Latest Editorials


العلم


 یَرفَعِ اللَّہُ الَّذینَ آمَنوا مِنکُم وَالَّذینَ أوتُوا العِلمَ دَرَجاتٍ (المجادلہ:۱۱) 
’’اللہ تم میں ایمان والوں اورجن لوگوںکو علم عطا ہواہَے،کے درجات بلند فرمائیںگے۔‘‘ 
لکھنا،پڑھنا اورجانناعلم کا عمومی مفہوم سمجھا جاتا ہَے۔ حروف،کہ جن کی آوازیں متعین کی جاتی ہیں،سے بننے والے الفاظ کااصل مقصد دراصل وہ پیغام ہوتاہَے جو ان کے ذریعے دیا جاتاہَے۔انسان فطری استعداد کو بروئے کار لا کر  پڑھتا اور سمجھتا ہَے یوں قوموں کے تجربات او ر  ان کے جمع شدہ علوم حاصل کئے اور اگلی نسلوں تک منتقل کئے جاتے ہیں۔
 لیکن قارئینِ کرام! جب تک پڑھے یا سنے جانے والے جملوں کی کیفیات پوری طرح دل میں نہ اتر جائیں وہ ’علم‘  نہیں کہلاتا یہیں سے ’علم‘ ا ور ’خبر‘کی تفریق ہوتی ہَے۔          
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہَے کہ عِلم کے دو حصے ہیں ایک وہ جو دل میں اترتا ہَے اور دوسرا وہ جو زبان تک رہتا ہَے۔ دل میں اترنے والا عِلم نافع ہَے، اللہ کا انعام ہَے اور جو زبان تک رہتا ہَے وہ علم بندے پر اللہ کی حجت ہَے۔ روزِ قیامت وہ بہانہ نہیں کر پائے گا یہی علم اس پر گواہی بن جائے گا کہ تجھے تو علم تھا۔
متقدمین کے مطابق ’العلم‘یعنی پورا علم یہ ہَے کہ علمِ دین اور علمِ دنیا، دونوں ہوں۔ دین کا شعور بھی ہو اور دنیوی علم پہ دسترس بھی ہو۔ دنیوی علوم جنہیں ظاہری علوم بھی کہا جاتا ہَے دماغ کی سلامتی کے محتاج ہیں اور محض بدن کے کام آنے والے علوم ہیں۔ یہاں بھی محض ڈگریوں کا بوجھ علم نہیں کہلائے گا بلکہ علمائے حق کے مطابق اگر دنیوی علوم کی کیفیات بھی دل میں اتر جائیں اور ہر نئی تحقیق، ہر رمزِ کائنات، ہرسلجھتی گتھی، ہرشَے کی اصل عظمتِ باری کا ادراک بخش دے تو حقیقت میں وہ ’علم‘ہَے۔ اسی طرح مال و دولت کے حصول کا طریقہ جاننا اشیاء کا عِلم ہَے اور اس کے انجام سے باخبر ہونا حقیقتِ اشیاء کا علم ہَے۔ جو حقیقتِ اشیاء سے واقف ہَے، عنداللہ وہی عالم ہَے۔
عِلم کی دوسری اور ترتیب میں پہلی قسم، علمِ دین ہَے جوعلمائے حق کے مطابق سراسر معرفتِ الٰہی ہَے۔ انسان پر اللہ کریم کا سب سے بڑا احسان علم القرآن ہَے۔  
خالقِ کائنات سے تعارف،عظمتِ باری کا ادراک، مقامِ رسالت کی پہچان، حقیقتِ حیات سے آشنائی، مقصدِ حیات سے شناسائی، اشیائے دنیا کی بیثباتی، دائمی و ابدی زندگی کا شعور، احتسابِ اعمال کی فکر،اعمالِ بد کا انجام اور اعمالِ صالح پہ نوید کے ساتھ ساتھ ہر خطۂ زمین، ہر شعبۂ زندگی ہر مکتبۂ فکر اورہر طبقۂ حیات سے تعلق رکھنے والوں کے لئے اکمل و جامع ضابطہ حیات ولائحہ عمل۔  
لیکن قارئینِ کرام! صاحبِ عِلم وہی ہوگا جو ان جملوں، ان باتوں کی کیفیات کو پائے گا۔ جِس کے لیے سلامتی ٔ قلب درکار ہَے ورنہ مستشرقین کی مثال ہمارے سامنے ہَے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہَے:  وَتِلکَ الأَمثالُ نَضرِبُہا لِلنّاسِ وَما یَعقِلُہا إِلَّا العالِمُونَ (العنکبوت:43)
’’اورہم ان مثالوں کو لوگوں (کو سمجھانے) کے لئے بیان فرماتے ہیں اوربس علم والے لوگ ہی سمجھتے ہیں۔‘‘
جانے گا وہ، سمجھ وہ پائے گا جس کے پاس دلِ زندہ ہوگا اور جاننے کے اعلیٰ ترین درجے کووہ پائے گا جوقلبِ روشن رکھتا ہوگا اور وہی حقیقت میں ’عالم‘ ہوگا۔
