Latest Press Releases


دین کا سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے


 وطن عزیز پاکستان میں بسنے والے ہم لوگ باہم تفریق کا شکار ہو گئے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سب متحد ہو کر اپنے آپ کو اُس چھتری کے نیچے لے آئیں جو کہ آپ ﷺ کے احکامات کی صورت میں ہمیں عطا ہوئی ہے۔آج بھی اگر معاشرے میں نظام معیشت کو اسلامی اصولوں پر لے آئیں تو یقین رکھیں کہ ملک میں خوشحالی آئے گی ایک دفعہ اس کو آزماکر تو دیکھ لیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ دین کا سیکھنا اور دوسروں تک پہنچانا ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔صرف اپنی بات درست سمجھنا اور دوسرے کی بات کو رد کر دینا یہ کوئی معیار نہیں ہے معیار اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات ہیں،اسوۃ حسنہ ہے۔پھر بھی اگر کوئی ضد اور انا کا شکار ہے تو اس سے صرف فساد ہو گا۔تعمیر نہیں تخریب کا سبب ہو گا۔آج ہمارے ملک میں ایک ناگہانی سی صورت ہے کچھ معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہو جائے۔ساری دنیا کی مان رہے ہیں لیکن دنیا کے مالک کی نہیں مان رہے۔ساری کتابوں کے حوالے دئیے جا رہے ہیں کتاب اللہ کا حوالہ نہیں دیا جا رہا۔سارے ماہرین کی بات سنی جا رہی ہے تجربے کیے جا رہے ہیں نبی کریم ﷺ کی بات نہیں سنی جا رہی نہیں آزمائی جا رہی 
 تو پھر بھگتو۔حالت یہ ہو گئی ہے کہ اللہ سے معافی مانگنے سے بھی اب شرم آ رہی ہے کہ توبہ ہی کر لیں کہ ہم نے جو کیا غلط کیا۔اس طرح کیسے اس کی نعمتیں نصیب ہوں۔کیسے حالات بہتر ہوں۔جب بد کرداری ہو،بے عملی ہو،نفاق ہو پھر نتائج کیسے اچھے مرتب ہوں گے اثرات کیسے مثبت ہوں گے۔جب آگ جل رہی ہو نتیجہ میں تپش ہوتی ہے ٹھنڈک نہیں۔وہ پودا پھل کیسے دے گا جس کی جڑیں ہم خود کاٹ رہے ہوں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں اور ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں؟ ہم دنیاوی امور کے لیے بھی تقسیم ہو رہے ہیں اور دین کی کوئی بات آجائے تو وہاں بھی ہمارا رویہ بہت تلخ ہو چکا ہے۔ہم ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں پوری قوت لگا رہے ہیں۔اس تقسیم میں کتنی سختی اور نفرت پیدا ہو گئی ہے۔آج جس روش پر ہم چل رہے ہیں ہماری طاقت ضائع ہو رہی ہے۔ہم متحد نہیں ہو رہے۔ہمارے معیشت دان ہمیں سارے جہان کی باتیں سنا دیتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ سود چھوڑ دینا چاہیے۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں ہمیں دوسروں پر اعتراض کرنے کی بجائے سب سے پہلے خود کا محاسبہ کرنا ہو گا کہ میں کیا کر رہا ہوں میرا کردار اس معاشرے کو کیا فائدہ دے رہا ہے۔میری وجہ سے کیا مثبت تبدیلی آرہی ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Deen ka seekhna aur doosron tak pahunchana har aik ki bunyadi zimma daari hai - 1

