Featured Events


ذکر الٰہی کی اہمیت

ذاکرین خوش نصیب لوگ
فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ   (الْبَقَرَۃ: 152)
ترجمہ: پس تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا
 
فرمایا! تم میرا ذکر کرو، تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔ یہ نہیں کہا کہ تم میری نماز پڑھو، میں تمہاری نماز پڑھوں گا، تم میرے لیے روزہ رکھو،میں تمہارے لیے روزہ رکھوں گا۔ یہ ضرور فرمایا کہ تم میرا ذکر کرو، تم مجھے یاد کرو، تمہاری یاد نیاز مندی کے لیے ہوگی، میں تمہیں یاد کروں گا تو میری یاد عطا کے لیے ہوگی۔ تمہارا یاد کرنا لینے کے لیے ہوگا، میرا یاد کرنا دینے کے لیے ہو گا۔ قرآن کریم میں ذکر الٰہی کے صلہ میں ایک ایسی نعمت کا وعدہ کیا گیا ہے جس سے بڑی نعمت مومن کے لئے اور کوئی نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ یہ وعدہ صرف ذکر الٰہی کے ساتھ مختص ہے اور ظاہر ہے جسے اللہ یاد کرے اس سے زیادہ خوش نصیب کون ہو سکتا ہے۔

 ذکر الٰہی، دلوں کی پالش

 لِکُلِّ شَیْءٍ صَقَالَۃٌ وَصِقَالَۃُ الْقُلُوبِ ذِکْرُ اللّٰہِ  (رواہ البیھقی)
ترجمہ: ہر چیز کے لئے ایک صفائی کرنے والی چیز ہوتی ہے، جبکہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے۔
 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کو زنگ لگتا ہے، دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور ہر چیز کا زنگ اتارنے کے لیے کوئی نہ کوئی علاج ہوتا ہے۔ دلوں کا زنگ اتارنے کے لیے ایک ہی دوا ہے اور وہ ذکر اللہ ہے۔ ذکر الٰہی دل کی دوا بھی ہے، غذا بھی ہے اور حیات بھی۔ ہر عبادت کا اپنا مقام ہے اور ذکر اللہ ہر عبادت کی روح ہے۔ ذکر اللہ ہرعبادت میں اخلاص پیدا کرتا ہے، اسے قبولیت کے قابل بناتا ہے۔

 ذکر الٰہی، اصلاح قلب کی بنیاد

 ذکر الٰہی جب دل کی دھڑکن بنتا ہے، خون کا حصہ بنتا ہے تو سارا بدن خود بخود اصلاح کی طرف چل پڑتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا کہ بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے  اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہ اور جب یہ سدھر جا ئے تو سارے جسم کو سدھار دیتا ہے وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ بگڑ جائے تو سارے بدن کو بگاڑ دیتا ہے اَلا وَھِیَ الْقَلْبُ  غور سے سن لو، یہ قلب ہے۔ (صحیح بخاری)

 ذکر الٰہی اصلاح قلب کی بنیاد ہے، تخم ہے، یہ بیج ہے۔ جب تک دل میں بویا نہ جائے، میں تو سمجھتا ہوں عبادات بھی محض ایک ورزش سی بنی رہتی ہیں۔ آدمی کو عبادت میں وہ لذت نصیب نہیں ہوتی کہ میں اللہ کو روبرو دیکھ رہا ہوں۔ 

ذکر اذکار کی ساری محنت کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اللہ کریم کو خود جاننے لگ جائے، سنی سنائی خبر تک محدود نہ رہے۔ تزکیہ یا تصوف کے بغیر بندہ رب کریم کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، سن کر جانتا ہے۔ سنی ہوئی بات اپنی جگہ لیکن ذاکر کا اپنا دل کہتا ہے کہ اس کا رب اس کے پاس ہے اور وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ کریم اس کی بات سن رہے ہیں، اللہ کریم اس سے راضی ہیں۔ اگر کوتاہی ہو جائے تو اسے دکھ لگتا ہے کہ اللہ کریم کی نافرمانی ہو گئی، روتا ہے، اللہ کریم کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس کی عطا ہے چاہے تو ایک لمحے میں عطا کردے۔

ذکر الٰہی حضورحق کے لیے

 جولوگ ساری زندگی اللہ کی یاد دل میں بسائے رکھتے ہیں وہ دل ایسا آباد ہو جاتا ہے کہ اسے موت بھی ویران نہیں کرسکتی۔ موت بھی انہی دلوں کو ویران کرتی ہے جو زندگی میں ویران ہوتے ہیں۔ ایسے دل جو زندگی میں یادِ الٰہی سے محروم ہوتے ہیں،موت سے پہلے ہی ان کی حیات روحانی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ جو دل زندگی میں یاد الٰہی اپنے اندر سمو لیتے ہیں انہیں زندگی میں حضور حق نصیب رہتا ہے۔ موت ان سے یہ حضور حق نہیں چھین سکتی۔ موت انہیں اللہ کی یاد، اللہ کے ذکر سے جدا نہیں کرسکتی۔

ذکر الٰہی، خلوص کی ایک عجیب دوا

ذکر الٰہی ایک عجیب دوا ہے۔ ہر عبادت کے لیے خلوص شرط ہے، منافقت سے یا بے دلی سے عبادت کی جائے تو اس پر پھل نہیں آتا خلوص نہیں ہوگا تو عبادت رد ہو جائے گی۔ ذکر الٰہی ایک ایسی عبادت ہے کہ دکھاوے کے لئے بھی اگر کوئی شروع کرے، خلوص، خشوع و خضوع نہ بھی ہو اور مسلسل ذکر کرتا رہے تو یہ خود خلوص پیدا کر دیتا ہے۔ ذکر نہ چھوڑے، اللہ اللہ کرتا رہے تو یہ عجیب بات ہے کہ اس کی وجہ سے اس میں خلوص پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کی مثال یہ ہے جیسے آپ میلے کپڑے کو توجہ سے، خلوص سے صابن نہ لگائیں، بے توجہی سے کپڑے پر گھساتے رہیں تو زیادہ خرچ ہوگا، وقت زیادہ لگے گا لیکن میل تو کاٹے گا، کپڑا صاف ہوجائے گا۔ دھیان سے نہ بھی کریں، کچھ نہ کچھ میل کاٹتا ہی چلا جائے گا۔ اس لئے ذکر اللہ کا بیج دل میں بویا جاتا ہے۔ اللہ اللہ کرے تو دل کو ایسی جلا ملتی ہے کہ وہ اچھائیاں چن لیتا ہے اور خرافات کو چھوڑ دیتا ہے۔ دل میں ایک تجسس پیدا ہو جاتا ہے اور بندہ خود صحیح چیزیں تلاش کر کے ان کو اپنا لیتا ہے۔ عمل کی توفیق تب ہی ہوتی ہے جب دل حقیقت سے آشنا ہو۔ صوفیاء کا یہ طریقہ ہے کہ یہ کسی کو نہیں کہتے کہ نماز پڑھا کرو۔ کیسی عجیب بات ہے کیسے عجیب لوگ ہیں کسی سے نہیں کہتے کہ داڑھی رکھا کرو، کسی سے نہیں کہتے کہ جھوٹ نہ بولا کرو، کسی سے نہیں کہتے کہ جواء کھیلنا چھوڑ دو، کچھ بھی نہیں کہتے۔ بس بیٹھے بیٹھے اللہ اللہ کرو، اللہ اللہ کرنے سے جب دل میں روشنی آتی ہے تو وہ یہ سارے کام خود کروا لیتا ہے۔

 اللہ االلہ اس لیے کی جاتی ہے، ذکر کا حاصل یہ ہے کہ اعمال میں خلوص اور گہرائی پیدا ہو جائے تا کہ ان پر نتائج مرتب ہوسکیں۔ کردار میں دو رنگی نہ رہے، منافقت نہ رہے، خلوص آجائے، گہرائی آجائے۔ ہم نے یہ فلسفہ بنا لیا کہ جو صوفی ہوتا ہے، اسے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں حالانکہ حقیقی صوفی دوسروں کی نسبت زیادہ کام کرتا ہے، زیادہ جفاکش، زیادہ محنتی ہوتا ہے۔ ذکر الٰہی اور اطمینان قلب

اَلَا بِذِکرِ ا للّہِ تَطمَءِنُّ القُلُوبُ   (الرعد: 28)
ترجمہ: یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔

ہم نے سمجھا کہ بہت سی دولت مل جائے تو اطمینان ہو جائے گا، ہم اس پہ لگ گئے جائز و ناجائز ذرائع سے دولت جمع کی لیکن جب دولت مند ہوں تو سمجھ آتی کہ یہ تو میری دوست نہیں، دشمن ہے۔ اس کی پریشانیاں تو الگ ہی ہیں بلکہ اولاد تک دشمن ہو جاتی ہے۔ لوگ موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اللہ اب اس بابے کو اٹھا بھی لے کہ ہر چیز پر قبضہ کئے بیٹھا ہے۔ پکڑ کر دھکے دے کر نکال بھی دیتے ہیں۔ پھر سمجھ آتی ہے کہ یار! ساری زندگی ہم جو جمع کرتے رہے کہ اس سے کیا اطمینان ہوگا اس نے تو پریشانیاں پیدا کردی ہیں۔

 ہم سمجھتے ہیں کہ اقتدار و اختیار میں اطمینان ہے لیکن جب اقتدار و اختیار ملتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا تو ہماری دشمن ہوگئی ہے۔ ہر کوئی ہماری ٹانگ کھینچ رہا ہے۔ دنیا کے کسی شعبے کو آپ لے لیں، اگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس طرف چلا جاؤں گا تو مطمئن ہو جاؤں گا۔ یہ اس کی سراسر غلطی ہے۔ چونکہ جب ساری عمر خرچ کرکے وہاں پہنچتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں کی پریشانیاں وہ ہیں جو میں نے سوچی بھی نہ تھیں۔ اللہ کریم نے اس کا جو علاج بتایا ہے، وہ بڑا سیدھا سا ہے اور سادہ سا ہے فرمایا: اَلَا بِِذِکرِ اللّہِ تَطمَءِنُّ القُلُوبُ  یہ جو سکون قلب ہے، اطمینان قلب ہے، اس کو حاصل کرنے کا دنیا میں صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے اللہ کا ذکر۔ فرمایا: خوب اچھی طرح سن لو! یہ بڑی واضح، روشن اور پکی بات ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتا ہے۔

ذکر الٰہی اور کردار سازی

بندہ بدلتا ہے تو برکات نبوت ﷺ سے بدلتا ہے۔ بدلتا ہے تو نورِ باری سے بدلتا ہے۔ صوفی کی کردار سازی نہیں کرنا پڑتی۔ ہم صرف ایک بات کہتے ہیں کہ اللہ کو مانا ہے تو اس یقین کو دل میں اتارنے کے لیے وہ برکات حاصل کرو جو قلب اطہر ﷺ سے آرہی ہیں۔ جب وہ دل میں آ جاتی ہیں تو بندہ خود فیصلہ کرتا ہے اور اپنا آپ بدلتا ہے اور خود کو اس رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔

یہاں تو ہم نے کبھی کسی پر تنقید نہیں کی۔ یہاں جتنے چہرے سنت رسول ﷺ سے مزین نظر آتے ہیں، ان سے کسی نے نہیں کہا کہ داڑھی منڈوانا چھوڑ دو۔ آج بھی جو بغیر داڑھی کے ہیں، انہیں یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ رب کا نام اور نبی ﷺ کی برکات جب اندر جاتی ہیں تو ان کا اپنا دل چاہتا ہے کہ ہم ویسا حلیہ بنائیں جیسا محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ یہاں کسی فرقے کا کوئی بندہ آتا ہے، اپنی نماز پڑھتا ہے، ہم نہیں پوچھتے۔ شیعہ آتے ہیں، سنی آتے ہیں، بریلوی آتے ہیں، دیوبندی آتے ہیں، اہلحدیث آتے ہیں، مقلد آتے ہیں، غیر مقلد آتے ہیں کبھی کسی کو کسی نے نہیں ٹوکا۔
 
میں تنقید کرنے والے کوبھی دعوت دیتا ہوں کہ ہمارے پاس چاہے نہ آؤ یار! کبھی اللہ اللہ کرنا شروع کردو۔ چوبیس گھنٹوں میں کوئی آدھا گھنٹہ، پندرہ منٹ نکال کر روزانہ ذکر کرنا شروع کر دو۔ اگر ذکر نے آپ کو بھی نہ بدل دیا تو مجھے کہنا کہ تم غلط کہتے ہو۔

مادی خواہشات سے حفاظت

انسان میں بھلائی کا مادہ بھی ہے اور برائی کا مادہ بھی موجود ہے۔ ذکر اذکار بھلائی کے مادے کو ابھارتے ہیں اور برائی کے عنصر کو کمزور کرتے ہیں اور کوئی انسان بھی فرشتہ نہیں بن سکتا۔ ہرانسان میں نیکی کرنے کی فطری استعداد اور اس کے ساتھ ساتھ نفس کی بات ماننے سے برائی کرنے کی قوت موجود رہتی ہے۔ چونکہ انسانی نفس مادی اجزاء کے ملنے سے بنتا ہے اور آگ، ہوا، مٹی اور پانی جب ملتے ہیں تو نفس پیدا ہوتا ہے جو مادی اجزا کا حاصل ہے تو وہ مادی خواہشات اور دنیوی مفادات پر ہی فریفتہ رہتا ہے اور انسان کو اس طرف کھینچتا رہتا ہے تو ان دونوں سے بچنے کا طریقہ بندے کے پاس اللہ کی پناہ کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ذکر الٰہی قلب کے فاسد مادوں کو مٹاتا ہے اور نیکی کے خیالات کو جلا بخشتا ہے۔

شیطان کا مقابلہ کرنے کی قوت

 ذکر الٰہی اسلحہ ہے لیکن اسلحہ کا ہونا شیطان کو اس کی شیطنت سے نہیں روک سکتا۔ اگر بہترین اسلحہ پاس ہوتو اس کا مطلب ہے دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک فریق کے پاس اسلحہ ہے لہٰذا دوسرا فریق اس کا مقابلہ ہی نہیں کرے گا۔ اگر شیطان خیال ہی نہ ڈالے تو آپ مقابلہ کس کا کریں گے؟ پھر آپ کو اسلحہ کی ضرورت کیوں ہوگی؟ تو یہ سمجھنا دراصل سمجھ کا فتور ہے کہ ذکر الٰہی سے شیطان خیال ڈالنا چھوڑ دے گا بلکہ حق یہ ہے کہ ذکر الٰہی سے شیطان کا مقابلہ کرنے کی قوت آئے گی۔
 
