Latest Press Releases


ہماری ضروت ہے کہ ہم دینِ اسلام پر عمل پیرا ہوں اور اپنی غلطیوں سے توبہ کر کے پلٹ آنے کا ارادہ کریں


 حضرت محمد ﷺ کی اطاعت کرنے کا بہت بڑا انعام ہے جس کا وعدہ اللہ کریم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ان کو روز قیامت آپ ﷺ کا ساتھ نصیب ہوگا اور اس کے علاوہ صدیقین،شہداء اور صالحین کی معیت نصیب ہوگی۔ یہ ہماری ضروت ہے کہ ہم دینِ اسلام پر عمل پیرا ہوں اور اپنی غلطیوں سے توبہ کر کے پلٹ آنے کا ارادہ کریں تو اللہ کریم گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیں گے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان  کھر غربی کوٹ ادو  ڈیرہ نور ربانی کھر ڈیرہ غازی خاں میں ایک عظیم الشان جلسہ سے خطاب!
انہوں نے مزید کہا کہ آپ ﷺ سے اظہار محبت کی محافل ضرور سجائیں لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آپ ﷺ وہ ہستی ہیں جنہوں نے روز قیامت تمام نبیوں پر شہادت دینی ہے۔ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ ان محافل میں باوضو تشریف لائیں درود شریف سے زبان تر ہو اور اپنی باجماعت نماز کا خیال رکھتے ہوئے ان محفل کا انعقاد کریں۔ایسا کوئی عمل نہ کریں جو بے ادبی کے زمرے میں آ جائے یہاں نتیجہ کے طو ر پر ایک بات عرض کروں گا کہ جب بندہ آپ ﷺ سے اظہار محبت کرتا ہے اگر وہ سچا ہو تو اسے اللہ کریم سے ایک خاص تعلق مع اللہ نصیب ہوتا ہے اس کا حساب اللہ کے خاص بندوں کے ساتھ ہو گا۔
  اس بابرکت محفل کا انعقاد ملک نور ربانی کھر کرتے ہیں اورایم این اے محمد رضا ربانی کھر بھی اس پروگرام کی میزبانی میں ساتھ ہوتے ہیں اور ہر آنے والے مہمان کا خصوصی طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ پروگرام 3 دن جاری رہتا ہے۔تیسرے دن حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی خصوصی خطاب فرماتے ہیں اور اجتماعی دعا بھی ہوتی ہے۔میں میاں حفیظ الرحمان بورلہ،ایم پی اے میاں عالم دار قریشی،حاجی محمد امین،حاجی عبدالرحمان مغل،ملک خالد کھر سابقہ ناظم،محترم بشارت،ملک غلام مرتضے کھر دڑے سے،غلام عباس شاہ ایڈووکیٹ،رائے عبدالرحمان کے علاوہ علاقہ کے معززین اور عاشقان رسول ﷺ کی  بڑی تعداد نے شرکت کی۔ 

Hamari zarurat hai ke hum Deen Islam par amal pera hon aur apni ghaltion se tauba kar ke palat anay ka iradah karen - 1

