Latest Press Releases


موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے


 اللہ کی رضا کے لیے انصار مدینہ نے ایسی مہمان نوازی کی کہ غزوہ احد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔  غزوہ احد میں آپ ﷺ کے حکم کو سمجھنے کی غلطی سے آزمائش کی صورت بن گئی لیکن عین میدان کارزار میں اللہ کریم نے انہیں اپنی رضا اور معافی کا اعلان فرما کر سکھ اور سکینہ عطا فرمایا اور منافقین کو ظاہر کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبا رک کے روز خطاب ۔
  انہوں نے کہا کہ موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے۔سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔صاحب ایمان بھی اس میں سے گزرے گا اور بے ایمان بھی گزریں گے لیکن ان دونوں میں فرق بہت ہے۔اس لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے حق سے بھاگنے سے کیا ہوگا کیا زندگی لمبی ہو جائے گی؟شہید ہونے کے لیے قتل ہونا پڑتا ہے جان دینی پڑتی ہے اللہ کے لیے اس کی رضا کے لیے،احیائے دین کے لیے،حق او رسچ کے لیے جو قتل ہوتے ہیں ان کا معاملہ اور ہے اللہ کریم فرماتے ہیں جو میری راہ میں جان دیتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔کئی مثالیں ہیں شہداء کی جب قبریں کھولیں گئیں تو ان کا وجود بلکہ ان کے لباس بھی سلامت تھے۔شہید کو موت کے وقت صرف اتنا احساس ہوتا ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ویسے اگر موت کے بارے پڑھیں تو بندے کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ میں کیسے اس عمل سے گزروں گا اتنا سخت وقت ہو گا۔ اللہ کریم معاف فرمائیں لیکن شہید کے لیے ایسا نہیں ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایمان اور صدق کے ساتھ تادم واپسی اطاعت الہی میں لگے رہے ان کے وجود بھی اللہ کریم نے قبروں میں سلامت رکھے۔برزرگان دین اور عالم دین کے کئی واقعات ملتے ہیں جب ان کی قبرمبارک کھولی گئی تو ان کے وجود سلامت ملے۔ دن رات دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لوگ واعظ بھی کر رہے ہیں درس و تدریس بھی ہو رہی ہے تفاسیر بھی بیان فرمائی جا رہی ہیں لیکن مقصد کیا ہے َ؟ صرف ان باتوں سے شناسائی ہے یا یہ مقصود ہو  کہ سارا حق میرے لیے بیان فرمایا گیا ہے تا کہ میں اس پر عمل کر سکوں تا کہ میری راہنمائی ہو سکے۔اگر ہم شہید ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہماری فرض نماز کیوں چھوٹ جاتی ہے ہمارے لین دین میں کمی بیشی کیوں ہے،ہم سچ کیوں نہیں بول پاتے۔یہ وہ حقائق ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Mout bhi zindagi ki terha aik haqeeqat hai - 1

نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے


 نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ زندگی میدان ِ عمل ہے ہم سب اس میں موجود ہیں۔اللہ اور اللہ کے نبی کا فرمان موجود ہے۔اجماع امت موجود ہے قرآن کریم موجود ہے ہمارے پاس اختیار ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ساری بات سمجھ آجائے گی۔اگر ایمان کا دعوی ہے اور اس کے ساتھ صدق نہیں ہے تو بات منافقت تک چلی جائے گی۔اور اگر ایمان کے ساتھ صدق بھی ہے تو پھر مسلمان معاشرے میں نظر آنا چاہیے کہ مسلمان معاشرہ ایسا ہوتا ہے 
 جن مسائل میں آج ہم گھرے ہیں ملکی طور پر،قومی طور پر اور خاندانی مسائل بھی جو ہیں ان کا سبب بداعمالیاں اور نفاق ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ دونوں کو برابر سمجھ آرہی ہوتی ہے۔رہتی دنیا تک جب بھی کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے گا قرآن کریم اس کی راہنمائی فرمائے گا۔قیامت کے دن جب حساب ہو گا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا کوئی انکار نہیں کر سکے گا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ہر چیز اس کے سامنے لائی جائے گی۔دنیا سبب سے ہے اسباب کل نہیں ہیں، ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔دنیا کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ جائز کام ہو جائز اسباب اختیار کیے جائیں پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے یہ توکل ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
 
