Latest Press Releases


سیلاب آسمانی آفت ہے اس میں پوری قوم اپنی خطاؤں کو سامنے رکھ کر اللہ کے حضور توبہ کرے


 وطن عزیز میں سیلاب کی وجہ سے ہمارے بہن بھائی انتہائی مشکل میں ہیں اس کا اندازہ ہمیں یہاں سے نہیں ہو سکتا کہ وہ کتنی بڑی مصیبت سے گزر رہے ہیں ہر طرف پانی ہی پانی ہے انسانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشی،مکان،سامان سب کچھ بہہ گیا۔صاحب اختیار اس صورت حال میں اپنی فتح وشکست،اپنی ذات کو درست اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں لگے ہیں۔ضروررت اس امر کی ہے کہ بحیثیت مجموعی حکومت اپنے تمام تروسائل بروئے کار لاتے ہوئے ان کی داد رسی کے لیے پہنچے اور عام آدمی بھی اس کے لیے اپنی استعداد کے مطابق اپنا کردار ادا کرے اور اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے استدعا کرے کہ اللہ کریم رحم فرمائیں تاکہ اس مصیبت سے چھٹکار املے۔اس مصیبت اور مشکل میں جتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں اللہ کریم انہیں اس صبر اور امتحان کا اجرعظم عطا فرمائیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسر براہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ معمولات زندگی میں کہیں خوشی ہے اور کہیں غم زندگی کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے انسان گزرتا ہے بندہ مومن کو دونوں پہلو سے اجر و ثواب عطا ہوتا ہے خوشی میں شکر کی ادائیگی نصیب ہوتی ہے اور غم میں صبر اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم فرماتے ہیں کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے یہ معیت باری تعالی اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے کہ کسی کو اللہ کا ساتھ نصیب ہو بات ادراک کی ہے کہ کس کو اس بات کا کتنا ادراک ہے اللہ کریم سیلاب زدگان کو صبر عطا فرمائیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ راہ ہدایت اور ہمارے درمیان کتنے فاصلے آ چکے ہیں اس بات کو دیکھنے کی ضرورت ہے عارضی ٹھکانہ ہے اللہ کریم اس زندگی کا سفر آسان فرمائیں یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے جو ہم بھگت رہے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے کہ خشکی اور تری میں ہمارے اعمال اثر انداز ہوتے ہیں ہمیں اپنی خواہشات کی پیروی کرنے کی بجائے ارشادات نبوی ﷺ کو اپنانے کی ضرورت ہے اللہ کریم ہمیں اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ہمارے پاس اللہ کا کلام موجود ہے جو راہ ہدایت ہمیں دکھاتی ہے جو اوصاف سیدھی راہ کے ہیں کیا ہم نے انہیں اختیار کیا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے سیلاب زدگان کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Selaab aasmani aafat hai is mein poori qoum apni khataon ko samnay rakh kar Allah ke huzoor tauba kere - 1

