Latest Press Releases


پیچھے چلنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا


 جس نے بھی دین اسلام سے دنیا کے اصول لے کر ان پر عمل کیا وہ اس وقت دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ہم جنہیں دین اسلام وراثت میں ملا ہم وہ اصول چھوڑ کر دین اور دنیا دونوں میں پیچھے رہ گئے۔ہمیں جو اقدار اور شفقت بڑوں سے ملی وہ ہمارے اندر کہیں نظر نہیں آرہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ مانچسٹر دارالعرفان میں سراجا منیرا کانفرس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ موت کے مرحلے سے گزرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ روح جب ایک ایک باڈی سیل سے نکلتی ہے جیسے کانٹے دار جھاڑی پر باریک کپڑا ڈال کر پھر اسے ایک طرف سے پکڑ کر کھینچا جائے تو وہ تار تار ہو جائے گا۔لیکن ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ وفات پا جاتے ہیں لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔کئی بار یہ بھی دیکھا ہے کہ قیمتی کفن ہوتا ہے قیمتی چارپائی ہوتی ہے لیکن چہرے پر اضطراب ہوتا ہے۔حضرت جی ؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حضرت جی ؒ کا وصال ہوا تو ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کا جنازہ لیٹ ہوگا اس لیے یہاں سردے خانے کی سہولت موجود ہے آپ حضرت کو یہاں رہنے دیں۔تو میں نے ان سے کہا محترم آپ کل جنازے پر آنا اور اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لینا کہ ان کا وجود حرکت دینے سے حرکت کرتا ہے کہ نہیں۔اس لیے کہ جب زندگی اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر بسر ہو پھر کسی سرد خانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔وہ سر کیوں حرکت نہ کرے جسے اللہ کریم نے رکوع و سجود کی توفیق عطا فرمائی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ُeechay chalne wala kabhi barabar nahi ho sakta - 1

یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے


 جس بندے کے اندر توقع اور خوف دونوں کیفیات ہوں اس کے اندر ایمان کی دولت موجود ہے۔ ذکر کثیر سے متعلق قرآن کریم سورہ اعراف کی آخری آیات میں جو حکم فرمایا گیا ہے وہ ذکر خفی اور ذکر قلبی اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ذکر صبح شام جب کریں گے تو ایسی کیفیت بن جائے گی کہ ہمہ وقت کا ذکر نصیب ہوگا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ" ہتھ کار ول دل یار ول "کہ اگر آپ معاملات دنیا کی طرف بھی جا رہے ہیں تو آپ متوجہ الی اللہ رہیں گے۔جس سے ہمہ وقت کا ذکر،اللہ کی یاد نصیب ہوگی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ میں دارالعرفان برمنگھم میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے۔ذکر الٰہی کی تین اقسام ہیں لثانی ذکر،عملی ذکر اور ذکر قلبی۔لثانی ذکر جب تک آپ کوئی تسبیح پڑھ رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جب آپ نے کوئی گفتگو شروع کی آپ کا ذکر رک گیا  اسی طرح عملی ذکر بھی جب تک آپ کوئی نیک عمل کر رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جونہی آپ نے وہ عمل چھوڑ دیا یا سو گئے تو آپ کا وہ ذکر رک گیا۔لیکن قرآن کریم میں ذکر کثیر کا حکم ہے جو صرف قلبی ذکر سے ممکن ہے جب اللہ کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے تو دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد جاری رہتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایسی تسبیح ہے ایسا وظیفہ ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے۔حدیث شریف کے مطابق درود شریف کا وقت بڑھاتے بڑھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سارا وقت درود شریف کو دیا جائے تو بہت افضل ہے۔لیکن اس زعم میں نہ پڑجائیں کہ میرے جیسا عبادات گزار کوئی نہیں میرے جیسا نیک کوئی نہیں عجز اور انکساری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ہمیشہ خود کو عاجز سمجھیں تاکہ کبر قریب نہ آئے۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Yaad Ellahi ke sath wabastagi niyat se le kar amal tak ko durust kar ti hai - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے

اسلام آباد: حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے۔ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے تین ہفتوں پر مشتمل دورے کے لیے روانہ ہوئے۔

اس موقع پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سالکین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے شیخ مکرم کو رخصت کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عہدے داران بھی خصوصی طور پر حضرت کو الوداع کرنے کے لیے موجود تھے۔ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے روانگی سے قبل تمام احباب سے مصافحہ کیا اور دعاؤں سے نوازا۔