کوئی شخص کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔ شیطان اپنی دشمنی سے باز نہیں آتا۔ اس کا تو یہ حال ہے کہ وہ انبیاء کی مخالفت میں بھی اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتا ہے حالانکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ وہ ان پر براہ راست اثر انداز نہیں ہو سکتا لیکن کسی نہ کسی کو ان کی مخالفت پر ابھارتا ہے، کفار کو اعتراضات سکھاتا ہے۔ ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ جی شیطان ہمیں پریشان کرتا ہے اور مجھے یہ امید رہتی ہے کہ یہ لوگ جو یہاں سے ذکر الٰہی سیکھ کر جاتے ہیں، ان شاء اللہ یہ شیطان کو پریشان کریں گے۔
آپ کوشیطان سے پریشان ہونا نہیں ہے، آپ نے شیطان کو پریشان کرنا ہے۔

ذکر الٰہی  اور مساجد

آج ہماری مساجد سے لوگوں کی اصلاح کیوں نہیں ہورہی حالانکہ مساجد میں اذان، باجماعت نماز، اشراق، چاشت نوافل پڑھے جاتے ہیں، روزوں میں اعتکاف بیٹھتے ہیں۔ پھر سمجھ آتی ہے کہ اب مساجد میں بھی ایک چیز چھوٹ رہی ہے جو مساجد کی خصوصیت تھی یعنی  یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللہِ کَثِیْرًا (الحج: 40) یہ ہے وہ واحد راستہ جس کے ذریعے بندے اور اللہ کے درمیان رشتہ قائم ہوتا ہے اور مساجد و معابد اسی لیے ہوتے ہیں کہ ان میں کثرت سے اللہ کا ذکر ہو لیکن آج بے شمار مساجد بن گئی ہیں اور ان کا ماحصل تو کچھ بھی نہیں۔ آج مساجد میں سارے کام ہورہے ہیں لیکن ذکر اسم ذات چھوٹ گیا ہے۔ جب ذکر اسم ذات چھوٹتا ہے تو عبادتیں رسم بن جاتی ہیں، ان میں وہ روح نہیں رہتی۔

 آج سے اگر پچاس ساٹھ سال پہلے ایک صدی پہلے تک کے مدارس اور مساجد کو دیکھیں اور ان کی کارکردگی اور اس کے نتائج دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ بڑے بڑے علماء جب تعلیم سے فارغ ہوتے تو کسی نہ کسی خانقاہ میں فروکش ہوتے۔ اہل اللہ کی خدمت میں وقت لگاتے، محبت الٰہی اور عشق رسول اللہ ﷺ کی دولت سے سرفرازہوتے اور پھر مدارس و مساجد کی مسند درس و تدریس سنبھالتے۔ اہل اللہ کا نصاب شروع ہی ذکر الٰہی سے ہوتا ہے۔

ذکر الٰہی زندگی ہے

مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیّتِِ  (صحیح البخاری)
ترجمہ: اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ ذکر کرنے والے کی مثال زندہ کی سی ہے اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ کی سی ہے۔ زندہ ہوگا توتجارت کرے گا،  مردوں کا کاروبار سے کیا کام۔ ذاکرین کا کام، ان کی تجارت، ان کی مزدوری انہیں ذکر الٰہی سے نہیں روک سکتی۔ اللہ کی عبادات میں رکاوٹ نہیں بنتی کہ ان کی نمازیں، روزے چھوٹ جائیں۔ زکوۃ ادا کرنے میں دولت کی محبت رکاوٹ نہیں بنتی، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں مال کی محبت رکاوٹ نہیں بنتی۔ مزدوری کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور جب دوسرے غافل ہوتے ہیں تو یہ اللہ کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوسرے محروم ہوتے ہیں تو یہ اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوسرے سود کھانے میں مصروف ہوتے ہیں تو یہ زکوٰۃ ادا کررہے ہوتے ہیں۔

ذکر الٰہی  عقیدہ اور ایمان بچانے کا واحد ذریعہ

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کو تلاش کریں جن کے دل روشن ہوں، سینے منور ہوں، خون کی گردش، دل کی ہر دھڑکن سے اللہ کا نام نکلتا ہو اور یہ ہیں برکات محمد رسول اللہﷺ۔ جب دل میں اللہ اللہ کا پودا پنپتا ہے تو عجیب بات ہے کہ اخلاقیات، ایمانیات، اعتقادات، اعمال، غرض ہر چیز سدھرنا شروع ہوجاتی ہے۔ میں نے اس کا یہاں تک تجربہ کیا ہے کہ مغرب میں، یورپ میں، امریکہ میں، اس سے بھی دور سویڈن میں، ناروے میں، وہاں کے لوگوں کو جو مجھ سے مل سکے، میں نے کہہ دیا یار! تم کچھ نہ کرو، تم رہنے دو اسلام کو، اللہ کا نام لینا شروع کر دو اور چھوڑو نہیں۔ اللہ کی شان ہے جس کافر نے ذکر قلبی شروع کر دیا وہ مسلمان ہوگیا۔ اسے اسلام کی نعمت نصیب ہوگی۔

 


ضرورت شیخ

برکاتِ  رسول ﷺ

نبوت کے دو پہلوہیں،  ارشاداتِ  رسولﷺ اور برکاتِ  رسول ﷺ۔
ارشاداتِ رسول ﷺ میں قرآن و حدیث اور تمام تعلیمات شامل ہیں جبکہ برکاتِ رسولﷺ کا اثر یہ ہے کہ جس شخص کو ایمان کے ساتھ ایک لمحہ آپﷺ کی صحبت نصیب ہوئی اسے تزکیہ کا وہ اعلیٰ درجہ نصیب ہو گیا کہ اس کے دِل کی خواہشات، آرزوئیں، زندگی کا طریقہ کار ایک لمحے میں بدل گیا اور یہ نعمت دِل سے دِل اور سینے سے سینے میں انعکاسی طور پر منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔ جنہیں یہ نعمت نصیب ہوئی، ایسے لوگ زمانے پر اپنا نقش ثبت کرتے ہیں، حالات کے دھارے میں بہہ نہیں جاتے۔ ایسے لوگ گناہوں کی دلدل میں غرق انسانوں کے دِلوں پر نُورِ نبوتﷺ کی پھوار برسا کر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا یقین عطا کرتے ہیں اور اللہ اللہ کی قوت سے عملی زندگی میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔

رجال اللہ کی ضرورت و اہمیت

  • نبوت کے ظاہری پہلو کا تعلق آیات اور ان کی تعلیم و تشریح ہے۔
  • اور باطنی پہلو کا تعلق تزکیہ نفس سے ہے۔
  • ظاہری تعلق نے محدث، مفسر اور فقیہہ بنائے۔
  • اورباطنی تعلق سے سرفراز لوگ قیوم، غوث، قطب اور ابدال ہوئے۔
  • ہر دو کا منبع کتاب اللہ اور سنت ِرسول خیر الانامﷺ ہے۔


سارے مناصب صرف اور صرف حضورﷺ کی اتباع سے ہی نصیب ہوتے ہیں۔ انسانی تعلیم و تربیت اگر محض کتابوں سے ہو سکتی تو کتاب اللہ کے ساتھ رسول کریمﷺ کو معلّم بنا کر بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ نیز ہر فن کو سیکھنے کے لئے کسی ماہر فن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے صراط مستقیم کی نشاندہی کے لئے رجال اللہ کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ (دلائل السلوک)

لکھ ہزار کتاباں پڑھیاں ظالم نفس نہ مردا ھُو

مومن کا معاملہ چونکہ اپنے خالق سے ہے جو عمل کی صورت کی بجائے اس کی حقیقت کو دیکھتا ہے۔ استاد عمل کی صورت سکھاتا ہے اور شیخ عمل کی حقیقت۔ یہاں تک کہ سالک اپنی پسند و نا پسند سے دستبردار ہو جائے اور اپنا سب کچھ حضورﷺ کی پسند پر قربان کر دے۔ اِسی کو فنا فی الرسولﷺ کہتے ہیں۔ پِیروں کے بھیس میں ٹھگ بھی ہوتے ہیں کیونکہ اگر جعلی خدا اور جھوٹے نبی ہو سکتے ہیں تو ولایت کا جھوٹا دعویٰ کیا مشکل ہے لیکن اگر طلب صادق ہو تو اسے ہدایت عطا کرنا اللہ کا کام ہے۔ خلوص نہ ہو تو کسی کامل سے بھی فائدہ نہیں ہوتا۔
 

صحبت ِشیخ کی ضرورت

یاد رہے،  یہ معاملہ از خود نہیں ہوپاتا۔ اس کے لئے شیخ کی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ جملہ کیفیات انعکاسی طور پر آگے تقسیم ہوتی ہیں۔ جس طرح آپﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہونے والا مومن ہی شرفِ صحابیت سے سرفراز ہوا، صحابہؓ کی صحبت میں حاضری دینے والا ہی تابعی بنا اور ان کی خدمت میں تبع تابعین بنے۔ اُن سے مشائخ عظام نے یہ دولت حاصل کی اور نسلاً بعد نسلاً سینہ بسینہ منتقل ہوتی رہی اور     ان شاء اللہ ہوتی رہے گی۔ یاد رہے،  ہر مومن اسے حاصل کر سکتا ہے۔ مرد ہو یا عورت، عالم ہو یا اَن پڑھ، امیر ہو یا غریب۔ ''اِس کے لیے صرف ایمان اورخلوص کے ساتھ صحبت ِ شیخ شرط ہے''. کبھی شیخ کے ساتھ خلوصِ قلبی میں فرق آجائے تو یہ دولت بیک آن چھن جاتی ہے۔

یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر  از صد سالہ طاعت بے ریاء

شرائطِ مرشد کامل

 عالمِ ربانی ہو۔ کیونکہ جاہل کی بیعت ہی سرے سے حرام ہے۔

  •  صحیح العقیدہ اور متقی شخص ہو۔
  •  متبع سنت ِ رسولﷺ  ہو۔کیونکہ سارے کمالات حضورﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتے ہیں۔
  •  شرک و بدعت کے قریب نہ جائے۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور بدعت گمراہی ہے۔
  •  علم تصوف میں کامل ہو اور کسی کامل پیر کی صحبت میں رہا ہو۔
  •  حضورِ اکرمﷺسے روحانی تعلق قائم کر دے جو بندے اور اللہ کے درمیان واحد واسطہ ہیں۔

 

اولیائے کرام ؒکے ارشادات

 حضرت شیخ عبد القادر جیلانی  ؒ فرماتے ہیں، ”اے راہِ آخرت کے مسافر، تو ہر وقت رہبر کے ساتھ رہ، یہاں تک کہ وہ تجھے پڑاؤ پر پہنچا دے، تجھے تیرے نبیﷺ کے حوالے کر دے۔ (الفتح الربانی)

 سلطان باہوؒ فرماتے ہیں، ''یاد رکھو،  فقیر فنا فی اللہ صاحبِ حضور ہوتا ہے۔ وحدانیت ِالٰہی میں غرق کرنا اور مجلس محمدیﷺ میں پہنچانا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں اور جس شخص کو یہ قدرت حاصل نہیں اسے کامل کہنا ہی غلط ہے۔'' (عین الفقر)

 قطب ارشاد حضرت احمد علی لاہوریؒ فرماتے ہیں، ''یاد رکھیے، علم اور چیز ہے، تربیت اور چیز ہے۔ امراض روحانی کا صرف ایک علاج ہے اور وہ ہے اللہ والوں کی صحبت۔ ان کے جوتوں کی خاک میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاجوں میں نہیں۔ یقین نہیں آتا تو میرے پاس خرچہ لے کر آؤ۔ جو فن میں نے چالیس سالوں میں سیکھا ہے تمہیں چار سالوں میں سکھا دوں گا۔


تعارف سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

آولاد آدم کا شرف

اس وسیع کائنات میں اللہ تعالی نے انسان کو
لَقَدْ خَلَقْنَا الإنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ   (التِّيْن : 4) ترجمہ: کہ یقیناً ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا۔  اور  
وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ   (بَنِيْ إِسْرَآءِيْل : 70) ترجمہ: اور بے شک ہم نے بنی آدمؑ کو عزت بخشی۔  کا شرف عطا فرماکر اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا اور اسے خلافت ارضی کا منصب جلیلہ سونپا۔  یوں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار نہیں، لیکن انسان کو جس نعمت خصوصی سے نوازا گیا ہے وہ انبیاء کرامؑ کے ذریعہ اس کے ہدایت کا سامان ہے۔

تزکیہ باطن اور روحانی تربیت مقاصد نبوت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اللہ تعالی نے جہاں
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ   (الْمَآئِدَة : 3)   ترجمہ: آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی۔  کا اعلان فرمایا وہاں اہل ایمان کو اپنا یہ احسان بھی یا د دلایا کہ
لَقَدْ مَنَّ اللَّہُ عَلَی الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيھمْ رَسُولاً مِّنْ أَنفُسِھمْ   (آل عِمْرَان : 164)  ترجمہ: یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر (بہت بڑا)احسان کیا ہے کہ جب ان میں ان ہی میں سے ایک پیغمبر معبوث فرمائے۔
اور اس احسان کی تفصیل میں یہ ارشاد فرمایا کہ اس آخری رسولﷺ  کے ذریعہ اللہ کی اس نعمت سے مستفید ہونے کی ایک صورت یہ مقرر کی کہ اللہ کا رسولﷺ  ان کاتزکیہ باطن اور ان کی روحانی تربیت کرتا ہے۔


