Latest Press Releases


نورِایمان بندہ ٔمومن کے قلب میں ادراک اور بصیرت پیدا فرماتا ہے


نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میںادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے .اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے
​ (پ۔ر)نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں وہ ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے کہ بندہ ٔ مومن خلق کی ان وسعتوں سے نکل کر اللہ رب العالمین سے آشنا ہوجاتا ہے اور مقامِ نبوت اور رسالتﷺ کے طفیل امت تک یہ آشنائی اور نور پہنچا جس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بعثت ِ رحمت اللعالمینﷺ سے پہلے عہدِ فطرت کا عہد500 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں جس نےبھی دل کی گہرائی سے سوچا کہ کوئی ہے جو عبادت کے لائق اور وحدہ‘ لاشریک ہے اور وہ اس جستجو میں رہا تو اس کی نجات ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان میں سالکین کےبڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
​ انہوں نے مزید کہا کہ آپﷺ کی 40 سالہ زندگی جو کفارِ مکہ کے درمیان بسر فرمائی وہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن نے بھی آپﷺ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی اور آج ہم مسلمان امتی دولت اور دنیا کی ہوس میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ذات باری سے دوری کی وجہ سے ہے۔ جتنی دوری اللہ سے ہوتی ہے اتنی انا بڑھتی ہے حالانکہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔
​انھوں نے کہا کہ جب بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کا جو کچھ ہوتا ہے وہ وارثوں کا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔ حالانکہ یہ نعمتیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اوراس بات کی سمجھ آ جائے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ دنیا کو ترک کرنے کا نہیں کہا جا رہابلکہ دنیا بھی اللہ کی ہے اور آخرت بھی اللہ کی ہے اصل میں جو حکم اللہ کا ہے اس کے مطابق رہنا ہے اور اس میں ہی ہماری فلاح ہے۔
انھوں نے احکاماتِ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزے میں ہماری جسمانی و روحانی بھلائی ہے، جبکہ نماز کی ادائیگی محض ورزش کے لیے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ہونی چاہیے۔ اللہ کریم نے زندگی کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے وہ ہماری عین ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ موت کے بعد تلافی کا کوئی موقع نہیں ملے گا اگرچہ ہم کمزور اور گناہ گار ہیں، مگر اللہ کی شانِ کریمی اور رحمت بے پناہ ہے۔ اگر انسان اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی کا طلب گار ہو، تو وہ غفور الرحیم توبہ کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔
  انہوں نے تلقین کی کہ تلاوتِ قرآن مجید کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے اور ہر دن کا آغاز کلامِ الٰہی سے ہو۔ قرآن کو محض وظائف کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کا پیغام سمجھ کر اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے "اکرم التراجم" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ لفظی و محاوراتی لحاظ سے انتہائی سلیس اور عام فہم ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کریں تاکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔
​آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دینِ اسلام کے احکام پر عمل کریں گےتو یہ ہمارے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا
Noor e Eman bandah Momin ke qalb mein idraak aur baseerat peda farmata hai - 1

بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا


 ساری امت ایک طرف اور اہل بدر کے کسی بھی ایک صحابی کی رائے دوسری طرف ہوتو ان کی رائے مقدم ہوگی۔  صحابہ بدر کے بارے ارشاد پاک ہے کہ میں سارے کا سارا اسلام یہاں میدان کارزار میں لے آیا ہوں۔رہتی دنیا تک یہ واحد جماعت ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے اور ساتھ ہی آپ کا یہ فرمانا کہ کسی مسئلے پر امت کا اتفاق اور بدری صحابی ؓ کی رائے اس کا برعکس ہو تو اصحاب بدر کی رائے مانی جائے گی ان کی رائے مقدم سمجھی جائے گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا۔یوم بدر یوم فرقان ہے۔حق و باطل کی تفریق کا دن ہے۔آج جو ایک سوال ہے کہ قرآن کریم تو مسلمانوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ حکمرانی مسلمانوں کے پاس رہے گی،تو جو فرمایا جا رہا ہوتا ہے کیا ہم اس پر پورا اتر تے ہیں؟۔ آج ہم مومن کہلانے والوں کے اعمال کافروں سے بھی بدتر ہیں تو شکایت کرنے کی بجائے اپنے اعمال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو اسلوب زندگی کے نبی کریم ﷺ نے فرمائے ہیں اس سے ہمیشہ کی کامیابی اورفتح نصیب ہوگی۔اُس وقت دو جماعتیں تھیں ایک وہ جماعت جو مکہ واپس لوٹ رہی تھی اور سامان تجارت کو لے جا رہی تھی اور اس رقم کو اسلام کے خلاف استعمال کرنیکا ارادہ رکھتے تھے یہاں بھی اگر دیکھا جائے تو ان لوگوں کو سزا ملی جو کفر میں آگے بڑھ چکے تھے۔اللہ نے مخلوق صرف کھیل تماشہ کے لیے پیدا نہیں فرمائی بلکہ اللہ کریم دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم کون سی راہ اختیار کرو گے۔
  ماہانہ اجتماع پر آنے والے نئے احباب و خواتین کی ظاہری بیعت بھی لی گئی اور انہیں لائحہ عمل بھی دیا گیا کہ اپنے معمولات کو مرکزی ہدایات کے مطابق گزارنا ہے اور قلبی ذکر صبح اور شام اختیار کرنا ہوگا۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
BZahir agar kufar Taqatwar b nzr aaye lekin un ka nazriya kabhi nafiz nah ho sakay ga - 1

ایک باعمل مسلمان ختم نبوت کی بہت بڑی شہادت ہے


  دنیا ایک باعمل مسلمان کی شہادت کو رد نہیں کر سکتی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ہمارے معاشروں اور حکومتوں کی معیشت کی بنیاد حرام یعنی سود پر رکھی گئی ہے۔اگر ہم قرآن وسنت پر عمل شروع کریں اور اپنے معاشرے کو عملی طورپر اس کے تحت لے آئیں تو دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ یہ ایسی تبلیغ ہوگی کہ از خود دنیا اسلام کی طرف راغب ہونا شروع ہو جائے گی۔ آج ہمارے عہد میں کمزوری ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی جہاں ہم ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں اس میں بھی خیانت ہے۔ہم نے قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنا ہے اپنی عقل و دانش کو اطاعت میں شامل نہیں کرنا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کی ذمہ داری ہے کہ مخلوق کو اپنی ذات کی طرف نہ لائیں بلکہ جتنی مخلوق خانقاہ پر آئے انہیں اصل کی طرف یعنی اللہ کی طرف لے کر جائیں اور بطریقہ نبی کریم ﷺ ان کی تربیت کی جائے۔آج لوگوں کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو خواہشات نفسانی کی پیروی میں لگا ہے۔نفس کی خواہشات بہت بڑا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سا عمل ہے جس سے نفس کو طاقت ملتی ہے اور کو ن سے ایسے اعمال ہیں جن سے نفس کمزور ہوتا ہے۔دین کے مقابل اپنی سوچ رکھ کر چلنا یہ درست نہیں ہے۔اور یہ سارے معاملات قلوب کی بیماری کی وجہ سے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے دلوں کا اطمینا ن اللہ کی یاد میں ہے۔ہمیں اپنے قلوب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی کی اشد ضرورت ہے۔ذکر قلبی کے بغیر قلوب کی اصلاح ممکن نہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 2،3 مئی بروز ہفتہ،اتوار دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی بھی ہوگی دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کیجیے۔
Aik ba aml musalman khatam nabuwat ki bohat barri shahadat hai - 1

