Latest Press Releases


شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے


 رمضان المبارک کا آخری عشرہ جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی۔شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں مخلوق خد اکو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا ہو تا ہے ۔
لیلتہ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے چلی گئیں اور نجات میں ہیں وہ واپس آتی ہیں اپنی آل اولاد کو دیکھتے ہیں اگر ان کی اولاد نیکی پر ہو تو خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں اور گناہوں میں زندگی گزار رہے ہوں تو دکھ اور تکلیف لے کر لوٹ جاتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین چھوڑا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔اور اس طرح بڑھتی ہیں کہ بندہ پھر ان میں پھنس کے رہ جاتا ہے۔اور اگر پہلی ترجیح دین کو دی جائے تو یہی وقت ان میں اللہ کریم برکت فرما دیتے ہیں دین کے بھی سارے معمولات ہو جاتے ہیں اور دنیا کا بھی کوئی کام نہیں رہ پاتا۔اسلام دنیا کے کاموں سے دولت کمانے سے منع نہیں فرماتا صرف حلال اور طیب کی قید لگاتا ہے۔کہ کسی کا حق نہ چھینو۔دین اسلام تو اعتدال دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کا فرماتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری ہیں کوئی نہیں کہتا کہ دنیا ترک کر دیں۔لیکن دنیا ہی کے ہو کر رہ جائیں یہ کون سا شعور ہے؟
  انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں جن مسائل سے ہم دوچار ہیں یہ قرآن کریم سے روگردانی کا سبب ہے۔ورنہ بندہ مومن کے لیے کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب نہ فرمایا ہو۔انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس اللہ کی کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں؟پوری امت میں جو حالات کی تنگی کی وجہ سے ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے اس کا حل بھی رمضان المبارک کی عبادات میں ہے اس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر اللہ کریم کی ان عطاؤں سے استفادہ حاصل کریں اور خالص اپنے اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Shab qader woh raat hai jo hazaar mahino se behtar hai - 1

جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے


 اپنے آپ کو دفاعی طور پر مضبوط کرنے کا حکم ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے تم ان دشمنوں کو نہیں جانتے لیکن اللہ جانتے ہیں۔ جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے۔بحیثیت امت مسلمہ ہمیں تدبر اور مضبوط پالیسیز بنانے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات معاشی تنگی کی طرف جا رہے ہیں ہمارا زرعی ملک ہے ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم شعبہ زراعت کو فروغ دیں کسانوں کو سہولتوں سے آراستہ کریں اور سال میں مکمل پلاننگ کر کے فصل اُٹھائی جائے تا کہ ملک میں کم از کم خوراک کی کمی تو نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہا کہ  رمضان المبارک ہو  یا غیر رمضان، ہمارا مسلمان معاشرہ ہے لیکن معاملات میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ایک روش ہے بس اس کے پیچھے سب بھاگ رہے ہیں۔رمضان المبارک کی رعائتیں ہیں ااس میں رحمت کا عشرہ ہے،مغفرت کا عشرہ ہے پھر جہنم سے آزادی کا تو اللہ کریم تو بہانوں سے بخشش لٹا رہے ہیں کیا ہم بھی ان برکات کے حصول کے لیے تیار ہیں؟فرمایا جو بھی عمل تم لے کر آؤ گے اس کی ہر گز نا قدری نہیں کی جائے گی۔دنیا کی زندگی میں مال و دولت کا بہت مقام ہے جتنی حیثیت بڑھتی جائے گی اتنا حساب بڑھتا جائے گا۔ہمارے اپنے وجود ہمارے خلاف شہادت دیں گے کہ یہاں یہ یہ نا فرمانی کی گئی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ حرمت والے مہینے میں جنگوں کا ہونا یہ بھی ہمارے اعمال کے سبب ہے۔صالح اعمال سے مزید اصلاح نصیب ہوتی ہے۔نیکی بڑھتی ہے،اچھائی پھیلتی ہے۔بد اعمالیوں سے برائی پھیلے گی،گناہ مزید برائی کی طرف دھکیلتا ہے۔یعنی ہر عمل کے نتائج یہاں سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔آخرت اصل ہے دنیا اس کا سایہ ہے،پرتو ہے۔اس سے پہلے کے بے اختیار ہو جائیں نیک کام کرو۔ ذکر الٰہی ایسا عمل ہے جو ہمہ وقت بندے کو ہوش میں رکھتا ہے۔غفلت نہیں آنے دیتا اللہ کریم حفاظت فرماتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Jahan deeni taleem haasil karne ka hukum hai wahan dunyawi taleem ka husool bhi itna hi zaroori hai - 1

پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم ااخوان پاکستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہارکیا اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔دو اسلامی ممالک میں اس طرح کی صورت حال سے انتہائی تشویش اور دکھ ہے۔اللہ اس امت کو اتفاق اور اتحاد عطا فرمائے۔
Pakistani qoum apni musallah afwaj ke shana bshanh khari hai - 1

اصل استحکام طاقت کی بجائے نظام عدل میں ہے


ر شعبے میں عدل کی ضرورت ہے اور حقیقی عدل اسلامی نظام میں موجود ہے۔اسلام ہمیں وہ اصول اور ضابطے دیتا ہے جو حقیقی عدل پر مبنی ہوتے ہیں۔اللہ نے جو حق عطا فرمایا اس میں لوگوں نے تبدیلیاں کر کے اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم نکالے قرآن کریم اصول بیان فرماتا ہے راہ ہدایت ہے متقی کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ قرآن کریم کے مطابق قدم اُٹھائے۔رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ جو اعمال کثرت سے کرتے ان میں قرآن کریم کی تلاوت بھی ہے۔عشروں کی تقسیم میں بھی برکات عطا فرمائیں بہانوں سے بخشش عطا فرما رہا ہے۔ہمیں خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم جو عبادات کر رہے ہیں کیا وہ خالص اللہ کے لیے ہیں یا عبادات میں بھی سودے کر رہے ہیں کہ نماز روزہ کروں تو میرا فلاں کا م ہو جائے فلاں بیماری چلی جائے۔کہیں ہم اپنی عبادات کو دکھاوے میں ضائع تو نہیں کر رہے۔یہ وقت  بہت محدود ہے جو وقت کو ضائع کر دیتا ہے وہ اس ایک سوال کا جواب نہیں دے پائے گا کہ اس کے پاس فرصت تھی لیکن اس نے وہ وقت ضائع کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔
  انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رمضان کی بھٹی میں اپنے غلطیوں اور گناہوں کو جلا دیں یہ جو رمض کی بھٹی ہے اس میں سے کندن بن کر نکلیں تا کہ اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک حفاظت نصیب ہو۔رمضان المبارک میں نفلی عبادات کا ثواب بھی فرائض کے برابر ہو جاتا ہے تو غلطی پر پوچھا بھی جائیگا۔ایسے سجدے کس کام کے جو بے کیف ہوں ہمارے رکوع و سجود میں کوئی رابطہ ہی نہ ہو سب سے بڑی ذات اللہ کی ہے وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں سجدہ صرف اسی کو سزاوار ہے۔اللہ کریم ہمیں اس رمضان المبارک کی برکات عطا فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Asal istehkaam taaqat ki bajaye nizaam Adal mein hai - 1

رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے


قرآن کریم فرماتا ہے کہ روز محشر انکار کرنے والے سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سجد ہ نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اس دارِ دنیا میں جب وقت تھا تو اس وقت انہوں نے سجدہ نہ کیا۔دنیا دارالعمل ہے اس میں صالح اعمال اختیار کیے جائیں،معافی مانگی جائے اور اپنے اللہ سے اخلاص مانگیں تاکہ ہمارے اعمال ہمارے اقرار کی گواہی دیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔اللہ کریم نے باردیگر عطا فرمایا۔اس میں شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اگر پھر بھی غلطیاں کریں تو وہ جو سال بھر شیطنت ہمارے اندر رہی یہ اس کے اثرات ہیں۔کیا رمضان المبارک میں جھوٹ بولتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے،لین دین کرتے ہوئے کیا حق کے ساتھ کر رہے ہیں؟رمضان رمض سے ہے جس کے معنی ہیں بھٹی یعنی ایسا ماہ مبارک جو گناہوں اور غلطیوں کوجلا کر راکھ کر دے۔رمضان المبارک کی بہت برکات بیان فرمائی گئی ہیں اس کے عشرہ جات کی برکات ہیں پھر اس میں اعتکاف ہے پھر لیلۃ القدر جیسی عظیم برکتوں والی رات ہے جس میں کلام ذاتی نازل فرمایا گیا۔اس ماہ مبارک کی کیا کیا کوئی عظمت بیان کرے برکات ہی برکات ہیں۔جو نورایمان ہمارے قلوب میں ہے کیا وہ اس درجہ کا ہے کہ ماہ مبارک کی چاشنی ہمیں بھی محسوس ہواس کا  ادراک ہمیں بھی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدق دل سے نماز ادا کرنے سے بندے کا حال بدل جاتا ہے۔یہ مزدوری کا وقت ہے پھر یوم حساب ہو گا جہاں جزاو سزا ملے گی وہاں مزدوری کا وقت نہیں ہو گا عمل یہاں اسی دنیا میں کرنا ہے۔ہمیں اپنے شب وروز دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں صرف ہو رہے ہیں دنیا کے اصول و اسلوب جائز حرکت میں ہیں ناجائز معاملات سے معاشرے میں بدبو پیدا ہوتی ہے۔صالح اعمال معافی کا بھی سبب ہیں اور قرب الٰہی بھی نصیب ہوتا ہے۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramzan ul Mubarak maheenon ka sardar maheena hai - 1

جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں


کفر مسلمانوں کو سودی معیشت کے اندر جکڑ رہا ہے،سوشل میڈیا کے زریعے فحاشی اور عریانی کو عام کر رہا ہے،ہمیں حرام پر لگا رہا ہے یہ سارے آج کے دور کے وہ حملے ہیں جن کے ذریعے اسلام دشمن عناصر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے اس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں۔اور کمزور مجبور ہے ان کی پیروی کرنے کے لیے۔انصاف کے نام پر قومیں حاکم بن گئی ہیں اور انصاف کے نام پر ہی قوموں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں کر رہا کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے۔سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے۔ہم نے دینی اور دنیا وی اصول چھوڑ دئیے ہیں اور بے راہروی کا شکار ہو گئے آج بھی اگر دینی اصولوں کو اپنایا جائے ان پر عمل کیا جائے توہم دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر بحیثیت مجموعی ہم توبہ کریں اللہ سے مدد مانگیں تو ہم اس دنیا کو لیڈ کر سکتے ہیں۔اللہ کریم تمام جہانوں کے پالنہار ہیں جو بھی اس دنیا میں اللہ کی نعمتیں حاصل کر رہا ہے وہ اللہ کی صفت رحمانیت سے حاصل کر رہا ہے جو اس کو نہیں مان رہا اس کو بھی سب مل رہا ہے۔ہم تو اس کے ماننے والے ہیں ہم اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
jis ke paas taaqat hai woh chahta hai ke waisa ho jaisa mein chahta hon - 1

اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار


 عظمتِ رسالت ﷺ پر قرآن مجید میں جتنی آیات ہیں ہر آیت میں ایسی عظمت بیان فرمائی گئی کہ لاکھوں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔جب بھی کوئی اس قرآن کے بحر میں اتراوہ نئے جواہر اور موتی لے کر نکلا اور مخلوق کو آراستہ کیا۔قیامت تک اللہ کریم جسے توفیق دیں گے عظمت رسول ﷺ بیان ہوتی رہے گی۔قرآن مجید حقوق و فرائض کی ایسی تقسیم فرماتا ہے جس کی راہنمائی سے غیر مسلم بھی اس دارِ دنیا میں ترقی کر رہے ہیں اور جو فیصلے قرآن مجید فرماتا ہے جسے سزا ملتی ہے وہ بھی مسکراتے ہوئے قبول کرتا ہے اس کے فیصلوں میں ایسا انصاف ہوتا ہے جو سب کے لیے مثالی ہوتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ یہ امت دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے روز محشر یہ باقی امتوں پر شاہد ہوگی آج اس امت میں کتنی تفریق پید ا ہو چکی ہے بلوچستان میں کتنی بد امنی ہے ایسی پالیسیز بنائی جا رہی ہیں جس سے ہمارے ہی بھائی شہید ہو رہے ہیں۔حضرت نے اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کب ہم من حیث القوم اس بات کا ادراک کریں گے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے شرف ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی اُمت ہیں لیکن خود کو دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس نسبت کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنا محاسبہ کریں۔یہ امتی کا رشتہ اتنا نازک ہے کہ ایک لمحے کا خیال اسے چکنا چور کر دیتا ہے اور مضبوط اتنا کہ موت بھی وارد ہو جائے تو یہ رشتہ نہیں ٹوٹتا۔اس لیے کہ اس رشتے کی بنیاد ایمان پر ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Islamabad mein bomb dhamakay mein halaak aur zakhmi honay walon par dili dukh aur afsos ka izhaar - 1

اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ مخلوق خدا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے


آج بحیثیت مجموعی اُمت کا جو کردار ہے وہ اخلاقی طور پر لین دین کے اعتبار سے باقی دیگر امور میں کیسا ہے ہم سب اگر اپنا جائزہ لیں تو سمجھ آجائے گی کہ ہم مخلوق کی بھلائی کر رہے ہیں یا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ہم تو اپنے والدین،اولاد اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی بھلائی نہیں کر رہے۔اسلام ہمیں سلام کرنے میں پہل کرنے کا ارشاد فرماتا ہے اور ہم کہتے کوئی بلائے گا تو جواب دے دیں گے اگر وہ سلام نہیں لیتا تو میں کیوں لوں۔ایک والدین کی اولاد چند ٹکوں کی زمین کے لیے ایک دوسرے کا کیا حشر کر رہے ہیں۔جبکہ یہ وہ اُمت ہے جسے مخلوق خدا کی بھلائی کے لیے اللہ نے پیدا فرمایا اور پسند فرمایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ دعوت حق دینے کے لیے خود حق پر ہونا لازم ہے۔نیکی کی دعوت دینے کے لیے خود نیکی اختیار کرنی ضروری ہے۔
 پہلا حکم دعوت دینے والے پر لاگو ہوتا ہے کہ وہ خود نیکی اختیار کرے پھر دعوت دے۔ہم اپنی نیکیاں شمار کرتے رہتے ہیں کہ اتنے چلے لگا لیے اتنے نوافل پڑھ لیے اتنے قرآن ختم کر لیے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہوگی۔رمضان المبارک کی آمد آمد ہے یہ نصف شعبان کی نبی کریم ﷺ نے برکات بیان فرمائی ہیں نبی کریم ﷺ شعبان المعظم میں رمضان المبارک کا انتظار فرماتے اور کثرت سے روزے رکھتے۔ہم نصف شعبان میں بسنت منا رہے ہیں پتنگیں اڑا رہے ہیں یہ آج امت مسلمہ کا حال ہو گیا ہے۔وہ امت جس نے دوسروں کی اصلاح کرنی تھی اب اسے خود اصلاح کی ضرورت ہے۔ہمیں تو اس ماہ رمضان المبارک کی تیاری کرنی تھی۔اللہ کریم ہمیں ہدایت عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد 7،8 فروری کو کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائیں گے اور حضرت جی مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی۔دعوت عام ہے
Umat e Mohammad al Rasool ul Allah SAW makhlooq kkhuda ki bhalai ke liye peda ki gayi hai - 1

