Latest Editorial


وضو

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِکُمْ وَ اَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْن۔۔۔۔(المائدۃ:۶)
”اے ایمان والو! جب تم نماز کا قصد کرو تو اپنے چہروں کو دھوؤاور اپنے ہا تھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور اپنے سر وں پر ہا تھ پھیرو(مسح کرو)اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں (دھو لیا کرو)۔“
اسلام میں جہا ں تزکیہئ قلب کو ابدی فلاح کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے وہاں اس کامیا بی کے زینے پہ قدم رکھنے کے لئے تطہیر قالب کی بھی شرط مقرر فرما ئی ہے۔سورہئ ما ئدہ کی اس آیہ کریمہ میں نماز کی تیا ری، اللہ رب العزت کی با رگا ہ میں حاضری کے لئے ممکنہ حد تک ظا ہری صفا ئی،ستھرا ئی اور پا کیز گی کا اہتما م کرنے کا حکم فر مایا گیا ہے۔چہرہ،ہاتھ، کہنیوں سمیت بازو دھونا سر کا مسح کرنا اور ٹخنوں تک پا ؤ ں دھونا وضو کے فرائض میں سے ہیں۔ وضو درا صل عربی زبان کا لفظ ہے جو  وضا تٌ سے ما خوذ ہے۔ وضاتٌ رو شنی کو کہتے ہیں۔حدیث ِپا ک ہے:
قیل یا رسول اللہ کیف تعرف من لم تر من امتک قال غر محجلون بلق من اثار الوضوءِ(ابن ماجہ)
”عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔ نبی ئ اکرم  ﷺ سے دریافت کیا گیاکہ آپ  ﷺ (قیامت کے دن) اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جنھیں آپ  ﷺ نے نہیں دیکھا۔آپ  ﷺ نے فرمایا وضو کے نشانات سے ان کے ہاتھ پاؤں روشن ہوں گے۔“
وضو کرنے والوں کے چہروں کے روشن ہو نے کی اسی نو ید کی بنا پہ پا کیزہ پا نی کو بطر یق شریعت ان اعضاء پہ استعمال کرنا (جن کی وضا حت احادیث میں تفصیل سے فرما دی گئی ہے)وضو کہلاتا ہے۔  لفظ ’وضو‘کی ’و‘پہ اگرزبر لگا دی جا ئے تو لغت’لسان العرب‘کے مطا بق اس سے مراد وہ پا نی ہو گا جس سے وضو کیا جا ئے اور اگر لفظ ’وضو‘  کی ’و‘  پہ زیر لگا دیں تو’شرح الیاس‘ کے مطا بق اس سے مراد وہ جگہ ہو گی جہاں بیٹھ کر وضو کیا جا ئے۔ 
قا رئین ِکرام! خالق ِکا ئنات کے اس دین حق کی تمام ترتعلیمات،اس کے احکامات،حدود،شرائط اور فرائض و حقوق انسان کی قلبی، بدنی، ذہنی اور جذ باتی ضروریات کے عین مطا بق ہیں۔اسلام جہاں صفا ئے قلب کو بنیاد قرار دیتا ہے وہاں طہا رت جسمانی کو بھی ان     عبا دات کے ساتھ ملزوم رکھتا ہے۔ اسلام روح کی با لیدگی کو وجود کی پا کیزگی کے ساتھ مشروط فرما تا ہے۔حدیث پا ک ہے:
الطھور شطرالایمان (صحیح مسلم)
 ”پا کیزگی نصف ایمان ہے۔“
شرح نووی کے مطابق اس کا مفہوم یہ ہے کہ طہارت کا ثواب اس قدر بڑھتا ہے کہ ایمان کے آدھے ثواب کے برابر ہے۔
ایمان کے دو جزو ہیں ایک دل سے یقین کرنا اور دوسرا ظا ہراًبھی اطا عت کرنا اس ظاہری اطاعت میں جب پہلو عبادات کا آتا ہے تو اس کے لئے طہارت شرط قرار دے دی گئی ہے اور وضو پا کیزگی کو مزید جلا بخشتا ہے۔حدیث ِپا ک ہے:
اسباغ الوضوء شطر الایمان(ابن ماجہ)  
”کامل وضو کرنا نصف ایمان ہے۔“
وضو بذات خود فرض نہیں ہے لیکن نماز کی ادا ئیگی کے لئے شرط ہے۔حدیث ِپا ک ہے:
”جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضوہے۔“(مشکوۃ شریف)