تزکیہ باطن اور روحانی تربیت کی تدوین   

حضور اکرم ﷺ  نے تلاوت آیات اور تعلیم کتاب و حکمت کے ساتھ اپنے جلیل القدر شاگردوں یعنی صحانہ کرام ؓکی اس طرح تربیت کی اور تزکیہ باطن کے وہ نمونے پیدا کئے کہ رہتی دنیا تک ان کی نظریں نہیں مل سکتی-جس طرح تعلیم کتاب اور تدوین شریعت کا یہ سلسلہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت سے آگے منتقل ہوتا چلا آیا اسی طرح تزکیہ باطن اور روحانی تربیت کا طریقہ بھی صحابہ کرامؓ نے حضور اکرم ﷺ  سے سیکھ کر آئندہ نسلوں کو پہنچایااور مختلف ادوار کے تقاضوں کے مطابق تدوین حدیث و فقہ کی طرح تزکیہ و تربیت کے پہلو کی تدوین میں منظم صورت میں عمل میں آئی ۔  صحابہ کرامؓ جہاں جہاں بھی گئے یہ روشنی اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے اس سے قلوب انسانی کو منور فرمایا۔  بعد میں جب دین کایہ پہلو منظم ہوا تو مذاہب فقہ کی طرح تربیت و تزکیہ کے بھی چار بڑے سلسلے ہمارے ہاں رائج اور مقبول ہوئے۔ 

سلاسل تصوف

علمائے مجہتدین نے اپنے خداداد علم و ذہانت سے قرآن و سنت پر غورو خوض کر کے جو فقہی استنباط کئے وہ اجتہاد ہے ۔  مجہتدین میں چار مشہور ہیں جن کے پیرو دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
۱۔  امام اعظم ابوحنیفہؒ،  ۲۔ امام احمد بن حنبلؒ،  ۳۔ امام مالک ؒ   اور ۴۔ امام شافعیؒ
روحانی قوت سے روحانی تربیت کا کوئی طریقہ بتایا اور تربیت کی تو انہیں شیخ طریقت کہتے ہیں ۔  مجتہدین تصوف بھی مجتہدین فقہ کی طرح بہت ہوئے مگر چار روحانی سلسلے مشہور اور رائج ہوئے۔  
۱۔ قادریہ،   ۲۔ چشتیہ  ۳۔ سہروردیہ  اور  ۴۔ نقشبندیہ
چار فقہی مسالک اور چار رُوحانی سلسلوں کو ملا کر ظاہری و طاطنی اصلاح (اجتہاد و ارشاد) کا جو نظام بنتا ہے اُسے مسلک اہلسنت و الجماعت کہتے ہیں ۔  نبوت کا ظاہری اور عملی پہلو چار فقہی مسلکوں نے اور نبوّت کا روحانی اور باطنی پہلو چاروں روحانی سلسلوں نے سنبھال لیا اور اس طرح امت مسلمہ علوم بنوت اور انوار نبوت کی وارث و امین ٹھہری۔

سلاسل تصوّف اور اُن کے عالی مقام مشائخ عظام کے طریق کار اور مقصد پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ان سب بزرگان کرام کا مقصد توحید رضائے باری تعالیٰ کا حصول اور تزکیہ نفوس انسانی ہے اور ہر سلسلہ میں اس کا مدار اتباع سنت نبوی علی صاجہا الصلوۃ والتجیہ، کثرت ذکر الٰہی اور صحبت شیخ پر ہے۔  صوفیہ کرامؒ کے ہاں تعلیم و ارشاد اور تزکیہ و اصلاح باطن کا طریقہ القائی اور انعکاسی ہے ۔
  

اسلامی تصوف

صحیح اسلامی تصوف کے خدوخال کا تعین اور اس کی حقیقت سے علمی حلقوں کو روشناس بالکتاب و السنتہ ہے ، یہی مدار نجات ہے ۔  قبر سے حشر تک اتباع کتاب و سنت کے متعلق ہی سوال ہوگا ، یہی وجہ ہے کہ محققین صوفیہء کرام ؒ نے شیخ یا پیر کے لئے کتاب و سنت کے خلاف ہے تو وہ ولی اللہ نہیں بلکہ جھوٹا ہے ، شعبدہ باز ہے کیونکہ تعلق باللہ کے لئے اتباع سنت لازمی ہے۔
"کما قال تعالی قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ (آل عِمْرَان : 31)  ترجمہ: آپ فرما دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کریں گے۔"
 

تصوف (احسان ، سلوک اور اخلاص) دین کا ایک اہم شعبہ ہے

تصوف دین کا ایک اہم شعبہ ہے جس کی اساس خلوص فی العمل اور خلوص فی النیت پر ہے اور جس کی غایت تعلق مع اللہ اور حصول رضائے الٰہی ہے۔  قرآن و حدیث کے مطالعہ سے نبی کریم ﷺ  کے اسوہ حسنہ اور آثار صحابہ سے اس حقیقت کا ثبوت ملتا ہے۔  قرآن حکیم میں اسے تقویٰ تزکیہ اور خشیۃ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور حدیث تفصیل حدیث جبرئیل ؑمیں موجود ہے مختصر یہ کہ تصوف ، احسان ، سلوک اور اخلاص ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیریں ہیں، اس کے متعلق حضور اکرم ﷺ نے فرمایا جَاءَ جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ یہ دین کا جزو ہے کوئی شے زائد نہیں ہے نہ دین سے خارج ہے اس لئے اس کا حاصل کر نا مسلمانوں پر واجب ہے ۔  احسان صرف جزو دین ہی نہیں بلکہ دین کی روح ہے اور خلاصہ ہے۔  جس نے اسے حاصل نہ کیا اس کا دین ناقص رہا کیونکہ احسان کی حقیقت یہ بیان ہوئی ہے  "تَعبدَ اﷲَ کَانَّکَ تَرَاہُ، فان لَم تَکن تَرَاہُ فَانَّہ یَرَاکَ" حدیث میں دین کے تینوں اجزاء کا ذکر ہے۔
  1. ایمان جو اصل ہے
  2. اعمال جو فرع ہیں، اور
  3. احسان جو ثمرہ ہے۔
اسے چھوڑ دینا ایسا ہے جیسے ایک شخص مغرب میں فرض کی دو رکعت پڑھ کر فارغ ہو جائے، ظاہر ہے کہ ا س کی نماز نہ ہوگی اس طرح احسان کو چھوڑ دینا دین کے ایک عظیم جزو کو ترک کرنا ہے اس لئے دین ناقص رہ جائے گا۔
 

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

جس طرح روایت حدیث  ہے اسی طرح سے شجرہ یا سلسلہ اولیاء اللہ اسے کہتے ہیں جس سے یہ پتہ چلے کہ کس نے کس سے برکات نبوی ﷺ  حاصل کیں۔  ان کیفیات و برکات و تعلق کو جو قلب سے قلب کو حاصل ہو جائے نسبت کہتے ہیں ۔
 

نسبتِ اویسیہ اور اس میں حصول فیض کا طریقہ

تمام سلاسل تصوف اور تمام نسبتوں میں نسبتِ اویسیہ براہِ راست نبی کریم ﷺ  سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اور ان سے مشائخ کو نصیب ہوتی ہے جو نسبتِ اویسیہ سے متعلق ہیں۔  اویسیہ اس لیے کہتے ہیں کہ حصولِ فیض کا طریقہ وہ ہے جو حضرت اویس قرنیؒ کا تھا۔  ان کے حالات میں یہ ملتا ہے کہ انہوں نے مدینہ منورہ میں حاضری بھی دی لیکن حضور اکرم ﷺ  سے شرف ملاقات حاصل نہ کر سکے۔  ان کا وجود ظاہری بارگاہِ نبوی ﷺ  میں حاضر نہ ہو سکا لیکن ان کے قلب نے قلبِ اطہر ﷺ  سے وہ قرب حاصل کر لیا کہ انہوں نے دور رہ کر وہ برکات حاصل کر لیں کہ سیدنا عمر فاروق   رضی اللہ تعالی عنہ جیسے جلیل القدر صحابی نبی کریم ﷺ کا پیغام لے کر ان کے پاس گئے۔
 

نسبتِ اویسیہ کی کیفیت

شاہ ولی اللہ ؒ  رقم طراز ہیں ہے کہ نسبتِ اویسیہ کی کیفیت یہ ہے کہ جس طرح دریا کا پانی کسی صحرا میں گم ہو جاتا ہے اور اس کا کوئی نشان نہیں ملتا، زیرِ زمین چلا جاتا ہے اسی طرح گم ہو جاتی ہے اور اس طرح دو دو، تین تین، چار چار سو سال کوئی بندہ اس میں نسبت کا نظر نہیں آتا لیکن پھر کہیں سے یہ زمین کو پھاڑ کر نکل آتی ہے اور جب یہ نکلتی ہے تو جل تھل کر دیتی ہے پھر ہر طرف اسی کا شور سنائی دیتا ہے اور ہر طرف یہی لوگ نظر آتے ہیں۔  پھر یہ انسانی قلوب پر چھا جاتی ہے۔  جو بھی سعید ہوں، جنہیں بھی اللہ نے قبول کرلیا ہو، جن پر اللہ کا کرم ہو وہ سارے پھر اس میں شامل ہو جاتے ہیں پھر یہ سمندر بن جاتا ہے  اور ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔


سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی خصوصیت

ہمارے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ کسی کو معاشرے سے الگ نہیں کیا جاتا۔ ہر قسم کے مساعد اور نامساعد حالات اُسے پیش آتے ہیں مگر جب شیخ کی مجلس میں آتا ہے تو سارے غبار دھل جاتے ہیں۔ یہ اس سلسلے کی برکت اور شیخ کی قوت کا اثر ہے۔ یہ واحد سلسلہ ہے جو مخلوق کے ساتھ اختلاط سے منع نہیں کرتا۔ کاروبار کرو، دکان چلاؤ، ملازمت کرو، بیوی بچوں میں رہو، بس مقررہ اوقات میں مقررہ طریقے سے ذکر کرتے رہو، تمہارا سینہ منور رہے گا۔ ہاں! اگر ان تینوں امور یعنی طلبِ صادق، اکلِ حلال اور صحبتِ بد سے پرہیز کا خیال نہ رکھا جائے تو لازمی امر ہے کہ ذکر الٰہی کے لئے فرصت نہ ملنے کا بہانہ بھی ہو گا، جی نہ لگنے کا شکوہ بھی ہو گا۔ مگر یہ مرض ناقابلِ علاج نہیں، ہاں! علاج کے لئے محنت درکار ہے۔ وہ یوں کہ دھوبی پٹڑا سے کام لے، یعنی نہایت قوت سے تیزی سے لطائف کرے تاکہ خون میں جوش پیدا ہو۔
 

نسبتِ اویسیہ کی عالمگیریت

جس طرح پہلے انبیاء ؑ کے زمانے میں تھا کہ دریا کے اِس پار اتباع شرط ہے حضرت ابراہیم ؑ کا اور دریا کے اُس پار اتباع شرط ہے لوط ؑ کا، اسی طرح باقی سلاسل میں ہے کہ کچھ لوگوں کو ایک سلسلے سے حصہ نصیب ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کو کسی دوسرے سلسلے سے یہ برکات نصیب ہوتی ہیں۔ اور آپ نے سنا ہو گا مشائخ کے ارشادات میں کہ اُنہوں نے بعض لوگوں کو فرمادیا کہ تمہارا حصہ میرے پاس نہیں ہے۔ تمام نسبتوں میں یہ ہوتا ہے کہ کچھ ایک خاص مزاج کے لوگوں یا خاص استعداد کے لوگوں کے لئے اُن کے پاس جو نسبت ہوتی ہے دوسری قسم کے لوگوں کو دوسری نسبت کا شیخ تلاش کرنا پڑتا ہے۔ لیکن نسبت اویسیہ وہ وسیع سمندر ہے جس میں پوری انسانیت کے ہر فرد کا حصہ موجود ہوتا ہے۔ یہ کسی کو یہ نہیں کہتے کہ تمہارا حصہ میرے پاس نہیں ہے، صرف آنے کی دیر ہے، تلاش کی دیر ہے، جو چاہے اس میں سے جتنا چاہے وصول کر سکتا ہے۔ جب اس نسبت کا ظہور ہوتا ہے تو پھر دنیائے تصوف میں یہی لوگ ہوتے ہیں جو تمام سلاسل کے لئے مرکز کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور جب اس کا ظہور ہوتا ہے اور زمین پر جب اس کے حامل افراد اللہ کریم پیدا فرماتا ہے تو اُن سے برکات تقسیم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
 

نسبت اویسیہ کا کمال

ہر سلسلے کے لوگ برسوں آدمی کو چلاتے رہتے ہیں، جانچتے رہتے ہیں، پرکھتے رہتے ہیں، پھر اگر مناسب سمجھتے ہیں تو اُس کے دل میں نُور انڈیلتے ہیں۔ نسبت اویسیہ کے لوگ ایسے مزاج کے لوگ ہیں کہ اُن کے پاس چور آئے، ڈاکو آئے، بدکار آئے، میں نے دیکھا ہے کہ اُن کے پاس کافر آئے اُسے کہا بیٹھو یار! اللہ اللہ کرو، وہ کافر مسلمان ہو گئے۔ یہ اس بات کو نہیں دیکھتے کہ کس میں کتنی استعداد ہے، اُس کو کیا دیا جائے، جو آجائے اُسے عطا کر دیتے ہیں اور استعداد بھی اُن کے دروازے سے مل جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس سے بڑھ کے وسیع ظرفی اور سخاوت کا دنیا میں کوئی تصور نہیں کہ کوئی دینے والا نہ صرف دولت دے بلکہ دامن بھی اپنے گھر سے دے کہ یہ دامن بھی مجھ سے لے جاؤ۔

مولانا احمد علی لاہوری ؒ اپنے زمانے کے قطب ارشاد تھے، بہت بڑی ہستی تھی اُن کی، فرماتے تھے میں نے پینتالیس برس لگائے اور یہ نعمت حاصل کی، کوئی میرے پاس چار برس لے کر آئے، چار برس کا خرچہ اپنے بچوں کو دے کر آئے، چار برس اُسے میرے پاس تنہائی میں بیٹھنا ہو گا تو میں اُسے فنا فی الرسولﷺ  کرا دوں گا۔ یہ اتنی بڑی بات تھی کہ اُن کے علاوہ صدیوں میں کوئی ایسا شخص بھی نہیں ملتا جس نے ایسا بھی کہا ہو۔

