آج شب برات ہے،شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے۔ بعض اوقات، بعض لمحات، بعض راتوں کے لئے حدیث شریف میں فضائل آئے ہیں، ان کی برکات زیادہ ہیں۔ان میں عبادت کا اہتمام لوگ کرتے ہیں۔لیکن ایک بات یاد رہے،بنیاد فرائض ہیں۔اگرکوئی فرائض کی پرواہ نہیں کرتا اور صرف شب براتیں منا لیتا ہے،تویہ دین نہیں ہے۔جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے اور شب برأت بھی ہم پٹاخے چلا کر، خرافات سے مناتے ہیں۔اگر یہ رات عباد ت کی ہے، فیصلوں کی رات ہے۔بعض احادیث میں ملتا ہے۔ بعض متقدمین نے تفسیر میں بھی نقل فرمایا ہے کہ دنیا میں کام کرنے والے فرشتوں کو ایک سال کے لئے اس رات میں فیصلے عطا کردئیے جاتے ہیں۔لیکن کیا اللہ کریم اپنے فیصلوں میں کسی کا محتاج ہے؟کوئی ایسا فیصلہ ہے جو اللہ پر ہاوی ہے اور اللہ کریم مجبور ہے،ایسی تو کوئی بات نہیں۔وہ جب چاہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ہر لمحہ اس کی عبادت کا ہے اور ہم نے عباد ت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔عبادت کا مطلب اطاعت الہٰی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ نماز اور نفلیں عبادت ہیں۔بازار جانا بھی عبادت ہے، روزگار کمانا بھی عبادت ہے،مزدوری کرنا بھی عبادت ہے، بال بچے پالنا بھی عبادت ہے، والدین کی خدمت بھی عبادت ہے،اولاد کی تربیت بھی عبادت ہے۔زندگی کا ہرکام یا اللہ کی عبادت ہے یا جرم ہے۔دو حالتوں میں سے زندگی کا کوئی کام خالی نہیں ہے۔اگر اللہ کے حکم کے مطابق ہے، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اتباع میں ہے، نبی کریم ﷺ کی غلامی میں ہے تو ہرکام عبادت ہے۔مزدوری عبادت ہے، سفر عبادت ہے،قیام عبادت ہے،سونا عبادت ہے، جاگنا عبادت ہے، بات کرنا عبادت ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی حدود کے اندر ہو۔ عبادت کا مطلب اطاعت ہے۔جو عبادات فرض کی گئی ہیں جیسے نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ، یہ اللہ کا خصوصی انعام ہے۔یہ حضور حق میں حاضری ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں رو برو کھڑے ہونا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ باربار بارگاہ عالی میں حاضر ہونے سے بندے کا اللہ سے تعلق بڑھتا ہے،آشنائی بڑھتی ہے، دل اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہٰذاعبادات کا حاصل یا جسے آپ ثواب کہتے ہیں۔ ہمیں اس کو سمجھنے میں بھی غلطی لگتی ہے اور کہہ دیا جاتا ہے یہ اُدھاری مزدوری ہے۔جی اس کا ثواب مرنے کے بعد ملے گا۔یہ غلط کہاجاتا ہے۔ہر شے کا ثواب نقد ملتا ہے اورعبادا ت کا ثواب کیا ہے؟ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ  الْفَحْشَآءِ  وَالْمُنْکَر (العنکبوت:45) اگر آپ اللہ کی عبادات کرتے ہیں تو اس کا ثواب یہ ہے کہ آپ کا کردار صحیح ہو جاتا ہے۔ بار بار حاضری سے،سربسجود ہونے سے، سجدے کی قربت سے،اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ دل پر ایک کیف نصیب ہوتا ہے،ایک حضوری نصیب ہوتی ہے۔معیت الہٰی نصیب ہوتی ہے۔ ایک احساس نصیب ہوتا ہے کہ میرا پروردگار ہر جگہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ میرے ساتھ ہے، میرے کردا ر سے واقف ہے۔ لہٰذا بندہ مسلسل اللہ کی اطاعت کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی نافرمانی سے بچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اللہ کی حضور ی کا کیف گناہ سے بچنے کا سبب بن جاتا ہے۔اگر اللہ کی عبادت بھی کئے جا رہا ہے، نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، جھوٹ بولے جارہا ہے۔نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، سود کھائے جارہا ہے۔ نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، برائی کئے جارہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ عبادت نہیں کررہا، کہیں نہ کہیں کوئی کمی ہے یا اس کا عقیدہ درست نہیں ہے یا عمل سنت کے مطابق نہیں ہے۔ حضور ﷺ کے اتباع میں نہیں ہے۔ کہیں کوئی کمی ہے کہ اس پر نتیجہ مرتب نہیں ہو رہا۔یہی حال ان مبارک ساعتوں کا بھی ہوتا ہے۔لیلۃ القدر ہے یا شب برأت  ہے۔ اگر ان مبارک ساعتوں میں عبادت نصیب ہوتی ہے یا شب بیداری نصیب ہوتی ہے تو اس کا حاصل کیا ہے؟ کیوں شب بیداری کرے؟کیوں رات کو نفلیں پڑھیں؟اور پھر ایسے بندے نے نفلیں کیا پڑھنی ہیں جو فرائض کا تارک ہے؟ نوافل تو زائد ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس اصل سرمایہ ہی نہ رہے تو زائد کیا رہے گا؟ ان کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شب برأت کو شب بیداری کرتا ہے یا نوافل ادا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ وہ فرائض کا تارک نہیں رہے گا۔ اللہ اسے توفیق دے دے گاکہ وہ فرائض قائم کر لے گا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی توفیق مل جائے گی، اللہ کا اطاعت گزار بندہ بن جائے گا۔
 لیکن ہمار ی بد نصیبی یہ ہے کہ ہم احکامِ الہٰی اور شریعت کو چھوڑ کر رسوما ت کے پیروکار ہوگئے ہیں۔ہم رواجات کو ترجیع دیتے ہیں اور ہماری ہر ادا میں ایک عجیب طلب پنہا ہوتی ہے کہ میرا ایسا کرنے سے میرے بارے لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ مجھے پارسا مانتے ہیں کہ نہیں لوگ مجھے نیک مانتے ہیں یا نہیں،لوگوں نے مانا تو کیا ہوگا؟ لوگوں نے نہ مانا تو کیا ہوگا؟اللہ کے ایسے نبی ؑدنیا سے گزرے جنہیں بحیثیت نبی ؑکسی نے تسلیم نہیں کیا بلکہ ظلماً شہید کردیا۔کیا ان کی شان میں کمی آ جائے گی کہ دنیا میں تمہیں کسی نے نہیں مانا؟لوگوں نے تمہیں اچھا نہیں کہا اس لئے تم اچھے نہیں ہو، ہرگز نہیں۔ جنہوں نے نہیں ماناان لوگوں کا نقصان ہوا، ان کا ایمان ضائع ہوا۔انبیاء کی شان میں کوئی کمی نہیں آئی۔حق وہ ہے جو عنداللہ ہے،بارگاہ رسالتﷺ میں قبول ہو، عنداللہ قبول ہوتو وہ قبولیت ہے۔نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِ (العمران:03)فرمایا اللہ نے حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی۔اللہ ایک ہے، جو زندہ ہے، جو قائم ہے اور وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔باقی ساری کائنات اس کی دی ہوئی حیات سے زندہ رہتی ہے۔اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتی ہے اور وہی مالک مختیار ہے،جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی  بِالْحَقِ حق کے ساتھ، واقعیت کے ساتھ،اس کا ایک ایک حرف حق ہے۔ جو حرف بہ حرف سچ ہے۔ جواپنے اندر واقعیت رکھتا ہے یعنی ایسا ہی واقعہ ہو گا جیسا قرآن نے بتا دیا۔اس کے سارے اصول قواعد وابط نزول سے لے کرقیام قیامت تک قابل عمل اور قابل اتباع ہیں۔
آج اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ ساتھ ہمارا رشتہ کمزور ہو گیا ہے۔ اس لئے ہمیں سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ایک دن میرے پاس ایک مہمان آئے۔ ان کے ساتھ دو نوجوان بچے تھے۔ انہوں نے کندھوں تک بال رکھے ہوئے تھے۔ سر کے بالوں کو کندھوں تک بڑھانا سنت نبوی ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ سر مبارک کے بال بڑھتے رہتے، جب کندھوں تک پہنچ جاتے تو حضور ﷺ کان مبارک کی لوؤں تک کٹوا دیتے اور پھر تب تک بال مبارک بڑھتے رہتے۔جب تک کہ وہ شانوں تک پہنچ جاتے۔ مجھے بہت اچھے لگے بال بڑے پیارے لگے،سنت کے مطابق تھے۔ لیکن بچوں نے کیوں رکھے ہوئے ہیں؟کیا سنت سمجھ کر،نہیں بچوں نے اس لئے رکھے ہوئے تھے کہ اہل مغرب اس طرح رکھتے ہیں،یہ ہماری بدنصیبی ہے۔ اگر سنت سمجھ کر رکھتے تودہشت گردکہلاتے،قدامت پسند کہلاتے اور تہذیب سے گئے ہوئے لوگ کہلاتے، غیر مہذب کہلاتے۔نبی کریم ﷺ کی سنت ہے داڑھی مبارک،صرف نبی کریم ﷺ کی ہی نہیں، حضر ت آدم علیہ السلام سے حضور نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء کی سنت ہے۔ہرنبی ؑنے داڑھی رکھی کسی نبی ؑنے شیو نہیں کی۔چونکہ بش کی داڑھی نہیں ہے، اس لئے داڑھی رکھنا تہذیب کے خلاف ہے۔ آج اگر بش داڑھی رکھ لے تو آپ کا یہ سارا جدید طبقہ داڑھی رکھ لے گا۔ لیکن سنت سمجھ کر رکھی جائے تو غیر مہذب ہوجاتا ہے اور سنت سمجھ کر بال بڑھا لویا بال رکھ لو تو غیر مہذب ہوجائے گالیکن تہذیب مغرب نے چونکہ بال بڑھائے ہوئے ہیں اس لیے وہ بڑھانا تہذیب ہوگئی۔جب ہم اس جگہ پہنچ گئے ہیں تو شب برأت منانے سے ہمارا کیا بگڑا؟چار نفلیں پڑھنے سے کیاہو گا؟یہ نوافل سجاوٹ ہوتے ہیں۔جیسے یہ ممبر پڑا ہے، اس پر آپ دو پھول لگا دیتے ہیں، دو بلب لگا دیتے ہیں کوئی اور خوبصورت چیز لگا دیتے ہیں تو یہ سج جائے گا۔ لیکن اصل کا موجود ہے تو وہ سجے گااور اگر اصل کا وجود ہی نہ ہوتو سجاوٹ آپ کہاں لگائیں گے؟ شب برأت ہو یا لیلۃالقدر ہو، یہ ساری نفلی عبادتیں، اس زندگی کی سجاوٹ ہیں جو سنت کے مطابق ہو۔اس شخص کے لئے جو فرائض کا پابند ہو۔ اس شخص کے لئے جو حلال و حرام میں تمیز کرتا ہو۔ اس شخص  کے لئے جو اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو۔اگر درمیان سے اصل چیز ہی نکال دو تو سجاوٹ کس کام آئے گی؟ ہم مکان سجاتے ہیں،اس میں خوبصورت لائیٹیں لگاتے ہیں، اچھے پنکھے لگاتے ہیں،اچھا رنگ وروغن کرتے ہیں،مکان سج جاتا ہے۔ لیکن اگر مکان ہی نہ ہو تو سجاوٹ کس کام کی؟رنگ کے ڈبے خرید کر رکھ لو،بتیاں خرید کر رکھ لو، پنکھے خرید کر رکھ لو،قالین خرید کر رکھ لو،صوفے خرید کر رکھ لو،مکان تو ہے نہیں یہ سارے اخراجات کس کام کے؟
 میرے بھائی! یہ شب برأت بھی اور اس کی شب بیداری اور اس کے نوافل بھی تب ہیں کہ جب ہم اصل کوقائم کریں۔اب رواج یہ آگیاہے کہ اصل کو تو بھول جاؤ، جانے دو،سال بھر سجدہ نہ کرو۔ ایک شب برات کو جاگ لو۔یاد رکھیں ان مبارک راتوں کی عبادت کا بھی ثواب یہ ہے کہ رات کو جاگیں تو صبح عملی زندگی میں توفیق عمل ارزاں ہو جائے۔پھرآپ سمجھیں کہ رات کا جاگنا قبول ہوگیااور اگر صرف رات کو جاگے اور ٹوٹل پورا کرلیاکہ اب اتنی حوریں مجھے مل گئیں۔اتنے محل مجھے جنت میں مل گئے۔ اتنے مکانات مجھے مل گئے۔ میرے بھائی سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے۔ یہ کاروبار نہیں ہے کہ ایک رات آپ نے پیسہ لگایا اور اس پر منافع آ گیا اور کافی ہے۔سال بھر کھا لیں گئے۔ نہیں، یہاں وہ بات نہیں ہے۔عبادت کانتیجہ توفیق عمل ہے اوراگر توفیق عمل ارزاں نہیں ہوتی تو عبادت قبول نہیں ہے۔ 