 دلچسپ بات یہ ہَے کہ علومِ باطنی ایسی نعمت ہَے کہ جب یہ عطا ہوتی ہَے تو علومِ ظاہری بھی کھنچے چلے آتے ہیں لیکن علمِ ظاہر میں یہ طاقت نہیں کہ علمِ باطن کو کھینچ لائے۔ذرائع علم کئی ہیں۔ کچھ فطری طور پہ حاصل ہوتے ہیں جو علومِ فطری کہلاتے ہیں۔ کچھ باقاعدہ سیکھناپڑتے ہیں جنہیں اکتسابی علوم کہا جاتا ہَے جِن کا عمومی ذریعہ پڑھنا اور لکھنا ہَے۔ سورۃالعلق میں ارشادِ ربانی ہَے:  الَّذی عَلَّمَ بِالقَلَمِ (العلق: 4) 
’’جِس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘۔ 
اکتسابی علوم وقت، استاد اور استعداد پہ انحصار کرتے ہیں جبکہ حصولِ علم کا ایک اور بہت بڑا ذریعہ علمِ لَدُنّی ہَے۔ یہ علم اللہ کریم کی طرف سے آتا ہَے۔ یہ کسی دنیوی استاد، وقت اورعرصے کا محتاج نہیں۔ بس اللہ کریم نے عطا فرما دیا اور لینے والے کو ملتا چلا گیا۔ اس ذریعہ میں وہ ذاتِ علیم، خوش بخت قلوب میں علوم کے خزانے انڈیل دیتی ہَے اور ایسا ایک لمحہ میں بھی ہو سکتا ہَے۔ سورۃ الکھف کی آیہ مبارکہ 65 میں ہَے: فَوَجَدا عَبدًا مِن عِبادِنا....(الکھف:65) 
’’تو(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جِس کو ہم نے اپنی خاص رحمت دی تھی اور ہم نے اس کو اپنے پاس سے علم بخشا تھا۔‘‘
علمِ لدُنّی سے حاصل ہونے والے خزانے علمِ اکتسابی سے بہت بالاتر ہوتے ہیں۔ اکتسابی علم کا حامل ان رازوں کے بھیدوں کو پا ہی نہیں سکتا جو علمِ لدُنّی سے فیض یاب ہونے والے کو حاصل ہوتے ہیں۔ یہ فہم و ادراک کے وہ پٹ وا کرتا، سوچ کو ایسی گہرائی عطا کرتا اور عقل کوعقلِ سلیم تک یوں لے جاتا ہَے کہ کسی دوسرے کے لئے پانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہَے۔  
الحمدللہ امتِ محمدیہ ﷺ میں علمِ لدنی کے حامل لوگ زیادہ ہیں کیونکہ اس امت پر اللہ کی رحمتیں بھی زیادہ ہیں۔
 عِلم کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہَے کہ پہلی وحی ہی میں بات حصولِ علم کی ہوئی ’اقرا‘،انتقالِ علم کی ہوئی: الَّذی عَلَّمَ بِالقَلَمِ (العلق: 4) گویا تعلیم و تعلم کی ہوئی۔
عِلم صفتِ باری تعالیٰ ہَے وہ علیم ہَے وہ صاحبِ علم لوگوں کوافضلیت بخشتا ہَے۔
 ہَل یَستَوِی الَّذینَ یَعلَمونَ وَالَّذینَ لا یَعلَمونَ (الز مر:9)
’’بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘
حصولِ علم اسے اس قدر محبوب ہَے کہ اس کے لیے اس نے خود دعا تعلیم فرمائی:  وَقُل رَبِّ زِدنی عِلمًا (طہ:114)
’’اے میرے پروردگار!میرا علم بڑھا دیجئے۔‘‘ 
حدیثِ پاک ہَے: ’’میں طالب علم کو مرحبا (خوش آمدید) کہتا ہوں۔ فرشتے طالبِ علم کو اپنے پروں سے سایہ کر دیتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کے او پر پر پھیلائے رہتے ہیں، تا آں کہ وہ آسمان دنیا تک چلے آتے ہیں اپنی محبت کے باعث، ان کے لیے جو علم حاصل کرتے ہیں۔‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی)
نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے:  ’’الکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن، حیثما وجدہا،فہو احق بہا.‘‘(سنن ابن ماجہ)
’’حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہَے۔ـ‘‘
اللہ کریم ہمیں علم حقیقی کو پانے کی سعی کرنے اور اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
رَبِّ اشرَح لی صَدری (طہ:25)
ــ’’اے میرے پرورد گار! میرا سینہ کھول دیجئے۔‘‘
Al-Ilm - 1
Al-Ilm - 2

