Latest Press Releases


اسلامی ریاست غیر مسلم کے تحفظ اس کے مذہبی معمولات اور جان و مال کی ذمہ دار ہوتی ہے


 اسلامی ریاست غیر مسلم کے تحفظ اس کے مذہبی معمولات اور جان و مال کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ دین اسلام میں ذبردستی نہیں ہے لیکن اسلام میں یہ بھی نہیں کہ باقی مذاہب بھی درست ہیں۔حق صرف دین اسلام میں ہے وہی بات درست ہوگی جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے اس سے باہر کوئی حق نہیں ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے مزید کہا کہ نیک کام کی نیت کرنا بھی اجر و ثواب کا سبب ہے۔اور برائی اور گناہ کو چھوڑ دینا بھی نیکی شمار ہو گی۔دین اسلام زندگی کے ایک ایک حصے کی راہنمائی فرماتا ہے جہاں جس عمل کو بھی دین اسلام کے حکم کے مطابق اختیار کریں گے وہاں کے نتائج بھی یہ ثابت کریں گے کہ یہی حق ہے۔مکی زندگی میں کفار کے ظلم ملتے ہیں جو انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ڈھائے۔آخر میں وہ بھی کہنے لگے کہ آپ اپنے دین پر رہیں لیکن ہمارے بتوں پر ہمارے نظام حیات پر اعتراض نہ کریں۔آپ اپنی عبادات کرتے رہیں ہمیں ہمارے طریقے سے نظام معیشت چلانے دیں۔جیسے آج کے دانشور بھی کہتے ہیں کہ ہر ایک کو حق حاصل ہے آزادی رائے کے نام پر یا اس کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہے بسر کریں۔زندگی اللہ کی امانت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق ہی گزارنا ہوگا ورنہ زندگی نافرمانی کے زمرے میں آئے گی۔
  یار رہے کہ دارلعرفان منارہ میں 35 روزہ سالانہ اجتماع چل رہا ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین اپنی تربیت کے لییے آرہے ہیں اور ایک ٹائم ٹیبل کے تحت اپنے شب و روز ذکر اذکار میں گزار رہے ہیں۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن 12 بجے
 خطاب فرماتے ہیں۔یہ سالانہ اجتماع 11 جولائی تک جاری رہے گا۔
Islami riyasat ghair muslim ke tahaffuz is ke mazhabi mamoolat aur jaan o maal ki zimma daar hoti hai - 1

ہم اپنے اعمال اور معاملات کو درست کر لیں


 اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز میں یہ کہا جائے کہ سودی نظام کے بغیر ہماری معیشت نہیں چل سکتی یہ ایسا فقرہ ہے جو انکار کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔اگر ایسی سو چ کے حامل لوگ ہمارے معاشی نظام کو ترتیب دیں گے تو پھر غریب اور متوسط طبقے کا جو حال آج ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے غریب عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ہمیں وہ اسلامی اصول اپنانے کی ضرورت ہے جنہیں اپنا کر دنیائے کفر بھی دنیاوی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو پرکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور معاشرے میں آپ کا کردار بہتری کی طرف ہو اگر بحیثیت مجموعی ہم اپنے اعمال اور معاملات کو درست کر لیں تو یاد رکھیں ہمارے ملنے سے ہی معاشرہ ترتیب پاتا ہے جس سے بہتری نظر آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج لوگ استخارہ کے لیے دو نفل پڑھ لیتے ہیں لیکن فرض نماز پڑھنا بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ ہم نے دین کو بھی دنیاوی ضروریا ت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔جو فرائض چھوڑ کر استخارے کے لیے نوافل ادا کر رہا ہے اس کے نوافل کیا اور اس کا استخارہ کیا؟ فرائض بنیاد ہیں اگر بنیاد ہی نہیں ہے تو کیا حاصل ہوگا۔دین میں بھی ہم اپنی خواہشات ذاتی کو لے آئے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 36 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے آرہے ہیں اور اللہ اللہ سے اپنے قلوب منورکر رہے ہیں اس اجتماع میں ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق شب وروز گزارے جاتے ہیں جس میں ذکر اذکار اور تربیتی کلاسز بھی ہوتی ہیں تا کہ جب یہ لوگ اپنی عملی زندگی میں واپس جائیں تو ذاتی حیثیت کے ساتھ ساتھ قومی اور امتی ہونے کا کردار بھی معاشرے میں ادا کریں۔شیخ سلسلہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن 12 بجے خصوصی خطاب بھی فرماتے ہیں
Hum apne Aamaal aur mamlaat ko durust kar len - 1

