Aitikaaf by Qasim-e-Fayuzat Hazrat Ameer Muhammad Akram Awan (RA)

Aitikaaf

Munara, Chakwal, Pakistan
14-05-2020

Aitikaaf by Qasim-e-Fayuzat Hazrat Ameer Muhammad Akram Awan (RA) - Feature Article

اعتکاف کیا ہے؟اعتکاف ہے کہ رمضان المبارک میں اوصاف ملکوتی کے حصول کے لئے جو محنت کی جارہی ہے اس پر مزید اضافہ کیا جائے مزید اضافہ کیا ہے؟ گھر سے نکل آئے،کاروبار سے لاتعلق ہو گئے،بیویوں سے الگ ہو گئے،اولادکے مسائل اگر رکھ دئیے، تن تنہا ایک جان لے کر اللہ کے گھر میں مقیم ہو گئے، اعتکاف کے نویادس دنوں کے لئے سوائے اللہ سے باتیں کرنے کے اور کوئی کام نہیں اب اعتکاف میں بھی بہت سی رسومات آ گئی ہیں پردے لگا دو،ایک بندے کو بند کردواگر پانی بھی مانگنا ہو تو چٹ لکھ کرمانگے یہ ساری رسومات ہیں ضروری بات نہ کرنا بھی مکرو ہ ہے۔