پیچھے چلنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا


 جس نے بھی دین اسلام سے دنیا کے اصول لے کر ان پر عمل کیا وہ اس وقت دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ہم جنہیں دین اسلام وراثت میں ملا ہم وہ اصول چھوڑ کر دین اور دنیا دونوں میں پیچھے رہ گئے۔ہمیں جو اقدار اور شفقت بڑوں سے ملی وہ ہمارے اندر کہیں نظر نہیں آرہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ مانچسٹر دارالعرفان میں سراجا منیرا کانفرس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ موت کے مرحلے سے گزرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ روح جب ایک ایک باڈی سیل سے نکلتی ہے جیسے کانٹے دار جھاڑی پر باریک کپڑا ڈال کر پھر اسے ایک طرف سے پکڑ کر کھینچا جائے تو وہ تار تار ہو جائے گا۔لیکن ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ وفات پا جاتے ہیں لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔کئی بار یہ بھی دیکھا ہے کہ قیمتی کفن ہوتا ہے قیمتی چارپائی ہوتی ہے لیکن چہرے پر اضطراب ہوتا ہے۔حضرت جی ؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حضرت جی ؒ کا وصال ہوا تو ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کا جنازہ لیٹ ہوگا اس لیے یہاں سردے خانے کی سہولت موجود ہے آپ حضرت کو یہاں رہنے دیں۔تو میں نے ان سے کہا محترم آپ کل جنازے پر آنا اور اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لینا کہ ان کا وجود حرکت دینے سے حرکت کرتا ہے کہ نہیں۔اس لیے کہ جب زندگی اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر بسر ہو پھر کسی سرد خانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔وہ سر کیوں حرکت نہ کرے جسے اللہ کریم نے رکوع و سجود کی توفیق عطا فرمائی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ُeechay chalne wala kabhi barabar nahi ho sakta - 1

یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے


 جس بندے کے اندر توقع اور خوف دونوں کیفیات ہوں اس کے اندر ایمان کی دولت موجود ہے۔ ذکر کثیر سے متعلق قرآن کریم سورہ اعراف کی آخری آیات میں جو حکم فرمایا گیا ہے وہ ذکر خفی اور ذکر قلبی اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ذکر صبح شام جب کریں گے تو ایسی کیفیت بن جائے گی کہ ہمہ وقت کا ذکر نصیب ہوگا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ" ہتھ کار ول دل یار ول "کہ اگر آپ معاملات دنیا کی طرف بھی جا رہے ہیں تو آپ متوجہ الی اللہ رہیں گے۔جس سے ہمہ وقت کا ذکر،اللہ کی یاد نصیب ہوگی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ میں دارالعرفان برمنگھم میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے۔ذکر الٰہی کی تین اقسام ہیں لثانی ذکر،عملی ذکر اور ذکر قلبی۔لثانی ذکر جب تک آپ کوئی تسبیح پڑھ رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جب آپ نے کوئی گفتگو شروع کی آپ کا ذکر رک گیا  اسی طرح عملی ذکر بھی جب تک آپ کوئی نیک عمل کر رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جونہی آپ نے وہ عمل چھوڑ دیا یا سو گئے تو آپ کا وہ ذکر رک گیا۔لیکن قرآن کریم میں ذکر کثیر کا حکم ہے جو صرف قلبی ذکر سے ممکن ہے جب اللہ کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے تو دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد جاری رہتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایسی تسبیح ہے ایسا وظیفہ ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے۔حدیث شریف کے مطابق درود شریف کا وقت بڑھاتے بڑھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سارا وقت درود شریف کو دیا جائے تو بہت افضل ہے۔لیکن اس زعم میں نہ پڑجائیں کہ میرے جیسا عبادات گزار کوئی نہیں میرے جیسا نیک کوئی نہیں عجز اور انکساری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ہمیشہ خود کو عاجز سمجھیں تاکہ کبر قریب نہ آئے۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Yaad Ellahi ke sath wabastagi niyat se le kar amal tak ko durust kar ti hai - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے

اسلام آباد: حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے۔ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے تین ہفتوں پر مشتمل دورے کے لیے روانہ ہوئے۔

