Latest Press Releases


کائنات میں جہاں برائی پھیل رہی ہے وہاں نیکی کرنے والے اللہ کے بندے بھی موجود ہیں


کائنات کا قائم رہنا توازن سے ہے۔اگر معاشرے میں برائی ہے تو اللہ کریم کا احسان ہے کہ اچھائی کرنے والے نیکی کرنے والے علوم ظاہری اور کفیات باطنی کے حامل لوگ بھی اسی معاشرے میں موجود ہیں جن کی وجہ سے رحمت برستی ہے اور جہاں نیکی نہیں ہو گی برائی ہوگی وہاں اللہ کریم کا عذاب نازل ہوگا۔لیکن حدیث شریف میں ہے کہ قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ اللہ کرنے والا ایک شخص بھی کائنات میں موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیا میں جہالت تھی زمین پر کہیں عدل نہ تھا لوگ گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے تب نبی رحمت ﷺ کا مبعوث ہونا اور انتہائی قلیل وقت میں انصاف کا قائم ہونا انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔تو آپ ﷺ کی بعثت کائنات کے لیے رحمت کا سبب ہے کائنات کی بقا کا سبب ہے۔جب اہل ایمان اس دنیا سے اُٹھ جائیں گے پھر قیامت قائم ہو جائے گی۔معاشرے میں برائی بھی موجود رہتی ہے اور اچھائی بھی ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اپنے لیے کس راہ کا انتخاب کرنا ہے۔جولوگ معاشرے میں برائی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں یا معاشرے کی بقا کا سبب ہیں۔عمومی روش اختیار کرنے سے دنیا کے پیچھے بھاگنا یا دنیا کا مال ودولت اکھٹا کرنے کے لیے یا اقتدار کے حصول کے لیے حلا ل حرام،جائز نا جائز میں فرق نہ کرنا ایسی حیثیت کا کیا فائدہ جو بندے کو ڈبو دے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ وری نیکی اور تقوی وہ رستے ہیں جن کے اثرات آخرت تک بندے کے ساتھ جاتے ہیں اور یہی نیکی اور ورع تقوی اللہ کے قرب اللہ کی رضا کا سبب بنتے ہیں جبکہ اس کے برعکس فانی دنیا کی فانی حیثیت بندے کو اس دنیا میں ہی چھوڑ دیتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں آج اقتدار کسی کے پاس ہے توکل کسی اور کے پاس۔تو گناہ یا برائی کرنے سے وہ موقع جو گناہ کرتے وقت تھا وہ تو گزرگیا لیکن اس کے اثرات اس کا گناہ آخرت تک بندے کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے لیے سزا کا سبب بنتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کلمہ توحید سے بندے مومن کو وہ آزادی حاصل ہوتی ہے جو صرف اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود کرتی ہے اور مخلوق خدا سے آزاد کر دیتی ہے۔مخلوق سے اپنی امیدیں وابستہ کرنا کمزور ایمان کی نشانی ہے۔اللہ کریم کا احسان کے اپنا ذاتی کلام عطافرمایا اور راہنمائی کے لیے انیباء مبعوث فرمائے۔اللہ کریم سب کی حفاظت فرمائیں اور ہمارے معاشروں میں انصاف عطا فرمائیں اور ہمارا کردار ہی ہے جس کے سبب ہم سب مشکلات کا شکار ہیں۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