اقرار

The people who fulfil the pledge made with Allah and do not break their promises.
And they are such that they keep joined that what Allah has commanded to be joined (the relationships), and fear their Rabb, and are afraid of an evil reckoning.
13:20-21

                The literal meaning of the word ‘Iqrar’ is to be in concurrence, to make a pledge or a vow, and to promise. The categorization of mankind into groups is generally based upon race and ancestry, ideology, or along political and nationalistic lines. Allah-swt however, has divided mankind into two groups with reference to the ‘Day of A’last’*; one group that held ever fast to the promise they made on that first day, of Allah being their Rabb, and the other that abandoned that promise. 
             (As our right as) Muslims, the pledge of ‘A’last’ is repeated in our ears in the form of  Adhan (the call to prayer) upon birth; through it we hear the declaration of Allah-swt’s greatness and that of the Holy Messenger’s Prophethood (saaws). Then we repeat it once again when we are older in the form of Kalima Tayi’yiba (the pure word). 
            This pledge, this agreement or the promise that we made to  Allah-swt binds us to Him in a bond that is ever enduring, and closer and truer than any other relationship; it is the bond of the Creater and the created, of the slave and his Master; nurturing it is the only true virtue; if this bond is strong it serves to guide men upon the path of success in the life hereafter. Hence, Allah-swt has declared those who strive to strengthen this bond, to be the ‘Men of Intellect’(2:179). Hence, the very basis of sagacity and wisdom is to be ever intent upon achieving success in the life hereafter.
          The blessings of this association and relationship with Allah-swt link us to another beautiful relationship; the one that exists between the Prophet-saaws and His followers. This relationship is such that it reinforces the soundness of our commitment to Allah-swt, too; it refreshes the memory of (the pledge of) A’last and strengthens the connection between faith and deed. It restrains us within the bounds of desire and prudence (Sabr) and in so doing, fosters respect in all our relationships, including those with kin and loved ones. Thus, these (blessings) not only effect the human being at a personal level by elevating him to (the status of) the ‘Men of Intellect’, but raise him to such height that the virtue of his deeds effects all that surrounds him to the extent where a bird’s nest is safe in the midst of a jungle and no herd of goats belonging to one shepherd dare wander into another’s field to graze.  Honourable readers! such is the influence of the ardour of our close commitment to Allah-swt upon the world around us; consider then, the power it would have to bestow upon us the success in the life hereafter which carries with it the glad tidings of Allah-swt’s supreme favour and beneficence. 
       However!
       It all depends upon the pledge we made as we acknowledged the illustriousness of His Rabbubi’yat (Mastery); that is the need, indeed.
Iqrar - 1
Iqrar - 2