قرارداد پاکستان کے اہم محرکات


وطن عزیز انگریز وں نے مسلمانوں سے لیا تھا اور اصول بھی یہی ہے کہ کوئی قوم جس سے وہ ملک لیا گیا ہو۔اگر اس ملک کی سلطنت چھوڑی جاتی ہے، حکومت چھوڑی جاتی ہے توواپس اس کے سپرد کی جاتی ہے۔لیکن حالات ایسے نہیں تھے۔انگریز برصغیر سے اس لیے گیاکیونکہ اس پر ہندو اور مسلم آبادیوں کا پریشر تھا۔ جب جنگ عظیم برپا ہوئی اس جنگ عظیم نے انگریز کو اس حد تک کمزور کردیا کہ نہ صرف یہاں سے بلکہ دنیا کے بے شمار خطوں سے اسے اپنی فوج واپس بلانا پڑی، وہ کمانڈ نہیں کرسکتاتھا، کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔ علامہ اقبال نے آلہ آباد کے جلسے میں دوقومی نظریہ پر بات کی کہ ہندو مذہب الگ ہے۔ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے۔ آج جہاں مینار پاکستان ہے اور اللہ شاہد ہے، شاید میں غلط ہوں، میں سمجھتا ہوں ہمارے بچوں کی کثیر تعدادجو سوائے اس کے کہ یہ ایک  Monumentہے،یہ ایک خوبصورت جگہ ہے، یہ ایک سیر گاہ ہے۔ اس سے آگے کچھ جانتے ہوں کہ اس کی تعمیر میں،اس کی بنیادوں میں کتنی اللہ کی مخلوق ہے۔ جن کا خون اور ہڈیاں صرف ہوئیں؟ہماری آج کی نسل اس کی تعمیرکے فلسفے سے اس طرح آشنا ہی نہیں ہے کہ جس کشت خون پر،جن ظلموں کو سہتے ہوئے افراد نے اس کی بنیادوں میں اپنی زندگیوں کا حصہ ڈالا۔
  بات میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔23 مارچ 1940کوجو مطالبہ اور Discussion آل مسلم لیگ جو متحدہ مسلم لیگ تھی کے پلیٹ فارم سے دیا گیا۔ میں نے مختلف جگہ سے چنداقتباسات اکھٹے کئے۔ کس نظریے پر ہم نے یہ وطن عزیز حاصل کیاہے؟میں تھوڑا سا وہ حصہ جو اس سے متعلق ہے اختصار سے عرض کرتا ہوں۔ 
  The Lahore Resolution    قراد داد لاہو ر 
The Muslim League helds its annual session at Lahore on 22 to 24 March 1940. The Lahore resolution was moved by Mulvi Fazul Ul Haq and second by Chuhdory Khaleeq Uz Zaman that finally approved on March 24, 1940. Jinah rightly expressed his viewable remarks about the politics circumstances of India 
The muslims stands he said:                                                                                
 آگے وہ الفاظ ہیں جو محترم قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں۔وہ فرماتے ہیں۔
 '' The Indian problem is not tunal but international no consitution can work without recognizing this reality, muslims of India will not accept a constitution that established a Government of Hindu majority on them, if Hindus and Muslims are placed under one democrative system this would means HinduRaj''    
  آگے یہ تحریر لمبی ہے۔اس لئے میں آپ کے سامنے صرف قرار داد کا متن عرض کرتا ہو ں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ
۱۔   وفاقی نظام جو کہ انڈین ایکٹ 1935کے تحت ہو وہ مسلمانوں کونامنظور ہے۔ 
۲۔  کوئی نیا تبدیل کردہ آئینی منصوبہ قابل قبول نہیں۔ جب تک اس کی منصوبہ بندی مسلمانوں کی رضامندی اور منظوری سے نہ ہو۔
۳۔  شمال،  مغرب اور مشرق میں ملحقہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ علیحدہ آزاد مسلمان مملکت بنائی جائے۔ جہاں کا آئین خود مختیار اور آزاد ہو۔
۴۔  مسلم اقلیت کے حقوق کی حفاظت کو اہمیت دی جائے۔
یہ وہ نقاط ہیں جو اس قرارداد کامتن ہیں۔ اس کے ساتھ میں نے عموما ً میڈیا پر یہ دیکھا ہے۔سنا ہے کہ جب وطن عزیز معرض وجود میں آیاتو نفاذاسلام کے لیے جو آج بحث وتمہید ہور ہی ہے۔تب وہ کیوں نہیں ہوئی۔ لیکن اس وقت اس سلسلے میں جو اخذ کردہ نقاط 1956 میں آئین کا حصہ بنے۔ حاضرین محفل ایک لمحے کو ان کو بھی سن لیجئے:
۱۔   حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن اس نے مملکت پاکستان کے سپرد کی، اپنے بندوں کے توسط سے ان اصولوں حدود کے درمیان جو کہ اس نے بیان فرمائے جو کہ ایک متبرک ذمہ داری ہے۔
۲۔  مملکت اپنی طاقت اور حاکمیت اپنے منتخب کردہ بندوں سے چلائے گی۔
۳۔  اسلامی قوانین، جمہوریت،آزادی، مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کاپوری طرح عمل ہوگا۔ 
۴۔  مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی طرز زندگی قرآن اور سنت کے مطابق طے کریں گے۔
۵۔  اقلیتوں کو اپنا مذہب اور تہذیب اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
۶۔   پاکستان میں ایک فیڈریشن ہوگی۔
۷۔   بنیادی حقوق کی ضمانت ہوگی۔
۸۔اور آخری آٹھوں پوانٹ جسے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔ قراد داد مقاصد کے متن کو سامنے رکھتے ہوئے۔ عدلیہ آزاد ہوگی۔
یہاں تک جب آپ اور میں پہنچے ہیں تو ضمناً وہ محرکا ت آپ کے سامنے عرض کردوں کہ جن محرکات کی بناء پر حالات اس نہج کو پہنچے۔   تومتحدہ ہندستان میں پاکستان کو الگ اسلامی بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے جومحرکات میں پہلا محرک ہے وہ فرقہ وارانہ فسادات ہے، ملک آزاد ہو گیا، لاکھوں جانیں قربان ہو گئیں اور آج پھر وہی فرقہ وارانہ فسادات؟ پاکستان بنانے کا دوسرا محرک معاشرتی تقسیم تھایعنی معاشرے میں جو مقام ومرتبے کی تقسیم تھی۔چونکہ ہندو مذہب میں انسانوں میں بے شمار درجے ترتیب دئیے گئے ہیں اوریہ ممکن بھی نہیں ہے کہ جو ہندو اعلیٰ درجے کا ہے،اس کے ساتھ کسی ادنیٰ درجے کے ہندو کا ہاتھ یا اس کا کپڑا یا اس کی کوئی چیزمس کر سکے۔ یعنی معاشرتی حالات اور معاشرتی حالات میں وہ حیثیتوں کی تقسیم۔پاکستان کی تعمیر میں تیسرا محرک مسلم زبان و ثقافت ہے۔زبان وثقافت وہ تقابل جو ہمیں قرب عطا کرتا ہے دین محمد الرسول اللہ ﷺ اوراس وطن عزیز میں اپنی ثقافت دیکھیں، ثقافت کے نام پر آج ان اکہترسالوں میں جو بیج ہم نے بویا ہے اس کا درخت کہاں کھڑا ہے؟ کتنا اس کی چھاؤں میں ہم گرمی سے محفوظ ہیں؟ پھر بات آئی دو قومی نظریہ کی جو حضرت علامہ اقبال رحمۃ علیہ نے آلہ آباد کے اپنے خطبہ میں بیان کیا۔ جس نظریے پر ہم نے وطن عزیز حاصل کیا۔ میں یہ سمجھتا ہو کہ جن نظریات پر ہم نے اپنی قوم کو جوان کیا ہے۔ اس میں جذبات بھی بہت شدت رکھتے ہیں۔ Aggression بہت زیادہ ہے اور پھر اوپر سے یہ جتنے points  تھے ان میں کتنی خوشحالی ہم نے حاصل کی ہے؟جو دعوی حق، جو کلمہ حق، جو محبت محمد الرسول اللہ ﷺ کے دعوے دار ہیں اور جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس میں ہمارے کردار کا حصہ کہاں تک جا رہا ہے؟ چہ جائیکہ معاشرے کی بات کی جائے۔ پھر آگے جو پانچواں پوانٹ ہے وہ آتا ہے 1937 کی کانگرسی وزارتیں کا۔چونکہ انگریزمسلمانوں کو یہ ملک نہیں دینا چاہتا تھا۔اس نے کانگرس کو طاقت دی۔ کانگرس طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔Reaction  میں ایک حصہ یہ بھی شامل ہے۔چھٹا اور آخری پوانٹ جو میں نے تحقیق کرتے ہوئے محرکات میں اخذ کیا ہے وہ ہے اسلامی نظام کا قیام۔ 
یہ وہ ساری گزارشات ہیں جو 22 تا 24 مارچ 1940 کو علامہ اقبال پارک میں، جس کی یاداشت کے لیے 1960 میں مینار پاکستان تعمیر کیا گیا،جو صرف اس لیے تعمیر نہیں کیا گیا کہ میرے اور آپ کے بچے وہاں سیر کو جائیں۔اس لیے تعمیر کیا گیا کہ ہماری آنے والی نسل اپنے والدین سے یہ سوال کرے کہ بابا یہ کیا ہے؟اوراس کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟وہا ں پر یہ پیش کی گئی اور تقریباً ایک لاکھ افراد کا مجمہ تھا جنہوں نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔ 
تاریخی اعتبار سے برصغیر وہ خطہ ہے جہاں دنیا بھر سے جو بھی اقوام اس قابل ہوئیں کہ اپنے ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کر سکیں۔یہاں پر ہر طرف سے مختلف اوقات میں حملہ آور آئے۔ کیا وجہ تھی؟ یہ وہ خطہ زمین ہے جسے اللہ جل شانہ نے ہرطرح کے موسموں سے نوازا ہے۔ہر طرح کے زمین کے زیروبم سے نوازا ہے اور اس خطہ زمین کے زیرزمین حصے میں ہر وہ شے ہے جو رب العالمین نے اس دنیا میں پیدا فرمائی۔اس خطہ زمین کا گرم پانیوں کے ساتھ بھی جوڑ ہے اور برفستان کے ا ن حصوں میں جو دنیا کے Heighest peak  کے ساتھ بھی اس کا جوڑ ہے۔ اس میں دنیا کی زندگی بسر کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو اکھٹا کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو پیدا کرنے کے لیے،بے پناہ وسائل پیدا کیے۔جب بھی یہاں کوئی ایسا حاکم آیا کہ جس نے ملک تعمیر کیا تو اس نے یہاں پر اتنی ترقی کی کہ دنیا کی اقوام جو اس قابل ہوئیں کہ کہیں سے اگر ہمیں کچھ حاصل ہو سکتاہے۔ حملہ آور ہو کریاچالاکی سے یہاں سے حاصل کرے، وہ اس خطہ زمین تک آئے۔یہ دنیا کی تاریخ ہے۔جتنی بھی یہاں فوج کشی کی گئی، ان سب کا مقصد یہی تھا کہ یہاں سے جو مال و زر ہے وہ اکھٹا کیا جائے۔جس وقت تک ان کے اندر قوت قائم تھی کہ تسلط قائم رکھ سکتے تھے۔تب تک ہر حملہ آور قوم نے یہاں تسلط قائم رکھا۔ 
انگریزکمزور ہوا۔یہ بات صرف 1947 کی نہیں ہے۔ جنگ آزادی لڑنے والوں کے بڑے کارنامے ہیں۔آپ تاریخ کھولیں ان کی باتیں سن کر انسانی وجود کا خون گرم ہوجاتا ہے۔ جنہیں ہم ہی میں سے میر جعفر اور میر صادقوں نے انگریز کے سامنے بیچا اور انہوں نے ڈاکو کہہ کرانہیں قتل کیا اور پھانسیاں لگائیں۔ ان کی زندگیوں کے حالات دیکھو۔وہ اپنے ملک،قوم، اپنے دین کی آزادی کے لیے کس طرح لڑے؟اگر 1857 کی جنگ آزادی کو دیکھ لیں توکتنے لوگ تیغ تیغ ہوئے؟کتنے لوگوں کے سینوں پربندوق کی گولی آکرٹھنڈی ہوئی؟ پھر چلتے چلتے بات جب دو قومی نظریہ پر آئی۔ علمائے کرام بھی ساتھ ہوگئے۔جن میں سے کچھ علماء جیسے ابو کلام آزاد رحمۃاللہ جیسے لوگ، انہوں نے اس بات کی مخالفت بھی کی کہ ایسا نہ کرو،آپ کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔یہ تاریخی حقیقت ہے۔ پریس والے اگر تلاش کریں تو وہ اخبار بھی کسی نہ کسی لائبریری میں ضرور مل جا ئے گا، پورا صفحہ چھپا تھا۔ جب مولانا آزاد لاہور آئے اور ریلوئے سٹیشن پر لوگوں نے  hesitaion  کی،ان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی تو وہ ٹرین سے باہر آگئے۔ انہوں نے فرمایاتم لوگ نعرے لگا رہے ہو۔ میں دین کا مخالف نہیں ہوں۔ لیکن میں سمجھتاہوں کہ ان لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد بھی جس مقصد کو تم جارہے ہو،اس کا حصول مجھے نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ میں شاید زندہ رہوں یا نہ رہوں، یہ بات یاد رکھنا۔
وطن عزیز دین اسلام کے نام پر بننے والی مدینہ منورہ کے بعد یہ دوسری حکومت ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ ہمارے لیے1947  کی ہجرت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں یہ ہجرت ایسے تھی جیسے کوئی ایک شہر سے دو سرے شہر آگئے ہوں۔ہم ان ٹرینوں کے شاہد نہیں ہیں کہ جس ٹرین کا صرف ایک ڈرئیور سلامت پاکستان پہنچا۔ باقی سارے مرد وزن، بچے، بوڑھے، جوان ہر کوئی تیغ تیغ ہوکر راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ بچوں کو نیزوں پر چڑھا کر پاکستان کے نعرے لگوائے گے کہ یہ لواپنا پاکستان۔ حکومتی حساب کتاب کے مطابق چراسی ہزار ہماری بچیاں ہندووں اور سکھوں کے گھروں میں رہ گئیں۔قابل احترام خواتین و حضرات! ایک لمحے کو سوچوتو سہی کہ میں اور آپ اس طرح ہجرت کررہے ہوں۔ نہ ہمارا گھر ہو، نہ ہمارا مال محفوظ ہو، نہ ہماری جان محفوظ، نہ ہماری عزت محفوظ، نہ ہمارے والدین محفوظ، نہ ہماری بیوی محفوظ، نہ ہماری بیٹی محفوظ، نہ ہمارے جگر گوشے محفوظ،نہ اپنے سینے محفوظ ہوں، اس لمحے کو خیال تو کر کے دیکھو۔تصور بھی اگر کرو گے تو انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
  آج جو ظلم ہوتا ہے، اس کا ظلم تو ایک طرف اس ظلم کی تشہیر پورے ملک میں ہم کر رہے ہوتے ہیں۔مجھے اندازہ نہیں ہے میں یہاں آیاہوں تو سلامت گھرواپس جاؤں گا یا نہیں۔کیا اندازہ ہے کہ کسی گاڑی میں بیٹھیں گے تو ساتھ بیٹھنے والا جیب نہ کاٹ لے؟کیا اندازہ ہے کہ کسی چوکی پر جو حکومت کے اہلکار بیٹھا ہے وہ کیا سوال کرے گا؟ وہ اہلکارجو ہماری مدد کے لیے ہیں، جو ٹیکس عوام دیتی ہے، اس سے انہیں تنخواہ ملتی ہے کہ انہیں دیکھ کر آپ کو خوف محسوس نہ ہو۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟ کہ ہم عام آدمیوں کے لیے قانون اور ہو۔ ہمارے بچے تو بھوک سے مریں اور صاحب اقتدارطبقے کے مور مر جائیں تو بھی اس کے لیے ذمہ دار معطل ہوجائیں۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟کہ امیر کا مقام او ر ہو غریب کا مقام اور ہو۔ امیر کی عزت او ر ہو غریب کی عزت اور ہو۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟
ہمیں فرقہ وارانہ،نسلی فسادات میں الجھایادیا گیا۔ہمارا معاشرہ ایک دوسرے کو  زیر کرنے میں مصروف ہے۔ آج لوگوں کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺکا فرمان کیا ہے؟ ہم اپنی تخلیق کے مقصد سے کتنے دور جا چکے ہیں؟ محمد الرسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ سے شناسائی عطا کرنے کاواحد ذریعہ ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔  لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ  (الممتحنۃ:(6 بحثیت بندہ مومن راہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺمبعوث ہوئے ہیں۔ہم عاشقان رسول ﷺ کہلاتے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ عشق کرتے ہیں۔ہمارے اعمال جو ہم عملی زندگی میں اختیار کرتے ہیں کیا اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہماری محبت محمد الرسول اللہ ﷺ سے ہے؟ یاد رکھیے جب مسلمان معاشرے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں توقومیں تقسیم ہو جاتی ہیں اور اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ ایک ددسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ جب کہ اللہ جل شانہ نے اس دارفانی میں جو بھی مخلوق پیدا کی ہے ان سب میں انسان کواشرف المخلوقات بنایاہے۔
آج کے اس 23مارچ1940 کے دن کے حوالے سے میری صرف اتنی گزارش ہے کہ میرے اور آپ کے پاس ایک اختیار ہے خدارا اس کا خیال کر لو۔میں اور آپ بائیسواں کروڑواں پاکستان ہے۔ میں، آپ کے سامنے اس پاکستان کی بائیسوایں کروڑواں اکائی بیٹھا ہوں۔ میں اور آپ ایک، ایک پاکستان ہیں۔معاشرے افراد سے بنتے ہیں۔خداراہ اس پاکستان کا خیال کرو۔ انشاء اللہ رب العالمین ہمارے اس وطن عزیزکی بھی حفاظت فرمائے۔اللہ جل شانہ مجھے، آپ کو آج کی اس محفل میں حاضر ہونا قبول فرمائے۔یہ توفیق عطا فرمائے کہ میں اور آپ بائیس کروڑواں پاکستان ہیں۔ اس پر اللہ کا قانون نافذ ہو۔ اس کو اس نہج پر چلائیں کہ اللہ کریم مجھے اور   آپ کواس چھ فٹ کے بدن پر نفاذِ اسلا م کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔
         کبھی  نور  بانٹتا  تھا  تیرا قافلہ جہان میں             مگر  آج  تیرا مسلم ظلمت میں گھر گیا ہے
          اسے  اک  نظر عطا کر اسے خود سے آشنا کر         یہی  ہے  علاج  اس کا ورنہ یہ مٹ رہا ہے

