Ghazwa Badar by Qasim-e-Fayuzat Hazrat Ameer Muhammad Akram Awan (RA)

Ghazwa Badar

Munara, Chakwal, Pakistan
11-05-2020

Ghazwa Badar by Qasim-e-Fayuzat Hazrat Ameer Muhammad Akram Awan (RA) - Feature Article

حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں سب سے پہلا جہاد غزوہ بدر ہے۔سورۃ الانفال آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کریم نے جس طرح آپ ﷺ کو اپنے گھر سے غزوہ بدر کے لیے نکالاوہ عین انصاف تھا۔اس سے پہلے کہ قاتل تیاری کر کے، مال اسباب لے کر،مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو قتل عام کرنے چڑھ دوڑیں، ان کو روکا جائے۔اس سبب کو روکنا عین انصاف تھا،عین حق تھا۔سو فرمایا جس طرح آپﷺ کے پروردگار نے، آپ ﷺ کو، آپ کے گھر سے، حق کی تدبیر کے ساتھ، انصاف کو زندہ رکھنے کے لیے، مظلوموں کی حفاظت کے لیے، ظالموں کی قوت توڑنے کے لیے، آپ کے دولت کدے سے نکالا اور(الانفال:5)مومنوں کی ایک جماعت ایسی تھی جو اسے گراں سمجھتی تھی، انہیں یہ پسند نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے نبی ﷺ سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کو لے کر اہل مکہ کے مقابلے میں چلے گئے تو وہ ایک بڑا لشکر لے آئیں گے۔جو مسلح بھی ہو گا،وہ لوگ جنگجو بھی ہوں گے، ان کی تعداد بھی زیادہ ہو گی۔ ایسا نہ ہو کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی کو نقصان پہنچ جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ مشن محمدیﷺ کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے کائنات کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔ یہ مشن یہیں ٹھپ ہوجائے گا۔اور اس کی تائید نبی کریم ﷺ نے خودبدر میں دعا فرماتے ہوئے فرمائی۔فرمایا،یااللہ اگر یہ لوگ آج یہاں مارے گئے تو قیامت تک کوئی تیرا نام لینے والا نہیں ہوگا او کما قال رسول اللہ ﷺ۔حضور ﷺ نے دعا میں فرمایا کہ اے اللہ میں سارے کا سارا اسلام لے آیا ہوں اور اگر یہ لوگ یہاں کھیت رہے تو پھر قیامت تک دنیا میں تیرا کوئی نام لیوا نہیں ہو گا۔ زبان حق جب صحابہ کرامؓ  کو سارے کا سارا اسلام کہہ رہی ہے تو پھر کسی کی رائے کو کوئی اہمیت ہے؟کسی کے کچھ کہنے کی گنجائش ہے؟حتیٰ کہ(الانفال 6) ان صحابہ کرام ؓ نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارا اہل مکہ کے مقابلے میں کھلے میدان میں جانا کھلی آنکھوں موت میں جانے کے مترداف ہے تو حضور اکرم ﷺ سے وہ عرض کرتے تھے کہ اے حبیب کبریا ﷺیہ خطرہ مول نہ لیا جائے۔ آپ ﷺ تشریف نہ لے جائیں۔ یہ تو کسی نے نہیں کہا کہ آپ جائیں گے تو میں گھر بیٹھوں گا۔ بلکہ کچھ ایسے بچے بھی شامل تھے جن میں دو بدر میں شہید بھی ہوئے۔ایک غازی بنا۔ جس بچے کو حضور ﷺ نے فرمایا تمہاری ابھی مسیں بھی نہیں بھیگیں، تمہاری عمر کم ہے۔ تمہیں جنگ کی اجازت نہیں دیتا تو وہ رو پڑاا ور اتنے دردناک طریقے سے رویا کہ حضور ﷺ نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے، تمہیں اجازت ہے،آ جاؤ۔دوسرا آیا،آپ نے منع فرمایا۔ اس نے بڑا اصرار کیا، بڑی منتیں کیں۔اللہ کے رسول ﷺ مجھ پر کرم فرمائیں۔ اس کے والد نے اسے روکا، اس نے والد سے کہا کہ ابا جان! آپ مجھے جنت میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ کیوں مجھے جنت کے راستے سے روکتے ہیں؟ حضور ﷺ نے اسے بھی اجازت دے دی۔ جب تیسرا آیا تو وہ ان دونوں سے ذرا کمزور تھا۔ اس نے بھی اصرار کیاتو حضور ﷺ نے اسے اجازت نہیں دی۔اس نے عرض کی یا رسول للہ ﷺ یہ،جسے آپ نے اجازت د ی ہے، میں اسے کشتی میں بچھاڑسکتاہوں۔ میں اس سے تکڑا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا،اچھا کُشتی کرو۔ جب وہ کُشتی کرنے لگے تواس نے اس کے کان میں کہا، میں جانتا ہوں تو مجھ سے تکڑا ہے لیکن مجھے گرانا نہیں، مجھ سے گر جانا کہ مجھے بھی جہاد پرجانے کی اجازت مل جائے۔ یعنی ذوق شہاد ت کا یہ عالم تھا کہ بچے، نو عمر،جوان سب ایک دوسرے سے بڑھ کر حصہ لینے کے خواہش مند تھے اور پھر انہی دو بچوں نے ابو جہل کو قتل کیا۔ان میں سے ایک خود بھی شہید ہوگیا، دوسرا غازی بنا۔ یہی ابوجہل کے قاتل تھے۔میدان بدر میں انہوں نے ایک صحابیؓ سے پوچھا چچا جان ابو جہل کون ہے؟ سنا ہے وہ نبی کریمﷺ کی توہین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا بھتیجو تم ابوجہل کو جان کر کیا کرو گے؟ کہنے لگے ہم مقابلہ کریں گے، دیکھیں گے کہاں تک جاتا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں، میں حیران ہو گیا۔ یہ نو عمر بچے ہیں۔ بارہ،چودہ،پندرہ،پندرہ سال کے کیا کریں گے؟ ابوجہل ایک شاطر جنگجو،پرانا جرنیل ہے۔ ابو جہل گھوڑے پہ نظر آیا تو میں نے انہیں دکھایا کہ و ہ ابو جہل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ باز کی طرح اس پر جھپٹے اس سے لڑے، ان میں سے ایک شہید ہوگیا۔ لیکن ان دونوں نے اسے مار گرایا۔ 