عمل


لغت میں عمل سے مراد کام یا فعل کے ہیں یعنی کسی بات یا کام کا بجالانا تعمیل کے معنی میں آئے گا۔انسانی حیات کے ہر پہلو پر بحث لاحاصل ہوگی اگر بحث میں مرکزیت انسان کی نہ ہو۔عقلی دسترس خلق کی حدود کو عبور تو نہیں کر سکتی مگر لا متناہی حصوں کا ادراک ضرور دیتی ہے۔جیسے کوئی ایک ذات سب کی خالق ماننی پڑتی ہے۔ اور خلق میں ہی تجزیہ ہر شئے کے با مقصد ہونے کا گواہ ہو جاتا ہے۔ان سارے پیچ و خم کو دیکھتے ہوئے لامحالہ زبان کہہ اُٹھتی ہے " الحمد للہ  "  مسلمان پیدا فرمایا۔قرآن کریم عطا فرمایا اور محمد الرسول اللہ ﷺ سے نوازا۔سارے عقدے کھل گئے۔
  عمل جہاں انسان کی خصلت کا پتہ دیتا ہے وہاں گردو پیش پر اثر انداز بھی ہوتا ہے اس لیے قرآن کریم جہاں بڑا واضح ارشاد فرماتا ہے  وَھَدَیْنَہُ النَّجْدَیْنِ۔۔سورہ البلد آیت نمبر10۔۔  اور (خیرو شرکے)دونوں راستے بھی اس کو دکھا دئیے)  وہاں یہ راہنمائی بھی فرماتا ہے لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃ ٌ۔۔ سورہ احزاب آیت نمبر 21۔۔ (یقیناتم لوگوں کے لیے اللہ کے پیغمبر میں عمدہ نمونہ موجود ہے)  یہی وہ روشن پہلو ہے کہ جس کی بدولت لگ بھگ 23 برس نازل ہونے والے حق کے اختیار کرنے والی ایسی خوش بخت باعمل ہستیاں ہوئیں کہ آئندہ آنے والے 23 سالوں میں معلوم دنیا کے تین حصوں پر حق رائج تھا۔آج انسانی معاشرے اور بالخصوص اسلامی معاشروں کو دیکھتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے۔
 اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے 
 گفتار کا یہ غازی تو بنا کردار کا غازی بن نہ سکا
  تو ضروری ہے کہ اس حالت سے خلاصی حاصل کی جائے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکَّھَاوَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا ۔۔الشمس 9،10۔۔ (جس نے خود کو پاک رکھا یقینا کامیاب ہوا۔اور جس نے اسے خاک میں ملایا یقینا نقصان میں رہا)
 اللہ کریم کے فرمان کی مطابقت حاصل کرنے کے لیے، تزکیہ نفس کے لیے، راہنمائی نصیب ہوتی ہے جو کہ فرائض نبوت تک میں شامل ہے جیسا کہ ارشاد ہے وَیُزَکِّیْھِمْ (اور ان کا تزکیہ فرماتے ہیں) یہ حضور حق کی وہ کیفیت ہے جو ظاہر و باطن کو ایک کر دیتی ہے۔اور عمل ِ صالح کی توفیق نصیب ہوتی چلی جاتی ہے لیکن اس موضوع پر کہنے سننے کی بجائے متلاشی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ فی زمانہ خال ہی ملتے ہیں آج مرید کی بجائے مراد ہونے کو ترجیح ہے۔
  حضرت علی ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر ایک کی جہنم میں اور جنت میں جگہ لکھ دی گئی ہے انہوں نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم پھر اپنے نوِشتہ تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا عمل کرتے رہو،ہر ایک کو جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے میسر کر دیا جاتا ہے جو شخص سعادت مندوں میں سے ہوگا تو اس کے لیے اہل سعادت کے عمل آسان کر دئیے جائیں گے اور جو شخص بد نصیبوں میں سے ہوا تو اس کے لیے بد نصیبی والے عمل آسان کر دئیے جائیں گے۔پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔  فَاَمَّامَنْ اَعْطٰی وَاتَّقَی۔وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی۔فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی۔۔سورہ اللیل 5،6،7۔۔ (تو جس نے (اللہ کی راہ میں) مال دیا اور پرہیز گاری کی۔اور نیک بات کو سچ مانا۔تو اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے)   (متفق علیہ)
  بحیثیت مسلمان یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے عہد کو نبھائیں۔ایمان کی مضبوطی عبادات کے اختیار کرنے کا سبب ہوتی ہے۔اور عبادات،معاملات یعنی عمل تک کی اصلاح کرتی ہیں۔ضرورت ہے اس صدا کی یا مقلب القلوب!
  وادی عشق بسے دوروڈرازاست ولے 
  طے شود جارہ صد سالہ برآہِ گاہِ
  (عشق کی وادی بہت ہی دور ہے لیکن کبھی کبھی سو سال کا راستہ ایک ہی آہ میں طے ہوجاتا ہے)
Amal - 1
Amal - 2

