Featured Events


متقی کے اوصاف

Watch Mutqi key Ausaaf YouTube Video

اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں


 اللہ کریم نے جو ہنر یا اوصاف کسی بھی بندہ مومن کو دئیے ہیں وہ انہیں صرف اللہ کی رضاکے لیے استعمال کرے گا تو یہ سب کچھ انفاق فی سبیل اللہ کہلائے گا۔ دین اسلام زندگی میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔جب بھی بندہ مومن اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے جس میں زکوۃ،صدقات،عشر تو اُسے یہ خیال ہوتا ہے اور وہ اس بات کا اقرار کر رہا ہوتا ہے کہ یہ مال میرا نہیں ہے بلکہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے سب اللہ کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر بہت سے ممالک ہیں لیکن ان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں۔اگر کوئی انفرادی طور پر اُٹھ کھڑا ہو اور کہے کہ میں اسلام نافذ کرتا ہوں تو یہ فساد کا سبب بنے گا۔جن کے پاس اختیار ہے کیا وہ دعوی ایمانی نہیں رکھتے؟صاحب اختیار کی ذمہ داری ہے کہ انصاف کریں اور لوگوں کو سہولت دیں۔لوگوں کو تحفظ ملے ان کی زندگیاں آسان ہوں۔ہمیں تو غیر مسلم کے ساتھ بھی انصاف کرنا تھا ان کے ساتھ بھی زیادتی نہ ہو۔
  انہوں نے مزید کہا کہ تقوی ایک کیفیت ہے اور متقی اس کیفیت کے حامل شخص کو کہتے ہیں۔متقی کے اوصاف میں سے ہے کہ وہ ہر حالت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے فراوانی ہو یا تنگدستی وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے۔دوسرا وصف جب اسے غصہ آئے تو وہ ضبط کر لیتا ہے اور معاف کر دیتا ہے۔ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمارے اندر کمی بیشی ہے تو اسے دور کیا جائے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے زیر اہتمام 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کے طو ل و عرض اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے۔اس اجتماع میں سالک کو ایک باقاعدہ تربیتی پروگرام کے تحت گزارا جاتا ہے اور روزانہ دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی صحبت شیخ کے پریڈ میں خطاب فرماتے ہیں۔دعوت عام ہے اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے
Islam ke naam par bohat se mumalik hain lekin un mein islami qawaneen nahi hain - 1

متقین کا انعام

Watch Mutqeen ka inaam YouTube Video

ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں


 ہم ایمانی طورپر اس حد تک کمزور ہو گئے ہیں کہ غلطیاں ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہیں۔ایسے جیسے کوئی مقابل کھڑا ہو جائے۔ہمیں اپنی ذات کی نفی کر کے بخشش کو طلب کرنا ہوگا۔اُس غفور الرحیم نے وعدہ فرمایا ہے کہ سچے دل کی توبہ کو قبول کرتا ہوں۔ایسے لوگ جو اپنی عبادات پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ رب کریم کی ذات پر نگاہ رکھتے ہیں تو اُن کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ متقین کے لیے جو جنت تیار کی گئی ہے اس کی وسعت کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔یہ جنت صرف صاحب ایمان لوگوں اور ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اللہ اور اللہ کے رسو ل ﷺ کی اطاعت کی۔بندہ مومن کا ظاہر اور باطن پاک ہو تا ہے۔اپنا ہر عمل اللہ کے لیے اختیار کریں۔آج ہمارا دعوی ایمانی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہم پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔زندگی بڑی تیزی سے گزر رہی ہے ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ہوش میں آنے کی ضرورت ہے ورنہ انہی پریشانیوں میں گزر جائے گی آج یہ رہ گیا آج وہ رہ گیا یہ سمجھ نہیں آئے گی کب سانسیں پوری ہوگئیں۔اصل کامیابی ذات کی نفی میں ہے۔کبر اللہ کو نہیں پسند کبر متقی کے مقابل آتا ہے۔اللہ کریم شکر کی توفیق عطا فرمائیں۔اللہ سب کے لیے آسانیاں فرمائیں۔اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔۴
Hum imani taur par is had tak kamzor ho gaye hain ke ghalatiyan hamaray mizaaj ka hissa ban chuki hain - 1
Hum imani taur par is had tak kamzor ho gaye hain ke ghalatiyan hamaray mizaaj ka hissa ban chuki hain - 2