گویا ایک مومن جب نماز کی تیا ری میں جہاں جگہ،لباس اور بدن کے پا ک ہو نے کا خیال رکھے وہاں وجود کے ظا ہر ی اعضا ء کو خصوصی اہتمام سے صاف بھی کرے (وضو کرے)کہ آخر کس ہستی کی بارگاہ میں حا ضری کے لئے تیار ہو رہا ہے یہ اہتمام اُسے تکبیر اولیٰ سے پہلے ہی خشوع کی کیفیت سے نواز دے گا۔جیسے کسی اعلیٰ منصب شخص سے ملنے جا نے کے لئے تیا ری کی جا ئے تو ملاقا ت سے پہلے ہی اس شخصیت سے ملنے کے احسا س کی مسرت قلب و بدن پہ چھا رہی ہوتی ہے۔ وضو کا اہتمام بندہئ مومن کو بارگاہِ الٰہی میں حاضری سے پہلے ہی اپنے خالق و مالک کے حضور سر بسجود ہونے کی نعمت ملنے کی سرشاری سے نواز دیتا ہے۔حدیث ِپاک ہے:
”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،جب ایمان دار شخص وضو کرتا ہے(اور) منہ میں پانی ڈالتا ہے تو اُس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اُس کی ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اُس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اُس کی دونوں آنکھوں کی پلکوں سے نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اُس کے دونوں ہاتھوں سے گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اُس کے دونوں ہاتھوں کے ناخنوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اُس کے سر سے یہاں تک کہ اُس کے کانوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اُس کے پاؤں سے یہاں تک کہ اُس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں اس کے بعد مسجد کی جانب چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے زائد ہوتا ہے۔“(مشکوۃ شریف)
بِلاشبہ وہ بارگاہ ایسی ہی عظیم ہے کہ اس کی حاضری کے لیے بندہئ مومن کو گناہوں کی آلودگی دھو ڈالنے کے بعد ہی پیش ہونا چاہیے  اور اس رحیم و کریم خالق نے وضو کرنے کو گناہوں کی سیاہی سے دھلنے کا سبب بنا دیا۔حدیث ِپاک ہے:
وجعلت لی الارض مسجدا و طھورا (صحیح بخاری)
”ساری زمین میرے لیے مسجد اور پاکیزہ بنا دی گئی۔“
حضرت آدم ؑسے لے کر حضرت عیسیٰ  ؑتک ہر امت کو مسجد کی جگہ مختص کرنا پڑتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ئاکرم  ﷺ کی برکت سے پوری زمین کو مسجد بنا دیا اوراِس مسجد میں ایمان والوں کے لیے،ان کی ضروریات کی تسکین کے لیے پاکیزہ وجود، پاکیزہ لباس، پاکیزہ رزق، پاکیزہ سوچ، پاکیزہ خیالات غرض پاکیزہ کردار چُنا۔اب یہ ہم پہ ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کی اس مسجد میں کس حد تک پاکیزگی کے ساتھ رہنے کی سعی کرتے ہیں۔ وہ پاکیزگی جو وجود سے نہاں خانہئ دل تک اتر جائے۔وہ خوش نصیب جو اس کے حامل ہوں گے ان کی طہارتِ قلوب و وجودانہیں باوضو رکھے گی۔
وضوایسی نعمت ہے کہ وضو کرنے والے کے اعضاء سے گرنے والے پانی کا آخری قطرہ اس عضو کے آخری گناہ کو لے کر گرتا ہے اور اس کی برکت سے گناہ معاف ہونے کے علاوہ انسان بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر پہلے سے با وضو شخص اگلی عبادت کے لئے تازہ وضو کرے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وضو کے مقررہ ثواب سے زیادہ اجر سے نوازا جاتا ہے۔سخت سردی میں کامل وضو کرنے والے کودگنا ثواب ملتا ہے۔ ہمیشہ باوضو رہنے والا انسان آفات،مصائب،بلیات، جادو،نحوست اور دیگر بُرے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔حالت ِوضو میں آنے والی موت، شہادت کا ثواب عطا کرتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انابت ِالٰہی عطا کرتا ہے کہ حا لت ِپاکیزگی کامتوجہ الی اللہ ہونے میں بہت دخل ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
 وَیَہْدِیْٓ اِِلَیْہِ مَنْ یُّنِیْب(الشوریٰ: ۳۱)
”جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنا راستہ دکھاتا ہے۔“
بندہئ مومن کے لیے یہی مقصدِ حیات ہے اور یہی ابدی فلاح۔

