Latest Editorials


دعا


 وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ ]البقرۃ2:186[
”اورجب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پو چھیں تومیں قریب ہوں اور قبول کرتا ہوں پکا رنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے مانگے پس چا ہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لا ئیں تا کہ وہ ہدا یت  پا ئیں۔“
لفظ دعا کے معنی مانگنا،التجا کرنا،بہتری کی خوا ہش اور مراد کے ہیں۔کسی کو کچھ سنا نے کے لیے پکا رنا بھی دعا کہلا تا ہے جیسا کہ سورہئ النمل میں ہے: وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ]النمل27:80[ ”اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں۔“
اصطلاحاً دعا کے معنی اللہ تعا لیٰ سے مانگنے کے ہیں۔دعا ایک درخواست ہے،وسیلہ ہے،پکار ہے اور احساس کم ما ئیگی،بے اختیا ری،بے کسی و لا چا ری ہے۔انسان کا مقصد ِحیات معرفت ِالٰہی ہے،معرفت ِالٰہی کا تقا ضا عبا دتِ الٰہی اور عبا دتِ الٰہی کا حاصل قربِ الٰہی ہے۔حیا ت کی ابدیت اور مقصد ِحیا ت کی عظمت،قربِ ذات باری تعالیٰ ہے اور اسے پا نے کے لیے اس رحمن و رحیم نے اپنے بندوں کو ایک خو بصورت ذریعہ عطا فرما دیا کو ئی،کہیں سے بھی اور کبھی بھی اسے پکا ر سکتا ہے۔اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ]ابرٰھیم14:39[(بے شک میرا پروردگا ر دعا کو بہت سننے والا ہے)لفظ رب کا مطلب ہی ہر ضرورت مندکی،ہر ضرورت، ہر وقت اورہر جگہ پوری کرنے والا ہے۔
قا رئینِ کرام!ما نگا اس سے جا تا ہے جس پہ یقین ہو کہ وہی دے سکتا ہے۔پکا را اسے جا تا ہے جس پہ اعتبار ہو کہ وہ سن رہا ہے اور ذاتِ با ری پہ یہی ایمان عقیدہ اسلام کی بنیا د ہے لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ      ]الرعد13:14[(اسی کے لیے پکا رنا سچا ہے)یہی ایقان آرزوؤں کو الفاظ کے روپ میں ڈھا لتا اور      خوا ہشوں کو زبا ن دیتا ہے۔
عبا دات کی روح اللہ بزرگ و برتر کی کبر یا ئی پہ ایمان اور اپنی کم مائیگی ولاچاری کا اظہا ر ہے اور یہی احساس دعا کا جزو کل ہے۔ حدیث ِپا ک ہے: 
الدعاء ھوالعبادۃ(سنن الترمذی)(دعاعین عبادت ہے)
اپنی حاجا ت کے لیے ہی سہی لیکن اس رحیم و کریم کو بندے کا اپنی طرف رجوع کرنا اتنا پسند ہے کہ  حضرت ابو ہریرۃ  ؓسے مروی حدیث ِپا ک ہے:
لیس شیء اکرم علی اللہ تعالی من الدعاء(سنن الترمذی)(اللہ کے نزدیک کو ئی چیز،کو ئی عمل دعا سے زیا دہ عزیز نہیں) بلکہ حضرت ابو ہریرہ  ؓ ہی نبی کریم  ﷺ کا یہ فرمان بھی روایت کرتے ہیں کہ:من لم یسال اللہ یغضب علیہ(سنن الترمذی)(جو اللہ سے سوال نہ کرے اللہ اس سے    نا راض ہو تا ہے)یہ شان ِکریمی و ادائے رحیمی کہیں اور کہا ں مل سکتی ہے۔
                ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے   ان کے کرم کی بات نہ پو چھو