قلزم فیوضات حضرت مولانا اللہ یارخاں رحمۃ اللہ علیہ


 رشتوں سے بندھی اس حیات میں والدین کے بعدمیں جس رشتے سے آشنا ہوا وہ شیخ کا رشتہ تھا۔میرے والد ِمحترم،میرے ابو جی کے شیخ المکرم 
     قلزمِ فیو ضات حضرت العلام مو لانااللہ یا ر خان ؒ 
آپ ؒ ہمارے گھر کی ہر بات،ہر سو چ،ہر خیال کا محور و مرکز تھے۔ابو جی (قاسم فیوضا ت حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ)کی حیات ِمبا رکہ میں حضرت قلزم ِفیوضات سے بڑھ کے کو ئی تعلق اہم نہ تھا۔
ہم چھو ٹے چھوٹے سے تھے جب اعلیٰ حضرت ؒ ہما رے ہاں تین،تین ماہ کے لیے تشریف لا تے اور ہمارے گھرمیں برکات کا سیل ِرواں یو ں اُمڈ آتا کہ ہر لمحہ ایک رو نق،ایک گہما گہمی کا احسا س لیے ہو تا،   وا لدہ (امی جی) کے لیے اعلیٰ حضرت ؒ کا ہر کام اپنے ہا تھوں سے کرنے کی لگن اور سر خو شی انھیں مزید تازہ دم کر دیتی اور ابو جی اعلیٰ حضرت ؒ کے سا تھ سا تھ ان کے لیے آنے وا لے مہمانوں کی مدا رات میں سر گرم دکھا ئی دیتے۔بچپن میں بھی اس وقت میں گھر کی فضا میں رو نق اور ٹہرا ؤکو وا ضح طور پہ محسوس کرتا۔
آہستہ آہستہ مجھے اعلیٰ حضرت جی ؒکی ذات ایک کو ہ ِفلک بوس محسوس ہو نے لگی۔وہ میا نہ قد کے ہو نے  کے با وجود نہایت قد آور محسوس ہو نے لگے۔جلال و دبدبہ ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔ان کی نگا ہو ں کی تاب لا نے کی مجال کسی میں نہ تھی لیکن ان کی نرم گفتا ری مجھے ان کے قریب لے جا تی۔
 وہ حقیقتاً قلزمِ فیوضا ت تھے۔زندگی کے حالا ت نے انہیں با قا عدہ تحصیل ِعلم کی مہلت بیس با ئیس سا ل کی عمر میں جا کر دی اور پھر آپؒ دشت ِعلم کی تحصیل میں دس سا ل تک سر گرداں رہے۔آپ ؒ نے فارسی تعلیم بھیر ہ،صرف و نحو کی ترا کیب کو ٹ فتح خان،دو رہ ٔحدیث ڈلوال (نزد کلر کہار)او ر اعا دہ دورۂ حدیث مدرسہ امینیہ دہلی سے مفتی کفا یت اللہ صاحب سے کیا۔بیضا وی،طحا وی شریف اور ہدا یہ یہیں مکمل کیں۔درس ِنظا می کے سا تھ ساتھ آپؒ نے عربی و فار سی کتب کی تکمیل کے لیے صرف و نحو،منطق، تفسیر،حدیث کے علاوہ ردِفر قہ با طلہ اور فن ِمنا ظرہ میں کمال حا صل کیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تحقیق و جستجو کا شو ق خاص طو ر پر ودیعت فرما رکھا تھا۔دین کے ظا ہری علوم میں آپؒ  اپنے اسا تذہ سے علمی مبا حث اور فکر و تد بر سے اوجِ کمال پہ پہنچ گئے۔بحر علومِ ظا ہری کی شنا وری میں مصروف تھے کہ اللہ کریم نے آپؒ کو علومِ با طنی کی نعمت سے نو ا زنے کے لیے خو ا جہ عبد الرحیم ؒ کی خدمت میں پہنچا دیا۔یہاں بھی سماع مو تی ٰکے مسئلہ پر حضرت عبد الرحیم ؒ کے، چوپا ل میں بیٹھے لو گوں سے فرمان، ---------ـ’’آپ لو گ کہتے ہیں مردے سنتے نہیں۔میں آپ کو کیسے سمجھا ؤں کہ وہ مجھ سے با تیں کرتے ہیں۔‘‘---------ّّّّّ کی تحقیق پہ امتحا ناًان کے ساتھ جا نے وا لی ہستی ارادتاً ان کے قدوم میں بیٹھ گئی اور وہ حا لت ِ مرا قبہ میں بے اختیا ر فرما گئے ’’جس کا انتظا ر تھا وہ آگئے۔‘‘ اور پھر تصو ف کے زینہ پر رکھا جا نے  وا لا یہ قدم انہیں مجددِ طریقت کے مقام پہ لے گیا۔آپ ؒنے اس دورِ پر فتن میں جب یا تو روحا نیت کا انکار تھا یا نقل،اُسے اُس کی اصل کے ساتھ متعا رف کرایا اور مخلو ق خدا کو انتہا ئی سہل،سا دہ اور خو بصورت انداز میں اس کی حقیقت سے آشنا کروا دیا۔