کہاں وہ اور کہاں اس نعمت کی یہ ارزانی! کوئی اپنے گھر میں رہے، اپنا کام بھی کرے، اپنا کاروبار بھی کرے، صرف معمولات میں باقاعدگی کر کے سلسلے کے مشائخ سے رابطہ رکھے تو جہاں ہے اور جیسا ہے وہیں اُس کو یہ دولت نصیب ہو جائے، یہ معمولی بات نہیں ہے۔  یہ تو وہ اندازہ کر سکتے ہیں جو اِن نعمتوں کو سمجھنے اور جاننے والے ہیں۔
 

زمانہ حال میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر تربیت سالکین تقریباً نصف صدی سے اجتماعی انداز سے مشائخ سلسلہ عالیہ سے اکتساب فیض کر رہے ہیں ۔  
تحدیث نعمت کے طور پر حمداً اللہ و شکر اً علی نعمائب، پوری دنیا میں ہزاروں خوش بخت تزکیہ و تعمیر سیرت کے مراحل سے گزر کر سلوک و احسان کے اعلی مقامات سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔  اللہ کریم کا لاکھ لاکھ احسان ہے اس نے اپنے فضل و کرم خصوصی سے اس دورِ آخر میں صحیح اسلامی سلوک و احسان کی تجدید و احیاء کا اہم اور منفرد کام حضرت قلزمِ فیوضات مولانا اللہ یار خانؒ اور حضرت قاسمِ فیوضات رحمۃ اللہ علیہ کے بعد حضرت عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کو علمی اور عملی طور پر کماحقہ، انجام دینے کی توفیق خاص سے نوازا:
ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ (الْجُمُعَة : 4)  ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتے ہیں عطا فرماتے ہیں۔  اور
وَاللہُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِہٖ مَنْ يَّشَاءُ  (الْبَقَرَة : 105)  ترجمہ: اور اللہ جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتے ہیں۔ 
ایں سعادت قسمت شاہباز و شاہیں کرد اند

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا طریقہ ذکر

سلسلہ اویسیہ کا طریقہ ذکر یہ ہے کہ ہر سانس کی نگرانی کی جائے اور ہر سانس پہ نگاہ رکھی جائے، ہر آنے جانے والے سانس کے ساتھ یہ توجہ کی جائے، کہ اندر جانے والے سانس کے ساتھ لفظ "اللہ" اندر جارہا ہے اور جب سانس باہر آتی ہے تو اس کے ساتھ لفظ "ھو" خارج ہوتا ہے اور "ھو" کی چوٹ لگتی ہے  اس لطیفے پر جس پر ہم ذکر کرنا چاہ رہے ہوں (یاد رہے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پر ذکر کیا جاتا ہے)۔

لطائف, روح کے اعضائے رئیسہ

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں سات لطائف پر ذکر کیا جاتا ہے۔

لطائف
انسانی وجود کے دو حصے ہیں: رُوح اور جسم۔ جسم کے اجزائے ترکیبی مٹی، پانی، آگ اور ہوا ہیں۔ ان کے ملنے سے جو مادّہ متحرک وجود میں آتا ہے اسے نفس کہتے ہیں۔ ان پانچوں اجزاء کا تعلق عالمِ خلق سے ہے۔ جسم مادّی میں پانچ اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، گردے، پھیپھڑے اور جگر) ہیں۔ اسی طرح رُوح عالمِ امر کی چیز ہے جس کو امر ربی سے تخلیق کیا گیا ہے جو لطیف ہے اور جس بدن میں ہو، اسی کی شکل پر ہوتی ہے۔ رُوح کی شکل و صورت انسان کا لطیف فوٹو ہے۔ اس کے بھی پانچ اعضائے رئیسہ (قلب، روح، سری، خفی اور اخفاء) ہیں۔ ان کا تعلق عالم امر سے ہے۔ یہ گویا رُوح کے حواس ہیں۔ جس طرح دنیا کی ترقی کا دارومدار جسمانی حواس اور اعضاء کی سلامتی پر ہے، اسی طرح اُخروی ترقی اور درجات کا دارومدار اِن باطنی حواس یعنی لطائف کی اصلاح پر ہے ۔

لطیفہ قلب
یہ دِل کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔ قلب اپنی لطافتوں کی وجہ سے بے حد وسیع ہے۔ اللہ کا نُور جو آسمانوں اور زمینوں میں نہیں سما سکتا وہ مومن کے قلب میں سما جاتا ہے۔ الفاظ زبان پر ہوتے ہیں لیکن ان کا اصلی جوہر یعنی کیفیت قلب میں ہوتی ہے۔ یہی تصدیق قلب کہلاتی ہے ۔۔۔ اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِیْقٌ بِالْقَلْب ۔۔۔   کیفیات ایک قلب سے دوسرے قلب میں نفوذ کرتی ہیں۔ جس طرح سرورِ کونین ﷺ کی صحبت نے ایمان والوں کو شرفِ صحابیت سے نوازا، اسی طرح آج بھی کسی شیخ کامل کی صحبت  نصیب ہو جائے تو اسے اتباعِ شریعت کی توفیق نصیب ہوگی۔ اسی طرح عملی زندگی کی اصلاح، محبت ِ الٰہی اور عشق رسول ﷺ جیسی نعمتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
چوں  بصاحب  دِل  رسی  گوہر  شوی

اس لطیفہ پر فیض حضرت آدم علیہ السلام سے آتا ہے۔ اس کے انوارات کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ یہی لطیفہ انسانی اعمال پر حکومت کرتا ہے۔ اسی میں خواہشات پیدا ہوتی ہیں اور آرزوئیں بنتی ہیں جن کی تکمیل کے احکامات دماغ کو جاتے ہیں اور وہ پورے بدن کو ان کی تکمیل پر لگا دیتا ہے۔ اگر ایمان قبول کرے تو تجلیاتِ باری کا مرکز بن سکتا ہے۔ اور یوں دنیا کے کام بھی احکامِ الٰہی اور تعلیماتِ نبوت ﷺ سے مزین ہو کر آخرت کی تعمیر کے لئے کار آمد ہو جاتے ہیں۔ شیخ کامل کی پہچان بھی یہی ہے کہ اس کی صحبت میں قلب منور ہو کر کردار کی اصلاح کا سبب بن جائے۔ یاد رکھیے، بُروں کی صحبت بھی زہر قاتل کا اثر رکھتی ہے بلکہ بد عقیدہ لوگوں کے مال میں بھی اس کا اثر موجود ہوتا ہے۔ تزکیہ کی ابتداء اور انتہا سب قلب کی اصلاح پر موقوف ہے۔ عقائد کا یقین، تسلیم و رضا کی کیفیت، صبر و شکر کے جذبے، اطمینان و سکون،توکّل، اخلاص اور تقویٰ سبھی کا دارومدار قلب کی اصلاح پر ہوتا ہے۔

لطیفہ رُ وح
اصل لطیفہ قلب ہے اور باقی سب اس کی ذیلی شاخیں ہیں۔ لطیفہ رُوح کا مقام دِل کے بالمقابل دائیں طرف ہے۔ اس لطیفہ کے منور ہو جانے سے انسان میں مستقل مزاجی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ لطیفہ رُوح کے انوارات کا رنگ سرخ سنہری ہوتا ہے۔ قلب عالمِ خلق کے عالمِ امر کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہے اور لطیفہ رُوح بدن اور رُوح کے ساتھ تعلق کی کڑی ہے۔ جس قدر یہ منور ہوتا ہے اسی قدر خواہشات مادّی پر خواہشات رُوحانی کا غلبہ ہوتا ہے۔ بندہ اَکل حلال اور  صدقِ مقال کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بدن کے ساتھ ساتھ رُوح کی اصلاح اور ترقی کے کام کرتا ہے۔ لطیفہ رُوح پر دو انبیاء کا فیض ہوتا ہے,

حضرت نوحؑ اور حضرت ابراہیمؑ ۔ دونوں انبیاء علیہم السلام استقامت کا پہاڑ تھے۔ لہٰذا لطیفہ رُوح جب منور ہو جائے تو حق پر استقامت نصیب ہوتی ہے۔ گویا انتہائی سخت حالات میں بھی بندہ حق پر قائم رہتا ہے اور وہ دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ بن جاتا ہے۔ اعمال کا اثر چونکہ رُوح پر ہوتا ہے۔ توجہ، ذکر اور اعمال صالح اس کی قوتِ پرواز کو بڑھاتے ہیں۔ عقیدت میں کمی یا اعمال میں کوتاہی اس کی قوت کو کم یا کبھی ختم بھی کر دیتی ہے۔ عقائد کی خرابی اور اعمال کی بربادی سے اس کی شکل بگڑتی اور مسخ ہو جاتی ہے۔

لطیفہ سرِّی
اس لطیفہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فیض ہوتا ہے۔ اس کے انورات کا رنگ سفید ہوتا ہے۔ سالک جس کا لطیفہ قلب اس کے ذاتِ باری پر ایمان اور یقین سے لبریز ہو چکا تھا، اب لطیفہ رُوح نے روشن ہو کر استقامت عطا کر دی تو لطیفہ ٔ سری کے منور ہونے سے اب لذتِ دیدار کا طالب ہو جاتا ہے۔

لطیفہ خفی
اس کا مقام سری کے مقابل دائیں طرف ہے۔ قلب کے ارادے یا رُوح کو اللہ تک پہنچانے کا کام اسی لطیفہ کا ہے۔ اس لطیفہ پر حضرت عیسیٰؑ کا فیض ہوتا ہے جس پر گہرے نیلے رنگ کے انوارات ہوتے ہیں۔ اس لطیفہ کے منور ہونے سے آخرت، حساب کتاب اور جنت و دوزخ پر یقین کامل نصیب ہوتا ہے۔

لطیفہ اخفیٰ
اس لطیفہ پر حضور ﷺ کا فیض ہوتا ہے۔ اس کے انوارات کا رنگ سبز ہے۔ یہ چاروں لطائف کے درمیان واقع ہے اور پورے سینے کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ پہلے چاروں لطائف اسی سے مستفیض ہوتے ہیں۔ اس کے اثرات ہر ذاکر کو اس کی حیثیت یعنی خلوص اور محنت کے مطابق نصیب ہوتے ہیں۔ عجیب اسرار ورموز کھلتے ہیں جنہیں بندہ محسوس تو کرتا ہے لیکن بیان کرنا مشکل ہے۔ بفضل تعالیٰ ایسا شخص دِل و جان اور رُوح و جسم سمیت شریعت پر عمل کے لئے سرگرم عمل ہو جاتا ہے۔

لطیفہ نفس
اس کا مقام پیشانی کا وہ حصّہ ہے جو سجدے کے وقت زمین پر لگتا ہے۔ لطائف خمسہ جب روشن ہوتے ہیں تو نفس کو بھی روشنی نصیب ہوتی ہے اور وہ نفسِ امّارہ سے نفسِ لوّامہ بنتا ہے یعنی خلافِ شریعت پر ملامت کرنے والا، پھر ترقی کر کے نفسِ مطمٔنہ بن جاتا ہے اور مستقل اطاعت ِ الٰہی کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ عجیب نعمت شیخ کامل کی ایک نگاہ اور توجہ سے نصیب ہو سکتی ہے۔ انسانی زندگی کی تکمیل نفس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر نفس بارگاہِ اُلوہیت اور دربارِ رسالتﷺ کی طرف گامزن ہو جائے تو نہ صرف زندگی بلکہ موت اور آخرت بھی سنور جاتی ہے اور بندہ اپنے مقصد حیات کو پالیتا ہے۔

لطیفہ سلطان الاذکار
اس کے بعد ساتواں لطیفہ سلطان الاذکار ہے۔ گویا بدن کا ہر سیل  (cell) ذاکر ہو جاتا ہے اور اس پر تجلیاتِ باری ہوتی ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر بدن میں تقریباً دَس کھرب سیل ہوتے ہیں۔ سلطان الاذکار میں ہر سیل ذاکر اور روشن ہو جاتا ہے۔ذرا اُس بدن کا خیال کریں جس میں اللہ کے نُور سے کھربوں قندیلیں روشن ہوں۔سانس کی آمدو رفت اور دِل کی ایک دھڑکن میں یہ کھربوں سیل کئی بار اللہ اللہ کہہ اٹھتے ہوں۔ ایسے بدن کو حفاظت ِ الٰہیہ نصیب ہوتی ہے اور اس کی عملی زندگی اتباعِ شریعت میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ سب شیخ کامل کی نسبت کا کرشمہ ہوتا ہے۔ اگر شیخ کامل کا یہ مقام ہے تو پھر شانِ رسالتﷺ کیا ہوگی، ساتوں لطائف ذاکر ہو جائیں تو بدن انوارات و تجلیات کا چلتا پھرتا خزانہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر ساری توجہ کو پہلے لطیفہ پر لے جایا جاتا ہے۔

ذکراللہ

ذکر اللہ

زندگی میں جسم کی سلامتی کے لئے جو اہمیت سانس کو حاصل ہے، وہی حیثیت رُوح کے لئے یادِ الٰہی کی ہے۔ نماز اور تلاوت کا فائدہ اصلاح قلب پر موقوف ہے۔ 
قرآن کریم میں 165 مقامات پر ذِکر کا حکم آیا ہے۔
فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ     (البقرۃ : 152)
پس تم مجھ کو یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔
نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے، "مردہ جیسے اپنے نفع و نقصان سے بے خبر ہوتا ہے، ایسے ہی غافل قلب ہمیشہ والے نفع سے محروم رہتا ہے۔"

تفسیر مظہری میں حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے حوالہ سے ذکر کی وضاحت بیان ہوئی ہے؛ "تلاوت اور نماز دونوں ہی ذکر ہیں۔ جو اِن میں محو ہو گیا اسے کسی اور ذِکر کی حاجت نہیں رہی۔ نیز نماز ایسا ذِکر ہے جو اہل ایمان کی معراج ہے۔ لیکن ان دونوں اذکار کا فائدہ فنائے نفس کے بعد ہی ہوتا ہے اور فنائِ نفس کے لئے ذکرنفی اثبات ضروی ہے۔"
اس قولِ فیصل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تلاوت اور نماز ذِکر الٰہی ہیں جن سے فائدہ تو حاصل ہوتا ہے مگر جس  طرح دور نبویﷺ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حاصل ہوا کہ آنِ واحد میں زندگیاں بدل گئیں وہ ہمیں کیوں نصیب نہیں ہو رہا؟ اس لئے کہ ہمارے زنگ آلود قلوب پر آج کے ماحول میں پھیلی نحوست کی تہیں جمی ہوئی ہیں جو صرف اور صرف ذکر اسمِ ذات اور نسبت ِشیخ سے ہی ختم ہو سکتی ہیں اور یہی کام اہلِ تصوف تبع تابعین کے بعد سے کرتے چلے آرہے ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں؛
کَانَ رَسُوْلُ اللہِﷺ یَذْکُـرُ اللّٰہَ فِیْ کُلِّ اَحْیَانِہٖ      (ابودائود)
نبی کریمﷺ ہر حال میں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے۔

