Featured Events


دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے

 دین اسلام وہ ہے جو اللہ کا حکم ہے۔مخلوق کی آراء اسلام نہیں ہو سکتی۔کسی کی ذاتی رائے قرآن وسنت کے نام پر دین میں داخل کی جائے تو وہ بدعت ہو گی۔دین اسلام کے ساتھ ظلم ہے دین نہیں ہے۔مسلمان کے ذمہ کلی اطاعت ہے رائے کا عمل دخل نہیں ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلامی حکم پر عمل کرنے سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔اور اس میں ہر ایک کی بہتری ہوتی ہے۔ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی ایک تو خوش ہو جائے اور دوسرے کا نقصان ہو۔اسلامی حکم ہماری ضرورت ہے اسلام کو ہماری ضرورت نہیں ہے۔یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایمان عطا فرمایا۔جو لوگ اللہ کی مخالفت میں لگے ہیں وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ پھر دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دینی باتوں میں لوگوں کا رجحان بہت کم ہے،دینی پروگرامز ہوں،دینی محافل ہوں ان میں بہت کم لوگ آتے ہیں اور اگر کہیں کوئی تماشہ لگا ہو تو وہاں آپ کو بہت رش نظر آئے گا اپنا وقت بھی ضائع کریں گے پیسوں کا ضیاع بھی کریں گے لیکن وہاں ضرور جائیں گے۔یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور اسی کی تسکین میں لگے رہتے ہیں۔جو بھی اللہ سے خالص استقامت فی الدین کی توفیق مانگے گا اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔نیکی ہمیشہ اللہ کے لیے کرنی چاہیے۔جو بھی دین پر عمل کرتا ہے وہ دین کی حفاظت کر تا ہے اور اللہ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
deen islam woh hai jo Allah ka hukum hai - 1

بدعت کیا ہے ؟

Watch Biddat kia hai ? YouTube Video

اصول تجوید اور تفویض

Watch Asool e Tajveed aur Tafweez YouTube Video

جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے


پریس ریلیز 
 ایسی نشست یا محفل جس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ یا دین کا ذکر نہ ہو ایسی محفل سے متعلق رو زآخرت سوال ہو گا اور پچھتائیں گے کہ کاش ہم ایسی محفل نہ کرتے۔اگر ایک محفل کے متعلق اتنی سخت وعید ہے تو ہماری زندگی کے شب و روز جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی یاد سے خالی ہیں اگر غور کریں تو سمجھ آئے گی کہ کتنے دین پر ہیں اور کتنے دین سے دور لایعنی اعمال میں وقت کا ضیاع کر رہے ہیں۔ہم اپنی ساری زندگی اصول تجویز پر گزار دیتے ہیں جبکہ دین اسلام اصول تفویض پر زندگی بسر کرنے کی راہنمائی عطا فرماتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کمالات پر بھروسہ کریں گے اللہ کے تفویض کردہ اصولوں پر نہیں چلیں گے پھر برکت جاتی رہے گی۔اور آخرت میں ان تمام وسائل کا جواب دینا پڑے گا۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔دین اسلام ہر طرح کی راہنمائی فرماتا ہے کہ ذرائع آمدن کیسے ہونے چاہیے؟معاشی زندگی،معاشرتی زندگی،اپنے ذاتی وجود سے لے کر ہر ایک لمحے کے بارے راہنمائی ہے حتی کہ عبادات بھی حد سے زیادہ کرنے پر سوال ہو گا۔بندہ یہ اقرار کرے کہ جو کچھ ہے میرے اللہ کا ہے اور میرے حصے کا میرے اللہ کریم نے مجھے عطا فرمایا ہے۔اس طرح اللہ کریم نے جو تفویض فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اس کو قلبی سکون نصیب ہوتا ہے۔اور جو شیطان کا پیروکار ہو وہ بے سکون اور خوفزدہ رہے گا۔اس لیے کہ شیطان انسان کا ازل سے دشمن ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر دونو ں کا دشمن ہے۔جو بھی اس کی پیروی کرے گا وہ اللہ کے فضل سے دور ہوتا چلا جائے گا۔حق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ڈرے پھر کسی کا ڈر نہیں رہتا اور اللہ سے ڈرنے سے مراد ہے کہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں اسی کیفیت کو تقوی بھی کہتے ہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
jis par Allah ka fazl hota hai is ko qalbi sukoon naseeb hota hai - 1

نشان منزل ( ماہانہ اجتماع )

Watch Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) YouTube Video
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 1
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 2
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 3
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 4
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 5
Nishan e Manzil (Monthly Ijtima) - 6