حقیقی کامیابی

Watch Haqeeqi Kamiabi  YouTube Video

۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی


ایمان اور سود آپس میں بالمقابل ہیں۔اگر کوئی ایمان کا دعوی بھی کرے اور پھر سود کا لین دین بھی کرے تو انجام وہی ہوگا جو کفر کرنے والوں کا ہوا۔دوزخ کی آگ کفر کے لیے تیار کی گئی ہے۔اللہ کے حبیب کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے اور اگر تم یہ خیال کرومیرے رکوع و سجود سے مجھے جنت مل جائے گی بلکہ جنت تو اللہ کی رحمت سے عطا ہوگی۔ہم تو پہلے اتنا لے چکے ہیں کہ شکرانہ ادا نہیں ہو سکتا  چہ جائیکہ ہم اس گمان میں رہیں کہ میری عبادات اتنی ہو چکی ہیں کہ اب جنت واجب ہو گئی ہے۔ 
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے روز خطاب 
 انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ اس دنیا کی ہر شئے کو فنا ہے تو پھر دنیاوی کامیابی ہمیشہ کے لیے کیسے ہو سکتی ہے۔جب یہ دنیا عارضی ہے تو پھر اس کی کامیابی بھی عارضی ہے۔حقیقی فلاح کی بنیاد اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔حقیقی کامیابی کا انحصار بھی اسی زندگی پر ہے لیکن ان حدود میں جو اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں۔حدود اللہ سے تجاوز کر کے حقیقی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ حقیقی کامیابی دائمی ہوتی ہے جس سے مراد دونوں جہانوں کی کامیابی ہے یہ دنیا آخرت کا سایہ ہے۔اس زندگی کو بسر کرنے کے لیے اعلٰی اصول درکار ہیں جو ہمیں دین اسلام دیتا ہے۔ذاتی پسند نا پسند سے صرف فساد پیدا ہوگا۔خواہشات اور نفس کا جہاں غلبہ ہو وہاں ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ٹھہراؤ اور سکون صرف دین اسلام کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ دین اسلام دین فطرت ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم حقیقی کامیابی جنت کو بیان فرماتا ہے یعنی وہ فلاح پاگیا جو جنت میں داخل ہو گیا۔ہمارے ماہ و سال اتنی تیز ی سے بسر ہو رہے ہیں،ہر شئے اپنے اختتام کی طرف چل رہی ہے لیکن ہمیں کوئی فکر نہیں،یہی وقت ہے جس میں ہم نے آخرت تعمیر کرنی ہے۔ہمارا اختیار کلی نہیں لیکن اپنی ذات پر تو ہے اس سے پہلے کہ موت آجائے آج کچھ کرنے کے قابل ہیں اپنی اصلاح کریں نیک اعمال کریں زندگی حسرت پر تو ختم نہ ہو،یاد رکھیں مومن کی زندگی میں حسرت نہیں رہتی۔نور ایمان وہ دولت ہے جس سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔بخشش ہمارے رکوع و سجود سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے ہوگی لیکن ہمیں اپنے ایک ایک عمل کو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں لانا ہوگا۔اللہ کریم کمی بیشی معاف فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرت میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Bakhshish hamaray ruku o sajood se nahi balkay Allah ki rehmat se ho gi - 1