رجب المرجب


اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ... (التوبۃ9:36)
بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ ہے جس روز سے اس نے زمین و آسمان پیدا فرمائے اُن میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔
رجب عربی زبان کا لفظ ہے جو  ’ترجیب‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی تعظیم کے ہیں۔جن چار مہینوں کو اسلام میں خاص ادب کے مہینے کہا گیا ہے یہ ان میں سے ایک ہے۔اِسے رجب المرجب بھی کہا جاتا ہے اور رجب ِمُضَر بھی۔ مرجب کا مطلب بھی تکریم ہی ہے اور یہ رجب کے معنی کی نسبت کے لحاظ میں کہا جاتا ہے جبکہ رجب مُضَر اس لیے کہا جانے لگا کہ عرب میں مُضَر نامی قبیلہ اس ماہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتا تھاحتیٰ کہ اس میں غلو سے کام لیتا لہٰذا یہ مہینہ اس کی نسبت سے پکارا جانے لگا۔
بعض اصحاب کا خیال ہے کہ عرب کے کچھ قبائل کسی اور مہینے کورجب کہتے تھے اس لیے حجۃالوداع کے موقع پر حرمت کے چار مہینوں کا ذکر کرتے ہوئے  مِنھَااَربَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَا ثٌ مُتَوَالِیَا تٌ ذُو القَعدَۃِ و ذُو الحَجَّۃِ وَالمُحَرَّمُ وَرَجَبَُ مُضَرَ فرمایا تو ماہِ رجب بارے اس لیے خوب واضح فرما دیا  وَرَجَبَُُ مُضَرَ الَّذِی بَینَ جُمَادَی وَ شَعبَانَ۔ (صحیح البخاری، باب قول اللہ تعالی وجوہ الخ)کہ وہ مہینہ رجب ہے جو قبیلہ مُضَر کی نسبت سے جانا جاتا ہے اور جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
امام شافعیؒ، امام زکریا بن محمد بن زکریا انصاریؒ، شیخ ابن مفلح حنبلیؒ نے جہاں فضیلت والی راتوں کا ذکر کیا ہے وہاں ماہِ رجب کی پہلی رات کو بھی ان میں شامل فرمایا ہے۔بہت سی روایات کے مطابق شب ِمعراج کو بھی اس مہینہ کی ستائیس تاریخ سے منسوب کیا گیا۔ماہِ رجب کی فضیلت کے مدِ نظر اس میں روزہ رکھنا باعثِ اجرو ثواب ہے لیکن بعض روایات کے مطابق نبی ئاکرم  ﷺ اس ماہ میں مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ درمیان میں وقفہ فرما لیا کرتے۔
کائناتِ ارض و سما میں ہر ذی روح اور بے روح کو اپنی استعداد کے مطابق معرفت ِباری سے نوازا گیا لیکن جسے ذاتِ باری کومطلوب و مقصود بنانے کاشرف حاصل ہوا وہ صرف اور صرف انسان ہے۔ اسے ملائکہ کی طرح ہر حاجت سے مبرا ہو کر فقط عبادت ہی کے لیے حیات نہیں رکھنا تھی۔ محض قیام و رکوع و سجود ہی میں نہیں رہنا تھا بلکہ بقائے حیات کے لیے بنیادی ضروریات کا محتاج ہونا تھا۔ اس کے نظام ہائے زندگی کے اصول و ضوابط میں حقوق ہی نہیں فرائض بھی شامل تھے۔
یہاں اپنی ہر مخلوق کی ہر ضرورت کو ہر جگہ اور ہر وقت پوری کرنے والے رب العالمین نے اپنے اس خلیفۃ الارض کے زمیں پہ اترنے سے پہلے ہی اپنی معرفت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے عبادت کے شغف و سجدہئ شوق کے شرف میں راہِ تسلیم و رضا پہ گامزن ہونے کے لیے تقسیمِ اوقات کا اہتمام فرما یا،گردشِ دوراں کو ماہ و سال میں تقسیم فرما دیا۔اس سب کے ساتھ ساتھ انسان کی استعدادِ طلب سے پیدا ہونے والی تڑپ کی تسکین کے لیے مہینوں کے سردار  ’رمضان المبارک‘  کے علاوہ چار مہینے، راتوں میں سردار رات  ’لیلۃالقدر‘  کے علاوہ چند راتیں اور ہفتے کے دنوں میں سے ایک دن’ جمعۃ المبارک‘  مقرر فرما دیا۔
یوں تو کسی بھی وقت، کسی بھی لمحہ میں سنت ِ نبوی  ﷺ کے مطابق کیا جانے والا ہر عمل حصولِ معرفت ِ باری سے شرف یاب فرماتا ہے اور اللہ کریم نے یہ موقع، یہ ذریعہ زندگی کے ایک ایک لمحہ میں رکھ دیا ہے۔کوئی بھی، کبھی بھی اپنے مقصدِ حیات کو پانا چاہے تو حیات کی ایک ایک ساعت سے فیض یاب ہو سکتا ہے لیکن خاص احترام اور خاص اہتمام سے عبادت کیے جانے والے مہینے اور دن بھی مقرر فرما دیے گئے اور حرمت والے ان چار مہینوں میں منع فرما دیا کہ جنگ نہ کی جائے۔ اگر جنگ جاری ہے تو روک دی جائے، صدقات دیے جائیں۔ یہی اہتمام زندگی کے دوسرے مہینوں میں خواہشِ حصولِ رضائے باری میں معاون ثابت ہوگا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ]الرحمٰن55:13[ 
قارئین کرام! وہ لمحے، وہ ساعتیں،وہ دن، وہ راتیں اور وہ مہینے جو قربِ الٰہی کے حصول کے لیے عطا فرما ئے گئے ہیں وہ اس چند روزہ زندگی میں عطائے باری ہیں، انعاماتِ الٰہی ہیں، احسانات ِ رب العالمین ہیں۔ انہیں روایات کی نظر کرنے کی بجائے، محض رسومات تک محدود کرنے کی بجائے، غنیمت جاننے کی ضرورت ہے۔ اگر حیات میں میسر آجائیں تو طلب ِ صادق کے ساتھ حصولِ قربِ الٰہی کی سعی میں گزارنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ ماہ و سال آ کر گزر ہی رہے ہیں۔
حیاتِ مستعار، حیاتِ ابدی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمیں روئے زمین سے زیرِ زمین اترنے پہ مٹی میں مٹی نہیں ہو جانا۔ اس زمین کے سینے پہ کیا جانے والا ہمارا ایک ایک عمل اپنا نقش ثبت کر رہا ہے جو زیرِ زمیں ہمارے ساتھ اترے گا اورفیصلے کے دن ہمارے دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔!
للہ کریم ہمیں اعمالِ صالح انجام دینے اور اپنی اپنی حیات کے ایک ایک لمحہ سے فیضاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