انصار مدینہ کی قربانی


موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے


 اللہ کی رضا کے لیے انصار مدینہ نے ایسی مہمان نوازی کی کہ غزوہ احد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا۔  غزوہ احد میں آپ ﷺ کے حکم کو سمجھنے کی غلطی سے آزمائش کی صورت بن گئی لیکن عین میدان کارزار میں اللہ کریم نے انہیں اپنی رضا اور معافی کا اعلان فرما کر سکھ اور سکینہ عطا فرمایا اور منافقین کو ظاہر کر دیا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبا رک کے روز خطاب ۔
  انہوں نے کہا کہ موت بھی زندگی کی طرح ایک حقیقت ہے۔سب نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔صاحب ایمان بھی اس میں سے گزرے گا اور بے ایمان بھی گزریں گے لیکن ان دونوں میں فرق بہت ہے۔اس لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے حق سے بھاگنے سے کیا ہوگا کیا زندگی لمبی ہو جائے گی؟شہید ہونے کے لیے قتل ہونا پڑتا ہے جان دینی پڑتی ہے اللہ کے لیے اس کی رضا کے لیے،احیائے دین کے لیے،حق او رسچ کے لیے جو قتل ہوتے ہیں ان کا معاملہ اور ہے اللہ کریم فرماتے ہیں جو میری راہ میں جان دیتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔کئی مثالیں ہیں شہداء کی جب قبریں کھولیں گئیں تو ان کا وجود بلکہ ان کے لباس بھی سلامت تھے۔شہید کو موت کے وقت صرف اتنا احساس ہوتا ہے جیسے کسی چیونٹی نے کاٹ لیا ہو۔ویسے اگر موت کے بارے پڑھیں تو بندے کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ میں کیسے اس عمل سے گزروں گا اتنا سخت وقت ہو گا۔ اللہ کریم معاف فرمائیں لیکن شہید کے لیے ایسا نہیں ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایمان اور صدق کے ساتھ تادم واپسی اطاعت الہی میں لگے رہے ان کے وجود بھی اللہ کریم نے قبروں میں سلامت رکھے۔برزرگان دین اور عالم دین کے کئی واقعات ملتے ہیں جب ان کی قبرمبارک کھولی گئی تو ان کے وجود سلامت ملے۔ دن رات دین کی تبلیغ ہو رہی ہے لوگ واعظ بھی کر رہے ہیں درس و تدریس بھی ہو رہی ہے تفاسیر بھی بیان فرمائی جا رہی ہیں لیکن مقصد کیا ہے َ؟ صرف ان باتوں سے شناسائی ہے یا یہ مقصود ہو  کہ سارا حق میرے لیے بیان فرمایا گیا ہے تا کہ میں اس پر عمل کر سکوں تا کہ میری راہنمائی ہو سکے۔اگر ہم شہید ہونے کا جذبہ رکھتے ہیں تو ہماری فرض نماز کیوں چھوٹ جاتی ہے ہمارے لین دین میں کمی بیشی کیوں ہے،ہم سچ کیوں نہیں بول پاتے۔یہ وہ حقائق ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Mout bhi zindagi ki terha aik haqeeqat hai - 1

نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے


 نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو چھوڑ دینا آزمائش اور تکلیف کا سبب بنتا ہے۔ زندگی میدان ِ عمل ہے ہم سب اس میں موجود ہیں۔اللہ اور اللہ کے نبی کا فرمان موجود ہے۔اجماع امت موجود ہے قرآن کریم موجود ہے ہمارے پاس اختیار ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ساری بات سمجھ آجائے گی۔اگر ایمان کا دعوی ہے اور اس کے ساتھ صدق نہیں ہے تو بات منافقت تک چلی جائے گی۔اور اگر ایمان کے ساتھ صدق بھی ہے تو پھر مسلمان معاشرے میں نظر آنا چاہیے کہ مسلمان معاشرہ ایسا ہوتا ہے 
 جن مسائل میں آج ہم گھرے ہیں ملکی طور پر،قومی طور پر اور خاندانی مسائل بھی جو ہیں ان کا سبب بداعمالیاں اور نفاق ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ دونوں کو برابر سمجھ آرہی ہوتی ہے۔رہتی دنیا تک جب بھی کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے گا قرآن کریم اس کی راہنمائی فرمائے گا۔قیامت کے دن جب حساب ہو گا کسی کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا کوئی انکار نہیں کر سکے گا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔ہر چیز اس کے سامنے لائی جائے گی۔دنیا سبب سے ہے اسباب کل نہیں ہیں، ہوتا وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔دنیا کا اصول اور ضابطہ یہ ہے کہ جائز کام ہو جائز اسباب اختیار کیے جائیں پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے یہ توکل ہے۔اللہ کریم دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
 
Nabi kareem SAW ke arshadat ko chore dena azmaish aur takleef ka sabab bantaa hai - 1

پریشانیوں کا سبب

Watch Preshanion ka sabab YouTube Video

اختتامی بیان و اجتماعی دعا سالانہ اجتماع (محبت کیا ہے )