دورۂ یوکے کے دوران حضرت لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی سراج منیر کانفرنسز سے خطاب کریں گے، جن میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ ان کانفرنسز میں روحانی تربیت، اصلاحِ نفس اور معاشرتی رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر خصوصی خطابات کیے جائیں گے۔

مزید برآں، حضرت امیر عبدالقدیر اعوان اپنے قیام کے دوران انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں وہ احباب کو ذاتی طور پر روحانی رہنمائی اور تربیت فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر خصوصی لیکچرز بھی دیے جائیں گے۔

یہ دورہ روحانی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یوکے میں مقیم پاکستانی و دیگر کمیونٹی بھرپور استفادہ کرے گ
Ameer Abdul Qadeer Awan MZA sheikh Silsila rohani tarbiati dora pr bartania rawana - 1

اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے


جیسے انسانی وجود کو روزانہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے بلکل اسی طرح روح بھی آلودہ ہوتی ہے اور دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اس کی صفائی کے لیے اللہ کا ذکر کرایا جا تا ہے۔جب قلب کے اندر کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ آتی ہیں تو قلب جسم کو صراط مستقیم پر لے آتا ہے اور نفس کو برائی سے روکتا ہے۔آج معاشرے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ گھر کی نشست ختم ہو گئی ہے اور بچوں کو تنہائی دے دی گئی ہے وہ کیا کر رہے ہیں کیا دیکھ رہے ہیں جو مغرب اور اغیار دکھانا چاہتے ہیں۔ہمارے بچے ہیں لیکن ہمارے نہیں رہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر نماز پورے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو جتنی ہماری پریشانیاں ہیں بندہ ان سے نکل آتا ہے۔جو نمازی متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اللہ کریم کی اسے خصوصی توجہ نصیب ہوتی ہے۔معاملات میں جائز وسائل کا استعمال کریں اللہ کریم سے عافیت مانگی جائے،شکر گزاری کی جائے توکل الی اللہ ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے،حفاظت فرماتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ہمارے قومی اور بحیثیت امت جو حالات ہیں یقینا ان کا سبب ہمارے اعمال ہیں۔جو جنگی حالات ہیں اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ ہماری بے عملی اور نالائقی کے سبب سے ہے جواقوام عالم میں ہمیں کمزور کرتی چلی گئی۔اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے جو مظلوم ہیں ان کو بھی انصاف دلانے کا سبب بنتے۔آج جو ہماری صورت حال ہے بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے گریباں پکڑیں اپنے اعمال پر توجہ فرمائیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
  یا درہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ رواں ماہ روحانی تربیت کے لیے برطانیہ کا دورہ کریں گے جس میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا اہتمام ہو گا اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ برطانیہ سالانہ ہوتا ہے جس میں حضرت کے برطانیہ کے مختلف شہروں میں لیکچر ہوتے ہیں۔
Agar hum islami Osoolon par qaim rehtay to hum mazloom nahi balkay adil hotay - 1

فلاح انسانیت کے نام پر انسانیت کو دھوکہ دیا جا رہا ہے


آج ہم غلط فیصلے کر کے سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی فلاح کر رہے ہیں۔اپنی عقل و دانش اور ذاتی پسند سے قانون بناتے ہیں کچھ عرصے بعد خود ہی ان قوانین کا رد کر رہے ہوتے ہیں۔آنے والی اسمبلی اُن قوانین میں ترمیم کر رہی ہوتی ہے کہ یہ قوانین اب قابل عمل نہیں رہے۔ہم طرح طرح کے تجربات کر رہے ہوتے ہیں یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی عقل کلی طور پر کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی،اس کے مقابل اسلامی اصول اور قوانین جہاں بھی نافذ ہوئے وہاں اعتدال رہا اور کوئی بھی ان قوانین کو رد نہیں کر سکا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اولیسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ خوش بخت ہستیاں ہیں جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی۔آج بھی وہی اسلامی تعلیمات ہیں،قرآن کریم ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہے سب کچھ محفوظ ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن ایمان کا وہ درجہ جو صحابہ کرام ؓ کو نصیب تھا وہ آج کیوں نہیں ہے اس لیے کہ ان ہستیوں کو نبی کریم ﷺ کا ساتھ نصیب تھا۔پھر صحابہ ؓ  میں اہل بد ر کا اپنا مقام ہے،عشرہ مبشرہ کا اپنا ہے۔اقرار کے ساتھ پھر اس پر قائم رہنا یعنی خود کو دین پر قائم رکھنا یہ صبر ہے ہر ایک کو صبر اور تقوی کی ضرورت ہے۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے اتفاق و اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Falah insaaniyat ke naam par insaaniyat ko dhoka diya ja raha hai - 1

بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے


اسلام اس کرہ ارض پر تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ لوگوں کے تحفظ اور ان پر ظلم کو روکتے ہوئے پھیلا  اُس وقت کے مظالم جس کی تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم اپنی شکایت بھی نہیں کر سکتا تھا۔انسانیت کی بھلائی کوئی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک سے ابھی نکلے ہیں ان سب کے فضائل حاصل کیے ہیں اور ان کا حاصل میدان عمل میں یہ ہے کہ ہم نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں۔اور تقوی کا حاصل بھی یہ ہے کہ بندہ عمل کرتے ہوئے اللہ کی حضوری کا احساس رکھے۔ہر چیز اللہ کے دست قدرت میں ہے،فتح و ناکامی اللہ کی طرف سے ہے۔سبب اختیار کرو لیکن بھروسہ اللہ پر کرو۔اہل بدر کو یہ الفاظ نصیب ہوئے کہ یہ سارے کا سارا اسلام ہے۔اللہ کریم ایمان کی یہ کیفیت عطا فرمائیں کہ اللہ کی رضا اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔اس دنیا میں یہ فرصت ہے کہ ہم اپنی آخرت تعمیر کر سکیں۔یہ دنیا کی زندگی اس لیے قیمتی ہے کہ اس پر آخرت کا انحصار ہے۔
  انہوں نے کہا کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے۔ہم صرف تعمیل حکم کر رہے ہیں۔اللہ کریم ہمیں خالص عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔دعوی ایمانی کے ساتھ اپنی عبادات کے ساتھ اپنی اغراض شامل کر لیں یہ درست نہیں ہے۔
 آج بھی فرشتے مسلمانوں کی مدد کو نازل ہو سکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم مسلمانی کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔اللہ کریم سے حقیقی تعلق ہونا چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ صبر یہ ہے کہ خود کو شریعت پر پوری قوت سے روکے رکھنا۔شیطان کے پیچھے نہ جانا،عمومی دنیا کی روش میں نہ بہہ جانا۔رمضان المبارک کا حاصل بھی صابر اور متقی کی کیفیت کو پانا ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ
Bakhshish Allah ki rehmat se hai hamaray aamaal se mansoob nahi hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

 مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخِ سلسلہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے آزادی کی اہمیت اور قراردادِ مقاصد کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالی، جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خطاب میں ملکی اداروں کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے تمام قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مختلف لسانی اکائیاں، جن میں سندھی، بلوچی، پشتو اور گلگتی زبانیں شامل ہیں، ہماری قومی طاقت ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو یکجا کر کے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ ملکی و عالمی حالات کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
Markaz Darul irfan mnarh mein 23 March ke mauqa par yom Pakistan ki munasbat se aik purwaqar taqreeb munaqqid hui - 1

آج کی رات (چاند رات)جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ رمضان المبارک کا انعام حاصل کرنے کی رات ہے