  عریش بدر وہ مقام ہے، جہاں عارضی سا سایہ بنا دیا گیا تھاوہاں حضور ﷺ نے دعا فرمائی تھی۔ آج اس مقام پر مسجد بنا دی گئی ہے۔ وہاں آپﷺ دعا فرما رہے تھے حتیٰ کہ دوش مبارک سے ایک طرف سے چادر مبارک گر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ خدمت عالی میں حاضر تھے۔ آپ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ بس کیجئے اللہ نے آپ کی دعا سن لی ہے،آپ اس قدر الحاح و زاری نہ کریں،اب بس کردیں (الانفال: 9)جب آپ ﷺ اپنے پروردگار سے دعا فرما رہے تھے۔ اس نے آپ کی دعا قبول فرما لی۔ دعا مومن کا بہت بڑا ہتھیار ہے اور ہرکام کے لئے دعا کرنی چاہئے لیکن ایک بات یاد رکھیں صرف دعا سے کام نہیں ہوتا۔ دعا کرنے کا طریقہ وہ ہے جو نبی کریم ﷺنے بتا دیا کہ جو تین سو تیرہ خدام میسر تھے انہیں لیا،سواری کے جو اسباب میسر تھے وہ لئے، جتنا اسلحہ میسر تھا وہ لیا، 150 کلومیٹر مدینہ سے چل کر مقام بدر میں تشریف لائے، وہاں اعلیٰ مقام منتخب کیا،پانی کے چشمہ پر قبضہ فرمایا پھر بدر کے دن ان 313 کو صف آرا کیا۔ حضور ﷺ کے دست اقدس میں چھڑی تھی جس سے آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے پوری صف بندی خود حضورﷺ نے کرائی۔سارے اسباب مکمل کر کے عریش بدر میں تشریف لے گئے کہ اللہ کی مدد سے کام ہوگا،دعاسے ہوگا تو دعاکا مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ کام کرنا چھوڑ دے اور بیٹھا دعا کرتا رہے۔ یہی طریقہ حضور ﷺ نے تعلیم فرمایا عریش بدر میں جب آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔اللہ نے فرمایا میں نے قبول کرلی (الانفال 9)فرمایا اب میں آپ کے لیے اورآپ کے خدام کے لیے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں،جو صف در صف ایک دوسرے کے پیچھے چلے آتے ہیں،صف در صف۔چار چار،پانچ پانچ کی ٹولیاں بنا کر جس طرح فوجی آگے پیچھے چلتے ہیں اسے فوجی زبان میں (Formation) کہتے ہیں۔بارالہٰا!فرشتے تو تیری وہ مخلوق ہے، ایک ایک فرشتے نے زمین کے تختے الٹ دئیے۔ ایک ایک فرشتے نے قوموں کی قوموں کو تباہ کردیا۔ ایک ایک فرشتے نے پہاڑوں کو اُلٹ دیا تو یہاں ایک ہزار فرشتے کیا کریں گے؟ فرمایا میں جب عذاب بھیجتا ہوں تو ایک فرشتے کوبھی حکم دوں تو وہ ان کے لیے کافی ہے لیکن یہ تو میرا نبی ﷺ دعا مانگ رہا ہے، مانگنے والے کا مقام بھی تو دیکھو،کام ایک فرشتہ بھی کرسکتاہے۔لیکن عظمت نبوت یہ ہے کہ ایک ہزار بھیجے پھر تین ہزار اور بھیجیں گے کہ جوہاتھ مبارک دعا کے لیے اٹھے ہیں ان کی عظمت کے لیے،ان کی شان بتانے کے لئے، ان کا مقام بتانے کے لئے میں نے ایک ہزار فرشتہ بھیج دیا۔ (الانفال:10) اوریہ نزول ملائکہ، آپ کے لئے فرشتوں کا آنا ہی جیت کی ضمانت ہو گئی، فتح کی ضمانت ہو گئی تا کہ ان سے تمہارے دل قرار پکڑیں۔ اصل جو بات ہے ایمان اور اسلام کی، وہ یہ یقین ہے کہ دل اس بات پر جم جائیں، قرار پکڑجائیں۔تمام عبادات خواہ صلوٰۃ ہو یا تسبیح،روزہ،زکوٰۃ ہو یا حج وجہاد یہ سب اوصاف ملکوتی پیدا کرتے ہیں یعنی فرشتوں جیسی اوصاف اورجب کوئی عبادت کرے اورفرشتے اس کے پاس آئیں تو فرشتوں کا پاس آنا،اطمینان قلب اور سکون قلب کا باعث ہے اور ایمان کی زیادتی کا سبب بنتا ہے۔ فرمایا فرشتوں کا نزول محض کفار کے قتل کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے سکینہ اور رحمت کے نزول کا سبب بھی ہے اور بے شک اللہ کریم ہی غالب اور حکمت والے ہیں۔


دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ آسمانوں سے پانی اتار دیا،بارش برسادی چونکہ چشمے کا پانی اتنا نہیں تھا کہ سارے لوگ یا کچھ لوگ غسل بھی کرسکیں اور آرام سے وضوکرسکیں۔پانی تھوڑا تھا، پینے کے استعمال کرنے کے لئے تھا۔اللہ کریم نے بارش بھیج دی۔اس سے دو بڑے کام ہوئے ایک تو جو جگہ مشرکین مکہ کے پاس تھی وہ مٹی والی زمین تھی اس میں کیچڑ ہوگیا اور دلدل بن گئی۔ جہاں لشکر اسلام مقیم تھا وہاں چونکہ ریت تھی وہ بارش سے جم گئی اورمزید مضبوط ہو گئی پھروہ نچلی جگہ تھی، ڈھلان تھی پانی سے بھر گئی۔ جنہوں نے غسل کرنا تھا، انہوں نے غسل کیا،جو وضو کرنا چاہتے تھے، انہوں نے وضو کیا۔اپنے حبیب ﷺ کو میدان کارزار میں لے آیایہ وہ خوش نصیب تھے جن کے قلوب سے اللہ کریم نے ذاتی طور پر رابطہ فرمایا اور ان کے قدموں کو جمایا پھر ان کی خاطر فرشتے نازل فرمائے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں میری معیت تمہارے ساتھ ہے، میری طاقت تمہارے ساتھ ہے، مومنین کے قلوب پرایسے انوارت القاء کرو کہ ان کے قدم جم جائیں کبھی نہ اکھڑیں۔رہ گئے مشرکین تو اللہ نے فرمایا میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا، مسلمانوں کی ہیبت ان پر طاری کر دوں گا،وہ جو بڑے فخر اور تکبر ایک ہزار کا لشکر جرار جس میں بڑے بڑے جنگجونوجوان تجربہ کاراور پرانے جرنیل اور سالار شامل تھے ان کا سارا گھمنڈ خاک میں مل جائے گا اور اللہ کریم فرماتے ہیں میں ان کے دلوں پر مسلمانوں کا رعب طاری کردوں گا۔ (الانفال:12)اور فرمایا ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ کفار کے سر اس طرح قلم کروکہ تلوار تو گردن پرپڑے، سر کٹ جائے لیکن اس کے جسموں کے پورپور سے،ہر جوڑ سے، ہر ہڈی سے درد کی ٹیسیں نکلیں۔نبی کریم ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے صحابہ کرام ؓ  کو فتح کی خوشخبری بھی دی تھی اور حضور ﷺ نے میدان جنگ میں مختلف جگہوں کی نشاندہی فرماکر مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سرداروں کے قتل ہونے کی پیش گوئی فرمائی کہ وہ فلاں یہاں قتل ہوگا،فلاں یہاں قتل ہوگا، فلاں اس جگہ قتل ہوگا اور غزوہ بدر کی فتح کے بعد دیکھا گیا کہ جہاں جہاں حضوراکرم ﷺ نے جن لوگوں کے لیے نشاندہی فرمائی تھی، ان کے لاشے وہیں پڑے تھے، اسی جگہ پر قتل ہوئے۔ تو یہ صرف قتل نہ ہوئے بلکہ اس قتل میں عذاب الہٰی کی ایک کیفیت ایسی تھی کہ تلوار تو گردن پرپڑتی تھی، سر اڑ جاتا تھا لیکن درد جسم کے پورپورمیں ہوتا تھا،ہرجگہ،ہرہڈی،ہرریشے میں الگ سے درد کی ٹیسیں اٹھتی تھیں۔


