Featured Events


جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے


 اپنے آپ کو دفاعی طور پر مضبوط کرنے کا حکم ہے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے تم ان دشمنوں کو نہیں جانتے لیکن اللہ جانتے ہیں۔ جہاں دینی تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہے وہاں دنیاوی تعلیم کا حصول بھی اتنا ہی ضروری ہے۔بحیثیت امت مسلمہ ہمیں تدبر اور مضبوط پالیسیز بنانے کی ضرورت ہے۔موجودہ حالات معاشی تنگی کی طرف جا رہے ہیں ہمارا زرعی ملک ہے ہمیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہم شعبہ زراعت کو فروغ دیں کسانوں کو سہولتوں سے آراستہ کریں اور سال میں مکمل پلاننگ کر کے فصل اُٹھائی جائے تا کہ ملک میں کم از کم خوراک کی کمی تو نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہا کہ  رمضان المبارک ہو  یا غیر رمضان، ہمارا مسلمان معاشرہ ہے لیکن معاملات میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا۔ایک روش ہے بس اس کے پیچھے سب بھاگ رہے ہیں۔رمضان المبارک کی رعائتیں ہیں ااس میں رحمت کا عشرہ ہے،مغفرت کا عشرہ ہے پھر جہنم سے آزادی کا تو اللہ کریم تو بہانوں سے بخشش لٹا رہے ہیں کیا ہم بھی ان برکات کے حصول کے لیے تیار ہیں؟فرمایا جو بھی عمل تم لے کر آؤ گے اس کی ہر گز نا قدری نہیں کی جائے گی۔دنیا کی زندگی میں مال و دولت کا بہت مقام ہے جتنی حیثیت بڑھتی جائے گی اتنا حساب بڑھتا جائے گا۔ہمارے اپنے وجود ہمارے خلاف شہادت دیں گے کہ یہاں یہ یہ نا فرمانی کی گئی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ حرمت والے مہینے میں جنگوں کا ہونا یہ بھی ہمارے اعمال کے سبب ہے۔صالح اعمال سے مزید اصلاح نصیب ہوتی ہے۔نیکی بڑھتی ہے،اچھائی پھیلتی ہے۔بد اعمالیوں سے برائی پھیلے گی،گناہ مزید برائی کی طرف دھکیلتا ہے۔یعنی ہر عمل کے نتائج یہاں سے ہی شروع ہو جاتے ہیں۔آخرت اصل ہے دنیا اس کا سایہ ہے،پرتو ہے۔اس سے پہلے کے بے اختیار ہو جائیں نیک کام کرو۔ ذکر الٰہی ایسا عمل ہے جو ہمہ وقت بندے کو ہوش میں رکھتا ہے۔غفلت نہیں آنے دیتا اللہ کریم حفاظت فرماتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Jahan deeni taleem haasil karne ka hukum hai wahan dunyawi taleem ka husool bhi itna hi zaroori hai - 1

پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم ااخوان پاکستان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہارکیا اور وطن عزیز پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کرے گی۔دو اسلامی ممالک میں اس طرح کی صورت حال سے انتہائی تشویش اور دکھ ہے۔اللہ اس امت کو اتفاق اور اتحاد عطا فرمائے۔
Pakistani qoum apni musallah afwaj ke shana bshanh khari hai - 1