  ہرکام کو اس کے کرنے کے ضابطے کے مطابق اورپورے خلوص سے کیا جانا چاہیے۔ یہ دونوں باتیں مکمل ہوں خلوص نیت بھی ہو،خلوص قلبی بھی ہو پوری توجہ سے کرے اور سارے طریقے،سلیقے اور احکام کی پابندی بھی کرے اس کے بعد بھی ثمرات اللہ جل شانہٗ کی مرضی پر ہیں کس کو کتنا دیتا ہے؟ قبول فرماتا ہے یا نہیں چونکہ اللہ محتاج نہیں ہے ہم محتاج ہیں ہمیں غلط فہمی یہ ہوجاتی ہے کہ جب ہم نے خانہ پُری کردی تو کام ہوگیا یہ کام خانہ پری سے نہیں ہوتا مثلاً اعتکاف کی سعادت نصیب ہوئی یہ بہت بڑا اللہ کاا حسان ہے مسلمانوں کی کتنی ایسی تعداد ہے کہ جنہیں صلوٰۃ خمسہ بھی نصیب نہیں خود رمضان شریف میں چوریاں کرتے پھرتے ہیں ڈاکے مارتے پھرتے ہیں قتل و غارت گری کرتے پھرتے ہیں آخر کہلانے کوتووہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اللہ کی کتنی مخلوق ایسی ہے جنہیں عبادت تو نصیب ہے مگر اعتکاف نصیب نہیں ہواگنتی کے چندلوگوں کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے اب یہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اسے خانہ پوری میں ڈالنا چاہتے ہیں اپنی نیکی اور اپنی پارسائی کا اشتہار بنانا چاہتے ہیں یا اس کے مقصد کو پانا چاہتے ہیں اس کا مقصد تو یہ ہے کہ اعتکاف کے جو لمحات ہیں وہ سوائے اللہ کے کسی سے کوئی رابطہ نہ رہے یعنی رمضان اس لئے ہے کہ اوصاف ملکوتی پیدا ہوں اور رمضان میں پھر مزید اعتکاف   وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ فِی الْمَسٰجِد (البقرہ: 187) اس آیہ کریمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرد کا اعتکاف مسجد میں ہوتا ہے،اعتکاف کے لئے مسجد میں بیٹھنا پڑتا ہے ذکر اذکار اور ذکر قلبی اوصاف ملکوتی کے حصول کا سب سے بڑا سبب ہے اگر آپ کو اللہ نے یہ نصیب فرمایا تو اوصاف ملکوتی کا تقاضا یہ ہے وحی الہٰی کا اتباع کیا جائے پھر آپ وہ کریں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺنے کرنے کا حکم دیا ہے معتکف گویا ہر لحظہ بارگاہ الوہیت میں حاضر ہے ہر بندہ ہر آن اللہ کے روبرو ہے لیکن وہ اللہ کی طرف سے ہے بندہ تو بے خبر ہوتا ہے اپنے کاروبار میں مگن ہوتا ہے اسے تو اللہ یاد ہی نہیں ہوتا وہی چیزیں اس کے پیش نظر ہوتی ہیں جو اس کے دل اوردماغ میں ہوتی ہیں ذات باری کاتو تصور بھی نہیں ہوتا لیکن اللہ تو تب بھی ساتھ ہوتا ہے اللہ تو ہر قت ہر جگہ موجود ہے یہ سارا کچھ چھوڑ چھاڑ کر سب سے نکل کرایک ایسا وقت مختص کر لینا یوں تو جب بھی مسجد میں بیٹھنے کی فرصت ملے اعتکاف کی نیت کی جاسکتی ہے اس کے لئے رمضان ہی ضروری نہیں ہے غیر رمضان میں بھی کی جاسکتی ہے نفل اعتکاف کے لئے وقت کی کوئی قید نہیں جتنا وقت کسی کے پاس ہو اتنے وقت کے لئے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں رک سکتا ہے جب کہ سنت اعتکاف بیس رمضان المبارک کی افطار سے شروع ہوتا ہے اور شوال کے چاند نظر آنے پر ختم ہوتا ہے اعتکاف سنت ہو یا نفل دونوں کا مقصد متوجہ الی اللہ ہونا ہے لیکن رمضان المبارک اوراس کا آخری عشرہ جس کی بے شمار فضیلتیں اور جس میں لیلۃ القد جیسی نعمتیں اور سنت محمد رسول اللہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ اعتکاف فرماتے تھے اور جبرائیل امین کے ساتھ قرآن حکیم کا دورہ فرمایاکرتے سب سے زیادہ مصروفیت اعتکاف میں جو رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی وہ قرآن حکیم کا دور ہوتاتو معتکف کو چاہئے کہ قرآن پڑھے قرآن پڑھائے قرآن سمجھے قرآن سمجھائے قرآن بیان کرے زیادہ بہتر یہ ہے کہ دینی باتیں کرے دینی مسائل بیان کریں جو علماء تشریف رکھتے ہیں وہ مسائل بتائیں تعلیم و تعلم،دین کی بات،اللہ کی بات، حضور ﷺ کی بات کرنا ہی مقصد ہے کہ اس کے کرنے سے اعتکاف میں مزید چمک اور نورانیت آتی ہے انوارات وتجلیات آتے ہیں ضرورت سے مثلاً وضو کرنے کے لئے یا رفع حاجت سے باہرجاتا ہے تو راستے میں کسی سے غیر ضروری بات نہ کرے کسی سے ملنے نہ لگ جائے کسی سے گپ شپ لگانے نہ لگ جائے ناک کی سیدھ میں جائے ناک کی سیدھ میں واپس آ جائے وضو کرنے بیٹھے تو وضو کی تسبیحات پڑھتا رہے آتے جاتے ہوئے درود شریف پڑھتا رہے تسبیح و تمحید کرتا رہے اپنی توجہ اللہ ہی کی طرف رکھے دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے مرنے والے مرتے رہتے ہیں پیدا ہونے والے پیدا ہوتے رہتے ہیں جہاں بارش ہونی ہے ہوتی ہے جہاں دھوپ ہونی ہے ہوتی ہے جس درخت کو گرنا ہے وہ گرتا ہے جس پہ پھل لگنا ہے وہ لگتا ہے دنیا کا نظام نہیں رکتا معتکف کو خود کو اس سے الگ کرنا پڑے گا جو ہوتا ہے ہوتا رہے اور اگر اتنا حوصلہ نہیں تو اعتکاف نہ کرے فرض تو نہیں ہے سنت ہے اگر اعتکاف کرنا ہے تو پھر اس کی ساری شرائط پوری کرے اعتکاف سے غرض یہ ہے کہ آدمی اموردنیا سے لاتعلق ہو کراور کلی طور پر یکسو ہو کر متوجہ الی اللہ ہو جائے ان مخصوص دنوں میں دنیا کے جھمیلوں اوردنیاوی فکروں سے آزاد ہوجائے فلاں کام کا کیاہو گا؟فلاں جگہ کیا ہو رہا ہو؟ کون کہاں ہے؟ کوئی ہے یا نہیں؟کوئی بڑا ہے یاچھوٹا؟ کوئی کیا کر رہا ہے کیا نہیں؟ یہ چیزیں ذہن سے نکال کر اللہ کی طرف دھیان لگالے اللہ کی بات اللہ کے حبیب ﷺ کی بات سارا دن کرتے رہیں اس لئے کہ دین کی باتیں متوجہ الی اللہ کرنے میں معاون ہوتی ہیں توجہ الی اللہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتیں رکاوٹ نہیں بنتیں لیکن دنیا کی بات دنیا کی طرف متوجہ کرتی ہے اور جو توجہ ذات باری کی طرف ہے اسے کم کرتی ہے لہٰذا نقصان دہ ہے مسجد میں دنیووی باتیں کرنا، کاروبار کے بھاؤ یا نرخ پوچھنا،خرید وفرخت کرنا، گپ شپ لگانا،تفریح طبع کے لئے باتیں کرنا، موبائیل پر گپیں ہانکنا بلکہ اعتکاف میں موبائیل فون ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ مسجد سے با ہر ہونا چاہیے یہ ساری چیزیں مسجد میں ویسے ہی حرام ہیں مسجد ایک مخصوص جگہ ہے جہاں صرف اللہ کریم کی بارگاہ میں گزارشات پیش کی جاتی ہیں اور اعتکاف میں یہ پابندی مزید تاکید کے ساتھ بڑھ جاتی ہے اور کوشش کی جانی چاہیے کہ عملاً اور ذہنی طور پر افکار دنیا سے جدا ہو کر متوجہ الی اللہ رہا جائے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کرنی چاہیے آگے اللہ کی مرضی کہ وہ کس کی مزدوری پہ کتنی اجرت عطا فرماتا ہے؟ کون سے درخت پہ کتنا پھل دیتا ہے؟ثمرات ہمیشہ من جانب اللہ ہوتے ہیں پھل اللہ کی طرف سے لگائے جاتے ہیں مجاہدہ او ر محنت یہ بندے کے ذمے ہے رمضان مجاہدہ استراری ہے حکماً کرنا پڑتا ہے لیکن اس میں اعتکاف پھر اختیاری ہے اگر کوئی نہیں کرنا چاہتا تو فرض نہیں ہے اختیاری بھی تب تک اختیاری ہوتا ہے جب تک آپ وہ اختیار نہیں کر لیتے ہیں جب آپ اختیار کر چکے تو پھر فرض ہی کی طرح اس کی پابندی ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اعتکاف اگر ٹوٹ جائے تو قضا لازم آئے گی۔