نیت درست ہو تو اعمال بھی عبادت شمار ہوتے ہیں


 قرآن کریم کی ہر بات ایک اصول کا درجہ رکھتی ہے۔قرآن کریم زندگی کے ہر ہر پہلو کے لیے راہنمائی فرماتا ہے۔چاہے اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے۔ضروری ہے کہ جب ہم دین کی بات کر رہے ہوں یہ حق لوگوں تک پہنچا رہے ہوں تو سب سے پہلے ان احکامات کو جو قرآن کریم نے ارشاد فرمائے ہیں اپنے اوپر نافذ کریں اور اپنے کردار کو اس کے مطابق ڈھال لیں پھر از خود ہمارا کردار ہی لوگوں کے لیے تبلیغ بن جائے گا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اللہ کریم کی اتنی بڑی عطا ہے اگر کوئی اس کے باوجود بھی غفلت کرتا ہے تو اس سے بڑی بد بختی اور کیا ہوسکتی ہے۔آج بھی دنیا میں جو قوانین اور اصول جن سے عامتہ الناس فائدہ اُٹھا رہے ہیں وہ مسلم ہو ں یا غیر مسلم تحقیق کر کے دیکھ لیں وہ اصول نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے تحت ہوں گے۔نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکات ہیں کہ آج صدیوں بعد بھی عام ان پڑھ لوگ بھی جانتے ہیں کہ حلا ل اور حرام کیا ہے،نماز فرض ہے،جھوٹ بولنا گناہ ہے،چھوٹی چھوٹی باتوں تک ہر کوئی واقف ہے تو ہم پھر کیوں بھٹکے ہوئے ہیں کیوں ان باتوں پر عمل نہیں کر رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے جو رشتہ اور تعلق ہے وہ بہت کمزور ہے۔اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ درکار ہیں جب سینے ان کیفیات سے مزین ہوں گے پھر چاہتیں،پسند و نا پسند قرآن کریم کے تحت آجاتی ہیں۔اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے تعلق مضبوط ہو جاتا ہے پھر اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع عزیزتر ہو جاتا ہے بندہ ہر اس کام اور بات سے ڈرتا ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کے خلاف ہو کہ کہیں میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں اسی کیفیت کو قرآن کریم میں تقوی کہا گیا ہے۔ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Niyat durust ho to Aamaal bhi ibadat shumaar hotay hain - 1

عمل درست ہو تو نتائج بھی درست ہوتے ہیں


  قرآن کریم وہ راہنمائی عطا فرماتا ہے جس سے عمل صالح کی ترغیب ملتی ہے۔جب عمل درست ہو تو نتائج بھی درست ہوتے ہیں۔قرآن کریم وہ راستہ عطا فرماتا ہے جو سیدھا منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر نیت کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کس راہ کا انتخاب کرتا ہے نیکی پر چلنے والوں کو نعمت نصیب ہوتی ہے۔انبیاء کرام وہ ھستیاں ہیں جو نہ صرف حق وصول کرتے ہیں بلکہ مخلوق خدا تک پہنچانے کابھی سبب ہیں اور اس حق کی کیفیت اور حال نہاں خانہ دل تک اتر جاتا ہے۔جن کو معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی اتنی قوت بخشی کہ تین درجوں تک صحابہ،تابعین اور تبع تابعین تک اس کے اثرات گئے۔یہ ھستیاں ان کے درجات ہماری دسترس سے باہر ہیں۔یہ اللہ کا کرم اور احسان کے کہ یہ ستارے ہمیں اللہ کریم نے منزل کے طور پر عطا فرمائے۔ہمارے حصے میں یہ آتا ہے کہ ہم ان سے راہنمائی تو لے سکتے ہیں ان کو چانچنے اور تولنے کی قوت ہم میں نہیں ہے۔جب ہم اپنے آپ کو دیکھیں گے تو سمجھ آئے گی کہ تول وہی کر سکتا ہے جو اس پر عبور رکھتا ہو تو ہم ان ھستیوں کو جانچ نہیں سکتے ہم میں یہ طاقت نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم حق سے ہٹ کر اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس قرآن کریم موجود ہے جس ہر سوال کا جوا ب ہے اور ہم اس سے ہٹ کر اپنی دانش کے مطابق اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ہم کسی جدید طریقے سے نظام حکومت چلانا چاہتے ہیں جب کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک سے ہمیں ہر طرح سے راہنمائی میسر ہے۔تو جب تک ہم اپنے مسائل کا حل دین اسلام کے مطابق نہیں تلاش کریں گے ہمارے مسائل ایسے ہی ہمیں گھیرے رکھیں گے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Amal durust ho to nataij bhi durust hotay hain - 1