اس موقع پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سالکین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے شیخ مکرم کو رخصت کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عہدے داران بھی خصوصی طور پر حضرت کو الوداع کرنے کے لیے موجود تھے۔ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے روانگی سے قبل تمام احباب سے مصافحہ کیا اور دعاؤں سے نوازا۔

دورۂ یوکے کے دوران حضرت لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی سراج منیر کانفرنسز سے خطاب کریں گے، جن میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ ان کانفرنسز میں روحانی تربیت، اصلاحِ نفس اور معاشرتی رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر خصوصی خطابات کیے جائیں گے۔

مزید برآں، حضرت امیر عبدالقدیر اعوان اپنے قیام کے دوران انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں وہ احباب کو ذاتی طور پر روحانی رہنمائی اور تربیت فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر خصوصی لیکچرز بھی دیے جائیں گے۔

یہ دورہ روحانی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یوکے میں مقیم پاکستانی و دیگر کمیونٹی بھرپور استفادہ کرے گ
Ameer Abdul Qadeer Awan MZA sheikh Silsila rohani tarbiati dora pr bartania rawana - 1

اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے


جیسے انسانی وجود کو روزانہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے بلکل اسی طرح روح بھی آلودہ ہوتی ہے اور دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اس کی صفائی کے لیے اللہ کا ذکر کرایا جا تا ہے۔جب قلب کے اندر کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ آتی ہیں تو قلب جسم کو صراط مستقیم پر لے آتا ہے اور نفس کو برائی سے روکتا ہے۔آج معاشرے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ گھر کی نشست ختم ہو گئی ہے اور بچوں کو تنہائی دے دی گئی ہے وہ کیا کر رہے ہیں کیا دیکھ رہے ہیں جو مغرب اور اغیار دکھانا چاہتے ہیں۔ہمارے بچے ہیں لیکن ہمارے نہیں رہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر نماز پورے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو جتنی ہماری پریشانیاں ہیں بندہ ان سے نکل آتا ہے۔جو نمازی متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اللہ کریم کی اسے خصوصی توجہ نصیب ہوتی ہے۔معاملات میں جائز وسائل کا استعمال کریں اللہ کریم سے عافیت مانگی جائے،شکر گزاری کی جائے توکل الی اللہ ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے،حفاظت فرماتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ہمارے قومی اور بحیثیت امت جو حالات ہیں یقینا ان کا سبب ہمارے اعمال ہیں۔جو جنگی حالات ہیں اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ ہماری بے عملی اور نالائقی کے سبب سے ہے جواقوام عالم میں ہمیں کمزور کرتی چلی گئی۔اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے جو مظلوم ہیں ان کو بھی انصاف دلانے کا سبب بنتے۔آج جو ہماری صورت حال ہے بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے گریباں پکڑیں اپنے اعمال پر توجہ فرمائیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
  یا درہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ رواں ماہ روحانی تربیت کے لیے برطانیہ کا دورہ کریں گے جس میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا اہتمام ہو گا اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ برطانیہ سالانہ ہوتا ہے جس میں حضرت کے برطانیہ کے مختلف شہروں میں لیکچر ہوتے ہیں۔
Agar hum islami Osoolon par qaim rehtay to hum mazloom nahi balkay adil hotay - 1