شہادت ایسی کیفیت اور حال ہے جو صرف صاحب ایمان کا حصہ ہے اور کسی کا نہیں


دین اسلام پر ایمان لانا اللہ کریم کی واحدانیت پر یقین اور آپ ﷺ کی رسالت کو برحق جانتے ہوئے اپنی جان دے کر اس پر گواہی دے جانا یہ شہادت ہے۔شہید کے لیے ارشاد باری تعالی ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ زندہ ہے اور ہم اسے باہم رزق پہنچا تے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ شہادت ایسی کیفیت اور حال ہے جو صرف صاحب ایمان کا حصہ ہے اور کسی کا نہیں جب کسی کو نور ایمان نصیب ہوتا ہے پھر یہ ادراک ہوتا ہے۔یہ وہ معاملہ ہے جو اللہ اور بندے کے مابین ہے۔اللہ کریم کی ذات لامحدود ہے کسی کے احاطہ میں نہیں آسکتی اللہ کریم نے انبیاء مبعوث فرمائے جو اللہ کریم سے آشنائی کا سبب ہیں۔اللہ کے نبی کی اطاعت در اصل اللہ کریم کی اطاعت ہے۔شہید سے جب پوچھا جائے گا کہ کوئی خواہش ہو تو بتاؤ تو شہید عرض کرے گا یا اللہ مجھے پھر زندگی عطا فرمائیے میں دوبارہ تیری راہ میں شہید ہونا چاہتا ہوں۔جو لذت شہید ہونے میں ملی وہ اور کہیں نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج ہمارے معاشرے کی تکلیف دہ صورت کا سبب ہمارا کردار ہے انسانوں کا مل جل کر رہنا معاشرہ کہلاتا ہے جو اس معاشرے میں رہ رہے ہیں اگر ان کے رویے درست نہ ہوں تو معاشرہ بھی درست نہیں ہو گا۔ہم ایک دوسرے پر اعتراض کرتے ہیں،نشاندہی بھی کرتے ہیں لیکن جو خودکر رہے ہیں اس کو درست کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ بوجھ اُٹھانا آسان نہیں ہے مظلوم جو پس رہا ہے وہ تو کسی طاقتور کا گریبان نہیں پکڑ سکتایہ نظام صرف محمد الرسول اللہ ﷺ نے ہی عطا فرمایا کہ ایک عام آدمی بھی حکمران کو اپنی تکلیف سنا سکتا تھا اس کا گریبان پکڑ سکتا تھا۔قیامت کے دن حسا ب ہوگا اور ہر فیصلہ عدل پر ہوگا اس میں سے ہر ایک نے گزرنا ہے اس وقت کیا جواب دیں گے جہاں اللہ کا انصاف ہوگا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ عالم تب عالم ہے جب اُس کی بات اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات ہو۔ شرف شہادت عطا فرمانا اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے اگر کسی کو یہ کیفیت نصیب ہوتی ہے تو اللہ کریم کا اس پر بہت بڑا احسان ہے۔شہید اپنی جان دے کر اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ پر گواہی دے جاتا ہے۔کسی کا مجاہدہ ترقی درجات کا سبب بن جاتا ہے اور توبہ کی طرف آنے کا موقع بھی دینا ہوتا ہے۔اس لیے بھی مشکلات آتی ہیں کہ بندہ سدھر جائے۔جتنی ہماری ضرورت تھی اس کے مطابق کلام الٰہی میں بیان فرما دیا گیا ہے۔
  آخر میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایمان بھی موجود ہے صاحب ایمان بھی موجود ہیں دنیا سے ایمان اُٹھ نہیں گیا ابھی وقت ہے اختیار بھی ہے خود کو اللہ کی راہ پر لے آئیے اُس کا کرم کہ نور ایمان عطا فرمایا اپنا ذاتی کلام عطا فرمایا اور ہماری قیامت تک کے لیے راہنمائی فرما دی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔

Shahadat aisi kefiyat aur haal hai jo sirf sahib imaan ka hissa hai aur kisi ka nahi - 1

ضروریات دنیا کو اپنی خواہشات کے مطابق دیکھنے کی بجائے اللہ کے حکم کے مطابق دیکھنا چاہیے