پیشانیوں کا نور اللہ کے حضور سجدوں سے حاصل ہوتا ہے


نبی کریم ﷺکی زندگی مبارک میں بھی ہر طرح کے سخت حالات آئے جس میں اُمت کے لیے ثابت قدمی کا درس موجود ہے۔ ایسے ہی صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں سے ہمیں ثابت قدمی کا درس ملتا ہے۔پیشانیوں کا نور اللہ کے حضور سجدوں سے حاصل ہوتا ہے اس کے علاوہ ممکن نہیں۔جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوتی ہے ان کے کردار ایسے ہوجاتے ہیں کہ غیر مسلم کو دین کی طرف لانے کا سبب بن جاتے ہیں۔جہاں حق کا انکار کیا جاتا ہے اُسے اقرار تک لانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا گلاسگو (انگلینڈ) میں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ کائنات کا کوئی بھی کام اتفاق سے نہیں ہو رہا بلکہ ہر کام ایک مضبوط نظام کے تحت اللہ کریم کے حکم سے ہو رہا ہے 
 ایک ٹہنی سے جو پتہ بھی ٹوٹ کر گرتا ہے اُسے کہاں خاک ہونا ہے سب ایک مضبوط نظام کے تحت ہو رہا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اپنی نگاہ کو اُٹھاؤ آسمانوں کی طرف تھک کر نگاہ لوٹ آئے گی کوئی نقص نہیں تلاش کر سکو گے۔زندگی کا جو لمحہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہوگا وہ قیمتی ترین ہوتا چلا جائے گااور عبادت کا درجہ بھی نصیب ہوگا۔اور یہی زندگی کا مقصد ہے کہ اپنی ہر سوچ اور عمل کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے تابع کر دیا جائے۔اللہ کریم کی رضا ہی اصل کامیابی ہے۔ہر ایک نے ایک دن اللہ کے حضور اپنا حساب دینا ہے جس کی تیاری ہمیں اسی زندگی میں کرنی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔ 
  یاد رہے کہ گلاسگو میں حضر ت جی کے دورہ برطانیہ کا آخری پروگرام ہے اس کے بعد آپ کی پاکستان واپسی ہو گی۔مرکز دارالعرفان منارہ میں  35 روزہ سالانہ روحانی اجتماع 28 مئی سے 3 جولائی 2022 تک جاری رہے گا۔جس میں روزانہ دن بارہ بجے آپ کا خصوصی خطاب ہو گا۔سالکین پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔
pishanyon ka noor Allah ke huzoor sajdon se haasil hota hai - 1

تزکیہ نفس فرائض ِنبوت کا بنیادی حصہ ہے


  تزکیہ نفس فرائض ِنبوت کا بنیادی حصہ ہے۔جو اقرار کیا اس پر دل بھی گواہی دے دل بھی تصدیق کرے وہ یقین جو دل کی گہرائی تک اثر پیدا کرے۔جو ماننے سے عمل تک لے جائے۔عملی زندگی نبی کریم ﷺ کی سنت میں ڈھل جائے۔انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر پہلو میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  شیفلڈ(انگلینڈ)  میں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔کائنات کی ہر شئے اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔جس نے اللہ کا ذکر چھوڑ دیا اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے وہ فنا ہو جاتی ہے۔بندگی ہی انسانیت کا کمال ہے۔زندگی صرف گزارنے کا نام نہیں ہے۔اللہ کریم نے شکر اور انکار کا اختیار انسان کو دے دیا اب فیصلہ اس نے خود کرنا ہے کہ کس راہ کا انتخاب کرتا ہے۔اسم ِ اعظم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی تسبیح نہیں ہے کہ جس کے کرنے سے بندہ جو چاہے ویسا ہو جائے یہ شان صرف اللہ کریم کی ہے وہ خالق ہیں وہ قادر مطلق ہیں جیسا وہ چاہیں گے ویسا ہو گا۔ یہ تو خدائی دعوے کی طرف لے کر جاتا ہے۔کہ جیسا میں چاہوں ویسا ہو جائے۔اللہ کریم کا ذاتی نام اللہ ہے باقی سب صفاتی نام ہیں پھر اسم اعظم اللہ کریم کے ذاتی نام کے سوا اور کونسا نام ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کا شکر ہے کہ اُس نے اپنا نام لینے کی توفیق عطا فرمائی اپنے نام پر جمع فرمایا یہ اس کا احسان ہے وگرنہ وہ قادرہے ایسے لوگ پیدا فرما دے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے۔اپنی عبادات کو خالص اللہ کے لیے رکھیں جنت بھی اس لیے مانگی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی رضا کامظہر ہے۔جنہیں اللہ کی رضا نصیب ہوگی جنت ان کی رہائش گاہ ہے۔فی ذات جنت مقصود نہیں فی ذات رب العالمین کی ذات مقصود رکھی جائے گی۔
آخر میں آپ نے امت مسلمہ کے اتحادو اتفاق کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ برطانیہ کے دورہ پر ہیں جہاں مختلف شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔پروگرام میں آپ کا خطاب ہوتا ہے اور اجتماعی دعا بھی کی جاتی ہے۔
tazkia nafs faraiz Nabuwat ka bunyadi hissa hai - 1

