Featured Events


قیام صلوۃ اس کیفیت اور حال میں ادا کی جائے کہ اس میں خشوع و خضوع شامل ہو


قیام صلوۃ اس کیفیت اور حال میں ادا کی جائے کہ اس میں خشوع و خضوع شامل ہو۔ خشو ع و خضو ع سے ہر رکن کی ادائیگی کرنے سے بندہ مومن کی طرف اللہ کریم متوجہ ہو جاتے ہیں۔اللہ کریم کے متوجہ ہونے سے بندہ حفاظت الٰہی میں آجاتا ہے۔برائی سے بچنا اور نیکی کی طرف چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔اگر یہ کیفیت حاصل نہیں ہو رہی تو نماز کی ادائیگی میں کوئی کمی ہے کہیں غلطی ہو رہی ہے۔یہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میرے اعمال اُمت میں کہیں تفریق تو نہیں پیدا کر رہے؟ اور معاملات کی درستگی نہ ہے تو نماز کو ہم نے محض رواجاً اختیار کیا ہوا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا اسلامک سنٹر شکاگو میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب اللہ کی واحدانیت پر پختہ یقین نصیب ہو پھر خواہشات،چاہتیں اور وساوس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بندہ ان کو رد کرتا جاتا ہے کہ کوئی چاہت،کوئی خواہش ایسی نہ ہو جس میں اللہ کریم کی نافرمانی ہو۔ہمارا ظاہر اور باطن ایسا ہو جیسا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔اگر ایمان کی یہ بنیاد پختہ ہو جائے تو مخلوق کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے بندہ ہر چیز سے آزاد ہو جاتا ہے توکل الی اللہ نصیب ہو جائے تو۔یہ حصہ نصیب ہو جائے تو جب موت کا فرشتہ بھی آئے تو بندہ تیار ہوتا ہے۔اس کیفیت کے لیے اسی زندگی میں عمل کرنا ہے۔ جب تک اس زندگی میں اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ سے زندگی مزین نہیں ہوگی ہم یہ کیفیت حاصل نہیں کر سکتے۔روز محشر جب مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اللہ کریم  بندہ مومن سے فرماتے ہیں تم نے اس دن بالکل نہیں گھبرانا کیوں کہ تم نے اپنی زندگی میرے توکل پر گزاری مجھ پر بھروسہ کیا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Qiyam salaat is kefiyat aur haal mein ada ki jaye ke is mein Khashoo o Khazoo shaamil ho - 1

انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے اپنی معرفت اور پہچان سے نوازا


 انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے اپنی معرفت کے لیے پیدا فرمایا اور انابت الٰہی عطا فرمائی۔ اس کے حصول کے لیے وہ درد چاہیے جو صرف ذکر قلبی کی تکرار سے نصیب ہوتا ہے۔قلب وجود کا بادشاہ ہے جب کسی بات پر دل کرے پھر وجود اسے روک نہیں سکتا بلکہ دل کے حکم کو بجا لاتا ہے۔اسی لیے صوفیا ساری محنت قلوب پر کراتے ہیں جب دل اللہ کی یاد میں لگ جائے پھر اس کے فیصلے بھی اللہ کی اطاعت میں ہوتے ہیں اللہ کی پسند پر ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا اجکس کینڈا میں کانفرنس سے خطاب 
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے دلوں میں دوستوں اور رشتوں کے لیے وہ خلوص نہیں ہے جو پہلے زمانے کے لوگوں میں تھا۔آج جب لوگ اپنے والدین کو اولڈ ہوم میں چھوڑ کر آتے ہیں تب بھی ان سے والدین کا رشتہ تو ہوتا ہے۔جب دلوں میں خلوص نہ ہو پھر رشتے نام کے رہ جاتے ہیں دل میں اس رشتہ کا احساس ختم ہوچکا ہوتا ہے۔حقیقت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ ایمان والوں کے سامنے جب میری آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان تقویت پاتے ہیں اور ان کے دل ڈر جاتے ہیں تو یہ کیفیات بھی دل سے متعلق ہیں جب دلوں میں نور ایمان  ہوگا اس میں خلوص ہوگا پھر اس کے فیصلے بھی اللہ کی رضا کے مطابق ہوں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عبادات کا دارومدار بھی نیت پر ہے اور نیت دل کا فعل ہے روز محشر ایسا انصاف ہو گا کہ تمام اعمال نیت پر پرکھے جائیں گے کہ کسی بھی عمل کے پیچھے دلی ارادہ کیا تھا؟اس لیے دلوں کی صفائی کا نسخہ بھی نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما دیا کہ ہر چیز کا زنگ اتارنے کے لیے ایک پالش ہوتی ہے اور دلوں کی صفائی کی پالش اللہ کا ذکر ہے۔شعبہ تصوف میں اللہ اللہ کرائی جاتی ہے جس سے کیفیفات محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوتی ہیں جن سے بندے کا دل خالص ہوتا ہے اور وہ اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت محمد الرسول اللہ ﷺ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Insaan woh wahid makhlooq hai jisay Allah kareem ne apni Maarfat aur pehchan se nawaza - 1
Insaan woh wahid makhlooq hai jisay Allah kareem ne apni Maarfat aur pehchan se nawaza - 2