بندہ مومن کا آپ ﷺ سے اظہار محبت اس کی حیات کا سبب ہے


 آپ ﷺ کو مبعوث فرما کر اللہ کریم نے مومنین پر احسان فرمایا۔آپ ﷺ مخلوق کا تزکیہ فرماتے ہیں اور آیات قرآنی تعلیم فرماتے ہیں۔آپ ﷺ کی بعثت مومنین کے لیے خاص رحمت ہے۔حضرت محمد ﷺ سے اظہار محبت ایسا ہوکہ یہ باہم اتحاد و اتفاق کا سبب بنے۔کیونکہ یہ محبت یہ عشق بندہ مومن کو حیات بخشتا ہے۔یہ وہ رشتہ ہے جسے موت بھی نہیں توڑ سکتی۔شرط یہ ہے کہ عشق خالص ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا ربیع الاول مبارک کی نسبت سے ڈیرہ غازی خاں میں بہت بڑے جلسہ سے خطاب!  
  انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں ہر شعبہ میں ملاوٹ در آئی ہے اس کو خالص کرنے کے لیے ضروت اس امر کی ہے کہ کیفیات نبوی ﷺ اختیار کی جائیں۔یہ وہ برکات ہیں جن کو قلوب میں اتارنے سے نہاں خانہ دل پاک ہو جاتا ہے۔حق موجود ہے بات تلاش کی ہے کہ کوئی متلاشی ہو کہ ہم اللہ کے حضور معافی مانگتے ہوئے وہ جذبہ مانگیں جس کی ابتداء تو ہے لیکن انتہا نہیں۔ صبح شام اپنے اللہ کریم کو یاد کرو باقی ساری راہیں وہ کھول دے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول ہمارے دلوں پر دستک ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبے میں کتنے ایماندار ہیں ہمارا ہر عمل کیا حدودِ شرعی کے اندر ہے یا کہ اس میں ہم اپنی مرضی کر رہے ہیں ہماری غمی خوشی عین دین کے مطابق ہے یا رواجات کی نذر ہو چکی ہے کیا ہم اپنے نفس کی تسکین کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔آج سے یہ ابتداء کریں کہ اُٹھائے ہوئے ہر قدم کو دیکھا جائے اورامور خوانگی سے لے کرصاحب اختیار تک ہر ایک کو راہنمائی دین اسلام سے لینے کی ضرورت ہے۔
  یاد رہے کہ یہ عظیم  الشان پروگرام سلطانیہ بنکیوٹ ھال ڈیرہ غازی خاں میں منعقد ہو ا جس کا اہتمام سلسلہ عالیہ ڈیر ہ غازی خاں کے ذمہ داران جن میں اشفاق قریشی ڈویژنل صدر،سیکرٹری اطلاعات محمد اکبر صدیقی،صاحب مجاز سیف اللہ اور دیگر عہدیداران نے کیا۔اس پروگرام میں اظہر خورشید فیصل آباد،حکیم عبدالماجد جنرل سیکرٹری پنجاب اور امجد محمود اعوان سیکرٹری انفارمیشن نے خصوصی شرکت کی۔
  آخر میں ملک و قوم کی ترقی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی گئی۔ 

Bandah momin ka aap SAW se izhaar mohabbat is ki hayaat ka sabab hai - 1

ماہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی جس کی خوشی ہر امتی مناتا ہے