اسلامی نظام زکوۃ کے اثرات

Watch Islami Nizam e Zikat ka asrat YouTube Video

اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا


 اسلامی معاشی نظام روپے کو ایک جگہ رکنے نہیں دیتا ۔اور زکوۃ کے نظام کی وجہ سے جمع شدہ پیسہ 40 سال میں سارا پیسہ واپس معاشرے میں لوٹ آتا ہے ، زکوۃ دینے والا اپنا پیسہ اپنے پاس جمع نہیں رکھے گا بلکہ اسے خرچ کرے گا جب خرچ کرے گا تو تجارت میں خرچ کرے گایا کوئی کاروبار میں لگائے گا تو اس سے مزید لوگوں کے لیے کام کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ بے روزگار لوگوں کو روزگار ملے گا ۔جب پیسہ ایک جگہ جمع کر کے رکھ دیا جاتا ہے وہ پورے معاشرے کی معیشت کو لے ڈوبتا ہے ۔طاقتور طبقے نے پوری دنیا کو سودی معیشت میں ایسا جکڑ دیا ہے کہ آج ہم اپنے ملک کے حالات دیکھیں تو جتنا قرض لے رہے ہیں وہ جو پہلے سے سود لیا ہوا ہے اس کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے ہماری اسلامی ریاست ہے پھر بھی ہم نے اسے سود میں جکڑ دیا ہے ۔ہمارے لیے سب سے بہتر رستہ وہ ہے جو اللہ کریم نے ہمارے لیے پسند فرمایا ہے جس کا طریقہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
 انہوں نے کہا کہ اگر واقعتا زکوۃ کا نظام جس میں عشر،صدقات ،فطرانہ اس کو جمع کیا جائے تو ہمارا قومی بجٹ جو ہے اس کا خسارہ نکل جاتا ہے . جو لوگ ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی زکوۃ دیتے ہیں۔لوگ ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ حکومت پر اعتماد نہیں ہوتا ۔جب ریاست زکوۃ جمع کرے گی تو جو یہ ٹیکس عوام کو لگائے جا رہے ہیں ان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔جب حکومت کمزور طبقے کی ضرورت پوری کرے گی تو اس کی عزت نفس مجروح نہیں ہو گی ۔قدم قدم پر عوام سے ٹیکس لیا جا رہا ہے پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہماری قوم ٹیکس نہیں دیتی ۔آج بھی دنیا میں وہی معیشت بہتر ہے جہاں پیدا وار ہو رہی ہے اور پیدا وار میں جو فطرتی انڈسٹری ہوتی ہے اس کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے ۔جیسے ہمارے ہاں زراعت ہے ہمارا زرعی ملک ہے ۔اگر ہم زراعت کو ہی جدید سہولیات سے آراستہ کر لیں اور زراعت سے متعلق جو محکمے ہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں کسانوں کو سہولیات دی جائیں تو سال میں دو بار فصل لی جاتی ہے جس سے ہماری معیشت بہت تیز ی سے بہتر ہو سکتی ہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی غلطی کا حل مزید غلطی سے نہیں نکلتا بلکہ اس کا حل توبہ میں ہے ہم ایسے فیصلے کریں جو قرآن و سنت کے مطابق ہوں ۔یہ جو لوٹ مار سے ہم وقتی کامیابی حاصل کرتے ہیں اس سے تسکین نہیں ہوسکتی بلکہ مزید اضطراب بڑھے گا کیونکہ یہ صالح اعمال کا نتیجہ نہیں ہے ۔کامیابی تو یہ ہے کہ اگر ظاہری ضرورت پوری ہورہی ہے تو دل میں بھی سکون ہو ۔حقیقی کامیابی میں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوتی ہے ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں 
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
ٰIslami muashi nizaam rupay ko aik jagah ruknay nahi deta - 1

