Latest Press Releases


آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔


 آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ سود نے آج معیشت کو اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ سارے معاشرے سے پیسے کو صرف ایک طرف کھینچ کر جمع کیا جاتا ہے۔دنیا کے جو مقتدر حلقے ہوتے ہیں جب دنیا ہی ان کا مقصد ہو جاتا ہے پھر وہ ایسے نظام کو پسند کرتے ہیں جس سے ان کے پاس ہر طرف سے پیسہ آئے لیکن ان سے جائے نہیں۔انسانی وجود مٹی سے بنا ہے لیکن اسے جو حیات عطا فرمائی گئی وہ امر سے ہے۔اللہ کریم نے انسان کو عبادات کے لیے پیدا فرمایا لیکن اسے پابند نہیں فرمایا بلکہ اختیار دیا کہ چاہے تو شکر ادا کرے چاہے تو نا شکری کرے دونوں راستے کھول کر بیان فرما دئیے۔راہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں۔ارض و سماں کا وہ اکیلا خالق و مالک ہے انسان کو عارضی اختیار دیا ہے امانت کے طور پر اور فرمایا جو حدود و قیو د میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے مطابق زندگی بسر کرو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایمان کا یہ درجہ نصیب ہو کہ میرا اللہ مجھے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے،سن رہا ہے تو بندہ کس کیفیت میں ہو گا اور اس کے شب و روز کیسے ہوں گے جب اسے یہ احساس ہو جائے کہ میں نے اللہ کے حضور اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔تو کیا جو کچھ ہم بول رہے ہیں بول سکتے ہیں جو کچھ ہم کر رہے ہیں کر سکتے ہیں۔اللہ کریم سب کو یہ حضوری کی کیفیت عطا فرمائے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت5،6 ستمبر کو  ماہانہ اجتماع کے موقع پر بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اتوار دن گیارہ بجے حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوی ﷺ سے منورہ کیجیے دعوت عام ہے۔
Aj ky masail ka hal islami nizam e moeeshat mein hai - 1

حضرت محمد ﷺ کی ذات بے مثل وبے مثال ہیں


 حضرت محمد ﷺ کی ذات بے مثل و مثال ہیں۔آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔ماہ ربیع الاول وہ مبارک ماہ ہے جس میں آپ ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے او ر آپ ﷺ کی ذات سے تمام مخلوقات مستفید ہوئیں۔اظہار محبت اور ولادت باسعادت کی خوشی منانے میں بھی حدودو قیود کا خیال رکھا جائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس گوجرانوالا میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین میں رواجات کو داخل نہ کیا جائے کیونکہ جب بات درِ مصطفے کی آتی ہے  تویہاں محبت بھی اصول و ضوابط کی پابند ہے۔جب بات معجزات نبوی ﷺ کی آتی ہے تو آپ مخلوق کے لیے باعث رحمت ہیں مخلوق میں ہی مثالیں اٹھا کے لیے دیکھ لیں آپ آسمان کی وسعتوں کی بات کرو تو شق قمر کی شہادت قرآن مجید دے رہا ہے۔ابوجہل نے آپ ﷺ سے کہا کہ بتائیں میرے ہا تھ میں کیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بتاؤں یا جو ہاتھ میں ہے وہ بتائے تو ابوجہل کے ہاتھ میں کنکر تھے انہوں نے کلمہ پڑھا جس کی آواز مطلق کافر نے بھی سنی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اس ماہ مبارک میں آپ ﷺ کی شان میں پروگرامز کا انعقا د ضرور کیا جائے جس میں سیر ت پاک کے واقعات سنائیں جائیں،صدقہ خیرات کریں،منظم طریقے ایسے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے جس میں تعلیم و تعلم کا اہتمام ہو ایسی کوئی بات یا ایسا کوئی تجاوز جس میں طوفانِ بدتمیزی ہو اس سے اجتناب کیا جائے۔اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو اسلام کی حدود کے اندر پابند رکھیں ہم اپنے آپ کو جانچیں کیا ہماری سوچیں ہمارا کردار ہمارا عمل اسلامی حدود کے اندر ہے کہیں تجاوز تو نہیں کر رہے کہا ں کہاں تجاوز ہے اپنے آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت حج  اور عمرہ بھی کیے جا رہے ہیں مساجد میں بھی جائیں تو جگہ نہیں ملتی انفرادی طور پر تسبیحا ت بھی پڑھی جا رہی ہیں لیکن معاشرے میں ان عبادات کا اثر دکھائی نہیں دے رہا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری محنت قلوب پر نہیں ہو رہی اس کے لیے شعبہ تصوف میں ذکر قلبی کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔جو بندے کے نہاں خانہ دل سے تبدیلی کا آغاز کرتا ہے اور اسے اس کیفیت میں لے جاتا ہے کہ بندہ اکیلے ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو اپنے رب کے روبرو محسوس کرتا ہے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا یہ پانچواں پروگرام ہے جہاں پر ایک بہت بڑی کثیر تعداد موجود تھی جن سے حضرت نے سلسلہ عالیہ میں ظاہری بیعت لی اور انہیں طریقہ ذکر بتایا۔اور آخر میں ملکی سلامتی اور بقا کی خصوصی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Hazrat Mohammad SAW ki zaat bay misl o bay misaal hain - 1