بخشش کے بہانے

Watch Bakhshash k bahane YouTube Video

اصل استحکام طاقت کی بجائے نظام عدل میں ہے


ر شعبے میں عدل کی ضرورت ہے اور حقیقی عدل اسلامی نظام میں موجود ہے۔اسلام ہمیں وہ اصول اور ضابطے دیتا ہے جو حقیقی عدل پر مبنی ہوتے ہیں۔اللہ نے جو حق عطا فرمایا اس میں لوگوں نے تبدیلیاں کر کے اپنی مرضی کے معنی و مفاہیم نکالے قرآن کریم اصول بیان فرماتا ہے راہ ہدایت ہے متقی کی بنیاد ہی اس پر ہے کہ قرآن کریم کے مطابق قدم اُٹھائے۔رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ جو اعمال کثرت سے کرتے ان میں قرآن کریم کی تلاوت بھی ہے۔عشروں کی تقسیم میں بھی برکات عطا فرمائیں بہانوں سے بخشش عطا فرما رہا ہے۔ہمیں خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم جو عبادات کر رہے ہیں کیا وہ خالص اللہ کے لیے ہیں یا عبادات میں بھی سودے کر رہے ہیں کہ نماز روزہ کروں تو میرا فلاں کا م ہو جائے فلاں بیماری چلی جائے۔کہیں ہم اپنی عبادات کو دکھاوے میں ضائع تو نہیں کر رہے۔یہ وقت  بہت محدود ہے جو وقت کو ضائع کر دیتا ہے وہ اس ایک سوال کا جواب نہیں دے پائے گا کہ اس کے پاس فرصت تھی لیکن اس نے وہ وقت ضائع کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطا ب۔
  انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رمضان کی بھٹی میں اپنے غلطیوں اور گناہوں کو جلا دیں یہ جو رمض کی بھٹی ہے اس میں سے کندن بن کر نکلیں تا کہ اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک حفاظت نصیب ہو۔رمضان المبارک میں نفلی عبادات کا ثواب بھی فرائض کے برابر ہو جاتا ہے تو غلطی پر پوچھا بھی جائیگا۔ایسے سجدے کس کام کے جو بے کیف ہوں ہمارے رکوع و سجود میں کوئی رابطہ ہی نہ ہو سب سے بڑی ذات اللہ کی ہے وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں سجدہ صرف اسی کو سزاوار ہے۔اللہ کریم ہمیں اس رمضان المبارک کی برکات عطا فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Asal istehkaam taaqat ki bajaye nizaam Adal mein hai - 1

برکات رمضان اور آج کا مسلمان

Watch Barkat e Ramzan aur Aaj ka muslman YouTube Video

رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے


قرآن کریم فرماتا ہے کہ روز محشر انکار کرنے والے سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن وہ سجد ہ نہیں کر سکیں گے۔کیونکہ اس دارِ دنیا میں جب وقت تھا تو اس وقت انہوں نے سجدہ نہ کیا۔دنیا دارالعمل ہے اس میں صالح اعمال اختیار کیے جائیں،معافی مانگی جائے اور اپنے اللہ سے اخلاص مانگیں تاکہ ہمارے اعمال ہمارے اقرار کی گواہی دیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک مہینوں کا سردار مہینہ ہے۔اللہ کریم نے باردیگر عطا فرمایا۔اس میں شیطان جکڑ دئیے جاتے ہیں اگر پھر بھی غلطیاں کریں تو وہ جو سال بھر شیطنت ہمارے اندر رہی یہ اس کے اثرات ہیں۔کیا رمضان المبارک میں جھوٹ بولتے ہوئے زبان لڑکھڑاتی ہے،لین دین کرتے ہوئے کیا حق کے ساتھ کر رہے ہیں؟رمضان رمض سے ہے جس کے معنی ہیں بھٹی یعنی ایسا ماہ مبارک جو گناہوں اور غلطیوں کوجلا کر راکھ کر دے۔رمضان المبارک کی بہت برکات بیان فرمائی گئی ہیں اس کے عشرہ جات کی برکات ہیں پھر اس میں اعتکاف ہے پھر لیلۃ القدر جیسی عظیم برکتوں والی رات ہے جس میں کلام ذاتی نازل فرمایا گیا۔اس ماہ مبارک کی کیا کیا کوئی عظمت بیان کرے برکات ہی برکات ہیں۔جو نورایمان ہمارے قلوب میں ہے کیا وہ اس درجہ کا ہے کہ ماہ مبارک کی چاشنی ہمیں بھی محسوس ہواس کا  ادراک ہمیں بھی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدق دل سے نماز ادا کرنے سے بندے کا حال بدل جاتا ہے۔یہ مزدوری کا وقت ہے پھر یوم حساب ہو گا جہاں جزاو سزا ملے گی وہاں مزدوری کا وقت نہیں ہو گا عمل یہاں اسی دنیا میں کرنا ہے۔ہمیں اپنے شب وروز دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں صرف ہو رہے ہیں دنیا کے اصول و اسلوب جائز حرکت میں ہیں ناجائز معاملات سے معاشرے میں بدبو پیدا ہوتی ہے۔صالح اعمال معافی کا بھی سبب ہیں اور قرب الٰہی بھی نصیب ہوتا ہے۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ramzan ul Mubarak maheenon ka sardar maheena hai - 1