اللہ کی یاد،غفلت سے نکال دیتی ہے


 بندہ مومن کی گفتار،لین دین،کردار میں ایسا نکھار ہو،اعمال ایسے ہوں کہ دیکھنے والاخود خواہش کرے کہ میں بھی ایسا عمل اختیار کروں لیکن یہ سب ظاہری علوم کے حصول سے ممکن نہیں جب تک ھمہ وقت اللہ کی یاد اختیار نہ کریں، اللہ کی یاد انسان کو غفلت سے نکال دیتی ہے۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے معاملات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہمارے اعمال اختیار کرنے میں کہیں خرابی ہے، ہماری تو عبادات میں بھی سودے بازی ہوتی ہے فرائض کی ادائیگی میں بھی ہمارا مقصد حصول دنیا ہوتا ہے۔اپنی نیت اور عبادات کو درست کرنے کے لیے قلب کی اصلاح کی ضرورت ہے اور قلب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی اور کیفیات قلبی کا حصول ضرور ی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس دنیا میں اس فانی جہان میں تمام وہ اصول اپناتے ہیں جن میں نقصان کم سے کم ہو اور فائدہ زیادہ سے زیادہ ہو کیونکہ ہمیں دنیا کی حیات جو ہمارے سامنے ہے اس کا یقین ہے لیکن اخروی حیات کا یقین اس طرح سے نہ ہے اس لیے ہم اعمال کے اختیار کرنے میں بھی کمزوری کر جاتے ہیں۔
  ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں کوئی نہ کوکئی موضوع زیر بحث رہتا ہے وہ سیاسی صورت حال ہو یا مذہبی انتشار لیکن ایسی فضا بنی رہتی ہے کہ جس سے ملک میں افراتفری کا عالم برقرار رہے۔وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے اس کی بنیادوں میں ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی قربانیاں لگی ہیں یہ وطن عزیزاللہ کریم کی خاص عطا ہے حب الوطنی کا جزبہ بھی تب ہی ہو گا جب اسلام پر عمل کیا جائے گا اس وطن عزیزکی حقیقت اسلام کو اپنانے سے ہی سمجھ میں آئے گی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں 
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور ملکی بقا اور امن کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
Allah ki yaad, Ghaflat se nikaal deti hai - 1

وطن عزیز کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے لیے اصول بھی ریا ست مدینہ کے اپنانے ہوں گے


نور ایمان مخلوق میں رہنے کے وہ اصول دیتا ہے جو ریاست مدینہ میں قائم تھے۔ہر فرد سے ریاست مدینہ کا عکس نظر آتا ہے۔ہر مومن کے اند ر ریاست مدینہ قائم ہو جاتی ہے۔ہمارا دعوی تو ہے لیکن کیا ہمارے اعمال،ہمارے قوانین ایسے ہیں کہ مدینہ جیسی ریاست قائم کر سکیں۔اگر دعوی ایمان بھی ہے لیکن ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آرہی اگر گناہ ہضم ہو جاتا ہے کوئی پشیمانی بھی نہیں ہوتی،ندامت نہیں ہوتی تو یہ بہت بڑی بد بختی ہے خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے اپنا محاسبہ کرنیکی ضرورت ہے، زہر ہضم ہو جائے تو موت کا سبب بنتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 
  انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کے ادارے ہمارے ہیں اس کے باسی ہمارے ہیں۔آج ہمارے لیڈران وطن عزیز کو اپنی ذات تک لے آئے ہیں اپنی انا اور اپنی پسند سے وطن عزیز کے فیصلے کرتے ہیں اگر ہم اس نزاکت کو نہیں سمجھیں گے تو نقصان کسی کی ذات کا نہیں بلکہ وطن عزیز کا ہوگا۔اس کی بنیادوں میں لوگوں کا خون لگا ہے۔وطن عزیزاسلام کے نام پر بنا ہے۔ان شاء اللہ اگر وطن عزیز پر کوئی مشکل وقت آیا تو ایسی مخلوق موجود رہے گی جو پھر سے وطن عزیزکے لیے اپنی جانیں قربان کرے گی۔اللہ نہ کرے کہ اس پر ایسا وقت آئے۔ 
  انہوں نے مزید کہا کہ مخلوق میں ایسے رہو جیسے اللہ کریم نے پسند فرمایا ہے۔انسانیت کی معراج اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔صحیح اور غلط کی پہچان رکھیں تو زندگی خوبصورت گزرتی ہے۔نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق نہ چلیں تو خرابی اور فساد پیدا ہوتا ہے،اور ہمارے جس غلط عمل سے معاشرے میں خرابی پیدا ہوئی اس کا بھی جواب دینا ہوگا۔ہر عمل معاشرے پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے اگر نیک عمل ہو گا تو اثرات بھی اچھے ہوں گے معاشرے میں بہتری آئے گی اگر عمل براہوگا تو معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنے گا ہمارے کردار کی وجہ سے معاشرے میں ظلم ہو رہا ہے۔آج بد تمیزی اور بد اخلاق عام ہے اور جو لوگ اس کی روک تھام کے لیے بات کر رہے ہیں ان کا بات کرنے کا انداز بھی بداخلاقی پر مبنی ہے۔یہ سب کی وجہ ہمارے اعمال ہیں جن سے ہم خود بھی اور معاشرہ بھی متاثر ہے۔آج مظلو م بھی ظالم بن چکا ہے جہاں تک جس کا اختیار ہے وہ کم نہیں کر رہا۔
  آخر میں انہوں نے کہا کہ روشنی اور اندھیر ے میں فرق یہ ہے کہ اندھیرے میں کچھ نظر نہیں آتا جبکہ روشنی میں ہر چیز واضح ہوتی ہے بندہ ٹھوکروں سے بچ جاتا ہے۔دین اسلام روشنی ہے مخلوق خد ا کے ساتھ رہنے کے لیے وہ اصول اپنانے کی ضرورت ہے جو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