یو ں کہ کو ئی بھی،کسی بھی طبقہ اور مکتبۂ فکر کا مرد وزن حاضرِ خدمت ہو ا،فیض یاب ہوا۔وہ منا زلِ سلوک،جن کا تذکرہ صاحب سلوک کرتے ہوئے ہچکچا تے تھے، آپ ؒ نے ڈنکے کی چو ٹ پہ بیا ن فرما ئیں اور آنے وا لے کو اس کی خلوصِ نیت کے مطا بق وہاں تک پہنچا یا بھی۔ یہاں تک کہ آپ ؒ کی مسجد میں پا نی بھرنے وا لا شخص بھی فنا فی الرسول  ﷺتھا۔اس دور میں جبکہ سا ئنسی ترقی کا غوغا بلند ہو رہا تھا۔آپ ؒ نے کتا بوں میں درج رو حا نی حقا ئق عملًا کروا کر ان کا ثبوت دیا اور ثا بت کیا کہ دماغ کی رسا ئی،ہنوز قلبی رسا ئی سے بہت پیچھے ہے،ذہنی طا قتیں،رو حا نی قو توں کی    خا ک کو بھی نہیں پا سکتیں۔آپ ؒ سے کر اما ت توسر زد ہو ئیں ہی،آپ ؒ نے کشف و وجدا ن بھی ثا بت کر کے دکھا ئے۔گو یا آپؒ نے تصو ف منو اکے دکھا یا۔آپؒ کی تحا ریر ہوں یا تقا ریر مدلل،پُر مغز اور وا ضح طور پہ تصوف کو دین کی روح ثا بت کرتی ہیں۔آپؒ کی ہر بات پُر تیقن اور ببانگ ِدہل ہو ا کرتی۔کسی بھی باطل قوت میں یہ دم نہ تھا کہ وہ اس مردِحق کے سا منے دم ما ر سکے۔آپ نے بیسیوں کتب تصنیف فرما ئیں۔ مو ضو ع ِ تصوف پہ آپ ؒ کی شہرہ ٔ آفاق کتا ب،دلا ئل السلو ک،آج بھی تصوف سمجھنے کا شو ق رکھنے وا لوں اور را ہ ِ سلوک کے متلا شیوں کے لیے مشعل راہ ہے۔
 آپ ؒ تمام تر حیا ت،دین ِحق کی سر بلندی کے لیے پا بہ رکا ب رہے۔آ پؒ کا سفر و حضر فقط اور فقط احیا ئے دین کے لیے تھا۔آپؒ کی شب بیدا ریا ں کبھی بھی دن کی سعی ٔ مسلسل پر اثر انداز نہ ہو تیں اور دن کی    تھکا وٹیں،کبھی شب بیدا ریوں پہ اثر انداز نہ ہو سکیں۔آپ ؒ کی حیا ت مطا لعہ،بیا ن،ذکر،مرا قبات اور  خا لصتا ًدین کے لیے اسفار سے عبا رت رہی۔
قا رئین کرام! یہ سطور لکھتے ہو ئے میں یو ں بھی دیدۂ پُرنم لیے ہو ں کہ اللہ کی راہ میں جا گنے اور دین کی بلندی کے لیے تحقیق و جستجو میں مگن رہنے وا لی نگا ہیں،جب ہما رے ہاں آتیںتو مجھے نہا یت محبت سے  تکا کر تی تھیں۔دینی حقائق کو کھو ل کر بیا ن کرنے وا لے قلم کو تھا منے وا لے ہا تھ مجھے انتہا ئی شفقت سے چھو ا کرتے تھے اور وہ دامن جس نے ایک جہا ن میں گہر باری کی،مجھے اپنے اندر سمیٹا کرتا تھا۔
میری انتہا ئی خو ش بختی کہ میرا نا م بھی انہوں نے ہی رکھا۔میرے قلب و ذہن میں آج بھی وہ یا دیں درخشاں ہیں۔آمو ں کے مو سم میں، میں جب بھی ان کے پا س جا تا وہ ملک احمد نوا ز صاحب کو پکا رتے  ’’احمد نواز ملک آیا اے۔امب دیووئی ملکے نوں۔‘‘(ملک آیا ہے۔بھئی ملک کو آم دیں۔)
میری والدہ بتا تی ہیں کہ شیر خو ارگی میں،ایک د ن میں بہت رو رہا تھا۔انھوں نے حضرت جی ؒ سے عرض کی ’’اسے دم کر دیں۔‘‘انھوں نے دم فرما نے کے بعد فرما یا، ’’اسے اکرم سے دم کرواتی رہا کرو۔‘‘انھوں نے سا دگی سے عرض کیا ’’وہ میرے ہا تھ ہی نہیں آتے۔‘‘فرمانے لگے، ’’آؤ میں اپنی بیٹی کو دم بتا تا ہوں۔ تم خود کرلیا کرنا۔‘‘یوں انہیں دم سکھا یا۔
۱۸فروری ۱۹۸۴ء کا وہ لمحہ مجھے آج بھی یا دہے جب رضا ئے الٰہی نے مجھے ایک شیخ کے پہلو سے اٹھا کر دوسرے شیخ کے سینہ سے لگا دیا۔اس وقت ابو جی کے قلب اطہر پہ جو درد اُترا‘وہ‘ آج خو د شیخ بننے کے بعد میرے دل میں یو ں اُتر رہا ہے کہ ہر ما ہ فروری میں اپنے قلب کی گہرا ئی کا اندازہ نئے سرے سے ہو تا ہے۔
Qulzam-e-Feuzat Hazrat Maulana Allah Yaar KaN reh. - 1
Qulzam-e-Feuzat Hazrat Maulana Allah Yaar KaN reh. - 2

حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ

 دنیا میں آنکھ کھو لنے سے لے کر میرے دنیا کوکھلی آنکھو ں سے دیکھنے تک کے تما م تر مر احل جس کی نگا ہ میں بسر ہو ئے وہ ریشم و فو لا د، شفقت و جلال سا دگی و جمال اور معصو میت و دا نش ِکمال کا بے حد حسین امتزاج تھے۔قدم قدم چلنے سے لے کر اپنے قدموں پہ کھڑا   ہو نے کے قا بل بنا نے تک،ان کی تر بیت چلتی ہو ئی سا نسوں کی طرح با لکل غیر محسو س اندا ز سے،میرے کردار کی تعمیر وتشکیل کرتی رہی۔گھر کی ذمہ دا ری تھی یا سلسلہ عا لیہ کی خدمت،انھو ں نے میری کم عمری کے با و جود جس اعتما د سے میرے کندھوں پہ ڈا لی وہ در حقیقت خود میرے اندر اعتماد پیدا کرنے کے لیے تھی۔
وہ میرے شیخ بھی تھے اور میرے وا لد بھی۔
سفرِ حیا ت میں یہ ان کی را ہنما ئی ہی تھی کہ امو رِ سلسلہ میں،کبھی بھی شفقت ِپدری کی رعا یت میرے ذہن میں آئی نہ آدابِ شیخ ملحو ظ    خا طر رکھتے ہو ئے بھی بحیثیت وا لد کبھی انہیں خود سے دور پا یا۔ وہ میری زندگی کا محور و مرکز تھے۔وہ میری منز ل بھی تھے اور نشا نِ منز ل بھی۔ان کی خو شنو دی مجھے اپنی ہر خو شی سی عزیز تر تھی اور وہ ذات،مجھے اپنی ذات سے بڑھ کر عزیز تھی۔گزرتے وقت کے سا تھ ساتھ میں، میں نہ رہا تھا ’وہ‘ہو گیا تھا۔ان کی خوا ہش، ان کی رضا،ان کی خو شی ان کی چا ہ ہمہ وقت میری جستجو میں رہتی اور مجھے سر گرمِ عمل رکھتی۔ان کے مز اج میں لحا ظ و مرو ت اس در جہ تھی کہ اپنی را ئے دینے کے بعد ان کی نگا ہ میری جا نب ضرور اٹھتی اور بحمد للہ مجھے سرِ تسلیم خم پا تی۔
قا رئین ِکرام والد اور پھر ایسے وا لد!  شیخ او ر پھر ایسے شیخ!!
انھوں نے کبھی بھی اولا د کو کو ئی حکم نہ دیا۔ہا ں یہ خوا ہش ضرور رکھتے تھے کہ اولا د بن کہے،ان کی رضا جا ن لے۔اس معا ملہ میں وہ اشا رہئ ابرو کے بھی قا ئل نہ تھے۔ہا ں وہ خو د ضرور ہر بچے کے مزاج، عا دا ت اور خو اہشات سے خوب و اقف تھے۔کسے،کب،کیا اور کیوں چا ہیے؟ وہ جا نتے تھے۔وہ ہر ایک کی ضرورت ہی نہیں چا ہت بھی جان    جا تے اور پھر اس کی تکمیل کر دینے کے بعد لفظ ’شکریہ‘ بھی غیر ضروری سمجھتے محض ایک چیز ضرور چا ہتے،لینے وا لے کے چہرے کی خو شی۔وہ خو شیا ں با نٹ کر خو ش ہو نے وا لوں میں سے تھے اور یہ معا ملہ فقط   اولا د تک محدود نہ تھا۔ 
اولا دکے قلب میں طلب ِحق کی رمق بھی انہیں دنیا کی ہرخو شی سے بڑھ کر تھی۔ان کا ذکر،ان کے مر اقبا ت،ان کی ترقی ئدرجا ت انہیں سر شا ر کر دیتی اور کسی کو غفلت میں دیکھتے تو آزردہ ہو جا تے لیکن یہ آزردگی بھی ان کی ذات تک ہی محدود رہتی۔ان کا دل،ایک ما ں کے دل سے بڑھ کر گداز تھا اور وہ با پ کی طرح اولا د کو اوج ِ کما ل پہ دیکھنے کے آرزو مند تھے۔وہ گلوں،شکوؤ ں کے قا ئل نہ تھے۔تما م تر حیا ت میں کبھی کو ئی کمزور جملہ ان کی زبا ں سے ادا نہ ہوا۔وہ کو ہ ِگراں بھی تھے اور بحرِ روا ں بھی، وہ صدف بھی تھے اور ابرِ با راں بھی،وہ شبنم ِگل بھی تھے اور تجلی ئابر بھی۔ دنیو ی حا جا ت کے لیے ملنے وا لا بھی انہیں کبھی بھلا نہ پا یا اور جس نے انہیں جا ن لیا وہ تو خدا یا ب ہوا۔اب یہ مقدر کی با ت ہے کہ کس نے کتنا جا نا!
اپنے مرید انہیں اپنی مراد کی طرح عزیز تھے۔دکھ درد سنا نے وا لا خود تو ہلکا پھلکا ہو کر چلا جا تا لیکن وہ اس با ر کو اپنے دل میں محسوس ہی نہیں اس کی شدت کو بر دا شت بھی کرتے۔ان کی آہ ِسحر گا ہی میں ہر ایک     دُو دِدل کا درد مو جو د ہو تا۔
لیکن ___!کو ن اندا زہ کر سکتا ہے کہ ایسا قلب ان دلوں کے لیے کیا درد رکھتا تھا جو اس دل کے سا تھ دھڑکتے تھے۔ایسی عطا شعا ر ہستی اپنے سینے میں ان کے لیے کیا کچھ رکھتی تھی جن سینو ں میں اس کے اپنے نا م کی شمع فروزاں تھی۔مرید تو اپنی حیثیت کے مطا بق محبت کرتا ہے لیکن شیخ کی محبت اپنے مقا م و ظرف کے مطا بق ہو تی ہے۔اور پھر کو ن یہ سمجھا سکتاہے کہ شیخ کے قلب میں انوارات کا سیل ِرواں ان قلوب کی جا نب کس طرح امڈتا ہے جس قلب کی طلب ہی وہ فیض بے کراں ہو۔ کسی نے کہا تھا: 
جسے میں سنا تا تھا دردِ دل    وہ جو پو چھتا تھا غم ِ دروں 
وہ  گدا نو از  بچھڑ  گیا    وہ  عطاشعا ر  چلا  گیا 
مگر نہیں!  وہ بچھڑے نہیں ہیں۔نہ وہ گئے ہیں۔وہ ہم سب کا اپنے اللہ کریم سے ایسا تعلق جو ڑ گئے ہیں جس نے خو د انہیں بھی بچھڑنے نہیں دیا۔ انہیں بھی جا نے نہیں دیا۔وہ خود فرما گئے ہیں:
            ”دلوں کے با سی کہیں جا یا نہیں کرتے۔“
ہاں جا تے جا تے جہاں مجھے اپنے فیضان ِقلب کا امین بناگئے ہیں وہاں اپنے مریدوں کو بھی میرے لیے مراد کر گئے ہیں جہاں مجھ خطا  کا ر کو برکا تِ رسا لت کے تسلسل کاحصہ بنا گئے ہیں وہاں آپ سب کا درد بھی عطا کر گئے ہیں۔آپ سب میر ے پا س ان کی وہ امانت ہو جو مجھے اپنی حفا ظت کے لیے ہر لمحہ چو کنا اور لرزہ براندام رکھتی ہے۔آپ سب میری دعا ؤں کا حصہ ہی نہیں بنے دل کے مکیں اور گو یا وجود کا حصہ ہو گئے ہو۔میرے پا س یہی ان کی سب سے بڑ ی ورا ثت ہے!
Hazrat Jee Rehmat Ullah Alaih - 1
Hazrat Jee Rehmat Ullah Alaih - 2

