Latest Press Releases


رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ جس میں بندہ مومن کو آگ سے بری ہونے کو عام فرما دیا۔


شب قدر وہ عظیم رات ہے جس میں کلام ذاتی (قرآن مجید) کے نزول کی ابتداء ہوئی اور اس رات کو اللہ نے اتنی برکت عطا فرمائی اس رات کو راتوں کی سردار رات کہا گیا۔اور آپ کی حسرت کے میری اُمت سابقہ اُمتوں کے مقابلے میں اتنی عبادت نہ کر پائے گی کیونکہ سابقہ اُمتوں کی عمریں بہت زیادہ تھیں۔تو اللہ کریم نے احسان فرمایاکہ لیلتہ القدر عطا فرمائی جس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب 
 انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کو اگر یہ ادراک نصیب ہوجائے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ کتنا قیمتی ہے تو وہ غفلت سے نکل کر اپنے آپ کو متوجہ الی اللہ کر لے۔اور یہ احساس بندہ مومن میں تب پیداہوتا ہے جب اپنی زندگی کے معمولات میں ذکر الہی کو اولین ترجیح دے گا۔قرآن مجید میں ہر عبادت،نماز،جہاد،حج اور روزی کمانے کے حکم کے ساتھ ذکر الہی کا تاکیدی حکم فرما دیا ہے۔اب اس کو اختیار کرنے کے لیے جیسے تعلیمات نبوت کے لیے علماء کے پاس جانا پڑتا ہے اسی طرح اس شعبہ کے حاملین صوفیاء کی خدمت میں حاضر ہونا اتنا ہی ضروری ہے۔  رمضان المبارک کے روزے اللہ کی رضا کے لیے،راتوں کا قیام اس کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جائے  اور تیسرے عشرے میں یہ قیمتی رات  جس کی نشاندہی آپ ﷺ نے فرمائی کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے۔یہ محض پانچ راتیں ہیں جن میں ہم لیلتہ القدر کو پا سکتے ہیں۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بے عملی اور انحطاط کا اس حد تک شکار ہو گئے ہیں کہ ان راتوں کو بھی رواجات کی نذر کر دیتے ہیں جو کہ ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔آئیں ہم اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کر دیں اور اس طرح کی محبت کی جھلک ہم میں بھی نظر آئے کہ اگر نہاں خانہ دل میں کہیں کوئی شیطنت ہے تو اس رات کی برکت سے دھل جائے اور اللہ کریم سے جہاں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بخشش طلب کی جائے وہاں اس کورونا بیماری سے نجات کے لیے بھی دعا کی جائے۔
Ramadaan ul mubarak ka teesra ashra jis mein bandah momin ko aag se buri honay ko aam farma diya  - 1

اللہ کریم کی بھیجی ہوئی نصرت سے معرکہ بدرمیں کئی متکبر سرزمین بوس ہوئے


اسلام اور کفر کے درمیان پہلا معرکہ 17 رمضان المبارک میں میدان بد رمیں ہوا اور اس میں آپ کی دعا اور اللہ کی بھیجی ہوئی نصرت سے کئی متکبر سرزمین بوس ہوئے۔کفر نے اپنا پورا زور لگایا اپنے تمام اسباب اکٹھے کر کے میدان میں اترے۔نبی کریم ﷺنے عریش بدر یہ دعا فرمائی اور نہایت قلیل سامان جنگ اور بہت کم تعدادمیں صحابہ کرام ؓ کے ہمراہ مقابلہ کیا۔اللہ کریم نے عظیم فتح عطا فرمائی۔313 صحابہ بدر نے ایک ہزار کے لشکر پر سبقت حاصل کی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارکے کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ اس وقت رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ اختتام پزیر ہونے کو ہے بخشش عام ہے پہلے عشرے کی رحمت سے بندہ مومن میں اپنی کم مائیگی کا احساس پیدا ہو ااور وہ اپنے سابقہ گناہوں پر نادم ہو کر اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے اور وہ گرد جو اس پر پڑی ہوتی ہے اس رحمت سے دھل جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کورونا وبائی مرض میں شدت ہے جس کے لیے ہم سب کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ سب آپ نے بھی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔یہ سب اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنا معاملہ اللہ کریم کے سپرد کر دیا جائے . کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جسے کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔
  یاد  رہے کہ اس دفعہ مرکز دارالعرفان میں اجتماعی اعتکاف انتہائی محدود کر دیا گیا ہے اور تمام ایس او پیز کے تحت آنے کی اجازت دی گئی ہے۔آخر میں انہوں نے وبائی مرض کورونا سے نجات کے لی خصوصی دعا فرمائی۔
Allah kareem ki bhaije hui nusrat se maarka بدرمیں kayi mutaqabbir sar zamen bose hue - 1

ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ان روشن دلائل کی طرف آنا ہوگا جو اللہ کریم نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے ہیں


رمضان المبارک میں اللہ کریم نے اپنا ذاتی کلام نازل فرمایا اور وہ اصول و قوانین عطا فرمائے جو اتنے مستحکم اور مساوات پر مبنی ہیں جو رہتی دنیا تک قابل عمل ہیں۔آج اگر کوئی غیر مسلم بھی ان احکامات پر عمل کرتا ہے تو اسے بھی دنیاوی فائدہ ملتا ہے۔اور اُمت رسول ﷺ کا فرد ہوتے ہوئے انفرادی سطح پر یا قومی سطح پر جہاں بھی ہم نے ان احکامات کو چھوڑا وہاں ہمیں رسوائی اُٹھانی پڑی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنطیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم عظمت والے مہینے میں نصیب ہوا۔یہ کلام زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فرماتاہے۔ذاتی زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی کے ہر پہلو کی راہنمائی موجود ہے۔اقوام سابقہ سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک ہر قسم کے حالات اور سوالوں کے جوابات اس کلام میں موجود ہیں۔آج ہم کھیل تماشہ میں پڑے ہوئے ہیں ذاتی حیثیت میں یا قومی سطح پر آج ہم اعلانات تو کرتے ہیں لیکن ان میں عملی طور پر حقیقت نہیں ہے اس لیے ہمیں نتائج نہیں مل رہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ان روشن دلائل کی طرف آنا ہوگا جو اللہ کریم نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے ہیں اور آپ ﷺ نے ان پر عمل کر کے دکھایا۔پھر آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے ان احکامات پر عمل پیرا ہو کر دکھایا۔آج اگر کوئی اپنی پسند کے مطابق ان احکامات کا مطلب نکالے گا تو ٹھوکر کھائے گا۔عظمت رمضان یہ ہے کہ اپنی سوچ سے لے کر ملکی سطح تک ہر کام میں قرآن کریم سامنے رکھ کر فیصلہ لیا جائے۔اور اس ماہ مبارک میں اجتماعی طور پر اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے اس وبائی مرض سے نجات کے لیے دعا کریں۔اسی طرح ریاست مدینہ کے دعووں سے نکل کر حقیقی طور پرعمل کریں اگر ایسا نہ کیا تو اللہ کریم ایسی مخلوق پیدا فرما دیں گے جو ان حقائق کو پائے گی اور وہ خوش نصیب ہوں گے جو اللہ کریم کی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کریں گے۔
Riyasat medina ke qiyam ke liye un roshan dalail ki taraf aana hoga jo Allah kareem nay aap SAW ke zariye hamein ataa farmaiye hain - 1

روزے دار کو حضور حق کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی ہو خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے


رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت ہے ہمیں اپنی کمی بیشی کا تدارک کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کی بجا آوری لانا ہے۔اور جب شیاطین قید ہیں تو ہمارا اُٹھایا گیا غلط قدم غیر رمضان میں کیے گئے گنا ہوں کے نتیجہ میں ہے۔رحمت باری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اللہ کریم سے بخشش طلب کی جائے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کیا جائے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا رمضان المبارک کے پہلے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں ایمان عطا فرمایا اور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے نوازا۔اپنے ذاتی کلام سے سرفراز فرمایا اتنی عطا ذرا غور تو کریں اس کے علاوہ رمضان المبارک جیسا مہینہ پھر اس کی برکات،  انسان کو بہانوں سے عطا کیا جا رہا ہے۔ اس مبارک مہینے میں اللہ کریم بندہ مومن کو اوصاف ملکوتی کے لیے مخصوص وقت میں حلال رزق سے بھی روک دیا جاتا ہے۔کہ میرے بندے میں ملائکہ جیسے اوصاف پیدا ہوں۔تو عبادت سے مراد اطاعت ہے بندگی ہے جو حکم ہوگیا بس اس کی اطاعت کرنی ہے۔پھر روزے دار کو حضور حق کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی ہو خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے کہ اکیلا بھی ہو تب بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے  اگر باقی گیارہ ماہ بھی یہ کیفیت نصیب ہو تو پھر زندگی کیسی ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے 30 روزے گنتی کے دن ہیں کسی دوسرے کو ترازو میں رکھنے کی بجائے خود کو دیکھیں پہلا عشرہ اپنی بے پناہ رحمتوں کے ساتھ ہماری زندگی میں ایک بار پھر اللہ کریم نے عطا فرمایا ہے روزے کی وہ کیفیت جو ہمیں اللہ کے روبرو کر دیتی ہے ہماری عملی زندگی میں اس کے کیا اثرات آئے ہیں،اگر ٓج بھی ہم وہی نافرمانیاں کر رہے ہیں جو کرنے کے بعد ہم انہیں شیطان کے ذمہ لگا دیتے تھے تو شیطان تو رمضان المبارک میں قید کر دئیے جاتے ہیں پھر ہم سے یہ نافرمانی کیوں ہو رہی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ روش جو ہم نے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اپنائی وہ شیطنت اس قدر ہمارے اندر رچ بس گئی ہے کہ اب وہی شیطانی کام ہم خود کر رہے ہیں۔  زندگی کے ہر پہلو میں حدودو قیود مقرر ہیں انہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Rozay daar ko huzoor haq ki aik kefiyat naseeb hoti hai ke woh jahan bhi ho khud ko Allah ke rubaroo mehsoos karta hai - 1

