Featured Events


کلمہ حق پوری انسانیت کے لیے نقطہ اتحاد ہے


 دین اسلام سب کو برابری کا حق دیتا ہے۔جب بندہ کلمہ حق کا اقرار کرتا ہے پھر اس کی تمام استعداد مثبت پہلوؤں  پر استعمال ہوتی ہے پھر وہ اپنی صلاحتیں ترویج دین کے لیے استعمال کرتا ہے۔دین اسلام کی تعلیمات اسے ایثار پر لے آتی ہیں جو جانوروں کے پانی پینے پر ایک دوسرے کی گردنیں اڑا دیتے تھے پھر وہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے لگتے ہیں۔بندہ جب اعتدال سے ہٹتا ہے تو پھر معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔دین اسلام پر عمل پیرا ہونے سے بندہ اعتدال میں آجاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دنیا کی زندگی امتحان گاہ ہے جو اقرار کیا ہے اس پر تا دم واپسی قائم بھی رہنا ہے۔یہ اصلاح نہیں کہ اقرار کرنے کے بعد بھی امور سارے انکار والے ہوں۔ہم نے جو اقرار کیا ہے ہمارے اعمال اس دعوے کے گواہ ہوں۔ہر غیر صالح عمل فساد پیدا کرتا ہے۔ہمارا غیر صالح عمل سے نا صرف ہم خود متاثر ہوتے ہیں بلکہ پوری کائنات میں اس کا اثر جاتا ہے۔بے عملی فساد فی الارض کا سبب بن جاتی ہے۔جیسے حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کے موقع پر فرمایا گیا تھا کہ اگر عمر ؓ حیات ہوتے تو جانور کسی دوسرے کی زمین سے چارہ نہ کھاتے۔مطلب ہمارے اعمال سے کائنات کی ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ان شاء اللہ جس طرح موسم بدلتے ہیں یہ حالات بھی بدلیں گے۔اللہ کریم ہمیں وہ وقت دکھائیں جب اسلام کا نفاذ ہو۔جہاں مخلوق کو انصاف نصیب ہو رہا ہو۔ہم کمزور لوگ ہیں ہم زبان بھی ان کی بول رہے ہیں جن کے پاس طاقت ہے۔انہی کی پیروی کر رہے ہیں۔جب ہم اپنی بنیاد جو ایمان ہے اس پر عمل کریں گے تب ہی ہم اپنے ملک کی بھی تعمیر کر پائیں گے۔56 اسلامی ریاستیں ہیں اور ساری مار کھا رہی ہیں۔ہمارے اندر اتنی تلخیاں آچکی ہیں کہ کوئی کسی دوسرے کو دیکھنا تو کجا سننا پسند نہیں کرتا۔ہماری اس تفریق کی وجہ ہمارے اعمال بد ہیں۔اپنی ذات سے نکل کر سوچنے کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Kalmah Haq puri insaniat key lie nuqtah itehad hai - 1

کیا اولاد اور والدین سے محبت دنیا سے محبت ہے

کیا اولاد اور والدین سے محبت دنیا سے محبت ہے


دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع مرکز دارالعرفان منارہ

Mahana Ijtima Dar ul Irfan Munarah - 1

درجہ احسان کیا ہے

درجہ احسان کیا ہے


دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو


لہ کریم قرآن کریم میں فرما رہے ہیں کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے اور برائی سے روکے اس کے لیے بھی خلوص اولین شرط اور دوسروں کی اصلاح مقصود ہو۔اپنی ذات کی بڑائی منوانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اس حکم پر عمل کیا جائے۔ بندہ خود باعمل ہو اور جو وہ کہہ رہا ہے اس پر یقین ہو اس سے وہ قوت عطا ہوتی ہے کہ کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ کوئی خواہ مخواہ اعتراض کرسکے۔دعوت حق کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔برائی کو ہاتھ سے روکنا ایمان کا اعلی درجہ ہے۔جس نے اسلام قبول کر لیا وہ پابندہے کہ حکم الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرے۔دین پر عمل کرانے کے لیے قوت نافذہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جیسے بے نمازی کے لیے حکم ہے کہ اسے سزا دی جائے اگر کوئی بے نمازی فوت ہو جائے تو اس کا نماز جنازہ بھی نہ پڑھا جائے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا حکومت وقت کی ذمہ داری میں شامل ہے۔یاد رکھیں یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کوئی فرد واحد یا جماعت اگر ایسا کرے گی تو انتشار پیدا ہوگا 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دعوت و تبلیغ میں اگر خلوص ہو اور مقصد حق ہو تو کوئی بھی آپ کی مخالفت نہیں کرے گا لیکن جب مقصد ذاتی خواہش بن جائے پھر فساد پیدا ہوگا۔دین میں سختی نہیں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی کو زبردستی کلمہ نہیں پڑھا سکتے اس کی دین اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو زوربازو دین میں داخل کیا جائے لیکن جب کوئی اسلام قبول کر لیتا ہے پھر لازم ہے کہ دین پر عمل بھی کرے اس کے لیے اس پر سختی کی جا سکتی ہے۔اللہ کریم دین کے نام پر ہونے والے فسادات سے ہماری حفاظت فرمائیں۔اللہ کریم نے جو جس کی ذمہ داری لگائی ہے اگر سب اپنی ذمہ داریوں سے روگردانی کریں گے پھر مصیبت اور پریشانیاں اور عذاب آئیں گے۔کامیابی وہ ہے جو دنیا و آخرت میں نصیب ہو اسے کلی کامیابی کہا جائے گا۔یہ دنیا چند روزہ ہے ایک دن آنے والا ہے جب رشتوں کی بھی پرواہ نہیں ہوگی ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی آج وقت ہے اس دن کی تیاری کی جائے اور اپنی زندگی کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھال لیا جائے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Dawat haq ka maqsad sirf Allah ki Raza ho - 1