شان رسالت صلی اللہ علیہ وسلم


دعا


 وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ ]البقرۃ2:186[
”اورجب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پو چھیں تومیں قریب ہوں اور قبول کرتا ہوں پکا رنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے مانگے پس چا ہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لا ئیں تا کہ وہ ہدا یت  پا ئیں۔“
لفظ دعا کے معنی مانگنا،التجا کرنا،بہتری کی خوا ہش اور مراد کے ہیں۔کسی کو کچھ سنا نے کے لیے پکا رنا بھی دعا کہلا تا ہے جیسا کہ سورہئ النمل میں ہے: وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ ]النمل27:80[ ”اور نہ بہروں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں۔“
اصطلاحاً دعا کے معنی اللہ تعا لیٰ سے مانگنے کے ہیں۔دعا ایک درخواست ہے،وسیلہ ہے،پکار ہے اور احساس کم ما ئیگی،بے اختیا ری،بے کسی و لا چا ری ہے۔انسان کا مقصد ِحیات معرفت ِالٰہی ہے،معرفت ِالٰہی کا تقا ضا عبا دتِ الٰہی اور عبا دتِ الٰہی کا حاصل قربِ الٰہی ہے۔حیا ت کی ابدیت اور مقصد ِحیا ت کی عظمت،قربِ ذات باری تعالیٰ ہے اور اسے پا نے کے لیے اس رحمن و رحیم نے اپنے بندوں کو ایک خو بصورت ذریعہ عطا فرما دیا کو ئی،کہیں سے بھی اور کبھی بھی اسے پکا ر سکتا ہے۔اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ]ابرٰھیم14:39[(بے شک میرا پروردگا ر دعا کو بہت سننے والا ہے)لفظ رب کا مطلب ہی ہر ضرورت مندکی،ہر ضرورت، ہر وقت اورہر جگہ پوری کرنے والا ہے۔
قا رئینِ کرام!ما نگا اس سے جا تا ہے جس پہ یقین ہو کہ وہی دے سکتا ہے۔پکا را اسے جا تا ہے جس پہ اعتبار ہو کہ وہ سن رہا ہے اور ذاتِ با ری پہ یہی ایمان عقیدہ اسلام کی بنیا د ہے لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ      ]الرعد13:14[(اسی کے لیے پکا رنا سچا ہے)یہی ایقان آرزوؤں کو الفاظ کے روپ میں ڈھا لتا اور      خوا ہشوں کو زبا ن دیتا ہے۔
عبا دات کی روح اللہ بزرگ و برتر کی کبر یا ئی پہ ایمان اور اپنی کم مائیگی ولاچاری کا اظہا ر ہے اور یہی احساس دعا کا جزو کل ہے۔ حدیث ِپا ک ہے: 
الدعاء ھوالعبادۃ(سنن الترمذی)(دعاعین عبادت ہے)
اپنی حاجا ت کے لیے ہی سہی لیکن اس رحیم و کریم کو بندے کا اپنی طرف رجوع کرنا اتنا پسند ہے کہ  حضرت ابو ہریرۃ  ؓسے مروی حدیث ِپا ک ہے:
لیس شیء اکرم علی اللہ تعالی من الدعاء(سنن الترمذی)(اللہ کے نزدیک کو ئی چیز،کو ئی عمل دعا سے زیا دہ عزیز نہیں) بلکہ حضرت ابو ہریرہ  ؓ ہی نبی کریم  ﷺ کا یہ فرمان بھی روایت کرتے ہیں کہ:من لم یسال اللہ یغضب علیہ(سنن الترمذی)(جو اللہ سے سوال نہ کرے اللہ اس سے    نا راض ہو تا ہے)یہ شان ِکریمی و ادائے رحیمی کہیں اور کہا ں مل سکتی ہے۔
                ان کا کرم پھر ان کا کرم ہے   ان کے کرم کی بات نہ پو چھو
رحمت ِباری جہاں بندے کے مانگنے پہ متوجہ ہونے کو تیار ہے وہاں بندے کو اسلوب و اصولِ دعا تک تعلیم فرما ئے گئے ہیں۔قرآن مجید و فرقان حمید کی پہلی سورہئ فا تحہ پو ری کی پو ری آداب ِدعا کی تربیت دے رہی ہے کہ اپنے مالک سے مخا طب ہو نے سے پہلے بندہ اس ایمان کے سا تھ اس کی حمد و ثنا بیا ن کرے کہ تمام تر تعریفیں فقط اسی ذات کو سزا وار ہیں۔وہی رب اور پا لنہا ر ہے اس کی رحمت ِبے پا یا ں پہ کا مل یقین کے سا تھ اس سے مانگے کہ بلا شبہ رحمت ِحق بہانہ می جو ید (اللہ کی رحمت بہانے تلاش کرتی ہے)۔یہ سورہئ مبا رکہ یہ بھی سمجھا رہی ہے کہ بندہ کی سب سے پہلی اور سب سے بڑی طلب راہِ ہدا یت پہ چلنا ہو نی     چا ہیے کہ اس کے بغیر دنیا و ما فہیا بے معنی ہے۔
قا رئین ِکرام! اس سے بڑھ کر خیر خوا ہی کیا ہو گی کہ رب العالمین اپنے بندوں کو دعا کے لیے الفا ظ تک عطافرما دے۔قرآ ن پا ک کھو ل کردیکھیے ہر حاجت،ہر ضرورت،ہر احتیا ج کے لیے دعا مو جو د ہے۔ الفاظ اللہ کریم کے ہیں اور زبا ن اس کے اخص الخواص بندوں کی۔ہمیں فقط قلوب میں خلوص پیدا کرنے کی ضرورت ہے یا کم از کم پو ری توجہ،پو رے درد سے مانگنے کی کہ حدیث ِپا ک ہے: ان اللہ لا یستجیب دعاء من قلب غافل لاہ(سنن الترمذی)(اللہ اس کی دعا قبول نہیں کرتا جس کا دل (دعا کے وقت)اللہ سے غا فل او ر بے پرواہ ہو)
قا رئین ِکرام! دعا کی طا قت کا اندا زہ ہم نہیں لگاسکتے نبی کریم  ﷺ کا فرما ن ہے:الدعاء ینفع مما نزل ومما لم ینزل فعلیکم عباد اللہ بالدعاء(المستدرک)(دعا نازل شدہ مصیبت،اور جو ابھی نہیں نازل ہوئی ہے اس سے بچنے کا فائدہ دیتی ہے،تو اے اللہ کے بندو! تم اللہ سے برابر دعا کرتے رہو)
ایک ایسی ہستی جو ستر ما ؤ ں سے بڑ ھ کر محبت کرتی ہو،جسے پھیلے ہو ئے ہا تھوں کی حیا ہو،جو خود پکا رتی ہو من یدعونی فاستجیب لہ...(صحیح البخاری)(کون ہے جومجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں)،اس کے سا منے پھیلے ہو ئے دامن کیو نکر خالی لو ٹا ئے جا سکتے ہیں۔وہ تو نہاں خانہئ دل میں نمو پا نے وا لی آرزؤوں تک سے وا قف ہے۔حضرت قا سم فیوضاتؒ فرمایا کرتے تھے ’خوا ہش بذات ِخود دعا ہو تی ہے،با ت تو یہ ہے کہ کو ئی مانگنے وا لا بھی ہو ہم تو مائل بہ کرم ہیں کو ئی سا ئل بھی تو ہو۔
اس سے مانگیے اور دل کھو ل کر مانگیے کہ مانگنا اسے محبوب ہے لیکن تین باتیں ذہن نشین کرنا ضروری ہیں۔ ہمیشہ حدود ِشریعی کے اندر رہ کر دعا مانگنا چاہیے۔بلا شبہ وہ بڑا کریم ہے لیکن وہ بہت غیور بھی ہے۔دوسرا دعا ایک استدعا ہوتی ہے،حکم ہر گز نہیں اور تیسرا اس کی قبولیت کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کہ عطا کا بہترین وقت وہ مسبب الاسباب بہتر جانتا ہے۔حدیث ِپاک ہے:
لا یزال العبد بخیرما لم یستعجل.....الخ(مسنداحمد)(بندے کی ہمیشہ خیر اور بھلائی ہے، جب تک کہ وہ جلد بازی نہیں کرتا۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بندہ جلد بازی کس طرح کرتا ہے؟ آپ  ﷺ نے فرمایا جب وہ کہتا ہے کہ میں نے رب سے بہت دعا مانگی،لیکن میری دعا اس نے قبول نہیں کی)
اللہ کریم ہمیں اپنے لیے، اپنو ں کے لیے بھلائی و عا فیت ما نگنے کی تو فیق عطا فرما ئے اور اس خلوص سے    نوا زے جو اس کی با رگا ہ میں درجہ ئ  قبو لیت رکھتا ہو۔




Dua - 1
Dua - 2

الاانسان

Al-Insaan - 1
Al-Insaan - 2

فاذ کرونی

Fazkorooni - 1
Fazkorooni - 2

سالانہ اجتماع

Salana Ijtima - 1
Salana Ijtima - 2