ان کے ساتھ اتنا سخت اور اتنا شدید عذاب کا سلوک کیوں ہوا؟ ان پر اتنا در دناک عذاب کیوں وراد ہوا؟ مشرکین مکہ اسلام کے خلاف ایک بہت بڑا محاذ تھے اور عرب کے اردگرد کے قبائل اس انتظار میں تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر حضور اکرم ﷺواقعی اللہ کے رسول ہیں تب ہی مکے والوں پر فتح پا سکیں گے، ورنہ مکے والے اتنے مضبوط ہیں کہ اگر معا ذاللہ حضور ﷺ کا دعویٰ سچا نہیں ہے تو پھر یہ اور ان کے ساتھی مکے والوں کے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتے۔ یہ ایک تصو رتھا،جزیرہ نمائے عرب کے باقی سارے قبائل میں اوروہ اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے؟ اگر مکے والے غالب آتے ہیں تو قصہ ختم ہوگیااور اگر حضور ﷺمکے والوں پر غالب آ جاتے ہیں تو پھر اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں ہو سکتا، ہمیں بھی اسلام قبول کر لینا چاہیے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ہمیں بھی ایمان لے آنا چاہیے۔ ان قبائل کا اندازہ تو یہ تھا کہ اگر ہم پلہ بھی ہوں تو اگرمکے سے ہزار آدمی نکلا ہے توحضور ﷺ کے ساتھ بھی ہزار آدمی یا بارہ سو یا ان سے زیادہ بھی ہوں تو پھر بھی مکے والے بڑے ماہر جنگجو، بڑے دلیر،بڑے جرأت مند اور فن شمشیر زنی میں بڑے تاک ہیں اور ان کا ہرانا ممکن نہ ہوگا۔ لیکن اللہ کریم ساری کائنات کودکھلانا چاہتے تھے کہ حق حق ہوتا ہے اور حق غالب آ کے رہتا ہے اور باطل باطل ہوتا ہے، مٹ جانا باطل کا مقدر ہوتا ہے۔

Silsila Naqshbandia Owaisiah, Awaisiah Naqshbandia, Lataif, Rohani Tarbiyat, Zikr Qalbi, Allah se talluq, Dalael us Salook