Nabi kareem SAW ke arshadat ko chore dena azmaish aur takleef ka sabab bantaa hai - 1

آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔


 آج ہمارے معاشرے میں بے چینی کی بڑی وجہ ہماری بداعمالیاں ہیں۔ہمارے بد اعمال ہی ہیں جن کا پرتاؤآخرت میں تپش کی صورت ہم یہاں محسوس کررہے ہیں۔زندگی کے ایک ایک لمحے کا اسلوب آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ میں موجود ہے۔اللہ کریم ہمارے حکمرانوں کو بھی نظام مصطفے ﷺ کے نفاذ کی توفیق عطا فرمائیں۔قوانین جتنے بھی بنا لیں اگر ان کا اطلاق نہیں ہوگا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ہمیں تو سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہمارے پاس بنا بنایا نظام  موجودہے بس اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔صرف اسلامی نظام سے ہی ہم موجودہ مشکلات سے نکل سکتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا سالانہ اجتماع کے آخری روز خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قلب انسانی احساسات کا گھر ہے۔اگر بندے کو یہ ادراک ہو جائے کہ میں ہر وقت اللہ کے روبرو ہوں تو نہاں خانہ دل میں اُٹھنے والی نیت صاف ہوتی چلی جاتی ہے۔تمام اعمال کا انحصار اسی نیت پر ہے۔آج ہمارے قلوب بے کیف ہو چکے ہیں ان میں احساس باقی نہیں رہا۔تمام طرح کی کیفیات کا گھر قلب انسانی ہے اسی میں دوستی کی کیفیت ہوتی ہے اسی میں دشمن بھی بستے ہیں۔ اگر اس دل میں اللہ کریم کی محبت پیدا ہو جائے تو بندہ مرضیات باری میں فنا ہو جاتا ہے اسے وہی پسند ہوتا ہے جو اللہ کریم کو پسند ہو۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج آخری روز تھا جس میں تقابلی جائزہ بھی لیا گیا اورڈویژن کی سطح پر بہتر کارکردگی پر حضرت نے اپنے دست مبارک سے زمہ داران میں اعزازی شیلڈ پیش کیں۔  ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائے اور اپنی روحانی تربیت کی۔اس کے علاوہ جناب فاروق ستار ایم این اے کراچی سے خصوصی طورپر تشریف لائے۔
آخر میں حضرت نے خصوصی اجتماعی دعا فرمائی اور ملک و قوم کے لیے اور مسلم امہ کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں
Aaj hamaray muashray mein be cheeni ki barri wajah hamari badamaliya hain . - 1

جسے بھی ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی وہ درجہ صحابیت کو پا گئے


 دین اسلام نے بندہ مومن کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر وہ خوبصورت زندگی عطا فرمائی ہے جو ذہنی غلامی سے آزاد کر کے ایک ذات وحدہ لا شریک کی اطاعت میں لے آتی ہے۔ جسے بھی  ایمان کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی وہ درجہ صحابیت کو پا گئے۔آپ ﷺ امام الانبیاء ہیں آپ جب بھی کسی معاملے میں یا نزول قرآن کے وقت پوچھتے کہ اس آیت کے بارے کیا جانتے ہو تو صحابہ عرض کرتے ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔اللہ اور اللہ کے رسو ل ﷺ بہتر جانتے ہیں پھر بھی آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام سے امور دنیا میں مشورہ کیا کرتے تھے۔مشورہ کا ایک اصول ہے کہ مشورہ حکم نہیں ہوتا ایک رائے ہوتی ہے لینے والے کو بھلی لگے نہ لگے اس پر عمل کرے نہ کرے ہمارے ہاں اگر مشورے پر عمل نہ کیا جائے تو ناراضگی ظاہر کی جاتی ہے کہ میرے مشورے کو اہمیت نہیں دی گئی اس پر عمل نہیں کیا گیا۔مشورہ امانت ہوتا ہے اس میں خیانت نہ ہو۔اگر کسی سے کوئی مشورہ کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ مشورہ دے اور اچھا مشورہ دے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے اصول زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی فرماتے ہیں اور ہماری ضرورت ہیں۔یہی وہ اصول ہیں جن میں ہماری قوم کی حیات ہے۔آج کے حالات بہت مشکل ہیں روزانہ خبر آتی ہے کہ ہمارے اتنے جوان شہیدہو گئے ہیں۔اگر ہم یہ اصول اپنائیں جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمائے ہیں جن کی حدود و قیود کا تعین محمد الرسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اگر مسلمان معاشرے ان پر عمل پیرا ہوں تو ایسی صورت حال نہ پیش آئے۔اللہ کریم وطن عزیز کی حفاظت فرمائیں اور شہداء کی قربانیاں قبول فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں چالیس روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس کا اختتامی بیان و اجتماعی دعا 12 جولائی بروز اتوار ہوگی۔جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائیں گے۔دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے قلوب کو برکات نبوت ﷺ سے منوری کیجیے۔
 