تصوف و سلوک کا حاصل

تصوف و سلوک کا حاصل


فرقہ واریت اور اس کا حل

Watch Firqawariat aur iss ka Hal  YouTube Video

آج بھی اسلامی معاشروں میں شیطنت کا بیج بویا جا رہا ہے


 اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ کوشش صحابہ کرام ؓ کی عہد میں بھی کی جاتی رہی۔قرآن مجید میں اس کا حل ارشاد فرما دیا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھا مے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو۔آپ ﷺ نے اجماع اُمت پر زور دیا کہ اتفاق واتحاد میں دشمن کو جرات نہ ہو گی کہ آپ کو نقصان پہنچا سکے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب 
  انہوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری اُمت میں 73  فرقے ہوں گے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جو حق پر رہے گا۔باقی فرقے جو ہیں ان کا راستہ دوزخ کا رستہ ہے۔عرض کی گئی کیسے پتہ چلے گا کہ کون سا فرقہ حق پر ہے تو ارشاد فرمایا جو میری اور میرے صحابہ کی راہ پر چلے گا۔اجماع کی بنیاد ہی یہی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق اپنی زندگی کے شب و روز گزاریں گے۔انسانی زندگی کے ہر عمل میں دین اسلام راہنمائی فرماتا ہے۔ قیامت تک جو سوال بھی انسانی زہن میں آئے گا اس کا جواب قرآن کریم سے دیکھیے گا آپ کو مل جائے گا۔اگر قرآن کے اصول کے مطابق اسلامی ریاست کا قیام ہوگا پھر شاہ و گدا برابر ہوں گے۔آج فساد کی وجہ ہی یہ ہے کہ طاقتور کہتا ہے جو میں چاہتا ہوں ایسا ہو۔قرآن کریم کو اس انداز سے پڑھیں کہ میرے اللہ کریم مجھ سے مخاطب ہیں۔اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد ہی یہ ہے کہ پورے دین اسلام پر عمل کیا جائے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Aaj bhi islami maashron mein sheetnat ka beej boya ja raha hai - 1

اسلامی نظام عدل سے ہی انصاف کے تقاضے پورے ہو سکتے ہیں


اسلام کے مطابق اگر نظام عدل قائم کیا جائے اس سے انتشار کی بجائے باہم اتفاق و اتحاد ہوگا۔ دین اسلام انسان کو انسانیت سکھاتا ہے۔اگر کوئی جرم کرتا ہے اسے اسلام کے مطابق سزادی جائے اس سے معاشرے میں بہتری آئے گی آج مدارس پر بات کی جاتی ہے بات مدارس یا یونیورسٹیوں کی نہیں ہے بات عدل اور انصاف کی ہے کہ قانون کا اطلاق کیسا ہے؟ ہمارے مسائل کی بڑی وجہ قانون کے نفاذ کا نہ ہونا ہے۔زندگی کے ہر پہلو میں اسلامی قوانین موجود ہیں اللہ کے کلام میں راہنمائی موجود ہے۔ ہر نا فرمانی اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب بنتی ہے۔دوسروں سے بحث کرنے کی بجائے خود کو دیکھیں کہ ہم صبح سے شام تک کتنا اللہ کا حکم مانتے ہیں اور کتنا تجاوز کر رہے ہیں۔
 ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی شان کی بلندی کا ادراک کسی کو نہیں ہے۔ہمارے ذمہ وہ حصے ہیں جن کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ہم اطاعت کے مکلف ہیں اور اسی کے جواب دہ ہیں۔ہمارے اعمال ہمارے دعوے کا ساتھ نہیں دے رہے۔ہم نے اپنے اعمال بد سے اپنے قلوب کو تالے لگادئیے ہیں۔نہ حق نظر آ رہا ہے نہ حق کی سمجھ آ رہی ہے۔ہر گناہ خود ایک بہت بڑی مصیبت ہے۔ایمان بندے کو اس درجہ تک پہنچا دیتا ہے کہ بندہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے۔اللہ کا احسان کہ ہمیں صاحب ایمان ہونا نصیب فرمایا ہم زندگی کے مختلف ادوار سے گزر رہے ہیں یہ جہان فانی ہے ہر جاندار کو موت واقع ہوگی ہم اصول و ضابطے بھی اپنی خواہش پر مرتب کرتے ہیں لیکن صاحب ایمان کی نشانی یہ ہے کہ اس کی زندگی بدل جاتی ہے اس کی زندگی کے ہر پہلو کا انحصار اللہ کریم کی طرف ہو جاتا ہے۔وہ اپنے ہر عمل میں اطاعت کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Islami nizaam Adal se hi insaaf ke taqazay poore ho satke hain - 1