اظہار یکجہتی کشمیر اور ہمارا کردار


 آج کا دن ہم اظہار یکجہتی کشمیر کے طور پر منا رہے ہیں۔کہتے ہیں کشمیر کی مدد کرو،کس طرح مدد کرو؟ ایک منٹ کے لیے خاموشی اختیار کرلو۔کوئی فوت ہو گیا، کیا کرو؟ اس کے لیے موم بتی جلا دو۔ یہ اصول کہاں سے لیے ہیں؟ غزوات و سرایا کوئی نہیں پڑھے۔ ریاست مدینہ کے قیام میں حالات کوئی نہیں پڑھے۔ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی نظر جس طرف گئی اس پر جان مال اور اولاد قربان، آپ کی ذات تو بہت بلند ہے۔ کیسی کیسی تکالیف سے آپﷺ گزرے؟ہم کیا کہتے ہیں بولو نہیں دشمن مارے گا۔ بنیاد رکھتے ہو ریاست مدینہ کی۔ایسی صورت حال میں مدد بھی پہنچے گی حالات بھی بدلیں گے۔ ضرورت کیا ہے؟ اپنے پاؤں پر تو کھڑے ہوں اور اس کھڑے ہونے کے لیے نور ایمان چاہئے۔
  مخلوق خد ا کو انصاف دلانا جس قوم کے ذمے تھاوہ خود مظلوم ہے،اس پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔کشمیر میں جو ظلم ہو رہا ہے اگر ہم اس تسلی میں بیٹھیں کہ وہ صرف وہیں تک رکے گا۔ اس کی مثال جنگل کی آگ کی طرح ہے۔ایک کونے میں جہاں سے آگ لگے گی وہاں سے جو کچھ ہے وہ تو جلے گا، باقی جنگل کے درخت یہ محسوس کریں کہ یہ آگ آگے نہیں آئے گی،ایسا نہیں ہے۔اللہ جانے کس رخ کی ہوا چلے اور وہ آگ کہاں تک بڑھتی چلی جائے؟ یہ وہ موضوعات ہیں جو ہم سمیت اور خصوصی مقتدر حصے جو ذمہ داران ہیں،ان کو دیکھ لیں۔ جب ہم سارے من حیث القوم اپنی اپنی حیثیت میں،اپنا وقت گزارنے کو دیکھیں گے کہ میرے پاس جو وقت ہے یہ اچھا گزر جائے تو ہم اپنی اولاد کو کیا دے کر جارہے ہیں؟نہ ہماری کوئی قدر سلامت رہی، نہ ہمارا کوئی اخلاق سلامت ہے اور نہ ہی دین میں کوئی اتفاق و اتحاد رہا۔ جب بھی کوئی بیماری اٹھتی ہے، اس کا جتنا بھی علاج کر لیں۔اس کے سبب کا علاج نہ ہو تووہ بیماری ٹھیک نہیں ہوتی۔اگر کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے تو جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں۔وہاں جاکر دیکھ لیں،وہاں کیا ہو رہا ہے؟ یہاں جہاں میں اور آپ مخاطب ہیں، یہاں انصاف کے تقاضے دیکھ لیں۔ اپنی زندگیوں میں انصاف دیکھ لیں۔ جہاں میرا اور آپ کا اختیار ہے۔ وہاں اپنے ایک ایک عمل کو جانچ کر دیکھ لیں۔ کیا ہم انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم سچ بول رہے ہیں؟ کیا ہمارے معاملات انصاف کی گواہی دیتے ہیں؟جو جس حیثیت میں ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ نظام ہستی میں چلا رہا ہوں۔مجھ سے کوئی نہ پوچھے۔گلوبلی دنیا کو دیکھیں تو پوری دنیا میں مسلمان امت کمزوری اور زوال کی طرف ہے جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے، ہم اظہار ہمدردی کررہے ہیں۔اس اظہار کو دیکھیں تو دکھ ہوتا ہے۔ایک وقت تھا جب مسلمان عددی حصے میں کم تھے اور غیر مسلم مظلوم کا مداوا کرنے کا سبب تھے۔آج عددی حصوں میں مسلمان قوم تمام مذاہب کے ماننے والوں میں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے جبکہ کسی کا مداوا تو کجا خود مظلوم ہے۔کیا فرق ہے؟ اسلام۔ وطن عزیز کے کسی پہلو پر بات ہو، ہمارے کشمیری بھائیوں کی تکالیف کا اظہارہو،اس اظہار یکجہتی میں پوری پاکستانی قوم کایک زبان کھڑا ہونا، کوئی پہلو لیں۔ میں حیران ہوتا ہوں، امت مسلمان،ظالم، مظلوم، ساری بحث ہے۔لفظ اسلام پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ہم جو بھی قدم اٹھا رہے ہیں یاجس راہ کو چل رہے ہیں۔ کاش ایک لفظ پر متفق ہو جائیں: اسلام۔اگر ہم عمومی معاشرے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔زندگی میں کتنے زیروبم آتے ہیں؟ پسند و ناپسند کے کتنے پہلو آتے ہیں؟ کتنے ایسے پہلو ہیں جہاں انسان چاہ کچھ رہا ہے، اظہار کچھ کر رہا ہے؟ درکار کچھ ہے، مانگ کچھ اور رہا ہے؟ لیکن جب جہادبالنفس کی بات آئے گی تو اپنی ہر خواہش کو رب ِ کائنات کے حکم پر قربان کر دیا جائے گا۔ جہاں کلام ذاتی جہاد بالنفس کی تعلیم دے رہا ہے، جہاں ارشادات محمد الرسول اللہ ﷺ جہاد بالنفس کی نزاکت بیان فرما رہے ہیں۔وہاں ایسے حالات میں جہاد بالسیف کا بھی ارشاد فرمایا گیا ہے میں نے آج تک لفظ جہاد کا اظہار کسی کی زبان سے نہیں سنا۔ جب ہم اصل مرض پر نہیں جائیں گے تو دوا ممکن نہیں ہے۔ میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھے جو سن رہے ہیں وہ تلوار اٹھا لیں۔ اس کا بھی نظام ہے۔ اس ذمہ داری کا تعین اسلام فرماتا ہے۔ کس، کس کے ذمہ ہے؟ یاد رکھنا، جتنا کردار میرے ذمہ ہے اور جتنا کردار مقتدر حصوں اور عامۃ الناس سے لے کر آخری طاقت رکھنے والے بندے تک ہے۔جتنا،جتنا حصہ ہے، ان مظلومین کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب روز محشر سب کو دینا ہو گا۔آج ہم بچتے رہیں۔ فلاں ملک ناراض ہو جائے گا، فلاں قوم ناراض ہو جائے گی۔ اس سارے میں کوئی کسر رہ گئی ہے کہ ہم پر جہاں ظلم نہ کیا گیا ہو۔ کتنے مہینوں سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے؟ جہاں کرفیو نافذ ہوتاہے، وہاں نقل وحرکت رک جاتی ہے۔ آ پ غورتو کریں؟ کتنے دن؟ وہاں دوا تو کجا کھانے کا نوالہ میسر ہے یا نہیں؟ ہمیں نہیں معلوم۔کسی کی عزت کا لٹنا تو کجا، کسی کی عزت محفوظ رہی یا نہ رہی۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں؟ 
یہ وطن عزیز بڑی قربانیوں کے بعد ہمیں نصیب ہوا ہے۔ اس کے اندر تقسیم در تقسیم ہمارے کردار نے کی ہے اور ایک چیز اور عرض کروں کہ کہیں کسی کا کوئی دشمن پیدا ہوتا ہے۔ دشمنی کا سبب بنتا ہے تو دشمنی ہوتی ہے۔ اس وطن عزیز کے دشمن،اس کے وجود میں آنے سے پہلے موجود ہیں۔ یہ سارا یہی نہیں ہے کہ ساری ہمارے بے عملی کے نتائج ہیں یا ہم خرابی کر رہے ہیں۔ ہماری بے عملی اور خرابی ہمیں اندھا کر رہی ہے۔ اپنے کردار کی خرابی تو ہے ہی جو لوگ باہر بیٹھے، اس ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں،ہم ان کے بھی آلہ کار بنتے جا رہے ہیں۔
 کشمیر کو کیا کہتے ہیں؟ جنت نظیر۔ جنت میں شیطان کا تصور نہیں ہے، وہاں شیطان نہیں ہے۔یہ جو جنت نظیر کہا جاتا ہے اور وہاں شیاطین بیٹھے ہیں؟یہ کیا ہے؟یہ ہماری بے عملی کے نتائج ہیں، ہماری عبادات کے سودے ہیں۔ وہ عبادات کے سودے، عبادات کو عبادات کے درجے تک نہیں پہنچنے دیتے۔وہ اسباب جو ہمارے عروج کے تھے، آج ہمارے اندر نہیں ہیں اور ان کا نہ ہونا ہمارے زوال کا سبب ہے۔دنیا میں جب آپ ظالم کو دیکھیں۔وہ کہتے ہیں کہ ظالم مارتا بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتا یعنی شکایت بھی نہیں کرنے دیتا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ جن اصول و ضوابط کو نبی کریم ﷺنے اختیار فرمایا۔ان اصول و ضوابط پر بات کوئی نہیں کرتا۔ دنیا کی بات کرتے ہیں اور جب دنیا کی بات کرتے ہیں تو دنیا میں ہم اتنے نالائق ہیں کہ جو اقوام ہم سے آگے ہیں۔ ہم ان کے پیچھے بھی نہیں، مرہون منت ہیں۔ ان سے لے کر کھاتے ہیں۔ممکن نہیں ہے کہ کوئی بندہ مومن ہو جس کے سینے میں ایمان موجزن ہوجسے توکل علی اللہ نصیب ہوجو آخرت کو دیکھ کر جی رہا ہو۔اس کا راستہ بھی کوئی کاٹنے کی جرأت کر سکے۔
 حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمۃ اللہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وسط ایشائی ریاستوں کا ایک شہزادہ جس کی حکومت گر گئی، ملک محکوم ہو گیا، لیکن اس کے جو بھی بچے کھچے فوجی تھے ان کے ساتھ لڑتا رہا اور غالباً ہلاکوخان خود کمان کررہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ شہزادے کو قتل کیا جائے تا کہ بغاوت کا سر ہی ختم کیا جائے۔وہ لڑتے ہوئے اٹک کے دریا تک پہنچ گیا۔اٹک کے دریا پر پہنچنے پر شہزادے کا کوئی چارہ نہ رہا، سپاہی اس کے شہید ہو گئے تو اس نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔جب دریا میں گھوڑا ڈال چکا تو تاتاری بھی کنارے پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کمانیں کھینچیں تو ہلاکو خان نے کہا ’’کمانیں نیچے کر لو اس پر اب کوئی تیر نہیں برسائے گا‘‘ کیوں؟ دوسری طرف سلطان التتمش کی حکومت تھی۔ اگر وہ اس بات پر اکڑ گیا کہ میری سرحد پر تو نے ایک فرد کو مارا ہے تو اسے ہم روک نہیں سکیں گے۔وہی تاتاری تھے جو سروں کے مینار بنا رہے تھے۔ جن کو خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ دریا،دو ممالک کی سرحد تھی۔ ملکیت ادھر کی ہی نہیں تھی۔ جرأت نہیں ہوئی ادھر کے بندے پر جس سے لڑائی ہو رہی ہے۔ جوان سے بھاگ رہا ہے کہ اس پر تیر بھی برسائیں۔کیوں؟ انہوں نے ملک تعمیر کیے تھے۔کن بنیادوں پر تعمیر کئے تھے؟  جن بنیادوں پر ریاست مدینہ نبی کریم ﷺ نے تعمیر فرمائی۔ زبانی نہیں۔ 
رب کریم فرما رہے ہیں وَکَذَّبَ  بِہٖ  قَوْمُکَ  وَھُوَ الْحَقُّ ط قُلْ  لَّسْتُ  عَلَیْکُمْ  بِوَکِیْلٍ  (اَ لْاَنْعَام: 66) (ترجمہ اکرم التراجم)ــ  ’’اوراس (قرآن)کوآپ کی قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سچ ہے۔فرما دیجئے میں تم پر داروغہ نہیں ہوں‘‘   یہ قانون ہے۔ جب جب یہ آئے گا حق سے دوری ہو گی۔حق سے دوری ظالم بھی پیدا کرے گی اور جب ظالم پیدا ہوں گے تو مظلوم بھی ضرور ہوں گے اور اس کے حل کے لیے کیا واپس حق پرنہ جایا جائے؟ اسلامی اصولوں سے کیوں گھبراتے ہو؟ کیا جن کا ڈر ہے،وہ ملک الموت کو روک لیں گے؟ کیا جن کا ڈر ہے، اگر اللہ کو زندگی مقصود ہوئی تو یہ موت دے دیں گے؟کیا جن کو دیکھ کر بہشت کی باتیں کرتے ہو؟ریاست مدینہ کی مثال ہم دیتے تھکتے نہیں ہیں۔ وہاں صحابہ کرام نے پیٹ پر پتھر بھی باندھے لیکن بات انصاف کی، کی۔ بات اس اصول کے تحت کی گئی جو رب کائنات نے ارشاد فرمائے  وَکَذَّبَ  بِہٖ  قَوْمُکَ  وَھُوَ الْحَق یہ ارشاد محض اس وقت تک کا نہیں ہے۔ ایک قوم تک کانہیں ہے اور یہ  قوموں کافرمان ہے۔ جو بھی ارشادات باری تعالیٰ پرعمل کرے گا۔ اس ارشاد کے تحت کسی نہ کسی درجے میں آپ بھی قوم میں شامل ہو جائیں گے۔آج بھی اپنے اپنے درجے کے مطابق آپ ﷺ کا جو اقرار کرے گا، قوم میںشامل ہوتا چلا جائے گا   وَھُوَ الْحَقُّ  تو بھائی ہٹ کر دیکھ لو۔ ہم ہٹ کر دیکھ رہے ہیں۔ پلٹ کر دکھ لوبہتری آتی ہے کہ نہیں آتی۔اگر کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے، جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں، وہاں جا کر دیکھ لیں۔ جہاںمیں اور آپ مخاطب ہیں۔یہاں کیا ہو رہا ہے؟ یہ جو کلام ذاتی بیان فرما رہا ہے، یہ فرق ہے۔ اللہ کریم ہمیں ایمان کی یہ صورت عطا فرمائے کہ ہماری سیرت کے ایک ایک ریشے تک یہ جذب ہو اور یہی ایک ہماے مسائل کا حل ہے۔
          میرا بھی نام ہے میں ہوں غلام آقا کا     میں ان کے زیر قدم ہوں میں بے مقام نہیں
مضبوطی کیا ہوتی ہے؟وہ یکجہتی سے آتی ہے۔ اگر آپ غور کریں ہمیں قوموں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور دعویٰ ایمان کے ساتھ ہمیں پھر قومی طور پراس درجے تک تقسیم کر دیا گیا ہے کہ ہم باہم دست وگریبان ہوگئے ہیں تو ضرورت ہے اتفاق کی،اتفاق حاصل کرنے کی کیا صورت ہوگی؟جب ہم اپنا فرض کی ادائیگی کو دیکھیں گے، جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے۔ اس اتفاق اور اتحاد میں اور مزید کیا ضرورت پیش آئے گی؟ یہ ملک میرا ہے۔ اس ملک کے ادارے چاہے وہ کسی صورت میں ہیں۔آرمی کی صورت میں ہے، عدلیہ کی صورت میں، پارلیمنٹ کی صورت میں ہے۔ وہ کیا ہیں؟وہ میرے ہیں۔ یہ عوام میری ہے، یہ لوگ میرے ہیں،یہ دعویٰ ہم میں سے ہر پاکستانی کا ہو۔ جب سب کچھ میرا ہے جو میرے ذمے ہے، اپنے ان پیاروں کی ادائیگی کے لیے، بہتری کے لیے جو میرا ذمہ ہے۔کیا وہ کوئی اور آکر ادا کریں گے؟ یہ تو وہ حالات ہیں جو دنیا کے ہمارے سامنے ہے۔ ہماری کمزوریاں، ہماری خطائیں،اللہ ہمیں معاف فرمائے۔لیکن دنیا میں سارا کچھ ایسے ہی نہیں ہے،جیسے ہم دیکھ رہے ہیں کہ رات دن اور صبح بے شک رہے ایک نظام ہے۔ حقیقی نظام تقوینی نظام سے ہے جو منجانب اللہ فیصلے ہیں۔ من جانب اللہ فیصلوں میں نبی کریم ﷺ کی بشارت ہے کہ غزوۃا لہند ہو گااور غزوۃ الہند آپ ﷺ کی بنفس نفیس اس درجے کی شرکت،توجہ نصیب ہو گی کہ آپ ﷺ نے اسے غزوہ ارشاد فرمایا اور فرمایا اس میں جو مجاہد شریک ہوں گے شہدا ء یا غازی،قیامت کے دن ایسے خوش بخت ہوں گے کہ ان سے حساب نہیں لیاجائے گا۔ خیرالقرون سے ہمارے اجداد کے مدفن اس خطے میں ملتے ہیں۔کس لیے؟کہ نبی کریم ﷺ نے اس غزوے کا ارشاد فرمایا ہے، تب سے لوگ چل رہے ہیں۔ اس آلاؤ کو اور آگ دو اور حدت پیدا کرو۔ ہمیں گھبراہٹ نہیں ہے، ہمارے تو اجداد اسی انتظار میں دفن ہوتے آئے ہیں، ہمیں بھی انتظار ہے کہ اللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے حکم پر غزوۃالہند کا مجاہد بنائے۔ اس میں ہماری جانیں جائیں۔ ہماری گردنیں اڑیں۔
اے میری قوم! آپ کو نبی کریم ﷺ نے بشارت بیان فرمائی ہے،اپنے اس رشتے کو جانو۔اگر بائیس کروڑ ہم ہیں تو بائیسواں کروڑواں پاکستان کا یہ حصہ میرے پاس بھی ہے۔اس کی تعمیر میں،میں نے کتنا کردار ادا کیا ہے؟ اللہ کریم ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔ یہ زندگی شکرگزاری کی صورت میں، حقیقت کے ساتھ ادا کرنے کی اور اسے گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ کریم ہمارے ملک کا حامی و ناصر ہو۔ ہمیں باعمل مسلمان بنائے۔ ہمارے کشمیری بھائی جو ظلم و ستم سہہ رہے ہیں انہیں صبر و حوصلہ دے، طاقت دے۔ان ظالموں کو اللہ کریم اپنے انجام تک پہنچائے۔ اللہ کریم دنیا بھر کے مسلمانوںکواس امتی کے رشتے کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آئیں اس انتظار میں نہ بیٹھیں کہ کوئی کیا کرے؟ اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ اس لیے کہ میرا اللہ راضی ہو، اس لیے کہ یہ تعلیم فرمائی ہے نبی کریم ﷺ نے اس لیے کہ اس کے نتائج روز محشر میں نے، آپ نے، ہم سب نے دیکھنے ہے۔