Jisay bhi imaan ki haalat mein nabi kareem SAW ki sohbat naseeb hui woh darja sahabiat ko pa gaye - 1

خلوص اللہ کی بہت بڑی عطا ہے موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے


 معاشرے میں غلطیاں اس حد تک بڑھ گئی ہیں جس سے معاشرے میں تکلیف کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔گندگی کا ڈھیر جہاں بھی ہوتا ہے وہاں تعفن ہی پھیلتا ہے اور بدبو آتی ہے ایسی جگہ رہنا نا گزیر ہوجاتا ہے۔جب بھی اپنی عملی زندگی کے امور کو دیکھیں اگر خود کو امتحان میں دیکھیں تو اپنے قول و فعل کو ضرور جانچیں کہ ان کے پیچھے جو میری نیت ہے وہ کیا ہے؟کیا میرے اعمال صرف خود کو تسکین دینے کے لیے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روزخطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خلوص اللہ کی بہت بڑی عطا ہے موجودہ حالات میں صفائے قلب کی اشد ضرورت ہے تا کہ ہمارا ہر عمل اور نہاں خانہ سے اُٹھنے والے خیالات اورنیت درست ہو سکے۔انسانی زندگی میں کئی طرح کے حالات آتے ہیں اپنے پرائے ہو جاتے ہیں بیگانے اپنے لگنے لگتے ہیں،خوشی دکھ میں بدل جاتی ہے اور تکلیف میں مسکراہٹیں بکھرنے لگتی ہیں،یہ زندگی ہے اسی سے ہر ایک نے گزرنا ہے۔زندگی کے ان جھمیلوں میں خود کو دیکھتے رہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ حق سے پھر جاؤ۔حالات جیسے بھی ہوں حق کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔اپنے تعلقات لوگوں سے اس لیے نہ بناؤ کہ اس سے امیدیں لگا بیٹھو اپنی امیدوں کا مرکز صرف اللہ کریم کو بناؤ۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم بندگی کو وہ تعلق عطا فرمائیں کہ بندے کو یہ یقین ہو کہ جو کچھ بھی ہے میرے اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے۔اُمتی کا رشتہ نصیب ہو۔ یہ خواہشات اور ان کی حیثیت ہی کیا ہے؟کتنی ہی خواہشات ہوتی ہے جن کی تکمیل کے لیے ہم سرگرداں رہتے ہیں جب پوری ہوتی ہیں تو ہم کہتے اس کے لیے کتنا وقت ضائع کیا۔جب بندہ حق پر نہ ہو تو سہولت بھی تکلیف دیتی ہے۔اگر اللہ سے تعلق مضبوط ہو پھر ارشادات نبوی پر عمل کرنے کو جی چاہتا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کو جی کرتا ہے۔ہر پہلو میں ڈھونڈتا پھر ے کہ میرے لیے میرے نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ایک زمانہ آئے گا کہ مجھے بن دیکھے لوگ مجھ پر جانیں نچھاور کریں گے۔وہ مجھ سے محبت کریں گے۔ اللہ کریم امتی کا یہ رشتہ اور اس کی نزاکت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
khuloos Allah ki bohat barri ataa hai mojooda halaat mein Safaye qalb ki ashad zaroorat hai - 1

