Featured Events


عقلمند لوگ کون ہیں ؟ (ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ )


دین کی تبلیغ


سکرات الموت


عملی تبلیغ

Watch Amli Tableegh YouTube Video

بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں


 بہترین تبلیغ یہ ہے کہ ہم خود عملی طور پر اپنا وہ کردار اختیار کریں جس کا دوسرے کو بتا رہے ہیں کیونکہ اگرہم ممبر پر بیٹھ کر بیان کریں اور اپنا عمل اس سے مختلف ہو تو پھر اس تبلیغ کا اثر نہ ہو گا۔آج بھی مجاہدین جان اللہ کے سپرد کرتا ہے تو اس کے بارے حکم ہے کہ اسے مردہ نہ کہو وہ اللہ کے ہاں سے رزق پاتا ہے  تو جو اللہ کا نبی اور رسول ہے اس کا مقام کیا ہوگا۔موت کے بھی درجے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔
  انہوں نے کہا کہ دین سے دوری بد بختی پیدا کرتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ دینی حکم کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوا جائے لیکن آج دینی حکم پر اعتراض اُٹھائے جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے اندر نفاق پیدا ہو چکا ہے۔خرابی ہمارے اندر آچکی ہے۔جو اعتراض کرتے ہیں وہ دین کی بجائے اپنی عقل کا استعمال کر تے ہیں اپنی رائے کو مقدم جانتے ہیں۔جب بندہ مشروط اقرار کرتا ہے تو پھر اپنی رائے کو ہی مقدم جانتا ہے اور اس کا سارا زور اسی پر ہوتا ہے۔اعتراض برائے اعتراض اور  بات ہے اور جاننے کے لیے سوال کرنا یہ اور بات ہے۔لوگ ماننا چاہتے نہیں اور اپنی ضد اور انا میں پھنسے رہتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جو حق کے خلاف جا رہا ہوتا ہے اس کے اپنے نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔اور جو حق پر عمل کرتا ہے اس کی سلامتی حق پر عمل کرنے سے ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ انبیاء ؑ جب کوئی بات فرماتے ہیں تو اس میں امت کی راہنمائی موجود ہوتی ہے۔وہ ہستیاں جن کی تبلیغ،بیان،تربیت بے مثل و بے مثال ہے۔یہ وہ جماعت ہے انبیاء کی خطا سے پاک ہے جنہیں اللہ کریم نے چن لیا۔کلام ذاتی سے نوازا۔نبی کریم ﷺ کا مزاج مبارک ایسا تھا کہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ اے میرے حبیب آپ ﷺ ان کے دکھ میں اپنی جان ہی دے دیں گے؟آپ ﷺ لوگوں کے لیے اتنا دکھ کرتے کہ میرے ہوتے ہوئے بھی کوئی جہنم چلا جائے اسلام سے محروم رہے۔
  لوگ کیا کہتے ہیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کا حکم کیا ہے۔نبی کریم ﷺ کا کیا فرمان ہے۔اپنی نیت اور اپنا رخ ہمیشہ صاف، کھرااور خالص رکھیں۔سب سے بہترین تبلیغ اپنی اصلاح ہے اپنے اعمال اور کردار کو درست رکھیں گے تو دوسرے پر بھی اس کا اثر ہوگا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Khud Amli taur pr apna woh kirdar ada karain jis ka doosre ko bata rahe hain - 1

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس دارالعرفان منارہ

Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference Darul Irfan Munarah YouTube Video
Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference Darul Irfan Munarah YouTube Video

دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع مرکز دارالعرفان منارہ

Mahana Ijtima Dar ul Irfan Munarah - 1

آج کے مسائل کا حل

Watch Aaj key Masail ka Hal YouTube Video

آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔


 آج کے مسائل کا حل اسلامی نظام معیشت میں ہے۔غیر اسلامی نظام معیشت میں دولت ایک جگہ اکٹھی ہونا شروع ہو جاتی ہے باقی جگہ پر مفلسی اور غربت آجاتی ہے۔اسلامی نظام معیشت دولت کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا۔کیونکہ جو سال بھر پیسہ استعمال نہیں ہوا اس پر زکوۃ لاگو ہو جاتی ہے۔جس میں مستحق کا حصہ اس کو ملتا ہے۔اسی طرح عشر ہے،صدقہ و خیرات،قربانی کی کھالیں وغیرہ شامل ہیں جس سے مستحق لوگوں تک ان کا حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ان امور کو اگر معاشرے پر نافذ کیا جائے تو پیسہ ایک جگہ نہیں رکتا۔حقدار تک اس کا حق پہنچ جاتا ہے۔جب بندہ پیسہ جمع نہیں کرے گا تو کاروبار کرے گا جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا اور معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ سود نے آج معیشت کو اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ سارے معاشرے سے پیسے کو صرف ایک طرف کھینچ کر جمع کیا جاتا ہے۔دنیا کے جو مقتدر حلقے ہوتے ہیں جب دنیا ہی ان کا مقصد ہو جاتا ہے پھر وہ ایسے نظام کو پسند کرتے ہیں جس سے ان کے پاس ہر طرف سے پیسہ آئے لیکن ان سے جائے نہیں۔انسانی وجود مٹی سے بنا ہے لیکن اسے جو حیات عطا فرمائی گئی وہ امر سے ہے۔اللہ کریم نے انسان کو عبادات کے لیے پیدا فرمایا لیکن اسے پابند نہیں فرمایا بلکہ اختیار دیا کہ چاہے تو شکر ادا کرے چاہے تو نا شکری کرے دونوں راستے کھول کر بیان فرما دئیے۔راہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے کتابیں نازل فرمائیں۔ارض و سماں کا وہ اکیلا خالق و مالک ہے انسان کو عارضی اختیار دیا ہے امانت کے طور پر اور فرمایا جو حدود و قیو د میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے مطابق زندگی بسر کرو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایمان کا یہ درجہ نصیب ہو کہ میرا اللہ مجھے ہر لمحہ دیکھ رہا ہے،سن رہا ہے تو بندہ کس کیفیت میں ہو گا اور اس کے شب و روز کیسے ہوں گے جب اسے یہ احساس ہو جائے کہ میں نے اللہ کے حضور اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔تو کیا جو کچھ ہم بول رہے ہیں بول سکتے ہیں جو کچھ ہم کر رہے ہیں کر سکتے ہیں۔اللہ کریم سب کو یہ حضوری کی کیفیت عطا فرمائے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت5،6 ستمبر کو  ماہانہ اجتماع کے موقع پر بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں اتوار دن گیارہ بجے حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوی ﷺ سے منورہ کیجیے دعوت عام ہے۔
Aj ky masail ka hal islami nizam e moeeshat mein hai - 1

پریس کانفرنس گوجرانوالہ

Press Conference Gujranwala