روزہ

الصوم لی وانا اجزی بہ  ’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘
لفظ ”میرا“ کسی چیز میں کسی دوسرے کی،کسی بھی طور شرا کت کی نفی کرتا ہے۔جس طرح ”میں“ سے مراد اس لفظ کو ادا کرنے والی ایک ہی ذات ہو تی ہے اسی طرح ”میرا“کہنے والا بھی دراصل بلا شرکت ِغیر ے کسی چیز کے مالک ہو نے کا دعویدار ہو تا ہے او ر ملکیت کی قدر و قیمت مالک کی حیثیت، شان،رتبہ اور مقام کے مطابق ہو تی ہے۔یوں تو تمام عبادات ہی اللہ رب العزت کے لیے ہیں لیکن ان میں سے ایک عبادت کو چُن کر اس کے لیے ”لی“   ’میرے لیے ہے‘   فرمانا، درحقیقت اس عمل کی حیثیت و اہمیت کو اُجا گر کرتا ہے۔ بھو ک اورپیاس کی تنگی میں،استعداد رکھتے ہو ئے بھی خود کو کھا نے پینے سے روک لیناجبکہ کو ئی نگران بھی مقرر نہ ہو،دراصل وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ پہ ایمان کی پختگی کو ظا ہر کرتا ہے، رب ِ کا ئنات کے حاضر اور نا ظرہو نے کی شان کو قلب کی گہرا ئیوں میں را سخ کرتا ہے۔
حیاتِ انسانی کا ہر لمحہ اطا عت ِالٰہی پہ کا ر بند رہنے کا متقا ضی ہے اور یہی مقصد ِحیات بھی ہے۔ جسے پا نے کے لیے اللہ کریم نے ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیا ئے کرام علیہم السلام مبعوث فرما ئے۔ضا بطہئ حیات وضع کرنے کے لیے تعلیمات ِرسالت اور ان تعلیمات کو قلب کی گہرا ئی سے ماننے کے لیے تطہیرقلب کی خاطربرکاتِ رسالت کے دریا بہا دیے جو تا قیا مت جاری و ساری رہیں گے۔اس سب کے بعد بھی بندہ ئمومن کو اطاعت ِالٰہی پہ گامزن رہنے کی خصوصی تربیت کا اہتمام فرما تے ہو ئے ایک ایسا مہینہ مقرر فرما دیا جو مہینوں کا سردا ر ہے۔جس میں اُس کے ازلی دشمن ’شیطان‘کو زنجیروں میں جکڑ دیا اور عبا دت ایسی مقررفر مادی جسے نبی اکرم  ﷺنے الصوم جنۃ ’روزہ ڈھال ہے‘فرمایا۔
حالت ِروزہ میں مخصوص وقت تک کے لیے محض کھانے پینے ہی سے نہیں روکا بلکہ نفس ِامارہ کی    خوا ہشات پہ بھی خود کو روک لینے کا حکم فرمادیاکہ اس کی غرض و غا یت ہی لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَہے۔پھر خصوصی انعامات کی بارش برسا دی،برکات کے خزا نے لٹا دیے۔ایک نیکی کا ثواب عام دنوں سے دس گنا بڑھا دیا۔پہلا عشرہ رحمت،دوسرا مغفرت اور تیسرا نارِجہنم سے نجات کا بنا دیا۔ایمان و احتساب سے روزہ رکھنے والے کوغفرلہ ما تقدم من ذنبہ ’اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے‘ کی نوید سنا دی۔
  قارئین ِکرام! ہماری رشد و ہدایت کے لیے حیات ایک مرتبہ پھر ہمیں رحمت ِباری کے ٹھا ٹھیں مارتے ہوئے سمندر پہ لے آئی ہے۔اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ ہم کنا رِ دریا کھڑے رہتے ہیں یا اس کی   پنہا ئیوں میں غو طہ زن ہو کر قلب و روح کو یوں سیراب کرتے ہیں کہ کم از کم اگلے سال تک کے لیے اس سیلابِ رحمت کے ہلکورے پندارِ روح سے اعضا و جوارح تک محسوس ہو تے رہیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حضو رِ حق کی وہ کیفیت جو ہر روزہ دار کو کلی کرتے وقت بھی،گلے میں تراوٹ نہ ہو نے پا ئے، کی حفا ظت کروا تی ہے، ہماری پو ری حیات پہ محیط ہو جا ئے اورفَاِنِّیْ قَرِیْبٌ  کی صدا، ہر ہر عمل پہ قلب میں گو نجتی رہے۔