ہم ہر کام کو اپنی ذاتی پسند اور ذاتی خواہش کے مطابق دیکھتے ہیں۔چاہے وہ چیز ہمارے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔اپنے معاملات اللہ کریم کے سپرد کردینے چاہیے اور اُس کے حکم کے مطابق اپنے فیصلے کرنے چاہیے تا کہ زندگی اللہ کے حکم کے مطابق بسر ہو۔جب اللہ کریم کے حکم کے مطابق زندگی بسر کریں گے پھر نتائج بھی ویسے ہی حاصل ہوں گے جیسے اللہ کریم فرماتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ نماز بے حیائی اوربرائی سے روک دیتی ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ نماز بھی پڑھ رہے ہیں برائی بھی کر رہے ہیں لوگ نماز بھی پڑھ رہے ہیں معاشرے میں دھوکہ بھی ہے لین دین میں بھی بے ایمانی ہے معاملات میں کلام میں ہر جگہ معاشرے میں بگاڑ نظر آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ اللہ کریم کا حکم تو صدیاں گواہ ہیں اس میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہے عطا ہی عطا ہے پھر ہم جو اللہ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں ہمیں خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری نمازیں ٹھیک ہیں ان کی ادائیگی میں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی،نماز کے اہتمام میں وضو میں،نیت کیا ہے،کیا میری نماز میں خلوص ہے؟ یہ سب دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہماری نماز درست ہوتی تو نتائج وہی آتے جن کا اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہمارے اعمال کی اللہ کو ضرورت نہیں ہے بندے کا کردار اس کے اعمال اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کس راستے کا مسافر ہے۔اعمال بندگی کی نشانی ہیں اور یہی اللہ کی رضا کا راستہ بھی ہے جو اس کے قرب کو جاتا ہے۔اور اگر نماز کی ادائیگی بوجھ لگ رہی ہو نماز میں دل نہ لگ رہا ہو جیسے کوئی مجبوری میں کام کیا جار ہا ہو کیا نماز کو معراج کا درجہ دے رہے ہیں کیا اس نماز کو اللہ کی ملاقا ت کا زریعہ سمجھ رہے ہیں یا صرف ورزش کی او رچلے گئے۔جیسا ہمارا اہتمام ہو گا ویسے نتائج ہوں گے اگر اہتمام خلوص کے ساتھ ہوگا محبت الہی میں نماز کی ادائیگی ہوگی اس کے ایک ایک رکن پر بندہ پورے خلوص سے عمل کر رہا ہو پھر نتائج کیسے ہوں گے۔مساجد اللہ کا گھر ہیں ہم نے ان میں بھی تفریق پیدا کر رکھی ہے کوئی نمازی دوسری مسجد میں نماز پڑھنے نہیں جاتا یہ سب کیا ہے؟ ہمیں ایسی باتوں سے باہر نکلنا ہو گا اور عبادات کو خالص کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ نتائج حاصل کر سکیں جو مقصود ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Zaroriat duniya ko apni khwahisaat ke mutabiq dekhnay ki bajaye Allah ke hukum ke mutabiq dekhna chahiye - 1

شہید اپنی جان دے کر کلمہ شہادت پر گواہی دے جاتا ہے


 شہید اپنی جان دے کر کلمہ شہادت پر گواہی دے جاتا ہے۔حضرت امام حسین ؓ نے اپنی ذات کو ترجیح نہ دی  اور حق پر دین اسلام کی ناموس پر اپنے سمیت خاندان نبوت ﷺکو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔کوفہ کے یہ ظالم آپ ﷺ کے دور سے چلے آرہے ہیں۔اور ان کو یہ آگ وراثت میں ملی ہے جو کہ نفاق کی صورت میں حضرت عمر ؓ کی شہادت،حضرت عثمان ؓ کی شہادت سے لے کر واقعہ کربلا تک آتی ہے۔آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ دین اسلام کو ہر شعبہ میں مقدم رکھا جائے۔اپنی ذات سے نکل کر مقصد کو اولیت دیتے ہوئے آپ ﷺ کے ساتھ وفا کرتے ہوئے بندگی کے اس تعلق کو بجا لاتے ہوئے اپنی جان کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا جائے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ معیت رسول اللہ ﷺ میں یہ قوت تھی کہ جو بھی ایمان کی حالت میں آپ ﷺ کی صحبت میں آیا درجہ صحابیت کو پا گیا۔اور بعد میں آنے والے اس زمانے سے دور ہوتے چلے گئے اور اب ان برکات کے حصول کے لیے مجاہدہ شرط ہے۔اپنی نیت خالص کر کے اللہ اللہ کی جائے اور اس ذکر کوصرف اس لیے اختیار کیا جائے کہ میرا تزکیہ ہو جائے اور اپنے قلب کو پاک کرتے ہوئے اپنے ظاہر و باطن کو ایک کر لیا جائے۔ اس عمل سے بندے کی جلوت اور خلوت ایک ہو جاتی ہے اور اس کو ہر لمحہ یہ خیال رہتا ہے کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Shaheed apni jan de kar Kalma Shahadat pr Gawahi de jata hai - 1

