Latest Press Releases


حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا لندن سے وطن واپسی پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر فقید المثال استقبال


حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ انگلینڈ کے 15 روزہ روحانی تربیتی دورہ کے بعدآج صبح وطن واپس پہنچ گئے۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر راولپنڈی اسلام آبادکے عہدیداران نے اپنے مربی شیخ کافقید المثال استقبال کیا اور اپنے شیخ کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔
  اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں سراجا منیرا کانفرنسز کا انعقاد انتہائی کامیاب رہا،ان پروگرامز کا مقصد اسوہ رسول ﷺ پر زندگیوں کو ڈھالنا ہے اور اجتماعی سطح سے لے کر انفرادی سطح تک اپنے کردار کو درست سمت پر لانے کی ضرورت ہے۔ہر ملک کے قوانین ہوتے ہیں ہم جہاں بھی ہوں وہاں کے قوانین کا احترام کرتے ہوئے عمل کریں۔
  استقبالیہ میں ملک طارق سیکرٹری فنانس،امجد علی ملک صدر الاخوان اسلام آباد،آصف الرحمان جنرل سیکرٹری،طارق چوہدری،جنید،ملک امجد اعوان سیکرٹری اطلاعات،مولانا بشیر علوی،بشیر بھٹی صاحب،طارق،وقاص بٹ،ڈاکٹر منیب قائم مقام صاحب مجاز ڈی ایچ اے،راجہ مسعود صدر کوٹلی آزادکشمیر،ارشد امین گوندل قائم مقام صاحب مجاز کراچی،نعیم بشیر بھاگٹ مرکزی معاون خصوصی منڈی بہاوالدین کے علاوہ صاحبزادہ شہیداللہ اعوان،صاحبزاد ہ شدید اللہ اعوان اور صاحبزادہ نجیب اللہ اعوان بھی شامل تھے
Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan ka London se watan wapsi par Islamabad airport par Faqid al misaal istaqbaal - 1

عظمتِ مومن یہ ہے کہ وہ اپنے اللہ سے شدید محبت کرتا ہے


 بندہ مومن کا قلب کیفیات کا وہ گھر ہے جس میں محبت اور نفرت دونوں ہوتی ہیں۔عظمتِ مومن یہ ہے کہ وہ اپنے اللہ سے شدید محبت کرتا ہے اور تمام محبتیں اس محبت کے تابع ہوتی ہیں۔قلب کی حیات کا راز بھی اسی محبت میں مضمر ہے۔جب یہ محبت قلب میں جا گزیں ہو تو پھر ہر حال میں بندگی مقدم ہوتی ہے پھر بندے کا قول و فعل اللہ اور اس کے حبیب ﷺ کے حکم سے تجاوز نہیں کرتا۔ان کیفیات کا حصول اس شعبے کے ماہر سے ہی ممکن ہے۔اس کے لیے وہ سینہ چاہیے جو ان کیفیات کا حامل ہوجو قلب اطہر محمد الرسول اللہ ﷺ سے آرہی ہوتی ہیں اور ان کیفیات کو آگے پہنچانے کا فن بھی جانتا ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا گلاسگو برطانیہ میں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ قلب کی اصلاح اللہ کریم سے محبت کی وہ بلندی عطا کرتی ہے کہ بندہ اپنی تمام امیدیں صرف اللہ کریم سے ہی رکھتا ہے اور جیسے کوئی اللہ کریم سے توقع رکھتا ہے اُسے ویسے ہی پائے گا۔جب بندہ ایمان لے آتا ہے پھر تعلق مع اللہ کو ہمیشہ مقدم رکھتا ہے۔ان کیفیات کے لیے صحبت ضروری ہے۔آپ ﷺ کی معیت نے اُن عظیم ہستیوں کو درجہ صحابیت سے سرفراز فرمایااور صحابہ کی خدمت میں حاضر ہونے والے تابعی کہلائے اور تابعین کی خدمت میں آنے والے تبع تابعین کہلائے۔تبع تابعین کی عظمت کو اس بات سے سمجھ لیجیے کہ اگر تمام اہل ایمان ولی اللہ ہوجائیں اور اُن سب کو اکٹھا کیا جائے تو وہ تبع تابعین کے کف پا کو نہیں پا سکتے۔
  دورہ انگلینڈ کے آخری پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ جہاں بھی ہوں وہاں بحیثیت مسلمان کے سفیر ہوں۔اور جس خطے سے آپ کا تعلق ہے جہاں آپ کے آباؤ اجداد دفن ہیں اس کے سفارتکار بنیں اور یہ ذمہ داری ادا کریں۔وطن عزیز کا درد ہمیشہ اپنے اندر رکھیں وہاں ہر چیز ہے لیکن دستیاب نہیں ہے۔اس لیے اپنے کلام و عمل کو مثبت رکھیں اور قانون کی پاسداری جیسے یہاں کرتے ہیں اپنے ملک میں بھی ایسے ہی کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے سب ساتھیوں کی کوششوں کو سراہا اور امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کی خصوصی دعا بھی فرمائی
Azmat momin yeh hai ke woh –apne Allah se shadeed mohabbat karta hai - 1
Azmat momin yeh hai ke woh –apne Allah se shadeed mohabbat karta hai - 2