تحریک

فَاَ قِمْ وَجْھَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا۔۔۔۔۔ [الروم 30:30] ’’تو تم ایک طرف کے (یکسو)ہو کر دین پر سیدھارخ کیے چلے جاؤ۔اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے لو گوں کو پیدا فرمایا ہے (اختیار کیے رہو)۔‘‘ انسان اشرف المخلو قات ہے اور رب العالمین کی ذات خالق۔تخلیق اس صورت میں احسن اور کار آمد ہوتی ہے جب خالق کے بتا ئے ہو ئے انداز و ترتیب سے استعمال کی جا ئے۔اللہ کریم نے اپنی اس سب سے اشرف مخلوق کے لیے جو طرز ِحیات چنا وہ اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔دنیا میں انسان کے اپنے بنائے ہو ئے قوا نین خواہ انہیں چوٹی کے دانشوروں نے مرتب کیا ہو،اپنے اندر کو ئی نہ کو ئی سقم ضرور رکھتے ہیں۔اسی لیے ان کی تنفیذ کی عمر بھی محدود رہی ہے۔ وا حد طرزِ حیات جو ہر دور،ہر زمانہ میں یکساں طور پر قا بل عمل ہی نہیں مستحسن بھی رہا وہ محمد رسول اللہﷺ کے لا ئے ہو ئے دین حنیف کا عطاکردہ ہے۔کہیں بھی،کبھی بھی،کسی بھی پہلو سے جا ئز ہ لے کر دیکھ لیں حتمی اور مستحکم حیثیت ارشادت محمد رسول اللہﷺ کی ہو گی۔دنیا کے جس خطے میں بھی اصول حیات،ارشاداتِ نبوی سے لیے گئے وہاں مخلوق خدا بھلا ئی حا صل کر رہی ہے۔ یہ دین ِاسلام ہی ہے جو تمام فطری تقا ضوں کو پو را کرتا ہے۔شاہ ہو یا گدا،امیر ہو یا غریب،صحتمند ہو یا مریض،کمزور ہو یا طا قتور، حاکم ہو یا ماتحت ہر ایک کی ایسی حدود و قیود مقرر فرماتا ہے کہ زندگی عین حق کے مطابق بسر ہوتی ہے کہ یہی طرز ِحیات سہل بھی ہے اور باعث تسکین بھی۔ قا رئین کرام! ہم بحمد للہ مسلمان ہیں۔اسلام ہمیں ورثے میں ملا ہے۔یہ نعمت بھی بغیر کسی تگ و دو کے عطا فرما دی گئی۔اب بات اس نعمت کی قدر کی ہے۔ہمیں دین ِاسلام سے آشنا ئی تو ہو ئی لیکن ہمارا دل یقین کی کس منزل پر ہے؟اس بات کی شہا دت صرف ہمارا عمل دے سکتا ہے۔ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً۔۔۔[البقرۃ 2:208] کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ سے لے کر عمل تک دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے۔ بات اٰمَنُوْا سے شروع ہو کر عَمِلُوا الصّٰلِحٰت تک آئے تو ہُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ تک جا تی ہے۔انفرادی سوچ و عمل کی تبدیلی ہی معا شرتی تبدیلی میں ڈھلتی ہے۔قو میں افراد سے بنتی ہیں۔اگر ہر شخص اٰمَنُوْا سے عَمِلُوا الصّٰلِحٰت تک کے سفر پہ گامزن ہو جائے تو بلا شبہ قوم فلاح کی منزل کو پا لیتی ہے۔ وطن،خطہ ارض کا نام ہے اس کی تعمیر و ترقی اس میں بسنے والے افراد کے ہا تھوں ہو تی ہے۔یہ مارچ کا مہینہ ہے۔قریبا ًاسّی (۸۰)سال پہلے اس ماہ میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جو قراردادِ لاہور سے قرار دادِ پاکستان کے نام سے موسو م ہو ئی۔یہ اس خطۂ زمین کے لیے تھی جس کے نام کا مطلب لا الہ الا اللہ سمجھا گیا جس کے حصول کے لیے لاکھوں جانیں قربا ن ہو ئیں،ہزاروں عصمتیں تا رتار ہو ئیں،سینکڑوں وجود معذور ہو ئے۔نجانے کتنے گھر لٹے،کتنے جلے اور کتنے بکھر کر رہ گئے۔ہمیں تو ان جانثا روں کے نام بھی معلوم نہ ہو سکے کہ وہ تعداد میں بھی ان گنت و بے شمار تھے اور تشہیرکی خواہش سے بھی بہت با لا تر۔ یہ انہیںشہیدوں کا احسان ہے کہ آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ہمیں تو شا ید ان کے لیے کبھی فاتحہ پڑھنا بھی یاد نہیں آیا لیکن روزِ محشر وہ یہ گلہ تو شاید ہم سے نہ کریں ہاں اس بات پہ ہمارا گریبان ضرور پکڑیں گے کہ ان کے لہو اور کٹے ہو ئے وجودوں پہ تعمیر اس قلعہ کی حفا ظت،استحکام اور ترقی سے ہم نے غفلت کیوں برتی؟ منزل بھی متعین ہے اور نشانِ منزل بھی موجود۔راستہ بھی وا ضح ہے اور را ہبر بھی را ہبر کامل ﷺ کہ ہا تھوں میں الکتاب بھی ہے اور سنت خیر الانامﷺ بھی۔ ضرورت ہے تو فقط ادراک اور تحریک عمل کی۔


