Latest Press Releases


رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے


قرآن کریم فرماتا ہے کہ روز محشر انکار کرنے والے سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سجد ہ نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اس دارِ دنیا میں جب وقت تھا تو اس وقت انہوں نے سجدہ نہ کیا۔دنیا دارالعمل ہے اس میں صالح اعمال اختیار کیے جائیں،معافی مانگی جائے اور اپنے اللہ سے اخلاص مانگیں تاکہ ہمارے اعمال ہمارے اقرار کی گواہی دیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔اللہ کریم نے باردیگر عطا فرمایا۔اس میں شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اگر پھر بھی غلطیاں کریں تو وہ جو سال بھر شیطنت ہمارے اندر رہی یہ اس کے اثرات ہیں۔کیا رمضان المبارک میں جھوٹ بولتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے،لین دین کرتے ہوئے کیا حق کے ساتھ کر رہے ہیں؟رمضان رمض سے ہے جس کے معنی ہیں بھٹی یعنی ایسا ماہ مبارک جو گناہوں اور غلطیوں کوجلا کر راکھ کر دے۔رمضان المبارک کی بہت برکات بیان فرمائی گئی ہیں اس کے عشرہ جات کی برکات ہیں پھر اس میں اعتکاف ہے پھر لیلۃ القدر جیسی عظیم برکتوں والی رات ہے جس میں کلام ذاتی نازل فرمایا گیا۔اس ماہ مبارک کی کیا کیا کوئی عظمت بیان کرے برکات ہی برکات ہیں۔جو نورایمان ہمارے قلوب میں ہے کیا وہ اس درجہ کا ہے کہ ماہ مبارک کی چاشنی ہمیں بھی محسوس ہواس کا  ادراک ہمیں بھی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدق دل سے نماز ادا کرنے سے بندے کا حال بدل جاتا ہے۔یہ مزدوری کا وقت ہے پھر یوم حساب ہو گا جہاں جزاو سزا ملے گی وہاں مزدوری کا وقت نہیں ہو گا عمل یہاں اسی دنیا میں کرنا ہے۔ہمیں اپنے شب وروز دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں صرف ہو رہے ہیں دنیا کے اصول و اسلوب جائز حرکت میں ہیں ناجائز معاملات سے معاشرے میں بدبو پیدا ہوتی ہے۔صالح اعمال معافی کا بھی سبب ہیں اور قرب الٰہی بھی نصیب ہوتا ہے۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramzan ul Mubarak maheenon ka sardar maheena hai - 1

جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں


کفر مسلمانوں کو سودی معیشت کے اندر جکڑ رہا ہے،سوشل میڈیا کے زریعے فحاشی اور عریانی کو عام کر رہا ہے،ہمیں حرام پر لگا رہا ہے یہ سارے آج کے دور کے وہ حملے ہیں جن کے ذریعے اسلام دشمن عناصر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے اس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں۔اور کمزور مجبور ہے ان کی پیروی کرنے کے لیے۔انصاف کے نام پر قومیں حاکم بن گئی ہیں اور انصاف کے نام پر ہی قوموں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں کر رہا کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے۔سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے۔ہم نے دینی اور دنیا وی اصول چھوڑ دئیے ہیں اور بے راہروی کا شکار ہو گئے آج بھی اگر دینی اصولوں کو اپنایا جائے ان پر عمل کیا جائے توہم دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر بحیثیت مجموعی ہم توبہ کریں اللہ سے مدد مانگیں تو ہم اس دنیا کو لیڈ کر سکتے ہیں۔اللہ کریم تمام جہانوں کے پالنہار ہیں جو بھی اس دنیا میں اللہ کی نعمتیں حاصل کر رہا ہے وہ اللہ کی صفت رحمانیت سے حاصل کر رہا ہے جو اس کو نہیں مان رہا اس کو بھی سب مل رہا ہے۔ہم تو اس کے ماننے والے ہیں ہم اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
jis ke paas taaqat hai woh chahta hai ke waisa ho jaisa mein chahta hon - 1

اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار


 عظمتِ رسالت ﷺ پر قرآن مجید میں جتنی آیات ہیں ہر آیت میں ایسی عظمت بیان فرمائی گئی کہ لاکھوں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔جب بھی کوئی اس قرآن کے بحر میں اتراوہ نئے جواہر اور موتی لے کر نکلا اور مخلوق کو آراستہ کیا۔قیامت تک اللہ کریم جسے توفیق دیں گے عظمت رسول ﷺ بیان ہوتی رہے گی۔قرآن مجید حقوق و فرائض کی ایسی تقسیم فرماتا ہے جس کی راہنمائی سے غیر مسلم بھی اس دارِ دنیا میں ترقی کر رہے ہیں اور جو فیصلے قرآن مجید فرماتا ہے جسے سزا ملتی ہے وہ بھی مسکراتے ہوئے قبول کرتا ہے اس کے فیصلوں میں ایسا انصاف ہوتا ہے جو سب کے لیے مثالی ہوتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ یہ امت دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے روز محشر یہ باقی امتوں پر شاہد ہوگی آج اس امت میں کتنی تفریق پید ا ہو چکی ہے بلوچستان میں کتنی بد امنی ہے ایسی پالیسیز بنائی جا رہی ہیں جس سے ہمارے ہی بھائی شہید ہو رہے ہیں۔حضرت نے اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کب ہم من حیث القوم اس بات کا ادراک کریں گے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے شرف ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی اُمت ہیں لیکن خود کو دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس نسبت کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنا محاسبہ کریں۔یہ امتی کا رشتہ اتنا نازک ہے کہ ایک لمحے کا خیال اسے چکنا چور کر دیتا ہے اور مضبوط اتنا کہ موت بھی وارد ہو جائے تو یہ رشتہ نہیں ٹوٹتا۔اس لیے کہ اس رشتے کی بنیاد ایمان پر ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Islamabad mein bomb dhamakay mein halaak aur zakhmi honay walon par dili dukh aur afsos ka izhaar - 1

اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ مخلوق خدا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے


آج بحیثیت مجموعی اُمت کا جو کردار ہے وہ اخلاقی طور پر لین دین کے اعتبار سے باقی دیگر امور میں کیسا ہے ہم سب اگر اپنا جائزہ لیں تو سمجھ آجائے گی کہ ہم مخلوق کی بھلائی کر رہے ہیں یا نقصان پہنچا رہے ہیں۔ہم تو اپنے والدین،اولاد اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی بھلائی نہیں کر رہے۔اسلام ہمیں سلام کرنے میں پہل کرنے کا ارشاد فرماتا ہے اور ہم کہتے کوئی بلائے گا تو جواب دے دیں گے اگر وہ سلام نہیں لیتا تو میں کیوں لوں۔ایک والدین کی اولاد چند ٹکوں کی زمین کے لیے ایک دوسرے کا کیا حشر کر رہے ہیں۔جبکہ یہ وہ اُمت ہے جسے مخلوق خدا کی بھلائی کے لیے اللہ نے پیدا فرمایا اور پسند فرمایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ دعوت حق دینے کے لیے خود حق پر ہونا لازم ہے۔نیکی کی دعوت دینے کے لیے خود نیکی اختیار کرنی ضروری ہے۔
 پہلا حکم دعوت دینے والے پر لاگو ہوتا ہے کہ وہ خود نیکی اختیار کرے پھر دعوت دے۔ہم اپنی نیکیاں شمار کرتے رہتے ہیں کہ اتنے چلے لگا لیے اتنے نوافل پڑھ لیے اتنے قرآن ختم کر لیے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہوگی۔رمضان المبارک کی آمد آمد ہے یہ نصف شعبان کی نبی کریم ﷺ نے برکات بیان فرمائی ہیں نبی کریم ﷺ شعبان المعظم میں رمضان المبارک کا انتظار فرماتے اور کثرت سے روزے رکھتے۔ہم نصف شعبان میں بسنت منا رہے ہیں پتنگیں اڑا رہے ہیں یہ آج امت مسلمہ کا حال ہو گیا ہے۔وہ امت جس نے دوسروں کی اصلاح کرنی تھی اب اسے خود اصلاح کی ضرورت ہے۔ہمیں تو اس ماہ رمضان المبارک کی تیاری کرنی تھی۔اللہ کریم ہمیں ہدایت عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد 7،8 فروری کو کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لائیں گے اور حضرت جی مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی۔دعوت عام ہے
Umat e Mohammad al Rasool ul Allah SAW makhlooq kkhuda ki bhalai ke liye peda ki gayi hai - 1