عشق مصطفے ٰ ﷺ کا تقاضہ ہے کہ ہماری سوچ سے لے کر عمل تک ایک ایک پہلو آپ ﷺ کی سنت سے مزین ہوتا چلا جائے۔


 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے مانچسٹر (انگلینڈ) میں سراجا منیرا کانفر نس میں خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم ال م سے والناس تک ہمیں سراجا منیرا کا درس دیتا ہے۔آپ ﷺ کی ذات روشنیاں بانٹنے والاچراغ ہے۔قرآن کریم کلام ذاتی ہے جیسی متکلم کی حیثیت ہوتی ہے ویسی ہی کلام کی اہمیت بھی ہوتی ہے۔بادشاہ کا کلام،کلاموں میں بادشاہ ہوتا ہے۔ہماری یہ حیثیت نہیں کہ ہم اللہ کریم کے کلام کی شان بیان کر سکیں۔آپ ﷺ انسانیت کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف لے کر آئے۔دین اسلام کا ہر حکم ہر جگہ ہر ایک کو استفادہ عطا فرماتا ہے۔ہر سوال کا جوا ب قرآن کریم میں موجود ہے ہر قسم کی راہنمائی موجود ہے جو سوال گزر چکے جو سوال موجود ہیں جو سوال آنے والے زمانے میں پیدا ہوں گے سب کی راہنمائی ہمیں قرآن و سنت سے میسر ہے۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہمیں مقصد تخلیق سے آگاہ فرماتا ہے اور نتائج کے حوالے سے بھی شناسائی عطا فرماتا ہے۔کائنات کی ہر شئے با مقصد ہے انسان تو اشرف المخلوقات ہے فرشتے جو کہ نوری مخلوق ہے اُسے بھی حکم ہوا جب آدم کی تخلیق مکمل ہو گی تو اس کے آگے سجدہ ریز ہو جانا۔انسان اس کائنات کا مرکزی کردار ہے تو کیا یہ بامقصد نہیں ہم اس سے غافل ہیں ہمارے شب وروز گزر رہے ہیں اور صرف گزر رہے ہیں ہمیں ادراک نہیں کہ یہ وقت یہ سانسیں کتنی قیمتی ہیں۔اس ادراک کے لیے درِ مصطفے ﷺ کی ضرورت ہے۔رب کائنات نے یہ در عطا فرمایا ہے یہاں سے اس مخلوق کو خالق نے ذاتی آشنائی عطا فرمائی۔آج معاشرہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ عشق مصطفے ﷺ میں تضاد پائے جاتے ہیں یہ تو وہ در ہے جہاں سے حیات نصیب ہوتی ہے۔اور قرآن کریم ایسی کتاب جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں اس کے باوجود لوگ قرآن کریم ہا تھ میں پکڑ کر ایک دوسرے کے خلاف فتوے دے رہے ہیں۔ہمارے سارے جھگڑے اپنی پسند کی وجہ سے ہیں ہمارے اندر سے میں نہیں جا رہی ہر کوئی کہتا ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ ٹھیک ہے باقی سب غلط۔تو اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ اس میں کو مٹا دیتا ہے۔بندہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے تحت آجاتا ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے تمام ساتھیوں کو قلبی ذکر سکھایا اور اس کی ہمیت بیان فرمائی۔بعد میں حضرت مد ظلہ العالی نے ذکر اللہ بھی کروایا۔یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان برطانیہ دورہ پر ہیں جہاں مختلف شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا انعقاد ہو رہا ہے۔جس میں آپ خصوصی لیکچر دے رہے ہیں۔آخر میں آپ نے امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Ishhq mustfa SAW ka taqaza hai ke hamari soch se le kar amal tak aik aik pehlu aap ki sunnat se muzayyan hota chala jaye . - 1