معاشرے میں حق کی تشکیل بندہ مومن کی ذمہ داری ہے

 معاشرے میں حق کی تشکیل بندہ مومن کی ذمہ داری ہے۔مسلمان نے ظلم کو روکا لیکن یہ غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں نے تلوار سے اسلام کو پھیلایا بلکہ دین اسلام نے جہاں بھی جس خطے کو بھی فتح کیا وہاں ایسی معاشرتی مساوات قائم کی کہ وہاں کے لوگوں نے ناصرف خود اسلام قبول کیا بلکہ اور لوگوں تک بھی پہنچایا۔نبی کریم ﷺ سے اہل مکہ نے کہا کہ آپ جو بھی دین اپنانا چاہیں اسے اختیار کریں اس پر عمل کریں لیکن ہمارے مذاہب کے بارے میں بات مت کریں۔عبادات اپنی مرضی سے کریں لیکن معاشرتی زندگی پر بات نہ کریں جیسے ہمارا معاشرہ چل رہا ہے اسے ایسے ہی چلنے دیں۔معاشرہ اگر دینی اصولوں پر کاربند ہو اس کا کہنا اور سننا قرآن وسنت کے مطابق ہوتا ہے۔اور اگر معاشرے کو مخلوق اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لے پھر خواہشات نفس کا اظہار ہوتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ باعمل مسلمان کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔یہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں کہ انہیں دین سے دور رکھا جائے ان کے درمیان فحاشی کو عام کیا جا رہا ہے۔اس سارے کا مقصد یہ ہے کہ یہ باعمل نہ ہوں۔اپنے وطن عزیز کو دیکھیں کہ اسے آزاد ہوئے دہائیاں ہو گئی ہیں۔اسلام کے نام پر وجود میں آیا لیکن اپنا قانون دیکھ لیں اپنے معاشرے کے رواجات دیکھ لیں،اپنے آج کے حالات دیکھ لیں آئے روز جو واقعات پیش آتے ہیں انہیں دیکھیں اور جائزہ لیں کہ ہم کتنے قرآن وسنت سے مطابقت رکھتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی زندگی کا انحصارکچھ  دینے میں ہے۔ایک بیج کو زمین نے اگنے کے لیے جگہ دی تو وہ ایک درخت یا پودہ بنا ایسے ہی آپ کسی چیز کو بھی دیکھ لیں زندگی آگے چلتی تب ہے جب آپ کچھ دیں گے۔سورج اگر اپنی توانائیاں روک لے تو زندگی آگے نہیں چل سکتی وہ بھی دے رہا ہے۔
  حق کو جانتے ہوئے حق مخلوق تک نہ پہنچایا جائے یہ بھی بخل ہے۔اگر کوئی عالم ہے اور وہ حق کی بات کو روک لیتا ہے لوگوں تک نہیں پہنچاتا تو اسے ہی بخیل کہتے ہیں۔ماہ مبارک ربیع الاول وہ تجدید عہد ہے جہاں امتی کو آپ ﷺ کی ولادت باسعادت پر تقویت نصیب ہوئی اللہ کی رحمت نصیب ہوئی۔امتی کا جو خصوصی رشتہ ہے وہ ہمیں بعثت کے موقع پر نصیب ہوتا ہے۔کیا امتی کا رشتہ ان 12 دنوں کے ساتھ مخصوص رہتا ہے۔امتی کے لیے تو تاحیات حکم ہے کہ ساری زندگی نبی کریم ﷺ سے محبت اور اتباع میں گزر جائے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Muashray mein haq ki tashkeel bandah momin ki zimma daari hai - 1

