Featured Events


خالق کائنات سے آشنائی


نورِایمان بندہ ٔمومن کے قلب میں ادراک اور بصیرت پیدا فرماتا ہے


نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میںادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے .اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے
​ (پ۔ر)نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں وہ ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے کہ بندہ ٔ مومن خلق کی ان وسعتوں سے نکل کر اللہ رب العالمین سے آشنا ہوجاتا ہے اور مقامِ نبوت اور رسالتﷺ کے طفیل امت تک یہ آشنائی اور نور پہنچا جس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بعثت ِ رحمت اللعالمینﷺ سے پہلے عہدِ فطرت کا عہد500 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں جس نےبھی دل کی گہرائی سے سوچا کہ کوئی ہے جو عبادت کے لائق اور وحدہ‘ لاشریک ہے اور وہ اس جستجو میں رہا تو اس کی نجات ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان میں سالکین کےبڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
​ انہوں نے مزید کہا کہ آپﷺ کی 40 سالہ زندگی جو کفارِ مکہ کے درمیان بسر فرمائی وہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن نے بھی آپﷺ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی اور آج ہم مسلمان امتی دولت اور دنیا کی ہوس میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ذات باری سے دوری کی وجہ سے ہے۔ جتنی دوری اللہ سے ہوتی ہے اتنی انا بڑھتی ہے حالانکہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔
​انھوں نے کہا کہ جب بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کا جو کچھ ہوتا ہے وہ وارثوں کا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔ حالانکہ یہ نعمتیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اوراس بات کی سمجھ آ جائے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ دنیا کو ترک کرنے کا نہیں کہا جا رہابلکہ دنیا بھی اللہ کی ہے اور آخرت بھی اللہ کی ہے اصل میں جو حکم اللہ کا ہے اس کے مطابق رہنا ہے اور اس میں ہی ہماری فلاح ہے۔
انھوں نے احکاماتِ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزے میں ہماری جسمانی و روحانی بھلائی ہے، جبکہ نماز کی ادائیگی محض ورزش کے لیے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ہونی چاہیے۔ اللہ کریم نے زندگی کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے وہ ہماری عین ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ موت کے بعد تلافی کا کوئی موقع نہیں ملے گا اگرچہ ہم کمزور اور گناہ گار ہیں، مگر اللہ کی شانِ کریمی اور رحمت بے پناہ ہے۔ اگر انسان اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی کا طلب گار ہو، تو وہ غفور الرحیم توبہ کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔
  انہوں نے تلقین کی کہ تلاوتِ قرآن مجید کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے اور ہر دن کا آغاز کلامِ الٰہی سے ہو۔ قرآن کو محض وظائف کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کا پیغام سمجھ کر اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے "اکرم التراجم" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ لفظی و محاوراتی لحاظ سے انتہائی سلیس اور عام فہم ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کریں تاکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔
​آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دینِ اسلام کے احکام پر عمل کریں گےتو یہ ہمارے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا
Noor e Eman bandah Momin ke qalb mein idraak aur baseerat peda farmata hai - 1

اہل بدر کی عظمت (ماہانہ اجتماع)


بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا


 ساری امت ایک طرف اور اہل بدر کے کسی بھی ایک صحابی کی رائے دوسری طرف ہوتو ان کی رائے مقدم ہوگی۔  صحابہ بدر کے بارے ارشاد پاک ہے کہ میں سارے کا سارا اسلام یہاں میدان کارزار میں لے آیا ہوں۔رہتی دنیا تک یہ واحد جماعت ہے جس کو یہ اعزاز حاصل ہے اور ساتھ ہی آپ کا یہ فرمانا کہ کسی مسئلے پر امت کا اتفاق اور بدری صحابی ؓ کی رائے اس کا برعکس ہو تو اصحاب بدر کی رائے مانی جائے گی ان کی رائے مقدم سمجھی جائے گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ بظاہراگر کفر طاقتوربھی نظرآئے لیکن ان کا نظریہ کبھی نافذ نہ ہو سکے گا۔یوم بدر یوم فرقان ہے۔حق و باطل کی تفریق کا دن ہے۔آج جو ایک سوال ہے کہ قرآن کریم تو مسلمانوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ حکمرانی مسلمانوں کے پاس رہے گی،تو جو فرمایا جا رہا ہوتا ہے کیا ہم اس پر پورا اتر تے ہیں؟۔ آج ہم مومن کہلانے والوں کے اعمال کافروں سے بھی بدتر ہیں تو شکایت کرنے کی بجائے اپنے اعمال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو اسلوب زندگی کے نبی کریم ﷺ نے فرمائے ہیں اس سے ہمیشہ کی کامیابی اورفتح نصیب ہوگی۔اُس وقت دو جماعتیں تھیں ایک وہ جماعت جو مکہ واپس لوٹ رہی تھی اور سامان تجارت کو لے جا رہی تھی اور اس رقم کو اسلام کے خلاف استعمال کرنیکا ارادہ رکھتے تھے یہاں بھی اگر دیکھا جائے تو ان لوگوں کو سزا ملی جو کفر میں آگے بڑھ چکے تھے۔اللہ نے مخلوق صرف کھیل تماشہ کے لیے پیدا نہیں فرمائی بلکہ اللہ کریم دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم کون سی راہ اختیار کرو گے۔
  ماہانہ اجتماع پر آنے والے نئے احباب و خواتین کی ظاہری بیعت بھی لی گئی اور انہیں لائحہ عمل بھی دیا گیا کہ اپنے معمولات کو مرکزی ہدایات کے مطابق گزارنا ہے اور قلبی ذکر صبح اور شام اختیار کرنا ہوگا۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
BZahir agar kufar Taqatwar b nzr aaye lekin un ka nazriya kabhi nafiz nah ho sakay ga - 1

خانقاہ کی ذمہ داری


ایک باعمل مسلمان ختم نبوت کی بہت بڑی شہادت ہے


  دنیا ایک باعمل مسلمان کی شہادت کو رد نہیں کر سکتی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ہمارے معاشروں اور حکومتوں کی معیشت کی بنیاد حرام یعنی سود پر رکھی گئی ہے۔اگر ہم قرآن وسنت پر عمل شروع کریں اور اپنے معاشرے کو عملی طورپر اس کے تحت لے آئیں تو دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ یہ ایسی تبلیغ ہوگی کہ از خود دنیا اسلام کی طرف راغب ہونا شروع ہو جائے گی۔ آج ہمارے عہد میں کمزوری ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی جہاں ہم ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں اس میں بھی خیانت ہے۔ہم نے قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنا ہے اپنی عقل و دانش کو اطاعت میں شامل نہیں کرنا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کی ذمہ داری ہے کہ مخلوق کو اپنی ذات کی طرف نہ لائیں بلکہ جتنی مخلوق خانقاہ پر آئے انہیں اصل کی طرف یعنی اللہ کی طرف لے کر جائیں اور بطریقہ نبی کریم ﷺ ان کی تربیت کی جائے۔آج لوگوں کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو خواہشات نفسانی کی پیروی میں لگا ہے۔نفس کی خواہشات بہت بڑا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سا عمل ہے جس سے نفس کو طاقت ملتی ہے اور کو ن سے ایسے اعمال ہیں جن سے نفس کمزور ہوتا ہے۔دین کے مقابل اپنی سوچ رکھ کر چلنا یہ درست نہیں ہے۔اور یہ سارے معاملات قلوب کی بیماری کی وجہ سے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے دلوں کا اطمینا ن اللہ کی یاد میں ہے۔ہمیں اپنے قلوب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی کی اشد ضرورت ہے۔ذکر قلبی کے بغیر قلوب کی اصلاح ممکن نہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 2،3 مئی بروز ہفتہ،اتوار دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی بھی ہوگی دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کیجیے۔
Aik ba aml musalman khatam nabuwat ki bohat barri shahadat hai - 1