 ماہ ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے جس میں آپ کی ولادت با سعادت ہوئی جس کی خوشی ہر امتی مناتا ہے  بحیثیت مومن ہم جب بعثت عالی ﷺ کے موضوع پر بات کریں گے تواحکام باری پر عمل کرنا لازم ہو گا  ان احکامات میں سب سے بڑا حکم یہ ہے کہ سود چھوڑ دو کیونکہ یہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعلان جنگ کے مترادف ہے۔لیکن عملی طور پر ہم اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ہماری مساجد میں پڑے کالینوں کے دھاگوں میں سود کی آمیزش ہے۔ان بد اعمالیوں کا حساب ہمیں روز محشر ضرور دینا ہوگا۔ہم بحیثیت مجموعی توبہ کریں اور اسوہ رسول ﷺ پر عمل پیرا ہوں۔جس میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا رائل پام مارکی فیصل آباد میں ایک عظیم الشان جلسہ  بعثت رحمت عالم ﷺ سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ جہاں ہم مسلمان بستے ہیں اس وقت ہماری عزت،جان اور مال انتہائی غیر محفوظ ہے۔ بیٹیوں کی عزت بچوں کی معصومیت قانون کا اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت خطرے میں ہیں۔اگر وطن عزیزمیں قانون کا اطلاق فوری اور مساوی کر دیا جائے تو ان جرائم میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔میری گزارش ہے کہ جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہماری جان ومال کا تحفظ کرے وہاں ہم خود بھی اپنے گردو پیش کے حالات میں احتیاطی تدابیر کو ضرور اختیار کریں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کیفیات قلبی کا حصول بندہ مومن کو وہ خلوص عطا فرماتا ہے کہ بندہ مومن کی نیت درست ہو جاتی ہے اور اس کا ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے طلب خالص ہوتو اللہ کریم بندہ کو وہ اسباب بھی عطا فرماتے ہیں کہ وہ ان برکات تک پہنچ جاتا ہے۔اچھا عمل بہتر نتیجہ لاتا ہے بحیثیت پاکستانی ہم اپنا مثبت کردار ادا کریں کہ ملک کی تعمیر میں ہمارا خون اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو۔اللہ کریم ہم سب کو آپس کی محبت اور وہ جزبہ عطا فرمائے کہ ٹوٹتی سانسوں میں ہم اپنے دینی بھائی کو پانی کا گھونٹ دیں اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دیں۔میرا یہاں اعلان ہے کہ کوئی بھی ذکر قلبی کیفیات قلبی کو سیکھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے دعوت عام ہے۔یہاں میں حاضرین کو پہلا لطیفہ قلب کراتا ہوں اس سبق کے ساتھ اجازت دیتا ہوں ان شاء اللہ اس کو اختیار کرنے سے آپ کی زندگی قرآن و سنت کے تحت ڈھلتی چلی جائے گی اور تعلق مع اللہ نصیب ہوگا۔اس عظیم الشان پروگرام میں فیصل آباد ڈویژن کے عہدیداران کی کثیر تعداد کے علاوہ ڈویژنل صدر الاخوان اظہر خورشید،ڈویژنل جنرل سیکرٹری عرفان سعید اور سیکرٹری انفارمیشن میجر بلال ضلع امیر ریاست علی زاھد لاہور سے تاج محمود چشتی سیکرٹری جنرل الاخوان پنجاب حکیم عبدالماجد،امجد اعوان سیکرٹری اطلاعات نے شرکت کی۔اس پروگرام میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔
  آخر میں ہاتھ اُٹھا کر ظاہری بیعت لی گئی اور اجتماعی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔
  
Mah-e- Rabiey-ul-awwal woh mubarak maheena hai jis mein aap ki wiladat ba Saadat hui jis ki khushi har ummati manaata hai - 1

آج بھی اگر کوئی فرعونیت کی راہ اختیار کرے گا تو وہ بھی عبرت کا نشان ہوگا


اللہ کریم نے ہر ایک کا رزق اپنے ذمہ لیا ہے ہم اس کو اپنے زورِ بازو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دین کے احکامات پر عمل کرنے کا حکم ہے جسے ہم یہ کہہ کر اپنے آپ کو تسلی دے لیتے ہیں کہ اللہ کریم ہم پر رحم فرمائیں گے وہ بڑے معاف کرنے والے ہیں۔نماز کوباقاعدہ اہتمام اور مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنے سے حق سے شناسائی کا وہ درجہ نصیب نصیب ہوتا ہے کہ بندہ مومن باعمل ہو جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ رب کریم ہماری ہر ضرورت اور حاجت کو جانتے ہیں اور اس کو پورا کرنے کے لیے اسباب بھی عطا فرمائے اور راہنائی بھی فرمائی۔فرمایا کہ نماز اور صبر سے مدد حاصل کرو۔صبر کی تشریح بیان کرتے ہوئے مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ فرماتے ہیں کہ سرپٹ دوڑتے ہوئے گھوڑے کو لگام کھینچ کر روک لیا جائے اس طرح اپنے آپ کو پوری قوت سے اللہ کریم کی نافرمانی سے روک لینا صبر کہلاتا ہے نماز کی ادائیگی سے صبر کا حصول ممکن ہوگا۔نماز پڑھنا مجاہدہ اختیاری ہے نمازکی ادائیگی کبھی عادت نہیں بنتی۔اس لیے اس مجاہدے کا اجر بھی بہت زیادہ ہے۔اللہ کریم سے ہی عبادات کی ادائیگی کی توفیق مانگنی چاہیے۔یاد رکھیں کہ جن کے دل میں خشوع ہے ان کے لیے عبادات دشوار نہیں ہیں اور خشوع و خضوع کا حصول شعبہ تصوف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ملک بھر ربیع الاول کی نسبت سے بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر جلسوں کا انعقاد ہو رہا ہے جن میں فیصل آباد،ڈیرہ غازی خاں،ایبٹ آباداور بھمبر کشمیر کے جلسے بھی شامل ہیں ان میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔ہر خاص وعام کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
Aaj bhi agar koi faroniat ki raah ikhtiyar kere ga to woh bhi Ibrat ka nishaan ho ga - 1