Watan Aziz ko madinah jaisi riyasat bananay ke liye usool bhi riyasat madinah ke apnane hon ge - 1

روحانی استعداد اور کیفیات قلبی کے حصول کے لیے شیخ کے پاس جانا پڑتا ہے


کیفیات قلبی اور اللہ اللہ کی یہ دولت یہاں (چکڑالہ)سے پوری دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے اور آج سے ستر سال پہلے حضرت مولانا اللہ یار خاں ؒ نے یہاں سے کلمہ حق بلند فرمایا اور ہر آنے والے کو کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ جو کہ سینہ اطہر سے آرہی ہیں سے بہر ہ مند فرمایا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے چکڑالہ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے مزیدکہا کہ نورایمان وہ قوت ہے جسے نصیب ہوتی ہے اسے اعمال صالح پر مجبور کر دیتی ہے۔یاد رکھیں کہ یہ لطائف اور مراقبات اس مشت غبار کو اس درجہ پر پہنچاتے ہیں کہ بندہ کو آپ ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کا شرف حاصل ہوتا ہے اور یہ روحانی استعداد اور کیفیات کے حصول کے لیے شیخ کے پاس جانا پڑتا ہے اور اس کو باقاعدہ سیکھنا پڑتا ہے اور اختیار کرنا پڑتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو ایسے اختیار کریں جیسے نبی کریم ﷺ نے کرنے کا حکم فرمایا ہے اس طرح دنیا کے سارے کام عبادات میں شمار ہوں گے۔بچوں کی روزی کمانے سے لے کر دیگر دنیا وی امور دین اسلام کے مطابق کرنے سے اللہ کریم اجر بھی عطا فرماتے ہیں اور یہی کام قر ب الہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ذکر قلبی کا طریقہ بتایا اور تمام حاضرین کو ذکر قلبی کرایا۔

Rohani istedad aur kaifiyat qalbi ke husool ke liye Sheikh ke paas jana parta hai - 1

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت تحصیل لاوہ ضلع چکوال میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد


الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت تحصیل لاوہ ضلع چکوال میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔اس میڈیکل کیمپ میں میڈیکل سپیشلسٹ،چائلڈ سپیشلسٹ،سکن سپیشلسٹ اور ڈینٹل سپیشلسٹ کے علاوہ آرتھوپیڈک ڈاکٹرز نے شرکت کی۔اس میڈیکل کیمپ کا آغاز صبح 10 بجے کیا گیا جس میں 380 مریضوں کا مفت معائنہ ہوا اس کے علاوہ مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔یہ فری میڈیکل کیمپ سابقہ ڈی سی جناب ملک شیر محمد اعوان مرحوم کے رہائش گا ہ پر لگایا گیا۔اور انہوں نے اس میڈیکل کیمپ کی میزبانی کی۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان نے اس میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے ذیلی شعبوں میں الفلاح فاؤنڈیشن بھی ایک شعبہ ہے پورے ملک میں جتنے فلاحی کام ہو رہے ہیں ان میں اپنی استعداد کے مطابق حصہ ڈالا جاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ اس تمام کام کے لیے کوئی چندہ اکٹھا نہیں کیا جاتا بلکہ اپنی مددآپ کے تحت ساتھی انتظامات کرتے ہیں۔
  سابقہ چھ ماہ میں کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران مستحقین میں گھر گھر جا کر راشن تقسیم کیا گیا۔اس کیمپ میں راولپنڈی ڈویژن کے صدر تنظیم الاخوان جناب میجر غلام قادری،جنرل سیکرٹری محمد ارشد،سرگودھا ڈویژن کے صدر حاجی شکیل کے علاوہ سیکرٹری اطلاع پاکستان امجد اعوان نے بھی شرکت کی۔آخر میں امیر عبدالقدیر اعوان نے خصوصی دعا فرمائی۔ 

Al falah foundation Pakistan ke tehat tehseel لاوہ zila chkwal mein free medical camp ka ineqad - 1