عاملوں اور جادوگروں سے اپنی امیدیں وابستہ کر لینا کمزور ایمان کی نشانی ہے


 اللہ کریم نے ہر ایک کا رزق،اولاد اور موت کا وقت مقرر فرما دیا ہے۔آج ہم ایمانی طور پر اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ عاملوں اور جادوگروں سے اپنی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں نے مجھ پر جادو کیا اور میرا رزق بند کر دیا ہے یا فلاں کے عمل سے میری اولا د نہیں ہورہی۔یاد رکھیں یہ شرک ہے اور روز آخرت اس کی معافی نہ ہے۔اپنی تمام امیدیں صرف اور صرف اللہ کریم سے رکھی جائیں۔اور اپنی تمام صلاحیتوں کودین اسلام کے مطابق بروئے کار لاتے ہوئے نتیجہ اللہ کریم پر چھوڑ دیا جائے۔
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی  شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کا ہر عمل اللہ کریم کی خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔اور اس کی سوچ اور عمل تک سیدھی راہ پر آ جاتے ہیں۔جب بندہ صحیح معنوں میں آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہوتا ہے تو  توحید الٰہی کے ساتھ ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتا ہے۔اس طرح ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ایک بات یہاں قابل ذکر ہے کہ جب ہم اپنی اولادوں کو صرف دنیاوی تعلیم دلاتے ہیں اور وہ تربیت نہیں کرتے جس کا حکم ہمیں دین اسلام دیتا ہے اولاد کی بہترین تربیت کے لیے خود والدین کا باعمل ہونا ضروری ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی کے لیے  حیاء  بہت اہم ہے۔اور آج کل بے حیائی تک سب سے آسان اور سستی رسائی ہے۔کیونکہ جو طبقہ معاشرے میں بے حیائی پھیلانا چاہتا ہے وہ اس کام میں سرگرم ہے اور کوئی موقع نہیں جانے دے رہا۔  اور یہ اسلام دشمن عناصر ہیں جو ازل سے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ایسے ہی مختلف اصول قرآن کریم بیان فرماتا ہے جنہیں اگر معاشرے پر نافذ کر دیا جائے تو ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اور یہی اصول اگر کوئی اپنے گھر میں اپنے خاندان میں رائج کرے گا ان پر عمل کرے گا تو یہ ساری برکات اور خوبصورتیاں وہ گھر یا خاندان بھی حاصل کر سکتا ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Aamlon aur Jadugaron se apni umeeden wabasta kar lena kamzor imaan ki nishani hai - 1