انسانیت کوئی مذہب نہیں،مذہب دین اسلام ہے جو انسانیت کا درس دیتا ہے


انسانیت کوئی مذہب نہیں،مذہب دین اسلام ہے جو انسانیت کا درس دیتا ہے جہاں سے دین اسلام کو اُٹھا لیا جائے وہاں پھر انسانیت نہیں رہتی۔اللہ کریم ساری کائنات کے خالق ہیں آپ نے قرآن کریم میں بار بار والدین کے حقوق، اولاد کے حقوق بیان فرمائے ہیں کیونکہ مرد اور خاتون انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہیں اور افزائش نسل کا سبب ہیں آنے والی نسلوں کا انحصار انہی دو اکائیوں پر ہے اگر ان میں بگاڑ آئے گا تو سارا معاشرہ متاثر ہوگا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اولاد کی تربیت نہ کرنا ہمیشہ کی تکلیف کا سبب بنتا ہے۔اولاد کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ والدین خود باعمل ہوں جب ہم خود عمل نہیں کریں گے تو اولاد کیسے سبق حاصل کرے گی تبلیغ کا سب سے خوبصورت انداز کردار ہے جو ہمیں صحابہ کرام ؓ سے ملتا ہے جنہوں نے براہ راست نبی کریم ﷺ سے تربیت لی۔آج ہر کوئی آزادی کی بات کرتا ہے کہ ہمیں آزادی چاہیے۔انسانی آزادی وہ ہے جو اللہ کریم نے عطا فرمائی ہے اس سے آگے بڑھیں گے تو فساد ہوگا،خرابی آئے گی۔آج بے دینی کو انسانی آزادی کہا جاتا ہے ہر ملک اپنے قانون کے تحت آزادی دیتا ہے اللہ کریم نے جو حدودو قیود مقرر فرمائی ہیں اس بات کی سمجھ کیوں نہیں آتی۔ہمیں اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دینی چاہیے تا کہ علوم حاصل کرنے کے ساتھ ان کی تربیت بھی ہو کیونکہ تعلیم میں اگر کمی رہ جائے تو تربیت اس کو پورا کر دیتی ہے اگر تربیت میں کمی رہ جائے تو پھر اسے کوئی پورا نہیں کر سکتا۔دنیاوی علوم حاصل کریں لیکن دنیا ہی کو کل جاننا درست نہیں۔اولاد کو تعلیم دلوائیں ان کو ذریعہ معاش کے قابل بنائیں یہ سب والدین کی ذمہ داری میں شامل ہے۔۔ اللہ کریم اپنی مقرر کردہ حدود کے مطابق ہمیں اپنی زندگیاں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Insaniat koi mazhab nahi Mazhab Deen-e-Islam hai jo Insaaniat ka dars deta hai - 1

عبادات کا اجر گنتی سے نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ اس کی ادائیگی کتنے خلوص سے کی گئی ہے