مندرجہ بالا آیات و احادیث سے مراد ذکر ِقلبی ہے کیونکہ ذکر ِلسانی کو دوام نہیں۔ معارف القرآن میں بھی اس آیت کی تشریح کی گئی ہے کہ عین لڑائی کے وقت بھی اللہ کا ذِکر جاری رہے، دِل سے بھی اور اتباعِ شریعت سے بھی۔ غرض نماز ختم ہوئی لیکن ذِکر ختم نہیں ہوا، سفر اور خوف کی حالت میں نماز میں تخفیف ہے لیکن ذِکر میں نہیں۔
 

ذِکر کی اہمیت مفسرین کرام کی نگاہ میں؛

تفسیر کبیر؛ نماز سے فارغ ہو جائو تو ہر حال میں ذکر میں مشغول ہو جائو کیونکہ خوف اور مشکل کا علاج صرف ذکر ِالٰہی ہے۔
تفسیر حقانی؛ ذکر کی تین اقسام ہیں،
  • ذکر ِلسانی: زبان سے اللہ کی حمد وثنا، تسبیح اور تہلیل کرنا۔
  • ذکر ِقلبی: افضل اور مؤثر ترین عبادت ہے جو لطائف باطنیہ اور اپنی جمیع قویٰ ادراکیہ کو اللہ کی طرف متوجہ کر دے یہاں تک کہ محویت حاصل ہو جائے اور اپنی ذات بھول جائے۔ خواہ نفی اثبات، مراقبہ یا توجہ اور قوتِ شیخ سے یہ بات حاصل ہو جائے۔
  • عملی ذِکر: اعضاء کو اللہ کے ذکر میں استعمال کرنا اورمنہیات سے اپنے آپ کو روکنا۔
کتاب الاذکار: امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ذِکر لسانی بھی ہوتا ہے اور قلبی بھی۔افضل ذکر وہی ہے جو دونوں سے کیا جائے اور اگر ایک پر ہی اکتفا کرنا ہو تو پھر ذکر ِقلبی افضل ہے۔
الفتح الربانی: شیخ عبد القادر جیلانی  ؒفرماتے ہیں کہ 'ذاکر وہی ہے جو اپنے قلب سے ذکر کرے۔ یعنی ذکر قلبی نصیب ہو'۔
 

حاصل کلام

یہ بات واضح ہو گئی کہ ذکر ِقلبی، ذکر ِ لسانی سے علیحدہ اور افضل عبادت ہے۔ نیزنماز اور تلاوت کے علاوہ بھی اپنے قلوب کو اللہ کی یاد سے آباد کرنا ضروری ہے۔ غافل قلب کی ساری عبادات اور اعمال بے اثر ہو جاتے ہیں کیونکہ جسم رکوع و سجود میں ہوتا ہے اور دِل دُنیاوی کاروبار میں۔ دِل چونکہ جسم کا بادشاہ ہے لہٰذا انسان کا جھکائو اسی طرف ہوگا جس طرف دِل ہوگا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن حکیم میں حکم ہے؛

وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا     (سورۃ  الْكَهْف : 28)
ایسے شخص سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے غافل ہو گیا۔
 
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى       (سورۃ  طهٰ : 124)
اور جو میرے ذکر (ہدایت) سے منہ پھیرے گا تو یقیناً اس کے لئے (دنیا میں) تنگی کی زندگی ہوگی اور قیامت کے دن ہم اس کو (قبر سے) اندھا کرکے اٹھائیں گے۔
 
 اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ     (سورۃ  الرَّعْد : 28)
یاد رکھو، اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔
 

 فیوضات وبرکاتِ نبوی ﷺ

 ذکر ِقلبی کے بغیر مثبت تبدیلی آنا محال ہے۔ اللہ کی یاد سے غفلت انسان کے اندر کی دنیاکو تہہ و بالا کر دیتی ہے۔ ایسا انسان طرح طرح کی چیزوں میں سکون تلاش کرتا ہے اور گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ دراصل تعلیماتِ نبوی ﷺ کے ساتھ وہ کیفیات بھی ضروری ہیں جنہیں برکات یا فیوضاتِ نبوی ﷺ کہتے ہیں۔ قلوب انہی سے تبدیل ہوتے ہیں۔موجودہ دور میں بھی یہ نعمت شیخ کامل کے روشن قلب اور نسبت سے نصیب ہو سکتی ہے جو انسان کی اصلاح کا سبب بنتی ہے اور یوں وہ عملی زندگی میں (مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ) گناہ سے نیکی کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے۔
قال  را  بگزار  حال  شو
پیش مردِ کامل پامال شو

ذکراللّٰہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذِکر اللہ قرآنِ کریم کی روشنی میں

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔
 
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا ۝     (الاحزاب : 41)
اے ایمان والو! اللہ کا ذِکر بہت کثرت سے کرو۔
 
وَاذْکُرِاسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلًا ۝     (المزمل : 8)
اور اپنے پروردگار کے نام کا ذِکر کریں اور سب سے یکسو ہو کر اُسی کی طرف متوجہ ہوجائیں۔
 
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی ۝ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ۝     (الاعلٰی : 15-14)
جو پاک ہوا یقیناً وہ مراد کو پہنچ گیا۔ اور اپنے پروردگار کے نام کا ذِکر کرتا رہا، پھر عبادت کرتا رہا۔
 
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّ دُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ ۝     (الاعراف : 205)
اور اپنے پروردگار کو دِل ہی دِل میں یاد کریں عاجزی اور خوف سے اور اونچی آوازکے بغیر صبح و شام(ہمہ وقت) اور(کبھی) بھولنے والوں میں شامل نہ ہوں۔
 
وَ اذْکُرْ رَّبَّکَ اِذَا نَسِیْتَ ۝     (الکہف : 24)
اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے پروردگار کا ذِکر کیجئے۔
 
وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ۝     (الکہف : 28)
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھیئے جو صبح شام (علی الدوام) اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں، اُس کی خوشنودی کے طالب ہیں۔
 
اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ ۝ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ ۝     (الاعراف:56-5)
اپنے پروردگار کو عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارو بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ اور تم ملک میں اس کی اصلاح ہوجانے کے بعد فساد نہ کرو اور اُس سے ڈرتے ہوئے اور اُمید رکھتے ہوئے پکارو بے شک اللہ کی رحمت (خلوص سے) نیکی کرنے والوں کے قریب تر ہے۔
 
یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْن ۝     (المنفقون : 9)
اے ایمان والو! تم کو تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کردے اور جو کوئی ایسا کرے گا تو ایسے لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
 
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللّٰہَ ذِکْرًا کَثِیْرًا ۝     (الاحزاب : 41)
اے ایمان والو! اللہ کا ذِکر بہت کثرت سے کرو۔
 
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ۝     (الجمعۃ:10)
پھر جب نماز پوری ہوچکے تو زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو (کاروبار کرو) اور اللہ کا ذِکر کثرت سے کرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔
 
فَاِذَاقَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوااللّٰہَ قِـیٰمًا وَّقُعُوْدًاوَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ ۝     (النساء : 103)
پس جب تم نماز ادا کرچکو تو اللہ کا ذِکر کرو کھڑے بھی اور بیٹھے بھی اور لیٹے ہوئے بھی۔
 
وَاذْکُرْ رَّبَّکَ کَثِیْرًا     (آل عمران : 41)
اور اپنے ربّ کا ذِکرکثرت سے کریں۔
 
فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ     (البقرۃ : 152)
پس تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا
 
اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ھُمْ مُّبْصِرُوْن ۝     (الاعراف : 201)
یقیناً جو لوگ پرہیز گار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو وہ (اللہ کی) یاد میں لگ جاتے ہیں پس یکایک وہ دیکھنے لگتے ہیں (ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں)۔
 
اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ     (الرعد : 28)
یادرکھو! اللہ کے ذِکر سے ہی دِل اطمینان پاتے ہیں۔
 
لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰہَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْرًا ۝     (الاحزاب : 21)
یقیناً تم لوگوں کے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے (ملنے کی) اُمید رکھتا ہو او رکثرت سے ذِکرِ الٰہی کرتا ہو، اللہ کے پیغمبر میں ایک عمدہ نمونہ موجود ہے۔
 
وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ۝     (الاحزاب : 35)
اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذِکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیار فرما رکھا ہے۔
 
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۝     (آل عمران : 135)
اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی بےحیائی کاکام ہوجائے یا اپنے آپ پر ظلم کربیٹھیں تو وہ اللہ کا ذِکر کرتے ہیں پس اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرتے ہیں۔
 
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا ۝     (الشعراء : 227)
(ہاں!) مگر جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کیا۔
 
وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیْطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیْنٌ ۝     (الزخرف : 36)
اور جو رحمٰن (اللہ) کی یاد (قرآن) سے آنکھیں بند کرلے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں تو وہ(ہر وقت) اس کے ساتھ رہتا ہے۔
 
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی ۝     (طٰہٰ : 124)
 اور جو میرے ذِکر(ہدایت) سے منہ پھیرے گا تو یقیناً اس کے لئے (دنیا میں) تنگی کی زندگی ہوگی او رقیامت کے دن ہم اس کو (قبر سے) اندھاکرکے اٹھائیں گے۔
 
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ     (البقرۃ : 114)
اور جو مسجدوں میں اللہ کے نام کا ذِکر کرنے سے روکے اس سے بڑا ظالم کون ہوگا۔
 
وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا ۝     (الجن : 17)
اور جو اپنے پروردگار کے ذِکر سے رُوگردانی کرے گا وہ(اللہ) اس کو سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔
 
فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا وَلَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا     (النجم : 29)
جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا طالب ہو تو آپ بھی اس سے رُخِ (انور) پھیر لیجئے۔
 
وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰہُمْ اَنْفُسَھُمْط     (الحشر : 19)
اور اُن لوگوں کی مانند مت ہونا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس(اللہ) نے ان کو ایسا کردیا کہ اُنہیں خود اپنی خبر نہ رہی۔
 
اَفَمَنْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖط فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُبِیْنٍ ۝
اَللہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثَ کِتٰبًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ صلے تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُھُمْ وَ قُلُوْبُھُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللہِ ۝     (الزمر : 22-23)

بھلا جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو تو وہ اپنے پروردگار کی طرف سے نور (روشنی) پر ہوپس اُن پر افسوس ہے جن کے دِل اللہ کے ذِکر سے سخت ہورہے ہیں (یعنی ذِکر نہیں کرتے) یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں۔ اللہ نے نہایت اچھی اچھی باتیں نازل فرمائی ہیں کتاب (جس کی آیات) ملتی جلتی ہیں (اور)دہرائی جاتی ہیں جن سے ان لوگوں کے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بدن کانپ اُٹھتے ہیںپھر ان کے بدن اور ان کے دِل نرم ہو کر اللہ کے ذِکر کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔
 
وَ لَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَر     (النعکبوت : 45)
 اور اللہ کا ذِکر(یاد) سب سے بڑا ہے۔
 
وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی ۝     (طٰہٰ : 14)
اور میرے ذِکر(یاد) کے لئے نماز پڑھا کریں۔
 
وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ۝     (الجمعہ : 10)
 اور اللہ کا ذِکر کثرت سے کرتے رہو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو۔
 
اِذْھَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْکَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِکْرِی     (طٰہٰ : 4)
آپ اور آپ کا بھائی ہماری نشانیاں لے کرجائیں اور میری یاد (میرے ذِکر) میں سستی نہیں کیجئے گا۔
 
وَلٰـکِنْ مَّتَّعْتَہُمْ وَاٰبَآئَہُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ وَکَانُوْا قَوْمًا بُوْرًا     (الفرقان : 18)
لیکن آپ نے اُن کو اور اُن کے بڑوں کو(خوب) نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ (آپ کی) یاد (ذِکر) بھول گئے او ریہ ہلاک ہونے والے تھے۔
 
اِسْتَحْوَذَ عَلَیْہِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰہُمْ ذِکْرَ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ اَلَآ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۝     (المجادلہ : 19)
 ان پر شیطان نے تسلط کرلیا ہے پھر ان کو اللہ کی یاد بھلادی۔ یہی شیطان کا گروہ ہے خوب سن لو! کہ بے شک شیطان کا گروہ ہی نقصان اُٹھانے والا ہے۔
 
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآئَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْن ۝     (المائدہ : 91)
بے شک شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کردے او رتم کو اللہ کے ذِکر سے اور نماز سے روک دے تو کیا تم اب بھی باز(نہیں) آئو گے۔
 
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآئَ کُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا ۝     (البقرۃ : 200)
پھر جب تم اپنے تمام ارکان پویر کرچکو تو اللہ کا ذِکر ایسے کرئو جیسے اپنے آباء کا ذِکر کرتے تھے یا اس سے بہت زیادہ یاد کرو۔
 
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن ۝     (البقرۃ : 239)
پھر جب امن میں آجائو تو اللہ کا یاد کرو جیسے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
 
فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن ۝     (الانبیاء : 7)
(انکار کرنے والو!) سو اگر تم کو یہ بات معلوم نہ ہوتو جو یاد رکھتے ہیں ان (اہلِ کتاب) سے پوچھ لو۔
 
فَاذْکُرُوْٓا اٰلَآئَ اللّٰہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ۝     (الاعراف : 69)
پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کروتا کہ تم نجات پائو۔
 
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ لَاٰیٰتِ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ۝  الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ وَ یَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا ۝     (آل عمران : 190-191)
یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کرآنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کا ذِکر کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور لئے (ہرحال میں) اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار! آپ نے یہ (سب) بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔
 