مسلم اُمہ کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے


 مسلم اُمہ کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے اس وقت دنیا میں دیکھیں تو امریکہ کی 52 ریاستیں ہوں یا یورپی یونین، ان سب نے اپنے آپ کو متحد رکھا ہوا ہے یہ اسلوب ہمارا اسلامی ورثہ ہے جسے کافر دنیا اپنا کر ترقی کر رہی ہے۔ مسلمان ممالک بھی جب تک اکٹھے نہ ہوں گے ترقی ممکن نہ ہوگی اور ملت اسلامیہ کا نقطہ اتحاد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔  
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا کہ خلافت اسلامیہ کا قیام اُمت کے لیے فائدے کا سبب رہا۔خلافت میں بڑی برکات ہیں۔دین کی بات پر اپنی خواہشات کو رد کرنا پڑتا ہے۔اس میں ہماری اپنی بہت سی کمزوریوں کی وجہ سے زوال آیا جیسے خلافت میں بادشاہت وارد ہو گئی۔ہمارے ہاں تو خلافت لفظ کا استعمال بھی خطرناک سمجھا جاتا ہے حالانکہ امریکہ اور یورپ میں کتنے ممالک کا اتفاق ہے کتنے ہی پہلو ہیں جن میں اقوام عالم مل کر اپنے فائدے حاصل کر رہے ہیں۔جب ہم اس پر بات ہی نہیں کریں گے تو عمل کیسے ہوگا۔اس وقت ضرورت ہے کہ اس طرف دیکھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلق مع اللہ بندے کو اس قابل کرتا ہے کہ عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے بندہ با عمل ہو جاتا ہے۔بات ذاتی نہیں رہتی بلکہ ذات باری تعالی کی طرف چلی جاتی ہے۔اللہ کریم کی ذات علیم ہے وہ ازل سے جانتا ہے کہ کیا ہے اور کیا ہونا ہے مخلوق کا ڈر چھوڑ دو اللہ کریم سے ڈرو کسی کے اعتراض سے خوف نہ کھاؤ اپنا رخ صرف اللہ کی طرف رکھو سیدھا راستہ اختیار کرو۔ملت اسلامیہ کا نقطہ اتحاد نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔آ ج معاشرے میں فساد کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کہا کچھ جاتا ہے اور سننے والے تک کچھ اور پہنچتا ہے بہت سارے معاملات انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔کوئی بھی اصول جو قرآن و سنت سے اُمت کو نصیب ہوا اُس پر کافر بھی عمل کرے گا تو فائدہ اُٹھائے گا۔دین اسلام کے نفاذ سے نقصان نہیں بلکہ مخلوق کی بھلائی ہو گی۔اسلام تو عین حالت جنگ میں بھی ایسے خوبصورت اصول ارشاد فرماتا ہے کہ فصلوں،درختوں کو پانی کو عورتیں بچے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔مقابلہ اس سے کیا جائے گا جو مقابل آئے گا۔اللہ کریم کا ہر حکم حق ہے وہ خالق ہے اس نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا وہ جانتا ہے کہ کس کے لیے کیا بہتر ہے۔اللہ کریم حق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع جاری ہے جس میں 7اگست بروز اتوار دن 11:00 بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہو گی۔خواتین و حضرات کو اس تربیتی اجتماع میں دعوت عام دی جاتی ہے
Muslim Ummah ko apne ikhtlafat bhula kr aik plateform pr jama hone ki zaroorat hai - 1

اللہ کریم نے جو نظریہ،جو اصول،قوانین زندگی گزارنے کے ہمیں عطا فرمائے ہیں ہمارے مسائل کا حل بھی اُسی میں ہے


