Featured Events


اہل بدر کی عظمت (ماہانہ اجتماع)


خانقاہ کی ذمہ داری


ایک باعمل مسلمان ختم نبوت کی بہت بڑی شہادت ہے


  دنیا ایک باعمل مسلمان کی شہادت کو رد نہیں کر سکتی۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔دعوی ایمانی کے ساتھ ہمارے معاشروں اور حکومتوں کی معیشت کی بنیاد حرام یعنی سود پر رکھی گئی ہے۔اگر ہم قرآن وسنت پر عمل شروع کریں اور اپنے معاشرے کو عملی طورپر اس کے تحت لے آئیں تو دنیا کو بتانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ یہ ایسی تبلیغ ہوگی کہ از خود دنیا اسلام کی طرف راغب ہونا شروع ہو جائے گی۔ آج ہمارے عہد میں کمزوری ہے اور اپنے فرائض کی ادائیگی جہاں ہم ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں اس میں بھی خیانت ہے۔ہم نے قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنا ہے اپنی عقل و دانش کو اطاعت میں شامل نہیں کرنا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ خانقاہوں کی ذمہ داری ہے کہ مخلوق کو اپنی ذات کی طرف نہ لائیں بلکہ جتنی مخلوق خانقاہ پر آئے انہیں اصل کی طرف یعنی اللہ کی طرف لے کر جائیں اور بطریقہ نبی کریم ﷺ ان کی تربیت کی جائے۔آج لوگوں کا بہت بڑا حصہ ایسا ہے جو خواہشات نفسانی کی پیروی میں لگا ہے۔نفس کی خواہشات بہت بڑا امتحان ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کون سا عمل ہے جس سے نفس کو طاقت ملتی ہے اور کو ن سے ایسے اعمال ہیں جن سے نفس کمزور ہوتا ہے۔دین کے مقابل اپنی سوچ رکھ کر چلنا یہ درست نہیں ہے۔اور یہ سارے معاملات قلوب کی بیماری کی وجہ سے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے دلوں کا اطمینا ن اللہ کی یاد میں ہے۔ہمیں اپنے قلوب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی کی اشد ضرورت ہے۔ذکر قلبی کے بغیر قلوب کی اصلاح ممکن نہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 2،3 مئی بروز ہفتہ،اتوار دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی بھی ہوگی دعوت عام ہے کہ اس بابرکت پروگرام میں شرکت فرما کر اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کیجیے۔

پیچھے چلنے والا کبھی برابر نہیں ہو سکتا


 جس نے بھی دین اسلام سے دنیا کے اصول لے کر ان پر عمل کیا وہ اس وقت دنیا میں ترقی کر رہے ہیں۔ہم جنہیں دین اسلام وراثت میں ملا ہم وہ اصول چھوڑ کر دین اور دنیا دونوں میں پیچھے رہ گئے۔ہمیں جو اقدار اور شفقت بڑوں سے ملی وہ ہمارے اندر کہیں نظر نہیں آرہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ مانچسٹر دارالعرفان میں سراجا منیرا کانفرس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ موت کے مرحلے سے گزرنا کوئی عام بات نہیں ہے۔حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ روح جب ایک ایک باڈی سیل سے نکلتی ہے جیسے کانٹے دار جھاڑی پر باریک کپڑا ڈال کر پھر اسے ایک طرف سے پکڑ کر کھینچا جائے تو وہ تار تار ہو جائے گا۔لیکن ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ لوگ وفات پا جاتے ہیں لیکن ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔کئی بار یہ بھی دیکھا ہے کہ قیمتی کفن ہوتا ہے قیمتی چارپائی ہوتی ہے لیکن چہرے پر اضطراب ہوتا ہے۔حضرت جی ؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب حضرت جی ؒ کا وصال ہوا تو ڈاکٹرز نے کہا کہ آپ کا جنازہ لیٹ ہوگا اس لیے یہاں سردے خانے کی سہولت موجود ہے آپ حضرت کو یہاں رہنے دیں۔تو میں نے ان سے کہا محترم آپ کل جنازے پر آنا اور اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لینا کہ ان کا وجود حرکت دینے سے حرکت کرتا ہے کہ نہیں۔اس لیے کہ جب زندگی اللہ اور اللہ کے نبی ﷺ کے حکم پر بسر ہو پھر کسی سرد خانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔وہ سر کیوں حرکت نہ کرے جسے اللہ کریم نے رکوع و سجود کی توفیق عطا فرمائی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ُeechay chalne wala kabhi barabar nahi ho sakta - 1

یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے


 جس بندے کے اندر توقع اور خوف دونوں کیفیات ہوں اس کے اندر ایمان کی دولت موجود ہے۔ ذکر کثیر سے متعلق قرآن کریم سورہ اعراف کی آخری آیات میں جو حکم فرمایا گیا ہے وہ ذکر خفی اور ذکر قلبی اختیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ذکر صبح شام جب کریں گے تو ایسی کیفیت بن جائے گی کہ ہمہ وقت کا ذکر نصیب ہوگا جیسے پنجابی میں کہتے ہیں کہ" ہتھ کار ول دل یار ول "کہ اگر آپ معاملات دنیا کی طرف بھی جا رہے ہیں تو آپ متوجہ الی اللہ رہیں گے۔جس سے ہمہ وقت کا ذکر،اللہ کی یاد نصیب ہوگی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا  برطانیہ میں دارالعرفان برمنگھم میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یاد الٰہی کے ساتھ وابستگی نیت سے لے کر عمل تک کو درست کر تی ہے۔ذکر الٰہی کی تین اقسام ہیں لثانی ذکر،عملی ذکر اور ذکر قلبی۔لثانی ذکر جب تک آپ کوئی تسبیح پڑھ رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جب آپ نے کوئی گفتگو شروع کی آپ کا ذکر رک گیا  اسی طرح عملی ذکر بھی جب تک آپ کوئی نیک عمل کر رہے ہیں آپ کا ذکر ہو رہا ہے جونہی آپ نے وہ عمل چھوڑ دیا یا سو گئے تو آپ کا وہ ذکر رک گیا۔لیکن قرآن کریم میں ذکر کثیر کا حکم ہے جو صرف قلبی ذکر سے ممکن ہے جب اللہ کی یاد دل میں رچ بس جاتی ہے تو دل کی دھڑکن کے ساتھ اللہ کی یاد جاری رہتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ درود شریف ایسی تسبیح ہے ایسا وظیفہ ہے جو دونوں جہانوں کے لیے کافی ہے۔حدیث شریف کے مطابق درود شریف کا وقت بڑھاتے بڑھاتے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر سارا وقت درود شریف کو دیا جائے تو بہت افضل ہے۔لیکن اس زعم میں نہ پڑجائیں کہ میرے جیسا عبادات گزار کوئی نہیں میرے جیسا نیک کوئی نہیں عجز اور انکساری کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ہمیشہ خود کو عاجز سمجھیں تاکہ کبر قریب نہ آئے۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Yaad Ellahi ke sath wabastagi niyat se le kar amal tak ko durust kar ti hai - 1

یو کے وزٹ اپریل 2026

UK visit April 2026 - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے

اسلام آباد: حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخ سلسلہ، روحانی و تربیتی دورے پر برطانیہ (یوکے) روانہ ہو گئے۔ وہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اپنے تین ہفتوں پر مشتمل دورے کے لیے روانہ ہوئے۔

اس موقع پر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سالکین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے شیخ مکرم کو رخصت کیا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے عہدے داران بھی خصوصی طور پر حضرت کو الوداع کرنے کے لیے موجود تھے۔ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے روانگی سے قبل تمام احباب سے مصافحہ کیا اور دعاؤں سے نوازا۔

دورۂ یوکے کے دوران حضرت لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی سراج منیر کانفرنسز سے خطاب کریں گے، جن میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد شرکت کرے گی۔ ان کانفرنسز میں روحانی تربیت، اصلاحِ نفس اور معاشرتی رہنمائی جیسے اہم موضوعات پر خصوصی خطابات کیے جائیں گے۔

مزید برآں، حضرت امیر عبدالقدیر اعوان اپنے قیام کے دوران انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں وہ احباب کو ذاتی طور پر روحانی رہنمائی اور تربیت فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف موضوعات پر خصوصی لیکچرز بھی دیے جائیں گے۔

یہ دورہ روحانی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یوکے میں مقیم پاکستانی و دیگر کمیونٹی بھرپور استفادہ کرے گ
Ameer Abdul Qadeer Awan MZA sheikh Silsila rohani tarbiati dora pr bartania rawana - 1

اعمال کے اثرات ماہانہ اجتماع


اعمال کے اثرات ماہانہ اجتماع

Watch Amaal key Asrat Mahana Ijtima YouTube Video

اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے


جیسے انسانی وجود کو روزانہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے بلکل اسی طرح روح بھی آلودہ ہوتی ہے اور دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اس کی صفائی کے لیے اللہ کا ذکر کرایا جا تا ہے۔جب قلب کے اندر کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ آتی ہیں تو قلب جسم کو صراط مستقیم پر لے آتا ہے اور نفس کو برائی سے روکتا ہے۔آج معاشرے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ گھر کی نشست ختم ہو گئی ہے اور بچوں کو تنہائی دے دی گئی ہے وہ کیا کر رہے ہیں کیا دیکھ رہے ہیں جو مغرب اور اغیار دکھانا چاہتے ہیں۔ہمارے بچے ہیں لیکن ہمارے نہیں رہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر نماز پورے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو جتنی ہماری پریشانیاں ہیں بندہ ان سے نکل آتا ہے۔جو نمازی متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اللہ کریم کی اسے خصوصی توجہ نصیب ہوتی ہے۔معاملات میں جائز وسائل کا استعمال کریں اللہ کریم سے عافیت مانگی جائے،شکر گزاری کی جائے توکل الی اللہ ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے،حفاظت فرماتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ہمارے قومی اور بحیثیت امت جو حالات ہیں یقینا ان کا سبب ہمارے اعمال ہیں۔جو جنگی حالات ہیں اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ ہماری بے عملی اور نالائقی کے سبب سے ہے جواقوام عالم میں ہمیں کمزور کرتی چلی گئی۔اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے جو مظلوم ہیں ان کو بھی انصاف دلانے کا سبب بنتے۔آج جو ہماری صورت حال ہے بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے گریباں پکڑیں اپنے اعمال پر توجہ فرمائیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
  یا درہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ رواں ماہ روحانی تربیت کے لیے برطانیہ کا دورہ کریں گے جس میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا اہتمام ہو گا اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ برطانیہ سالانہ ہوتا ہے جس میں حضرت کے برطانیہ کے مختلف شہروں میں لیکچر ہوتے ہیں۔
Agar hum islami Osoolon par qaim rehtay to hum mazloom nahi balkay adil hotay - 1