آپ ﷺ سے اظہار ِ محبت، اخوت اور بھائی چارے کا سبب ہو گابشرطیکہ یہ عشق سچا ہو


حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت تمام جہانوں کے لیے رحمت ہے اور رب کریم نے آپ ﷺ کو رحمت کا سبب بنایا۔ نسبی رشتہ بہت بڑی عطا ہے لیکن آپ ﷺ کی بعثت ِ عالی ؐ سے صاحب ِ ایمان کے ساتھ امتی کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور اقوامِ عالم پر امت ِ محمدیہ ؐ کی شہادت روزِ آخرت ہو گی۔ اظہارِ محبت اور اظہارِ عقیدت میں ان حدود و قیود کا خیال رکھیں جس کا حکم ہے۔ حد ِ ادب سے تجاوز احترام میں شمار نہیں ہو گا۔
 امیر عبد القدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا  بعثت ِ رحمت ِ عالم ﷺکے موضوع پر بہت بڑے اجتماع سے خطاب!
انہوں نے مزید کہا کہ عشق مصطفی  ؐ کا تقاضا اور امتی کی ذمہ داری یہ ہے کہ 1400سو سال کی اس دوری نے ہمارے مزاجوں کو اتنا گرد آلود کر دیا ہے کہ ان خوبصورت ترین رشتوں کو عقیدت کی ان اعلیٰ ترین مثالوں کو رواجات کی نذر کر دیا۔ ماہِ مبارک ربیع الاول میں ہم اظہارِ محبت میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ ہماری فرض نمازیں رہ جاتی ہیں اور اس میں صحیح غلط کی کوئی تفریق نہیں رہتی، ہمارے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے جس دین اسلام کی خاطر خانوادہئ رسول ؐ نے اپنے سمیت سارا خاندان قربان کر دیا لیکن دین اسلام کے کسی حکم میں کمی بیشی نہ ہونے دی۔  ہم آپ ﷺ کے ساتھ کسی ایک دن کو مقرر کریں اور اس دن کو منا کر باقی سال اپنی روش پر رہیں تو یہ صرف رواج ہو گا اظہارِ محبت نہیں۔ آج ہم اپنی عملی زندگی میں دیکھیں کتنے ایسے اعمال ہیں جو دین اسلام سے باہر ہیں۔ اللہ کریم ہمیں معاف فرمائے اور عملی زندگی کو اسوہئ حسنہ پہ گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یاد رہے کہ حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے آج سے بارہ سال پہلے ان جلسوں کا سالانہ انعقاد کا آغاز کیا اور موضوع بعثت ِ رحمت ِ عالم ؐ رکھاکہ ولادت باسعادت مومن و کافر دونوں کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ لیکن بعثت ِ عالی ؐ کا تعلق خاص طور پر مومنین کے لیے ہے۔ اس کا اظہار ہونا چاہیے۔ اس عظیم الشاں پروگرام میں پنجاب کے ڈویژنوں نے نمائندگی اور شرکت کی۔ اور مسجد دارالعرفان کے تمام حال کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے۔حال فجاء محمد سراجا منیرا ۔۔۔  فصلوا علیہ کثیرا کثیرا سے گونجتا رہا۔ اس پروگرام میں خواتین کی ایک کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔

Aap SAW se izhaar mohabbat, akhuwat aur bhai chaaray ka sabab ho Bashart-e-kay yeh ishhq sacha ho - 1

اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ کے بغیر خالق اور مخلوق کا رشتہ سمجھ میں نہیں آسکتا


جو کچھ عطا فرمایا گیا ہے اس پر عمل پیرا ہونا کامیابی سے ہمکنار کرے گا اللہ کی رضا نصیب ہوگی۔اس کی بخشش نصیب ہوگی وہ کچھ نصیب ہو گا جو بندہ سوچ بھی نہیں سکتا۔شرط یہ ہے کہ جو وعدہ کلمہ طیبہ کی صورت میں کیا گیا اسے پورا کریں۔عطا کرنا اللہ کریم کی شان ہے اللہ کریم نے جو پیدا فرمایا ہے اس کا شکر ساری زندگی ادا کرتے رہیں وہ ادا نہیں ہوتا چہ جائیکہ وہ اور انعامات بھی عطا فرمائے اپنی رضا عطا فرمائے اپنا قرب عطا فرمائے۔اپنے مقرب بندوں میں داخل فرمائے۔یہ وہ کیفیت اور حال ہے جو اطاعت میں لاتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا کہ ہم اُس کی مخلوق ہیں یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں پیدا فرمایا جو عبادات ہم کرتے ہیں ان سے اس قابل ہوتے ہیں کہ اس کی بندگی نصیب ہوجو معاملات ہم اس کے مانتے ہیں اس سے انسان کی بقا منسوب ہے۔ہم اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں تو وہ کریم اجروثواب عطا فرماتا ہے،اپنے والدین کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں خیال رکھتے ہیں وہ کریم اس پر خوش ہوکر اجر وثواب عطا فرما رہا ہے۔احکامات دین ہمارے قلب سے ظاہر تک ہمیں اس قابل کرتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں اس ساری راہنمائی میں کوئی حصہ ایسا نہیں جس میں تشنگی رہ گئی ہو۔اسی دنیا کی زندگی اطمینان بخش ہو جاتی ہے جیسے اعمال اختیار کیے ہوتے ہیں ویسے ہی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج ہر دوسرا بندہ خوف میں مبتلا ہے ڈپریشن کا شکار ہے عجیب قسم کے خوف ہیں۔اللہ کریم نے ہر قسم کی ضرورت کا جواب پہلے سے ارشاد فرمادیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ میرا اللہ کریم کے ساتھ کیسا تعلق ہے نبی کریم ﷺ کے ساتھ جو اُمتی کا رشتہ ہے وہ کیسا ہے۔آپ ﷺ کا اتبا ع کس حد تک ہے یہ سب دیکھنے کی ضرورت ہے پھر کوئی ڈر یا خوف نہیں ہو گا یہ سارا خوف ہمارے کردار کی وجہ سے ہے ہمارے اعمال ہی ہمیں ڈرا رہے ہوتے ہیں۔ہر انسان کے اندر یہ استعداد موجو د ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی پہچان کر سکے۔یہ خوف صرف اور صرف بے عملی کی وجہ سے ہے ہماری زندگی بے عملی کا شکار ہیں۔ہمارے دعوی ایمان میں اتنی قوت نہیں کہ عمل تک لے جائے۔ وہ اصول اپنی زندگیوں پر نافذ کریں جو قرآن و سنت ہمیں عطا فرما رہے ہیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 10 اکتوبر بروز اتوار دن 11:00 بجے ماہانہ اجتماع کے موقع  پر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی ہر خاص و عام کو دعوت دی جاتی ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے قلوب کو برکات نبوت ﷺ سے منور فرمائیں۔
itebaa Mohammad-ur-Rasool Allah SAW ke baghair khaaliq aur makhlooq ka rishta samajh mein nahi aa sakta - 1

شیطان ہر وا ر سے ہمیں اللہ کریم سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے


اللہ کریم نے بنی آدم کو تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے اور حضرت آدم ؑ کو نوری مخلوق نے سجدہ کر کے اس کی قربت اور نیابت کو تسلیم کیا۔اس احسان عظیم کا شکر ادا کرنا اور اپنی حدود میں رہ کر اپنے فرائض کی بجا آوری لانا ہے اور ایسے امور کو زیر بحث نہ لایا جائے جن سے متعلق روز محشر پوچھا نہ جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی دوسرے کے متعلق ہماری ابتداء منفی سوچ کے تحت ہو تی ہے۔جو کہ من حیث القوم درست نہ ہے ہمیں دوسروں کے لیے اچھائی کا گمان رکھنا چاہیے۔ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ انسان بشر ہے اور اس میں خطا کرنے کا عنصر ہمہ وقت موجود ہے  اللہ کریم اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ یہ مخلوق غلطی کرے اور پھر اس پر نادم ہو کر معافی کی طلب گار ہو اور ایک جگہ ارشاد ہے کہ اگر یہ مخلوق غلطیاں چھوڑ دے تو اللہ کریم اس کی جگہ ایسی مخلوق پیدا فرمائیں گے جو غلطی کرے اور پھر اپنے اللہ کریم سے اس کی معافی بھی طلب کرے کیونکہ اللہ کریم کو معاف کرنا محبوب ہے آپ بہت رحم کرنے والے ہیں۔
  یاد رہے کہ 10 اکتوبر بروز اتوار دارالعرفان منارہ  میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام ماہ مبارک ربیع الاول کی مناسبت سے جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر بہت بڑے جلسہ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب  فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی خواتین و حضرات کے لیے دعوت عام ہے اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے قلوب کو منور فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

shetan har wa ray se hamein Allah kareem se door karne ki koshish karta hai - 1

بندہ تکبر اور خراب نیت کی وجہ سے صحیح راستہ اختیار نہیں کر سکتا


ہم اپنا عمل چھوڑ کر ساری بحث دوسروں پر کر رہے ہوتے ہیں۔جب کوئی تکبر میں آکر بحث کرتا ہے تو وہ نہیں چاہتا کہ کوئی میری بات کو رد کرے۔ابلیس کے انکار کا سبب بھی تکبر ہی تھا کہ میرے جیسا کوئی نہیں اللہ کریم کی ذات تو علیم ہے وہ جانتے ہیں کہ کس نے کب کیا کرنا ہے اسی لیے اللہ کریم فرماتے ہیں کہ وہ تھا ہی کافروں میں سے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو دیکھیں کہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع کر رہے ہیں یا اپنی پسند کو ترجیح دے رہے ہیں۔ابلیس اللہ کریم کو مانتا تھا لیکن اللہ کریم کی نا مانی تو پھر ماننا کیسا؟
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی ذات اللہ کریم کی ہے پھر مخلوق تکبر کا کیسے سوچ سکتی ہے۔اپنے شب و روز کو اللہ کی یاد سے روشن کریں، اللہ کریم کی رضا کے ساتھ جب اس کا قرب نصیب ہوگا تو لمحہ لمحہ قیمتی ہوتا چلا جائے گا۔جتنی سمجھ نصیب ہوگی اتنی تڑپ نصیب ہوتی چلی جائے گی۔ جن و انس دو مکلف مخلوق ہیں جنات کو اس دنیا میں انسان سے پہلے پیدا فرمایا گیا جنات کی عمریں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔جب حساب کتاب کی بات آئے گی تو جنات کا حساب تو ہو گا لیکن جنت میں جانے کا ان کا کوئی واضح ذکر نہیں ملتا۔لیکن انسان کی حیات کا خاصہ کیونکہ اسکی روح ہے جو عالم امر سے ہے اور عالم امر کو فنا نہیں اس لیے انسان کو بھی فنا نہیں ہے یہ ہمیشہ رہے گا جنت میں ہو یا جہنم میں لیکن ہمیشہ کے لیے رہے گا۔جبکہ جنات کو یہ حصہ نصیب نہیں ہوا۔ابلیس بھی جنات میں سے ہے۔جنات کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو عمومی ہیں اور دوسرے جو ابلیس کی اولاد ہیں شیاطین میں سے، تکبر کیا اور ددکارا گیا مردود ٹھہرا۔تکبر ایسی حالت ہے اسے جتنا بھی چھپا لو کہیں نہ کہیں ظاہر ہو جاتی ہے چاہے کوئی دین کا کام بھی کر رہا ہو اگر اس میں تکبر موجود ہے تو وہ سمجھا رہا ہوگا کہ سب سے بڑی ذات اللہ کریم کی ہے لیکن ساتھ یہ بھی سوچ ہوگی کہ جو بات میں کہہ رہا ہوں یہ بات سب سے بہتر ہے اس کے مقابل کوئی بات نہ کرے۔اس کا علاج صرف اور صرف یاد الٰہی ہے یاد الٰہی سے ہمارے قلوب اس قابل ہوتے ہیں کہ ان میں انا،ضد اور تکبر ختم ہوتا جاتا ہے اور بندہ کو اللہ کریم کی عظمت کا ادراک ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Bandah taqqabur aur kharab niyat ki wajah se sahih rasta ikhtiyar nahi kar sakta - 1