سال نو

’سالِ نو‘ فارسی زبان کا لفظ ہے جس سے مُراد نیا سال ہے۔ ایک سال کے اختتام پہ آنے والا اگلا سال۔حیاتِ انسانی میں انضباط کے لیے تقسیمِ اوقات لازم تھی اور اللہ کریم نے آدم ؑ کے زمین پر اترنے سے پہلے ہی اس کا اہتمام فرما دیا۔ 
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْاٰیٰت لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ [یونس10:5]
”وہی اللہ تو ہے جس نے سورج کو روشن کیا اور چاند کو نورانی (چمکنے والا) بنایا اور اُس (کی چال) کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کر سکو۔اللہ نے اِن سب کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے یہ دلائل عقل مندوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں۔“
تاریخِ انسانی میں برسوں کا شمار بھی اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ خود یہ تاریخ۔ابتداً یہ شمار پھلوں اور پھولوں کے موسموں سے ہوا۔ باقاعدہ کھیتی باڑی شروع ہوئی تو فصلوں کے پکنے سے کیا جانے لگا۔حضرت ادریس ؑ، اللہ کے تیسرے نبی، نے سال کو مہینوں میں تقسیم کیا۔ ان ہی کی قوم، بابل، نے شب و روز کی تقسیم گھنٹوں میں کی بعد میں تقسیم در تقسیم کا یہ عمل منٹوں کو سکینڈز تک لے گیا۔ تاریخِ عالم کا مطالعہ دنیا میں کم و بیش پندرہ تقاویم(Calendars)کا پتہ دیتا ہے۔ جن میں وقت کے ساتھ مناسب ترامیم ہوتی رہیں۔ مو?رخین کے مطابق ان کا اجرا عموماً تین بنیادوں پہ عمل میں آیا۔ چاند کی گردش کو بنیاد بنانے پہ قمری، سورج کو معیار بنانے پہ شمسی اور ستاروں کی بنیاد پہ رائج ہونے والا نجومی کہلایا۔ شمسی اور قمری مہینوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شمسی مہینوں کی نسبت قمری مہینوں میں موسم بدلتا رہتا ہے۔ اس اختلاف کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عبادات کو قمری مہینوں میں متعین فرما دیا۔ ورنہ اگر دنیوی امور کا حساب کتاب، دفتری اوقات کو شمسی مہینوں کے مطابق رکھ لیا جائے تو جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا۔۔۔[یونس10:5]کے مطابق یہ غلط نہیں ہے
وقت ایک ایسی چیز ہے جسے ناپا نہیں جا سکتا۔ تحقیق Nano Second(ایک سیکنڈ کا ایک ارب واں حصہ) سےPlank time(روشنی کے اپنے ممکنہ حد تک قریب ترین حصے تک پہنچنے کی رفتار) تک پہنچ کر بھی حتمی قرار نہیں پائی۔ اسی طرح وقت کی طوالت کی بھی کوئی حد نہیں۔قرآن پاک میں گناہگاروں کے دوزخ میں ٹھرائے جانے کے بارے ارشاد ہے: لّٰبِثِیْنَ فِیْہَآ اَحْقَابًا [النبا78:23]”اس میں وہ مدتوں پڑیں رہیں گے“یعنی وہ کئی حقبوں تک دوزخ میں رہیں گے۔حضرت علی ؓ کی ایک روایت کے مطابق ایک حقبہ دو کروڑ اٹھاسی لاکھ سال کا بنتا ہے اور کئی حقبوں تک رہنے کے ضمن میں حقبوں کی تعداد رقم نہیں گویا وقت کی طوالت کی پیمائش بھی ممکن نہیں۔