عید الفطر مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہے


 عید الفطر مسلمانوں کے لیے خوشی کا دن ہے جس میں اللہ کریم فرشتوں کو گواہ کر کے فرماتے ہیں کہ ہم نے روزے دار کو اس کی اجرت عطا فرمائی اور اس کی گزارشات،دعاؤں کو شرف قبولیت عطا فرمائی ہے۔ہمیں خود کو پرکھنے کی ضرورت ہے کہ جو رمضان المبارک کا حاصل تھا  پرہیز گاری  کیا اس کی کوئی کیفت رمضان المبارک کے بعد بھی ہمارے ساتھ ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے بابرکت ماہ مبارک عطا فرمایا جو کہ تین عشروں پر مشتمل ہے جس میں رحم،بخشش اور دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا فرمایا جاتاہے۔جب ہم گناہوں اور غلطیوں کے ساتھ اس ماہ مبارک میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی بھٹی میں بندہ مومن اپنی میل اتار کر اس ماہ مبارک کی تکمیل کرتا ہے پھر اس کے آخری عشرے میں لیلتہ القدر کے ساتھ جب اس ماہ مبارک کا اختتام ہوتا ہے تو دوزخ سے بریت کا پروانہ عطا ہوتا ہے۔اس کا عملی ثبوت ہمیں رمضان المبارک کے بعد اپنی عملی زندگی میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا  اب میری زبان جھوٹ سے بچ رہی ہے، میری سماعت کسی کی برائی تو نہیں سن رہی،کیا میری روزی حلال اور طیب ہے اگر تو رمضا ن المبارک کے بعد بھی وہ حضورحق کی کیفیت موجود ہے تو رمضان گیا نہیں رمضان باقی ہے۔
  انہوں نے کورونا وبائی مرض کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں احتیاط کرنی چاہیے اور اللہ کریم سے نجات کی دعائیں کرنی چاہیے۔اللہ کریم اس وبا سے نجات عطا فرمائے اور ہمارے وہ مظلوم بھائی بہن جو کشمیر اور فلسطین میں ظلم کا شکار ہیں اللہ کریم ان کی حفاظت فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Eid ul Fittar Musalmanoon ke liye khushi ka din hai - 1

رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ جس میں بندہ مومن کو آگ سے بری ہونے کو عام فرما دیا۔


شب قدر وہ عظیم رات ہے جس میں کلام ذاتی (قرآن مجید) کے نزول کی ابتداء ہوئی اور اس رات کو اللہ نے اتنی برکت عطا فرمائی اس رات کو راتوں کی سردار رات کہا گیا۔اور آپ کی حسرت کے میری اُمت سابقہ اُمتوں کے مقابلے میں اتنی عبادت نہ کر پائے گی کیونکہ سابقہ اُمتوں کی عمریں بہت زیادہ تھیں۔تو اللہ کریم نے احسان فرمایاکہ لیلتہ القدر عطا فرمائی جس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب 
 انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کو اگر یہ ادراک نصیب ہوجائے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ کتنا قیمتی ہے تو وہ غفلت سے نکل کر اپنے آپ کو متوجہ الی اللہ کر لے۔اور یہ احساس بندہ مومن میں تب پیداہوتا ہے جب اپنی زندگی کے معمولات میں ذکر الہی کو اولین ترجیح دے گا۔قرآن مجید میں ہر عبادت،نماز،جہاد،حج اور روزی کمانے کے حکم کے ساتھ ذکر الہی کا تاکیدی حکم فرما دیا ہے۔اب اس کو اختیار کرنے کے لیے جیسے تعلیمات نبوت کے لیے علماء کے پاس جانا پڑتا ہے اسی طرح اس شعبہ کے حاملین صوفیاء کی خدمت میں حاضر ہونا اتنا ہی ضروری ہے۔  رمضان المبارک کے روزے اللہ کی رضا کے لیے،راتوں کا قیام اس کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جائے  اور تیسرے عشرے میں یہ قیمتی رات  جس کی نشاندہی آپ ﷺ نے فرمائی کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے۔یہ محض پانچ راتیں ہیں جن میں ہم لیلتہ القدر کو پا سکتے ہیں۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بے عملی اور انحطاط کا اس حد تک شکار ہو گئے ہیں کہ ان راتوں کو بھی رواجات کی نذر کر دیتے ہیں جو کہ ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔آئیں ہم اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کر دیں اور اس طرح کی محبت کی جھلک ہم میں بھی نظر آئے کہ اگر نہاں خانہ دل میں کہیں کوئی شیطنت ہے تو اس رات کی برکت سے دھل جائے اور اللہ کریم سے جہاں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بخشش طلب کی جائے وہاں اس کورونا بیماری سے نجات کے لیے بھی دعا کی جائے۔
Ramadaan ul mubarak ka teesra ashra jis mein bandah momin ko aag se buri honay ko aam farma diya  - 1

