Featured Events


اعمال کے اثرات ماہانہ اجتماع


اعمال کے اثرات ماہانہ اجتماع

Watch Amaal key Asrat Mahana Ijtima YouTube Video

اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے


جیسے انسانی وجود کو روزانہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے بلکل اسی طرح روح بھی آلودہ ہوتی ہے اور دلوں پر زنگ لگ جاتا ہے اس کی صفائی کے لیے اللہ کا ذکر کرایا جا تا ہے۔جب قلب کے اندر کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ آتی ہیں تو قلب جسم کو صراط مستقیم پر لے آتا ہے اور نفس کو برائی سے روکتا ہے۔آج معاشرے کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ گھر کی نشست ختم ہو گئی ہے اور بچوں کو تنہائی دے دی گئی ہے وہ کیا کر رہے ہیں کیا دیکھ رہے ہیں جو مغرب اور اغیار دکھانا چاہتے ہیں۔ہمارے بچے ہیں لیکن ہمارے نہیں رہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر نماز پورے اہتمام کے ساتھ ادا کی جائے تو جتنی ہماری پریشانیاں ہیں بندہ ان سے نکل آتا ہے۔جو نمازی متوجہ الی اللہ ہوتا ہے اللہ کریم کی اسے خصوصی توجہ نصیب ہوتی ہے۔معاملات میں جائز وسائل کا استعمال کریں اللہ کریم سے عافیت مانگی جائے،شکر گزاری کی جائے توکل الی اللہ ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے،حفاظت فرماتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج کے ہمارے قومی اور بحیثیت امت جو حالات ہیں یقینا ان کا سبب ہمارے اعمال ہیں۔جو جنگی حالات ہیں اور جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ ہماری بے عملی اور نالائقی کے سبب سے ہے جواقوام عالم میں ہمیں کمزور کرتی چلی گئی۔اگر ہم اسلامی اصولوں پر قائم رہتے تو ہم مظلوم نہیں بلکہ عادل ہوتے جو مظلوم ہیں ان کو بھی انصاف دلانے کا سبب بنتے۔آج جو ہماری صورت حال ہے بجائے اس کے کہ ایک دوسرے کے گریباں پکڑیں اپنے اعمال پر توجہ فرمائیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
  یا درہے کہ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ رواں ماہ روحانی تربیت کے لیے برطانیہ کا دورہ کریں گے جس میں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا اہتمام ہو گا اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ برطانیہ سالانہ ہوتا ہے جس میں حضرت کے برطانیہ کے مختلف شہروں میں لیکچر ہوتے ہیں۔
Agar hum islami Osoolon par qaim rehtay to hum mazloom nahi balkay adil hotay - 1

عظمت صحابہ


فلاح انسانیت کے نام پر انسانیت کو دھوکہ دیا جا رہا ہے


آج ہم غلط فیصلے کر کے سمجھتے ہیں کہ انسانیت کی فلاح کر رہے ہیں۔اپنی عقل و دانش اور ذاتی پسند سے قانون بناتے ہیں کچھ عرصے بعد خود ہی ان قوانین کا رد کر رہے ہوتے ہیں۔آنے والی اسمبلی اُن قوانین میں ترمیم کر رہی ہوتی ہے کہ یہ قوانین اب قابل عمل نہیں رہے۔ہم طرح طرح کے تجربات کر رہے ہوتے ہیں یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی عقل کلی طور پر کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی،اس کے مقابل اسلامی اصول اور قوانین جہاں بھی نافذ ہوئے وہاں اعتدال رہا اور کوئی بھی ان قوانین کو رد نہیں کر سکا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اولیسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓ وہ خوش بخت ہستیاں ہیں جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی۔آج بھی وہی اسلامی تعلیمات ہیں،قرآن کریم ہماری راہنمائی کے لیے موجود ہے سب کچھ محفوظ ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن ایمان کا وہ درجہ جو صحابہ کرام ؓ کو نصیب تھا وہ آج کیوں نہیں ہے اس لیے کہ ان ہستیوں کو نبی کریم ﷺ کا ساتھ نصیب تھا۔پھر صحابہ ؓ  میں اہل بد ر کا اپنا مقام ہے،عشرہ مبشرہ کا اپنا ہے۔اقرار کے ساتھ پھر اس پر قائم رہنا یعنی خود کو دین پر قائم رکھنا یہ صبر ہے ہر ایک کو صبر اور تقوی کی ضرورت ہے۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے لیے اتفاق و اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Falah insaaniyat ke naam par insaaniyat ko dhoka diya ja raha hai - 1