قارئینِ کرام! بات گھڑی پل کی ہو یا سالوں صدیوں کی، لحظہ کی ہو یا حقبوں کی، بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس وقت میں کیا کھویا؟ کیا پایا؟ اس دارالعمل کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس کے ایک ایک پل پہ اخروی حیات کی جزا و سزاکا انحصار ہے۔ اللہ رب العزت نے موت کے وقت کو انسان سے مخفی رکھ کے اِسے مزید بیش قیمت بنا دیا ہے۔اِس وقت، اِس حیات میں ہمیں جو وقت میسر ہے اگر ہم اس کی قدر و قیمت کا احساس کر لیں تو یہ احساس ہمیں نہ صرف نیکی پر ابھارے گا بلکہ ہمارے ایک ایک عمل کو مزید نکھارے گا۔ جنہیں اس دارالعمل میں ملنے والے وقت کی اہمیت کا اندازہ ہوا انہوں نے لمبی زندگی کی دعائیں مانگیں کہ اس دنیا میں روح، بدن کی مکلف ہے اور یہی ہیں وہ قیمتی لمحات جن میں کی جانے والی عبادت و ریاضت انہیں قربِ الٰہی سے نواز سکتی ہے لہٰذا اس حیاتِ مستعار کا گزرجانے والا سال، پورے ۳۶۵ دن ختم ہونے پہ ضرورت جشن منانے کی نہیں، خود احتسابی کی ہے کہ ہم نے حیاتِ جاوداں کے لیے کیا پایا؟ کیا جمع کیا؟ نبی? اکرمﷺ کے سامنے کھلنے والے نامہ? اعمال میں کیا لکھوایا؟ ہمارے قدم جنت __ جو دیدارِ باری کی جگہ ہے، اللہ کا انعام ہے، سردارِ انبیا ء ﷺ، رسل و انبیاء  ؑ، صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین، شہدا، صوفیا، اولیا ء اللہ کی ابدی رہائش گاہ ہے __ کی طرف بڑھے یا خدانخواستہ! خدانخواستہ!! اُس بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف جو دن میں ستر مرتبہ خود سے پناہ مانگتی ہے؟
عمرِ رواں، سیلِ رواں کی طرح بڑھتی جارہی ہے، گزرتی جا رہی ہے۔ یہ کہاں ٹھہر جائے! کوئی نہیں جانتا۔ گزرتا وقت تو اپنے ہر ہر سیکنڈ پہ دستک دیتے ہوئے تنبیہہ کیے جارہا ہے ضرورت اِس پہ کان دھرنے کی ہے۔
غافل تجھے گھڑیال دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی

"میرے حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ"

لفظ "حضرت " یوں تو تعظیم کے طور پہ استمعال ہوتا ہے لیکن تصوف کی رو سے دیکھا جائے تو اِس سے طالب کو مطلوب تک رسائی دینے والی ہستی مراد لی جاتی ہے۔اللّه کریم کا احسان ہے کہ اُس کی ذات نے مجھ جیسے گنہگار کو یہ رشتہ قاسمِ فیوضات حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان رح کے ساتھ عطا فرمایا۔ یہ کیسا عجیب رشتہ ہے کہ جو نازک تر بھی ہے اور مضبوط ترین بھی۔ محترم قارئینِ کرام! حضرت جی رح کو ذاتِ باری کا جو خاص کرم اور بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی جو خصوصی شفقت حاصل تھی اِس کا بیان محال ہے۔