عبادات کا اجر گنتی سے نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ اس کی ادائیگی کتنے خلوص سے کی گئی ہے آج اگر کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا اللہ کی راہ میں دے اور ایک صحابی ؓ ایک مُٹھ جَو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو اجر کے لحاظ سے سونے پر بھاری ہوں گے کیو نکہ نیت اور اخلاص غیر صحابی کا صحابی کے برابر ہونہیں سکتا۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ ذکر قلبی ان کیفیات کے حصول کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جو کہ قلب اطہرمحمد الرسول اللہ ﷺ سے آرہی ہیں اور یہی وہ کیفیات ہیں جو بندہ کے قلب کے اندر وہ خلوص پیدا کرتی ہیں جو کہ ہر نیکی کی بنیاد ہے۔اور یہ کیفیات ایک تسلسل کے تحت آرہی ہوتی ہیں اور آگے تقسیم ہورہی ہوتی ہیں۔اگر کوئی اس سے منسلک ہوئے بغیر چاہے کہ یہ حاصل ہو جائیں تو یہ ممکن نہ ہوگا ۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ اس ماہ دارالعرفان منارہ میں اپریل 2021 کا ماہانہ اجتماع  رمضان المبارک کے اجتماعی اعتکاف کی وجہ سے منعقدنہیں ہو رہا۔
Ibadaat ka ajar ginti se nahi balkay is baat par hai ke is ki adaigi kitney khuloos se ki gayi hai - 1

بندہ مومن کی بہترین تبلیغ اُس کا اپنا کردار ہے


 بندہ مومن کی بہترین تبلیغ اس کا اپنا کردار ہے جو کہ وہ معاشرے میں دوسروں کے ساتھ باہم میل جول  لین دین،عہد کو پورا کرنا اور معاملات میں کھرا پن کا ہونا شامل ہے۔احکامات دین کو عملی طور پر اختیار کرنا اس کے نفاذ کی سب سے بڑی شہادت ہے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں پر بندہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس امتحان گاہ کا ہونا مکمل ہی تب ہوتا ہے جب بندہ اپنی مرضی سے اپنا عقیدہ اور مذہب اختیار کر سکے۔آپ ﷺ نے عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری سنائی اور اعمال بد اختیار کرنے والوں کے لیے جو انجام ہے اس سے بھی آگاہ فرمایا۔اب اس نظام میں اللہ کریم نے جب تک فرصت دی ہے اس کی ذات کا انکار کرنے والوں کو بھی رزق دے رہا ہے صحت عطا فرمائی ہے اولاد دے رہا ہے۔اس مختصرسی زندگی کے مصارف ہمیں ہمیشہ کی زندگی کی صورت میں نتیجہ کے طور پر ملیں گے ۔ اور ایک بات یادرکھیں دین اسلام کے مطابق دنیاوی کام کرنا بھی عبادت کا ایک درجہ رکھتے ہیں جیسے والدیں کی خدمت، اولاد کی پرورش یہ سب اگر سنت خیر الانام کے مطابق ہوں تو یہ سارے کام دین بن جاتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ہر عمل یا تو معاشرے میں نور کا سبب بنتا ہے یا پھر ظلمت کا سبب بنتا ہے اور غلط محفل اور ایسی صحبت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جو کہ دین سے دوری کا سبب ہوں۔جس راہ کا تعین آپ کریں گے ویسے ہی نتائج بھی پائیں گے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

Bandah momin ki behtareen tableegh uss ka apna kirdaar hai - 1

آخرت کا انحصار اسی دنیا کی زندگی پر ہے


ہمارا وجود،ہماری زندگی کی ہر سانس اس طرح بسرہو جس طرح ہمارے خالق اللہ کریم چاہیں اور اس کی مرضی کے تحت زندگی کی ساعتیں بسر کرنا ہی مقصد تخلیق ہے اور یہی کامیابی ہے۔آج بھی اگر کوئی اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا چاہتا ہے تو یہ عمل اُسے اُسی زمانہ جاہلیت کی طرف لے جاتا ہے جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام فرائض کی ادائیگی کا حکم فرماتا ہے۔انسانی معاشرے میں خوبصورتی تب پیدا ہوتی ہے جب ہر کوئی اپنے فرائض کی ادائیگی کرے اگر فرائض ادا نہ ہوں اور صرف حقوق کی بات ہوگی تو کسی کو بھی اُس کے حقوق نہیں مل پائیں گے۔کیونکہ ایک کا فرض دوسرے کا حق ہوتا ہے اگر سب اپنے فرائض کی ادائیگی کریں گے تو اس طرح ہر ایک کو ان کے حقوق بھی مل جائیں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ یہ فانی جہان ہے ابھی فرصت ہے آخرت کا انحصار اسی دنیا کی زندگی پر ہے جہاں انعامات کی بات ہوتی ہے وہاں سزا کا ذکر بھی ملتا ہے۔ہر ایک خود کو جانتا ہے کہ میں صحیح کر رہا ہوں یا غلط کر رہا ہوں ایسا ممکن نہیں کہ کوئی جزا و سزا کے بغیرچلا جائے جس نے جتنا کیا ہوگا اتنا وہ جواب دہ بھی ہو گا،آپ ﷺ کا بنیادی فریضہ حق پہنچانا تھا اور یہ فرض آپ ﷺ نے انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا تب سے لے کر آج تک غلط اور صحیح کی پہچان ہر بندے تک پہنچ چکی ہے چاہے کوئی پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ ہے اب یہ ہر ایک کا اپنا اختیار ہے کہ وہ حق کی طرف جاتا ہے یا ناحق اختیار کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ امین 
Akhrat ka Inhisaar isi dunia ki zindgi pr hai - 1

