Featured Events


اللہ کریم کی بخشش


ذکر اللہ کی فضیلت


عمل صالح


سالانہ روحانی تربیتی اجتماع

40 Roza Salana Ijtima 2026 - 1

متقی کے اوصاف


اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں


 اللہ کریم نے جو ہنر یا اوصاف کسی بھی بندہ مومن کو دئیے ہیں وہ انہیں صرف اللہ کی رضاکے لیے استعمال کرے گا تو یہ سب کچھ انفاق فی سبیل اللہ کہلائے گا۔ دین اسلام زندگی میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔جب بھی بندہ مومن اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے جس میں زکوۃ،صدقات،عشر تو اُسے یہ خیال ہوتا ہے اور وہ اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ مال میرا نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے سب اللہ کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں۔اگر کوئی انفرادی طور پر اُٹھ کھڑا ہو اور کہے کہ میں اسلام نافذ کرتا ہوں تو یہ فساد کا سبب بنے گا۔جن کے پاس اختیار ہے کیا وہ دعوی ایمانی نہیں رکھتے؟صاحب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ انصاف کریں اور لوگوں کو سہولت دیں۔لوگوں کو تحفظ ملے ان کی زندگیاں آسان ہوں۔ہمیں تو غیر مسلم کے ساتھ بھی انصاف کرنا تھا ان کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو۔
  انہوں نے مزید کہا کہ تقوی ایک کیفیت ہے اور متقی اس کیفیت کے حامل شخص کو کہتے ہیں۔متقی کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے فراوانی ہو یا تنگدستی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔دوسرا وصف جب اسے غصہ آئے تو وہ ضبط کر لیتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمارے اندر کمی بیشی ہے تو اسے دور کیا جائے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کے طو ل و عرض اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے۔اس اجتماع میں سالک کو ایک باقاعدہ تربیتی پروگرام کے تحت گزارا جاتا ہے اور روزانہ دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی صحبت شیخ کے پریڈ میں خطاب فرماتے ہیں۔دعوت عام ہے اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے
Islam ke naam par bohat se mumalik hain lekin un mein islami qawaneen nahi hain - 1

متقین کا انعام


ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں


 ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں۔ایسے جیسے کوئی مقابل کھڑا ہو جائے۔ہمیں اپنی ذات کی نفی کر کے بخشش کو طلب کرنا ہوگا۔اُس غفور الرحیم نے وعدہ فرمایا ہے کہ سچے دل کی توبہ کو قبول کرتا ہوں۔ایسے لوگ جو اپنی عبادات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ رب کریم کی ذات پر نگاہ رکھتے ہیں تو اُن کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ متقین کے لیے جو جنت تیار کی گئی ہے اس کی وسعت کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔یہ جنت صرف صاحب ایمان لوگوں اور ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسو ل ﷺ کی اطاعت کی۔بندہ مومن کا ظاہر اور باطن پاک ہو تا ہے۔اپنا ہر عمل اللہ کے لیے اختیار کریں۔آج ہمارا دعوی ایمانی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔زندگی بڑی تیزی سے گزر رہی ہے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ہوش میں آنے کی ضرورت ہے ورنہ انہی پریشانیوں میں گزر جائے گی آج یہ رہ گیا آج وہ رہ گیا یہ سمجھ نہیں آئے گی کب سانسیں پوری ہوگئیں۔اصل کامیابی ذات کی نفی میں ہے۔کبر اللہ کو نہیں پسند کبر متقی کے مقابل آتا ہے۔اللہ کریم شکر کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہ سب کے لیے آسانیاں فرمائیں۔اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔۴
Hum imani taur par is had tak kamzor ho gaye hain ke ghalatiyan hamaray mizaaj ka hissa ban chuki hain - 1
Hum imani taur par is had tak kamzor ho gaye hain ke ghalatiyan hamaray mizaaj ka hissa ban chuki hain - 2

حقیقی کامیابی


۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی


ایمان اور سود آپس میں بالمقابل ہیں۔اگر کوئی ایمان کا دعوی بھی کرے اور پھر سود کا لین دین بھی کرے تو انجام وہی ہوگا جو کفر کرنے والوں کا ہوا۔دوزخ کی آگ کفر کے لیے تیار کی گئی ہے۔اللہ کے حبیب کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور اگر تم یہ خیال کرومیرے رکوع و سجود سے مجھے جنت مل جائے گی بلکہ جنت تو اللہ کی رحمت سے عطا ہوگی۔ہم تو پہلے اتنا لے چکے ہیں کہ شکرانہ ادا نہیں ہو سکتا  چہ جائیکہ ہم اس گمان میں رہیں کہ میری عبادات اتنی ہو چکی ہیں کہ اب جنت واجب ہو گئی ہے۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب 
 انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔حقیقی فلاح کی بنیاد اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔حقیقی کامیابی کا انحصار بھی اسی زندگی پر ہے لیکن ان حدود میں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں۔حدود اللہ سے تجاوز کر کے حقیقی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی کامیابی دائمی ہوتی ہے جس سے مراد دونوں جہانوں کی کامیابی ہے یہ دنیا آخرت کا سایہ ہے۔اس زندگی کو بسر کرنے کے لیے اعلٰی اصول درکار ہیں جو ہمیں دین اسلام دیتا ہے۔ذاتی پسند نا پسند سے صرف فساد پیدا ہوگا۔خواہشات اور نفس کا جہاں غلبہ ہو وہاں ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ٹھہراؤ اور سکون صرف دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ دین اسلام دین فطرت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم حقیقی کامیابی جنت کو بیان فرماتا ہے یعنی وہ فلاح پاگیا جو جنت میں داخل ہو گیا۔ہمارے ماہ و سال اتنی تیز ی سے بسر ہو رہے ہیں،ہر شئے اپنے اختتام کی طرف چل رہی ہے لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں،یہی وقت ہے جس میں ہم نے آخرت تعمیر کرنی ہے۔ہمارا اختیار کلی نہیں لیکن اپنی ذات پر تو ہے اس سے پہلے کہ موت آجائے آج کچھ کرنے کے قابل ہیں اپنی اصلاح کریں نیک اعمال کریں زندگی حسرت پر تو ختم نہ ہو،یاد رکھیں مومن کی زندگی میں حسرت نہیں رہتی۔نور ایمان وہ دولت ہے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن ہمیں اپنے ایک ایک عمل کو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں لانا ہوگا۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرت میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Bakhshish hamaray ruku o sajood se nahi balkay Allah ki rehmat se ho gi - 1