Latest Press Releases


نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔

 نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ایمان کی مضبوطی عمل صالح تک لے جاتی ہے۔جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اس کے پیچھے ہماری نیت ہوتی ہے ہمارے تمام اعمال کا انحصار ہماری نیت پر ہوتا ہے۔احکامات دین پر عمل کرنے سے پرہیزگاری نصیب ہوتی ہے اور اللہ کی طرف سے اجرعظیم عطا ہوتا ہے۔یہ جو مبارک مہینہ ہے اس میں بنیاد یہی ہے کہ دین جانیں اور صدق دل سے اس پر عمل کریں اپنے اللہ کریم سے تعلق پیدا کریں اپنے اللہ سے مانگیں۔یہ دنیا امتحان گاہ ہے اس کی تیاری کے لیے جو ضرورت ہے وہ عطا کر دیا گیا ہے۔احکامات دین پرعمل کرنے سے ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے۔قلب میں ایمان ہو تو ایک حد تک بندہ اللہ کریم کو پہچان سکتا ہے۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ملک بھر میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا انعقاد ہو رہا ہے اس میں فیصل آباد بہاولپور،وہاڑی،مظفر گڑھ،گوجرانوالا،مرکز دارالعرفان منارہ شامل ہیں۔ جس میں شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے۔دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔
Nabi kareem SAW ko Rehmat  allaalmin bana kar bheja gaya . - 1

وطنِ عزیز کی خدمت، قومی یکجہتی کے فروغ اور ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیشہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے

اناسیواں یوم ِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں سالکین نے شرکت کی۔ تقریب کا آغازتلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا اور حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب کے دستِ مبارک سے پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب نے فرمایا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور ایک پاک سرزمین ہے۔ اس وطن کی آزادی، سلامتی، استحکام اور ترقی کا تحفظ ہر پاکستانی کی قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یومِ آزادی صرف 14 اگست کو منانے کا نام نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی عملی زندگی میں دیانت، امانت، محنت، قانون کی پاسداری اور اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہر شہری اپنے حصے کی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرے اور وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب نے مزید فرمایا کہ مضبوط کردار، قومی اتحاد، باہمی احترام اور خدمتِ خلق ہی ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، افواجِ پاکستان اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطنِ عزیز کی خدمت، قومی یکجہتی کے فروغ اور ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیشہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ یہ پیغام قومی جذبے، یکجہتی اور ذمہ دارانہ کردار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
Watanِ Aziz ki khidmat, qaumi yakjahti ke farogh aur aik mazboot Pakistan ki taamer ke liye hamesha apna bharpoor kirdaar ada karte rahen ge - 1

دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے

 دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے۔مخلوق کی آراء اسلام نہیں ہو سکتی۔کسی کی ذاتی رائے قرآن وسنت کے نام پر دین میں داخل کی جائے تو وہ بدعت ہو گی۔دین اسلام کے ساتھ ظلم ہے دین نہیں ہے۔مسلمان کے ذمہ کلی اطاعت ہے رائے کا عمل دخل نہیں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلامی حکم پر عمل کرنے سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔اور اس میں ہر ایک کی بہتری ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایک تو خوش ہو جائے اور دوسرے کا نقصان ہو۔اسلامی حکم ہماری ضرورت ہے اسلام کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان عطا فرمایا۔جو لوگ اللہ کی مخالفت میں لگے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ پھر دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دینی باتوں میں لوگوں کا رجحان بہت کم ہے،دینی پروگرامز ہوں،دینی محافل ہوں ان میں بہت کم لوگ آتے ہیں اور اگر کہیں کوئی تماشہ لگا ہو تو وہاں آپ کو بہت رش نظر آئے گا اپنا وقت بھی ضائع کریں گے پیسوں کا ضیاع بھی کریں گے لیکن وہاں ضرور جائیں گے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کی تسکین میں لگے رہتے ہیں۔جو بھی اللہ سے خالص استقامت فی الدین کی توفیق مانگے گا اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔نیکی ہمیشہ اللہ کے لیے کرنی چاہیے۔جو بھی دین پر عمل کرتا ہے وہ دین کی حفاظت کر تا ہے اور اللہ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
deen islam woh hai jo Allah ka hukum hai - 1

جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے


پریس ریلیز 
 ایسی نشست یا محفل جس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ یا دین کا ذکر نہ ہو ایسی محفل سے متعلق رو زآخرت سوال ہو گا اور پچھتائیں گے کہ کاش ہم ایسی محفل نہ کرتے۔اگر ایک محفل کے متعلق اتنی سخت وعید ہے تو ہماری زندگی کے شب و روز جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی یاد سے خالی ہیں اگر غور کریں تو سمجھ آئے گی کہ کتنے دین پر ہیں اور کتنے دین سے دور لایعنی اعمال میں وقت کا ضیاع کر رہے ہیں۔ہم اپنی ساری زندگی اصول تجویز پر گزار دیتے ہیں جبکہ دین اسلام اصول تفویض پر زندگی بسر کرنے کی راہنمائی عطا فرماتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کمالات پر بھروسہ کریں گے اللہ کے تفویض کردہ اصولوں پر نہیں چلیں گے پھر برکت جاتی رہے گی۔اور آخرت میں ان تمام وسائل کا جواب دینا پڑے گا۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔دین اسلام ہر طرح کی راہنمائی فرماتا ہے کہ ذرائع آمدن کیسے ہونے چاہیے؟معاشی زندگی،معاشرتی زندگی،اپنے ذاتی وجود سے لے کر ہر ایک لمحے کے بارے راہنمائی ہے حتی کہ عبادات بھی حد سے زیادہ کرنے پر سوال ہو گا۔بندہ یہ اقرار کرے کہ جو کچھ ہے میرے اللہ کا ہے اور میرے حصے کا میرے اللہ کریم نے مجھے عطا فرمایا ہے۔اس طرح اللہ کریم نے جو تفویض فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے۔اور جو شیطان کا پیروکار ہو وہ بے سکون اور خوفزدہ رہے گا۔اس لیے کہ شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر دونو ں کا دشمن ہے۔جو بھی اس کی پیروی کرے گا وہ اللہ کے فضل سے دور ہوتا چلا جائے گا۔حق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈرے پھر کسی کا ڈر نہیں رہتا اور اللہ سے ڈرنے سے مراد ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں اسی کیفیت کو تقوی بھی کہتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
jis par Allah ka fazl hota hai is ko qalbi sukoon naseeb hota hai - 1

موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے


 اللہ کی رضا کے لیے انصار مدینہ نے ایسی مہمان نوازی کی کہ غزوہ احد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔  غزوہ احد میں آپ ﷺ کے حکم کو سمجھنے کی غلطی سے آزمائش کی صورت بن گئی لیکن عین میدان کارزار میں اللہ کریم نے انہیں اپنی رضا اور معافی کا اعلان فرما کر سکھ اور سکینہ عطا فرمایا اور منافقین کو ظاہر کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبا رک کے روز خطاب ۔
  انہوں نے کہا کہ موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے۔سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔صاحب ایمان بھی اس میں سے گزرے گا اور بے ایمان بھی گزریں گے لیکن ان دونوں میں فرق بہت ہے۔اس لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے حق سے بھاگنے سے کیا ہوگا کیا زندگی لمبی ہو جائے گی؟شہید ہونے کے لیے قتل ہونا پڑتا ہے جان دینی پڑتی ہے اللہ کے لیے اس کی رضا کے لیے،احیائے دین کے لیے،حق او رسچ کے لیے جو قتل ہوتے ہیں ان کا معاملہ اور ہے اللہ کریم فرماتے ہیں جو میری راہ میں جان دیتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔کئی مثالیں ہیں شہداء کی جب قبریں کھولیں گئیں تو ان کا وجود بلکہ ان کے لباس بھی سلامت تھے۔شہید کو موت کے وقت صرف اتنا احساس ہوتا ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ویسے اگر موت کے بارے پڑھیں تو بندے کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ میں کیسے اس عمل سے گزروں گا اتنا سخت وقت ہو گا۔ اللہ کریم معاف فرمائیں لیکن شہید کے لیے ایسا نہیں ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایمان اور صدق کے ساتھ تادم واپسی اطاعت الہی میں لگے رہے ان کے وجود بھی اللہ کریم نے قبروں میں سلامت رکھے۔برزرگان دین اور عالم دین کے کئی واقعات ملتے ہیں جب ان کی قبرمبارک کھولی گئی تو ان کے وجود سلامت ملے۔ دن رات دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لوگ واعظ بھی کر رہے ہیں درس و تدریس بھی ہو رہی ہے تفاسیر بھی بیان فرمائی جا رہی ہیں لیکن مقصد کیا ہے َ؟ صرف ان باتوں سے شناسائی ہے یا یہ مقصود ہو  کہ سارا حق میرے لیے بیان فرمایا گیا ہے تا کہ میں اس پر عمل کر سکوں تا کہ میری راہنمائی ہو سکے۔اگر ہم شہید ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہماری فرض نماز کیوں چھوٹ جاتی ہے ہمارے لین دین میں کمی بیشی کیوں ہے،ہم سچ کیوں نہیں بول پاتے۔یہ وہ حقائق ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Mout bhi zindagi ki terha aik haqeeqat hai - 1

نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے


 نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ زندگی میدان ِ عمل ہے ہم سب اس میں موجود ہیں۔اللہ اور اللہ کے نبی کا فرمان موجود ہے۔اجماع امت موجود ہے قرآن کریم موجود ہے ہمارے پاس اختیار ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ساری بات سمجھ آجائے گی۔اگر ایمان کا دعوی ہے اور اس کے ساتھ صدق نہیں ہے تو بات منافقت تک چلی جائے گی۔اور اگر ایمان کے ساتھ صدق بھی ہے تو پھر مسلمان معاشرے میں نظر آنا چاہیے کہ مسلمان معاشرہ ایسا ہوتا ہے 
 جن مسائل میں آج ہم گھرے ہیں ملکی طور پر،قومی طور پر اور خاندانی مسائل بھی جو ہیں ان کا سبب بداعمالیاں اور نفاق ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ دونوں کو برابر سمجھ آرہی ہوتی ہے۔رہتی دنیا تک جب بھی کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے گا قرآن کریم اس کی راہنمائی فرمائے گا۔قیامت کے دن جب حساب ہو گا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا کوئی انکار نہیں کر سکے گا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ہر چیز اس کے سامنے لائی جائے گی۔دنیا سبب سے ہے اسباب کل نہیں ہیں، ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔دنیا کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ جائز کام ہو جائز اسباب اختیار کیے جائیں پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے یہ توکل ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
 
Nabi kareem SAW ke arshadat ko chore dena azmaish aur takleef ka sabab bantaa hai - 1

آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔


 آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔ہمارے بد اعمال ہی ہیں جن کا پرتاؤآخرت میں تپش کی صورت ہم یہاں محسوس کررہے ہیں۔زندگی کے ایک ایک لمحے کا اسلوب آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں موجود ہے۔اللہ کریم ہمارے حکمرانوں کو بھی نظام مصطفے ﷺ کے نفاذ کی توفیق عطا فرمائیں۔قوانین جتنے بھی بنا لیں اگر ان کا اطلاق نہیں ہوگا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ہمیں تو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہمارے پاس بنا بنایا نظام  موجودہے بس اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔صرف اسلامی نظام سے ہی ہم موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سالانہ اجتماع کے آخری روز خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قلب انسانی احساسات کا گھر ہے۔اگر بندے کو یہ ادراک ہو جائے کہ میں ہر وقت اللہ کے روبرو ہوں تو نہاں خانہ دل میں اُٹھنے والی نیت صاف ہوتی چلی جاتی ہے۔تمام اعمال کا انحصار اسی نیت پر ہے۔آج ہمارے قلوب بے کیف ہو چکے ہیں ان میں احساس باقی نہیں رہا۔تمام طرح کی کیفیات کا گھر قلب انسانی ہے اسی میں دوستی کی کیفیت ہوتی ہے اسی میں دشمن بھی بستے ہیں۔ اگر اس دل میں اللہ کریم کی محبت پیدا ہو جائے تو بندہ مرضیات باری میں فنا ہو جاتا ہے اسے وہی پسند ہوتا ہے جو اللہ کریم کو پسند ہو۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج آخری روز تھا جس میں تقابلی جائزہ بھی لیا گیا اورڈویژن کی سطح پر بہتر کارکردگی پر حضرت نے اپنے دست مبارک سے زمہ داران میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔  ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائے اور اپنی روحانی تربیت کی۔اس کے علاوہ جناب فاروق ستار ایم این اے کراچی سے خصوصی طورپر تشریف لائے۔
آخر میں حضرت نے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور ملک و قوم کے لیے اور مسلم امہ کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں
Aaj hamaray muashray mein be cheeni ki barri wajah hamari badamaliya hain . - 1