اعتکاف کا مقصد محض ظاہری طور پر قید ہونا نہیں ہے اصل مقصد یہ ہے کہ دل کو غیر اللہ سے خالی کیا جائے اگراعتکاف میں ظاہری طور پر زبان بند ہولیکن دل امور دنیا میں ہی گردش کرتا رہے آدمی کے ذہن کو وہی فکریں اور سوچیں رہیں تو فائدہ نہ ہو گاچونکہ مقصود یہ ہے کہ دس دن متوجہ اللہ ہو کر وہ قوت حاصل کرے کہ جب واپس امور دنیا میں جائے تو دنیا کے تمام کام کرے لیکن دل اللہ کی طرف متوجہ رہے معتکف جہان سے کٹ کر صرف اللہ کی طرف متوجہ رہے دن ہو یا رات،گرمی ہو یا سردی،جب تک اس کا اعتکاف مکمل نہیں ہوتااس لئے کہ روئے زمین پر ایک وہ ہے اور ایک اللہ کی ذات کوئی تیسرا بندہ نہیں ہے نہ کسی کو سوچے، نہ کسی کی فکر کرے نہ کسی سے بات کرے تاکہ اللہ کریم وہ کیفیات وہ یقین اور وہ نور یقین عطا فرمائے ہم نے صرف دن یا ٹوٹل تو پورا نہیں کیامقصد کوئی محض قید گزارنا تو نہیں ہے اپنے اوپر خواہ مخواہ کی تنگی اور پابندی لگانا تو مقصد نہیں ہے مقصد تو وہ نور یقین ہے کہ ہم اللہ کو روبرو پا سکیں جیسا حدیث احسان میں ارشاد ہواکہ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ جرأت تم میں پیدا نہ ہو کہ میں اپنے اللہ کو دیکھ رہا ہوں تو یہ یقین تو کم از کم پیدا کر لو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے حق تو یہ ہے کہ یہ کیفیت پیدا ہو جائے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں محض سر نہیں پٹک رہا اس کے رو برو رکوع کر رہا ہوں ہر سجدہ اس کی بارگاہ میں اس کے سامنے ہے نہ صرف عبادات میں بلکہ عملی زندگی میں اُس جمال جہاں تاب کو اپنے ساتھ لے جائے۔ 


اب دیکھنا یہ ہے کہ دل میں کتنی کیفیات بدلیں؟ کتنی لذتِ عبادت بڑھی نافرمانی سے کتنا اجتناب کرنے کی توفیق ہوئی اور یاد رکھیں اطاعت احکام کی پیروی میں اپنی طرف سے چیزیں گھڑ کے اس پر قائم ہونا کسی نیکی کا سبب نہیں بنتا بلکہ ا للہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے اور کریم اپنی ناراضگی سے پناہ میں رکھے ہمارے گناہوں سے درگزر فرمائے ہماری خطائیں معاف فرمائے اورہمیں نیکی کی توفیق عطا کرے نیکوں کو ساتھ دے نیکی پہ موت دے اور نیک بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمین!  


 

Silsila Naqshbandia Owaisiah, Awaisiah Naqshbandia, Lataif, Rohani Tarbiyat, Zikr Qalbi, Allah se talluq, Dalael us Salook