Featured Events


حقیقی کامیابی


۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی


ایمان اور سود آپس میں بالمقابل ہیں۔اگر کوئی ایمان کا دعوی بھی کرے اور پھر سود کا لین دین بھی کرے تو انجام وہی ہوگا جو کفر کرنے والوں کا ہوا۔دوزخ کی آگ کفر کے لیے تیار کی گئی ہے۔اللہ کے حبیب کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور اگر تم یہ خیال کرومیرے رکوع و سجود سے مجھے جنت مل جائے گی بلکہ جنت تو اللہ کی رحمت سے عطا ہوگی۔ہم تو پہلے اتنا لے چکے ہیں کہ شکرانہ ادا نہیں ہو سکتا  چہ جائیکہ ہم اس گمان میں رہیں کہ میری عبادات اتنی ہو چکی ہیں کہ اب جنت واجب ہو گئی ہے۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب 
 انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔حقیقی فلاح کی بنیاد اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔حقیقی کامیابی کا انحصار بھی اسی زندگی پر ہے لیکن ان حدود میں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں۔حدود اللہ سے تجاوز کر کے حقیقی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی کامیابی دائمی ہوتی ہے جس سے مراد دونوں جہانوں کی کامیابی ہے یہ دنیا آخرت کا سایہ ہے۔اس زندگی کو بسر کرنے کے لیے اعلٰی اصول درکار ہیں جو ہمیں دین اسلام دیتا ہے۔ذاتی پسند نا پسند سے صرف فساد پیدا ہوگا۔خواہشات اور نفس کا جہاں غلبہ ہو وہاں ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ٹھہراؤ اور سکون صرف دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ دین اسلام دین فطرت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم حقیقی کامیابی جنت کو بیان فرماتا ہے یعنی وہ فلاح پاگیا جو جنت میں داخل ہو گیا۔ہمارے ماہ و سال اتنی تیز ی سے بسر ہو رہے ہیں،ہر شئے اپنے اختتام کی طرف چل رہی ہے لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں،یہی وقت ہے جس میں ہم نے آخرت تعمیر کرنی ہے۔ہمارا اختیار کلی نہیں لیکن اپنی ذات پر تو ہے اس سے پہلے کہ موت آجائے آج کچھ کرنے کے قابل ہیں اپنی اصلاح کریں نیک اعمال کریں زندگی حسرت پر تو ختم نہ ہو،یاد رکھیں مومن کی زندگی میں حسرت نہیں رہتی۔نور ایمان وہ دولت ہے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن ہمیں اپنے ایک ایک عمل کو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں لانا ہوگا۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرت میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Bakhshish hamaray ruku o sajood se nahi balkay Allah ki rehmat se ho gi - 1

اسلامی نظام زکوۃ کے اثرات


اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا


 اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا ۔اور زکوۃ کے نظام کی وجہ سے جمع شدہ پیسہ 40 سال میں سارا پیسہ واپس معاشرے میں لوٹ آتا ہے ، زکوۃ دینے والا اپنا پیسہ اپنے پاس جمع نہیں رکھے گا بلکہ اسے خرچ کرے گا جب خرچ کرے گا تو تجارت میں خرچ کرے گایا کوئی کاروبار میں لگائے گا تو اس سے مزید لوگوں کے لیے کام کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ بے روزگار لوگوں کو روزگار ملے گا ۔جب پیسہ ایک جگہ جمع کر کے رکھ دیا جاتا ہے وہ پورے معاشرے کی معیشت کو لے ڈوبتا ہے ۔طاقتور طبقے نے پوری دنیا کو سودی معیشت میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ آج ہم اپنے ملک کے حالات دیکھیں تو جتنا قرض لے رہے ہیں وہ جو پہلے سے سود لیا ہوا ہے اس کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے ہماری اسلامی ریاست ہے پھر بھی ہم نے اسے سود میں جکڑ دیا ہے ۔ہمارے لیے سب سے بہتر رستہ وہ ہے جو اللہ کریم نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے جس کا طریقہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
 انہوں نے کہا کہ اگر واقعتا زکوۃ کا نظام جس میں عشر،صدقات ،فطرانہ اس کو جمع کیا جائے تو ہمارا قومی بجٹ جو ہے اس کا خسارہ نکل جاتا ہے . جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی زکوۃ دیتے ہیں۔لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ حکومت پر اعتماد نہیں ہوتا ۔جب ریاست زکوۃ جمع کرے گی تو جو یہ ٹیکس عوام کو لگائے جا رہے ہیں ان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔جب حکومت کمزور طبقے کی ضرورت پوری کرے گی تو اس کی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی ۔قدم قدم پر عوام سے ٹیکس لیا جا رہا ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری قوم ٹیکس نہیں دیتی ۔آج بھی دنیا میں وہی معیشت بہتر ہے جہاں پیدا وار ہو رہی ہے اور پیدا وار میں جو فطرتی انڈسٹری ہوتی ہے اس کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ۔جیسے ہمارے ہاں زراعت ہے ہمارا زرعی ملک ہے ۔اگر ہم زراعت کو ہی جدید سہولیات سے آراستہ کر لیں اور زراعت سے متعلق جو محکمے ہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں کسانوں کو سہولیات دی جائیں تو سال میں دو بار فصل لی جاتی ہے جس سے ہماری معیشت بہت تیز ی سے بہتر ہو سکتی ہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی غلطی کا حل مزید غلطی سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا حل توبہ میں ہے ہم ایسے فیصلے کریں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں ۔یہ جو لوٹ مار سے ہم وقتی کامیابی حاصل کرتے ہیں اس سے تسکین نہیں ہوسکتی بلکہ مزید اضطراب بڑھے گا کیونکہ یہ صالح اعمال کا نتیجہ نہیں ہے ۔کامیابی تو یہ ہے کہ اگر ظاہری ضرورت پوری ہورہی ہے تو دل میں بھی سکون ہو ۔حقیقی کامیابی میں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں 
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ٰIslami muashi nizaam rupay ko aik jagah ruknay nahi deta - 1

