Featured Events


حرام کی سزا

Watch Haraam ki Saza YouTube Video

تکبر قلب کی وہ بیماری جو انسان سے حقائق بھی اوجھل کر دیتی ہے


 قرآن کریم کے معانی اور مفاہیم میں اپنی مرضی کو داخل کرنا یا کمی بیشی کرنا جائز کو ناجائز قرار دینا اور ناجائز کو جائز قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے پیٹ میں آگ بھر رہا ہو۔اکثر ہم یہ چاہتے ہیں کہ فیصلہ میری پسند کا ہو اگر ایک جگہ سے پسند کا فیصلہ نہ ملے تو ہم کسی دوسرے کے پاس فیصلہ لینے چلے جاتے ہیں یعنی جو فیصلہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا ہے اس کے خلاف اپنی پسند کو ترجیح دینا کہ جیسے میں چاہتا ہوں ویسے ہو یہ بہت بڑا جرم ہے اس طرح کا فیصلہ لینے والا اور فیصلہ دینے والا دونوں اس جرم کے مرتکب ہیں جو گناہ عظیم ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم دوا بھی ہے اور غذاء بھی۔جو قرآن کریم کا علم رکھتے ہیں جتنا علم ہو گا ان کی ذمہ داری بھی اتنی بڑھتی جائے گی۔دنیا کی زندگی، دنیا کے معاملات سے بندہ سیکھتا ہے زندگی کا دائرہ انسان کو حقائق سکھلاتا ہے پھر بھی بندہ نہ سمجھ سکے تو یہ بدنصیبی ہے۔دنیا کی زندگی امتحان ہے اس میں نفس بھی ہے شیطان بھی ساتھ ہے اور پھر معاشرے کے معاملات بھی اثر انداز ہوتے ہیں لہذا ان سب سے دفاع کی بھی ضرورت ہے نماز دفاع کے لیے بہت بڑی ڈھال ہے۔اللہ کریم قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ نماز کی ادائیگی اللہ کے حکم کے مطابق ہو۔اگر نماز سے یہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے اس کا مطلب ہے کہ ہماری نماز کو شرف قبولیت حاصل نہیں کہیں کچھ کمی رہ گئی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی عبادات کا شمار کرتے رہتے ہیں اور لوگوں کو بھی بتاتے رہتے ہیں بھائی جس کی عبادت کر رہے ہو وہ خوب جانتا ہے کہ آپ کنتی عبادت کر رہے ہیں۔اللہ کریم اہل جنت سے کلام فرمائیں گے جنت میں بے شمار جنت کے انعامات ہیں لیکن اہل جنت کے لیے سب سے بڑاا نعام دیدار باری تعالی ہو گا۔یہ بہت بڑی اللہ کی نعمت ہے۔اور جو اللہ کریم کی نا فرمائی کر رہے ہیں اللہ کریم ان سے بات نہیں کریں گے یہ کتنی بڑی سزا ہے۔قیامت کے روز جنہیں اللہ کی رحمت نصیب ہو گی ان کا ظاہر وباطن پاک ہو جائے گا۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Taqqabur qalb ki woh bemari jo insaan se haqayiq bhi oojhal kar deti hai - 1

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی یو کے، کینیڈا اور امریکا کے روحانی تربیتی دورہ کے بعد وطن واپسی