 ہر قوم کا کوئی نہ کوئی قبلہ رہا ہے یعنی ہر بندہ کسی نہ کسی نظریہ کے تحت زندگی بسر کرتا ہے۔ اللہ کریم نے جو نظریہ،جو اصول،قوانین زندگی گزارنے کے ہمیں عطا فرمائے ہیں ہمارے مسائل کا حل بھی اُسی میں ہے۔جب جب خلافت قائم ہوئی مسلمانوں میں اتفاق کی صورت رہی یہ اجتماعیت کے اثرات تھے جن کی بدولت مسلمان ایک دوسرے کے احوال سے حالات سے آگاہ رہے۔اب اُمت مسلمہ کو کیوں اتفاق نصیب نہیں اس لیے کہ جو خود حق کو نہیں اپنا رہے یا خود حق سے دور ہیں ان کا یہ کام نہیں۔ جنہیں حق عطا ہوا ہے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ بنیادی طور پر ہمیں خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ یہ زندگی محض بسر کرنے کے لیے نہیں ہے۔یہ فرصت ضائع کرنے کے لیے نہیں ہے اللہ کریم نے کسی مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے اُس مقصد کو پورا کرنے کے لیے زندگی گزارنی چاہیے۔اللہ کریم کا احسان کہ نور ایمان عطا فرمایا ہماری طرف سے کمزوریاں ہیں اللہ کریم کی طرف سے عطا میں کوئی کمی نہیں ہے۔یہ بھی اللہ کریم کا احسان ہے کہ اعلی ترین اصول انسانوں کو عطا فرمائے کہ اگر آپ دریا کے کنارے پر بھی ہیں پھر بھی پانی ضائع کرنے کا حکم نہیں،جنگ کے دوران فصل کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا گیا عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا گیا اتنے خوبصورت اصول عطا فرمائے۔نماز کی ادائیگی سے بے حیائی اور برائی سے بندہ بچ جاتا ہے ہر ہر حکم پر انفرادی زندگی بھی بہتر ہوتی ہے اور معاشرہ بھی خوبصورت ہوتا چلا جاتا ہے۔خواہشات ذاتی کی پیروی کرتے ہوئے بندہ انا اور ضد پر چلا جاتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جو ہم مان رہے ہیں وہ خالص ہو ہماری ادائیگی خالص ہو اللہ کریم نے اتنا خوبصورت ملک عطا فرمایا اس کے بارے اچھا سوچیں، اچھا کردار ادا کریں۔اچھے افراد ہوں گے تو معاشرہ بھی اچھا ہوگا۔ذاتی جھگڑوں سے نکل کر وطن عزیز کی بہتری کے لیے پوری قوت سے کوشش کرنی چاہیے۔آگ آگ سے نہیں بجھائی جاتی،فساد  فساد سے ختم نہیں ہوگا۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Allah kareem ne jo nazriya, jo usool, qawaneen zindagi guzaarne ke hamein ataa farmaiye hain hamaray masail ka hal bhi usi mein hai - 1

دین اسلام کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا بہت بڑی گستاخی ہے


 دین اسلام کے کسی بھی حکم کا مذاق اڑانا یا بطور خوش طبعی محافل میں دہرانا بہت بڑی گستاخی ہے۔ ایسی محافل جہاں دین اسلام کے احکامات میں شکوک و شبہات کو فروغ دیا جا رہا ہویا عقائد کا مذاق اڑایا جائے ان سے دور رہنا چاہیے ایسی جگہیں اللہ کے غضب کا شکار ہوتی ہیں۔یاد رکھیں کہ جن کے دل میں شک پیدا ہو جاتا ہے وہ متذبذب کا شکار ہوتے ہوئے عمل سے دور ہو جاتے ہیں اور ایسے قلوب جو یقین اور کیفیات کی دولت سے مزین ہوتے ہیں وہ یہاں اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی برذخ کا مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ جب بندہ اپنی ضد اور انا پہ ڈٹ جاتا ہے پھر وہ حق دیکھتے ہوئے بھی اس کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔اللہ کے حبیب ﷺ نے حق بیان فرمایا کسی نے مانا اور کسی نے انکار کیا لیکن یہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی حق کا انکار کرنے سے دنیا بھی تباہ ہوتی ہے اور اُخروی زندگی جہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے وہاں بھی گھاٹا ہی رہا اور اللہ کے عذاب کو بھی دعوت دی۔ذاتی ضد اور انا مزید مسائل سے دوچار کرتی ہے۔معاملات زندگی کے کسی بھی حصے کو دیکھیں ہر پہلو سے اللہ کا حکم اختیار کرنے سے استفادہ حاصل ہوتا ہے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ جو قوت سرف کر رہے ہیں کیا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہے۔بنیاد اللہ کریم کا حکم ہے اور ہمارے ذمہ اس حکم کی تعمیل ہے بس یہی بندگی ہے۔نسانی ضروریات و خواہشات کے ہوتے ہوئے انہیں عبور کرکے بندہ اسلام پر ڈٹ جائے۔یہی مسلمانی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Deen Islam ke kisi bhi hukum ka mazaaq urana bohat barri gustaakhi hai - 1