خالق کائنات سے آشنائی


نورِایمان بندہ ٔمومن کے قلب میں ادراک اور بصیرت پیدا فرماتا ہے


نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میںادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے .اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے
​ (پ۔ر)نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں وہ ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے کہ بندہ ٔ مومن خلق کی ان وسعتوں سے نکل کر اللہ رب العالمین سے آشنا ہوجاتا ہے اور مقامِ نبوت اور رسالتﷺ کے طفیل امت تک یہ آشنائی اور نور پہنچا جس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بعثت ِ رحمت اللعالمینﷺ سے پہلے عہدِ فطرت کا عہد500 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں جس نےبھی دل کی گہرائی سے سوچا کہ کوئی ہے جو عبادت کے لائق اور وحدہ‘ لاشریک ہے اور وہ اس جستجو میں رہا تو اس کی نجات ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان میں سالکین کےبڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
​ انہوں نے مزید کہا کہ آپﷺ کی 40 سالہ زندگی جو کفارِ مکہ کے درمیان بسر فرمائی وہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن نے بھی آپﷺ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی اور آج ہم مسلمان امتی دولت اور دنیا کی ہوس میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ذات باری سے دوری کی وجہ سے ہے۔ جتنی دوری اللہ سے ہوتی ہے اتنی انا بڑھتی ہے حالانکہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔
​انھوں نے کہا کہ جب بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کا جو کچھ ہوتا ہے وہ وارثوں کا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔ حالانکہ یہ نعمتیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اوراس بات کی سمجھ آ جائے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ دنیا کو ترک کرنے کا نہیں کہا جا رہابلکہ دنیا بھی اللہ کی ہے اور آخرت بھی اللہ کی ہے اصل میں جو حکم اللہ کا ہے اس کے مطابق رہنا ہے اور اس میں ہی ہماری فلاح ہے۔
انھوں نے احکاماتِ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزے میں ہماری جسمانی و روحانی بھلائی ہے، جبکہ نماز کی ادائیگی محض ورزش کے لیے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ہونی چاہیے۔ اللہ کریم نے زندگی کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے وہ ہماری عین ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ موت کے بعد تلافی کا کوئی موقع نہیں ملے گا اگرچہ ہم کمزور اور گناہ گار ہیں، مگر اللہ کی شانِ کریمی اور رحمت بے پناہ ہے۔ اگر انسان اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی کا طلب گار ہو، تو وہ غفور الرحیم توبہ کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔
  انہوں نے تلقین کی کہ تلاوتِ قرآن مجید کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے اور ہر دن کا آغاز کلامِ الٰہی سے ہو۔ قرآن کو محض وظائف کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کا پیغام سمجھ کر اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے "اکرم التراجم" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ لفظی و محاوراتی لحاظ سے انتہائی سلیس اور عام فہم ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کریں تاکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔
​آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دینِ اسلام کے احکام پر عمل کریں گےتو یہ ہمارے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا
Noor e Eman bandah Momin ke qalb mein idraak aur baseerat peda farmata hai - 1

اہل بدر کی عظمت (ماہانہ اجتماع)


بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا


 ساری امت ایک طرف اور اہل بدر کے کسی بھی ایک صحابی کی رائے دوسری طرف ہوتو ان کی رائے مقدم ہوگی۔  صحابہ بدر کے بارے ارشاد پاک ہے کہ میں سارے کا سارا اسلام یہاں میدان کارزار میں لے آیا ہوں۔رہتی دنیا تک یہ واحد جماعت ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے اور ساتھ ہی آپ کا یہ فرمانا کہ کسی مسئلے پر امت کا اتفاق اور بدری صحابی ؓ کی رائے اس کا برعکس ہو تو اصحاب بدر کی رائے مانی جائے گی ان کی رائے مقدم سمجھی جائے گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا۔یوم بدر یوم فرقان ہے۔حق و باطل کی تفریق کا دن ہے۔آج جو ایک سوال ہے کہ قرآن کریم تو مسلمانوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ حکمرانی مسلمانوں کے پاس رہے گی،تو جو فرمایا جا رہا ہوتا ہے کیا ہم اس پر پورا اتر تے ہیں؟۔ آج ہم مومن کہلانے والوں کے اعمال کافروں سے بھی بدتر ہیں تو شکایت کرنے کی بجائے اپنے اعمال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو اسلوب زندگی کے نبی کریم ﷺ نے فرمائے ہیں اس سے ہمیشہ کی کامیابی اورفتح نصیب ہوگی۔اُس وقت دو جماعتیں تھیں ایک وہ جماعت جو مکہ واپس لوٹ رہی تھی اور سامان تجارت کو لے جا رہی تھی اور اس رقم کو اسلام کے خلاف استعمال کرنیکا ارادہ رکھتے تھے یہاں بھی اگر دیکھا جائے تو ان لوگوں کو سزا ملی جو کفر میں آگے بڑھ چکے تھے۔اللہ نے مخلوق صرف کھیل تماشہ کے لیے پیدا نہیں فرمائی بلکہ اللہ کریم دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم کون سی راہ اختیار کرو گے۔
  ماہانہ اجتماع پر آنے والے نئے احباب و خواتین کی ظاہری بیعت بھی لی گئی اور انہیں لائحہ عمل بھی دیا گیا کہ اپنے معمولات کو مرکزی ہدایات کے مطابق گزارنا ہے اور قلبی ذکر صبح اور شام اختیار کرنا ہوگا۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
BZahir agar kufar Taqatwar b nzr aaye lekin un ka nazriya kabhi nafiz nah ho sakay ga - 1

خانقاہ کی ذمہ داری


ایک باعمل مسلمان ختم نبوت کی بہت بڑی شہادت ہے


  دنیا ایک باعمل مسلمان کی شہادت کو رد نہیں کر سکتی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ہمارے معاشروں اور حکومتوں کی معیشت کی بنیاد حرام یعنی سود پر رکھی گئی ہے۔اگر ہم قرآن وسنت پر عمل شروع کریں اور اپنے معاشرے کو عملی طورپر اس کے تحت لے آئیں تو دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ یہ ایسی تبلیغ ہوگی کہ از خود دنیا اسلام کی طرف راغب ہونا شروع ہو جائے گی۔ آج ہمارے عہد میں کمزوری ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی جہاں ہم ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں اس میں بھی خیانت ہے۔ہم نے قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنا ہے اپنی عقل و دانش کو اطاعت میں شامل نہیں کرنا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کی ذمہ داری ہے کہ مخلوق کو اپنی ذات کی طرف نہ لائیں بلکہ جتنی مخلوق خانقاہ پر آئے انہیں اصل کی طرف یعنی اللہ کی طرف لے کر جائیں اور بطریقہ نبی کریم ﷺ ان کی تربیت کی جائے۔آج لوگوں کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو خواہشات نفسانی کی پیروی میں لگا ہے۔نفس کی خواہشات بہت بڑا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سا عمل ہے جس سے نفس کو طاقت ملتی ہے اور کو ن سے ایسے اعمال ہیں جن سے نفس کمزور ہوتا ہے۔دین کے مقابل اپنی سوچ رکھ کر چلنا یہ درست نہیں ہے۔اور یہ سارے معاملات قلوب کی بیماری کی وجہ سے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے دلوں کا اطمینا ن اللہ کی یاد میں ہے۔ہمیں اپنے قلوب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی کی اشد ضرورت ہے۔ذکر قلبی کے بغیر قلوب کی اصلاح ممکن نہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 2،3 مئی بروز ہفتہ،اتوار دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی بھی ہوگی دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کیجیے۔
Aik ba aml musalman khatam nabuwat ki bohat barri shahadat hai - 1