فلاح انسانیت کے نام پر انسانیت کو دھوکہ دیا جا رہا ہے


آج ہم غلط فیصلے کر کے سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی فلاح کر رہے ہیں۔اپنی عقل و دانش اور ذاتی پسند سے قانون بناتے ہیں کچھ عرصے بعد خود ہی ان قوانین کا رد کر رہے ہوتے ہیں۔آنے والی اسمبلی اُن قوانین میں ترمیم کر رہی ہوتی ہے کہ یہ قوانین اب قابل عمل نہیں رہے۔ہم طرح طرح کے تجربات کر رہے ہوتے ہیں یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی عقل کلی طور پر کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی،اس کے مقابل اسلامی اصول اور قوانین جہاں بھی نافذ ہوئے وہاں اعتدال رہا اور کوئی بھی ان قوانین کو رد نہیں کر سکا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اولیسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ خوش بخت ہستیاں ہیں جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی۔آج بھی وہی اسلامی تعلیمات ہیں،قرآن کریم ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہے سب کچھ محفوظ ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن ایمان کا وہ درجہ جو صحابہ کرام ؓ کو نصیب تھا وہ آج کیوں نہیں ہے اس لیے کہ ان ہستیوں کو نبی کریم ﷺ کا ساتھ نصیب تھا۔پھر صحابہ ؓ  میں اہل بد ر کا اپنا مقام ہے،عشرہ مبشرہ کا اپنا ہے۔اقرار کے ساتھ پھر اس پر قائم رہنا یعنی خود کو دین پر قائم رکھنا یہ صبر ہے ہر ایک کو صبر اور تقوی کی ضرورت ہے۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے اتفاق و اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Falah insaaniyat ke naam par insaaniyat ko dhoka diya ja raha hai - 1

بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے


اسلام اس کرہ ارض پر تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ لوگوں کے تحفظ اور ان پر ظلم کو روکتے ہوئے پھیلا  اُس وقت کے مظالم جس کی تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم اپنی شکایت بھی نہیں کر سکتا تھا۔انسانیت کی بھلائی کوئی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک سے ابھی نکلے ہیں ان سب کے فضائل حاصل کیے ہیں اور ان کا حاصل میدان عمل میں یہ ہے کہ ہم نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں۔اور تقوی کا حاصل بھی یہ ہے کہ بندہ عمل کرتے ہوئے اللہ کی حضوری کا احساس رکھے۔ہر چیز اللہ کے دست قدرت میں ہے،فتح و ناکامی اللہ کی طرف سے ہے۔سبب اختیار کرو لیکن بھروسہ اللہ پر کرو۔اہل بدر کو یہ الفاظ نصیب ہوئے کہ یہ سارے کا سارا اسلام ہے۔اللہ کریم ایمان کی یہ کیفیت عطا فرمائیں کہ اللہ کی رضا اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔اس دنیا میں یہ فرصت ہے کہ ہم اپنی آخرت تعمیر کر سکیں۔یہ دنیا کی زندگی اس لیے قیمتی ہے کہ اس پر آخرت کا انحصار ہے۔
  انہوں نے کہا کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے۔ہم صرف تعمیل حکم کر رہے ہیں۔اللہ کریم ہمیں خالص عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔دعوی ایمانی کے ساتھ اپنی عبادات کے ساتھ اپنی اغراض شامل کر لیں یہ درست نہیں ہے۔
 آج بھی فرشتے مسلمانوں کی مدد کو نازل ہو سکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم مسلمانی کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔اللہ کریم سے حقیقی تعلق ہونا چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ صبر یہ ہے کہ خود کو شریعت پر پوری قوت سے روکے رکھنا۔شیطان کے پیچھے نہ جانا،عمومی دنیا کی روش میں نہ بہہ جانا۔رمضان المبارک کا حاصل بھی صابر اور متقی کی کیفیت کو پانا ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ
Bakhshish Allah ki rehmat se hai hamaray aamaal se mansoob nahi hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

 مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخِ سلسلہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے آزادی کی اہمیت اور قراردادِ مقاصد کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالی، جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خطاب میں ملکی اداروں کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے تمام قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مختلف لسانی اکائیاں، جن میں سندھی، بلوچی، پشتو اور گلگتی زبانیں شامل ہیں، ہماری قومی طاقت ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو یکجا کر کے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ ملکی و عالمی حالات کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
Markaz Darul irfan mnarh mein 23 March ke mauqa par yom Pakistan ki munasbat se aik purwaqar taqreeb munaqqid hui - 1