خالق کائنات سے آشنائی

Watch Khalik Kainat se Ashnai YouTube Video

نورِایمان بندہ ٔمومن کے قلب میں ادراک اور بصیرت پیدا فرماتا ہے


نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میںادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے .اللہ کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہماری فلاح ہے
​ (پ۔ر)نورِ ایمان بند ہ ٔ مومن کے قلب میں وہ ادراک اور بصیرت عطا فرماتا ہے کہ بندہ ٔ مومن خلق کی ان وسعتوں سے نکل کر اللہ رب العالمین سے آشنا ہوجاتا ہے اور مقامِ نبوت اور رسالتﷺ کے طفیل امت تک یہ آشنائی اور نور پہنچا جس کا ہم جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بعثت ِ رحمت اللعالمینﷺ سے پہلے عہدِ فطرت کا عہد500 سال پر محیط ہے۔ اس عہد میں جس نےبھی دل کی گہرائی سے سوچا کہ کوئی ہے جو عبادت کے لائق اور وحدہ‘ لاشریک ہے اور وہ اس جستجو میں رہا تو اس کی نجات ہو گئی۔ ان خیالات کا اظہار شَیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے دارالعرفان میں سالکین کےبڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےکیا۔
​ انہوں نے مزید کہا کہ آپﷺ کی 40 سالہ زندگی جو کفارِ مکہ کے درمیان بسر فرمائی وہ اتنی بڑی شہادت ہے کہ بڑے سے بڑے دشمن نے بھی آپﷺ کے صادق اور امین ہونے کی گواہی دی اور آج ہم مسلمان امتی دولت اور دنیا کی ہوس میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ذات باری سے دوری کی وجہ سے ہے۔ جتنی دوری اللہ سے ہوتی ہے اتنی انا بڑھتی ہے حالانکہ جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔
​انھوں نے کہا کہ جب بندہ اس دنیا سے جاتا ہے تو اس کا جو کچھ ہوتا ہے وہ وارثوں کا ہو جاتا ہے اور غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ یہ سب کچھ میرا ہے۔ حالانکہ یہ نعمتیں سب اللہ کی دی ہوئی ہیں اوراس بات کی سمجھ آ جائے تو حقیقت کھل جاتی ہے۔ دنیا کو ترک کرنے کا نہیں کہا جا رہابلکہ دنیا بھی اللہ کی ہے اور آخرت بھی اللہ کی ہے اصل میں جو حکم اللہ کا ہے اس کے مطابق رہنا ہے اور اس میں ہی ہماری فلاح ہے۔
انھوں نے احکاماتِ دین پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روزے میں ہماری جسمانی و روحانی بھلائی ہے، جبکہ نماز کی ادائیگی محض ورزش کے لیے نہیں بلکہ فرض سمجھ کر ہونی چاہیے۔ اللہ کریم نے زندگی کا جو نصاب مقرر فرمایا ہے وہ ہماری عین ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا احساس دلایا کہ موت کے بعد تلافی کا کوئی موقع نہیں ملے گا اگرچہ ہم کمزور اور گناہ گار ہیں، مگر اللہ کی شانِ کریمی اور رحمت بے پناہ ہے۔ اگر انسان اپنے گناہ پر نادم ہو کر معافی کا طلب گار ہو، تو وہ غفور الرحیم توبہ کی توفیق بھی عطا فرماتا ہے۔
  انہوں نے تلقین کی کہ تلاوتِ قرآن مجید کو روزمرہ کا معمول بنایا جائے اور ہر دن کا آغاز کلامِ الٰہی سے ہو۔ قرآن کو محض وظائف کے طور پر نہیں بلکہ اللہ کا پیغام سمجھ کر اول تا آخر پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے "اکرم التراجم" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترجمہ لفظی و محاوراتی لحاظ سے انتہائی سلیس اور عام فہم ہے، لہٰذا کوشش کریں کہ قرآن مجید کی تلاوت ترجمے کے ساتھ کریں تاکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی آ سکے۔
​آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم دینِ اسلام کے احکام پر عمل کریں گےتو یہ ہمارے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا
Noor e Eman bandah Momin ke qalb mein idraak aur baseerat peda farmata hai - 1