اہل مغرب کی مان کر خالق کائنات کو چھوڑ کر مخلوق سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں اور سودی نظام کو ہم نے اپنے گلے کا ہار بنا لیا ہے


موجودہ ملکی صورتحال میں ہم توانائی کے بحران سے گزر رہے ہیں۔عام آدمی اس کی وجہ سے مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مشکل حالات سے نکلنے کے لیے ہم نے پیاس بجھانے کے لیے جس برتن سے پانی بہہ رہا ہے جس میں کئی سوراخ ہیں اس سے امید لگارکھی ہے ان سوراخوں کو بند کرنے کی ضرورت ہے۔ان حالات میں بظاہر جو نظر آرہا ہے اس میں حقیقت نہ ہے بلکہ اصل حالات کچھ اور ہیں جو کہ ہماری نظر سے پوشیدہ ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع کے آخری روز خواتین و حضرات کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت زنا عام ہے اور نکا ح کو مشکل کر دیا گیا ہے۔حلال روزی کمانا مشکل اور اور چوری ڈاکہ کو آسان کر دیا گیا ہے۔ان اعمال کے بعد ہم اللہ کریم سے کیا امید رکھیں کہ ہم پر خوشحالی آئے یا ہم سکو ن کی زندگی گزاریں گے۔سود کے متعلق اللہ کریم نے فرمادیا ہے کہ اُس کا لین دین کرنے والے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کرے گا۔کیا اس جنگ میں وہ جیت سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت تمام نظام کو اپنے عقل و خرد سے چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حالانکہ اللہ کریم نے ہمیں قرآن کریم عطا فرمایا۔جس میں زندگی گزارنے کا مکمل اسلوب موجود ہے۔ہم اس کے سنہری اصولوں کو اپنا کر ہی خوشحال ہو سکتے ہیں۔امن کی بہاریں آسکتی ہیں اب بھی ہر ایک کی عزت محفوظ ہو سکتی ہے۔بشرطیہ کہ ہم ان اصولوں پر ملک کے نظام کو لے آئیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے عطا فرمائے ہیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع جاری تھا جس میں ملک کے طول و عرض اور بیرون ممالک سے بھی سالکین کی بہت بڑی تعداد نے جن میں خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی شامل تھی  اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائے۔
Ehal-e- maghrib ki maan kar khaaliq kaayenaat ko chore kar makhlooq se umeeden wabasta kar li hain aur soodi nizaam ko hum ne –apne gilaay ka haar bana liya hai - 1