نوری مخلوق ہر لمحہ دست بستہ ہے اور انسان کو دونوں راستے بتا کر اختیار دے دیا


 حضرت انسان کو وہ علوم اور حکمت عطا کی جو کسی اور مخلوق کو عطا نہیں کی گئی۔اللہ کریم نے حضرت آدم ؑکو اپنی نیابت سے نوازا۔اور راہ ہدایت اور انکار کا اختیار بھی دیا اور پھر اللہ کریم کی چاہت کے مطابق زندگی کا گزارناپھر خصوصی حیات امر ربی سے عطا کی، اللہ کی معیت کی تڑپ  کسی شئے کے ظاہر سے لے کر اس کے خواص تک کا علم اس انسان کو عطا کیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
 انہوں نے کہا کہ علم کے دوحصے ہیں ایک حصہ ہر مخلوق کو تخلیقی طور پر اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوتا ہے جیسے پیدائش کے فوراً بعد اپنی خوراک کا حصول،مچھلی کے بچے کا پیدا ہوتے ہی پانی میں تیرنا۔اور دوسرا علم کسبی جس کے لیے اسے کسب اختیار کرنا پڑتا ہے،تربیت لینی پڑتی ہے کسی سے سیکھنا پڑتا ہے محنت کرنا پڑتی ہے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔پھر وہ علم حاصل ہوتا ہے۔مزید علم پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حدیث مبارکہ ہے کہ علم کے دوحصے ہیں ایک علم الادیان اور دوسرا علم الابدان۔عقائدہ اور شریعت کا علم،علم الادیان کہلاتا ہے۔اور دوسرا حصہ علم الابدان یعنی فزیکل سائنسز کا علم یعنی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل کا علم یہ علم کا دوسرا درجہ ہے۔اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔یہاں سے علم کے حصول کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔کہ دین کے ساتھ دنیاوی علم حاصل کرنا بھی کتنا بھی ضروری ہے اور دین اسلام علوم کے حصول کی کتنی اہمیت بیان فرماتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کہ حضرت آدم ؑ کو براہ راست علوم عطا فرمائے گئے اور بغیر وسیلے کے عطا ہوئے اسے علم لدنی کہتے ہیں۔ایک بات قابل غور ہے کہ فرشتوں کو بھی جو علم عطا ہوا اس بشر کے وسیلے سے عطا ہوا۔اور اسے استاد کا درجہ دیا۔نبی کریم ﷺ کو نبی اُمی کہا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو جتنے بھی علوم عطا ہوئے وہ اللہ کریم سے ہی عطا ہوئے آپ ﷺ نے اس دنیا کے کسی انسان سے  علم حاصل نہیں کیا۔مخلوق میں کسی کا مقام نہیں کہ وہ آپ ﷺ کو علم سکھا سکے۔امام الانبیاء آپ ﷺ کا مقام ہے یہ آپ ﷺ کی شان ہے یہ بلندیا ں اللہ کریم نے آپ ﷺ کو ہی عطا فرمائی ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اقوام کی ترقی و تنزلی کا سفر اب بھی جاری ہے۔ابھی بھی تمام ایجادات کے باوجود یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ ابھی تک انسان کے دماغ کا صرف دس فیصد استعمال ہوا ہے جب بات جاننے کی آئے گی تو اللہ کریم خالق ہیں انہوں نے جتنا کسی کے لیے علم پسند فرمایا اتنا اسے عطا فرما دیا۔اس سارے کا حاصل یہ ہے کہ میں بحیثیت انسان کہاں کھڑا ہوں۔اور ہر عمل کے ساتھ میرا ارادہ میری نیت جو کہ میرے نہاں خانہ دل میں ہے وہ مالک وہ خالق اسے بھی جانتا ہے۔نیت دل کا فعل ہے اور اس کی اصلاح کیفیات باطنی سے ہوگی جو دین کی بنیاد ہے۔اللہ کریم دین کی روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Noori makhlooq har lamha dast basta hai aur insaan ko dono rastay bta kar ikhtiyar day diya - 1