دل کی صفائی

Watch Dil ki Safai YouTube Video

خطبہ جمعتہ المبارک

Watch Jumma Beyan  YouTube Video

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس

Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference  YouTube Video

قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے


 قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے۔رہتی دنیا تک یہ اصول اور ضابطے قابل عمل ہیں۔اور ان پر کیے گئے فیصلے اتنے متوازن ہوتے ہیں کہ اس میں فریقین کے درمیان فتح و شکست نہیں ہوتی بلکہ فریقین کے درمیان ایسا انصا ف ہوتا ہے کہ دونوں مطمئن ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روزہ جامع اسلامیہ کینڈا میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جتنی ہم دنیا،دنیا کے علوم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن دنیا فانی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے لیے بھی اسی دنیا میں تیار ی کرنی ہے۔جدت زندگی نہیں ہے زندگی کے زرائع ہیں۔کہ آپ اپنی ضروریات کو اچھے انداز سے پورا کر سکیں۔میں خود ضروریات دین کو جانو اس پر عمل کروں یہ وہ بنیادی درسگاہ ہے جس سے ہمارے بچوں کو راہنمائی ملے گی۔ہمارے خاندانی نظام کی مضبوطی انہی اصولوں میں ہے جو دین اسلام ارشاد فرماتا ہے۔دین اسلام کے اصول اور ضابطے ایسے ہیں جو دوسروں کی خوشی کا بھی سبب بنتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے جامع اسلامیہ کے مولانا صاحب اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور بحیثیت امت اتفاق و اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem mein jo qawaneen Allah kareem ne irshad farmaiye hain un mein masawaat hai - 1

قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں


قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں۔باقی دنیا میں جتنی بھی زبانیں ہیں ان کے معانی و مفاہیم اپنی زبان میں ترجمہ کر کے سمجھے جا سکتے ہیں۔دنیا کی زندگی میں کوئی خواہش کرتا ہے تو اس کا تعلق قلبی انسانی سے ہے۔ خوشی ایک کیفیت ہے اور اس کا تعلق بھی انسانی قلب کے ساتھ ہے ،اگر کہیں تلخی ہے،غم ہے تو اس کاگھر بھی قلب انسانی ہے۔ جتنا دل مطمئن ہوگا اتنا زندگی کے بہر میں سکون نصیب ہوگا اور دلوں کا قرار یادِ الٰہی میں ہے۔
ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا مسجد اقصٰی برامپٹن کینڈا میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ انسانی مزاج ہے کہ مجھ جیسا کوئی نہ ہو،میری حیثیت،میری اولاد،میری کامیابی،میرا مقام،میرا ورع و تقوی کتنے ہی پہلو ہیں کہ آپ ان پر بات کرتے جائیں تو بات ذات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔جب بندہ ذات ہی پر انحصار کرتا ہے توخواہشات ایسے ایسے رنگ دکھاتی ہیں۔یہ دنیا یہ جہان کل زندگی نہیں ہے۔دین اسلام ان حقائق سے آگاہ فرماتا ہے اللہ کریم سے وہ تعلق نصیب ہوتا ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تکلیف اور خوشی اللہ کی طرف سے ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ بندہ مومن دونوں پہلوؤں میں کامیاب ہے تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے دونوں حالتوں میں رجوع الی اللہ کرتا ہے۔اللہ کریم کی ذات رب ہے جو ہر ایک کی ہر ضرورت ہر وقت پوری فرماتا ہے اس نے ہماری ضرورت کی تکمیل کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے ہماری راہنمائی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔بندہ،بندگی کے معنوں سے آشنا نہ ہو سکتا اگر اللہ کریم اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء کو مبعوث نہ فرماتے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem ke ma-ani o Mafaheem woh samjhay jayen ge jo nabi kareem SAW ne samjhaye hain - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دورہ کینڈا اور امریکہ کے لیے روانہ


 حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک ماہ کے روحانی تربیتی دورہ پر کینڈا اور امریکہ کے لیے  روانہ 
 اسلام آباد ائیر پورٹ سے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک ماہ کے روحانی تربیتی دورہ پر کینڈا اور امریکہ کے لیے  روانہ ہو گئے۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر سالکین کی بڑی تعداد نے حضرت شیخ المکرم کو رخصت کیا۔یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا ایک دن کا قیام لند ن میں ہو گا پھر اس کے بعد کینڈا کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔جہاں مختلف شہروں جن میں Mississauga،Brampton،Ajax،میں بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں حضرت شیخ المکرم خطاب فرمائیں گے۔وہاں کی مسلم کمیونٹی سے حضرت کی ملاقاتیں ہوں گی۔اس کے علاوہ وہاں کے مقامی لوگوں سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ حضرت کا مصروف ترین دورہ ہو گا۔
Sheikh ul Mukarram Daurah Canada Aur America ky liy Rawana - 1

صفت تقوی ( ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ )


زندگی کی خوبصورتی اطاعت رسول میں ہے اطاعت سے باہر تلخی پیدا ہوتی ہے


 ہم اس وقت مادیت میں اس حد تک گِھر گئے ہیں کہ اس کو اپنی زندگیوں میں بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔اپنی اولادوں کو بھی دنیاوی تعلیم دینے میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ان کے ننھے کندھوں پر ان کی سکت سے زیادہ وزن کے بیگ ڈال دئیے ہیں۔تاکہ وہ کامیاب انسان بن جائیں۔حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔آج ہم اطاعت سے دور ہو کر مختلف پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بنیاد پر یعنی اطاعت رسول ﷺ پر آجائیں۔جس کا پہلا قدم نماز ہے اسے اگر دھیان سے اور سمجھ کر ادا کیا جائے تو قیام صلوۃ بندہ مومن کو ذاتی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی اصلاح پر لے آئے گی 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔ 
انہوں نے کہا کہ جہاں ہم اپنے بچوں کو سائنس اور جدید ٹیکنالوجی پڑھاتے ہیں وہاں ہم ان کو وہ تعلیم کیوں نہیں دیتے جہاں ہم نے ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔زندگی کی خوبصورتی اطاعت رسول میں ہے اطاعت سے باہر تلخی پیدا ہوتی ہے۔جس نے اطاعت کا دامن چھوڑ دیا وہ خود بھی تکلیف میں ہے اور گھر والے بھی۔ فانی جہان ہے اسے چھوڑ جانا ہے۔اس زمین پر جتنا بھی کوئی اکڑ کر چلتا ہے کیا وہ پہاڑوں کے قد سے بڑھ جائے گا؟قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے بیان فرمایا جاتا ہے اسے پڑھا کریں،ترجمہ و تفسیر سے معاونت حاصل کر کے سمجھیں کہ اللہ کریم میرے لیے کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ متقی کی صفت یہ ہے کہ فراوانی اور تنگی دونوں حالتوں میں وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہے۔اقرار اور انکار اللہ کی اطاعت کے مطابق کرتا ہے۔انسانی معاشرے میں اگر قانون کا نفاذ نہ ہوتو صرف تبلیغ سے اس کی درستگی نہیں ہو سکتی۔یہ ضابطہ اور اصول ہمیں قرآن کریم اور سنت خیر الانام سے نصیب ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کی تربیت فرمائی اس سے بڑھ کر کوئی تربیت جہان میں ہو سکتی ہے؟پھر آپ ﷺ کی معیت نصیب ہوئی اس کے باوجود آپ ﷺ نے اللہ کا دیا ہوا نظام ترتیب دیا اسے نافذ کیا یہ انسانی معاشرے کی ضرورت ہے۔مزاج انسانی کی ضرورت ہے۔کسی بھی معاشرے کو چلانے کے لیے انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔اور انصاف نظم سے ہی قائم ہوتا ہے۔مخلوق کے بنائے قوانین نہیں چل سکتے قوانین وہی چل سکتے ہیں وہی انصاف مہیا کر سکتے ہیں جو خالق کے بنائے ہوں گے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
 ٰ یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان رواں ماہ دورہ کینڈا اور امریکہ کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں جہاں مختلف شہروں میں کانفرنسز ہوں گی جن میں قلبی سکون پر آپ لیکچرز دیں گے
Zindagi ki khoubsurti itaat rasool mein hai itaat se bahar talkhi peda hoti hai - 1