بہترین طرز حیات اسوہ حسنہ میں ہے


پریس ریلیز 
 ماہ ربیع الاول کی خوشیاں ضرور منائیں لیکن اس کا طریقہ اور سلیقہ وہ اپنایا جائے جو آپ ﷺ نے فرمایا اور سمجھایا۔اس اظہار محبت میں حلال حرام نہیں ہو سکتا اور حرام حلال نہیں ہو سکتا۔اپنی زندگیوں میں سے شرک کو نکال دیں اور اپنی تمام امیدیں اللہ کریم سے وابستہ رکھیں۔اپنے والدین کے سامنے سرنگوں رہیں اور افلاس کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ  سنانواں کوٹ ادو میں دڑہ ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ بہترین طرز حیات اسوہ حسنہ میں ہے۔جب امتی کی بات آئے گی تو امتی ماننے والے کو کہتے ہیں رائے رکھنے والے کو نہیں کہتے۔امتی کی عظمت اتباع سے منسلک ہے اس کی عظمت دعووں سے منسلک نہیں ہے۔کوئی دعوی ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ شہادت نہ ہو۔ایمان ایک دعوی ہے اور ہمارے اعمال اس کے گواہ ہیں کہ ہمارا دعوی کتنا سچا اور کھرا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے میرا خواتین و حضرات سے ایک سوال ہے کہ کبھی یہ کیفیت بنی کہ میں اپنے اللہ کے روبرو ہوں۔اور یہ ممکن ہے تم دیکھ نہیں سکتے چھو نہیں سکتے لیکن نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں اللہ کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔یہ درجہ احسان ہے۔تعلیمات محمد الرسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ سے سینے مزین کریں۔اپنے قلوب کو انوارات ِ محمد الرسول اللہ ﷺ سے دھوئیں۔جو قلب اطہر سے آ رہے ہیں۔اپنے اعمال اپنے افکار ان کو سامنے رکھیں اور معیت باری تعالی کی کیفت کو سامنے رکھیں تو یہ جتنے فتنے ہیں معاشرے کے یہ جو مسائل ہیں درست ہوتے چلے جائیں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کی باتیں لوگوں کو آج سمجھ نہیں آ رہی لیکن جب موت کا وقت آئے گا سب سمجھ آ جائے گی۔لیکن پھر فرصت نہ ہو گی۔ملک غلام محمد نور ربانی کھر مرحوم کا یہ صدقہ جاری اللہ کریم قبول فرمائیں۔اللہ ملک رضا ربانی کھر ان کو ان کے خاندان کو ان کے عزیز و اقارب کو اس کا اجر اور ثواب عطا فرمائے۔اللہ کرے ان کے ہونے سے مخلوق خدا کو سکھ ملے۔
Behtreen Tarz e Hayat Aswa e Hasna mein Hai - 1