اللہ کریم کی بھیجی ہوئی نصرت سے معرکہ بدرمیں کئی متکبر سرزمین بوس ہوئے


اسلام اور کفر کے درمیان پہلا معرکہ 17 رمضان المبارک میں میدان بد رمیں ہوا اور اس میں آپ کی دعا اور اللہ کی بھیجی ہوئی نصرت سے کئی متکبر سرزمین بوس ہوئے۔کفر نے اپنا پورا زور لگایا اپنے تمام اسباب اکٹھے کر کے میدان میں اترے۔نبی کریم ﷺنے عریش بدر یہ دعا فرمائی اور نہایت قلیل سامان جنگ اور بہت کم تعدادمیں صحابہ کرام ؓ کے ہمراہ مقابلہ کیا۔اللہ کریم نے عظیم فتح عطا فرمائی۔313 صحابہ بدر نے ایک ہزار کے لشکر پر سبقت حاصل کی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارکے کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ اس وقت رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ اختتام پزیر ہونے کو ہے بخشش عام ہے پہلے عشرے کی رحمت سے بندہ مومن میں اپنی کم مائیگی کا احساس پیدا ہو ااور وہ اپنے سابقہ گناہوں پر نادم ہو کر اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے اور وہ گرد جو اس پر پڑی ہوتی ہے اس رحمت سے دھل جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کورونا وبائی مرض میں شدت ہے جس کے لیے ہم سب کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اور یہ سب آپ نے بھی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔یہ سب اسباب اختیار کرنے کے بعد اپنا معاملہ اللہ کریم کے سپرد کر دیا جائے . کیونکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے جسے کوئی آگے پیچھے نہیں کر سکتا۔
  یاد  رہے کہ اس دفعہ مرکز دارالعرفان میں اجتماعی اعتکاف انتہائی محدود کر دیا گیا ہے اور تمام ایس او پیز کے تحت آنے کی اجازت دی گئی ہے۔آخر میں انہوں نے وبائی مرض کورونا سے نجات کے لی خصوصی دعا فرمائی۔
Allah kareem ki bhaije hui nusrat se maarka بدرمیں kayi mutaqabbir sar zamen bose hue - 1

ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ان روشن دلائل کی طرف آنا ہوگا جو اللہ کریم نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے ہیں


رمضان المبارک میں اللہ کریم نے اپنا ذاتی کلام نازل فرمایا اور وہ اصول و قوانین عطا فرمائے جو اتنے مستحکم اور مساوات پر مبنی ہیں جو رہتی دنیا تک قابل عمل ہیں۔آج اگر کوئی غیر مسلم بھی ان احکامات پر عمل کرتا ہے تو اسے بھی دنیاوی فائدہ ملتا ہے۔اور اُمت رسول ﷺ کا فرد ہوتے ہوئے انفرادی سطح پر یا قومی سطح پر جہاں بھی ہم نے ان احکامات کو چھوڑا وہاں ہمیں رسوائی اُٹھانی پڑی۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنطیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم عظمت والے مہینے میں نصیب ہوا۔یہ کلام زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فرماتاہے۔ذاتی زندگی سے لے کر معاشرتی زندگی کے ہر پہلو کی راہنمائی موجود ہے۔اقوام سابقہ سے لے کر آپ ﷺ کے زمانہ تک ہر قسم کے حالات اور سوالوں کے جوابات اس کلام میں موجود ہیں۔آج ہم کھیل تماشہ میں پڑے ہوئے ہیں ذاتی حیثیت میں یا قومی سطح پر آج ہم اعلانات تو کرتے ہیں لیکن ان میں عملی طور پر حقیقت نہیں ہے اس لیے ہمیں نتائج نہیں مل رہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے ان روشن دلائل کی طرف آنا ہوگا جو اللہ کریم نے آپ ﷺ کے ذریعے ہمیں عطا فرمائے ہیں اور آپ ﷺ نے ان پر عمل کر کے دکھایا۔پھر آپ ﷺ کے صحابہ ؓ نے ان احکامات پر عمل پیرا ہو کر دکھایا۔آج اگر کوئی اپنی پسند کے مطابق ان احکامات کا مطلب نکالے گا تو ٹھوکر کھائے گا۔عظمت رمضان یہ ہے کہ اپنی سوچ سے لے کر ملکی سطح تک ہر کام میں قرآن کریم سامنے رکھ کر فیصلہ لیا جائے۔اور اس ماہ مبارک میں اجتماعی طور پر اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے اس وبائی مرض سے نجات کے لیے دعا کریں۔اسی طرح ریاست مدینہ کے دعووں سے نکل کر حقیقی طور پرعمل کریں اگر ایسا نہ کیا تو اللہ کریم ایسی مخلوق پیدا فرما دیں گے جو ان حقائق کو پائے گی اور وہ خوش نصیب ہوں گے جو اللہ کریم کی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کریں گے۔
Riyasat medina ke qiyam ke liye un roshan dalail ki taraf aana hoga jo Allah kareem nay aap SAW ke zariye hamein ataa farmaiye hain - 1