اسلام آباد ائیر پورٹ پر راولپنڈی کے ڈویژنل صدر اور صاحب مجاز حافظ غلام قادری، جنرل سیکرٹری محمد ارشد، اسلام آباد ڈویژن کے امیر چودھری طارق جنرل سیکرٹری، انفارمیشن سیکرٹری کے علاوہ امیر سلطان روہڈھا، ملک افتخار عرف بھٹو، ملک اکبر سیٹھ، ملک نعیم، ملک اکبر، ملک اکرام، اکبر پپو، ملک سرور، ملک سردار خان بھی موجود تھے تمام احباب نے حضرت کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے شیخ کو پھولوں کے گلدستے بھی  پیش کیے.
امیر عبدالقدیر اعوان نے اس روحانی تربیتی دورے کے دوران کینیڈا کی مختلف ریاستوں کی مساجد میں جمعتہ المبارک کے خطابات کیے دیگر کمیونٹیز سے انفرادی ملاقاتیں کی اور انکی دعوت پر کمیونٹی ہالز میں ہونے والے پروگرامات میں بیان کیے اس کے علاوہ مریکا کی 9 ریاستوں جن میں نیو یارک، نیو جرسی اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں،  میں ترتیب شدہ پروگراموں میں خطاب کیے جن میں مسلمز آف امریکا کی میزبانی میں پروگرام بھی شامل ہے  ان پروگرامات میں مقامی کمیونٹیز  نے بھرپور شرکت کی اور کیفیات قلبی و برکات نبوی ﷺ کی عظیم دولت سے فیضاب ہوئے۔
 اس دورے کا آخری پروگرام بعثت رحمت عالم  ﷺ کے موضوع پر یو کے کے دارالحکومت لندن میں ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے امیر عبدالقدیر اعوان نے فرمایا دین اسلام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کانام ہے اس میں کسی کی بھی ذاتی پسند کو دخل نہیں۔ ہمیں دین اسلام کی ضرورت ہے دین اسلام ہمارا محتاج نہیں ہے۔ اگر اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہو جائے تو دنیا کی محبتیں بھی پاکیزہ ہو جاتی ہیں.
بیرون ملک ہمارے پاکستانی میڈیا نے ان پروگراموں کوبھر پور کوریج دی اس طرح حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا یہ روحانی تربیتی دورہ بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہوا
Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila Naqshbandia Owaisiah ki U.K , canada aur America ke Rohani tarbiati dora ke baad watan wapsi - 1

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس لندن

Baisat Rehmat Alam SAW Conference London


اگر اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہو جائے تو دنیا کی محبتیں بھی پاکیزہ ہو جاتی ہیں