اُمت محمد الرسول اللہ ﷺ کا رشتہ نصیب ہونا اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے


 اجیر درِ مصطفے ﷺ ہونا دونوں جہاں کے لیے یہی تعارف کافی ہے۔آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین ہیں۔درجہ رسالت میں تمام خصوصیات شامل ہیں۔جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوتی ہے انہیں جو جلا نصیب ہوتی ہے وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں؟وہ لوگ کفار کے ساتھ سخت اور آپس میں نرم اور محبتیں بانٹنے والے ہوتے ہیں۔غیر مسلم بھی جہاں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے اصول اور ضابطے اختیار کرتا ہے وہ دنیا میں آگے ہے اور جب بحیثیت مسلمان کی بات آئے تو عبادات کی ہو یا معاملات کی ہر لمحہ ہماری ضرورت ہے کہ ہم آپ ﷺ کے ارشادات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔اللہ کریم کو ہمارے سجدوں کی ضرورت نہیں ہے۔اس کی ذات سزاوار ہے کہ اسے سجدہ کیا جائے۔ہمارے لیے شرف ہے کہ ہم اس کی بارگاہ میں سربسجود ہوں جو نماز نہیں پڑھتے انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ کریم ان سے ناراض ہیں کہ انہیں سجدہ کی توفیق نہیں مل رہی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ دارالسلام سوسائٹی کورنگی کراچی میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قومیں طاقتور تب بنتی ہیں جب ہر فرد یہ سوچے کہ میری ذمہ داری کیا ہے؟جب ہماری سوچ یہ ہو کہ مجھے کیا ملے گا وہ قومیں وہ تنظیمیں مضبوط نہیں ہو سکتیں۔جو استعداد ہمارے پاس  ہے وہ اپنے ملک و قوم کے لیے استعمال کریں ایک مثبت لفظ ادا کرنا بھی ایک درجہ کا حصہ بن جائے گا۔اس جذبے کی ضرورت ہے کہ میں کیا دے سکتا ہوں۔جب قومیں ایثار کا جذبہ رکھیں گی اللہ اور اس کے رسول کے مطابق چلیں گیں تو مضبوط ہو ں گی۔اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اعوان قوم کو نسبی رشتہ بھی عطا فرمایا اور ایمانی رشتہ بھی نصیب ہوا۔خانوادہ رسول ﷺ کی قربانی کو دیکھیں کبھی کسی نے شکایت سنی اس قربانی کی۔ہمیں اکڑ نہیں ایثار کی ضرورت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں درِ مصطفے ﷺ سے یہ تربیت نصیب ہوتی ہے کہ سانس ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جائے پانی کا گھونٹ پہلے اپنی بھائی کو دیں۔ہمیں اپنے درمیان اسے تلاش کرنا ہے۔ہمارے اجداد نے قربانیاں دیں ہیں ہمیں بھی اس ملک کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔اچھائی کو اپنائیں ہمارے کردار سے اس اچھائی کی خوشبو آئے ہم اچھائی کو باتوں تک نہ رکھیں اسے اپنے کردار اپنے عمل تک لائیں۔ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری سیاست اس ملک کے لیے ہے یا ذاتی خواہش کے تحت ہے؟یہ پارٹیاں بھی ہم ہی چلا رہے ہیں یہ ادارے بھی ہمارے ہیں،شہداء کی لاشیں جب آتی ہیں تو ہمارے ہی بچے ہیں جو قربانی دے رہے ہیں ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے اس میں تفریق  نہ ڈالیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
یاد رہے کہ اس پروگرام کا انعقاد تنظیم الاعوان سندھ نے کیا۔جس میں ہر طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس کے علاوہ تنظیم الاعوان سندھ کے چیئر مین فاروق اعوان،صدر زاہد اعوان،وائس چیئر مین راشد اعوان،کنونیئر جناب مہتدی اعوان،صدر یوتھ سندھ نعیم اعوان،فنانس سیکرٹری رضوان اعوان سمیت تمام اضلاع کے صدور اور دیگر عہدیداران شریک تھے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Ummat Mohammad UR Rasool Allah SAW ka rishta naseeb hona Allah kareem ka bohat bara ahsaan hai - 1