رحمت ِباری جہاں بندے کے مانگنے پہ متوجہ ہونے کو تیار ہے وہاں بندے کو اسلوب و اصولِ دعا تک تعلیم فرما ئے گئے ہیں۔قرآن مجید و فرقان حمید کی پہلی سورہئ فا تحہ پو ری کی پو ری آداب ِدعا کی تربیت دے رہی ہے کہ اپنے مالک سے مخا طب ہو نے سے پہلے بندہ اس ایمان کے سا تھ اس کی حمد و ثنا بیا ن کرے کہ تمام تر تعریفیں فقط اسی ذات کو سزا وار ہیں۔وہی رب اور پا لنہا ر ہے اس کی رحمت ِبے پا یا ں پہ کا مل یقین کے سا تھ اس سے مانگے کہ بلا شبہ رحمت ِحق بہانہ می جو ید (اللہ کی رحمت بہانے تلاش کرتی ہے)۔یہ سورہئ مبا رکہ یہ بھی سمجھا رہی ہے کہ بندہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی طلب راہِ ہدا یت پہ چلنا ہو نی     چا ہیے کہ اس کے بغیر دنیا و ما فہیا بے معنی ہے۔
قا رئین ِکرام! اس سے بڑھ کر خیر خوا ہی کیا ہو گی کہ رب العالمین اپنے بندوں کو دعا کے لیے الفا ظ تک عطافرما دے۔قرآ ن پا ک کھو ل کردیکھیے ہر حاجت،ہر ضرورت،ہر احتیا ج کے لیے دعا مو جو د ہے۔ الفاظ اللہ کریم کے ہیں اور زبا ن اس کے اخص الخواص بندوں کی۔ہمیں فقط قلوب میں خلوص پیدا کرنے کی ضرورت ہے یا کم از کم پو ری توجہ،پو رے درد سے مانگنے کی کہ حدیث ِپا ک ہے: ان اللہ لا یستجیب دعاء من قلب غافل لاہ(سنن الترمذی)(اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل (دعا کے وقت)اللہ سے غا فل او ر بے پرواہ ہو)
قا رئین ِکرام! دعا کی طا قت کا اندا زہ ہم نہیں لگاسکتے نبی کریم  ﷺ کا فرما ن ہے:الدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل فعلیکم عباد اللہ بالدعاء(المستدرک)(دعا نازل شدہ مصیبت،اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے،تو اے اللہ کے بندو! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو)
ایک ایسی ہستی جو ستر ما ؤ ں سے بڑ ھ کر محبت کرتی ہو،جسے پھیلے ہو ئے ہا تھوں کی حیا ہو،جو خود پکا رتی ہو من یدعونی فاستجیب لہ...(صحیح البخاری)(کون ہے جومجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں)،اس کے سا منے پھیلے ہو ئے دامن کیو نکر خالی لو ٹا ئے جا سکتے ہیں۔وہ تو نہاں خانہئ دل میں نمو پا نے وا لی آرزؤوں تک سے وا قف ہے۔حضرت قا سم فیوضاتؒ فرمایا کرتے تھے ’خوا ہش بذات ِخود دعا ہو تی ہے،با ت تو یہ ہے کہ کو ئی مانگنے وا لا بھی ہو ہم تو مائل بہ کرم ہیں کو ئی سا ئل بھی تو ہو۔
اس سے مانگیے اور دل کھو ل کر مانگیے کہ مانگنا اسے محبوب ہے لیکن تین باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہیں۔ ہمیشہ حدود ِشریعی کے اندر رہ کر دعا مانگنا چاہیے۔بلا شبہ وہ بڑا کریم ہے لیکن وہ بہت غیور بھی ہے۔دوسرا دعا ایک استدعا ہوتی ہے،حکم ہر گز نہیں اور تیسرا اس کی قبولیت کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ عطا کا بہترین وقت وہ مسبب الاسباب بہتر جانتا ہے۔حدیث ِپاک ہے:
لا یزال العبد بخیرما لم یستعجل.....الخ(مسنداحمد)(بندے کی ہمیشہ خیر اور بھلائی ہے، جب تک کہ وہ جلد بازی نہیں کرتا۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بندہ جلد بازی کس طرح کرتا ہے؟ آپ  ﷺ نے فرمایا جب وہ کہتا ہے کہ میں نے رب سے بہت دعا مانگی،لیکن میری دعا اس نے قبول نہیں کی)
اللہ کریم ہمیں اپنے لیے، اپنو ں کے لیے بھلائی و عا فیت ما نگنے کی تو فیق عطا فرما ئے اور اس خلوص سے    نوا زے جو اس کی با رگا ہ میں درجہ ئ  قبو لیت رکھتا ہو۔