 انبیاء ؑ وہ ہستیاں ہیں جوخالق سے آشنائی کا سبب ہیں۔دین اسلام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کانام ہے اس میں کسی کی بھی ذاتی پسند کو دخل نہیں۔ہمیں دین اسلام کی ضرورت ہے دین اسلام ہمارا محتاج نہیں ہے۔آپ ﷺ نے پیدائش سے لے کر چالیس سال کی عمر تک ایسی زندگی بسر فرمائی جس کی شہادت سارے اختلافات کے باوجود اہل مکہ آخر تک دیتے رہے۔جب آپ ﷺ نے دعوت حق دی تو لوگوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کی لیکن اس کے باوجود کوئی آپ ﷺ کے اخلاقیات پر انگلی نہیں اُٹھا سکا۔آپ ﷺ کی دیانت و امانت پر سوال نہیں کر سکا صادق اور امین ہونے پر کسی نے بات نہیں کی۔جب آپ ﷺ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو لوگوں کی امانتیں آپ کے پاس تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی ذمہ داری لگائی کہ لوگوں کی امانتیں واپس کر کے آپ بھی مدینہ منور ہ تشریف لے آئیں۔آج ہمیں جو امتی کا رشتہ نصیب ہے اس کی بنیاد بھی بعثت عالی ہے۔آج ہم بھی اس رشتے کے دعوے دار ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کریم کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں آپ ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہمیں اعتراض کرنے کی بجائے جو اللہ کریم نے ہمیں عطا فرما یا ہے اس کا شکر ادا کر نا چاہیے۔جب بندے کا تعلق اپنے اللہ کریم سے مضبوط ہو گا تو وہ اللہ کی مخلوق سے بھی پیار کرے گا اور پورے خلوص سے مخلو ق کے درد کو اپنا درد سمجھے گا لیکن اگر اپنے خالق سے ہی تعلق مضبوط نہیں ہے تو مخلوق سے تعلق کس درجے کا ہو گا۔ہم جو اللہ کے بندوں سے تعلق بناتے ہیں اس میں ذاتی خواہشات ذاتی فائدے ہوتے ہیں کئی طرح کی امیدیں لگا لیتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ تعلق سے میرا فلاں کام ہو جائے اللہ کریم وحدہ لاشریک ہیں اگر ہم توحید میں مضبوط عقیدہ کے مالک ہوں گے پھر ہماری ساری امیدیں اللہ کریم سے وابستہ ہوں گی اور مخلوق سے بھی تعلق اس بنا پر ہوگا کہ اللہ کریم کا حکم ہے کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دین اسلام اخلاقیات کا درس دیتا ہے۔نبی کریم ﷺ کے اخلاق سے کردار سے لوگوں نے اسلام قبول کیا ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آج ہمارے اخلاق اور ہمارے کردار کس طرف جا رہے ہیں جب زندگی اللہ کے حکم کے مطابق بسر کریں گے تو دنیا سے رخصتی کے وقت بھی ہماری زبانوں پر اللہ کا نام ہی ہو گا۔اس دنیا میں ہر وقت بندہ امتحان میں ہے۔جانے اختتام کیسا ہو ہر لمحہ خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تعمیر بھی کرنی ہے ایسے زندگی بسر کریں جیسے اللہ کریم نے پسند فرمایا ہے۔
  یاد رہے کہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان دو ماہ کے بیرون ممالک دورے پر ہیں جس میں کینیڈا،امریکہ اور انگلینڈ شامل ہیں یہ لندن پروگرام اس دورے کا آخری پروگرام ہے ان شاء اللہ اس کامیاب دورے کے بعد حضرت جی وطن واپس تشریف لائیں گے۔اس دورے کے دوران بہت سے پروگرامز ہوئے جن میں مسلم کمیونٹی کے علاوہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے بھر پور شرکت کی اور لوگوں نے حضرت جی سے ون ٹو ون بھی ملاقاتیں کیں اور اپنی روحانی تربیت کے لیے حاضر ہوئے۔
Agar Allah kareem se bandagi ka rishta naseeb ho jaye to duniya ki muhabbaten bhi pakeeza ho jati hain - 1

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کنوینشن واشنگن ڈی سی

Baisat Rehmat-e-Alam SAW Convention Washington DC, USA


اسلام ہمیشہ امن کا درس دیتا ہے


جب مسلم اُمہ دینی احکامات اور آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہو گی تو مسلمان پوری دنیا میں محبت و اخوات اور یگانگت کا سبب بنے گا۔اسلام ہمیشہ امن کا درس دیتا ہے۔اپنے فرائض کی ادائیگی اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔آج غیر مسلم نے بھی جو اسلام کے احکامات اپنی زندگیوں میں نافذ کیے ہوئے ہیں وہ دنیاوی لحاظ سے ان اصولوں سے مستفید ہو رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر امریکہ واشنگٹن ڈی سی میں مختلف کمیونٹی کے لوگوں سے خطاب 
  یادر ہے کہ واشنگٹن ڈی سی میں اس با برکت پروگرام کے موقع پر  مسلم کمیونٹی کی طرف سے حضرت جی کوچیئر مین ساجد تارڈ نے  اعزازی سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا اور آپ کی اسلامی اور مسلم امہ کے لیے خدمات کو سراہا
islam hamesha aman ka dars deta hai - 1

جمعتہ المبارک مسجد فاطمہ میری لینڈ

Juma Beyan at Masjid Fatima, Catonsville, Maryland


صحبت

Sohbat - 1
Sohbat - 2

لیکچر شہنائی ہال ہوسٹن ٹیکسز

Lecture Families Program , Shahnai Reception Hall, Houston Texas