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ ھُوَ خَادِعُھُمْ وَ اِذَا قَامُوْٓا اِلَی الصَّلٰوۃِ قَامُوْا کُسَالٰی یُرَآئُ وْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا ۝     (النساء : 142)
بے شک منافق اللہ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ (اللہ) انہیں دھو کے میں ڈالنے والے ہیں۔ اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت سُست ہوکر کھڑے ہوتے ہیں (حرف) لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اللہ کا ذِکر نہیں کرتے مگر بہت کم۔
 

ذِکر اللہ حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ عَنْ رَسُوْلُ اللہِﷺ یَقُوْلُ اللہٗ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ وَاَنَا مَعَہٗ اِذَا ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہٗ فِیْ نَفْسِیْ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَاءِ ذَکَرْتُہٗ فِیْ مَلَاءٍ خَیْرً مِّنْہٗ
(متفق علیہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں بندہ کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہوں جیسے وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دِل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اپنے دِل میں اسے یاد کرتا ہوں، اگر وہ کسی جماعت میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس جماعت سے بہتر جماعت(فرشتوں) میں اسے یاد کرتا ہوں۔
 
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ مَثَلُ الَّذِیْ یَذْکُرُ رَبَّہٗ وَالَّذِیْ لَا یَذْکُرُ رَبَّہٗ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ     (متفق علیہ)
حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے ربّ کا ذِکر کرتا ہے اور جو ذِکر الٰہی نہیں کرتا اس کی مثال ایسی ہے جیسے زندہ اور مردہ۔
 
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ ﷺ اِنَّ لِلہِ تَعَالٰی مَلَائِکَۃً یَّطُوْفُوْنَ فِی الطَّرِیْقِ یَلْتَمِسُوْنَ اَہْلَ الذِّکْرِ فَاِذَا وَجَدُوْا قَوْمًاتَذْکُرُوْنَ اللہَ عَزَّوَجَلَّ تَنَادَوْا ھَلُمُّوْا اِلٰی حَاجَتِکُمْ فَیَحُفَّوْنَھُمْ بِاَجْنِحَتِھِمْ اِلٰی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَسْئَالُھُمْ رَبُّھُمْ وَ ھُوَ اَعْلَمُ بِھِمْ مَا یَقُوْلُ عِبَادِیْ قَالَ یَقُوْلُوْنَ یُسَبِّحُوْنَکَ وُیْکَبِّرُوْنَکَ وَ یَحْمَدُوْنَکَ وَیَمْجَدُوْنَکَ فَیَقُوْلُ ھَلْ رَاَوْنِیْ فَیَقُوْلُوْنَ لَا وَ اللّٰہِ مَا رَاَوْکَ فَیَقُوْلُ کَیْفَ لَوْ رَاَوْنِیْ قَالَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ رَاَوْکَ کَانُوْا اَشَدَّ لَکَ عِبَادَۃً وَ اَشَدَّ لَکَ تَمْحَیْدًا وَ اَشَدَّ لَکَ تَمْجِیْدًا وَاَکْثَرَ تَسْبِیْحًا فَیَقُوْلُ فَمَاذَا یَسْئَلُوْنَ قَالَ یَقُوْلُوْنَ یَسْئَالُوْنَ الْجَنَّۃَ قَالَ یَقُوْلُ وَھَلْ رَاَوْھَاقَالَ یَقُوْلُوْنَ لَا وَاللہِ یَارَبِّ مَا رَاَوْھَا یَقُوْلُ کَیْفَ لَوْرَاَوْھَاقَالَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ اَنَّھُمْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ عَلَیْھَاحِرْصًا وَ اَشَدَّبِھَا طَلَبًا وَ اَعْظَمَ فِیْھَا رَغْبَۃً قَالَ فَمِمَّ یَتَعَوَّذُوْنُ قَالُوْا یَتَعَوَّذُوْنَ مِنَ النَّارِ قَالَ یَقُوْلُ وَ ھَلْ رَاَوْھَا کَانُوْا اَشَدَّ مِنْھَا فِرَارًا وَ اَشَدَّلَھَا مُخَافَۃً قَالَ فَیَقُوْلُ فَاُشْھِدُکُمْ اَنِّیْ قَدْ غَفَرْتُ لَھُمْ قَالَ یَقُوْلُ مَلَکٌ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ فَمِنْھُمَ فُلَانٌ لَیْسَ مِنْھُمْ اِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَۃٍ قَالَ ھُمُ الْجُلَسَاءُ لَایَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ     (متفق علیہ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اللہ کریم کے کچھ فرشتے ایسے ہیں کہ آبادیوں میں گھومتے ہیں اہلِ ذِکر کی تلاش میں پھرتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی ایسی جماعت ملتی ہے جو مل کر ذِکر کررہے ہوں تو وہ فرشتہ دوسرے ساتھیوں کو آواز دیتا ہے کہ اِدھر آئو ہمارا مطلوب ومقصود یہاں ہے۔ پھر فرشتے ان ذاکرین پر آسمانِ دُنیا تک سایہ کرلیتے ہیں۔ ان کا ربّ ان فرشتوں سے پوچھتا ہے (حالانکہ وہ خوب جانتا ہے) کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں تیری حمد وثناء اور تعریف کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے فرشتے کہتے ہیں بخدا! اُنہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ پھر سوال ہوتا ہے اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو ان کی کیفیت کیا ہوتی؟ جواب ملتا ہے، الٰہی! وہ تیری عبادت اور حمد وثناء میں جان کھپا دیتے۔ سوال ہوتا ہے، وہ کیا مانگتے ہیں، فرشتے کہتے ہیں، وہ جنت مانگتے ہیں۔ اللہ کریم فرماتا ہے، کیا انہوں نے جنت دیکھی ہوئی ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں بخدا! ہرگز نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے اگر انہوں نے جنت کو دیکھ لیا ہوتا تو ان کی کیا حالت ہوتی؟ عرض کرتے ہیں اس کی طلب میں بہت زیادہ شدت ہوتی اور رغبت بڑھتی۔ ارشاد ہوتا ہے تو کیا وہ کسی چیز سے پناہ بھی مانگتے ہیں۔ فرشتے عرض کرتے ہیں الٰہی! وہ دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے، کیا انہوں نے جہنم کا نظارہ کیا ہوا ہے؟ عرض کرتے ہیں بخدا! ہرگز نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے اگر وہ دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟ عرض کرتے ہیں، وہ اس سے سخت ڈرتے او راس سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے۔ ارشاد ہوتا ہے، اچھا تو میں تمہیں گھواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا۔ ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ فلاں آدمی اس جماعت ذاکرین میں سے نہیں ،یونہی کسی کام سے آیا، ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ارشاد ہوتا ہے یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم او ربد بخت نہیں رہتا۔
 
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ اَنَا مَعَ عَبْدِیْ اِذَا ذَکَرَنِیْ وَتَحَرَّکْتَ بِیْ شِفَتَاہٗ     (رواہ البخاری)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذِکر کرتا ہے اور میرے ذِکر کے لئے اس کے لب حرکت میں آتے ہیں۔
 
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَلشَّیْطَانُ جَاثِمٌ عَلٰی قَلْبٍ اِبْنِ آدَمَ فَاِذَا ذَکَرَ اللّہَ خَنَّسَ وَ اِذَا غَفَلَ وَسْوَسَ     (رواہ البخاری)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے قلب پر نظر جمائے گھات میں بیٹھا رہتا ہے جب انسان اللہ کا ذِکر کرے وہ دور ہٹ جاتا ہے اور جب یاد الٰہی سے غافل ہو۔ شیطان آگے بڑھ کر اس کے قلب میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔
 
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْنَ قَالُوا وَمَا الْمُفَرِّدُوْنَ یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ الذّٰکِرُوْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَ الذّٰکِرَاتِ     (رواہ مسلم)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، مفرد لوگ بازی لے گئے۔ صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! مفرد کون ہیں؟ فر مایا اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں۔
 
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَؓ وَاَبِیْ سَعِیْدٍ اَنَّھُمَاشَھِدَا عَلٰی رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَنَّہٗ قَالَ لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَۃُ وَعَشِیَتْھُمُ
الرَّحْمَۃُ وَنَزَلَتْ عَلَیْھِمُ السَّکِینَۃُ وَ ذَکَرَھُمُ اللہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ     (رواہ مسلم و الترمذی وابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جو جماعت اللہ کے ذِکر کے لئے بیٹھتی ہے فرشتے انہیں گھیرلیتے ہیں اللہ کی خصوصی رحمت ان پر سایہ کرلیتی ہے ان کے دِلوں میں سکون اور اطمینان نازل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں میں فخر ومباہات سے ان کا تذکرہ فرماتے ہیں۔
 
عَنْ اَنَسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّہِ ﷺ قَالَ لَاتَقُوْمُ السَّاعَۃَحَتّٰی لَا یُقَالَ فِی الْاَرْضِ اَللہٗ اَللہٗ    
وَ فِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ ۔۔۔ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ عَلٰی اَحَدٍ یَقُوْلُ اَللہٗ اَللہٗ     (رواہ مسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، بے شک اللہ اللہ کرنے والا ایک فرد بھی دنیا میں موجود ہوگا تو قیامت نہیں آئے گی۔
 
عَنْ مُعَاوِیَۃَؓ اَنَّہٗ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّہِ ﷺ عَلٰی حَلْقَہٍ مِنْ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ مَا اَجْلَسَکُمْ قَالُوْا جَلَسْنَا تَذْکُرُ اللہَ تَعَاَلٰی وَنَحْمَدَہٗ وَ عَلٰی مَا ھَدَانَا لِلْاِ سْلَامِ وَمَنَّ بِہٖ عَلَیْنَا قَالَ آللّٰہِ مَا اَجْلَسَکُمْ اِلَّا ذَاکَ قَالُوْا وَ اللّٰہِ مَااَجْلَسَنَا اِلَّا ذَالِکَ قَالَ اَمَا اِنِّیْ لَمْ اَسْتَحْلِفْکُمْ تُھْمَۃً لَّکُمْ ولَکِنَّہٗ اَتَانِیْ جَبْرِیْلُ فَاَ خْبَرَنِیْ اَنَّ اللہَ تَعَالٰی یُبَاھِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ     (رواہ مسلم)
 حضرت معاویہؓ  سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے صحابہؓ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا، تم کس لئے یہاں بیٹھے ہو؟ عرض کیا ہم اللہ کے ذِکر کے لئے اور اس امر کا شکر ادا کرنے کے لئے بیٹھے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی ہدایت اور اپنے ذِکر کی توفیق بخشی ہے۔ فرمایا، کیا بخدا! تمہارے بیٹھنے کی غرض یہی ہے؟ عرض کیا بخدا اسی جذبہ نے ہمیں یہاں بٹھا رکھا ہے۔ فرمایا، میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم سے بحلف کہنے کو نہیں کہا بلکہ بات یہ ہے کہ جبریل امین میرے پاس آئے اور مجھے خبردی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اس عمل کی وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار فرمارہے ہیں۔
 
عَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ مَاعَمِلَ اِبْنِ آدَمَ عَمَلًا اَنْجٰی لَہٗ مِنْ عَذَابِ اللہِ مِنْ ذِکْرِ اللہِ     (رواہ مالک)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اللہ کا بندہ جو نیک عمل کرتا ہے۔ ان میں سے اللہ کے عذاب سے سب سے زیادہ نجات دلانے والا عمل ذِکر الٰہی ہے۔
 
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللہُ ﷺ سُئِلَ اَیُّ الْعِبَادُ اَفْضَلٌ وَاَرْفَعَ دَرَجَۃً عِنْدَ اللہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ اَلذَّکِرُوْنَ اللہَ کَثِیْرًا وَالذَّاکِرَاتِ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ وَ مَنِ الْغَازِیْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ قَالَ لَوْ ضَرَبَ بِسَیْفِہٖ فِی الْکُفَّارِ وَالْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُنْکَسَرَ وَیَخْتَضَبَ دِمًّا فَاِنَّ ذَاکِرَاللہَ اَفْضَلَ مِنْہٗ دَرَجَۃً      (رواہ احمد و الترمذی)
حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ سے پوچھا گیا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کون افضل ہے او رکس کا درجہ دوسروں کی نسبت بلند ہے۔ فرمایا، کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے مردوں اور عورتوں کا درجہ سب سے بلند ہے۔ عرض کیا گیا کیا اس سے بھی بلند ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے، فرمایا، اگرچہ وہ غازی اپنی تلوار کے ساتھ کفار ومشرکین سے اس شدت کے ساتھ جنگ کرے کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور وہ خون میں لت پت ہوجائے پھر بھی خلوص سے اللہ کا ذِکر کرنے والے کا درجہ اس سے بلند ہے۔
 
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ قَالَ اَکْثِرُوْا ذِکْرَ اللہِ حَتّٰی یَقُوْلُوْا مَجْنُوْنٌ
حضرت ابو سعید خُدریؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ذِکر اس کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں کہ یہ دیوانہ ہوگیا ہے۔
 
عَنْ اَنَسٍؓ  اَنَّ رَسُوْلَ اللّہِ ﷺ قَالَ اِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضُ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوْا قِیْلَ وَ مَا رِیَاضُ الْجَنَّۃِ قَالَ حِلَقُ الذِّکْرِ     (رواہ احمد و ابویعلی و ابن حبان)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جنت کے باغوں کے پاس سے جب تمہارا ذِکر ہوتو تم بھی ان میں سے اپنا پورا حصہ لے لیا کرو۔ عرض کیا گیا جنت کے باغ کون سے ہیں؟ فرمایا، ذِکر کے حلقے۔
 
عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ لَیَبْعَثَنَّ اللہٗ اَقْوَامًا یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ فِیْ وُجُوْھِھِمُ النُّوْرُ عَلٰی مَنَابِرَ اللُّؤْ لُؤِ یَغْبِطُھُمُ النَّاسُ لَیْسُوْا بِاَنْبِیَاءَ وَلَا شُھَدَاءَ فَقَالَ اَعْرَابِیٌّ جُلِّھِمْ لَنَا تَعْرِفْھُمْ قَالَ ھُمُ الْمُتَحَابُّوْنَ فِی اللہِ مِنْ قَبَائِلَ شَتّٰی یَجْتَمِعُوْنَ عَلٰی ذِکْرِ اللہِ یَذْکُرُوْنَہٗ     (رواہ احمد)
حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک ایسی جماعت کو اٹھاکر سامنے لائے گا جن کے چہرے منور ہوں گے اور وہ موتیوں سے مزین منبروں پر بیٹھے ہوں گے۔ لوگ ان پر رشک کریں گے وہ لوگ نہ انبیاء ہوں گے نہ شہداء۔ ایک اعرابی نے عرض کیا حضورﷺ اس کی وضاحت فرما دیں تاکہ ہم انہیں پہچان لیں فرمایا، وہ مختلف قبائل کے ہوں گے۔ محض اللہ کے لئے باہمی محبت کے جذبے کے تحت جمع ہوکر ذِکر الٰہی کرنے والے لوگ ہیں۔
 
عَنْ اَبِیْ الدَّرْدَاءِ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ اَلَاُنَبِّئَکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَا لِکُمْ وَاَزْکَاھَا عِنْدَ مَلِیْکِکُمْ وَاَرْفَعِھَا فَیْ دَرَجَاتِکُمْ وَخَیْرٍ لَّکُمْ مِنْ اَنْفَاقِ الذَّھَبِ وَ الْوَارِقِ وَ خَیْرٍلَّکُمْ مِنْ اَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا اَعْنَاقَھُمْ وَ یَضْرِبُوْا اَعْنَاقَکُمْ قَالُوْ بَلٰی قَالَ ذِکْرُ اللہِ     (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ)
حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتائوں جو تمہارے تمام اعمال سے بہتر ہو اور تمہارے پروردگار کے نزدیک اس کا درجہ سب سے بلند ہو اور مال و دولت کے صدقہ کرنے سے بہتر ہو اور اس عمل سے بھی بہتر ہوکہ تم دشمن کو قتل کرویا وہ تمہیں شہید کرے! صحابہؓ نے عرض کیا، کیوں نہیں ، تو حضورﷺ نے فرمایا،وہ عمل ذِکرِ الٰہی ہے۔
 
وَ عَنْ اَنَسٍ ؓ  قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَالَ مَا مِنْ قَوْمِ اِجْتَمَعُوْا یَذْکُرُوْنَ اللہَ قَدْ بُدِّلَتْ سَیِّـئَاتُکُمْ حَسَنَاتٍ     (رواہ احمد وابویعلی والطبرانی)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جو لوگ اللہ کی رضا جوئی کے لئے اس کا ذِکر کرنے مل بیٹھتے ہیں، ان کو آسمان سے ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ مغفرت سمیٹتے ہوئے اُٹھو، میں نے تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا ہے۔
 
عَنْ عَبْدُاللہِ بْنِ بُسْرٍ ؓ  قَالَ جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلٰی النَّبِّیِ ﷺ فَقَالَ اَیُّ النَّاسُ خَیْرً فَقَالَ طَوْبٰی لِمَنْ طَالٰ عُمَرَہٗ وَحَسَنَ عَمَلُہٗ
قَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِﷺ اَیُّ الْاَ عْمَالُ اَفْضَلٌ قَالَ اِنْ تُفَاتَ الدُّنْیَا وَ لِسَانَکَ رَطَبٌ مِنْ ذِکْرِاللّٰہِ     (رواہ احمد والترمذی)

حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی رحمت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کون سا آدمی بہتر ہے۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا،جس کی عمر لمبی ہو اور اعمال نیک ہوں۔ کہنے لگایا رسول اللہ! کونسا عمل سب سے افضل ہے۔
فرمایا، افضل ترین عمل یہ ہے کہ تو دُنیا سے رخصت ہونے لگے تو تیری زبان ذِکرِ الٰہی سے تر ہو۔
 
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ فِـیْمَا یَذْکُرُ عَنْ رَّبِہٖ تَعَالٰی اَذْکُرُنِیْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَ بَعْدَالْفَجْرِ سَاعَۃً اَکْفِکَ فِـیْمَا بَیْنَھُمَا      (رواہ احمد)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے کہ عصر کے بعد اور فجر کے بعد کچھ دیر تک میرا ذِکر کر، باقی اوقات میں اس کی برکت تمہارے لئے کفالت کرے گی۔
 
عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ الْجُھْنِیِّؓ  عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ اَنَّ رَجُلًا سئَاَ لَہٗ اَیُّ الْمُجَاھِدِیْنَ اَعْظَمُ اَجْرًا یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ اَکْثَرُ ھُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی ذِکْرًا قاَلَ اَیُّ الصَّائِمِیْنَ اَکْثَرَاَجْرًا قَالَ اَکْثَرُھُمُ اللہُ عَزَّوَجَلَّ ذِکْرًا ثُمَّ ذَکَرَ الصَّلٰوۃَ وَ الزَّکَوٰۃَ وَ الْحَجَّ وَ الصَّدَقَۃَ کُلَّ ذَلِکَ یَقُوْلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَکْثَرُھُمُ اللہِ ذِکْرًا     (رواہ احمد)
حضرت معاذبن انس جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ سے کسی شخص نے سوال کیا، یارسول اللہﷺ! کس مجاہد کو سب سے زیادہ اجر ملے گا۔ فرمایا، مجاہدین میںجو سب سے زیادہ اللہ کا ذِکر کرنے والا ہے۔ پھر پوچھا کون سے روزہ دار کو سب سے زیادہ اجر ملے گا۔ فرمایا، جو کثرت سے اللہ کا ذِکر کرے گا۔ اسی طرح نماز، زکوٰۃ وحج اور صدقہ کے متعلق سوال کیا، ہر ایک کے جواب میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا، سب سے زیادہ اجر کا مستحق وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا ذِکر کرنے والا ہے۔

عَنْ سَعْدٍ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ خَیْرُ الذِّکْرِ اَلْخَفِیُّ وَخَیْرُ الرِّزْقِ مَا یُکْفٰی     (مسند احمد وابن حبان)
 حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، بہترین ذِکر، ذِکر خفی ہے۔ اور بہترین رزق وہ ہے جس سے ضروریات پوری ہوتی رہیں اور کوئی کام نہ اٹکے۔
 
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ  قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ الدُّنْیَا مَلْعُوْنَۃٌ وَّ مَلْعُوْنٌ مَافِیْھَا اِلَّا ذِکْرَ اللہِ وَ مَا وَ الَاہٗ وَ عَالِمًا وَ مُتَعَلِّمًا      (رواہ الترمذی وابن ماجہ)
 حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے ملعون ہے سوائے اللہ کے ذِکر کے اور اس چیز کے جو ذِکرِ الٰہی کے قریب ہو اور سوائے عالم اورمتعلم کے۔
 
عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍؓ  قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا اَذْھَبَ ثُلُثَا اللَّیْلِ قَامَ فَقَالَ یٰٓاَ یُّھَاالنَّاسُ اُذْکُرُوااللہَ اُذْکُرُوا اللہَ جَاتَ الزَّاجِفَۃُ تَتْبَعُھَا الزَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ     (رواہ الترمذی : 4 : 636، نمبر 2457، المشکٰوۃ)
حضرت ابی بن کعب ؓ  سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ کی عادت مبارک یہ تھی کہ دو تہائی رات گزرنے پر بستر راحت سے اٹھ کر آواز دینے لگتے لوگو! اللہ کا ذِکر کرو، اللہ کا ذِکر کرو، اللہ کا ذِکر کرو۔ زلزلے پر زلزلے آنے والے ہیں، موت اپنی تمام فتنہ سامانیوں کے ساتھ آنے والی ہے۔
 
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ لَاتُکْثِرُوا الْکَلاَمَ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ فَاِنَّ کَثْرَۃُ الْکَلَامِ بِغَیْرِ ذِکْرِ اللّٰہِ قَسْوِۃً لِلْقَلْبِ وَاِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللّٰہِ الْقَلْبِ الْقَاسِیْ     (رواہ الترمذی : بَابُ مَاجَاءَ فِی حِفْظِ الْلِسَانِ)
حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اللہ کے ذِکر کے بغیر زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ ذِکرِ الٰہی کے بغیر بسیار گوئی (زیادہ کلام کرنے)سے دِل میں سختی آجاتی ہے۔ اور سب سے زیادہ اللہ سے دُور وہ ہے جو سنگ دِل ہو۔
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ مَاجَلَسَ قَوْمَ مَجْلِسًا لَمْ یَذْکُرُوا اللہَ فِیْہِ وَ لَمْ یُصَلُّوْا عَلٰی نَبِیِّھِمْ اِلَّاکَانَ عَلَیْھِمْ تِرَۃً فَاِنْ شَاءَ عَذَّ بَھُمْ وَ اِنْ شَاءَ غَفَرَلَھُمْ     (سنن الترمذی : بَابُ مَاجَأَ فِی الْقَوْمِ یَجْلِسُوْنَ وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللہَ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جس مجلس میں بیٹھ کر آدمی نے اللہ کا ذِکر نہ کیا اور نبی رحمت ﷺ پر درود نہ بھیجا وہ وقت، مال او رجگہ اس کے لئے وبال بن جائیں گے پھر اللہ چاہے تو اسے سزادے چاہے تو معاف کردے۔
 
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ ؓ اَنَّ رَجُلًا قَالَ یَارَسُوْلَ اللہِ ﷺ اِنَّ شَرَائِعَ الْاِسْلَامِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَیَّ فَاَ خْبَرْنِیْ بِشَیْ ءٍ اَسْتَنُّ بِہٖ  قَالَ لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطَبً مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ     (رواہ الترمذی : بَابُ مَاجَأَ فِی فَضْلِ الذِّکْرِ، وابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی رحمت ﷺ سے سوال کیا، سارے کے سارے احکام شریعت کی کماحقہ تکمیل میں، میں اپنے آپ کو کمزور پاتا ہوں۔ مجھے کوئی ایسا سہل او رجامع عمل بتائیں جسے میں حزر جان بنالوں۔ فرمایا، بس زبان ہمیشہ ذِکرِ الٰہی سے تر رہے۔
 
عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ ؓقَالَ قَالَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ کُلُّ کَلَامِ ابْنِ آدَمَ عَلَیْہِ لَا لَہٗ اِلَّا اَمَرَ بِمَعْرُ وْفٍ وَ نَھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْ ذِکْرَ اللہِ     (رواہ الترمذی : بَابُ مَاجَاءَ فِی حِفْظِ الْلِسَانِ)
حضرت ام حبیبہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، انسان جو بات کرتا ہے اس کے لئے وبال بنتی ہے سوائے نیکی کی تلقین اور برُائی سے روکنے کی بات کے یا سوائے ذِکرِ الٰہی کے۔
 
عَنْ عَائِشَۃَؓ  قَالَتْ کَانَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ     (صحیح البخاری، صحیح المسلم : باب الحیض ، سنن ابوداؤد : باب الطہارۃ)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کا ذِکر کرتے تھے۔
 
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ  عَنْ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ قَالَ مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ یَذْکُرِ اللہَ تَعَالٰی فِیْہِ کَانَتْ عَلَیْہِ مِنَ اللہِ تِرَۃً وَ مَنْ اِضْطَجَعَ  مَضْجِعِہٖ لَا یَذْکُرُ اللہَ تَعَالٰی فِیْہِ کَانَتْ عَلَیْہِ مِنَ اللہِ تِرَۃً     (سنن ابوداؤد : کتاب الادب ص : 25)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جو شخص کسی مجلس میں یوں بیٹھا کہ اس میں اللہ کا ذِکر نہیں ہوا تو یہ عمل اس کے لئے نقصان دہ اور باعث حسرت ہوگا اور جو شخص آرام کے لئے بستر پر یوں لیٹا کہ اس نے اللہ کا ذِکر نہ کیا تو وہ لیٹنا اس کے لئے سرمایہ حسرت بن جائے گا۔
 
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّہِ ﷺ لَیْسَ یَتَحَسَّرُ اَھْلُ الْجَنَّہِ اِلَّا عَلٰی سَاعَۃٍ مَرَّتْ بِھِمْ لَمْ یَذْ کُرُوا اللّٰہَ تَعَالٰی فِیْھَا     (المعجم الکبیر للطبرانی، رواہ البیہقی فی شعب الایمان 1 : 392، نمبر512)
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اہلِ جنت کو اپنی زندگی کے صرف اس لمحے پر حسرت ہوگی جو اللہ کے ذِکر کے بغیر گزرا۔
 
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ ؓقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّہِ ﷺ مَنْ عَجِزَ مِنْکُمْ عَنِ اللَّیْلِ اَنْ یَّکَابِدَہٗ وَبَخِلَ بِالْمَالِ اَنْ یُّنْفِقَہٗ وَجَبُنَ عَنِ الْعَدُ وِّ اَنْ یُّجَاھِدَہٗ فَلْیَکْثِرُ مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ     (شعب الایمان باب معانی المحبۃ،رواہ البیھقی والطبرانی)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، جو شخص رات کو محنت کرنے سے عاجز ہو اور بخل کی وجہ سے مال بھی خرچ نہ کرسکتا ہو اور بزدلی کی وجہ سے دشمن کے خلاف جہاد بھی نہ کرسکتا ہو اس کو چاہیے کہ اللہ کا ذِکر کثرت سے کرے۔
 
عَنْ عَائِشَۃَؓ  عَنْ رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ الذِّکْرُ الَّذِیْ لَا تُسْمِعَہُ الْحَفِظَۃَ یَذِیْدُ عَلَی الذِّکْرُ الَّذِیْ تُسْمِعَہُ الْحَفِظَۃَ سَبْعِیْنَ ضِعْفًا     (الترغیب فی فضائل الاعمال وثواب، فیض القدیر، رواہ البیھقی)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ وہ ذِکرِ الٰہی جسے کراماً کا تبین نہیں سنتے اس ذِکر سے ستر درجے بہتر ہے جسے وہ سنتے ہیں۔
 
عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ ؓ  قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ لَوْ اَنَّ رَجُلًا فِیْ حِجْرِہٖ دَارَھِمُ یُقْسِمُھَا وَآخَرُ یَذْکُرُ اللہَ لَکَانَ الذَّکِرُاللہِ اَفْضَلَ     (رواہ الطبرانی فی المعجم الاوسط : 6 : 116، نمبر 5969)
حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص کے پاس بہت سا مال ہے اور وہ مستحقین میں تقسیم کررہا ہے دوسرا وہ ہے جو اللہ کے ذِکر میں مشغول ہے تو ان دونوں میں سے افضل وہ ہے جو اللہ کا ذِکر کرنے والا ہے۔
 