اسلام دشمن عناصر

Watch Islam dushman Anaasar YouTube Video

جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں


کفر مسلمانوں کو سودی معیشت کے اندر جکڑ رہا ہے،سوشل میڈیا کے زریعے فحاشی اور عریانی کو عام کر رہا ہے،ہمیں حرام پر لگا رہا ہے یہ سارے آج کے دور کے وہ حملے ہیں جن کے ذریعے اسلام دشمن عناصر اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم میدان میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔اس لیے اس طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جس کے پاس طاقت ہے وہ چاہتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں۔اور کمزور مجبور ہے ان کی پیروی کرنے کے لیے۔انصاف کے نام پر قومیں حاکم بن گئی ہیں اور انصاف کے نام پر ہی قوموں کو محکوم بنایا جا رہا ہے۔جانوروں کے لیے انصاف کی بات کی جاتی ہے لیکن عورتوں اور بچوں پر جب ظلم ہوتا ہے وہاں انصاف کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔یہ ساری دنیا کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کوئی بات نہیں کر رہا کیونکہ ظلم کرنے والا طاقتور ہے۔سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں۔مسلمان ممالک اور حکمران اس حالت کو پہنچ چکے ہیں کہ ان پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا گلہ بھی نہیں کر سکتے۔ہم نے دینی اور دنیا وی اصول چھوڑ دئیے ہیں اور بے راہروی کا شکار ہو گئے آج بھی اگر دینی اصولوں کو اپنایا جائے ان پر عمل کیا جائے توہم دنیا میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی اگر بحیثیت مجموعی ہم توبہ کریں اللہ سے مدد مانگیں تو ہم اس دنیا کو لیڈ کر سکتے ہیں۔اللہ کریم تمام جہانوں کے پالنہار ہیں جو بھی اس دنیا میں اللہ کی نعمتیں حاصل کر رہا ہے وہ اللہ کی صفت رحمانیت سے حاصل کر رہا ہے جو اس کو نہیں مان رہا اس کو بھی سب مل رہا ہے۔ہم تو اس کے ماننے والے ہیں ہم اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
jis ke paas taaqat hai woh chahta hai ke waisa ho jaisa mein chahta hon - 1

قرآن کریم کا بحر ماہانہ اجتماع


اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار


 عظمتِ رسالت ﷺ پر قرآن مجید میں جتنی آیات ہیں ہر آیت میں ایسی عظمت بیان فرمائی گئی کہ لاکھوں تفاسیر لکھی جا چکی ہیں۔جب بھی کوئی اس قرآن کے بحر میں اتراوہ نئے جواہر اور موتی لے کر نکلا اور مخلوق کو آراستہ کیا۔قیامت تک اللہ کریم جسے توفیق دیں گے عظمت رسول ﷺ بیان ہوتی رہے گی۔قرآن مجید حقوق و فرائض کی ایسی تقسیم فرماتا ہے جس کی راہنمائی سے غیر مسلم بھی اس دارِ دنیا میں ترقی کر رہے ہیں اور جو فیصلے قرآن مجید فرماتا ہے جسے سزا ملتی ہے وہ بھی مسکراتے ہوئے قبول کرتا ہے اس کے فیصلوں میں ایسا انصاف ہوتا ہے جو سب کے لیے مثالی ہوتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ یہ امت دنیا کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے روز محشر یہ باقی امتوں پر شاہد ہوگی آج اس امت میں کتنی تفریق پید ا ہو چکی ہے بلوچستان میں کتنی بد امنی ہے ایسی پالیسیز بنائی جا رہی ہیں جس سے ہمارے ہی بھائی شہید ہو رہے ہیں۔حضرت نے اسلام آباد میں بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کب ہم من حیث القوم اس بات کا ادراک کریں گے کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے شرف ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی اُمت ہیں لیکن خود کو دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔اس نسبت کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنا محاسبہ کریں۔یہ امتی کا رشتہ اتنا نازک ہے کہ ایک لمحے کا خیال اسے چکنا چور کر دیتا ہے اور مضبوط اتنا کہ موت بھی وارد ہو جائے تو یہ رشتہ نہیں ٹوٹتا۔اس لیے کہ اس رشتے کی بنیاد ایمان پر ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Islamabad mein bomb dhamakay mein halaak aur zakhmi honay walon par dili dukh aur afsos ka izhaar - 1