جہیز کا فلسفہ

یہ جملہ درست نہیں ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر ادھار لے کر جہیز دیں۔ ہم دونوں طرف  افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ایک طبقہ کہتا ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے،ایک طبقہ جہیز میں اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لئے قرض لیتا ہے   حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اعتدال ہے، توازن ہے۔ کائنات کاسارا نظام، یہ زندگی موت،یہ گرمی سردی، یہ رات دن،ہر چیز میں ایک اعتدال ہے،ایک توازن ہے۔یہ سارے ستارے سیارے،زندگی توازن سے قائم رہتی ہے۔عدم توازن،زندگی کو ڈسٹرب Disturbکرنے کی طرف لے جاتا ہے۔جہیز میں بھی توازن ہے۔ 
نبی کریم ﷺنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ  کو جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم کے نکاح میں دیا تو ضروریاتِ زندگی کی بنیادی چیزیں آپ ﷺنے انہیں عطا فرمائیں۔پانی کے لئے ایک مشکیزہ عطافرمایا،اس عہد میں مشکیزے ہوتے تھے۔جہیز میں آٹابنانے کے لیے ایک چکی عطا فرمائی۔اسی طرح ایک بستر،ایک تکیہ،گدایااس طرح کی کچھ چیزیں عطا فرمائیں۔جومادّی چیزیں اس وقت خانہ نبوی ﷺ پر موجود تھیں۔یہ نہیں کہا کہ میں توپوری انسانیت کا نبیﷺ ہوں،اللہ نے مجھے سب سے افضل بنایاہے تو پھر میرا جہیز بھی بے مثل وبے مثال ہو،بولا نہیں۔جو مادّی چیزیں آپﷺ آسانی سے اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے،و ہ ضرور دیں۔بعد میں انہیں رہنے کے لیے اپنے حجرات مبارکہ میں سے ایک حجرہ مبارک بھی عطا کردیا۔جہاں روزہ اطہرﷺ ہے، اس کے پیچھے وہ حجرہ مبارکہ ہے جس میں حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے۔یہ حجرات نبیﷺ میں سے تھا۔آپ نے شادی کے بعد عطا فرمایا، یعنی جہیز پر بات ختم نہیں ہو جاتی۔ اگر بعد میں بھی اولاد کی مددکر سکتے ہیں تو بچیوں کا حق بنتا ہے۔جس طرح ہم بیٹوں کا دھیان رکھتے ہیں اور زندگی بھر مدد کرتے ہیں لہٰذا بیٹیوں کا بھی وہی حق ہے۔ حضور ﷺنے شادی کے بعد حجرہ مبارک بھی عطا کردیا تو ایک معیار بن گیا کہ جو چیز یں اپنی حیثیت کے مطابق ضروریات زندگی کی ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو دے سکتے ہیں۔اگرآپ زیور اچھا دے سکتے ہیں اور آپ کسی سے ادھار لینے پر مجبور نہیں ہیں تو ضرور دیں،وہ ایک سرمایہ ہے یعنی زیور صرف زینت ہی نہیں ہوتی،یہ ایک Balanceہے کہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوں،ضروریات زندگی کی چیزیں، لباس کی قسم سے،ضرورت کے برتنوں کی قسم سے،آپ دیتے ہیں تو ضرور دیں لیکن یہ شان وشوکت کے اظہار کے لئے نہ ہوجس کی جتنی حیثیت ہے اس کے مطابق اسے دے اوریہی نہیں ہے کہ جہیز دے کر فارغ کردیا پھر ان کی وراثت میں بھی کوئی حصہ نہیں رہا، نہیں یہ نہیں ہوتا۔ہم نے ایسے زمیندار قسم کے لوگ بھی دیکھے ہیں جواپنی بیٹیوں کو جائیداد سے حصہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی بیٹی اپنے حصے کا مال جہیزکی صورت میں لے جا چکی ہے۔بھائی! جہیز آپ نے جائیداد کا حصہ تقسیم کر کے تو نہیں دیاتھا۔وہ تو آپ نے اپنی شان وشوکت کے لیے،اپنا نام بنانے کے لئے، بہت بڑا جہیز دیا تھا۔ والدکی وفات پر جائیداد میں مقرر شدہ حصہ یعنی بچے کی نسبت آدھا اسے ملے گا، جائیداد میں بھی ان کا حق ہے،وہ انہیں دی جانی چاہئے۔مکان ہے،زمین ہے،کوئی غیر منقولہ جائیداد جو کچھ بھی ہے اس میں بھی ان کا حصہ برقرار رہتا ہے۔ ہم افراط وتفریط کا شکار ہو گئے ہیں کچھ لوگ تو بلکل اس کے خلاف چلے جاتے ہیں کہ کچھ دینا ہی نہیں چاہئے اور کچھ لوگ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ میری بڑی شان وشوکت ہو گی۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر دینا اور اپنے اوپر بوجھ بنانا بھی ناجائز ہے۔ کس کی شان نبی کریم ﷺ کی شان سے میل کھاتی ہے؟جب آپ ﷺنے اسے اپنی آنر Honourکا سبب نہیں بنایابلکہ ضروریات زندگی کی جو چیزیں کاشا نۂ نبویﷺ پر موجود تھیں،وہ عطا کر دیں۔ اس میں توازن چاہئے۔ ہر بندے کی ایک مالی حیثیت ہے ہر بندے کی ایک قوت ہے، دینے یا نہ دینے کی۔ اس کے مطابق دے۔
اس سلسلے میں شادی کرنے والے یعنی سسرال یا دولہا کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے،وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جہیز میں گاڑ ی بھی ہو، جہیز میں وہ چیز بھی ہو۔وہ شرط نہیں لگا سکتے،جورواج آج کل ہے کہ شرط لگائی جاتی ہے۔جہیز میں گاڑی بھی آئے،ہمیں وہاں سے بھی حصہ ملے،ہمیں نقد بھی اتنا چاہئے، نہیں۔ یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ان کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔جتنے بھی حقوق ہیں وہ بیٹی کے ہیں اور والد کے ہیں۔اس کے سسرال والے، یادامادکا حق نہیں ہے کہ وہ مطالبہ لے کر بیٹھ جائیں کہ آپ اتنے امیر ہیں۔ مجھے وہ بھی دیں، مجھے وہ بھی دیں، یہ ناجائز ہے۔انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ بہو کودنیاوی ا عتبار سے اور دینی اعتبار سے پرکھ لیں۔ باعمل ہے باکردار ہے،شریعت کے دائرے میں رہنے والی ہے، نیک ہے۔اس کے بعد باپ کا اور بیٹی کا معاملہ ہے،اس میں ان کا کوئی لین دین نہیں۔ خاوند اگر کہہ دے کہ مجھے جہیز میں کچھ نہیں چاہئے توکوئی حرج نہیں،یہ بہت اچھی بات ہے۔
 اسی طرح بیٹی جو جہیز لے کر جاتی ہے یا جو اس کا حق مہر مقرر ہوتا ہے، اس کا ذاتی حق ہے۔جب نااتفاقی ہو جاتی ہے اورنوبت طلاق تک چلی جاتی ہے تو اس کا جو مہر ہے اورجہیز کی جو ذاتی چیزیں وہ ساتھ لائی ہے۔ اس کا حق ہے وہ لے جاسکتی ہے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں  وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ  نِحْلَۃً ط فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْْءٍ  مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓءًا مَّرِیْٓءًا (النِّسَآءِ:4)کہ اگر عورت معاف کردے،بے شک مہر بھی معاف کردے،جو جہیزلائی ہے وہ بھی معاف کردے،تو بندہ آرام سے لے سکتا ہے۔ وہ معاف نہ کرے تو طلاق دینے والے کوچاہیے کہ پہلے اس کا مہر ادا کرے۔جو چیزیں اس کی ذاتی ہیں، جو اپنے والد کی طرف سے ساتھ لائی ہے، وہ واپس کرے اور خوبصورت اوراچھے طریقے سے طلاق دے۔ایسے طریقے سے نہیں کہ آئیندہ کے لیے تعلقات میں دشمنی کی بنیاد بن جائے۔ ایک مجبوری ہے کہ ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے۔مزاج نہیں ملتے، خیالات نہیں ملتے،کردار نہیں ملتا،سوچوں میں فرق ہے،کوئی بھی وجہ ہو، ایسی وجہ ہے کہ ہم زندگی بھر اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ جس کا اظہارشادی کے بعد ہوا تو اس کا حل طلاق ہے۔حالانکہ اللہ کے نزدیک جائز اور حلال کامو ں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ کام طلاق ہے۔لیکن زندگی کو عذاب بنانے کے بجائے طلاق دینا مناسب ہے یا تو اتنی برداشت ہوکہ اسے برداشت کرلے تو اس کا اجر الگ ملے گا۔نہیں کر سکتا تو پھر طلاق دے دے لیکن طلاق پر دشمنی نہ بنائے، اس میں بھی خوبصورتی ہے۔ارشاد بار ی تعالیٰ ہے کہ  وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ   مَتَاع’‘م  بِالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ (الْبَقَرَۃ:241) جوجواس کا حق ہے، وہ اسے دے کر خاوند کچھ اپنی طرف سے بھی دے کہ بھئی ہم تم جدا ہورہے ہیں، میرے پاس دس لاکھ ہیں، پانچ لاکھ تم لے جاؤ تاکہ وہ کام جو بڑا ناپسندیدہ اور خراب ہے،جس پر ناراضگی یا دشمنی کی بنیاد بنتی ہے،کم از کم دوستی نہ رہی تو دشمنی بھی نہ بنے۔احسن طریقے سے عزت کے ساتھ اور طلاق میں یہ بھی ہے کہ اسے پھر لٹکائے نہ رکھو کہ اس کی زندگی عذاب کردو۔ وہ کہتے ہیں ہم نے ڈھنگا تو ڈالا ہوا ہے، گھر میں آباد نہیں ہے لیکن اب دوسری شادی تو نہیں کرسکے گی۔ یہ جائز نہیں ہے یاتو احسن طریقے سے گھر میں رکھو یا آزاد کردوپھر وہ بیٹی کا اپنا مال ہے جو اس کے والدین نے اسے دیا تھااور جو اس کا حق مہر ہے۔ہاں وہ سارا معاف کردے تو خاوندکا ہے کھائے موج کرے۔اس میں عورتوں کے لیے بھی قائدہ یہ ہے کہ وہ فراخ دلی سے کام لے اور دلائل سے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں بھئی یہ یہ ہم میں فرق ہے۔ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے اور چونکہ ہماری سوچوں میں، ہمارے کردار میں، ہمارے قول میں، گفتار میں یگانگت نہیں ہے تو یہ ساری زندگی کا عذاب، میں تمہارے لیے درد سر، تم میرے لیے فتنہ۔تو اس مصیبت سے بچنے کے لیے کہ آؤ ہم الگ ہوجائیں۔یہ ایک راستہ ہے لیکن حسن سے، اچھے طریقے سے الگ ہوں کہ آگے وہ دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔ایسے میں دونوں سمجھوتہ کر کے ساتھ رہتے ہیں،اگر بیوی کی طرف سے زیادتیاں ہوتی ہیں،ناپسندیدہ حرکات ہوتی ہیں اورشوہر برداشت کرتا ہے تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔اس کا عنداللہ بہت بڑاثواب ہے۔
مرزا مظہر جان جانانؒ شہید دہلی کے نامور صوفیاء میں سے اور بہت پائے کے اولیاء اللہ اور بہت نازک مزاج تھے۔اس قدر نازک مزاج تھے کہ ان کے سامنے دوسرا بندہ اگر بے تحاشا کھاناکھارہا ہے تو ان کا دیکھنے سے پیٹ خراب ہوجاتا، نزاکت کی حد ہے۔ان کی اہلیہ محترمہ (اللہ اس پر بھی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے) سخت مزاج تھی، بڑا، بھلابراکہتی تھیں اور چلاتی تھیں۔ان کا ایک افغانی مرید تھا، اسے انہوں نے گھر سے کوئی چیز لانے کا حکم دیا۔ اس نے دروازے پر دستک دے کرعرض کی اماں جی! حضرت جی فلاں چیز مانگ رہے ہیں تو وہ بھڑک اٹھیں، انہوں نے حضرت کو بھی اور مانگنے والے کو بھی صلواتیں سنائیں۔ وہ بھی ولائتی پھٹان تھا،اس نے کہا میں حضرت سے پوچھ کرآتا ہوں میں تمہیں گولی مارد دں گا۔ جب اس نے ساری بات عرض کی توآپ نے فرمایاتم آج تھوڑی دیر کے لیے گئے ہو تو اتنے گرم ہو رہے ہو، میں اپنی اس نازک مزاجی کے باوجود اسے عمر بھرسے برداشت کر رہا ہوں۔ کسی نے عرض کی حضرت آپ کی تو نازک مزاجی؟ فرمایا یہ میری ترقی درجات کا سبب ہے،میرے منازل میں ترقی ہوتی ہے، کیفیات میں ترقی ہوتی ہے میں جب برداشت کرتا ہوں۔
 بندہ اگر برداشت کرتا ہے تو بہت بڑے درجات عطا ہوتے ہیں۔آج اسی چیز کی ہماری ضرورت ہے،آج ہم میں قوت برداشت ہی نہیں رہی۔ میں حیران ہوتا ہوں،جی حادثہ ہوگیا بس نے رکشے کو ٹکر مار دی۔اب جو بڑا ہے جرم اس کے ذمے ہے۔یہاں تک کہیں گے ریلوے نے ٹرک کو ٹکر مار دی، اب ریلوے تو پٹری سے اُترتی نہیں۔یہ کوئی نہیں کہے گا کہ اس نے کار پٹری پر کیوں چڑھائی؟ کہیں گے ریل نے کار کو ٹکر ماردی،ریل کا اس میں کس کا کیا قصور؟ قصور تو اس کار کا ہے جو پٹری پر جاکر کھڑی ہو گئی۔کل کی خبر تھی کہ رکشے کو ٹکر لگی، دو بچے مر گئے، لوگوں نے بس جلا دی۔اللہ کا خوف کرو،بس جلانے سے کیاوہ بچے زندہ ہو گئے؟ یاکیا رکشہ ٹھیک ہوگیا؟ وہ قوتِ برداشت  Patience  ہی نہیں رہی۔بس پتہ نہیں کس کی تھی؟ چند سو کا ملازم، بس کا ڈرا ئیورچلا رہا ہے۔ جس کی بس ہے، اس نے ماں کے، بیوی کے زیور بیچ کر بس کی ابھی آدھی قسطیں اس نے دینی ہونگی۔ یہ کون سا طریقہ ہے؟ چلان تو ڈرائیور کا ہوتا ہے، بس کا تو کوئی قصورنہیں۔غلطی تو ڈرائیور کی ہے ہم میں قوتِ برداشت ہی نہیں رہی۔