ہمارے رکوع وسجود کی ادائیگی اور ان کی قبولیت بھی اللہ کریم کی عطا سے ہے


 اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے کا حکم ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب بندہ مومن  نہاں خانہ دل سے لے کر جلد کے ذرے ذرے میں اللہ کی یاد  کومزین کر لے اور یہی ہمیں غفلت سے نکالنے کا واحد علاج بھی ہے۔غفلت بندہ مومن سے اُن حقائق کو پردے کے پیچھے لے جاتی ہے جو اس جہان فانی کی حقیقت کو پس پشت ڈال دیتی ہے۔ شعبہ تصوف کے متعلق یہ غلط العام ہے کہ یہ مسائل، مصائب یا جادو،جنات کا علاج ہے۔یہ سب چیزیں ذیلی اور عمومی ہیں جن کو ہم اصل سمجھ بیٹھے ہیں۔تصوف تو روشنیوں اور ہدایت کے سفر پر گامزن کرتا ہے۔تارک دنیا ہونا بھی درست نہیں۔صوفی دنیا میں رہتے ہوئے جس شعبے میں بھی ہو عام آدمی سے زیادہ کام کرتا ہے اس میں قابلیت بھی عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔
  امیر عبدالقدیرا عوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا بریڈفورڈ (یوکے) دارالعرفان میں اجتماع سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ہمارے رکوع وسجود کی ادائیگی اور ان کی قبولیت بھی اللہ کریم کی عطا سے ہے۔وہ ایسا غفورالرحیم ہے کہ اسے معاف کرنا محبوب ہے اور اس نے اپنی نوری مخلوق کی بھی ذمہ داری لگا دی کہ میرے بندوں کے لیے دعا کرتے رہو۔اللہ کریم کی بہت بڑی عطا ہے کہ ہمیں صاحب ایمان ہونا نصیب ہوا۔ایسی رحمت جسے نصیب ہوتی ہے وہ اپنا سفر اندھیروں سے روشنی کی طرف شروع کر دیتا ہے یعنی کمزوریاں چھوڑتا جاتا ہے اور تقوی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ہماری عبادات اس قابل نہیں یہ سب اس کی رحمت اور عطا سے ہے۔ابھی رمضان المبارک گزرا جس میں بخشش عام فرما دی گئی۔اجراو ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا۔شیاطین قید کر دئیے گئے تھے کیا رمضان المبارک کی عبادات نے ہمیں اس قابل کیا کہ ہمارا سفر اندھیروں سے روشنی کی طرف شروع ہو گیا۔کیا رمضان المبار ک کی برکات سے ہمارے کردار میں تبدیلی آئی۔کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہر کوئی خود کو چیک کر سکتا ہے۔آج وقت ہے ہم اس وقت دارالعمل میں ہے جب یہ کتاب بند ہو جائے گی پھر کسی کے پاس کوئی موقع نہیں ہوگا پھر واپسی نہیں ہے۔اللہ کریم ہمیں مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے مسلم اُمہ کے اتحاد اور غزہ کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Hamaray ruku o Sajud ki adaigi aur un ki qabuliat bhi Allah kareem ki ataa se hai - 1

خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی رحمت باری کا سبب ہوتی ہے


تصوف و سلوک اُن عظیم برکات کے حصول کا نام ہے جو بندہ مومن کے نہاں خانہ دل میں خلوص کی وہ دولت پیدا کرتی ہیں کہ وہ اپنے ہر عمل کو  رب کے روبرو محسوس کرتے ہوئے ادا کرتا ہے۔ اللہ کریم نے تمام مخلوقات کو حضرت انسان کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا انسان وہ مکلف مخلوق ہے جو اس آب وگل کی زندگی کا مرکز و محور ہے جب یہ اپنے مرکز سے ہٹتا ہے تو وہ ترازو جو کہ مساوات اور توازن کا ہے وہ ہل جاتا ہے۔جب تک کوئی شئے اپنے مقام پر رہتی ہے تو اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے آج ہم اپنے ہر عمل لین دین،حصول رزق کے ذرئع،حقوق و فرائض کو خود دیکھ لیں کہ وہ کتنے درست ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا مانچسٹر (یوکے)کے مقامی ہال میں سراجا منیرا کانفرس کے موقع پربڑی تعدادسے خطاب
انہوں نے کہا کہ جدید معاشروں میں قوانین کا اطلاق،امن کا قیام اور ہر شئے کا معیاری ہونا ہر سہولت کا موجود ہونے کے باوجود  خودکشیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اگر غور کریں تو اس کی وجہ نورایمان کی دولت کا نہ ہونا ہے۔نور ایمان وہ قوت ہے جو بے قرار دلوں کو قرار عطا فرماتی ہے۔یہی وہ سکون ہے جو ہر حال میں بندہ مومن کو مطمئن رکھتا ہے۔یہ وہ رشتہ ایمانی ہے جسے اللہ کریم دوست رکھتے ہیں۔خالق کا مخلوق کے ساتھ دوستی کا فرمانا اس مشت غبار پر احسان عظیم ہے۔جس سے بندہ مومن کا ہر عمل سنت خیر الانام کے تحت آ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خشوع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی رحمت باری کا سبب ہوتی ہے جو بے حیائی اور برائی سے روکنے کا سبب ہے۔آج دین مخالف قوتیں پوری کوشش کے ساتھ ہمارے اندرفحاشی اور عریانی سرائیت کر رہی ہیں۔چاہے وہ ٹی وی کی سکرین پر ہو یا موبائل سکرین،انھیں یہ بخوبی علم ہے کہ اس کے دیکھنے سے ان کی عبادات میں کمزوری آتی ہے اور وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نماز کا اہتمام پوری حدود و قیو دسے کریں اور نماز کو ترجمے کے ساتھ یاد کریں کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔
 آخر میں انہوں نے مسلم اُمہ کے اتحاداور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Khashoo o Khazoo ke sath namaz ki adaigi rehmat baari ka sabab hoti hai - 1

معاشرتی زندگی میں توازن اور خوبصورتی دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں سے ہی ممکن ہے