ضروریات دین کا جاننا،ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے


خود سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے دینا بہت بڑا ظلم ہے۔اللہ کریم جو ساری کائنات کے خالق ہیں جو اصول انہوں نے عطا فرمائے ہیں کیسے ممکن ہے کہ کوئی ان سے تجاوز کر ے اور پھر بہتری کی اُمید بھی رکھے۔تمام طرح کے اختیارات اللہ کریم کے پاس ہیں اسباب میں نتائج بھی وہی پیدا کرتے ہیں ہم صرف ایماندار ہیں،امین ہیں ہمیں اپنا ہر کام اُسی کے حکم کے مطابق کرنا ہے۔قیامت تک کے لیے اُس کے احکامات قابل عمل ہیں وہ اصول اختیار کیے جائیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ذاتی پسند و ناپسند اختیار کرنے سے انسانی حیات میں شد ت آتی ہے۔ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان  امیر عبدالقدیر اعوان  کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔ 
  انہوں نے کہا کہ اللہ کی یاد اور عبادات بندہ مومن کے لیے تحفظ کا باعث ہوتی ہیں اور اُس کی زندگی میں ٹھہراؤ آتا ہے۔ سکھ اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ تکالیف میں بھی اُس کا دل مطمئن رہتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔یہ ضروری ہے پسند ذاتی کو اللہ کریم کی پسند کے تحت لے آئیں۔کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ سے زندگی آسان ہو جاتی ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شئے دین ہے تو چھوڑی نہیں جائے گی اگر بے دینی ہے تو اپنائی نہیں جائے گی۔نیکی دنیا کی زندگی میں بھی ٹھہراؤ لاتی ہے اور برائی خود بھی گناہ ہے اور معاشرے میں فساد کا سبب بنتی ہے۔یعنی برائی دنیا و آخرت کے لیے نقصان دہ ہے۔  ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔اس عملی زندگی میں جو اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہم کتنا اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ضروریات دین کا جاننا ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔امین
Zaroryaat-e-deen ka janna, har aik ki bunyadi zimma daari hai - 1

کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے


کسی بھی معاشرے کا انحصار انصاف پر ہے۔انسانی معاشرے کا توازن عدل سے قائم ہے۔عدل انسانی معاشرے کی بنیاد ہے جب ہم یہاں خرابی کریں گے تو اس سے سار ا معاشرہ خراب ہوگا اور یہی بے انصافی فساد کا سبب بنے گی۔ کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے اورکسی بھی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا بے انصافی ہوتی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جزا و سزا کا یقین ہی بندے کو جرم کرنے سے روکتا ہے۔ جزا و سزا معاشرے میں بڑی بنیاد ی حیثیت رکھتی ہے اگر معاشرے سے جزاو سزا کا تصور ختم ہو جائے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس معاشرے کی حالت کیسی ہوگی۔ریاست مدینہ کی جب بات آتی ہے تو آپ ﷺ کے نافذ کردہ قوانین میں عدل ہر ایک کے لیے تھا اور مساوات کے ساتھ تھا،آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری میں پائی جائے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سچ بولنا مومن کی نشانی ہے۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں جگہ سچ بولنے سے میرے تعلقات خراب ہوجائیں گے فلاں ناراض ہو  جائے گا۔یہ طریقہ درست نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے سچ بولنا ہے سچ مارنا نہیں ہے۔مقصد سچ کو اختیار کرنا ہے اگر ہم سب سچ بولیں گے تو معاشرے میں سچائی آئی گی۔سچ کی برکت سے معاشرے سے،گھروں سے دھوکہ ختم ہو گا برائی ختم ہوگی۔ہمیں اللہ کریم سے کیا ہوا عہد جو ہم نے کلمہ توحید پڑھ کر کیا تھا اُسے صدقِ دل سے نبھانے کی ضرورت ہے اور اس عہد کو نبھانے کا طریقہ اتباع رسالت ﷺ ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Kisi cheez ka ain uss ke maqam par hona insaaf kehlata hai - 1