نبی کریم ﷺ کا اُمتی ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے


 پوری دنیا میں اُمت مسلمہ زبوں حالی کا شکار ہے۔اسلام بندے کے حقو ق و فرائض کی تقسیم اور ادائیگی کے طریقے کی ایسی راہنمائی فرماتا ہے جو دنیا و آخرت دونوں لحاظ سے بحیثیت انسان بہترین ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کی روح میں قوت پرواز ہوتی ہے۔ہم دین کے دعوے تو کرتے ہیں اُمتی کا شرف بھی حاصل ہے لیکن ہمارے کردار کی وجہ سے ہم پر کوئی پانچ روپے کا بھی اعتبار نہیں کرتا 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا اُمتی ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے۔اس شرف کے ساتھ اُمت ہونے کے جو اصول اور ضابطے ہیں جب ان کا تجزیہ کریں گے توسمجھ آئے گی کہ ایمان صرف دعوے کا نام نہیں بلکہ خلوص کے ساتھ دینی احکامات پر عمل کرنے کا نام ہے۔آپ اس ایک بات سے اسلامی احکامات کا اندازہ لگائیے کہ مسواک کرنے کا حکم ہے ہم اپنے دانتوں کی صفائی کرتے ہیں ساتھ اجروثواب بھی نصیب ہوتا ہے۔اور اس عمل کی کتنی برکات بیان فرمائی گئیں۔سنت بھی پوری ہو رہی ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوں گے تو کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس میں راہنمائی موجود نہ ہو۔صرف حکم نہیں دارِ دنیامیں نبی کریم ﷺ نے اختیار فرمایا تعلیم دی اور تصیح فرمائی۔اجماع اُمت آج تک پہنچانے کا سبب ہے۔اللہ کی واحدانیت پر جسے یقین نہیں ہے اور ایک سجدہ نہیں کرپاتا پھر وہ در در سجدے کرتا ہے۔ایسی غلامی میں چلا جاتا ہے۔ٹوٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوا کے ساتھ کبھی کہیں کبھی کہیں اڑتا پھرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nabi kareem SAW ka ummati hona Allah kareem ka bohat bara ahsaan hai - 1

سودی نظام کی بجائے زکوۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے


 اللہ کریم کے دئیے گئے احکامات انسانی ضرورت ہیں ان پر عمل کرنے سے جہاں ہماری ضروریات کی احسن طریقہ سے تکمیل ہوتی ہے وہاں اجرو ثواب بھی عطا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بند ہ مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے جو اسے حقیقی خوشی تک لے جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آج وطن عزیز میں لوگ نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں روزے بھی رکھے جاتے ہیں،حج و عمرہ بھی کرتے ہیں اور سود بھی کھا رہے ہیں۔پھر شکوہ بھی کہ زندگی میں سکون نہیں ہے۔جب آپ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺکے مقابل کھڑے ہوں گے اطمینان کیسے نصیب ہوگا؟پوری قوم انفرادی بھی اور بحیثیت مجموعی بھی ہم سود کی لعنت میں جکڑے ہوئے ہیں۔معیشت کا نظام ایسا ہے کہ امیر کو امیر ترین اور غریب کو غربت کی گہرائیوں میں لے کر جا رہا ہے۔جو آج ہمارے معاشرے کا حال ہوچکا ہے اس کا سبب ہماری کمزوریاں اور بے عملی ہے۔ہم حق کو چھوڑ کر خواہشات نفسانی کی پیروی کر رہے ہیں۔صوفیاء بھی فرماتے ہیں کہ جب کوئی صوفی اللہ اللہ اور محنت و مجاہدہ کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس میں سے کمزوریاں اور کمیاں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں لیکن سب سے آخر جو چیز اس میں سے نکلتی ہے وہ انا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ہمیں اپنی ترجیہات کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں کیا اللہ کے حکم پر زندگی بسر کرنی ہے یا اپنی پسند پر۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سودی نظام کی بجائے زکوۃ کے نظام کو نافذ کیا جائے تو ہمارے بجٹ سے زیادہ زکوۃ جمع ہو سکتی ہے۔سودی نظام کی وجہ سے آج پورا ملک مقروض ہے۔جو جہاں بیٹھا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی عقل اور طاقت سے اس سارے نظام کو گرفت کر رکھا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کا ہے۔اللہ۴ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہم اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں۔
قرآن کریم جو فرماتا ہے وہ حق ہے۔قرآن کریم کی تلاوت کیا کریں اور اپنے متعلقہ احکامات کو جانیں اور سیکھیں تا کہ ان پر عمل کیا جا سکے سیکھیں گے نہیں تو عمل کیسے کریں گے؟اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں
soodi nizaam ki bajaye zkoh ke nizaam ko nafiz kya jaye - 1