شہید اپنی زندگی اللہ کی راہ میں قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے


علم غیب سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔مخلوق میں سے اللہ کریم جسے جتنا علم عطا فرما دیں اتنا ہی وہ جان سکتا ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زمین پر اپنا نائب مقرر فرمایا ہے اور خلیفہ کی خلافت کی حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اس دائرہ میں رہتے ہوئے ہی اپنے امور کی انجام دہی کر سکتا ہے جو اُسے تفویض کیا گیا ہو۔ نائب بھی اپنا عمل تب اختیار کر سکتا ہے جب اُسے اس کا علم ہو کہ اس نے کون سا کام کیسے کرنا ہے۔اور یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اللہ کریم نے انسان کو مکلف مخلوق بنایا کہ وہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکے۔اس وقت اللہ کریم نے ہمیں فرصت دی ہے کہ ہم اپنے نفس کی ماننے کی بجائے اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر زندگی بسر کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے یوم دفاع پر شہداء پاکستان کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید اپنی زندگی اللہ کی راہ پر قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے جب اُسے انعامات سے نوازا جائے گا تو پوچھا جائے گا اور کیا چاہتے ہو تو عرض کرے گا کہ مجھے دنیا میں پھر سے بھیجا جائے اور میں پھر تیری راہ میں لڑوں اور اپنی جان تیرے راستے پر نچھاور کر دوں وہ لذت جو اس وقت نصیب ہوئی تھی وہ اس جنت میں بھی نہیں ہے۔
  انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی شئے کا عین اپنے مقام پر ہونا اللہ واحدانیت کی طرف سے وہی اس کا مقام ہے اس پر اعتراض اللہ کریم پر اعتراض ہو گا،ہر پہلو میں اپنے اللہ کریم کی طرف دیکھیں،اسباب ضرور اختیار کریں لیکن حتمی نتائج کے لیے اپنی نگا ہ ذات باری تعالی کی طرف ہی رکھیں۔یہ جو ہم صبح شام اللہ اللہ کی ضربیں اپنے قلوب پر لگا رہے ہیں خود کو دیکھیں کہ کیا میں اپنی پسند کو ترجیح دے رہا ہوں یا اپنی پسند اللہ کریم کی پسند میں ڈھل رہی ہے اپنی چاہتیں دیکھیں کس طرف ہیں اللہ اللہ کی تکرار سے بندہ مومن کو حکمت نصیب ہوتی ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Shaheed apni zindagi Allah ki raah mein qurbaan kar ke hamesha ke liye amar ho jata hai - 1