توبہ کیا ہے

توبہ سے متعلق قرآن کریم نے   تَوْبَۃً نَّصُوْحًا (التَّحْرِیْم: ۸) کی  اصطلاح ارشاد فرمائی ہے یعنی توبہ آپ کے اس عمل کو کہتے ہیں کہ اگر خلاف شریعت  (انسان کے مزاج کے مطابق اچھائی، برائی نہیں ہے، بلکہ اچھائی،برائی کا معیار قرآن کریم اور سنت نبی ﷺ ہے) کوئی عمل کر رہے ہیں یا آپ کا عقیدہ اور نظریہ اس سے مختلف ہے،تو توبہ ہوتی ہے کہ اس عمل سے بعض آ جائے اور ایسا بعض آئے کہ آئندہ کے لیے نصیحت ہوجائے یعنی یہ نہیں کہ جوکام میں کرچکا ہوں اس سے توبہ اور رجوع کرتا ہوں بلکہ شرط یہ ہے کہ  تَوْبَۃً نَّصُوْحًا   وہ آئندہ زندگی کے لئے نصیحت بن جائے۔
بطفیل نبی کریم ﷺ یہ اللہ کریم نے ایک بہت بڑا معافی کا خانہ رکھا ہے۔ پہلی امتوں میں توبہ تھی۔حضرت موسٰی علیہ السلام جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو آپ کی امت نے فرعونیوں کا زیورپگھلاکر ایک بچھڑا سا بنا لیااور اس بچھڑے کو پوجنے لگ گئے۔کچھ لوگ ان کے خلاف رہے۔حضرت موسٰی علیہ السلام کی واپسی پرآپ نے تنبیہ کی، سخت ناراض ہوئے۔انہیں احساس ہوا کہ ہم نے غلط کیا ہے۔ ہم توبہ کرتے ہیں۔ارشا د باری ہوا کہ   فَتُوْبُوْٓا اِلٰی بَارِءِکُمْ  فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ   (الْبَقَرَۃ: ۵۴) اس کی توبہ قبول ہوگی جو اپنی جان دے گا۔اگر یہ توبہ کرتے ہیں تو انہیں اللہ کی راہ میں، اللہ کے حکم سے قتل کردیا جائے اور جو جس کا قریبی عزیز ہے وہ خود قتل کرے۔ یہ نہ ہو کہ توبہ کے بعد لڑائیاں شروع ہوجائیں۔تم نے میرا باپ مارا تھا، تم نے میرا بھائی، فرمایا نہیں۔ان کے اپنے عزیز انہیں قتل کریں۔ یہ کتنی کڑی شرط تھی اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے۔حضرت موسٰی علیہ السلام گھر سے باہر نکلے تو ان کا پاؤں انسانی خون کے کیچڑ میں دھنس گیا۔ وہ لرز گئے اور انہوں نے دعاکی بارالہاتو کریم ہے ان کو معاف فرما دے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہوا جو قتل ہوچکے ہیں انہیں شہید کا درجہ عطا کرتا ہوں جو بچ گئے ہیں انہیں میں معاف کرتا ہوں اوریوں وہ قتل عام بند ہوا۔ یہ ہم سے پہلے کی امتوں کی توبہ کا ایک پہلو، ایک جھلک،ایک نمونہ ہے۔حضور اکرم ﷺ رحمۃ العالمین کی بعثت کے بعد رب کریم نے کوئی شرط نہیں رکھی۔ مشرک ہے، کافر ہے،بت پرست ہے، بدکار ہے، شرابی ہے زانی ہے، جواکھیلتا ہے، فواحشات میں مبتلا ہے، دنیا کا کوئی گنا ہ سرزرد ہوگیا ہے۔ فرمایا  وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْءٍ  (الْاَعْرَاف:۶۵۱) میری رحمت ہر چیز سے وسیع تر ہے۔
کسی اللہ کے بندے نے عرض کی کہ بار الہ انسان کی توبہ کیسی ہے؟ انسان کے گناہ کیسے معاف ہوتے ہیں؟ انہیں ایک مشاہدہ کرایا گیا کہ سمندر میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اس کے کنارے پر ایک درخت ہے جس پر ایک چڑیابیٹھی ہے، اس کی چونچ میں مٹی ہے۔ اب جتنی چونچ میں مٹی سما سکتی ہے اتنی ہی ہو گی۔اس چڑیا نے وہ مٹی سمندر میں گرا دی۔فرمایا گناہ میری رحمت کے مقابلے میں اتنے بھی نہیں جتنااس سمندر کے مقابلے میں اس چڑیا کے مونہہ میں یہ مٹی تھی۔ اس نے گرا دی تو سمندر کا کیا بگڑا؟اس کا مونہہ صاف ہو گیا تو تمہاری توبہ وہی ہے کتنا بھی تمہارے گناہ ہوں لیکن آخر انسانی استعداد کے اند رہی ہیں۔وہ کفر کرتا ہے،شرک کرتا ہے یا گناہ کرتا ہے۔انسانی استعداد کی حدیں ہیں، اس سے آگے بندہ کچھ نہیں کرسکتا،ان حدود کے اندر ہیں۔فرمایا میری رحمت تو لامحدودہے۔ تمہارے گناہ اس چڑیا کے مونہہ میں مٹی ہیں اور میری رحمت ان سمندروں سے وسیع تر ہے۔سمندر کی تو حدود ہیں میری رحمت کی حدود نہیں ہیں۔لیکن توبہ کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس برائی کوبرائی مان لیں۔ سب سے پہلے چھوڑنے کا جو سبب بنتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ غلطی کو غلطی مانیں کہ میں غلط کر رہا ہوں جوکہ گناہ ہے اور اس کے بعد اللہ سے دعا کریں یا اللہ میں گناہ کر رہا تھا، اب میں نے بس کردیا۔ آئندہ کبھی گناہ نہیں کروں گا باقی زندگی اس کے دفاع پرصرف کرے،یہ توبہ ہے۔
فرمایابرزخ کھل جانے تک توبہ کا وقت ہے۔ جب موت آ جاتی ہے جو لمحات موت کے ہوتے ہیں، اس میں تو کافر کو بھی فرشتے نظر آنے لگ جاتے ہیں،آخرت واضح ہوجاتی ہے۔قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ فرشتے اسے کہتے ہیں۔ فِیْمَ کُنْتُمْ (النِّسَآء ِ: ۷۹) تم نے کہاں عمر ضائع کی؟ اللہ نے تمہیں شعور دیا، عقل دی، نبی مبعوث فرمائے،کتابیں نازل فرمائیں۔تم کیا کرتے رہے ہو؟   فِیْمَ کُنْتُم کہاں جھک مارتے رہے ہو؟  قَالُوْا کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ  فِی الْاَرْضِ تو وہ کہتا ہے میں زمین پر ایک غریب آدمی تھا، جدھرحکمران یا امیر لوگ جنہیں لیڈر کہتے ہیں، وہ چلتے رہے تو ہم تو عام آدمی تھے،پیروکار قسم کے آدمی تھے۔ ہم ان کے پیچھے چلتے رہے۔ فرشتے کہتے ہیں   اَلَمْ  تَکُنْ   اَرْضُ  اللّٰہِ  وَاسِعَۃً   فَتُھَاجِرُوْا  فِیْھَا  اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی،یہاں کا ماحول برا تھا یا یہاں کے قوانین خلاف ِاسلام تھے یا یہاں کا معاشرہ خلافِ اسلام تھا۔تم حرام کھانے پر یا گناہ کرنے پریا جھوٹ بولنے پر مجبور ہوجاتے تھے تو تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا؟ اللہ کی زمین وسیع ہے۔ وہاں سے چلے جاتے جہاں نیکی سے کم از کم رکاوٹ تو نہ ہوتی۔آج ساری دنیاچھوڑ کر جارہے ہو پھر یہ کہناکہ میری یہ مجبوری وہ مجبوری تو وہ مجبویاں اب کہاں ہیں؟ آج دنیا چھوڑ رہے ہو،اس وقت تم برائی کا ماحول چھوڑ دیتے تو کتنا اچھا ہوتا؟اس میں علماء فرماتے ہیں کہ جہاں ماحول ایسا ہو کہ وہاں مجبوراً معاشرے کا جو پریشر ہے،سوسائٹی کاجو ایک دباؤ ہے۔اس کے تحت آپ بھلائی کر نہیں سکتے مجبوراً کچھ گناہ کرنا پڑ جاتے ہیں،وہاں سے ہجرت واجب ہوجاتی ہے۔وہاں سے نکل جاؤ۔اب یہ وطن عزیز ہے۔ہم کہتے ہیں یہاں قانون شرعی نہیں ہے،عدلیہ کا قانون شرعی نہیں ہے۔سیاسی نظام غیرشرعی ہے۔ سارا شور مچا رہتا ہے لیکن ایک بات جس پر سب کواتفاق کرنا پڑے گا کہ کوئی نیکی کرنا چاہے تو روکتا کوئی نہیں۔معاشرہ یا ماحول یا سوسائٹی کوئی چیز آڑے نہیں آتی۔قانون، آئین،دستور، عدالت،آپ نیکی کرنا چاہیں تو کوئی نہیں روکتا۔جہاں نیکی سے روکاجاتا ہے۔ وہاں سے چھوڑ کر وہاں آجاؤ جہاں کوئی نیکی سے روکتا نہیں۔ہمارا یہاں کا ماحول بھی اس کے الٹ جارہا ہے۔ ہر بندے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ یہاں سے نکل کر میں امریکہ،برطانیہ، یورپ یا کہیں اور چلا جاؤں حالانکہ وہاں سے یہاں آنے کا مشورہ ہے۔
تو یہ بھی توبہ کا ایک رخ ہے کہ اللہ کریم نے جو ارشاد فرمایا ہے اس پر یقین کامل ہونا چاہئے۔فرمایا  وَمَا مِنْ دَآبَّۃٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّاعَلَی اللّٰہِ رِزْقُھَا(ھُوْدٍ:۶) ہر ذی روح جو زمین پر ہے مکھی، مچھر،کیڑہ مکوڑہ، پرندہ،کوئی جانور یا انسان کی روزی،جو حیات کا سبب ہے۔ اس کا ذمہ میرا ہے۔ جب اللہ کا ذمہ ہے تواس پراعتبار کرو۔اگر وہاں جاؤگے تو رزق وہی ملے گا جو تمہارے نصیب کا ہے۔جو اللہ کاذمہ ہے ہمیں اس کی فکرہے۔ جو ہمارے ذمے ہے وہ ہم کہتے ہیں اللہ رحم کرے گا۔ہمارے ذمہ ہے کہ ہم نبی پاک ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں قرآن کی روشنی میں اس بات کو متعین کریں کہ اچھائی کیا ہے؟ برائی کیا ہے؟ حضور ﷺ نے کس چیز کو اچھا کہاہے؟کس کو برا کہا ہے؟ اس کے مطابق  وَمَآاٰتٰئکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ جو اللہ کے رسول  ﷺنے عطا فرمایا اسے قابو کر لو، چمٹ جاؤ،اسے اختیار کرلو   وَمَا نَھٰئکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا (الْحَشْرِ:۷)  جہاں سے روک دیں وہاں سے رک جاؤ۔
اگر بندہ بے مہار چلتا رہاہے اور اس کو احساس ہوگیا ہے تو اس اپنے عمل کو تبدیل کرے۔ اس برائی کو چھوڑ دے اور ایسا چھوڑے کہ آئندہ کے لیے نصیحت ہوجائے۔نصیحت ہوتی ہے دوسروں کے لیے۔ دوسروں کے لیے مثال بن جائے کہ ایسے بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ توبہ ہے اور کسی کے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں۔ بلکہ ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ کوئی گناہگار اتنے گناہ کرے کہ اس نے زمین و آسمان کے درمیان سارے خلاء کو گناہوں سے بھر دیا ہوتو ایک توبہ کافی ہے اور توبہ کی امید پر گناہ کرنا توظلم ہے جیسے تریاق کی امید پر کوئی سانپ سے ڈسوا لے۔کیاکوئی ڈسواتا ہے؟کوئی رسک لیتا ہے۔آپ تریاق کا انجیکشن جو سانپ کے زہر کا اتار ہے اس کے ہاتھ میں دیں اور اسے کہیں سانپ سے ڈسواؤ توبہ کی امید پر گناہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے انجیکشن ہاتھ میں ہو اور خودسانپ سے ڈسوا لے۔وہ انجیکشن اثر کر ے گا یا نہیں سانپ تو اثر کرجائے گا۔یہ ظلم ہے زیادتی ہے اسے جہالت کہیں گے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔



آپ ﷺ کی ولادت باسعادت بے پناہ رحمتوں کا سبب


ربیع الاول کاوہ ماہ مبارک پھر سے آیا جس میں آقائے نامدار ﷺکی بعثت عالی ہوئی آپ ﷺکی ولادت مبارک اسی مبارک ماہ میں ہے آپ ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس پوری ہوئی تو بعثت اسی مہینے میں ہے آپ ﷺکا وصال اسی مہینے میں ہے اﷲ کی نعمتیں دنیا کی بے پناہ ہیںہر طرح کی مخلوق اس سے مستفید ہو رہی ہے۔قرآن کریم جب بھی بات ارشادفرماتا ہے جب بھی حضور ﷺ کا تذکرہ آتا ہے جب آپ ﷺ کی بات شروع ہوتی ہے تو بعثت سے شروع کرتا ہے۔قرآن پاک بعثت کی بات کرتا ہے۔ اﷲ پاک فرماتے ہیں زمینوں آسمانوں ساری مخلوق پر میرے بے پناہ ا حسانات ہیں سب کوپیدا کیا سب پر میرا احسان ہے۔ سب کو وجود دیازندگی دی، سب کو محبتیں دیں لیکن میرا احسان تم پر ہے کہ میں نے محمد رسول اﷲ ﷺ کو مبعوث فرما دیا۔اب یہ احسان ایسا ہے کہ تخلیق کائنات اس کے سامنے معدوم ہو گئی فروغ سینا جن انوارات کی ایک جھلک برداشت نہ کر سکا تجلیات باری سے بڑی بڑی سنگلاخ چٹانیں چٹخ چٹخ کر جل کر سرمہ بن گئیں بعثت رسالت ﷺ نے انسانی دلوں کو تجلیات باری کی آماجگاہ بنا دیا۔ان تجلیات کو ایمان لانے والے بندوں کے قلوب میں یوں سمو دیا کہ وہ ان کی غذا، دوا اور حیات بن گئی۔تیرہ برس تک حضور ﷺ کی غلامی کے لئے دنیا کی ہر اذیت برداشت کی۔ان کے وجود گرم سلاخوں سے داغے گئے، گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھے گئے، کوڑے مارے گئے،زخمی کئے گئے،بھوکا پیاسا رکھا گیا،،شہید کئے گئے،کون سا ظلم ہے جو مجبور مسلمانوں پرمکہ مکرمہ کے رہنے والے مشرکین نے روا نہ رکھا ہولیکن انھوں نے غلامی محمد رسول اﷲ ﷺ کو ہاتھ سے نہ جانے دیاہر دکھ برداشت کیاحتٰی کہ گھر،شہر، جائیدادیں چھوڑیں،سب کچھ قربان کر دیااور خالی ہاتھ ہجرت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں چلے گئے پھر مدینہ منورہ پر حملہ،بدر و احد،خندق میں کفار مشرکین نے بڑا زور لگایا،انہوں نے قربانیاں دیں،زخمی ہوئے لیکن حق غلامی ادا کرتے رہے۔
  بعثت رحمت عالم ﷺ وہ نقطہ ہے جس نے ہمیں ایمان عطا کیا اور ایمان وہ سانچا ہے جو فرد کو جو کچھ وہ پہلے تھا اس سے مٹا کر ایک نیا انسا ن بنا دیتا ہے بعثت عالی کے ساتھ جہاں معجزات و برکات ہیں وہاں ارشادات رسول ﷺ بھی ہیں جن کی پاسداری کرنا پڑتی ہے، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے اندر آنے کے لئے اپنی تراش خراش کرنا پڑتی ہے، پاکیزگی اپنانے کے لئے صفائی کرنا پڑتی ہے، ہمت و محنت سے کام لینا پڑتا ہے، رسومات ورواجات چھوڑ کر سنت رسول ﷺ اپنانا پڑتی ہیں،اپنی خواہشات کو رضائے الہٰی کے حصول کے لئے چھوڑنا پڑتا ہے اور اپنی رائے و پسند سے دستبردار ہو کر اسے حضور ﷺ کی پسند میں فنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سب کچھ کرنا حضور ﷺ کی برکات کو حاصل کرناآسان کردیتی ہیںلیکن تب جب کوئی بعثت رحمت عالم ﷺ سے حصہ پائے۔ساری قوم میلاد مناتی ہے بعثت کوئی نہیں مناتاکیوں کہ جب بعثت کا تذکرہ ہو گا توحضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور غلامی کرنا پڑے گی۔خواہشوں،جھوٹی انا،تکبر و غرور،لالچ و ہوس کے سارے بت دل سے نکالنے ہوں گے اور ان سب کی جگہ ایک اﷲ کی حکومت قائم کرنا ہو گی۔ مومن کے لیے تو قرآن کا تصور یہ ہے کہ جب اﷲ کا نبی ﷺحکم دے دے تو ان کے پاس سوائے تسلیم خم کرنے کے اور کوئی راستہ ہی نہیں کہ صدق دل سے اس کی اطاعت کر لے۔
جب حضور کی ولادت ہوئی توبے پناہ فائدے مخلوق کو پہنچے ہر طرح کا رزق،ا س میں برکت، سب سے بڑی بات کہ آپ ﷺ کے دنیا میں قدم رنجہ فرمانے سے ساری زمین مسجد بن گئی۔جو اجتماعی عذاب آتے تھے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ختم ہو گئے کیا آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ میرے زمین پر قدم رکھنے سے اجتماعی عذاب نازل ہونابند ہو گئے۔ لوگوں کی صورتیں مسخ ہونا بند ہو گئیں۔پانی میں پاک کرنے کی طاقت تھی آپ کے قدم مبارک سے اﷲ نے مٹی کو یہ تاثیر د ے دی کہ پانی سے وضو کرو تو جسم پاک ہوتا ہے اگر ضرورت تیمم کی ہو تو حضورﷺ فرماتے ہیں ہڈیاں اور اُن کا گودا تک پاک ہو جاتا ہے۔لاغر سانڈھنی پہ آپ ﷺ بیٹھے تو وہ جوانوں سے تیز ہو گئی۔دودھ خشک ہو چلا تھا نہریں جاری ہو گئیں۔جہاں جہاں حضور ﷺ قدم رکھتے وہ جگہ گلزار ہو جاتی،جس گھر میں قدم رکھتے وہ بابرکت ہو جاتاجس جانور پر سوار ہوتے وہ تیز رفتار ہو جاتا یثرب جس کا ترجمہ دارالبلاء درست ہے ایک خاص قسم کا مرض جو وہاں جاتا اس کا شکار ہو جاتایثرب کو مدینہ کس نے بنا دیا؟
ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکا وصال ہوا اور مدینہ منورہ میں صحابہ کرام ؓ پر مشکل ترین گھڑی تھی دن کو یوں معلوم ہوتا تھاجیسے رات ہو گئی ہوصحابہ کرام ؓ میں کچھ لوگ بیٹھے تھے وصال کی خبر سنی اوروہیں منجمد ہو گئے پھر ساری زندگی اٹھ نہ سکے۔ سید نا فاروق اعظم ؓ  جیسی ہستی پر بھی جذب آ گیا۔اُم ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کی بہت پیاری خادمہ تھیں جب عمر رسیدہ ہو گئیںتونبی کریم ﷺ ان کے گھر خیریت پوچھنے خود تشریف لے جاتے۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اُم ایمن کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لئے گئے جب ان کی مزاج پرسی کی تو انھوں نے زاروقتار رونا شروع کر دیا انھوں نے فرمایاکہ بی بی آپ اتنا کیوں رو رہی ہیں؟حضور ﷺ ہم سے دور تو نہیں ہیں۔ام ایمن ؓنے فرمایایہ بات میں جانتی ہوںمیںرو اس لیے رہی ہوں کہ اب قیامت تک زمین پرجبرائیل امین ؑ وحی لے کر نہیں آئیں گے۔ہم تو اس بات کے عادی تھے کہ کوئی مسئلہ ہوتافوراً بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے مسئلہ بیان کرتے جواب اﷲ کی طرف سے آتا،وحی نازل ہوتی قرآن نازل ہوتا،اﷲ کے ذاتی کلام میں جواب آ جاتا۔اب وہ نعمت ختم ہو گئی رسالت ﷺ، نبوت اورکتاب موجود ہے قیامت تک رہے گی۔اس با ت پہ رونا نہیں ہے رو اس لیے رہی ہوںکہ حضورﷺ کا وصال وحی کو ختم کر گیاحضور ﷺ اﷲ کا پیغام پہچانے اس دنیا میں تشریف لائے ورنہ یہ دنیا اس قابل ہی نہ تھی۔حضور ﷺ میدان عرفات میں تھے آیت کریمہ نازل ہوئی آج کے دن میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں جتنے انعامات کوئی مخلوق اپنے خالق سے لے سکتی تھی وہ آپ پر آج مکمل کر دیے۔تمہارا دین مکمل ہو گیا اور دین اسلام کو تمہارے لییپسند فرما لیا او ر اس پر وہ راضی ہو گیا،اب اس میں کوئی کمی بیشی قیامت تک نہیں ہو گی تو صحابہ کرام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ روزانہ انتظار رہتا تھا دیکھیں نیا حکم کون سا ہو گا؟ الحمدﷲ دین مکمل ہو گیاہماری زندگی میں مکمل ہو گیا۔ہمیں پورے دین پر عمل توفیق ارزاں ہو گئی۔سب کے علم میں تھا کہ راز گان نبوت ابوبکر صدیق ؓ ہیں تو سب نے تلاش کیا انھیں تلاش کروانھیں مبارک دیں دین مکمل ہو گیا۔آپ کو تلاش کیا تو اپنے خیمے میں بیٹھے زاروقطار رو رہے تھے انھوں نے کہا آپؓ رو رہے ہیں خوشی کا موقع ہے دین مکمل ہو گیا۔انھوں نے کہا میں رو اس لیے رہا ہوںاس دین کی تکمیل کے لئے حضور ﷺ تشریف لائے تھے ورنہ یہ دنیا اس قابل نہ تھی اور اگر دین مکمل ہو گیا تو اس کا مطلب ہے حضور ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما جائیں گے۔ انھوں نے سب کو رُلا دیاجو خوشیاں لے کر آئے تھے سب کو رُلا دیا کہ حضور ﷺ کا یہاں تشریف لانااس دین کی ترویج کے لیے تھا۔جب دین مکمل ہو گیا اور حضور نے پہنچا دیاتو پھر یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ حضور ﷺ کو یہاں رکھے اور وہی ہوا۔اس کے اسی بیاسی دن کے بعد حضورﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے تو حضورﷺ کی یہاں تشریف آوری کا مقصد اﷲ کا دین روئے زمین پر بسنے والے انسانوںکو پہچانا تھا جب یہ فریضہ مکمل ہواحضور ﷺاس دنیا سے پردہ فرما گئے۔
  ارشادات نبوی ﷺ کا مظہر تعامل صحابہ ؓ ہے، صحابہؓ نے جو عمل کیاوہ دلیل ہے کہ یہ حضور ﷺ کا حکم ہے اور تمام صحابہ ؓ  کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ  ستاروں کی مانند ہیںجس طرح ستاروں سے لوگ راہ تلاش کرتے ہیںیہ تمہاری راہنمائی کے لئے وہ ستارے ہیں تم جس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے یعنی صحابہ ؓ سارے کے سارے عادل بھی ہیں ہادی بھی ہیںجس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے۔ ذرا صحابہ ؓسے کوئی جلوس کوئی جشن ثابت کرودنیا میںکسی نے اگر واقعی کسی سے محبت کی ہے تو وہ صحابہ ؓ  محمد الرسول اﷲ ﷺ ہیںدنیا کی پوری تاریخ میںکوئی ان کی مثال نہیںاسی لیے آدم علیہ السلام سے لے کرقیامت تک تمام لوگوں سے انبیاؑء کے بعد افضل ترین لوگ ہیں۔کافر جسے ایمان ہی نصیب نہیں ہوا اس کی تو بات چھوڑیں وہ تو ہے ہی کافروہ تو اپنی خواہشات سے دین گھڑے گالیکن جوایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس کیا اختیار رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دین گھڑلے؟ اﷲ کریم ہماری خطا ئوں کو معاف فرمائے ہمیں نیکی کی توفیق دے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت

 اسلامی سال کی ابتدا محرم سے ہوتی ہے بے شمار قربانیوں سے یہ سال شروع ہوتا ہے امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم محرم 24 ھ کو شہادت کے بعدروضہ اطہر میں دفن کئے گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت خانوادہ نبوت کی مظلومانہ شہادت ایک عظیم داستان ہے جو اسلامی کیلنڈرکی ابتدا کو نور شہادت سے منور کر دیتی ہے۔ 14 صدیوں میں سال کا کوئی دن، کوئی رات ایسی نہ ہو گی جو شہادت سے عبارت نہ ہولیکن عجیب بات یہ ہے کہ سال کاآخری مہینہ ذوالحجہ آتا ہے اور ذوالحجہ بھی سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یادگار لئے ہوئے ہے ہمیں سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی میں بھی تمام انسانی محبتیں،تمام انسانی جذبے اور تمام انسانی رشتے قربان ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اسی طرح شہادت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایک اتنا ہی عظیم واقعہ ہے جس کے اثرات تاریخ انسانی پر مرتب ہوئے اور روش زمانہ جو عہد نبوت میں اصلاح پزیر ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنافاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں بھی اسی طرح روبہ کمال رہی اسی لئے محققین لکھتے ہیں کہ خلافت شیخین (سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ) علی منہاجِ نبوۃ تھی یعنی اس میں وہ طریقہ، وہ سلیقہ، وہ برکتیں، وہ رحمتیں، وہ جذبہ ایمان اسی طرح روبہ کمال رہا جس طرح عہد نبوی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃوالسلام میں تھا لیکن ایک فرد کی شہادت نے تاریخ انسانی کو اس کمال سے محروم کر دیا۔
 نبی علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر جو میرے بعدہیں ان کا ہے پھر جو ان کے بعدہیں ان کا ہے انہیں قرون ثلاثہ کہا جاتا ہے یہ تین زمانے خیرالقرون کہلاتے ہیں ایک عجیب زمانہ جس میں حاضر ہونے والا ہر فردِبشر شرف صحابیت سے سرفراز ہواایک نگاہ میں اسے سارے کمالات حاصل ہو گئے اس کا دل بدل گیا، اس کا ضمیر بدل گیا اور اس کی سوچ بدل گئی وہ قبائل جو لوٹ کر کھانا اپنا روزگار سمجھتے تھے اور قتل وغارت گری جن کا شعار تھا، جسے وہ اپنی بہادری کے طور پر فخریہ پیش کیا کرتے تھے وہ محنت کر کے کھانے لگے اور اس میں سے دوسروں کو بھی کھلانے لگے جو چوری اور ڈاکے میں مشہورتھے وہ عدل میں معروف ہو گئے جو جہالت میں دنیا بھر میں مشہور تھے وہ ترویج علم کے منارہ نور بن گئے اور روئے زمین کے عادل ترین حکمران قرارپائے سیاسیات اور حکومت کے امور میں بھی وہ سنگ میل ثابت ہوئے اور جو انداز عہد فاروقیؓ میں حکومت کو دئے گئے، کتنی عجیب بات ہے کہ آج تک کوئی ان پر اضافہ نہ کر سکا۔ یہ محکموں کی تقسیم،مختلف شعبوں میں مختلف درجے، حکومت میں گورنر اور وزیر اور پھر صوبے، ضلعے،تحصیلیں،گاؤں،زمین کی پیمائش،زمین کا لگان،مالیہ، ملکیت،بنیادی محکمے بحری بیڑے کی تشکیل، فوج اور فوج کی چھاؤنیاں، پولیس اور اس کا طریقہ کار، عدلیہ اورانکے حکام کی حدود۔یہ سارا وہ نظام ہے جو سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ترتیب دیا تھا۔ 
جمہوریت کیا ہے؟ کہ ملک میں بسنے والے ہر شہری کی رائے کی ایک اہمیت ہو اجتماعی طور پر انسانی برادری کے ایک ہونے کاسب سے پہلا بنیادی تصور اللہ، اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب نے دیا لفظ ”الناس“ سب سے پہلے قرآن نے استعمال کیااس سے پہلے مغرب والے تھے یا مشرق والے، شمال والے تھے یا جنوب والے،مختلف ممالک،قومیں یا قبائل تھے جن میں سے ہر ایک صرف اپنی ہی بات کیا کرتا تھا دوسرے کی فکر کوئی نہیں کرتا تھایہ فلسفہ دینِ برحق نے دیاجس طرح پوری امت کے ذمے لگایا کہ  ”اخرجت الناس“  اب الناس میں ایمان کی قید نہیں ہے۔الناس میں مومن و کافر سب آتے ہیں، ساری اولادِآدم پر الناس کا اطلاق ہوتا ہے عہد فاروقیؓ میں ویلفیئر سٹیٹ منظم ہو چکی تھی کہ بیت المال اورمال زکوٰۃ، تعلیم اور علاج،بے روزگاروں کے و ظائف، بیماروں، بیوگان اور یتیم بچوں کی سن بلوغت تک کفالت۔مومن تو مومن کافر جو معذورین تھے ان پر نہ صرف جزیہ معاف کر دیا جاتابلکہ انہیں بیت المال سے وظیفہ دیاجاتاجو Structure سیدنا فاروق اعظم ؓنے بنایا تھا آج تک دنیا کی کوئی حکومت اس پر اضافہ کر سکی نہ اس میں کوئی تبدیلی کر سکی سوشلسٹ، جمہوری یاشہنشاہیت پسندہو ہر حکومت کے لئے فاروقی نظا م، نمونہ ہے اور دنیا کی ساری حکومتوں کی تاریخ دیکھ لیجیئے سب کی مجبوری ہے کہ اس کوFollowکریں۔سب کا طریقہ کار وہی ہے نام اپنا اپنا دیتے رہتے ہیں اللہ نے اتنی وسعت نظری کسی کو دی ہی نہیں کہ اس میں تبدیلی کر سکے ایک شخص نے اپنے عہد حکومت میں گھوڑے کی پیٹھ پر یا پیدل چل کر چھبیس لاکھ مربع میل علاقہ فتح کیا۔ اس کے سپاہیوں نے پینتیس ہزار بہت بڑے بڑے شہر آباد کئے جن میں نامور قلعے بھی تھے چھبیس لاکھ مربع میل مفتوحہ علاقہ صرف فتح نہیں ہوا بلکہ چھبیس لاکھ مربع میل علاقے میں کسی بوڑھے کی آہ سنائی نہیں دیتی،کسی عورت کی چیخ سنائی نہیں دیتی،کسی بھوکے بچے کے رونے کی آواز نہیں آتی اور کوئی کافر بھی نہیں کہہ سکتا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی یا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی سپاہی نے میرے ساتھ ظلم کیا۔ 
مغرب میں سے سب سے پہلے برطانیہ نے ویلفیئر سٹیٹ بنائی جارج ہفتم کے زمانے میں اس کی بنیاد رکھی گئی اس کے بعد برطانیہ میں ملکائیں آ گئیں جس پروفیسر نے اس کی بنیاد رکھی اس نے بتایا کہ مجھے بادشاہ نے اس کمیٹی کا سربراہ بنایا تھاجسے برطانیہ کو ویلفیئر سٹیٹ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی میں نے بڑے غور اورگہری نظر سے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا، اس کی مختلف تفسیریں اور تراجم پڑھے پھر میں نے تاریخ سے عہد فاروقیؓ کو نکالا، ان کے نظام کو پڑھا تو مجھے سمجھ آئی کہ قرآن سے تو مجھے اشارے ملے ہیں لیکن ان کی عملی تعبیرفاروقاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعین کر دی لہٰذا میں نے عہد فاروقیؓ کا نظام جوں کا توں لا کر بادشاہ کے سامنے رکھ دیا فرق صرف یہ رہا کہ اس عہد میں زکوٰۃ فرض تھی اور ان کی آمدن کی مد زکوٰۃ تھی جب کہ ہم نے اپنی آمدنی کی مد مختلف ٹیکسوں پر رکھی زکوٰۃ بھی ایک ٹیکس تھی اور ہم نے اپنی ضرورت کے مطابق ٹیکس لگائے لیکن اس کی ساری تقسیم اسی طرح ہوتی ہے اور آج بھی برطانیہ اپنی عام زبان میں اس ویلفیئر سٹیٹ کے سسٹم کو The Umer's Laws   ہی کہتے ہیں جب اس قانون کا حوالہ دینا ہوتو وہ کہتے ہیں کہ 
    This is according  to Umer's Laws.......so and so  
اللہ کا وہ عظیم بندہ جس کے بنائے ہوئے طرزِ حکومت اور  Welfare کے تصور پر کوئی اضافہ نہ کر سکا، اس لئے نہ کر سکا کہ سارا نظام ہی وہ تھا جو اللہ کی کتاب میں نازل ہوا اور صحابہؓ کا کمال یہ تھا کہ وہ اتنے ذہین تھے کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ جمعہ کے خطبے میں کہہ دیا کہ لوگو! اگر مجھ سے حضورﷺ کا اتباع اور آپ ﷺ کی سنت اور صحیح طریقہ چھوٹ جائے تو کیا کرو گے؟ ایک بدوی کھڑا ہو گیا اور اس نے میان سے تلوار نکال لی اور کہا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اگر دائیں بائیں ہوں گے تو ہم آپ کو سیدھا کر دیں گے ابھی ہم میں جان ہے اگر لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے تو بھی قرآن سمجھنا جانتے تھے کہ انہوں نے براہ راست حضرت محمدرسول اللہ ﷺ سے سیکھا تھا۔ 
شیخین کریمین کا عہدِ خلافت علیٰ منہاج النبوہ رہا اور وہی برکات اسی طرح بٹتی رہیں لیکن ایک فرد کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اللہ کی کائنات کوایک بندے کے اٹھنے سے.......لیکن شاید ہر بندہ مختلف ہوتا ہے اور ہر جانے والا ایک خلاء چھوڑ جاتا ہے اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا خلاء دوبارہ پر نہیں ہوتاایک ہستی اٹھ گئی دنیا سے،ایک ہستی وصال الہٰی پا کر برزخ میں جلوہ افروز ہوئی آقائے نامدار حضرت محمدرسول اللہ ﷺ، اللہ کے آخری نبی تھے لیکن آپﷺ بھی ایک انسان تھے توانسان تو روز آتے جاتے ہیں کیا فرق پڑا.......؟ اتنا بڑا فرق پڑا کہ وحی الہٰی ختم ہو گئی، قیامت تک کسی پر دوبارہ نازل نہیں ہو گی اللہ کی طرف سے وحی لانے والا جبریل امین جس کی خدمت حضرت آدم علی نبیناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمین پر جلوہ افروز ہونے سے شروع ہوئی اور جو ہر عہدمیں ہر زمانے میں ہر قوم میں مبعوث ہونے والے انبیاء کی طرف اللہ کی ہدایات لاتا رہا اور کیسا عجیب زمانہ تھا کہ لوگ سوال زمین پر کرتے تھے جواب عرشِ الہٰی سے آتاتھامسئلہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت عالی میں پیش ہوتا جواب کے لئے جبریل امین تشریف لاتے کہ اللہ کریم اس کا جواب یہ فرمارہے ہیں صرف ایک ہستی کے پردہ فرمانے سے قیامت تک کے لئے سلسلہ وحی منقطع ہو گیا۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایک فرد کے اٹھنے سے کچھ نہیں ہوتا.........؟ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایک فرد تھے، ایک انسان تھے چھوٹے سے ایک عام عرب قبیلے، بنو عدی کا ایک عام سا فرد، خطاب کا بیٹا، لیکن صحبت پیغمبرﷺ نے کن عظمتوں اور کن بلندیوں تک پہنچایا، عمرسے فاروقؓ بنا دیا......حق وباطل میں امتیاز کرنے والا......... حق وباطل میں تفریق کرنے والا........سچ اور جھوٹ کوالگ الگ کرنے والا......ظلم اور انصاف کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والا...... 
بیت المقدس کی فتح کے وقت نصرانیوں کے علماء نے شرط لگائی تھی کہ آپ اپنے امیر کو لے آئیں ہم دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ یہ خلیفہ دوم ہے اور اس کے ہاتھ پر شہر فتح ہونا ہماری کتاب میں لکھا ہوا ہے ہم لڑیں گے نہیں اور اگر وہ بندہ نہیں ہے تو ہم لڑیں گے اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تشریف لے گئے اور انہوں نے دیکھا تو شہر خالی کر دیا کیو نکہ حضورﷺ کی ذات تو بہت بلند ہے آپ ﷺ کے خدام کے بارے میں بھی ان کے پاس حلیے، قد، عادات و خصائل اور لباس تک کی پیش گوئیاں موجود تھیں۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مرض تھا ان کے پیٹ میں ایسی بیماری تھی کہ جوَ کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا اور مدینہ منورہ میں ایسا قحط پڑا کہ گندم کی روٹی کسی کو میسر نہیں تھی آپ جوکھاتے تھے اور بیمار رہتے تھے پیٹ خراب ہو جاتا تھا کام نہیں کر سکتے تھے حرج ہوتا تھا طبیب نے عرض کی کہ حضرت ایک آدمی کے لئے تو گندم ملنا محال نہیں ہے جو آپ نہ کھائیں خلافت کانقصان بھی ہوتا ہے اپنے دفتری امور پورے نہیں کر سکتے اور اس پر مزید یہ کہ ایذا ہوتی ہے مروڑ اٹھتے ہیں تکلیف ہوتی ہے۔ فرمانے لگے بات تو تیری ٹھیک ہے لیکن جو بندے اللہ نے میرے سپرد کر دیئے ہیں یہ جو کھائیں اور میں غلہ کھاؤں تو کل اللہ کے حضورمیری طرف سے تم جواب دو گے ہے تجھ میں جرأت۔جب تک عام شہری کو غلہ نہیں ملتا عمر کو حق حاصل نہیں کہ وہ غلے کی روٹی کھائے۔ ایک دفعہ آپ نے فرمایاکہ دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھوکا رہ گیا تو عمر ابن خطابؓ پکڑا جائے گا کہ تجھے سلطنت اس لئے تو نہیں دی  کہ میری مخلوق پر ظلم ہو اور وہ بھوکے بلک بلک کر مر جائیں سفر آخرت کے وقت کسی نے عرض کیا کہ آپ اپنے بیٹے عبداللہ کو اپنا جانشین بنائیں اور حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کام کے اہل بھی تھے وہ عہد صحابہ ؓ کے مانے ہوئے فقیہہ تھے آج بھی ان کی سند اختیار کی جاتی ہے تو آپ ؓنے فرمایا میدان حشر میں جواب دینے کے لئے خطاب کی اولاد میں سے میں اکیلا کافی ہوں مشورہ دینے والے سے فرمایا کہ تو یہ چاہتا ہے کہ میرا سارا خاندان جواب دہی کے لئے میدان آخرت میں پکڑا ہوا کھڑا ہو کہ تو نے میرے بندوں کے ساتھ کیا کیا؟
ذوالحجہ کے آخر میں آپ کومسجد نبویﷺ میں دوران نماز فیروز نامی ایک غلام جو مسلمان نہیں تھا،نے زخمی کیا زخم اتنے کاری تھے، پیٹ اس بری طرح سے پھٹا تھا، دو دھاری خنجر کے زخم تھے کہ دودھ اگر آپ کے منہ میں ڈالا جاتا تو زخموں سے باہر نکل جاتاحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریمؓ ایک یہودی جراح کو لینے کے لئے تشریف لے گئے ایک معروف جراح جو زخموں میں بہت ماہر تھا(تلوار کا زمانہ تھا،زخم لگتے تھے اور اس وقت عجیب وغریب مرہمیں اور طریق ِجراحت ایجاد تھے)جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے پاس پہنچے توآپ نے فرمایا کہ امیر المومنین کی حالت بہت مخدوش ہے، تم میرے ساتھ چلو اس نے ملازم سے گھوڑا تیار کرنے کا کہا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نہیں، اس طرح تو دیر لگ جائے گی تم اپنا یہ بغچہ اٹھاؤ اور میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ابھی راستے میں ہی تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا......گھوڑا روکا.....جراح سے کہا کہ تمہیں تکلیف تو ہو گی لیکن ابھی تم گھر کے قریب ہو، میں تمہیں اتار دیتا ہوں، تم واپس چلے جاؤ، مجھے مدینہ منورہ جلدی پہنچنا ہے جراح نے کہا کہ عجیب بات ہے آپ نے مجھے گھوڑا لینے دیا،نہ تیار ہونے دیا، لباس تک تبدیل نہیں کرنے دیا اور اب مجھے کہہ رہے ہو کہ واپس چلے جاؤ......!  فرمایا تمہاری ضرورت نہیں رہی۔اس نے کہا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میری ضرورت نہں رہی؟ فرمایا یہ جو بکریاں ہیں سامنے دیکھ رہے ہویہ کسی دوسرے آدمی کی ہیں اور جس فصل میں گھس گئی ہیں یہ کسی اور بندے کی ہے اور یہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ فاروق اعظمؓ دنیا سے اٹھ چکے ہیں.....وہ حیران ہو گیا واپس چلا گیا لیکن اس نے وقت نوٹ کر لیا اور جب بعد میں اس نے تصدیق کی اور اسے پتہ چلا کہ واقعی اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دارِفانی سے رخصت ہو چکے تھے تو اس نے کلمہ پڑھ لیا۔
 ایک وجود حدِّ فاصل تھا نیکی اور برائی کے درمیان ایک وجود کی یہ برکت تھی کہ کسی کا جانور کسی دوسرے کی فصل میں نہیں گھستا تھا اسی لئے نبی کریم ﷺنے آپ کو فاروق ؓکہا تھا وہ عظیم ہستی یکم محرم الحرام کو روضہ اطہر میں حضرت صدیق اکبرؓ کے پہلو میں آسودہئ خاک ہوئی وہ خاک جس کا رتبہ کائنات سے بڑھ کر ہے علمائے حق فرماتے ہیں کہ سب سے بڑی عظمت اس زمین کی ہے جس پر بیت اللہ ایستادہ ہے یہ مرکز ہے زمین کایہ وہ نقطہ ہے جو زمین پر سب سے پہلے تخلیق ہوا اور یہیں سے ساری زمین پھیلائی گئی اور یہ وہ مرکز ہے جس پر ہمہ وقت اللہ کی تجلیات ذاتی متوجہ رہتی ہیں لیکن مدینہ منورہ کی خاک اقدس کا وہ حصہ جو حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی آرام گاہ ہے وہ اس زمین سے افضل ہے اس لئے کہ نبی اکرم محمدرسول اللہ ﷺ کا وجود پاک اس مٹی سے مَس کررہاہے وہ خاک ہی ایسی ہے وہ ٹکرا ہی ایسا ہے۔منبر اطہر سے لے کر روضہ اطہر تک فرمایا ”یہ ٹکرا جو میرے منبر اور میرے حجرہ مبارک کا ہے یہ سارا وہ حصہ ہے جو اللہ نے جنت میں سے کہا ہے“۔آپﷺ کے قیام کے لئے یہ خطہ جنت سے اتارا گیاجن سالوں میں مسجد نبوی ﷺکی توسیع ہو رہی تھی ان دنوں میں وہاں حاضر تھا آپ مدینہ منورہ کے کسی ہوٹل،کسی مکان یا کسی بھی جگہ ہوں تو ایک شور آپ کو مسلسل سنائی دیتا رہتا لیکن مسجد نبوی ﷺ کے دروازے سے آپ اندر ہو جائیں تو کوئی آواز سنائی نہیں دیتی تھی اس کا میں چشم دید گواہ ہوں کوئی آواز،کوئی صدا جرأت نہیں کرتی تھی ان حدود کو عبور کرنے کی جو مسجد نبویﷺ کی ہیں اسی روضہ اطہر میں سیدنا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جگہ ملی اور حضورﷺ کی حدیث میں موجود ہے کہ عیسیٰ علی السلام نازل ہوں گے زمین پر رہیں گے ان کا وصال ہو گا۔ ایک قبر ان کی یہاں بنے گی اور ابھی تک ایک قبر کی جگہ خالی ہے آپ ﷺ کے ارشاداتِ عالی میں موجود ہے کہ قیامت کو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح اٹھیں گے کہ ایک طرف میں ہوں گا اور ایک طرف عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور درمیان میں یہ دونوں ہوں گے۔  