کلمہ حق پوری انسانیت کے لیے نقطہ اتحاد ہے


 دین اسلام سب کو برابری کا حق دیتا ہے۔جب بندہ کلمہ حق کا اقرار کرتا ہے پھر اس کی تمام استعداد مثبت پہلوؤں  پر استعمال ہوتی ہے پھر وہ اپنی صلاحتیں ترویج دین کے لیے استعمال کرتا ہے۔دین اسلام کی تعلیمات اسے ایثار پر لے آتی ہیں جو جانوروں کے پانی پینے پر ایک دوسرے کی گردنیں اڑا دیتے تھے پھر وہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگتے ہیں۔بندہ جب اعتدال سے ہٹتا ہے تو پھر معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔دین اسلام پر عمل پیرا ہونے سے بندہ اعتدال میں آجاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی امتحان گاہ ہے جو اقرار کیا ہے اس پر تا دم واپسی قائم بھی رہنا ہے۔یہ اصلاح نہیں کہ اقرار کرنے کے بعد بھی امور سارے انکار والے ہوں۔ہم نے جو اقرار کیا ہے ہمارے اعمال اس دعوے کے گواہ ہوں۔ہر غیر صالح عمل فساد پیدا کرتا ہے۔ہمارا غیر صالح عمل سے نا صرف ہم خود متاثر ہوتے ہیں بلکہ پوری کائنات میں اس کا اثر جاتا ہے۔بے عملی فساد فی الارض کا سبب بن جاتی ہے۔جیسے حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ اگر عمر ؓ حیات ہوتے تو جانور کسی دوسرے کی زمین سے چارہ نہ کھاتے۔مطلب ہمارے اعمال سے کائنات کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ جس طرح موسم بدلتے ہیں یہ حالات بھی بدلیں گے۔اللہ کریم ہمیں وہ وقت دکھائیں جب اسلام کا نفاذ ہو۔جہاں مخلوق کو انصاف نصیب ہو رہا ہو۔ہم کمزور لوگ ہیں ہم زبان بھی ان کی بول رہے ہیں جن کے پاس طاقت ہے۔انہی کی پیروی کر رہے ہیں۔جب ہم اپنی بنیاد جو ایمان ہے اس پر عمل کریں گے تب ہی ہم اپنے ملک کی بھی تعمیر کر پائیں گے۔56 اسلامی ریاستیں ہیں اور ساری مار کھا رہی ہیں۔ہمارے اندر اتنی تلخیاں آچکی ہیں کہ کوئی کسی دوسرے کو دیکھنا تو کجا سننا پسند نہیں کرتا۔ہماری اس تفریق کی وجہ ہمارے اعمال بد ہیں۔اپنی ذات سے نکل کر سوچنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Kalmah Haq puri insaniat key lie nuqtah itehad hai - 1

دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو


لہ کریم قرآن کریم میں فرما رہے ہیں کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اس کے لیے بھی خلوص اولین شرط اور دوسروں کی اصلاح مقصود ہو۔اپنی ذات کی بڑائی منوانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ بندہ خود باعمل ہو اور جو وہ کہہ رہا ہے اس پر یقین ہو اس سے وہ قوت عطا ہوتی ہے کہ کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ کوئی خواہ مخواہ اعتراض کرسکے۔دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کا اعلی درجہ ہے۔جس نے اسلام قبول کر لیا وہ پابندہے کہ حکم الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرے۔دین پر عمل کرانے کے لیے قوت نافذہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جیسے بے نمازی کے لیے حکم ہے کہ اسے سزا دی جائے اگر کوئی بے نمازی فوت ہو جائے تو اس کا نماز جنازہ بھی نہ پڑھا جائے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا حکومت وقت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔یاد رکھیں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کوئی فرد واحد یا جماعت اگر ایسا کرے گی تو انتشار پیدا ہوگا 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں اگر خلوص ہو اور مقصد حق ہو تو کوئی بھی آپ کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن جب مقصد ذاتی خواہش بن جائے پھر فساد پیدا ہوگا۔دین میں سختی نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی کو زبردستی کلمہ نہیں پڑھا سکتے اس کی دین اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو زوربازو دین میں داخل کیا جائے لیکن جب کوئی اسلام قبول کر لیتا ہے پھر لازم ہے کہ دین پر عمل بھی کرے اس کے لیے اس پر سختی کی جا سکتی ہے۔اللہ کریم دین کے نام پر ہونے والے فسادات سے ہماری حفاظت فرمائیں۔اللہ کریم نے جو جس کی ذمہ داری لگائی ہے اگر سب اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کریں گے پھر مصیبت اور پریشانیاں اور عذاب آئیں گے۔کامیابی وہ ہے جو دنیا و آخرت میں نصیب ہو اسے کلی کامیابی کہا جائے گا۔یہ دنیا چند روزہ ہے ایک دن آنے والا ہے جب رشتوں کی بھی پرواہ نہیں ہوگی ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی آج وقت ہے اس دن کی تیاری کی جائے اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لیا جائے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Dawat haq ka maqsad sirf Allah ki Raza ho - 1