اسی دنیا کی زندگی پر جزا و سزا کا انحصار ہے


  اسی دنیا کی زندگی پر جزا و سزا کا انحصار ہے۔ہمارے اعمال اگر صالح ہیں تو ہمیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کا بدلہ نیک ملے گا اگر ہمارے اعمال بد ہیں تو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں سزا کا سبب ہوں گے۔اگر درست راہ کو اختیار نہیں کریں گے تو نقصان اُٹھائیں گے۔اللہ کریم نے زندہ رہنے کا اور عقیدہ اختیار کرنے کا حق ہر ایک کو عطا فرمایا ہے۔کوئی کسی کی زندگی چھیننے کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کوئی اپنا عقیدہ کسی پر مسلط کرسکتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا برمنگھم (انگلینڈ) دارالعرفان میں اجتماع سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ انسان اللہ کریم کی ایسی تخلیق ہے جس کو یہ استعداد عطا فرمائی گئی ہے کہ یہ صحیح اور غلط کو پہچان سکتا ہے۔ اس کے باوجوداپنے گردوپیش جس طرح کی روش یہ دیکھتا ہے اُسے اختیار کرتاچلا جاتا ہے۔بنیادی طور پر اس کے اندر حق اختیار کرنے کی استعداد تخلیقی طور پر موجود ہے۔ایک وقت تھا جب نبی کریم ﷺ کی واحد ذات تھی جنہوں نے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں حق اختیار کیا حق بیان فرمایا اور اللہ کریم نے جن لوگوں کو ہدایت عطا فرمائی کیا وہ پہلے ایمان والے تھے؟ آپ ﷺکی تعلیمات آپ کا مزاج آپ کا پیار اور اُنس لوگوں کے ایمان کا سبب بنا۔اسلام ابتداء ہی سے سلامتی ہے اور ہر ایک کے لیے سلامتی کی ضمانت ہے۔دین اسلام کے کسی حصے کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اطاعت صرف دعوی ایمان کا نام نہیں ہے بلکہ لاالہ الاللہ کا مطلب ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی اطاعت کی جائے گی۔دوسرے حصے میں محمد الرسول اللہ کیسے اطاعت کرنی ہے جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اور جیسے آپ ﷺ نے اللہ کریم کی اطاعت کی۔دین اسلام کے احکامات عین انسانی مزاج کے مطابق ہیں کیونکہ یہ دین فطرت ہے اور تمام فطری تقاضے پورے فرماتا ہے۔نبی کریم ﷺ کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچ چکا ہے یہ محافل یہ اجتماعات دستک ہیں کہ بندہ کے لیے ایک یاد دہانی ہے۔نبی کریم ﷺ دین اسلام کی تکمیل کا اعلان فرما چکے ہیں پھر عمل کیوں نہیں ہو رہا اس لیے کہ ہمارے دل میں ایمان کا وہ یقین نہیں ہے جو درکار ہے ا سکے لیے تصوف کی ضرورت پیش آتی ہے۔ جب تک دعوے ایمان کے ساتھ دل کی تصدیق مضبوط نہ ہو چیزیں عمل تک نہیں پہنچتی۔  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
isi duniya ki zindagi par jaza o saza ka inhisaar hai - 1