جسے بھی ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی وہ درجہ صحابیت کو پا گئے


 دین اسلام نے بندہ مومن کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر وہ خوبصورت زندگی عطا فرمائی ہے جو ذہنی غلامی سے آزاد کر کے ایک ذات وحدہ لا شریک کی اطاعت میں لے آتی ہے۔ جسے بھی  ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی وہ درجہ صحابیت کو پا گئے۔آپ ﷺ امام الانبیاء ہیں آپ جب بھی کسی معاملے میں یا نزول قرآن کے وقت پوچھتے کہ اس آیت کے بارے کیا جانتے ہو تو صحابہ عرض کرتے ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔اللہ اور اللہ کے رسو ل ﷺ بہتر جانتے ہیں پھر بھی آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام سے امور دنیا میں مشورہ کیا کرتے تھے۔مشورہ کا ایک اصول ہے کہ مشورہ حکم نہیں ہوتا ایک رائے ہوتی ہے لینے والے کو بھلی لگے نہ لگے اس پر عمل کرے نہ کرے ہمارے ہاں اگر مشورے پر عمل نہ کیا جائے تو ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے کہ میرے مشورے کو اہمیت نہیں دی گئی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔مشورہ امانت ہوتا ہے اس میں خیانت نہ ہو۔اگر کسی سے کوئی مشورہ کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ مشورہ دے اور اچھا مشورہ دے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے اصول زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں اور ہماری ضرورت ہیں۔یہی وہ اصول ہیں جن میں ہماری قوم کی حیات ہے۔آج کے حالات بہت مشکل ہیں روزانہ خبر آتی ہے کہ ہمارے اتنے جوان شہیدہو گئے ہیں۔اگر ہم یہ اصول اپنائیں جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمائے ہیں جن کی حدود و قیود کا تعین محمد الرسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اگر مسلمان معاشرے ان پر عمل پیرا ہوں تو ایسی صورت حال نہ پیش آئے۔اللہ کریم وطن عزیز کی حفاظت فرمائیں اور شہداء کی قربانیاں قبول فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس کا اختتامی بیان و اجتماعی دعا 12 جولائی بروز اتوار ہوگی۔جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائیں گے۔دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے قلوب کو برکات نبوت ﷺ سے منوری کیجیے۔
 
Jisay bhi imaan ki haalat mein nabi kareem SAW ki sohbat naseeb hui woh darja sahabiat ko pa gaye - 1

خلوص اللہ کی بہت بڑی عطا ہے موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے


 معاشرے میں غلطیاں اس حد تک بڑھ گئی ہیں جس سے معاشرے میں تکلیف کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔گندگی کا ڈھیر جہاں بھی ہوتا ہے وہاں تعفن ہی پھیلتا ہے اور بدبو آتی ہے ایسی جگہ رہنا نا گزیر ہوجاتا ہے۔جب بھی اپنی عملی زندگی کے امور کو دیکھیں اگر خود کو امتحان میں دیکھیں تو اپنے قول و فعل کو ضرور جانچیں کہ ان کے پیچھے جو میری نیت ہے وہ کیا ہے؟کیا میرے اعمال صرف خود کو تسکین دینے کے لیے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روزخطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خلوص اللہ کی بہت بڑی عطا ہے موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے تا کہ ہمارا ہر عمل اور نہاں خانہ سے اُٹھنے والے خیالات اورنیت درست ہو سکے۔انسانی زندگی میں کئی طرح کے حالات آتے ہیں اپنے پرائے ہو جاتے ہیں بیگانے اپنے لگنے لگتے ہیں،خوشی دکھ میں بدل جاتی ہے اور تکلیف میں مسکراہٹیں بکھرنے لگتی ہیں،یہ زندگی ہے اسی سے ہر ایک نے گزرنا ہے۔زندگی کے ان جھمیلوں میں خود کو دیکھتے رہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ حق سے پھر جاؤ۔حالات جیسے بھی ہوں حق کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔اپنے تعلقات لوگوں سے اس لیے نہ بناؤ کہ اس سے امیدیں لگا بیٹھو اپنی امیدوں کا مرکز صرف اللہ کریم کو بناؤ۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم بندگی کو وہ تعلق عطا فرمائیں کہ بندے کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ بھی ہے میرے اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے۔اُمتی کا رشتہ نصیب ہو۔ یہ خواہشات اور ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟کتنی ہی خواہشات ہوتی ہے جن کی تکمیل کے لیے ہم سرگرداں رہتے ہیں جب پوری ہوتی ہیں تو ہم کہتے اس کے لیے کتنا وقت ضائع کیا۔جب بندہ حق پر نہ ہو تو سہولت بھی تکلیف دیتی ہے۔اگر اللہ سے تعلق مضبوط ہو پھر ارشادات نبوی پر عمل کرنے کو جی چاہتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کو جی کرتا ہے۔ہر پہلو میں ڈھونڈتا پھر ے کہ میرے لیے میرے نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک زمانہ آئے گا کہ مجھے بن دیکھے لوگ مجھ پر جانیں نچھاور کریں گے۔وہ مجھ سے محبت کریں گے۔ اللہ کریم امتی کا یہ رشتہ اور اس کی نزاکت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
khuloos Allah ki bohat barri ataa hai mojooda halaat mein Safaye qalb ki ashad zaroorat hai - 1