دین اسلام کے نام پر بننے والے وطن عزیز میں حق بات کہنا مشکل ہو گیا ہے


  سود کا لین دین انفرادی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک ہو رہا ہے۔معذرت خواہانہ اسلام اختیار کرنے کی بجائے عملی طور پر اسلام کے اصولوں کو اپنایا جائے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر ہمیں مذہبی فساد کی طرف دھکیل رہے ہیں۔جس سے خبر دار ہوتے ہوئے آپس میں اتفاق و اتحاد کی ضرورت ہے۔اور سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ ہم عملی طور پر مسلمان بنیں سب سے بڑی تبلیغ ہی یہ ہے کہ ہمارے کردار اور عمل سے اسلام کی جھلک نظر آئے۔ملک کا معاشی نظام سود پر مبنی ہے اور یہ فعل ایسا ہے کہ جس سے ہمارے حالات درست سمت اور خوشحالی کی طرف نہیں جائیں گے بلکہ مزید خرابی اور مصیبتیں ہمارے اوپر آئیں گی۔کیونکہ سود کے بارے ارشاد ہے کہ یہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سود کتنا غلط اور برا عمل ہے تو پھر حکومت سے گزارش ہے کہ ملک سے سود کو ختم کیا جائے اور اسلامی معاشی نظام کی بنیاد رکھی جائے۔ان شاء اللہ ہم سب اس کے ثمرات کو خود دیکھیں گے۔
  آخر میں ملک کی بیٹیوں کی عصمت دری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری غیر ت ایمانی کہاں ہے اسی خطہ زمین پر ایک بیٹی کی آواز پر محمد بن قاسم ؒ آئے اور اس زمین پر اسلام کی بنیا د رکھی اور آج یہاں کلمہ حق کی آواز بھی بلند ہو رہی ہے اور عزتوں کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔اللہ کریم ہماری لغزشوں کو معاف فرمائیں اور اس ملک کی حفاظت فرمائیں۔
Deen islam ke naam par ban'nay walay watan Aziz mein haq baat kehna mushkil ho gaya hai - 1

دین اسلام کے تمام قوانین قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں


 دین اسلام کے تمام قوانین قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں اور یہ اصول ایسے ہیں کہ ان کے اطلاق سے معاشرے میں توازن قائم ہوتا ہے اورجرائم نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔آپ ﷺ نے چوری کی سزا پر ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا ہے لیکن افسوس کہ آج ہمارے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے اس پر اعتراض ہورہے ہیں جو کہ صریح گستاخی ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم خود آگ جلائیں اور پھر اس میں ٹھنڈک کے بھی منتظر ہوں۔حضرت امیر عبدالقدیراعوان مدظلہ العالی کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب ۔
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن ہمارے قومی اسمبلی،سینٹ اور پارلیمانی اداروں میں اسلامی سزاؤں پر اعتراضی پہلو میں بات ہورہی ہے یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ حدود قیود اللہ کریم نے خود متعین فرما دی ہیں ان میں کسی ایک پر بھی اعتراض کرنا درست نہیں۔چوری کی سزاپر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے پھر دوسرا کون ہے جو اس سزا سے بچ سکتا ہے۔یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم عدل میں مساوات قائم کرتے ہوئے قانون کا اطلاق کریں۔اور غیر مسلم معاشروں کے قوانین اور اصولوں سے راہنمائی لینے کی بجائے اسلام کے اصولوں کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل کیا جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت مسلمان اللہ کریم کے ہر حکم کی بجا آوری ہی میں ہماری کامیابی ہے جہاں بھی ہم اپنی مرضی کرتے ہیں وہاں شیطان کے طریقے پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔جو کہ ہمیں دنیا میں بھی رسوائی کی طرف لے کر جاتا ہے اور آخرت بھی خراب ہوتی ہے۔اس وقت تصوف کے نام پر جو خرافات معاشرے میں ہورہی ہیں یہ تصوف نہیں ہے بلکہ یہ گمراہی ہے ایسے لوگ خو دبھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
 
Deen Islam ke tamam qawaneen qayamat tak ke liye qabil amal hain - 1

وطن عزیز میں بیٹیوں کی عصمت دری ہوتی ہے لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا


موجودہ قوانین کا ا طلاق اگرمساوات کے ساتھ ہو جائے تو پھر اس طرح بیٹیوں کی عصمت دری کرنے کی کسی کو جرات نہ ہو گی۔معاشرہ کی تکمیل،رشتوں کا تقدس اور عدل میں مساوات تب ہی ممکن ہے جب ہم اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ایک بیٹی کی عصمت دری کی گئی میڈیا نے اس درد ناک سانحہ کو بہت زیادہ اجا گر کیا۔لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ صاحب اقتدار سے لے کر عام آدمی تک کسی نے اس درد ناک سانحہ کا درد محسوس نہ کیا۔یاد رکھیں جن کے پاس قوت نافذہ ہے وہ یقینا روز آخرت اپنے اختیار کے متعلق ضرور جوابدہ ہونگے۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا نظام عدل ایسا ہے کہ ہمیں انصاف مل نہیں رہا بلکہ ہم انصاف بھگت رہے ہیں۔اگر ہمارا معاشرہ مسلم معاشرہ ہے ہمارا اللہ کریم اور نبی کریم ﷺ پر مضبوط ایمان ہے تو پھر ہم آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کیوں نہیں کر رہے۔ہمارے حکمران نظام پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن تبدیل نہیں کر رہے جب روش وہی ہو گی جس پر چل کر گمراہی اور برائی پھیلتی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں تبدیلی کیسے آسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کم ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔کیونکہ ہماری سمت درست نہیں ہےلوگ مسلمان ہونے کے باوجود اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ملک پر اسلام نافذ ہو جائے۔یہ کیسی مسلمانی ہے دعوی ایمان بھی ہے لیکن عملی زندگی میں ہم اسلام سے دور بھاگتے ہیں۔
  انہوں  نے مزید کہا کہ لوگوں کے پاس قوت خرید نہیں رہی جس کے پاس پیسہ ہے اسے بازار سے چیز نہیں مل رہی۔رشتے ہیں تقدس ختم ہو گئے۔ہم مسلمان ہیں تو کیا ہمیں خود کو دیکھنا نہیں چاہیے اپنے کردار کو دیکھیں،جس کی مخلوق ہیں جو ہمارا خالق ہے کیا ہمیں اللہ کریم کے احکامات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔اگر میں پورے ملک پر اسلام نافذ نہیں کر سکتا تو اپنے اس 6 فٹ کے پاکستان اپنے وجود پر تو اسلام نافذ کر سکتا ہوں۔کیا ہمیں اپنے معاملات اپنی گفتگو لین دین اسلامی نہیں کرنا چاہیے۔کیا میں خود لوگوں کے ساتھ انصاف کر رہا ہوں یا دھوکہ دے رہا ہوں۔میری گفتگو میں سچائی ہے یا منافقت ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور دین اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرے کی توفیق عطا فرمائے۔

Watan Aziz mein baityon ki asmat darri hoti hai lekin insaaf kahin nazar nahi aata - 1

بھائی کو بھائی پر والدین کو اولاد پر اور خاوند کو بیوی پر اعتبار نہیں ہے


جمہوریت اور ہمارے ہاں رائج جمہوری نظام کی اساس یہ ہے کہ کثرت رائے کو اہمیت دی جائے لیکن آپ کے مبارک دور میں فیصلے کثرت رائے کے مطابق نہ ہوئے۔غزوہ بدر جو برپا ہوا وہ کثرت رائے کے مطابق نہ تھالیکن اُن قلیل عظیم ہستیوں پر اللہ کریم نے فرشتوں کا نزول فرمایا۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس بات کی رائے کس سے لے رہے ہیں۔اگر کسی ایسے بندے سے رائے لی جائے جوشعبہ امن کا ماہر نہ ہووہ گمراہی میں لے جائے گا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں اس وقت منتخب حکومت جمہوریت کے تحت وجود میں آئی۔لیکن اس نظام میں ایک بہت بڑا سُقم یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نظام حکومت چلانے والے جتنے ذمہ دار ہیں ان کے لیے کوئی ایسے پیمانے مقرر نہیں ہیں جس کے تحت وہ اگر پورے ہوں تو وہ اس اسمبلی میں آسکتے ہیں۔ اگر باقی تمام شعبوں کے لیے معیار،حدود و قیود مقرر ہیں تو پھر ایسے افراد جنہوں نے نظام حکومت کو چلانا ہے ان کے لیے کوئی معیار مقرر نہ ہے۔جب اس سارے سسٹم کے مطابق لوگ ہمارے اوپر حکومت کریں گے جو کہ ان شعبہ جات کے ماہر نہ ہوں گے تو پھر نتائج جو ہم آج بھگت رہے ہیں وہ ہی ہوں گے زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم باہر سے منگوا رہے ہیں وہ گنا جو کوڑیوں کے بھاؤ سے کسان سے خریدا جاتا ہے لیکن چینی کی قیمت آسمان کو چھور ہی ہے۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے نظام حکومت کے لیے کوئی معیار مقرر نہیں کیا ہوا۔آج جہاں ملکی سطح پر ہم مشکل کا شکار ہیں وہاں جب ہم معاشرے سے گھر تک اور پھر خاندان تک آتے ہیں تو دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ بھائی کو بھائی پر والدین کو اولاد پر اور خاوند کو بیوی پر اعتبار نہیں ہے۔تو اس کا سبب کیا ہے؟ سبب یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات نفس کے اسیر ہو چکے ہیں،غیبت میں مبتلا ہو چکے ہیں،اس سے آپس میں محبت کی بجائے نفرت بڑھتی ہے اور آپس میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
  یاد رہے کہ 6 ماہ بعد کورونا مرض کے بعد اب 6,5 ستمبرمیں روحانی تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں آپ کا بیان 6 ستمبرکو یوم دفاع کے موضوع پر ہو گا۔جس میں ملک کے طول و عرض سے خواتین و حضرات شرکت کریں گے۔
 

