Featured Events


جو بندہ حقو ق اللہ کی ادائیگی نہیں کرتا وہ حقوق العباد بھی پورے نہیں کر سکتا


یہ بات غلط العام ہو چکی ہے کہ اللہ کریم کی عبادت نہ کی تو خیر ہے لیکن بندوں کے ساتھ معاملات درست رکھے جائیں۔یاد رکھیں جس کا تعلق رب کریم سے کمزور ہوجائے وہ اللہ کریم کے احکامات کو کیسے بجا لا سکتا ہے۔ جو بندہ حقو ق اللہ کی ادائیگی نہیں کرتا وہ حقوق العباد بھی پورے نہیں کر سکتاکیونکہ بندوں کے حقوق کی تعلیم اور اُن کاتعین بھی رب کریم نے فرمایا ہے۔عبادات سے اللہ کریم کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے جب احکامات باری کے تحت زندگی گزاری جائے پھر اللہ کریم ایسے بندے کی حفاظت فرماتے ہیں۔نفسانی خواہشات ایسا حملہ کرتی ہیں کہ بندہ بہک جاتا ہے لیکن اگر اللہ کریم سے تعلق مضبوط ہو تو حفاظت الٰہیہ نصیب ہوتی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اسلام انسانی مزاج کے عین مطابق حکم فرماتا ہے۔ جس کا رخ اللہ کریم کی طرف ہو اللہ کی رضا نصیب ہو، جس کے ایما ن کی بنیاد مضبوط ہواور اپنے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنے والا ہوجوبندہ مومن نے کلمہ طیبہ کی صورت میں اپنے اللہ کریم کے ساتھ کیا۔ وہ نماز قائم کرے گا۔اللہ کریم کی عبادات کرے گا تب وہ اس قابل ہوگا کہ حقو ق العباد بھی پورے کر سکے۔اگر ہم بنیاد پر نہیں رہیں گے تو عمار ت بھی کھڑی نہیں رہ پائے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ زکوۃ اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہے۔وہ مال جو سال بھر منافع کی صورت میں جمع رہا۔زکوۃ معاشی نظام کو درست رکھتی ہے۔معیشت میں مساوات پیدا ہوتی ہے۔پیسہ ایک جگہ جمع نہیں رہتا۔جب بندہ مومن اللہ کے نام پر زکوۃ دیتا ہے تو یہ بھی طے ہوگیا کہ مال بھی اسی کا ہے اور اُس کے حکم پر خرچ ہو رہا ہے۔زکوۃ کی ادائیگی مال کو مزید پاک کر دیتی ہے اور اس سے مال میں کمی نہیں آتی بلکہ برکت ہوتی ہے۔اور یہ ضروری نہیں کہ زکوۃ صرف رمضان المبارک میں ہی ادا کی جا ئے بلکہ جب اس مال کو ایک سال مکمل ہو جائے آپ پر زکوۃ فرض ہو گئی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔خود کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Jo bandah haquq Allah ki adaigi nahi karta woh haqooq al ibad bhi poooray nahi kar sakta - 1

مومن کے اوصاف

Watch Momin key Ausaf YouTube Video

مال کے مصارف ( ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ)


ہماراہر عمل کائنات کو متاثر کرتا ہے


ہمارے انفرادی اور اجتماعی طور پر اُٹھائے گئے اچھے یا برے اقدامات معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکل اُسی طرح جیسے حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں زلزلہ آیا تو آپ ؓ نے زمین پر درہ مارا اور کہا کہ کیا تم پر انصاف نہیں ہو رہا اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم بحیثیت مجموعی دیکھیں کہ اس وقت ہم پر مختلف قسم کی آفات ہیں یہ ہمارے اعمال کے نتیجہ میں ہیں۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بڑی تعداد سے خطاب
  انہوں نے کہا کہ سابقہ انبیاء کو یہ شرف حاصل نہ تھا کہ زمین پر کہیں بھی سجدہ کر سکیں۔نبی کریم ﷺ پر یہ خصوصی انعام فرمایا گیا کہ پوری زمین کو ہی سجدہ گا بنا دیا گیا اب ہم اس کرم کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ہمیں نبی کریم ﷺ کا امتی پیدا فرمایا۔اللہ کریم کے حضور نہ شکل دیکھی جاتی ہے نہ مال بلکہ خالص نیت اور اعمال دیکھے جائیں گے۔خلوص کو شرف قبولیت عطا ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے ذکر الٰہی اختیار کیا جاتا ہے اللہ اللہ کی تکرار کی جاتی ہے اور خالص اللہ کی رضا کے لیے کی جاتی ہے۔
 اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Hamara har aml kainat ko mutasir karta hai - 1

دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع دارالعرفان منارہ

Watch Do Roza Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munarah YouTube Video