صحابہ کرام ؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں ان کے اُٹھائے ہوئے قدم مبارک آنے والے زمانوں کے لیے راہنمائی اور نشان ِ منزل ہیں


 صحابہ کرام ؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں ان کے اُٹھائے ہوئے قدم مبارک آنے والے زمانوں کے لیے راہنمائی اور نشان ِ منزل ہیں۔اس کے باوجود وہ دعا فرماتے کہ رب کریم ہمارے اعمال میں اگر کہیں کمی بیشی ہو گئی ہو یا آپ کی شان کے مطابق نہ ہوں تو ہمیں بخش دیجیے گا۔اگر صحابہ کرام جیسی عظیم ہستیاں اپنے عمل کے بعد اللہ سے بخشش مانگ رہی ہیں تودوسرا کون ہے جو نیکی کر کے اس پر فخر کر سکتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں میں ہر ایک کے لیے بھلائی ہے۔اپنی مرضیات کو اسلامی اصولوں پر قربان کر کے عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔بندہ مومن کو اپنا آپ آئینہ کی صورت نظر آنا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں کہاں تجاوز ہو رہا ہے۔چہ جائیکہ کہ بندہ یہ کہے کہ میں نے اتنی عبادات بھی کیں پھر بھی میری ضروریات پوری نہیں ہو رہی۔عبادات کو عبادات کے درجے میں رہنے دیں انہیں سودوں میں نہ تولیں۔صاحب ایمان ہر دوپہلو میں کامیاب ہے اس لیے کہ اس کی بنیاد اس کی نیت اس کے عمل اللہ کی ذات کی طرف ہے رضائے باری تعالیٰ کے لیے ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن و سنت جو ہمیں تربیت دے رہے ہیں اس میں ہمارے رشتے،خاندان بلکہ کل مخلوق کی بھلائی ہے اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق چلیں گے تو تو عزت،لحاظ اور تقدس آپ کو ہر رشتے میں ملے گا۔ذات باری تعالیٰ کا دیدار یہ مخلوق برداشت نہیں کر سکتی اللہ کریم اور مخلوق کے درمیان بہت سے حجاب ہیں یہ اللہ کی مقرب ہستیاں انبیاء کرام ؑ کو شرف ہے کہ اللہ کریم سے ہم کلام بھی ہوئے معراج شریف بھی ہوئی۔اللہ کرے بندہ مومن کو ایسی بندگی نصیب ہوکہ وہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرے یہ حجابات ختم ہو جائیں۔نور ایمان اتنا واضح کر دیتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ صاحب ایمان سے غلطی ہو رہی ہو اور وہ یہ کہے کہ نہیں میں غلطی پر نہیں ہوں۔درجہ احسان کو پانے کے لیے فرائض کی تکمیل کے بعد وہ مجاہدہ جو قرب الہی کے لیے ہے اسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم یہ کیفیات عطا فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
sahaba karaam woh azeem hastiyan hain un ke uthaiye hue qadam mubarak anay walay zamanoon ke liye rahnumaiye aur nishaan manzil hain - 1