Bhai ko bhai par walidain ko aulaad par aur khawand ko biwi par aitbaar nahi hai - 1

اپنے سمیت خاندانِ رسول ﷺ قربان کر دیا لیکن حق میں نا حق کی آمیزش نہ ہونے دی


اپنے سمیت خاندانِ رسول ﷺ قربان کر دیا لیکن حق میں نا حق کی آمیزش نہ ہونے دی۔نہ امارت کی خواہش تھی اور نہ کوئی اور تضاد تھا اختلاف صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ نے جو اصول واضح فرمائے ہیں ان میں ایک نقطے کی بھی کمی یا زیادتی نہ ہونے دی جائے۔دین اسلام کے لیے حضرت حسین ؓ نے اتنی بڑی قیمت چکائی جسے قیامت تک بھلایا نہیں جا سکے گا۔
 میرا حسین سدا کربلا میں رہتا ہے 
 میں حُر ہوں کسی  یزید کا  غلام نہیں 
 ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ یزید کے انداز امارت میں اس کی اپنی پسند کی بو تھی جسے حضرت حسین ؓ نے نا پسند فرمایا اور رہتی دنیا تک یہ واضح پیغام دے گئے کہ دعوی عشقِ مصطفے ﷺ کو ایسے ادا کرو کہ پھر اپنی پسند نا پسند ہماری راہ میں نہ آئے۔ہماری دوستی دشمنی،لین دین،معاملات کا پیمانہ وہ ہو جو آپ ﷺ نے ہمیں دیا۔ہماری دعائیں اور شفاعت رسول ﷺ تب قبولیت کو پائیں گے جب ہم اپنے اندر ہر لمحے کربلا کو سجائیں گے۔ہمیں اپنے نفس،اپنی خواہشات کے خلاف برسرپیکار ہونا ہو گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم خانوادہ رسول ﷺ کی عظیم قربانیوں کو جو انعام عطا فرمائیں گے اس کا تصور ہمارے لیے ممکن نہ ہے دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس وقت دارِ امتحان میں ہیں اور زندگی کے ایام بسر کر رہے ہیں ہم جی بھی رہے ہیں اور ہمارے سامنے صحابہ کرام ؓ اور ازواج مطہرات اور خانوادہ رسول ﷺ کی شان میں گستاخیا ں بھی ہو رہی ہیں۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنا درد بیان کر سکوں کہ اس کی مجھے کتنی تکلیف ہے۔حکومت وقت سے اپیل ہے کہ ان گھناؤنی سازشوں کے سد باب کے لیے فوری اقدامات کرے۔اور اس کو بغیر تاخیر اپنے منطقی انجام کو پہنچائیں۔قدرتی آفات،سیلاب،بیماریاں اور تعفن ہمارے اوپر آئے ہوئے ہیں ان کا سبب بھی ہمارے اعمال ہیں حکومت وقت اس نفاق کو سمجھے جو کہ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جو کہ کبھی سرحدوں پر،کبھی اسلام پر اور اب یہ گستاخیاں کر کے۔
  عامۃ الناس جب انصاف کے لیے نکلتی ہے تو پھر اس آگ کو روکنا حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔اللہ کریم ہمارے گناہ معاف فرمائے ہمیں حق کے ساتھ زندہ رکھے اور حق پر موت دے (امین)
Apne samait khandanِ-e-rasool SAW Qurbaan kar diya lekin haq mein na haq ki ameezash nah honay di - 1