اُن کا کرم پھر اُن کا کرم ہے
اُن کے کرم کی بات نہ پوچھو

دنیا کے تکوینی امور میں اولیاء اللّه کا اپنا کردار ہے اور حضرت جی رح بحمدللہ حیاتِ مبارکہ کے مختلف ادوار میں مختلف مناصب سے نوازے گئے۔ کافی عرصہ تک آپ رح قطب مدار کے منصب پہ فائز رہے۔ 1977ء میں غوث کا منصب عطا ہوا۔ اپنے شیخ کے وصال، 1984ء میں آپ رح قطبِ وحدت کے منصب پر تھے۔ پھر صدیق اور دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت آپ رح عبدیت جیسے منصب پہ فائز تھے جو مناصبِ ولایت میں سب سے بڑا منصب ہے۔

یہاں اگر میں اِن اوصاف کا تذکرہ بھی کروں جہاں تک ایک عام نگاہ بھی جا سکتی ہے تو بھی میرے اللّه نے اُنھیں نہایت خوبصورت بنایا۔ من جانبِ اللّه انسانی خوبیوں کے دو ایسے متضاد پہلوؤں کے کمال پہ تھے جو اپنی اپنی جگہ لائقِ تحسین ہے۔ اُن میں بلند حوصلگی ایسے تھی کہ بڑے سے بڑے طوفان کے مقابل ڈٹ کے اُس کا رُخ موڑنے کی جرات رکھتے تھے اور دوسری طرف احساسات میں نزاکت ایسی کہ کسی کی معمولی تکلیف بھی اِنہیں بے چین کر دیتی۔

جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ھو وہ شبنم
دریاؤں کے دِل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

مزاج میں سختی ایسی کہ کوئی بات، کوئی چیز یا کوئی شخص اُنھیں اُن کے اصول و ضوابط سے منحرف نہیں کر سکتا تھا اور نرمی ایسی کہ مظلوم کی آہ اُنہیں چشم تر کر دیتی۔ دراصل اُن کی سختی میں جبر نہ تھا اور نرمی میں بزدلی نہ تھی۔ وہ انسانی جذبات و احساسات کو اِس طرح سمجھتے تھے گویا مخاطب کو وہ خود اُس سے بڑھ کے جانتے ہوں۔ میں نے اُنھیں کسی کی تکلیف بیان کرتے ہوۓ اکثر یوں بھی بچشمِ نم دیکھا کہ اُنھیں بارہا آنکھیں صاف کرنا پڑیں۔ اُنھیں کچھ زیادہ ناگوار گزرتا تو غصہ سے ڈانٹ لیکن شدید غصے میں وہ بلکل خاموش ھو جاتے۔ مزاج میں مروت ایسی تھی کہ بہت سی ناپسندیدہ باتیں نظر انداز کر جاتے لیکن دینِ حق کی بات ہوتی تو چھوٹے سے چھوٹے نقطے پہ بھی ٹوک دیتے۔ وہ ہر شخص اُس کی ذہنی سطح اور قلبی کیفیت کے مطابق سنتے، سمجھتے اور بات فرماتے۔ یہی چیز اُن کی تقریر میں بھی تھی اور تحریر میں بھی۔ اُن کی تقریر و تحریر میں یہ خوبی و حسن تھا کہ ایک عالِم اُس سے اپنی ذہنی استعداد کے مطابق فیض یاب ہوتا اور ایک آدمی اپنی حیثیت کے مطابق سمجھتا۔ تعلیمی قابلیت کا تضاد ھو یا طبقاتی فرق، ذہنی استعداد کا اختلاف ھو یا روحانی پختگی کے مدارج، ہر شخص مستفید ہو رہا تھا۔
وہ انتہائی دانا اور نہایت سادہ دل تھے۔ انہوں نے فقیری میں شاہی کی اور شاہی میں فقیری۔ اُن کا رکھ رکھاؤ شاہانہ لیکن مزاج فقیرانہ تھا۔ اُن کے دستر خوان پہ اعلیٰ انواع کے کھانے چُن دیے جاتے وہ تو بھی خوش رہتے۔ اپنی مشاہداتی قوت میں بھی وہ عجیب تضاد رکھتے تھے۔ مخاطب کے لباس کا رنگ اُنھیں یاد نہ ہوتا لیکن اُس کے ظاہر و باطن کے عیب و ہنر اُن پہ خوب آشکارا ہوتے۔