معاشرتی زندگی میں توازن اور خوبصورتی دین اسلام کے بتائے گئے اصولوں سے ہی ممکن ہے۔ مرد اور عورت بقائے انسانی کا سبب ہیں ان کے حقو ق و فرائض اللہ کریم نے متعین فرما دئیے ہیں۔آج بھی اگر کہیں اچھی قدریں کسی معاشرے میں نظر آتی ہیں ایسی اقدار جنہیں سب تسلیم کرتے ہوں، ایسی تمام اقدار کی بنیاد چودہ صدیاں پہلے ارشادات محمد الرسول اللہ ﷺ سے نصیب ہوں گی۔اسوہ حسنہ میں مرد اور عورت دونوں کے لیے تربیت موجود ہے اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کے واقعات سنائیں۔اس میں ایسی برکت ہے کہ اس سے راہنمائی بھی نصیب ہوتی ہے اور نبی کریم ﷺ سے حقیقی محبت ہوتی چلی جاتی ہے۔آج ہم جدت کے نام پر بے حیائی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہیں، رشتوں کا تقدس نہیں رہا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن ہیرو سینٹرل مسجد میں سراجا منیرا کانفرنس میں بڑے اجتماع سے خطاب۔
  فلسطینی مسلمان مرد،عورتیں اور بچوں پر اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلم اُمہ ہمارے اندر اتنی کمزوریاں ہیں کہ ہماری اپنی آواز ہمارے گلے سے باہر نہیں آرہی تو دوسروں تک ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی آواز کیسے پہنچائیں گے۔ہمارے اپنے اندر اتنی تلخیاں آچکی ہیں کہ اگر کوئی ہم سے اتفاق کرنا بھی چاہے تو نہیں کر پاتا۔مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے پہلے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے تب ہی ہم ایسے اقدامات کا سد باب کر سکتے ہیں۔حق پر قائم رہنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں ہمارے لیے بہترین نمونہ موجود ہے۔آ پ ﷺ کے اُمتی کا کردار مثبت ہوتا ہے اوراپنی ذات سے لے کرمعاشرے میں بھی ہر ایک کے لیے بہتری کا سبب ہوتا ہے۔آخرت کا یقین،جزاو سزا کا یقین بندے کو سیدھا کر دیتا ہے۔ 
  ذکر قلبی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کی یاد وہ نسخہ ہے جو ایمان کو اس درجے پر پہنچا دیتی ہے کہ بندہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے۔دیکھ نہیں سکتا پر وہ اپنے اللہ کریم کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔نماز میں بندہ اپنے اللہ کریم سے باتیں کرتا ہے،تلاوت قرآن کریم اللہ کریم کی بات سن رہا ہوتا ہے یہ کیفیات ذکر قلبی سے ہی ممکن ہیں۔زندگی کا وہ انداز اختیار کرنا چاہیے جس کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے فرمائی ہے اور انہی میں ہمارے مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔
آخر میں انہوں نے اُمت مسلمہ کے لیے  اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Masharti zindagi mein tawazun aur khoubsurti deen islam ke betaye gaye usoolon se hi mumkin hai - 1

اُمت مسلمہ کا اتحاد اسلام کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے ہی ممکن ہے


  اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر معاشرے میں بہتری اور مثبت سوچ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ہماری اولادیں ہمارا مستقبل ہیں انہیں معاشرے کی گرد سے تب ہی بچایا جا سکتا ہے جب ہم ان کی تربیت آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کریں گے۔اولاد بہترین صدقہ جاریہ ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا مسجد ہنسلو لندن میں جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ بحیثیت انسان اس دنیا میں آنے کا مقصدصرف اور صرف اللہ کریم کی عبادت ہے جو کہ آپ اپنے ہر عمل چاہے وہ دنیا وی عمل ہی کیوں نہ ہو اگر دین کے مطابق کریں گے تو عبادت بن جائے گا۔اسلام نہ صرف ایک مذہب ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو پر اس کی راہنمائی فرماتا ہے۔دین اسلام پر عمل پیرا ہو کر ہی انسان ایک خوشحال زندگی گزارسکتا ہے اور زندگی کے علاوہ آخرت کی تعمیر بھی انہی اصولوں سے ممکن ہے۔ہم اپنے طور پر نیکی کا معیار مقرر نہیں کر سکتے بلکہ نیکی وہی ہو گی جس کا حکم اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ برطانیہ کے روحانی تربیتی دورہ پر ہیں لندن ائیر پورٹ پر سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران جن میں ملک ضمیر اعوان صاحب مجاز یو کے،ملک ظفر بولٹن امیر سلسلہ عالیہ،چوہدری اشفاق ٹوبہ مانچسٹر،عامر گل امیر سلسلہ عالیہ لندن،حافظ فرحان معراج نائب امیر یوکے،مظہر بھائی سیکرٹری انفارمیشن لندن کے علاوہ دیگر نے بھی حضرت جی کا استقبال کیا اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔حضرت جی برطانیہ کے مختلف شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز میں لیکچر دیں گے ان میں  لندن،برمنگھم،اولدھم،مانچسٹر،شیفلڈبریڈفورڈ،گلاسکو وغیرہ شامل ہیں
Umt Musalmah ka ittehaad islam ke sunehri usoolon par amal pera honay se hi mumkin hai - 1

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ آج اسلام آباد ائیر پورٹ سے روحانی تربیتی دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ

 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ آج اسلام آباد ائیر پورٹ سے روحانی تربیتی دورہ انگلینڈ کے لیے روانہ ہوئے۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر اسلام آباد ڈویژن سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران جن میں قائم مقام صاحب مجاز محمد ارشد صاحب،امجد اعوان سیکرٹری اطلاعات پاکستان،وقاص بٹ صدر تنطیم الاخوان اسلام آبادو دیگر نے حضرت جی کو رخصت کیا۔ان کے علاوہ صاحبزادہ شہید اللہ اعوان،صاحبزادہ شدید اللہ اعوان اور صاحبزادہ نجیب اللہ اعوان بھی روانگی کے وقت ائیر پورٹ پرموجود تھے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ انگلینڈ کے تمام بڑے شہروں میں سالانہ سراجا منیرا کانفرنسز سے خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے خصوصی ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila Naqshbandia Owaisiah aaj Islamabad airport se Rohani tarbiati dora England ke liye rawana - 1

جب قلب میں بیماری ہو پھر سیدھی بات بھی سمجھ نہیں آتی


 ایمان بالغیب میں سب سے بڑا غائب ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔آپ ﷺ پر قرآن کریم کا نزول ہوا اور آپ ﷺ نے کلام ذاتی کو ہم تک پہنچایا۔قرآن کریم کے معنی و مفاہیم وہی لیے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائے صحابہ کی جماعت نے ان پر عمل کیا اور آپ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ اس سے یہی مراد تھی۔آج کوئی اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم بیان کرتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم خالق ہیں اور ہم مخلوق کبھی بھی مخلوق خالق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ہمارا علم محدود ہے اور اس کی ذات لامحدود۔اللہ کریم نے قرآن کریم میں زندگی گزارنے کے اصول ارشاد فرمادئیے ہیں نبی کریم ﷺ نے وہی قوانین ریاست مدینہ پر نافذ کیے۔آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کے جان نثاروں نے ان قوانین کو اپنی زندگیوں پر لاگو کیا۔وہ ہر کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے مطابق کرتے۔فتح مکہ کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام فاتح ہوئے تو انہوں نے مکہ میں نماز قصر ادا کی اور جو گھر جائیدادیں انہوں نے اللہ کے نام پر چھوڑ دیں تو فرمایا اب یہ ہماری نہیں جو چیز اللہ کے نام پر چھوڑ دی اب اس پر ہمارا کوئی حق نہیں اس طرح صحابہ کی جماعت نے نبی کریم ﷺ سے وفا کا حق ادا کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کرے اس رمضان المبارک کی برکات اگلے رمضان المبارک تک ہمارے ساتھ رہیں۔جو کیفیت حضور حق کی ہمیں نصیب تھی وہ اب رمضان المبارک کے بعد بھی ہمارے ساتھ رہے۔ہم ہر کام کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ میرے اللہ کریم مجھے دیکھ رہے ہیں میں اپنے اللہ کریم کے روبرو ہوں میرے اس کام سے وہ ناراض نہ ہوجائیں یہ تقوی کی کیفیت جو ہمیں رمضان المبارک میں نصیب ہوئی ہے وہ ہمارے آنے والے رمضان المبارک تک ہمارے مزاج کا حصہ بن جائے۔
  یاد رہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی رواں ماہ انگلینڈ کے دورہ پر جا رہے ہیں جہاں انگلینڈ کے بڑے بڑے شہروں میں آپ کے سیمینارز میں لیکچرز ہوں گے۔جن میں لندن،برمنگھم،بریڈفورڈ،مانچسٹر،اولدھم،شیفلڈ،گلاسگو وغیرہ شامل ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Jab qalb mein bemari ho phir seedhi baat bhi samajh nahi aati - 1

ایمان ایک کیفیت کا نام ہے۔جب زبان سے کلمہ پڑھے اور اس کا دل اس کا ساتھ نہ دے تو اس کا ایمان کامل نہیں ہے