کیفیات قلبی وہ جلا بخشتی ہیں جو ابدالعباد کامیابی کا سبب بنتی ہیں


اسی زندگی کو اطاعت محمد الرسول اللہ ﷺ سے مزین کرنا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ کوئی زی روح ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کریم نے اپنے ذمہ نہ لیا ہو۔ہر فرد کے اندر اللہ کریم حق اختیا ر کرنے کی استعداد رکھ دی ہے اب یہ ہر ایک کا اپنا فیصلہ ہے کہ کون حق کا راستہ اختیار کرتا ہے اور کون انکار کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ہمارے تمام مسائل کی وجہ چاہے انفرادی ہوں یا اجتماعی ان سب کا سبب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم ادولی ہے نافرمانی ہے۔اور ان تمام مسائل کا حل آپ ﷺ کی اطاعت میں ہے اتباع میں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن (انگلینڈ) میں سراج منیرا کانفرنس سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتے ہیں مگر ضرورت انابت کی ہے اس خالق نے نہ صرف ضرورت بلکہ احساس ضرورت اورضرورت کی تکمیل کے زرائع بھی عطا فرمائے۔ہر ایک کی ہر جگہ ہر وقت ہر ضرورت کو پورا فرمانا اُس رب کائنات کی شان ِ ربوبیت ہے۔اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کا حکم ماننا اور ایسا ماننا کہ نہاں خانہ دل تک اس میں شامل ہو اسے اطاعت کہیں گے۔بندہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ جب اس کے پاس اللہ کا حکم آتا ہے تو وہ اس کی اطاعت کرتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ تقوی یہ ہے کہ بندگی کے ہر عمل کو دیکھا جائے کہ کوئی عمل مجھ سے ایسا نہ ہوجائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں اس ڈر کو تقوی کہتے ہیں۔ہر وہ کام جو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں کیا جائے گا اُسے نیک عمل کہا جائے وہی نیکی ہے جو آپ ﷺ کی سنت ہے جو آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔اللہ کریم ہم سب کا مل بیٹھنا قبول فرمائے
kaifiyat qalbi woh jala bakhshti hain jo abdal abad kamyabi ka sabab banti hain - 1

نماز وہ تحفہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو معراج شریف کے موقع پر اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوا


قیام ِصلوۃ جہاں بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے وہاں حفاظت الہیہ کا بھی ایک درجہ نصیب ہوتا ہے۔اگر اس فرض کو پورا کیا جائے تو بندہ مومن خود بخودبرائی سے دور ہو جاتا ہے اسی طرح نظام زکوۃ اسلامی معاشرے میں معاشی نظام کی وہ بنیاد ہے جو کہ دولت کی تقسیم کو معاشرے میں برابری پر لے آتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ نماز وہ تحفہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو معراج شریف کے موقع پر اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوا اورپھر اُمت کو بھی نصیب ہوا۔ اگر نماز کو شرفِ قبولیت نصیب ہو تو بندہ برائی او ر بے حیائی سے رک جاتاہے اگر نماز کی ادائیگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ کردار میں برائی اور بے حیائی بھی ہے تو ادائیگی میں کہیں کمزوری رہ گئی ہے۔وضو سے لے کر نیت اور پھر ادائیگی تک جس میں قیام،رکوع اور سجود شامل ہیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں مجھ سے کمی رہ گئی اسے دور کریں تا کہ ہم بھی وہ نتیجہ حاصل کریں جو قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ نماز برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ نماز بندہ مومن کی معراج ہے لیکن اس کے لیے نماز میں خشوع و خضوع کا ہونا پھر نماز میں خو دکو اللہ کے روبرو محسوس کرنا قرب الہی کی وہ کیفیت عطا فرماتا ہے کہ جس کے اثرات بندہ کو برائی اور بے حیائی سے روک دیتے ہیں نماز معاشرے میں رہنا سکھاتی ہے باجماعت نماز کی فضیلت بھی زیادہ ہے اور باہم رنجشیں بھی ختم ہوتی ہیں ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی ملتی ہے نماز کی ادائیگی ہر پہلو سے انسان کی ضرورت ہے جسے اللہ کریم نے اپنی رضا کا بھی سبب بنا دیا۔بندگی ہماری ضرورت ہے اللہ کریم اس پر اجر بھی عطا فرماتے ہیں کیا عطا ہے۔اللہ کریم توفیق عطا فرمائیں اور اللہ کے حکم کو پہلی ترجیح پر لے آئیں اور باقی تمام معاملات ثانوی درجہ پر چلے جائیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ رواں ماہ کے وسط میں امیر عبدالقدیر اعوان 15 روزہ دورہ برطانیہ کے لیے روانہ ہو ں گے جہاں برطانیہ کے مختلف شہروں میں بڑے اجتماعات سے خطاب کریں گے اور مختلف کمیونٹیز سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔پہلا پروگرام لندن میں 14 مئی کو ہوگا۔
Namaz woh tohfa hai jo nabi kareem SAW ko mairaaj shareef ke mauqa par Allah kareem ki taraf se ataa hua - 1