کلامِ ذاتِ باری تعالیٰ میں اُن کی شرح صدر ایک کرامت تھی۔ اگر ایک ہی آیہ مبارکہ کی چار مرتبہ تشریح فرماتے تو چاروں دفعہ اُن کا بیان اِس آیہ مبارکہ کے چار پہلو کھول کے سامنے رکھ دیتا۔ اِسی لیے اُن کی تینوں تفاسیر اسرار التنزیل ، اکرم التفاسیر، رب دیاں گلاں میں یکسانیت یا تکرار نہیں ملتی۔ اُن کا باطن ہی نہیں اُن کا ظاہر بھی حُسنِ بے مثال کا حامل تھا۔ قد، جسامت، رنگت ، اعضاء و جوارح کا تناسب، ہاتھ پیر غرض وہ پورے کے پورے مجسم نمونہ حسن تھے۔ ہاں ایک چیز ایسی تھی اُن کی نگاہ! کسی میں اُن سے نظر ملا کر بات کرنے کا یارا نہ تھا۔

قارئینِ کرام! الحمداللہ! میری حیات میں بہت سے عزیز از جان چہرے ہیں لیکن فقط ایک ہی چہرہ تھا جو خود میرے لئے جینے کا جواز تھا۔ میری صبح، میری شام اُسی رُخِ انوار سے طلوع و غروب ہوتی تھی۔ میری نگاہ اُن کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتی اور اُن کی ہر رضا میرے لیے مقصودِ حیات تھی۔ میری زندگی کا ہر فیصلہ اُن کی اجازت بلکے اُن کی خوشی پہ منحصر ہوتا۔ ہر کوشش، ہر جہد اور ہر کام اُن کی خاطر تھا۔ اُن ہی کے لیے تھا۔ گویا میرا ہونا، اُن کے ہونے سے مشروط تھا۔ میں ، میں نہیں رہا تھا، آپ ہو چکا تھا۔ اور آج ۔۔۔۔۔۔اُن کے پردہ فرمانے پہ زندگی کا جواز وہی امانت ہے جس کا بار وہ میرے سپرد فرما گئے ہیں۔ ورنہ میری زندگی کا اعلیٰ ترین دور گزر گیا۔ اِس ثانوی دور کی اہمیت بھی فقط اُن کے حکم کی تعمیل کی طلب کے دم سے ہے۔ آج بھی میری تمام تر کوششیں اِس عظیم امانت کا نہایت احسن طریقے سے قرض لوٹانے کے لئے ہیں۔ اللّه کریم مجھے اِس میں سرخرو فرمائیں۔آمین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلسلہ عالیہ کے احباب عزیز تو پہلے بھی تھے مگر اب عزیز تر ہیں کہ میرے حضرت جی رح کی امانت ہیں۔ سلسلہ عالیہ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار تو میں کل بھی تھا مگر آج یہ جذبہ شدید تر ہے کہ میرے حضرت جی رح کی امانت ہے۔ یہ شب و روز کی ریاضتیں، اہمیت تو کل بھی رکھتی تھیں مگر اب تو میرا مقصدِ حیات ہیں کہ میرے حضرت جی رح جو ذمہ داری سونپ گئے ہیں اُسے نبھانا ہی نہیں، احسن طریقے سے نبھانا ہے۔

گویا میری زندگی کا محور پہلے بھی اور آج بھی وہی ہے میرے حضرت جی رح !!

حیف در چشمِ زدن صحبتِ یار آخر شُد
روئے گل سیر ندیدم وبہار آخر شد


صحبت شیخ 2

Sohbat Sheikh 2 - 1

صحبت شیخ

Sohbat-e-Sheikh - 1
Sohbat-e-Sheikh - 2

درماں

Darmaan - 1
Darmaan - 2

ایثار

Esaar - 1

خندق

Khanddaq - 1