عَنْ عَائِشَۃَؓ قَاَلتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِﷺ لِفَضْلِ الذِّکْرِ الْخَفِیِّ الَّذِیْ لَا تُـسْمِعُہُ الْحَفِظَۃَ سَبْعُوْنَ ضِعْفًا اِذَا کَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ جَمَعَ اللہُ الْخَلَائِقَ لِحِسَابِھِمْ وَ جَاءَ تَ الْحَفِظَۃُ بِمَا حَفَظُوْا وَکَتَبُوْا قَالَ لَھُمْ اُنْظُرُوْا ھَلْ بَقِیَ لَہٗ مِنْ شَیْئٍ فَیَقُوْلُوْنَ مَا تَرَکْنَا شَیْئًا مِمَّا عَلَّمْنَاہٗ وَ حَفَظْنَاہٗ اِلَّا وَ قَدْ اَحْصَیْنَاہٗ وَکَتَبْنَاہٗ فَیَقُوْلُ اللہُ تَعَالٰی اِنَّ لَہٗ حَسَنًا لاَ تُعَلِّمْہٗ وَ اُخْبِرُکَ بِہٖ ھُوَ الذِّکْرُ الْخَفِیِّ     (المقصد العلی فی زوائد ابن ابی یعلی)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ذِکر خفی کی فضیلت جسے کراماً کاتبین نہیں سنتے ستر گنا بیان فرماتے ہوئے فرمایا، قیامت کے دن جب اللہ کریم مخلوق کو جمع کرے گا او رکراماً کا تبین اپنی تحریروں کو لے کے آئیں گے تو اللہ کریم انہیں فرمائے گا۔ دیکھو اس شخص کا کوئی عمل رہ تو نہیں گیا۔ وہ عرض کریں گے ہمارے علم میں جو کچھ آیا ہم نے لکھ دیا ہے۔ تو اللہ کریم فرمائے گا اس کی ایک نیکی ایسی ہے جو تم نہیں جانتے میں تمہیں بتاتا ہوں وہ ہے ذِکر خفی۔
 
عَنْ اُمِّ اَنَسٍؓ  قَالَتْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ اَوْصٰنِیْ قَالَ اِھْجَرِی الْمَعَاصِیْ فَاِ نَّھَا اَفْضَلُ الْھِجْرَۃَ وحَافِظِیْ عَلَی الْفَرَائِضِ فَاِنَّھَا اَفْضَلُ الْجِھَادِ وَاَکْثَرٰی مِنْ ذِکْرِ اللّٰہِ فَاِ نَّکَ لَا تَاْتِیْنَ اللّٰہَ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ ذِکْرِاللہِ     (المعجم الکبیر للطبرانی : 25 : 129، نمبر 313)
حضرت اُمِّ انسؓ نے نبی رحمت ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے نصیحت فرمائیں۔ فرمایا، گناہوں سے بچ کہ یہ بہترین ہجرت ہے۔ فرائض کی پابندی کر کہ یہ بہترین جہاد ہے۔ اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کیا کر کیونکہ اللہ کے دربار میں ذِکرِ الٰہی سے زیادہ پسندیدہ چیز کوئی نہیں پیش کرسکے گی۔
 
عَنْ مَالِکٍ ؓ  قَالَ بَلَغَنِیْ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ کَانَ یَقُوْلُ ذَاکِرُاللہَ فِیْ الْغَافِلیْنَ کَالْمُقَاتِلَ خَلْفَ الْفَارِیْنَ و ذَاکِرُاللہَ فِی الْغَافِلِیْنَ کَغُصْنِ شَجَرٍاَخْضَرٍ فِیْ شَجَرِ یَابِسٍ وَ ذَاکِرُ اللہَ فِی الْغَافِلیْنَ مِثْلُ مِصْبَاحٍ فِیْ بَیْتِ مُظْلِمً وَ ذَاکِرُاللہَ فِی الْغَافِلِیْنَ یُرِیْدُ اللہَ مَقْعَدَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ وَ ھُوَ حَیٌّ وَ ذَاکِرُاللہَ فِی الْغَافِلِیْنَ یُغْفِرْ لَہٗ بِعَدَدِ کُلِّ فَصِیْحٍ وَاَعْجَمَ وَالْفَصِیْحُ ابْنُ آدَمَ وَالْاَ عْجَمَ بَھَائِمٍ     (رواہ البہیقی فی شعب الایمان : 412، نمبر 567)
حضرت مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ غافلوں کے مجمع میں اللہ کا ذِکر کرنے والا شخص ایسا ہے جیسا میدان جنگ سے بھاگنے والوں کے بعد کوئی اکیلا سپاہی دشمن کا مقابلہ کرتا رہے۔ اور ذاکر کی حیثیت ایسی ہے جیسے خشک درختوں کے درمیان کوئی ہرادرخت ہو۔ اور ذاکر کی حیثیت یہ ہے جیسے کسی تاریک گھر میں شمع روشن ہو۔ اور غافلوں میں ذاکر کو اللہ تعالیٰ زندگی میں ہی جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیتے ہیں اور غافلوں میں گھر ے ہوئے ذاکر کے اتنے گناہ معاف کیے جاتے ہیں جس قدر دنیا میں انسان اور جانور پیدا کیے جاتے ہیں۔
 
عَنْ عَائِشَۃَؓ  قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ مَا مِنْ سَاعَۃٍ تَمُرَّ بِاَنَّ آدَمَ لَا یَذْکُرُ اللہَ تَعَالٰی فِیْھَا اِلَّا تَحَسَّرَ عَیْنًا یَوْمَ اْلِقَیامَۃِ     (رواہ البیہقی فی شعب الایمان : 1 : 392، نمبر 511، طبرانی : المعجم الاوسط 8 : 157، نمبر 8316)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، انسان کی زندگی کا جو لمحہ اللہ کے ذِکر کے بغیر گزرتا ہے قیامت کے دن انسان کو اس لمحے کے ضائع ہونے کا افسوس ہوگا۔
 
عَنْ عَبْدِاللہِ بِنْ شَفِیْقٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ مَا مِنْ اَدَمِیٍّ اِلَّا وَ لِقَلْبِہٖ بَیْتَانٌ فِیْ اَحَدَھُمَا الْمَلِکُ وَفِی الْاَخِرَ الشَّیْطَانُ فَاِذَا ذَکَرَ اللہَ خَنَّسَ وَ اِذَا لَمْ یَذْکُرَ اللہَ وَضَعَ الشَّیْطَانُ مِنْقَارَہٖ فِیْ قَلْبِہٖ فَوَسْوَسَ لَہٗ     (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ، مرقاۃ شرح المشکوٰۃ، حصن حصین : 29)
حضرت عبد اللہ بن شقیق ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا کہ ہر آدمی کے قلب کے ایک حصہ پر فرشتہ متعین ہے او رایک حصہ پر شیطان گھات لگائے بیٹھا ہے جب انسان اللہ کا ذِکر کرتا ہے تو شیطان پیچھے چھپ جاتا ہے۔ جب وہ ذِکر نہیں کرتا شیطان اپنی سونڈ اس کے قلب میں رکھ دیتا ہے اور اس میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے۔
 
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ اِنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ لِکُلِّ شَیْءٍ صَقَالَۃً وَصِقَالَۃَ الْقُلُوْبِ ذِکْرَ اللَّہِ وَمَا مِنْ شَیْءٍ اَنْجِیُّ مِنْ عَذَابِ اللّہِ مِنْ ذِکْرَ اللہِ قَالُوا وَ لَا الْجِھَادُ فِی سَبِیْلِ اللہِ قَالَ اَنْ یَّضْرِبَ بِسَیْفِہٖ حَتّٰی یُنْقَطَعَ     (رواہ البیہقی : فی شعب الایمان 1 : 396، نمبر 522)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ فرمایا کرتے تھے ہر چیز کی صفائی اور جلا کے لئے تدبیر او رذریعہ ہے اور دِلوں کی صفائی او رجلا اللہ کے ذِکر سے ہوتی ہے۔ ذِکر الٰہی سے بڑھ کر اللہ کے عذاب سے نجات دلانے والی کوئی چیز نہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا، کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ فرمایا، نہیں خواہ لڑتے لڑتے مجاہد کی تلوار کے ٹکڑے بھی ہوجائیں۔
 
عَنْ اَنَسٍ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ یَقُوْلُ اَللہٗ جَلَّ ذَکَرَہٗ اَخْرِجُوْا مِنَ النَّارِمَنْ ذَکَرَ نِیْ یَوْمًا اَوْ خَافَنِیْ فِی مَقَامٍ     (رواہ البیہقی : فی شعب الایمان 1 : 470، نمبر 740، والترمذی)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے فرمایا، اللہ کریم فرمائے گا، نکال دو اس کو جہنم سے جس نے کسی روز میرا ذِکر کیا یا کسی جگہ اسے میرا خوف دامن گیر ہوا۔
 
عَنْ مُعُاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ اَنَّہٗ سَئَالَ النَّبِیُّ ﷺ عَنْ اَفْضَلَ الْاِیْمَانَ قَالَ اَنْ تُحِبُّ لِلہِ وَ تَبْغَضُ لِلہِ وَتَعْمَلْ لِسَانَکَ فِیْ ذِکْرِاللہِ۔۔۔ اِلٰی آخَرَ الْحَدِیْثَ۔۔۔ الخ     (رواہ فی المسند احمد : 5 : 247، نمبر 21883)
حضرت معاذ بن جبل ؓسے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ سے پوچھا گیا، افضل ایمان کون سا ہے؟ فرمایا، تیری محبت بھی اللہ کے لئے ہو اور دشمنی بھی اللہ کے لئے ہو اور تیری زبان اللہ کے ذِکر میں مشغول ہو ۔
 

طریقہ ذکر قلبی خفی

وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ  (الْاَعْرَاف: 205)
اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں یاد کریں عاجزی اور خوف سے اور اونچی آواز کے بغیر صبح وشام (ہمہ وقت)اور (کبھی)بھولنے والوں میں شامل نہ ہوں۔
 

ذکر ِقلبی خفی بطریق پاس انفاس

اس طریقے کا اصطلاحی نام پاسِ انفاس ہے یعنی اپنے سانسوں کی نگرانی کرنا۔ بعض لوگوں کو یہ دھوکا ہوتا ہے کہ سانس سے یہ ذکر کیسا؟ انہیں جاننا چاہیے کہ ذِکر دِل سے کیا جاتا ہے، سانس صرف ایک خاص ترکیب سے لی جاتی ہے اور بس! اگر اس طریقے سے اور اِرادی طور پر قوت سے سانس نہ لی جائے تو جو کام ایک دن کا ہے، اس پر کئی سال لگ سکتے ہیں۔  

  •  روزانہ پابندی سے صبح فجر سے پہلے (تہجد کے وقت) اور مغرب کے بعد تمام لطائف پرمناسب دیر تک ذکر کیا جائے۔
  •  ذِکر کے دوران سانس تیزی سے اور قوت سے لی جائے۔
  •  اور ساتھ ہی جسم کی حرکت جو سانس کے عمل کے ساتھ خود بخود شروع ہو جاتی ہے۔
  •  پورا خیال رہے کہ کوئی سانس اللہ کے ذکر سے خالی نہ ہو۔
  •  توجہ قلب پر مرکوز رہے اور ذکر کا تسلسل ٹوٹنے نہ پائے۔
  •  قبلہ رو بیٹھ کراور متوجہ الی اللہ ہو کرمنہ اور آنکھیں بند کر لیں۔
  •  ذکر شروع کرنے سے پہلے درج ذیل تسبیحات ایک ایک بار پڑھ لیں۔


سُبْحَانَ ا اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ  لِلّٰہِ وَ لَا اِلٰہَ اِلَّا  اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ
وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّی مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ اَتُوْبُ اِلَیْہِ
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا ا اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
اَعُوْذُ بِا اللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ ا للّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ۔۔ اللہ۔۔ اللہ


پہلا لطیفہ: مکمل یکسوئی اور توجہ کے ساتھ ہر سانس کی آمد و رفت پر اس طرح گرفت ہو کہ ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسمِ ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کی چوٹ قلب پر لگے۔

دوسرا لطیفہ کرتے وقت ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسمِ ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کی چوٹ دوسرے لطیفے پر لگے، اِسی طرح تیسرا لطیفہ، چوتھا لطیفہ اور پانچواں لطیفہ کرتے وقت ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسمِ ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کی چوٹ اس لطیفہ پر لگے جو کیاجا رہا ہو۔

چھٹا لطیفہ: ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسمِ ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کا شعلہ پیشانی سے نکلے۔

ساتواں لطیفہ: ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسمِ ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کا شعلہ پورے بدن کے ایک ایک مسام اور ہر خلیہ  (Body Cell) سے باہر نکلے۔ ساتوں لطائف کرنے کے بعد پھر پہلا لطیفہ کیا جاتا ہے.

رابطہ کرنے کا طریقہ:

لطائف کرنے کے بعد رابطہ کیا جاتا ہے اور رابطہ کے لیے سانس کی رفتار کو طبعی انداز پر لا کر یہ خیال کریں کہ ہر داخل ہونے والی سانس کے ساتھ اسم ذات اللہ قلب کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور ہر خارج ہونے والی سانس کے ساتھ ھُو کی ٹکر عرش عظیم سے جا کر لگے۔ یہ پہلاسبق ہے، اِسے رابطہ کہتے ہیں۔

جب یہ مضبوط ہو جائے تو اگلے مراقبات یا مقامات کرائے جاسکتے ہیں۔

دعا کے ساتھ احتتام


تقرر نامہ خلیفہ ہند(صاحب مجاز ہندوستان)

Taqarrur Nama Khalifa Hind ( Sahib Majaz Hindostan ) - 1

حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان (رحمتہ اللہ علیہ) کا تعارف‎ قاسم فیوضات

Introduction of Qasim-e-Fayuzat Hazrat Moulana Ameer Muhammad Akram Awan (RA) - 1

معمولات برائے سالانہ تربیتی پروگرام

Mamoolaat Barae Salana Tarbiati Program - 1