پیچھے چلنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا


 جس نے بھی دین اسلام سے دنیا کے اصول لے کر ان پر عمل کیا وہ اس وقت دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ہم جنہیں دین اسلام وراثت میں ملا ہم وہ اصول چھوڑ کر دین اور دنیا دونوں میں پیچھے رہ گئے۔ہمیں جو اقدار اور شفقت بڑوں سے ملی وہ ہمارے اندر کہیں نظر نہیں آرہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ مانچسٹر دارالعرفان میں سراجا منیرا کانفرس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ موت کے مرحلے سے گزرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ روح جب ایک ایک باڈی سیل سے نکلتی ہے جیسے کانٹے دار جھاڑی پر باریک کپڑا ڈال کر پھر اسے ایک طرف سے پکڑ کر کھینچا جائے تو وہ تار تار ہو جائے گا۔لیکن ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ وفات پا جاتے ہیں لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔کئی بار یہ بھی دیکھا ہے کہ قیمتی کفن ہوتا ہے قیمتی چارپائی ہوتی ہے لیکن چہرے پر اضطراب ہوتا ہے۔حضرت جی ؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حضرت جی ؒ کا وصال ہوا تو ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کا جنازہ لیٹ ہوگا اس لیے یہاں سردے خانے کی سہولت موجود ہے آپ حضرت کو یہاں رہنے دیں۔تو میں نے ان سے کہا محترم آپ کل جنازے پر آنا اور اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لینا کہ ان کا وجود حرکت دینے سے حرکت کرتا ہے کہ نہیں۔اس لیے کہ جب زندگی اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر بسر ہو پھر کسی سرد خانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔وہ سر کیوں حرکت نہ کرے جسے اللہ کریم نے رکوع و سجود کی توفیق عطا فرمائی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ُeechay chalne wala kabhi barabar nahi ho sakta - 1

یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے


 جس بندے کے اندر توقع اور خوف دونوں کیفیات ہوں اس کے اندر ایمان کی دولت موجود ہے۔ ذکر کثیر سے متعلق قرآن کریم سورہ اعراف کی آخری آیات میں جو حکم فرمایا گیا ہے وہ ذکر خفی اور ذکر قلبی اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ذکر صبح شام جب کریں گے تو ایسی کیفیت بن جائے گی کہ ہمہ وقت کا ذکر نصیب ہوگا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ" ہتھ کار ول دل یار ول "کہ اگر آپ معاملات دنیا کی طرف بھی جا رہے ہیں تو آپ متوجہ الی اللہ رہیں گے۔جس سے ہمہ وقت کا ذکر،اللہ کی یاد نصیب ہوگی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ میں دارالعرفان برمنگھم میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے۔ذکر الٰہی کی تین اقسام ہیں لثانی ذکر،عملی ذکر اور ذکر قلبی۔لثانی ذکر جب تک آپ کوئی تسبیح پڑھ رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جب آپ نے کوئی گفتگو شروع کی آپ کا ذکر رک گیا  اسی طرح عملی ذکر بھی جب تک آپ کوئی نیک عمل کر رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جونہی آپ نے وہ عمل چھوڑ دیا یا سو گئے تو آپ کا وہ ذکر رک گیا۔لیکن قرآن کریم میں ذکر کثیر کا حکم ہے جو صرف قلبی ذکر سے ممکن ہے جب اللہ کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے تو دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد جاری رہتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایسی تسبیح ہے ایسا وظیفہ ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے۔حدیث شریف کے مطابق درود شریف کا وقت بڑھاتے بڑھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سارا وقت درود شریف کو دیا جائے تو بہت افضل ہے۔لیکن اس زعم میں نہ پڑجائیں کہ میرے جیسا عبادات گزار کوئی نہیں میرے جیسا نیک کوئی نہیں عجز اور انکساری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ہمیشہ خود کو عاجز سمجھیں تاکہ کبر قریب نہ آئے۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Yaad Ellahi ke sath wabastagi niyat se le kar amal tak ko durust kar ti hai - 1

یو کے وزٹ اپریل 2026

UK visit April 2026 - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے

اسلام آباد: حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے۔ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے تین ہفتوں پر مشتمل دورے کے لیے روانہ ہوئے۔

اس موقع پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سالکین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے شیخ مکرم کو رخصت کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عہدے داران بھی خصوصی طور پر حضرت کو الوداع کرنے کے لیے موجود تھے۔ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے روانگی سے قبل تمام احباب سے مصافحہ کیا اور دعاؤں سے نوازا۔

دورۂ یوکے کے دوران حضرت لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی سراج منیر کانفرنسز سے خطاب کریں گے، جن میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ ان کانفرنسز میں روحانی تربیت، اصلاحِ نفس اور معاشرتی رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر خصوصی خطابات کیے جائیں گے۔

مزید برآں، حضرت امیر عبدالقدیر اعوان اپنے قیام کے دوران انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں وہ احباب کو ذاتی طور پر روحانی رہنمائی اور تربیت فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر خصوصی لیکچرز بھی دیے جائیں گے۔

یہ دورہ روحانی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یوکے میں مقیم پاکستانی و دیگر کمیونٹی بھرپور استفادہ کرے گ
Ameer Abdul Qadeer Awan MZA sheikh Silsila rohani tarbiati dora pr bartania rawana - 1