اللہ کی مدد

Watch Allah ki Madad YouTube Video

بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے


اسلام اس کرہ ارض پر تلوار کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ لوگوں کے تحفظ اور ان پر ظلم کو روکتے ہوئے پھیلا  اُس وقت کے مظالم جس کی تاریخ گواہ ہے کہ مظلوم اپنی شکایت بھی نہیں کر سکتا تھا۔انسانیت کی بھلائی کوئی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود دین اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا نہ ہو۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک سے ابھی نکلے ہیں ان سب کے فضائل حاصل کیے ہیں اور ان کا حاصل میدان عمل میں یہ ہے کہ ہم نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں۔اور تقوی کا حاصل بھی یہ ہے کہ بندہ عمل کرتے ہوئے اللہ کی حضوری کا احساس رکھے۔ہر چیز اللہ کے دست قدرت میں ہے،فتح و ناکامی اللہ کی طرف سے ہے۔سبب اختیار کرو لیکن بھروسہ اللہ پر کرو۔اہل بدر کو یہ الفاظ نصیب ہوئے کہ یہ سارے کا سارا اسلام ہے۔اللہ کریم ایمان کی یہ کیفیت عطا فرمائیں کہ اللہ کی رضا اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔اس دنیا میں یہ فرصت ہے کہ ہم اپنی آخرت تعمیر کر سکیں۔یہ دنیا کی زندگی اس لیے قیمتی ہے کہ اس پر آخرت کا انحصار ہے۔
  انہوں نے کہا کہ بخشش اللہ کی رحمت سے ہے ہمارے اعمال سے منسوب نہیں ہے۔ہم صرف تعمیل حکم کر رہے ہیں۔اللہ کریم ہمیں خالص عبادات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔دعوی ایمانی کے ساتھ اپنی عبادات کے ساتھ اپنی اغراض شامل کر لیں یہ درست نہیں ہے۔
 آج بھی فرشتے مسلمانوں کی مدد کو نازل ہو سکتے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم مسلمانی کے معیار پر پورا اتر رہے ہیں؟ کیا ہم اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔اللہ کریم سے حقیقی تعلق ہونا چاہیے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ صبر یہ ہے کہ خود کو شریعت پر پوری قوت سے روکے رکھنا۔شیطان کے پیچھے نہ جانا،عمومی دنیا کی روش میں نہ بہہ جانا۔رمضان المبارک کا حاصل بھی صابر اور متقی کی کیفیت کو پانا ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائ
Bakhshish Allah ki rehmat se hai hamaray aamaal se mansoob nahi hai - 1

مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی

 مرکز دارالعرفان منارہ میں 23 مارچ کے موقع پر یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے دوران حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، شیخِ سلسلہ اور سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے پرچم کشائی کی۔اس موقع پر اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے آزادی کی اہمیت اور قراردادِ مقاصد کے بنیادی نکات پر روشنی ڈالی، جبکہ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خطاب میں ملکی اداروں کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے تمام قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مختلف لسانی اکائیاں، جن میں سندھی، بلوچی، پشتو اور گلگتی زبانیں شامل ہیں، ہماری قومی طاقت ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو یکجا کر کے قومی اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ ملکی و عالمی حالات کا بھی ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے
Markaz Darul irfan mnarh mein 23 March ke mauqa par yom Pakistan ki munasbat se aik purwaqar taqreeb munaqqid hui - 1

حاصل رمضان

Watch Hasil Ramzan YouTube Video

آج کی رات (چاند رات)جشن منانے کے لیے نہیں بلکہ رمضان المبارک کا انعام حاصل کرنے کی رات ہے


 رمضان المبارک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جو تقوی کی کیفیت کا حصول مقصود ہے اسے رمضان المبارک کے بعد عملی زندگی میں پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہم نے رمضان المبارک میں متقی کی کیفیت حاصل کی؟کیا ہم ان حدود و قیود کا خیال رکھ رہے ہیں جو اللہ کریم نے ہمارے لیے مقرر فرمائی ہیں؟  کہیں یہ تو نہیں کہ رمضان المبارک کے بعد پہلی رات جسے لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں وہ رات جو رمضان المبارک کے انعامات پانے کی رات ہے۔ اس رات کو چاند رات کے نام پر جشن اور ھلڑ بازی اور شور شرابا میں ہم نے ضائع کر دیا ۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام کی جماعت کو اللہ کریم نے وہ عظمت عطا فرمائی کہ اللہ ان سے راضی ہو گئے اور وہ اللہ سے راضی۔جن سے اللہ کریم راضی ہونے کا اعلان فرما رہے ہیں ان کی عظمت یہ ہے کہ غیر صحابہ جن میں تابعین، تبع تابعین اور اہل اللہ سب کو اکٹھا کر لیں پھر بھی وہ صحابہ کی خاک پا کو نہیں پہنچ سکتے۔اللہ کریم نے صحابہ کرام کو یہ عظمتیں عطا فرمائیں ہیں۔دنیا کی بادشاہیاں اگر قبر میں اترتے ہیں امتحان بن جائیں تو کیا فائدہ ان بادشاہیوں کا؟اللہ کریم نے جس کوجہاں جس حال میں رکھا ہے اس کے لیے وہی سب سے بہتر حال ہے 
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں اجتماعی سنت اعتکاف کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں معتکفین تشریف لائے ان اپنے شب و روز کو اللہ والوں کی اس بستی میں بسر کیا۔
  شیخ سلسلہ نے آخر میں معتکفین کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ آپ کا اعتکاف قبول فرمائیں اور اس رمضان المبارک سے اگلے رمضان المبارک تک اللہ حفاظت فرمائے۔ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی گئی۔
Aaj ki raat ( chaand raat ) jashnn mananay ke liye nahi balkay ramadaan al mubarak ka inaam haasil karne ki raat hai - 1