 دین اسلام میں داخل ہونے ذبردستی نہیں ہے لیکن جب اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا تو پھر اسے تمام احکامات کو پورا کرنا ضروری ہے۔پھر کوئی رعایت نہیں ہے۔کیونکہ ایمہ کرام نے بے نمازی کے لیے سزا کا بہت سخت حکم دیا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آپ ﷺ کے وصال کے بعد منکرین زکوۃ سے جہاد کا حکم فرمایا۔آج ہم بڑے آرام سے نماز کو چھوڑ دیتے ہیں۔اس کرہ ارض پر آسمانوں پر جتنی مخلوقات ہیں سب اللہ کی تسبیح بیان کر رہی ہیں جو اللہ کا ذکر چھوڑتی ہے و ہ فنا ہو جاتی ہے۔انسان وہ مخلوق ہے جسے ایک وقت مقرر تک موقع دیا گیا ہے کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے یہ ذمہ داری انفرادی طور پر جہاں ایک فرد کی ہے وہاں وہ لوگ جو نفاذ کی طاقت رکھتے ہیں ان کے ذمے بھی ہے کہ وہ دینی احکامات کو عملی طور پر نافذ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔کیونکہ روز محشر ہر کسی کو اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔اور وہاں کی جوابدہی بڑی مشکل ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان مرکز دارالعرفان منارہ میں آئے سینکڑوں معتکفین سے خطاب

رمضان المبارک کو الوداع کہنے کی بجائے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیے


  رمضان المبارک ختم نہیں ہو رہا بلکہ مکمل ہو رہا ہے اس رمضان المبارک کی برکات آنے والے رمضان المبارک تک ہمارے دلوں میں رہنی چاہیے۔جس طرح ہم نے رمضان المبارک میں حلال چیزوں کو بھی ایک خاص وقت کے لیے اپنے اوپر حرام کر لیا اسی طرح غیر رمضان میں اپنے آپ کو ایسے کاموں سے روکے رکھیں جن سے اللہ کریم نے رکنے کا حکم فرمایا ہے۔ روز محشر جب مخلوق کا حساب نہیں ہو رہا ہوگا تو اس وقت اللہ کے حکم سے نبی کریم ﷺ اللہ کریم سے سفارش کریں گے اور سجدے میں گر کر وہ کلمات جو اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوں گے پڑھیں گے۔آپ ﷺ کو اللہ کریم نے علوم کے وہ خزانے عطا فرمائے ہیں جن کا احاطہ انسانی بس میں ممکن نہ ہے چہ جائیکہ اس پر بحث کی جائے کہ آپ ﷺ کو کیا اور کتنا عطا ہوا۔ یہ ادب کے خلاف ہے۔کیونکہ ہم تو اپنے وجود سے متعلق بھی کلی طور پر نہیں جانتے ہیں۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ آیت الکرسی کی آیات وہ عظیم آیات ہیں جس میں اللہ کریم کے ذاتی نام سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔لوگ اکثر اس تلاش میں رہتے ہیں کہ انہیں اسم اعظم کہیں سے مل جائے تاکہ وہ جو چاہیں ایسا ہوجائے بندہ کبھی بھی خد انہیں بن سکتا یہ صفت اللہ کی ہے کہ جو چاہے ویسا ہو جائے بندہ جتنی بھی عبادت کر لے بندہ ہی رہتا ہے اور یہ جو خیال کہ اسم اعظم مل جائے تو جو بندہ چاہے ایسا ہو جاتا ہے یہ بلکل درست نہیں بلکہ اگر اسم اعظم مل جائے تو بندہ وہ کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔اس کی اپنی کوئی چاہت نہیں رہتی اس کی چاہت اللہ کی چاہت میں ڈھل جاتی ہے۔اور اللہ کا ذاتی نام ہی اسم اعظم ہے اللہ کے ذاتی نام سے بڑھ کر اور کون سا نام ہو سکتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سینکڑوں اللہ کے بندے اجتماعی اعتکاف بیٹھے ہوئے ہیں جو ملک کے طول و عرض سے تشریف لائے۔ان کو باقاعدہ ایک تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے جس میں تہجد سے لے کر رات گیارہ بجے تک کے معمولات شامل ہیں جن میں ذکر اذکار،تلاوت،فقہی کلاسز،روحانی تربیتی کلاسز وغیرہ شامل ہیں۔روزانہ دن بارہ بجے شیخ المکرم حضرت جی مد ظلہ العالی خطاب فرماتے ہیں اور اجتماعی دعا بھی ہوتی ہے
Ramadaan al mubarak ko ’alvidah’ kehnay ki bajaye usay apni zindagi ka hissa banayiyae - 1