قرآن کریم سے وابستگی باعث برکت ہے


اللہ کریم نے ہمیں عبادات کا سلیقہ عطا فرماتے ہوئے نماز خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے ادا کرنے کا حکم فرمایا۔خانہ کعبہ تجلیات باری کا محور ہے اور اس کراہ ارض کا مرکز بھی ہے۔بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے کا حکم ہوا۔آپ ﷺ نے تعمیل حکم بجا لاتے ہوئے دوران نماز رخ بیت اللہ کی طرف کیا۔اور اللہ کریم نے آپ ﷺ کا آسماں کی طرف دیکھ کر دعا کرنے کے عمل کو شرف قبولیت سے نوازا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا قرآن کریم سے وابستگی باعث برکت ہے۔اسے اپنے پاس اپنے گھر دفتر میں رکھنا،اسے دیکھنا،چھونا،سیکھنا سیکھانا عمل کرنا ہر طرح سے انسان اس کی برکات سے مستفید ہو تا ہے۔اصل مقصد اس کے مطابق زندگی کو ڈھالا جائے کیونکہ یہ زندگی کا نصاب ہے۔جب قرآن کریم ہر پہلو سے راہنمائی فرما رہا ہے تو جس کے لیے راہنمائی ہے اس کے ذمہ نہیں ہے کہ اسے کھولے،اسے سمجھے اس پر عمل پیرا ہو۔ دین اسلام میں خواہشات ذاتی کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ خواہشات ذاتی کو دین کے تحت رکھنے کا حکم ہے انسان کو اللہ کریم نے فطرتی طور پر مل جل کر رہنے والا بنایا ہے۔اگر ہم زندگی قرآن کریم کے تحت گزاریں تو ہماری زندگیاں سہل اور آسان ہو جائیں۔بنیادی طور پر قرآن کریم کی تفسیر اخلاق کریمہ ہیں،حدیث مبارکہ،سنت خیر الانام  ہے۔جس بات کو جس کام کو جیسے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اسی طرح کی جائے گی تو عنداللہ قبول ہو گی۔ہم اپنی پسند یا اپنے علم کے زور سے کوئی نئی راہ دین میں تلاش نہیں کر سکتے دین وہی ہے جو نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمایا صحابہ نے آپ ﷺ کے سامنے اس پر عمل کیا اور آپ ﷺ نے تصدیق فرمائی کہ یہی مراد تھی۔یہی سارا دین اور اس کی عملی تفسیر ہے۔
یادر رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی  3 جولائی بروز اتوار کو دن گیارہ بجے اجتماع کا اختتامی بیان اور اجتماعی دعا فرمائیں گے۔تمام خواتین و حضرات کو اس بابرکت پروگرام میں دعوت عام دی جاتی ہے۔
Quran kareem se wabastagi baais barket hai - 1

ملکی حالات کی بہتری کے لیے ہمیں خوابوں سے نکل کر اپنے حصے کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے


 وطن عزیز میں جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے حصے کا کام نہیں کر تے اور خواب دیکھتے رہتے ہیں۔بندہ مومن کا یہ مقام نہیں کہ وہ خوابوں میں جی رہا ہو اس دنیا میں وقت مقررہ تک رہنا ہے یہ حقیقت ہے۔اللہ کریم نے دین حق عطا فرمایا یہ بھی حقیقت ہے ہم حقیقت کو چھوڑ کر خوابوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔انبیاء ؑ بھی اپنی اولاد کو یہی نصیحت فرماتے رہے کہ ایمان پر قائم رہنا اور اور حق کی سربلندی کے لیے کوشاں رہنا کیونکہ نتائج عمل پر مرتب ہوتے ہیں۔جس حال میں ہم ہیں اُسے دیکھنے کی ضرورت ہے جو غلطی ہو چکی آئندہ نہ ہو۔بحیثیت مسلمان جب مانا کہ وہ وحدہ لاشریک ہے پھر مخلوق سے اپنی توقعات وابستہ کر لینا کہ مجھے فلاں بندہ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے یہ بھی شرک کی ایک قسم ہے۔ دین اسلام تواتر سے ہم تک پہنچا تو ہمیں اس پر ایمان لانا چاہیے اور اس کے احکامات پر من و عن عمل پیرا ہونا چاہیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ایسے خوش بخت بھی اس دنیا سے گزرے ہیں جن کی شہادت اللہ کریم قرآن مجید میں دے رہے ہیں۔اللہ کریم کا احسان کہ نبی کریم ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جس میں ہر سوال کا جواب ہے۔نبی کریم ﷺ کا زمانہ تمام زمانوں میں افضل ترین ہے۔آج ہم اپنے اجداد کی وصیت بھول چکے ہیں جو جہاں جیسا عمل کرے گا اس کا حساب کتاب بھی اسی کے ذمہ ہے۔وقت گزر رہا ہے اور ہمیں اس کا ادراک نہیں ہے یا ہم ماضی پر بات کر رہے ہوتے ہیں یا پھر آنے والے وقت کو پلان کر رہے ہوتے ہیں۔جہاں ہیں جس حال میں ہیں اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Mulki halaat ki behtari ke liye hamein khowaboon se nikal kar –apne hissay ka kirdaar ada karne ki zaroorat hai - 1