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکمیل عمارت نبوت ہیں


پریس ریلیز
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکمیل عمارت نبوت ہیں۔قران مجید کو اپنی دانست پر سمجھنا درست نہیں قران کو ھم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت کے مطابق رہنمائی لیکر سمجھیں گے تو ٹھوکر نہ کھائیں گے۔ ماہ ربیع الاول میں اظہار محبت میں فرائض کی ادائیگی رہ جائے تو ھمارا دعویٰ محبت کمزور پڑ جائے گا مکلف مخلوق کی بات حیات کی ہے شجر وحجر میں حیات ہے اور جب اس خشک تنا حنانہ مسجد نبوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں بلک بلک کر رویا اور صحابہ نے سنا اور آپ نے اس کو دلاسہ دیا۔ ابو جہل کے ہاتھ میں پتھروں کی کنکریاں خود بول اٹھیں کلمہ اور صلا ۃ وسلام پڑھنے لگیں۔ جب تک ھم محبت کی حقیقت کو نہ پائیں گے تو ہمارا ربیع الاول کو منانا بھی بے معنی ہو گا۔ اگر اس ماہ مبار ک کی محنت مجھے یہ سکھا دے کہ میر ا عمل اللہ کی رضا کے لئے ہو تو مقصد پورا ہو گیا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کو ڈسٹرکٹ بار کونسل وہاڑی میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں وکلاء 
سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطمع نظراللہ کی رضا ہونی چاہیے۔اگر اللہ کی رضا ہو گی تو یہی عقید ت و محبت اس امت کو اتفاق و اتحاد پر لے آئے گی۔قومیں تعداد سے نہیں اتفاق سے ترقی کرتی ہیں۔ورنہ یہی تعداد ہجوم ہو جاتی ہے اور ہجوم کے رویے تکلیف دہ صورت پیدا کرتے ہیں تعمیر نہیں کرتے۔چاہے صاحب اختیار کی بات ہو یا ہم جیسے عام آدمی کی۔ہم مخلوق ہیں ہم محتاج ہیں بس ایک سچی طلب ہو وہ معاف فرما دیتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
 آخر میں حضرت نے بار کونسل کے صدر اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور صدر بار کو شیلڈ پیش کی اور صدر بار نے حضرت کو شیلڈ پیش کی۔پروگرام کے اختتام پر اجتماعی دعا کی گئی۔
Ap SAW Takmeel e Imart e Nabuwat hain - 1

ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے


پریس ریلیز 
 ماہ ربیع الاول تجدید عہد کا دن ہے اس دن کو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم  اپنی زندگی کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزاریں گے۔آپ ﷺ سے اظہار محبت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت ہی ہمیں زندگی سے آشنائی عطا کرتی ہے۔یہ وہ راستہ ہے جس میں اپنی جان  نچھاور کرنے کو کامیابی اور فخر سمجھا جاتاہے۔
 سیماب ایسی موت کی ہے جستجو مجھے،لپٹا ہو جس میں تہہ بہ تہہ محبوب کا وصال
 امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ عالیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا بہاولپور میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ  کی جوتیوں کی خاک بھی ہم سے اعلی ہے۔ ان ہستیوں کا مقام یہ ہے کہ اگر وہ کیفیات جو آپ ﷺ کی صحبت میں رہتے ہوئے انہیں نصیب ہوتی تھیں اگر اسی کیفیت میں رہتے تو چوکو ں اور چوراہوں میں فرشتے ان سے مصافحہ کرتے۔قرآن کریم کی باتیں حکمت سے بھری پڑی ہیں۔قرآن کریم کو دیکھنا عبادت،چھونا عبادت،پڑھنا عبادت اور عمل کرنا تو مقصد حیات ہے۔کیونکہ یہ ذات باری تعالی کا ذاتی کلام ہے ہر لحاظ سے اس میں برکت ہے۔اللہ کا کلام ہے بے شمار برکات ہیں۔قرآن کریم کی حکمتیں سمجھنے کے لیے ضروریات دین کا جاننا ضروری ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ صرف ماہ مبارک ربیع الاول کی ساعتیں مبارک نہیں ہیں بلکہ اس کے صدقے تمام ہفتے،مہینے اور سال سب مبارک ہو جاتے ہیں۔دن مبارک ہو جائیں گے راتیں مبارک ہو جائیں گی اگر ہم اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ پر خود کو لے آئیں۔وگرنہ ہم ضد اور انا کی بھینٹ چڑھے جا رہے ہیں۔پھر قومیں انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں،ترقی کی منازل طے نہیں کرتی۔مسلمان معاشرہ ہے لیکن یقین نہیں،انصاف نہیں ہے۔حقوق و فرائض کی تمیز نہیں رہی۔ان حالات کے ہم سب ذمہ دار ہیں ہم کہتے ہیں میں تو ٹھیک ہوں دوسرا اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔اس ماہ مبارک ربیع الاول میں خود کو دیکھیں اپنے کردار کو دیکھیں اپنا جائزہ لیں اور خود کو صراط مستقیم پر لے آئیں۔
یاد رہے کہ بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا اگلا پروگرام 24 اگست بروز سوموار وہاڑی بار کونسل میں ہو گا۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Mah e Rabi ul Awal Tajdeed e Ehad ka din hai - 1

نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔

 نبی کریم ﷺ کو رحمۃ اللعالمین بنا کر بھیجا گیا۔جسے جو نصیب ہو رہا ہے آپ ﷺ کی رحمت سے نصیب ہو رہا ہے۔ہمارے پاس ایسے الفاظ نہیں کہ نبی کریم ﷺ کی شان بیان کر سکیں۔اللہ کریم جانتے ہیں کہ اپنے حبیب ﷺ کو کیا بلندیاں عطا فرمائیں۔ربیع الاول میں کوشش کریں کہ آپ ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کیا جائے آپ ﷺ کی ولادت سے لے کر زندگی کا ایک ایک پل جو آپ ﷺ نے بسر فرمایا اس سے ہماری نسلوں کوراہنمائی ملے گی اور بھلائی نصیب ہو گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ایمان کی مضبوطی عمل صالح تک لے جاتی ہے۔جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں اس کے پیچھے ہماری نیت ہوتی ہے ہمارے تمام اعمال کا انحصار ہماری نیت پر ہوتا ہے۔احکامات دین پر عمل کرنے سے پرہیزگاری نصیب ہوتی ہے اور اللہ کی طرف سے اجرعظیم عطا ہوتا ہے۔یہ جو مبارک مہینہ ہے اس میں بنیاد یہی ہے کہ دین جانیں اور صدق دل سے اس پر عمل کریں اپنے اللہ کریم سے تعلق پیدا کریں اپنے اللہ سے مانگیں۔یہ دنیا امتحان گاہ ہے اس کی تیاری کے لیے جو ضرورت ہے وہ عطا کر دیا گیا ہے۔احکامات دین پرعمل کرنے سے ہمارا ہی فائدہ ہوتا ہے۔قلب میں ایمان ہو تو ایک حد تک بندہ اللہ کریم کو پہچان سکتا ہے۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ملک بھر میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا انعقاد ہو رہا ہے اس میں فیصل آباد بہاولپور،وہاڑی،مظفر گڑھ،گوجرانوالا،مرکز دارالعرفان منارہ شامل ہیں۔ جس میں شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے۔دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔
Nabi kareem SAW ko Rehmat  allaalmin bana kar bheja gaya . - 1

وطنِ عزیز کی خدمت، قومی یکجہتی کے فروغ اور ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیشہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے

اناسیواں یوم ِ آزادیِ پاکستان کے موقع پر ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں بڑی تعداد میں سالکین نے شرکت کی۔ تقریب کا آغازتلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا گیا اور حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب کے دستِ مبارک سے پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب نے فرمایا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور ایک پاک سرزمین ہے۔ اس وطن کی آزادی، سلامتی، استحکام اور ترقی کا تحفظ ہر پاکستانی کی قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یومِ آزادی صرف 14 اگست کو منانے کا نام نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی عملی زندگی میں دیانت، امانت، محنت، قانون کی پاسداری اور اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حقیقی حب الوطنی یہ ہے کہ ہر شہری اپنے حصے کی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کرے اور وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ حضرت امیر عبد القدیر اعوان صاحب نے مزید فرمایا کہ مضبوط کردار، قومی اتحاد، باہمی احترام اور خدمتِ خلق ہی ایک مضبوط، پُرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، افواجِ پاکستان اور امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطنِ عزیز کی خدمت، قومی یکجہتی کے فروغ اور ایک مضبوط پاکستان کی تعمیر کے لیے ہمیشہ اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔ یہ پیغام قومی جذبے، یکجہتی اور ذمہ دارانہ کردار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔
Watanِ Aziz ki khidmat, qaumi yakjahti ke farogh aur aik mazboot Pakistan ki taamer ke liye hamesha apna bharpoor kirdaar ada karte rahen ge - 1

دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے

 دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے۔مخلوق کی آراء اسلام نہیں ہو سکتی۔کسی کی ذاتی رائے قرآن وسنت کے نام پر دین میں داخل کی جائے تو وہ بدعت ہو گی۔دین اسلام کے ساتھ ظلم ہے دین نہیں ہے۔مسلمان کے ذمہ کلی اطاعت ہے رائے کا عمل دخل نہیں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلامی حکم پر عمل کرنے سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔اور اس میں ہر ایک کی بہتری ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایک تو خوش ہو جائے اور دوسرے کا نقصان ہو۔اسلامی حکم ہماری ضرورت ہے اسلام کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان عطا فرمایا۔جو لوگ اللہ کی مخالفت میں لگے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ پھر دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دینی باتوں میں لوگوں کا رجحان بہت کم ہے،دینی پروگرامز ہوں،دینی محافل ہوں ان میں بہت کم لوگ آتے ہیں اور اگر کہیں کوئی تماشہ لگا ہو تو وہاں آپ کو بہت رش نظر آئے گا اپنا وقت بھی ضائع کریں گے پیسوں کا ضیاع بھی کریں گے لیکن وہاں ضرور جائیں گے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کی تسکین میں لگے رہتے ہیں۔جو بھی اللہ سے خالص استقامت فی الدین کی توفیق مانگے گا اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔نیکی ہمیشہ اللہ کے لیے کرنی چاہیے۔جو بھی دین پر عمل کرتا ہے وہ دین کی حفاظت کر تا ہے اور اللہ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
deen islam woh hai jo Allah ka hukum hai - 1

جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے


پریس ریلیز 
 ایسی نشست یا محفل جس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ یا دین کا ذکر نہ ہو ایسی محفل سے متعلق رو زآخرت سوال ہو گا اور پچھتائیں گے کہ کاش ہم ایسی محفل نہ کرتے۔اگر ایک محفل کے متعلق اتنی سخت وعید ہے تو ہماری زندگی کے شب و روز جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی یاد سے خالی ہیں اگر غور کریں تو سمجھ آئے گی کہ کتنے دین پر ہیں اور کتنے دین سے دور لایعنی اعمال میں وقت کا ضیاع کر رہے ہیں۔ہم اپنی ساری زندگی اصول تجویز پر گزار دیتے ہیں جبکہ دین اسلام اصول تفویض پر زندگی بسر کرنے کی راہنمائی عطا فرماتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کمالات پر بھروسہ کریں گے اللہ کے تفویض کردہ اصولوں پر نہیں چلیں گے پھر برکت جاتی رہے گی۔اور آخرت میں ان تمام وسائل کا جواب دینا پڑے گا۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔دین اسلام ہر طرح کی راہنمائی فرماتا ہے کہ ذرائع آمدن کیسے ہونے چاہیے؟معاشی زندگی،معاشرتی زندگی،اپنے ذاتی وجود سے لے کر ہر ایک لمحے کے بارے راہنمائی ہے حتی کہ عبادات بھی حد سے زیادہ کرنے پر سوال ہو گا۔بندہ یہ اقرار کرے کہ جو کچھ ہے میرے اللہ کا ہے اور میرے حصے کا میرے اللہ کریم نے مجھے عطا فرمایا ہے۔اس طرح اللہ کریم نے جو تفویض فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے۔اور جو شیطان کا پیروکار ہو وہ بے سکون اور خوفزدہ رہے گا۔اس لیے کہ شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر دونو ں کا دشمن ہے۔جو بھی اس کی پیروی کرے گا وہ اللہ کے فضل سے دور ہوتا چلا جائے گا۔حق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈرے پھر کسی کا ڈر نہیں رہتا اور اللہ سے ڈرنے سے مراد ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں اسی کیفیت کو تقوی بھی کہتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
jis par Allah ka fazl hota hai is ko qalbi sukoon naseeb hota hai - 1