 رمضان المبارک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جو تقوی کی کیفیت کا حصول مقصود ہے اسے رمضان المبارک کے بعد عملی زندگی میں پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم نے رمضان المبارک میں متقی کی کیفیت حاصل کی؟کیا ہم ان حدود و قیود کا خیال رکھ رہے ہیں جو اللہ کریم نے ہمارے لیے مقرر فرمائی ہیں؟  کہیں یہ تو نہیں کہ رمضان المبارک کے بعد پہلی رات جسے لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں وہ رات جو رمضان المبارک کے انعامات پانے کی رات ہے۔ اس رات کو چاند رات کے نام پر جشن اور ھلڑ بازی اور شور شرابا میں ہم نے ضائع کر دیا ۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی جماعت کو اللہ کریم نے وہ عظمت عطا فرمائی کہ اللہ ان سے راضی ہو گئے اور وہ اللہ سے راضی۔جن سے اللہ کریم راضی ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ان کی عظمت یہ ہے کہ غیر صحابہ جن میں تابعین، تبع تابعین اور اہل اللہ سب کو اکٹھا کر لیں پھر بھی وہ صحابہ کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے۔اللہ کریم نے صحابہ کرام کو یہ عظمتیں عطا فرمائیں ہیں۔دنیا کی بادشاہیاں اگر قبر میں اترتے ہیں امتحان بن جائیں تو کیا فائدہ ان بادشاہیوں کا؟اللہ کریم نے جس کوجہاں جس حال میں رکھا ہے اس کے لیے وہی سب سے بہتر حال ہے 
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں اجتماعی سنت اعتکاف کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں معتکفین تشریف لائے ان اپنے شب و روز کو اللہ والوں کی اس بستی میں بسر کیا۔
  شیخ سلسلہ نے آخر میں معتکفین کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کا اعتکاف قبول فرمائیں اور اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک اللہ حفاظت فرمائے۔ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی گئی۔
Aaj ki raat ( chaand raat ) jashnn mananay ke liye nahi balkay ramadaan al mubarak ka inaam haasil karne ki raat hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری


 مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری۔
  اس موقع پر انہوں نے اجتماعی دعا فرمائی اوربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی فرضیت کا مقصد صرف اور صرف حصول تقوی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے ہیں تا کہ تمہارا اپنے رب سے ایک مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور تمہیں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے حیا آجائے۔اگر بندگی کی یہ کیفیت نصیب ہو تو حال بد ل جاتا ہے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی اجتماعی اعتکاف کا وسیع انتظام کیا گیا ہے جس کے تمام انتظامات امیر عبدالقدیر اعوان خود دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت پورے ملک اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ مرکز میں سنت  و نفل اعتکاف کے لیے آئے ہوئے ہیں جنہیں سحری سے لے کر رات 10:30  بجے تک باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق گزارا جاتا ہے اور جس میں فقہ اور درس حدیث کی کلاسز ہوتی ہیں روزانہ صبح 11:00 بجے حضرت شیخ المکرم خطاب فرماتے ہیں۔اس سارے نظام میں واحد مقصد روحانی پاکیزگی کا حصول ہے اور یہاں ر وحانی اسباق کے امتحانات پاس کرنے والوں میں حضرت شیخ المکرم اپنے دست مبارک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں
Markaz Darul irfan munarh mein jari ijtimai sunnat aitekaf mein Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila ki hazaron Motakfeen ke sath aftaari - 1

شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے


 رمضان المبارک کا آخری عشرہ جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی۔شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں مخلوق خد اکو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا ہو تا ہے ۔
لیلتہ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے چلی گئیں اور نجات میں ہیں وہ واپس آتی ہیں اپنی آل اولاد کو دیکھتے ہیں اگر ان کی اولاد نیکی پر ہو تو خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں اور گناہوں میں زندگی گزار رہے ہوں تو دکھ اور تکلیف لے کر لوٹ جاتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین چھوڑا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔اور اس طرح بڑھتی ہیں کہ بندہ پھر ان میں پھنس کے رہ جاتا ہے۔اور اگر پہلی ترجیح دین کو دی جائے تو یہی وقت ان میں اللہ کریم برکت فرما دیتے ہیں دین کے بھی سارے معمولات ہو جاتے ہیں اور دنیا کا بھی کوئی کام نہیں رہ پاتا۔اسلام دنیا کے کاموں سے دولت کمانے سے منع نہیں فرماتا صرف حلال اور طیب کی قید لگاتا ہے۔کہ کسی کا حق نہ چھینو۔دین اسلام تو اعتدال دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کا فرماتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری ہیں کوئی نہیں کہتا کہ دنیا ترک کر دیں۔لیکن دنیا ہی کے ہو کر رہ جائیں یہ کون سا شعور ہے؟
  انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں جن مسائل سے ہم دوچار ہیں یہ قرآن کریم سے روگردانی کا سبب ہے۔ورنہ بندہ مومن کے لیے کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب نہ فرمایا ہو۔انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس اللہ کی کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں؟پوری امت میں جو حالات کی تنگی کی وجہ سے ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے اس کا حل بھی رمضان المبارک کی عبادات میں ہے اس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر اللہ کریم کی ان عطاؤں سے استفادہ حاصل کریں اور خالص اپنے اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Shab qader woh raat hai jo hazaar mahino se behtar hai - 1