Dua - 1
Dua - 2

الاانسان

Al-Insaan - 1
Al-Insaan - 2

فاذ کرونی

Fazkorooni - 1
Fazkorooni - 2

سالانہ اجتماع

Salana Ijtima - 1
Salana Ijtima - 2

حاصل رمضان

Hasil-e-Ramzan - 1
Hasil-e-Ramzan - 2

اعتکاف

Aitkaaf - 1
Aitkaaf - 2

اولاد


 وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا (الفرقان:74)
”اے ہمارے پروردگار! ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک (راحت) عطا فرمائیے اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا بنا دیجیے۔“
اولاد  عر بی اور اردو زبان کا لفظ اور صیغہ تانیث ہے۔یہ وَلد کی جمع ہے جس سے مُراد بچے، بیٹا بیٹی، آل اور نسل کے ہیں۔
روئے زمین پہ اترنے کے بعد انسان سب سے پہلے جس خوبصورت رشتے سے نوازا گیا وہ اولاد کا رشتہ ہے۔اس رشتے کا دلچسپ پہلو یہ تھاکہ اس میں ایک نے دوسرے کی حفاظت، پرورش اور تربیت کرنا تھی۔ اپنے شعور و آگہی کو اس میں منتقل کرنا تھا۔موسم ہی نہیں زمانہ کے سردو گرم سے بچانے اور اس سے نپٹنے کا اہل بنانا تھا۔فقط یہی نہیں اُسے،اُس کے خالقِ حقیقی سے آشنا کرانا تھا۔مقصدِ تخلیق سمجھانا اور اس پہ پورا اُترنے کے قابل بنانا تھا۔یہ تما م تر مراحل ایسے تھے کہ جس کے لیے محنت اور سعیئ مسلسل ہی نہیں لگن بھی ضروری تھی جس کے لیے شدید ترین وابستگی اور جذبہئ محبت کا ہوناناگزیر تھا۔اُس خالقِ کائنات نے،رب العالمین نے تخلیقی طور پر ہی قلب ِانسانی کو اس سے معمور فرما دیا۔یوں بھی یہ ایسا خوبصورت رشتہ عطا فرما یا کہ شعوری اور غیر شعوری طور پر دنیوی حیات اس کے گرد سرگرداں رہتی ہے۔انسان اولاد کو پیدائش سے جوانی تک پروان چڑھاتا ہے اور اُسے دیکھ دیکھ کر تگ و دو کرنے کی تحریک پاتا رہتا ہے۔
رشتوں، بندھنوں، تعلقات و واسطوں کے لیے بِلا شبہ محبت، حیاتِ انسانی میں انتہائی اہم اور لازمی جذبہ ہے لیکن یہاں اس سے بھی اہم اور لازمی بات یہ ہے کہ خالق و مخلوق کا رشتہ ہر رشتے پہ مقدم ہو اور سب محبتوں پہ اللہ کریم سے محبت غالب ہو کہ یہی خاصہئ ایما ن ہے
وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ (البقرۃ:165)”اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ اللہ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔“
جذبہئ ایمانی کی معراج پہ سرفراز ہونے والی ہستیاں انبیاء علیھم السلام ہیں۔اسی جذبہئ ایمانی، حب ِالٰہی اور استقامت فی الدین کونسلِ انسانی میں فروغ دینے اور تاقیامت قائم رکھنے کے لیے انبیاء کرام علیھم السلا م نے بھی صالح اولاد کی دعائیں مانگیں۔ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا ہی یہ ہے کہ:
  رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا ”اے میرے پروردگار! مجھے اکیلا نہ رکھیو“   وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْن(الانبیآء:89) ”اور آپ سب سے بہتر وارث ہیں۔“آپ علیہ السلام نے تبلیغ، فروغِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ سے اولاد کی دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ ”توہم نے ان کی دعا قبول فرمائی“ و َ وَھَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی(الانبیآء:90) ”اور ان کو یحییٰ(علیہ السلام) بخشے۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت کے بعد عمرِ مبارک کافی گزر چکی تھی جب دعا فرمائی  رَبِِِِِِِِِِّ ہَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ  
(الصفٰت: 100)”اے میرے پروردگار مجھے ایک نیک فرزند عطا فرما۔“ اور اس کے نتیجہ میں اللہ کریم نے اسمٰعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔اُنھیں کے ساتھ بیت اللہ کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے آپؑ نے دعا فرمائی: رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَّ------- (البقرۃ:128)
ّّ”اے ہمارے پروردگار! اور ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا ئیے اور ہماری اولاد میں ایسی جماعت بنائیے جو آپ کی فرما نبردار ہو...“
حضرت قاسمِ فیوضات رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ اُنھیں کی دعا کااثر ہے کہ ان کے بعد کبھی دنیا سے دین ختم نہیں ہوا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُسی موقع پر مانگی جانے والی دعا تھی:  
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ---- (البقرۃ:129)”اے ہمارے پروردگار!ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجئے (مبعوث فرمائیے)...“ 
اللہ کریم نے عالمین کو رحمۃللعٰلمین سے نواز دیا اور زمین کو آپ  ﷺکے قدوم مبارک چومنے کا شرف حاصل ہوا۔
اللہ کریم نے سورہئ الفرقان میں اپنے خاص بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی دعا یوں بیان فرمائی ہے کہ:
  رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِِمَامًا (الفرقان:74)
بیویوں اور اولاد کوآنکھوں کی ٹھنڈک بنانے سے مُراد  دراصل ان کا قربِ الٰہی میں مدد گار بننا ہے۔
قارئینِ کرام! اولاد انسان کا سرمایہئ حیات ہے،صدقہ جاریہ ہے، امانت ِرب العالمین ہے۔ یہ اُمت ِمحمدیہ  کے گلستان کے ننھے ننھے پودے ہیں جو بچپن میں ہماری آبیاری کے محتاج ہیں۔ یہ ہم پہ ہے کہ انسانیت کی راحت کے لیے انہیں کس حد تک تناور اور چھتناور اشجار بناتے ہیں۔یہ ہماری توجہ، محبت اور راہنمائی کا حق لے کر دنیا میں آتے ہیں۔ہمارے فرائض کا تقاضا ہے کہ انہیں بہترین مسلمان، سچے مومن اور جانثار امتی بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ چھوڑیں۔
حدیث ِ پاک ہے:
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم کل مولود یولد علی الفطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ او یمجسانہ...(صحیح البخاری،باب ما قیل فی اولادالمشرکین)
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ (فطرت)دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے،پھر اس کے والدین اسے یہودی،نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں...“
Aulad - 1
Aulad - 2

رجب

Rajab - 1
Rajab - 2

جمادی الاخری

Jamadi ul Ukhra - 1
Jamadi ul Ukhra - 2

شرح صدر

Sharah Sadr - 1