روزے دار کو حضور حق کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی ہو خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے


رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت ہے ہمیں اپنی کمی بیشی کا تدارک کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کی بجا آوری لانا ہے۔اور جب شیاطین قید ہیں تو ہمارا اُٹھایا گیا غلط قدم غیر رمضان میں کیے گئے گنا ہوں کے نتیجہ میں ہے۔رحمت باری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اللہ کریم سے بخشش طلب کی جائے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کیا جائے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا رمضان المبارک کے پہلے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں ایمان عطا فرمایا اور نبی کریم ﷺ کی بعثت سے نوازا۔اپنے ذاتی کلام سے سرفراز فرمایا اتنی عطا ذرا غور تو کریں اس کے علاوہ رمضان المبارک جیسا مہینہ پھر اس کی برکات،  انسان کو بہانوں سے عطا کیا جا رہا ہے۔ اس مبارک مہینے میں اللہ کریم بندہ مومن کو اوصاف ملکوتی کے لیے مخصوص وقت میں حلال رزق سے بھی روک دیا جاتا ہے۔کہ میرے بندے میں ملائکہ جیسے اوصاف پیدا ہوں۔تو عبادت سے مراد اطاعت ہے بندگی ہے جو حکم ہوگیا بس اس کی اطاعت کرنی ہے۔پھر روزے دار کو حضور حق کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے کہ وہ جہاں بھی ہو خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے کہ اکیلا بھی ہو تب بھی کچھ نہیں کھاتا پیتا کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے  اگر باقی گیارہ ماہ بھی یہ کیفیت نصیب ہو تو پھر زندگی کیسی ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے 30 روزے گنتی کے دن ہیں کسی دوسرے کو ترازو میں رکھنے کی بجائے خود کو دیکھیں پہلا عشرہ اپنی بے پناہ رحمتوں کے ساتھ ہماری زندگی میں ایک بار پھر اللہ کریم نے عطا فرمایا ہے روزے کی وہ کیفیت جو ہمیں اللہ کے روبرو کر دیتی ہے ہماری عملی زندگی میں اس کے کیا اثرات آئے ہیں،اگر ٓج بھی ہم وہی نافرمانیاں کر رہے ہیں جو کرنے کے بعد ہم انہیں شیطان کے ذمہ لگا دیتے تھے تو شیطان تو رمضان المبارک میں قید کر دئیے جاتے ہیں پھر ہم سے یہ نافرمانی کیوں ہو رہی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ روش جو ہم نے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اپنائی وہ شیطنت اس قدر ہمارے اندر رچ بس گئی ہے کہ اب وہی شیطانی کام ہم خود کر رہے ہیں۔  زندگی کے ہر پہلو میں حدودو قیود مقرر ہیں انہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Rozay daar ko huzoor haq ki aik kefiyat naseeb hoti hai ke woh jahan bhi ho khud ko Allah ke rubaroo mehsoos karta hai - 1