حسینیت اور یزیدیت

                                                                                       
         محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور ذوالحج آخری۔محرم الحرام سے ذوالحج تک سارے سال کا جائزہ لیا جائے تو تاریخِ اسلام بے شمار قربانیوں کی آئینہ دار ہے جو قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نشانِ منزل کی حیثیت رکھتی ہیں کہ کیسے اتباعِ رسالت کے لیے جانوں کے  نذرانے پیش کر کے قربِ الٰہی کی منازل حاصل ہو سکتی ہیں!تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو حیاتِ طیبہ کا ایک ایک لمحہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کس محنت،محبت اور کس درد سے اسلام کی عمارت تعمیر فرمائی۔مکی زندگی کے مصائب کو دیکھتے ہوئے مدنی زندگی کی مشکلات کا مطالعہ کریں تو خلافتِ اسلامیہ کی ترتیب کا محور مدنی زندگی دکھائی دیتی ہے۔آپ ﷺ کے وہ خدام کہ جن کی خدمتگار ی پر خود قرآن کریم گواہ ہے،کس عجز وانکساری اور خندہ پیشانی سے آپ ﷺ کے احکامات مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے غزوات وسرایہ سے گزرتے ہو ئے اسلامی عمارت کی تعمیر میں سرگرم عمل رہے۔مدینہ منورہ کی اس چھوٹی سی ریاست سے مملکتِ اسلامیہ معلوم دنیا کے تین حصوں تک پہنچی لیکن جونہی اس خلافتِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی تو ساتھ ہی مشرکین و منافقین و یہود کی سازشیں ظاہر و پوشیدہ طور پر شروع ہو گئیں اس کے ثبوت میں دو عناصر مثال کے طور پر بیان کیے جا سکتے ہیں۔ایک یہود کی اسلام مخالف سازشوں کا اس حد تک بڑھنا کہ انھیں ان کے قلعوں سے نکال باہر کرنا۔دوسرا خطہ عرب اور ملک ِ فارس کی تہذیبوں کا آپس میں تاریخی تقا بل کا ہونا۔جب فتوحات ِاسلامیہ کے سامنے تہذیب ِفارس اس قابل نہ رہی کہ میدانِ کارزار میں مجاہدینِ اسلام کا سامنا کر سکے تو اس کا بھی یہ انداز اختیار کرنا کہ مختلف سازشی عوامل کے ذریعے جہاں تک ہو سکے نبی کریم ﷺ آپ کے خدام ؓ اور خانوادہ رسول سے اپنے تہذیب و تمدن کے اجڑنے اور عینِ حق یعنی اسلام کے پھیلنے کا بدلہ لیا جائے۔
        کوفہ وہ مقام ہے کہ جہاں پر یہ دونوں سازشی عوامل ظاہر ی طور پر اکھٹے ہو گئے۔اب جبکہ میدانِ کارزار میں مد مقابل نہیں ہو سکتے تھے تو ان کے لیے بہتر طریقہ یہی ہو سکتا تھا کہ وہ دینِ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نبی اکرم ﷺ کے خلاف برسرِ پیکار رہیں۔ یکم محرم الحرام جہاں اسلامی سال کا پہلا دن ہے وہیں خلیفہ دوم حضرت عمرِفاروقؓ کا یوم شہادت بھی ہے اور اس عظیم شہادت کے محرکات کے سلسلے میں تاریخ کے اوراق اسی کوفہ کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔پھر علی ا لترتیب حضرت عثمانِ غنی ؓ اور حضرت علی ؓ کی شہادت کی کڑیاں بھی انھیں عوامل کی طرف نشاندہی کرتی ہیں۔اب دیکھیں کہ انسان جب انسانیت کی بلندی سے گرتا ہے تو ظلمتوں کی حدود کو کہاں تک پارکرتا چلا جاتا ہے کہ واقعہ کربلا میں وہ خون بہایا گیا جو نبی اکرم ﷺ کے مبارک خون کا حصہ تھا۔یوں تو خون حرام ہے لیکن یہ وہ خون تھا کہ جس کے پینے والے صحابی رسولؐ  کو نبی اکرمﷺ نے وہاں تک ارشاد فرما دیا کہ اب تم پر دوزخ کی آگ حرام ہے۔یہ خون اُس ذات سے وابستہ تھا جسے اللہ رب العزت نے مجسم رحمتِ پیدا فرمایا،خالق اور مخلوق میں رحمتِ باری تعالیٰ کے پہنچنے کا واحد ذریعہ بنائی اور جس ذات پر اپنی جان،والدین،اولاد تک کو قربان کردینے کا جذبہ نہ ہو تو انسان مقصدِ تخلیق کو نہیں پا سکتا اور وہ عیمان جو کہ شرط ہے قربِ الٰہی کا حاصل نہیں کر سکتا۔وہ ذات کہ جس ذات کی شفاعت کے بغیر روز محشر کوئی رحمتِ باری کو نہیں پا سکتا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس ذات کی خاطر جان،مال،آبرو،والدین،اولاد جو کچھ ہوقربان کر دیا جاتامگر جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ جب انسان،انسانیت کی سطح سے گرتا ہے تو پھر وہ ظلمتوں کی حدوں کو پار کر جاتا ہے اور یہ واقعہ کربلا کہ جس کی تاریخ دس محرم الحرام حرفِ عام میں ہے،خواہ اس کی تاریخ سے کلی طور پر اتفاق نہ بھی ہو اس واقعہ کی صداقت سے انکا ر نہیں کیا جا سکتا۔
     یزیدیت کیا تھی؟ کہ وہ شخص جس نے خلافت ِ اسلامیہ میں پہلی بار اقتدار،فوج،طاقت،حکومت اپنی سمجھ لی تھی۔اس کے اس انداز پر خانوادہ رسول نے اتفاق کرنے کی بجائے اُس خون کو کہ جس کی حرمت میں پہلے بیان کر آیا ہوں،کربلا کی خاک میں ملانا بہتر سمجھا اور اگر مثال کے طور پر یہ گمان کیا جائے کہ روزِ محشرحضرت امام حسین ؓ سے نبی اکرمﷺ یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ نے میرا خون اس طرح سے خاکِ کربلا میں کیوں ملا دیا؟ تولامحالہ یہ جواب ذہن میں آتا ہے کہ اے نانا ایک طرف آپ کا بتایا ہوا حق کا راستہ تھا اور دوسری طرف یہ خون۔میں نے آپ کے حکم کے مطابق اس خون کو خاک میں ملادینا بہتر سمجھا۔حضرت آدم سے لے کر روزِ قیامت تک دوہی اندازِ فکر ہمیشہ انسانیت کے سامنے رہیں گے۔ایک یزیدیت کا اور دوسرا حسینیت کا۔آج ہمیں بھی انہی دو نظریات میں سے کسی ایک نظریہ پر قائم ہونا ہے۔ایک طرف 
نبی اکرم ﷺ کی راہنمائی ہے اور دوسری طرف اس کے مقابل حزب الشیاطین کا راستہ ہے۔تو کیا یہ کافی ہو گا کہ محرم الحرام کے چند ایام میں رواجی طور پر ان واقعات کو  یا د کرلیں۔کچھ دیگیں پکائیں،محافل منعقد کریں؟ یا اپنی ذات کی سوچ سے عمل تک اتباعِ محمد رسول اللہ ﷺ کے تابع کریں چاہے اس کے لیے ہمیں واقعہ کربلا جیسی عظیم 
 قربانی کی سنت کو تازہ کرنا پڑے؟
         اس واقعہ کا اگر بغور مطالعہ کریں اور آج کے حالات کو دیکھیں تو یہ بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جو اسلام مخالف قوتیں تب تھیں وہی آج بھی شدومد سے نبی کریمﷺکی ذات کے خلاف برسرِ پیکارہیں۔مگر ضرورت اس دعا کی ہے کہ 
 ہے  
لشکرِکوفی  تو  آمادہ پیکار     دے ہم کو خدایا تو حسین ابن علی دے