Latest Press Releases


بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے


اسلام اس کرہ ارض پر تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ لوگوں کے تحفظ اور ان پر ظلم کو روکتے ہوئے پھیلا  اُس وقت کے مظالم جس کی تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم اپنی شکایت بھی نہیں کر سکتا تھا۔انسانیت کی بھلائی کوئی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک سے ابھی نکلے ہیں ان سب کے فضائل حاصل کیے ہیں اور ان کا حاصل میدان عمل میں یہ ہے کہ ہم نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں۔اور تقوی کا حاصل بھی یہ ہے کہ بندہ عمل کرتے ہوئے اللہ کی حضوری کا احساس رکھے۔ہر چیز اللہ کے دست قدرت میں ہے،فتح و ناکامی اللہ کی طرف سے ہے۔سبب اختیار کرو لیکن بھروسہ اللہ پر کرو۔اہل بدر کو یہ الفاظ نصیب ہوئے کہ یہ سارے کا سارا اسلام ہے۔اللہ کریم ایمان کی یہ کیفیت عطا فرمائیں کہ اللہ کی رضا اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔اس دنیا میں یہ فرصت ہے کہ ہم اپنی آخرت تعمیر کر سکیں۔یہ دنیا کی زندگی اس لیے قیمتی ہے کہ اس پر آخرت کا انحصار ہے۔
  انہوں نے کہا کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے۔ہم صرف تعمیل حکم کر رہے ہیں۔اللہ کریم ہمیں خالص عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔دعوی ایمانی کے ساتھ اپنی عبادات کے ساتھ اپنی اغراض شامل کر لیں یہ درست نہیں ہے۔
 آج بھی فرشتے مسلمانوں کی مدد کو نازل ہو سکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم مسلمانی کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔اللہ کریم سے حقیقی تعلق ہونا چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ صبر یہ ہے کہ خود کو شریعت پر پوری قوت سے روکے رکھنا۔شیطان کے پیچھے نہ جانا،عمومی دنیا کی روش میں نہ بہہ جانا۔رمضان المبارک کا حاصل بھی صابر اور متقی کی کیفیت کو پانا ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ
Bakhshish Allah ki rehmat se hai hamaray aamaal se mansoob nahi hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

 مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخِ سلسلہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے آزادی کی اہمیت اور قراردادِ مقاصد کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالی، جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خطاب میں ملکی اداروں کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے تمام قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مختلف لسانی اکائیاں، جن میں سندھی، بلوچی، پشتو اور گلگتی زبانیں شامل ہیں، ہماری قومی طاقت ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو یکجا کر کے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ ملکی و عالمی حالات کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
Markaz Darul irfan mnarh mein 23 March ke mauqa par yom Pakistan ki munasbat se aik purwaqar taqreeb munaqqid hui - 1

آج کی رات (چاند رات)جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ رمضان المبارک کا انعام حاصل کرنے کی رات ہے


 رمضان المبارک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جو تقوی کی کیفیت کا حصول مقصود ہے اسے رمضان المبارک کے بعد عملی زندگی میں پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم نے رمضان المبارک میں متقی کی کیفیت حاصل کی؟کیا ہم ان حدود و قیود کا خیال رکھ رہے ہیں جو اللہ کریم نے ہمارے لیے مقرر فرمائی ہیں؟  کہیں یہ تو نہیں کہ رمضان المبارک کے بعد پہلی رات جسے لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں وہ رات جو رمضان المبارک کے انعامات پانے کی رات ہے۔ اس رات کو چاند رات کے نام پر جشن اور ھلڑ بازی اور شور شرابا میں ہم نے ضائع کر دیا ۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی جماعت کو اللہ کریم نے وہ عظمت عطا فرمائی کہ اللہ ان سے راضی ہو گئے اور وہ اللہ سے راضی۔جن سے اللہ کریم راضی ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ان کی عظمت یہ ہے کہ غیر صحابہ جن میں تابعین، تبع تابعین اور اہل اللہ سب کو اکٹھا کر لیں پھر بھی وہ صحابہ کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے۔اللہ کریم نے صحابہ کرام کو یہ عظمتیں عطا فرمائیں ہیں۔دنیا کی بادشاہیاں اگر قبر میں اترتے ہیں امتحان بن جائیں تو کیا فائدہ ان بادشاہیوں کا؟اللہ کریم نے جس کوجہاں جس حال میں رکھا ہے اس کے لیے وہی سب سے بہتر حال ہے 
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں اجتماعی سنت اعتکاف کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں معتکفین تشریف لائے ان اپنے شب و روز کو اللہ والوں کی اس بستی میں بسر کیا۔
  شیخ سلسلہ نے آخر میں معتکفین کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کا اعتکاف قبول فرمائیں اور اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک اللہ حفاظت فرمائے۔ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی گئی۔
Aaj ki raat ( chaand raat ) jashnn mananay ke liye nahi balkay ramadaan al mubarak ka inaam haasil karne ki raat hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری


 مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری۔
  اس موقع پر انہوں نے اجتماعی دعا فرمائی اوربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی فرضیت کا مقصد صرف اور صرف حصول تقوی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے ہیں تا کہ تمہارا اپنے رب سے ایک مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور تمہیں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے حیا آجائے۔اگر بندگی کی یہ کیفیت نصیب ہو تو حال بد ل جاتا ہے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی اجتماعی اعتکاف کا وسیع انتظام کیا گیا ہے جس کے تمام انتظامات امیر عبدالقدیر اعوان خود دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت پورے ملک اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ مرکز میں سنت  و نفل اعتکاف کے لیے آئے ہوئے ہیں جنہیں سحری سے لے کر رات 10:30  بجے تک باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق گزارا جاتا ہے اور جس میں فقہ اور درس حدیث کی کلاسز ہوتی ہیں روزانہ صبح 11:00 بجے حضرت شیخ المکرم خطاب فرماتے ہیں۔اس سارے نظام میں واحد مقصد روحانی پاکیزگی کا حصول ہے اور یہاں ر وحانی اسباق کے امتحانات پاس کرنے والوں میں حضرت شیخ المکرم اپنے دست مبارک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں
Markaz Darul irfan munarh mein jari ijtimai sunnat aitekaf mein Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila ki hazaron Motakfeen ke sath aftaari - 1

شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے


 رمضان المبارک کا آخری عشرہ جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی۔شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں مخلوق خد اکو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا ہو تا ہے ۔
لیلتہ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے چلی گئیں اور نجات میں ہیں وہ واپس آتی ہیں اپنی آل اولاد کو دیکھتے ہیں اگر ان کی اولاد نیکی پر ہو تو خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں اور گناہوں میں زندگی گزار رہے ہوں تو دکھ اور تکلیف لے کر لوٹ جاتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین چھوڑا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔اور اس طرح بڑھتی ہیں کہ بندہ پھر ان میں پھنس کے رہ جاتا ہے۔اور اگر پہلی ترجیح دین کو دی جائے تو یہی وقت ان میں اللہ کریم برکت فرما دیتے ہیں دین کے بھی سارے معمولات ہو جاتے ہیں اور دنیا کا بھی کوئی کام نہیں رہ پاتا۔اسلام دنیا کے کاموں سے دولت کمانے سے منع نہیں فرماتا صرف حلال اور طیب کی قید لگاتا ہے۔کہ کسی کا حق نہ چھینو۔دین اسلام تو اعتدال دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کا فرماتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری ہیں کوئی نہیں کہتا کہ دنیا ترک کر دیں۔لیکن دنیا ہی کے ہو کر رہ جائیں یہ کون سا شعور ہے؟
  انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں جن مسائل سے ہم دوچار ہیں یہ قرآن کریم سے روگردانی کا سبب ہے۔ورنہ بندہ مومن کے لیے کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب نہ فرمایا ہو۔انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس اللہ کی کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں؟پوری امت میں جو حالات کی تنگی کی وجہ سے ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے اس کا حل بھی رمضان المبارک کی عبادات میں ہے اس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر اللہ کریم کی ان عطاؤں سے استفادہ حاصل کریں اور خالص اپنے اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Shab qader woh raat hai jo hazaar mahino se behtar hai - 1

جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے


 اپنے آپ کو دفاعی طور پر مضبوط کرنے کا حکم ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے تم ان دشمنوں کو نہیں جانتے لیکن اللہ جانتے ہیں۔ جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے۔بحیثیت امت مسلمہ ہمیں تدبر اور مضبوط پالیسیز بنانے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات معاشی تنگی کی طرف جا رہے ہیں ہمارا زرعی ملک ہے ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم شعبہ زراعت کو فروغ دیں کسانوں کو سہولتوں سے آراستہ کریں اور سال میں مکمل پلاننگ کر کے فصل اُٹھائی جائے تا کہ ملک میں کم از کم خوراک کی کمی تو نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہا کہ  رمضان المبارک ہو  یا غیر رمضان، ہمارا مسلمان معاشرہ ہے لیکن معاملات میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ایک روش ہے بس اس کے پیچھے سب بھاگ رہے ہیں۔رمضان المبارک کی رعائتیں ہیں ااس میں رحمت کا عشرہ ہے،مغفرت کا عشرہ ہے پھر جہنم سے آزادی کا تو اللہ کریم تو بہانوں سے بخشش لٹا رہے ہیں کیا ہم بھی ان برکات کے حصول کے لیے تیار ہیں؟فرمایا جو بھی عمل تم لے کر آؤ گے اس کی ہر گز نا قدری نہیں کی جائے گی۔دنیا کی زندگی میں مال و دولت کا بہت مقام ہے جتنی حیثیت بڑھتی جائے گی اتنا حساب بڑھتا جائے گا۔ہمارے اپنے وجود ہمارے خلاف شہادت دیں گے کہ یہاں یہ یہ نا فرمانی کی گئی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ حرمت والے مہینے میں جنگوں کا ہونا یہ بھی ہمارے اعمال کے سبب ہے۔صالح اعمال سے مزید اصلاح نصیب ہوتی ہے۔نیکی بڑھتی ہے،اچھائی پھیلتی ہے۔بد اعمالیوں سے برائی پھیلے گی،گناہ مزید برائی کی طرف دھکیلتا ہے۔یعنی ہر عمل کے نتائج یہاں سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔آخرت اصل ہے دنیا اس کا سایہ ہے،پرتو ہے۔اس سے پہلے کے بے اختیار ہو جائیں نیک کام کرو۔ ذکر الٰہی ایسا عمل ہے جو ہمہ وقت بندے کو ہوش میں رکھتا ہے۔غفلت نہیں آنے دیتا اللہ کریم حفاظت فرماتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Jahan deeni taleem haasil karne ka hukum hai wahan dunyawi taleem ka husool bhi itna hi zaroori hai - 1

پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم ااخوان پاکستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہارکیا اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔دو اسلامی ممالک میں اس طرح کی صورت حال سے انتہائی تشویش اور دکھ ہے۔اللہ اس امت کو اتفاق اور اتحاد عطا فرمائے۔
Pakistani qoum apni musallah afwaj ke shana bshanh khari hai - 1

اصل استحکام طاقت کی بجائے نظام عدل میں ہے


ر شعبے میں عدل کی ضرورت ہے اور حقیقی عدل اسلامی نظام میں موجود ہے۔اسلام ہمیں وہ اصول اور ضابطے دیتا ہے جو حقیقی عدل پر مبنی ہوتے ہیں۔اللہ نے جو حق عطا فرمایا اس میں لوگوں نے تبدیلیاں کر کے اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم نکالے قرآن کریم اصول بیان فرماتا ہے راہ ہدایت ہے متقی کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ قرآن کریم کے مطابق قدم اُٹھائے۔رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ جو اعمال کثرت سے کرتے ان میں قرآن کریم کی تلاوت بھی ہے۔عشروں کی تقسیم میں بھی برکات عطا فرمائیں بہانوں سے بخشش عطا فرما رہا ہے۔ہمیں خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم جو عبادات کر رہے ہیں کیا وہ خالص اللہ کے لیے ہیں یا عبادات میں بھی سودے کر رہے ہیں کہ نماز روزہ کروں تو میرا فلاں کا م ہو جائے فلاں بیماری چلی جائے۔کہیں ہم اپنی عبادات کو دکھاوے میں ضائع تو نہیں کر رہے۔یہ وقت  بہت محدود ہے جو وقت کو ضائع کر دیتا ہے وہ اس ایک سوال کا جواب نہیں دے پائے گا کہ اس کے پاس فرصت تھی لیکن اس نے وہ وقت ضائع کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔
  انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رمضان کی بھٹی میں اپنے غلطیوں اور گناہوں کو جلا دیں یہ جو رمض کی بھٹی ہے اس میں سے کندن بن کر نکلیں تا کہ اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک حفاظت نصیب ہو۔رمضان المبارک میں نفلی عبادات کا ثواب بھی فرائض کے برابر ہو جاتا ہے تو غلطی پر پوچھا بھی جائیگا۔ایسے سجدے کس کام کے جو بے کیف ہوں ہمارے رکوع و سجود میں کوئی رابطہ ہی نہ ہو سب سے بڑی ذات اللہ کی ہے وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں سجدہ صرف اسی کو سزاوار ہے۔اللہ کریم ہمیں اس رمضان المبارک کی برکات عطا فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Asal istehkaam taaqat ki bajaye nizaam Adal mein hai - 1

رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے


قرآن کریم فرماتا ہے کہ روز محشر انکار کرنے والے سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سجد ہ نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اس دارِ دنیا میں جب وقت تھا تو اس وقت انہوں نے سجدہ نہ کیا۔دنیا دارالعمل ہے اس میں صالح اعمال اختیار کیے جائیں،معافی مانگی جائے اور اپنے اللہ سے اخلاص مانگیں تاکہ ہمارے اعمال ہمارے اقرار کی گواہی دیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔اللہ کریم نے باردیگر عطا فرمایا۔اس میں شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اگر پھر بھی غلطیاں کریں تو وہ جو سال بھر شیطنت ہمارے اندر رہی یہ اس کے اثرات ہیں۔کیا رمضان المبارک میں جھوٹ بولتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے،لین دین کرتے ہوئے کیا حق کے ساتھ کر رہے ہیں؟رمضان رمض سے ہے جس کے معنی ہیں بھٹی یعنی ایسا ماہ مبارک جو گناہوں اور غلطیوں کوجلا کر راکھ کر دے۔رمضان المبارک کی بہت برکات بیان فرمائی گئی ہیں اس کے عشرہ جات کی برکات ہیں پھر اس میں اعتکاف ہے پھر لیلۃ القدر جیسی عظیم برکتوں والی رات ہے جس میں کلام ذاتی نازل فرمایا گیا۔اس ماہ مبارک کی کیا کیا کوئی عظمت بیان کرے برکات ہی برکات ہیں۔جو نورایمان ہمارے قلوب میں ہے کیا وہ اس درجہ کا ہے کہ ماہ مبارک کی چاشنی ہمیں بھی محسوس ہواس کا  ادراک ہمیں بھی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدق دل سے نماز ادا کرنے سے بندے کا حال بدل جاتا ہے۔یہ مزدوری کا وقت ہے پھر یوم حساب ہو گا جہاں جزاو سزا ملے گی وہاں مزدوری کا وقت نہیں ہو گا عمل یہاں اسی دنیا میں کرنا ہے۔ہمیں اپنے شب وروز دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں صرف ہو رہے ہیں دنیا کے اصول و اسلوب جائز حرکت میں ہیں ناجائز معاملات سے معاشرے میں بدبو پیدا ہوتی ہے۔صالح اعمال معافی کا بھی سبب ہیں اور قرب الٰہی بھی نصیب ہوتا ہے۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramzan ul Mubarak maheenon ka sardar maheena hai - 1

جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں


کفر مسلمانوں کو سودی معیشت کے اندر جکڑ رہا ہے،سوشل میڈیا کے زریعے فحاشی اور عریانی کو عام کر رہا ہے،ہمیں حرام پر لگا رہا ہے یہ سارے آج کے دور کے وہ حملے ہیں جن کے ذریعے اسلام دشمن عناصر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے اس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں۔اور کمزور مجبور ہے ان کی پیروی کرنے کے لیے۔انصاف کے نام پر قومیں حاکم بن گئی ہیں اور انصاف کے نام پر ہی قوموں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں کر رہا کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے۔سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے۔ہم نے دینی اور دنیا وی اصول چھوڑ دئیے ہیں اور بے راہروی کا شکار ہو گئے آج بھی اگر دینی اصولوں کو اپنایا جائے ان پر عمل کیا جائے توہم دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر بحیثیت مجموعی ہم توبہ کریں اللہ سے مدد مانگیں تو ہم اس دنیا کو لیڈ کر سکتے ہیں۔اللہ کریم تمام جہانوں کے پالنہار ہیں جو بھی اس دنیا میں اللہ کی نعمتیں حاصل کر رہا ہے وہ اللہ کی صفت رحمانیت سے حاصل کر رہا ہے جو اس کو نہیں مان رہا اس کو بھی سب مل رہا ہے۔ہم تو اس کے ماننے والے ہیں ہم اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
jis ke paas taaqat hai woh chahta hai ke waisa ho jaisa mein chahta hon - 1