نبی کریم ﷺ کا اُمتی ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے


 پوری دنیا میں اُمت مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے۔اسلام بندے کے حقو ق و فرائض کی تقسیم اور ادائیگی کے طریقے کی ایسی راہنمائی فرماتا ہے جو دنیا و آخرت دونوں لحاظ سے بحیثیت انسان بہترین ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی روح میں قوت پرواز ہوتی ہے۔ہم دین کے دعوے تو کرتے ہیں اُمتی کا شرف بھی حاصل ہے لیکن ہمارے کردار کی وجہ سے ہم پر کوئی پانچ روپے کا بھی اعتبار نہیں کرتا 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا اُمتی ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے۔اس شرف کے ساتھ اُمت ہونے کے جو اصول اور ضابطے ہیں جب ان کا تجزیہ کریں گے توسمجھ آئے گی کہ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ خلوص کے ساتھ دینی احکامات پر عمل کرنے کا نام ہے۔آپ اس ایک بات سے اسلامی احکامات کا اندازہ لگائیے کہ مسواک کرنے کا حکم ہے ہم اپنے دانتوں کی صفائی کرتے ہیں ساتھ اجروثواب بھی نصیب ہوتا ہے۔اور اس عمل کی کتنی برکات بیان فرمائی گئیں۔سنت بھی پوری ہو رہی ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں گے تو کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس میں راہنمائی موجود نہ ہو۔صرف حکم نہیں دارِ دنیامیں نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا تعلیم دی اور تصیح فرمائی۔اجماع اُمت آج تک پہنچانے کا سبب ہے۔اللہ کی واحدانیت پر جسے یقین نہیں ہے اور ایک سجدہ نہیں کرپاتا پھر وہ در در سجدے کرتا ہے۔ایسی غلامی میں چلا جاتا ہے۔ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوا کے ساتھ کبھی کہیں کبھی کہیں اڑتا پھرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nabi kareem SAW ka ummati hona Allah kareem ka bohat bara ahsaan hai - 1

سودی نظام کی بجائے زکوۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے


 اللہ کریم کے دئیے گئے احکامات انسانی ضرورت ہیں ان پر عمل کرنے سے جہاں ہماری ضروریات کی احسن طریقہ سے تکمیل ہوتی ہے وہاں اجرو ثواب بھی عطا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بند ہ مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے جو اسے حقیقی خوشی تک لے جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آج وطن عزیز میں لوگ نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں روزے بھی رکھے جاتے ہیں،حج و عمرہ بھی کرتے ہیں اور سود بھی کھا رہے ہیں۔پھر شکوہ بھی کہ زندگی میں سکون نہیں ہے۔جب آپ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺکے مقابل کھڑے ہوں گے اطمینان کیسے نصیب ہوگا؟پوری قوم انفرادی بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہم سود کی لعنت میں جکڑے ہوئے ہیں۔معیشت کا نظام ایسا ہے کہ امیر کو امیر ترین اور غریب کو غربت کی گہرائیوں میں لے کر جا رہا ہے۔جو آج ہمارے معاشرے کا حال ہوچکا ہے اس کا سبب ہماری کمزوریاں اور بے عملی ہے۔ہم حق کو چھوڑ کر خواہشات نفسانی کی پیروی کر رہے ہیں۔صوفیاء بھی فرماتے ہیں کہ جب کوئی صوفی اللہ اللہ اور محنت و مجاہدہ کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس میں سے کمزوریاں اور کمیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں لیکن سب سے آخر جو چیز اس میں سے نکلتی ہے وہ انا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ہمیں اپنی ترجیہات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیا اللہ کے حکم پر زندگی بسر کرنی ہے یا اپنی پسند پر۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سودی نظام کی بجائے زکوۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے تو ہمارے بجٹ سے زیادہ زکوۃ جمع ہو سکتی ہے۔سودی نظام کی وجہ سے آج پورا ملک مقروض ہے۔جو جہاں بیٹھا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی عقل اور طاقت سے اس سارے نظام کو گرفت کر رکھا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا ہے۔اللہ۴ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں۔
قرآن کریم جو فرماتا ہے وہ حق ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کیا کریں اور اپنے متعلقہ احکامات کو جانیں اور سیکھیں تا کہ ان پر عمل کیا جا سکے سیکھیں گے نہیں تو عمل کیسے کریں گے؟اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں
soodi nizaam ki bajaye zkoh ke nizaam ko nafiz kya jaye - 1