رمضان المبارک کی برکات اور اس میں کیا گیا مجاہدہ بندہ مومن کو تقوی کی دولت سے بہرہ مند فرماتا ہے


 رمضان المبارک کی برکات اور اس میں کیا گیا مجاہدہ بندہ مومن کو تقوی کی دولت سے بہرہ مند فرماتا ہے اور آخری عشرہ میں اللہ کریم اپنے اس بندے کو دوزخ سے رہائی کا پروانہ عطا فرماتے ہیں اب ہم پر منحصر ہے کہ آنے والے رمضان تک اپنی اس کیفیت کو برقرار رکھیں کہ اپنے ہر عمل اور اُٹھنے والے ہر قدم کو دیکھے کہ وہ سنت خیر الانام سے باہر تو نہیں ہے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری کے دارالعرفان منارہ میں خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مکمل آداب اور شرائط کا خیال رکھا جائے اعتکاف میں بندہ مومن سب سے کٹ کر اپنے آ پ کو مسجد کی حدود میں پابند کر لیتا ہے اور باقی تمام امور ثانوی حیثیت میں چلے جاتے ہیں اور بندہ مومن اللہ کریم سے اپنے بخشش کا طلب گار ہوتا ہے اور زندگی کے معاملات میں بھی وہ دل کی گہرائی سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ میری کوئی حیثیت نہیں ہے میرا ہونا میرے بس میں نہیں ہے تو نظام ہستی میں میں کیا کر سکتا ہوں۔
  یاد رہے کہ اس دس روزہ اعتکاف میں کئی افراد نے یہاں پر ہشت روزہ،سہہ ہفتہ اور پنج ہفتہ تربیتی کورسز مکمل کیے جن کی اسناد بدست حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی امتحانات پاس کرنے والوں کو دی گئیں۔اور یہاں ہزاروں افراد کی سحری و افطاری کا وسیع انتظام مرکز کی زیر نگرانی باقاعدہ نظم وضبط کے ساتھ ہوتی ہے اور الحمدللہ 29 شب کو حفاظ کرام نے تکمیل قرآن کیا اور اس کے بعد ملک اور قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی
Ramadaan ul mubarak ki Barkaat aur is mein kya gaya Mujahida bandah momin ko taqwa ki doulat se behra mand farmata hai - 1