نیکی کیا ہے

Watch Naiky kia hai YouTube Video

نیکی یہ نہیں کہ رخ مشرق کی طرف ہو یا مغرب کی طرف اصل نیکی تعمیل حکم ہے


 بحیثیت مسلمان ہر کلمہ گو اللہ کریم کے حکم ایسے مانے اور اس پر ایسے عمل پیرا ہو جیسے کہ اللہ اور اللہ کے حبیبﷺ نے ہمیں تعلیم فرمایا ہے۔جب کسی بھی عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنی مرضی شامل کر لیں گے تو وہ عمل مقبول نہ ہوگا۔ہم مخلوق ہیں اس وقت سائنس جتنی جدت کی بلندیوں پر ہے آئے روز نئی ایجادات ہو رہی ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ سارا کچھ اصل میں چند فیصد ہے جسے ہم جان سکے ہیں اسلیے ہمارا رب جس نے ہمیں تخلیق فرمایا ہے وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا مفید ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب
  یاد رہے کہ بروز ہفتہ اتوار دارالعرفان منارہ میں دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع ہو رہا ہے جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی اتوار دن 11 بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس روحانی تربیتی اجتماع میں ملک بھر سے سالکین اپنی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں اور اپنے شب و روز اللہ کی یاد میں بسر کرتے ہیں۔ان اللہ والوں کی صحبت میں برکات نبوت ﷺ سے اپنے قلوب منور کرنے کے لیے ہر خاص و عام کو دعوت دی جاتی ہے۔
neki yeh nahi ke rukh mashriq ki taraf ho ya maghrib ki taraf asal neki tameel hukum hai - 1

اطلاع برائے ماہانہ اجتماع

Itla Barae Mahana Ijtima - 1

پچھلے 75 سال سے وطن عزیز پر تجر بات ہو رہے ہیں


آج بھی ازسرنو تعمیرکی بات ہو رہی ہے لیکن پھر وہی فرسودہ نظام کے تحت تعمیر کی جا رہی ہے۔ہمیں وہ نظام آزمانے کی ضرورت ہے جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے اسے نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی میں اللہ کریم نے دین و دنیا  کی کامیابی کا وعدہ بھی فرمایا ہے۔اسی نظام کے تحت ہر خاص و عام وطن عزیز میں بہاریں دیکھے گا اور وطن عزیز میں تبدیلی آئے گی۔ ان شاء اللہ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اعمال ثابت کریں ہمارے معاملات ثابت کریں کہ ہم حق پر ہیں ہماری زندگی قرآن کریم کی ترجمانی کرے۔ کیا ہماری زندگی اس بات کی شہادت دے رہی ہے کیا ہمارے معاشرے کے حالات اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے مزید کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ ہستیاں ہیں جن کو نبی کریم ﷺ کی معیت نصیب ہوئی۔آپ ﷺ نے صحابہ کی جماعت کی تربیت فرمائی۔صحابہ کرام ؓ کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں کسی ایک صحابی کا بھی دامن تھام لوگے تو ہدایت پا لو گے۔آج اگر کوئی صحابہ پر اعتراض کرتا ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی آسمان کی طرف تھوکے گا تو وہ تھوک اس پر ہی آکر گرے گی۔آج لوگ قرآن کریم کی تفسیر اپنی پسند سے کرنا چاہتے ہیں اسی لیے گمراہی کا شکار ہیں اگر اُس تفسیر پر عمل کیا جائے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی اور صحابہ نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اس پر عمل کیا آپ ﷺ نے تصدیق فرمائی تو آج کسی بھی طرح کا کوئی فرقہ نہ ہوتا نہ کوئی کسی پر اعتراض کرتا اعتراض تب پیدا ہوتے ہیں جب ہم اپنی پسند کو درمیان میں لے آتے ہیں۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا کلام مخلوق کی تربیت کے لیے ہے راہنمائی کے لیے ہے ایک ایک پہلو میں مخلوق کی بھلائی ہے اسے ذاتی لالچ کے لیے تبدیل کرنا، عارضی اور فانی دنیا کے فائدے اُٹھانا، اس زندگی نے تو گزر جانا ہے لیکن وہ بد اعمال جو ہم نے اختیار کیے اس لالچ کی وجہ سے وہ تو ساتھ جائیں گے اس عارضی زندگی کے لیے ہمیشہ کی زندگی کا نقصان کرنا کتنا بڑا گھاٹے کا سودا ہے۔اللہ کریم تو ہماری بخشش چاہتے تھے لیکن ہم نے جہنم خرید لی کتنی بڑی جرات کی بات ہے کہ بندہ جہنم کے لیے دلیری دکھائے۔
اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Pichlle 75 saal se watan Aziz par Tajarbaat ho rahay hain - 1

اسلامی نظام کے اثرات

Watch Islami Nizam key Asrat YouTube Video