صحابہ کرام ؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں ان کے اُٹھائے ہوئے قدم مبارک آنے والے زمانوں کے لیے راہنمائی اور نشان ِ منزل ہیں


 صحابہ کرام ؓ وہ عظیم ہستیاں ہیں ان کے اُٹھائے ہوئے قدم مبارک آنے والے زمانوں کے لیے راہنمائی اور نشان ِ منزل ہیں۔اس کے باوجود وہ دعا فرماتے کہ رب کریم ہمارے اعمال میں اگر کہیں کمی بیشی ہو گئی ہو یا آپ کی شان کے مطابق نہ ہوں تو ہمیں بخش دیجیے گا۔اگر صحابہ کرام جیسی عظیم ہستیاں اپنے عمل کے بعد اللہ سے بخشش مانگ رہی ہیں تودوسرا کون ہے جو نیکی کر کے اس پر فخر کر سکتا ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں میں ہر ایک کے لیے بھلائی ہے۔اپنی مرضیات کو اسلامی اصولوں پر قربان کر کے عمل پیرا ہوا جاتا ہے۔بندہ مومن کو اپنا آپ آئینہ کی صورت نظر آنا چاہیے کہ میں کیا کر رہا ہوں کہاں تجاوز ہو رہا ہے۔چہ جائیکہ کہ بندہ یہ کہے کہ میں نے اتنی عبادات بھی کیں پھر بھی میری ضروریات پوری نہیں ہو رہی۔عبادات کو عبادات کے درجے میں رہنے دیں انہیں سودوں میں نہ تولیں۔صاحب ایمان ہر دوپہلو میں کامیاب ہے اس لیے کہ اس کی بنیاد اس کی نیت اس کے عمل اللہ کی ذات کی طرف ہے رضائے باری تعالیٰ کے لیے ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن و سنت جو ہمیں تربیت دے رہے ہیں اس میں ہمارے رشتے،خاندان بلکہ کل مخلوق کی بھلائی ہے اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق چلیں گے تو تو عزت،لحاظ اور تقدس آپ کو ہر رشتے میں ملے گا۔ذات باری تعالیٰ کا دیدار یہ مخلوق برداشت نہیں کر سکتی اللہ کریم اور مخلوق کے درمیان بہت سے حجاب ہیں یہ اللہ کی مقرب ہستیاں انبیاء کرام ؑ کو شرف ہے کہ اللہ کریم سے ہم کلام بھی ہوئے معراج شریف بھی ہوئی۔اللہ کرے بندہ مومن کو ایسی بندگی نصیب ہوکہ وہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرے یہ حجابات ختم ہو جائیں۔نور ایمان اتنا واضح کر دیتا ہے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ صاحب ایمان سے غلطی ہو رہی ہو اور وہ یہ کہے کہ نہیں میں غلطی پر نہیں ہوں۔درجہ احسان کو پانے کے لیے فرائض کی تکمیل کے بعد وہ مجاہدہ جو قرب الہی کے لیے ہے اسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم یہ کیفیات عطا فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
sahaba karaam woh azeem hastiyan hain un ke uthaiye hue qadam mubarak anay walay zamanoon ke liye rahnumaiye aur nishaan manzil hain - 1

اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں


 اللہ کریم نے جو ہنر یا اوصاف کسی بھی بندہ مومن کو دئیے ہیں وہ انہیں صرف اللہ کی رضاکے لیے استعمال کرے گا تو یہ سب کچھ انفاق فی سبیل اللہ کہلائے گا۔ دین اسلام زندگی میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔جب بھی بندہ مومن اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے جس میں زکوۃ،صدقات،عشر تو اُسے یہ خیال ہوتا ہے اور وہ اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ مال میرا نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے سب اللہ کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں۔اگر کوئی انفرادی طور پر اُٹھ کھڑا ہو اور کہے کہ میں اسلام نافذ کرتا ہوں تو یہ فساد کا سبب بنے گا۔جن کے پاس اختیار ہے کیا وہ دعوی ایمانی نہیں رکھتے؟صاحب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ انصاف کریں اور لوگوں کو سہولت دیں۔لوگوں کو تحفظ ملے ان کی زندگیاں آسان ہوں۔ہمیں تو غیر مسلم کے ساتھ بھی انصاف کرنا تھا ان کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو۔
  انہوں نے مزید کہا کہ تقوی ایک کیفیت ہے اور متقی اس کیفیت کے حامل شخص کو کہتے ہیں۔متقی کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے فراوانی ہو یا تنگدستی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔دوسرا وصف جب اسے غصہ آئے تو وہ ضبط کر لیتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمارے اندر کمی بیشی ہے تو اسے دور کیا جائے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کے طو ل و عرض اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے۔اس اجتماع میں سالک کو ایک باقاعدہ تربیتی پروگرام کے تحت گزارا جاتا ہے اور روزانہ دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی صحبت شیخ کے پریڈ میں خطاب فرماتے ہیں۔دعوت عام ہے اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے
Islam ke naam par bohat se mumalik hain lekin un mein islami qawaneen nahi hain - 1

ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں


 ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں۔ایسے جیسے کوئی مقابل کھڑا ہو جائے۔ہمیں اپنی ذات کی نفی کر کے بخشش کو طلب کرنا ہوگا۔اُس غفور الرحیم نے وعدہ فرمایا ہے کہ سچے دل کی توبہ کو قبول کرتا ہوں۔ایسے لوگ جو اپنی عبادات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ رب کریم کی ذات پر نگاہ رکھتے ہیں تو اُن کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ متقین کے لیے جو جنت تیار کی گئی ہے اس کی وسعت کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔یہ جنت صرف صاحب ایمان لوگوں اور ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسو ل ﷺ کی اطاعت کی۔بندہ مومن کا ظاہر اور باطن پاک ہو تا ہے۔اپنا ہر عمل اللہ کے لیے اختیار کریں۔آج ہمارا دعوی ایمانی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔زندگی بڑی تیزی سے گزر رہی ہے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ہوش میں آنے کی ضرورت ہے ورنہ انہی پریشانیوں میں گزر جائے گی آج یہ رہ گیا آج وہ رہ گیا یہ سمجھ نہیں آئے گی کب سانسیں پوری ہوگئیں۔اصل کامیابی ذات کی نفی میں ہے۔کبر اللہ کو نہیں پسند کبر متقی کے مقابل آتا ہے۔اللہ کریم شکر کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہ سب کے لیے آسانیاں فرمائیں۔اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔۴
Hum imani taur par is had tak kamzor ho gaye hain ke ghalatiyan hamaray mizaaj ka hissa ban chuki hain - 1

۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی


ایمان اور سود آپس میں بالمقابل ہیں۔اگر کوئی ایمان کا دعوی بھی کرے اور پھر سود کا لین دین بھی کرے تو انجام وہی ہوگا جو کفر کرنے والوں کا ہوا۔دوزخ کی آگ کفر کے لیے تیار کی گئی ہے۔اللہ کے حبیب کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور اگر تم یہ خیال کرومیرے رکوع و سجود سے مجھے جنت مل جائے گی بلکہ جنت تو اللہ کی رحمت سے عطا ہوگی۔ہم تو پہلے اتنا لے چکے ہیں کہ شکرانہ ادا نہیں ہو سکتا  چہ جائیکہ ہم اس گمان میں رہیں کہ میری عبادات اتنی ہو چکی ہیں کہ اب جنت واجب ہو گئی ہے۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب 
 انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔حقیقی فلاح کی بنیاد اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔حقیقی کامیابی کا انحصار بھی اسی زندگی پر ہے لیکن ان حدود میں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں۔حدود اللہ سے تجاوز کر کے حقیقی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی کامیابی دائمی ہوتی ہے جس سے مراد دونوں جہانوں کی کامیابی ہے یہ دنیا آخرت کا سایہ ہے۔اس زندگی کو بسر کرنے کے لیے اعلٰی اصول درکار ہیں جو ہمیں دین اسلام دیتا ہے۔ذاتی پسند نا پسند سے صرف فساد پیدا ہوگا۔خواہشات اور نفس کا جہاں غلبہ ہو وہاں ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ٹھہراؤ اور سکون صرف دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ دین اسلام دین فطرت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم حقیقی کامیابی جنت کو بیان فرماتا ہے یعنی وہ فلاح پاگیا جو جنت میں داخل ہو گیا۔ہمارے ماہ و سال اتنی تیز ی سے بسر ہو رہے ہیں،ہر شئے اپنے اختتام کی طرف چل رہی ہے لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں،یہی وقت ہے جس میں ہم نے آخرت تعمیر کرنی ہے۔ہمارا اختیار کلی نہیں لیکن اپنی ذات پر تو ہے اس سے پہلے کہ موت آجائے آج کچھ کرنے کے قابل ہیں اپنی اصلاح کریں نیک اعمال کریں زندگی حسرت پر تو ختم نہ ہو،یاد رکھیں مومن کی زندگی میں حسرت نہیں رہتی۔نور ایمان وہ دولت ہے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن ہمیں اپنے ایک ایک عمل کو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں لانا ہوگا۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرت میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Bakhshish hamaray ruku o sajood se nahi balkay Allah ki rehmat se ho gi - 1

اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا


 اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا ۔اور زکوۃ کے نظام کی وجہ سے جمع شدہ پیسہ 40 سال میں سارا پیسہ واپس معاشرے میں لوٹ آتا ہے ، زکوۃ دینے والا اپنا پیسہ اپنے پاس جمع نہیں رکھے گا بلکہ اسے خرچ کرے گا جب خرچ کرے گا تو تجارت میں خرچ کرے گایا کوئی کاروبار میں لگائے گا تو اس سے مزید لوگوں کے لیے کام کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ بے روزگار لوگوں کو روزگار ملے گا ۔جب پیسہ ایک جگہ جمع کر کے رکھ دیا جاتا ہے وہ پورے معاشرے کی معیشت کو لے ڈوبتا ہے ۔طاقتور طبقے نے پوری دنیا کو سودی معیشت میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ آج ہم اپنے ملک کے حالات دیکھیں تو جتنا قرض لے رہے ہیں وہ جو پہلے سے سود لیا ہوا ہے اس کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے ہماری اسلامی ریاست ہے پھر بھی ہم نے اسے سود میں جکڑ دیا ہے ۔ہمارے لیے سب سے بہتر رستہ وہ ہے جو اللہ کریم نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے جس کا طریقہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
 انہوں نے کہا کہ اگر واقعتا زکوۃ کا نظام جس میں عشر،صدقات ،فطرانہ اس کو جمع کیا جائے تو ہمارا قومی بجٹ جو ہے اس کا خسارہ نکل جاتا ہے . جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی زکوۃ دیتے ہیں۔لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ حکومت پر اعتماد نہیں ہوتا ۔جب ریاست زکوۃ جمع کرے گی تو جو یہ ٹیکس عوام کو لگائے جا رہے ہیں ان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔جب حکومت کمزور طبقے کی ضرورت پوری کرے گی تو اس کی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی ۔قدم قدم پر عوام سے ٹیکس لیا جا رہا ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری قوم ٹیکس نہیں دیتی ۔آج بھی دنیا میں وہی معیشت بہتر ہے جہاں پیدا وار ہو رہی ہے اور پیدا وار میں جو فطرتی انڈسٹری ہوتی ہے اس کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ۔جیسے ہمارے ہاں زراعت ہے ہمارا زرعی ملک ہے ۔اگر ہم زراعت کو ہی جدید سہولیات سے آراستہ کر لیں اور زراعت سے متعلق جو محکمے ہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں کسانوں کو سہولیات دی جائیں تو سال میں دو بار فصل لی جاتی ہے جس سے ہماری معیشت بہت تیز ی سے بہتر ہو سکتی ہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی غلطی کا حل مزید غلطی سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا حل توبہ میں ہے ہم ایسے فیصلے کریں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں ۔یہ جو لوٹ مار سے ہم وقتی کامیابی حاصل کرتے ہیں اس سے تسکین نہیں ہوسکتی بلکہ مزید اضطراب بڑھے گا کیونکہ یہ صالح اعمال کا نتیجہ نہیں ہے ۔کامیابی تو یہ ہے کہ اگر ظاہری ضرورت پوری ہورہی ہے تو دل میں بھی سکون ہو ۔حقیقی کامیابی میں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں 
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ٰIslami muashi nizaam rupay ko aik jagah ruknay nahi deta - 1