آج بھی اسلامی معاشروں میں شیطنت کا بیج بویا جا رہا ہے


 اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ کوشش صحابہ کرام ؓ کی عہد میں بھی کی جاتی رہی۔قرآن مجید میں اس کا حل ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا مے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔آپ ﷺ نے اجماع اُمت پر زور دیا کہ اتفاق واتحاد میں دشمن کو جرات نہ ہو گی کہ آپ کو نقصان پہنچا سکے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری اُمت میں 73  فرقے ہوں گے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جو حق پر رہے گا۔باقی فرقے جو ہیں ان کا راستہ دوزخ کا رستہ ہے۔عرض کی گئی کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا فرقہ حق پر ہے تو ارشاد فرمایا جو میری اور میرے صحابہ کی راہ پر چلے گا۔اجماع کی بنیاد ہی یہی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں گے۔انسانی زندگی کے ہر عمل میں دین اسلام راہنمائی فرماتا ہے۔ قیامت تک جو سوال بھی انسانی زہن میں آئے گا اس کا جواب قرآن کریم سے دیکھیے گا آپ کو مل جائے گا۔اگر قرآن کے اصول کے مطابق اسلامی ریاست کا قیام ہوگا پھر شاہ و گدا برابر ہوں گے۔آج فساد کی وجہ ہی یہ ہے کہ طاقتور کہتا ہے جو میں چاہتا ہوں ایسا ہو۔قرآن کریم کو اس انداز سے پڑھیں کہ میرے اللہ کریم مجھ سے مخاطب ہیں۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد ہی یہ ہے کہ پورے دین اسلام پر عمل کیا جائے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Aaj bhi islami maashron mein sheetnat ka beej boya ja raha hai - 1

اسلامی نظام عدل سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں


اسلام کے مطابق اگر نظام عدل قائم کیا جائے اس سے انتشار کی بجائے باہم اتفاق و اتحاد ہوگا۔ دین اسلام انسان کو انسانیت سکھاتا ہے۔اگر کوئی جرم کرتا ہے اسے اسلام کے مطابق سزادی جائے اس سے معاشرے میں بہتری آئے گی آج مدارس پر بات کی جاتی ہے بات مدارس یا یونیورسٹیوں کی نہیں ہے بات عدل اور انصاف کی ہے کہ قانون کا اطلاق کیسا ہے؟ ہمارے مسائل کی بڑی وجہ قانون کے نفاذ کا نہ ہونا ہے۔زندگی کے ہر پہلو میں اسلامی قوانین موجود ہیں اللہ کے کلام میں راہنمائی موجود ہے۔ ہر نا فرمانی اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنتی ہے۔دوسروں سے بحث کرنے کی بجائے خود کو دیکھیں کہ ہم صبح سے شام تک کتنا اللہ کا حکم مانتے ہیں اور کتنا تجاوز کر رہے ہیں۔
 ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی شان کی بلندی کا ادراک کسی کو نہیں ہے۔ہمارے ذمہ وہ حصے ہیں جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ہم اطاعت کے مکلف ہیں اور اسی کے جواب دہ ہیں۔ہمارے اعمال ہمارے دعوے کا ساتھ نہیں دے رہے۔ہم نے اپنے اعمال بد سے اپنے قلوب کو تالے لگادئیے ہیں۔نہ حق نظر آ رہا ہے نہ حق کی سمجھ آ رہی ہے۔ہر گناہ خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔ایمان بندے کو اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ بندہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے۔اللہ کا احسان کہ ہمیں صاحب ایمان ہونا نصیب فرمایا ہم زندگی کے مختلف ادوار سے گزر رہے ہیں یہ جہان فانی ہے ہر جاندار کو موت واقع ہوگی ہم اصول و ضابطے بھی اپنی خواہش پر مرتب کرتے ہیں لیکن صاحب ایمان کی نشانی یہ ہے کہ اس کی زندگی بدل جاتی ہے اس کی زندگی کے ہر پہلو کا انحصار اللہ کریم کی طرف ہو جاتا ہے۔وہ اپنے ہر عمل میں اطاعت کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Islami nizaam Adal se hi insaaf ke taqazay poore ho satke hain - 1