بارگاہ رسالت ﷺ کی بے ادبی سے بندہ لمحوں میں اپنے اعمال ضائع کر بیٹھتا ہے


اللہ کریم کے حبیب ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ یہ بھی تھا کہ آپ کی آواز کتنا بڑا مجمع کیوں نہ ہو آپ ﷺ کی آواز سب کو برابر سنائی دیتی تھی۔کتنے ہی لوگ کیوں نہ کھڑے ہوتے آپ ﷺ کی شخصیت نمایاں نظر آتی۔یہود نے آپ ﷺ کو مخاطب کرنے کے لیے" راعنا"کے لفظ کو کھینچ کر بولا تو اللہ کریم نے اس لفظ کو ہی عربی لغت سے نکال دیا جس سے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کا شائبہ ہو سکتا تھا اور وہاں لفظ قولو انظرنا کا لفظ دیا۔بارگاہ رسالت ﷺ کی بے ادبی سے بندہ لمحوں میں اپنے اعمال ضائع کر بیٹھتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے ایسے لفظ کو لغت سے ہی ختم کر دیا جو گستاخی کا سبب بن سکتا تھا اور مزید یہ فرمایا کہ غور سے سنو یہ ضرورت کیوں پیش آئی کہ آپ کو دوبارہ عرض کرنا پڑا۔ہم نیکی او ربد ی کو بخوبی جانتے ہیں۔اُس کے باوجود ہم نیکی چھوڑتے ہیں اور بدی اختیار کرتے ہیں۔ایسے ہی سود کو حرام سمجھتے ہیں لیکن کتنے ایسے لوگ ہیں جو سود کا لین دین نہیں کر رہے یہ کیا ہم اُس حکم کو مان رہے ہیں جو واسمعو کے معنوں میں آتا ہے۔اور اس طرح کی گستاخی بندہ کو کفر تک لے جاتی ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ان کے لیے عذاب عظیم ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ ہم قرآن کریم کے احکامات  پر کتنا عمل کر رہے ہیں رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں بحیثیت قوم ہم نے جو رویہ مسجد نبوی میں اختیار کیا اس سے ہماری اُمتی کی نسبت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔رمضان المبارک کی ان ساعتوں کا بھی ہم پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔معاشرے میں اگر معاملات کو دیکھیں،لین دین کو دیکھیں،کاروبار کو دیکھیں تو کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا کہ رمضان المبارک ہے یا غیر رمضان ہے۔ وہی ہمارے کردار ہیں جو غیر رمضان میں ہوتے ہیں بلکہ  دیکھا یہ گیا ہے کہ اس سے بھی گئے گزرے ہو جاتے ہیں ہر چیز ہم رمضان المبارک میں مہنگی کر کے بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔
شب قد ر کی نسبت سے اللہ کریم کا اپنے بندوں پر خاص کریم کہ آخری عشرہ میں پانچ طاق راتوں میں لیلتہ القدر کی تلاش کر فرمایا تا کہ ہمیں اور مزید موقع مل سکے اگر صرف ایک رات کا ذکر ہوتا تو جس کی رہ جاتی وہ کیا کرتا اس موقع سے اللہ کریم کی خاص شفقت بھی محسوس ہوتی ہے اپنے بندوں پر اب ہم پر ہیں کہ ہم نے لیلتہ القدر کو کتنا پایا اللہ کریم اس رمضان المبارک کی برکات ہمیں اگلے رمضان المبارک تک لے جاتے کی توفیق عطا فرمائیں اور روزے تو گزر گئے رمضان کو جانے نہ دو یہ حضور حق کی کیفیت کو اگلے رمضان المبارک تک اپنے ساتھ رکھو۔روزے گزر گئے رمضان باقی ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
bargaah Risalat SAW ki be adbi se bandah lamhoon mein –apne aamaal zaya kar baithta hai - 1

جادو اور ٹونے کا راستہ شیطان کا راستہ ہے

دعوت ایمانی کے ساتھ ہم اتنے کمزور ایمان کے حامل ہوچکے ہیں کہ معاشرے میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ فلاں نے میری اولاد بند کر دی ہے میرے کاروبار پر جادو کر دیا گیا ہے۔یاد رکھیں جادو باطل ہے حق صرف دین اسلام ہے۔ذات باری تعالی ہر شئے پر قادر ہے اور یہ کام اللہ کریم کے قبضہ قدرت میں ہے یہ کمزوری ہماری طرف ہے کہ ہم جادو اورٹونے کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے ہم شیطان کے وسوسوں کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سنت اعتکاف پر آئے سینکڑوں معتکفین کے اجتماع سے خطاب!
 انہوں نے کہا کہ جادو اور ٹونے کا راستہ شیطان کا راستہ ہے اس پر چلنے سے منع فرمادیا گیا ہے جب بندہ کمزور اعتقا دکے ساتھ اس طرف چلنا شروع کردے تو یہ گہری کھائی میں لے جاتا ہے۔یاد  رکھیں کہ جادو ٹونہ کرنے والے غلاذت میں رہتے ہیں اور تمام عملیات گندگی سے کرتے ہیں اس  لیے اپنے آپ کو پاک صاف رکھا جائے ہر وقت طہارت میں رہیں اور اپنا ایمان اس بات پر مضبوط کریں کہ کوئی پتہ اللہ کے حکم بغیر حرکت نہیں کر سکتا۔ہمیشہ اللہ کریم سے ہی ہر شئے ہی مانگنی چاہیے اور اپنی ہر بات کا رخ اللہ کریم کی طرف ہی کرنا چاہیے۔
 زندگی محض گزار دینے کا نام نہیں قرآن کریم اور آپ ﷺ کی بعثت اس لیے ہے کہ ہم مکلف مخلوق کے ہر عمل کا حساب ہو گا اور جنت اور دوزخ میں داخلہ ہو گا اور یہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے مرکزیت عطا فرمائی ہے اور مقصد حیات تب پورا ہوگا جب اپنا سفر اُسی کی طرف رکھیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اوربقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