Featured Events


ذات سے نکل کر مخلوق کے بارے سوچنا یہ ہمیں اسلام بتاتا ہے


بندگی کا تعلق اپنے اللہ سے ایسا ہو جائے کہ بندہ اپنے اعمال اپنی سوچوں کا ہر وقت محاسبہ کرتا رہے کہ ایسا عمل نہ ہو جائے جس سے میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض ہو جائیں۔ایسا کوئی کام نہ کروں جس کی آپ ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے . انہوں نے کہا کہ ہر دن ہماری سوچوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔زندگی کا ایسا کون سا اصول اور ضابطہ ہو گا جو اعتدال پر بھی ہو جس میں ذات بھی ہو خاندان بھی ہو اور معاشرہ بھی ہو اور سب کے لیے ہو کسی ایک کمیونٹی کی بات نہ آئے۔صرف انسانیت کے لیے نہیں بلکہ پوری خلق کے لیے کارآمد ہو۔اُس اصول کی ضرورت ہے جو مستحکم بھی ہو اور سب کے لیے قابل عمل بھی ہو۔وہ کیسے حاصل کریں؟ قرآن کریم وہ کتاب ہے جو انسانیت کی پوری زندگی کا لائحہ عمل ہے۔ قرآن کریم میں ہماری زندگی کی تمام ضروریات کی تکمیل کا طریقہ موجود ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم کا گھر میں ہونا برکت ہے،قرآن کریم کو دیکھنا برکت ہے،قرآن کریم کو چھونا برکت ہے،قرآن کریم کو پڑھنا اور سمجھنا برکت ہے اصل مقصد قرآن کریم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا بالٹی مور فاطمہ مسجد امریکہ میں جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے مزید کہا کہ آپ سوچیں اگر ہماری نیت سے لے کر عمل تک ہمارا مقصد اللہ کی رضا ہو وہ کیسی زندگی ہو گی۔اس کے معاشرے پر اثرات کیسے ہوں گے۔پھر ہمیں یہ توقع نہیں ہو گی کہ میں نے کسی کے ساتھ اچھائی کی ہے تو بدلے میں وہ بھی میرے ساتھ اچھائی کرے۔کیونکہ ہم تو وہ عمل اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کو پسند ہے کہ اچھائی کی جائے۔انسانی مزاج ہے ہو نہیں سکتا کہ اگر آپ خلوص کے ساتھ کسی کے ساتھ اچھائی کریں اور ہ وہ آپ کے ساتھ برا کرے۔اصول ہے کہ اگر آپ کسی کو عزت دیں واپس وہ عزت آپ کو ملے گی   ہماری ضرورت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کا مطالعہ کریں۔اپنے بچوں کو سنائیں۔ہفتے میں ایک دن ایسا رکھ لیں جس میں سیرت پاک پر بات ہو جس میں اپنے بچوں کو ساتھ بٹھائیں،آج کی جدت سہولت تو دے رہی ہے لیکن ساتھ ہر ایک کو تنہا بھی کر رہی ہے ہر ایک اپنے کسی حصار میں ہے۔ذات سے نکل کر مخلوق کے بارے سوچنا یہ ہمیں اسلام بتاتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Zaat se nikal kar makhlooq ke baray sochna yeh hamein islam batata hai - 1

زندگی میں سکھ اور سکون کا ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے معاملات زندگی کو دین اسلام کے مطابق ڈھال لیں۔


بندہ مومن کا ایک ایک لمحہ اس کیفیت میں گزرتا ہے کہ وہ زندگی کو حقائق کی نگاہ سے دیکھ رہا ہوتا ہے،تخیلاتی دنیا میں نہیں رہتا۔حقائق سے آگاہی زندگی کو آسان بنا دیتی ہے۔اگر زندگی دین کے مطابق نہ گزرے تو پھر زندگی میں اضطراب پیدا ہو جاتا ہے۔اسی کو ڈپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔زندگی میں سکھ اور سکون کا ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے معاملات زندگی کو دین اسلام کے مطابق ڈھال لیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا امریکہ کے شہر ووسٹر میں خواتین و حضرات سے خطاب۔
  انہوں نے کہاکہ اللہ کریم نے جس کو جس حیثیت میں جس زمانہ میں پیدا فرمایا اس کا عین وہی مقام ہے۔ہر کوئی امتحان میں ہے کسی کا دکھ میں ہے کسی کا خوشی میں،کسی کا صحت میں امتحان ہے کسی کا بیماری میں۔دیکھنا یہ ہے کہ کیا دونوں حالتوں میں وہ صابر اور شاکر رہا؟آج کی جدت یقینا یہ ہماری ضروریات کی تکمیل کے بہتر زرائع ہیں۔دین اسلام اس سے منع نہیں فرماتا لیکن زندگی کی اس تیزی میں کوئی اس طرح کھو جائے کہ اسے یہ خیال ہی نہ رہے کہ یہ فانی جہان ہے ایک دن سب چھوڑ کر چلے جانا ہے اور پھر ایک ایک عمل کا حساب بھی دینا ہے یہ احساس ہونا چاہیے کہ جو بھی استعداد اللہ نے مجھے دی ہے وہ میرے پاس امانت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرنا ہے۔جیسے ہم کسی بھی ملک کے قوانین کا لحاظ کرتے ہوئے وہاں کے قوانین پر عمل کرتے ہیں ایسے ہی نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو زندگی میں اختیار کرنا چاہیے تا کہ میرے کردار سے مجھے بھی فائدہ ہو اور مخلوق بھی مستفید ہو۔
  انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان کا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے ہر عمل سے معاشرے میں بہتری آئے۔زندگی کے بے شمارپہلو ہیں دین اسلام نے ایک ایک پہلو میں راہنمائی فرما ئی ہے۔زندگی رکتی نہیں زندگی تو چل رہی ہے۔اللہ نے جو استعداد دی ہے اس کا مثبت استعمال کریں تا کہ معاشرے میں نکھار آئے۔دنیا میں جہاں بھی جس شعبے میں بھی کسی نے ترقی کی ہے آپ تحقیق کر لیں اس کے اصول نبی کرم ﷺ کے بتائے گئے ہوں گے۔اللہ کریم ہمیں دین اسلام کے سنہری اصولوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Zindagi mein sukh aur sukoon ka aik hi rasta hai ke –apne mamlaat zindagi ko deen islam ke mutabiq dhaal len . - 1

ایوننگ پروگرام شکاگو

Watch Chicago Evening Program YouTube Video

قیام صلوۃ اس کیفیت اور حال میں ادا کی جائے کہ اس میں خشوع و خضوع شامل ہو


قیام صلوۃ اس کیفیت اور حال میں ادا کی جائے کہ اس میں خشوع و خضوع شامل ہو۔ خشو ع و خضو ع سے ہر رکن کی ادائیگی کرنے سے بندہ مومن کی طرف اللہ کریم متوجہ ہو جاتے ہیں۔اللہ کریم کے متوجہ ہونے سے بندہ حفاظت الٰہی میں آجاتا ہے۔برائی سے بچنا اور نیکی کی طرف چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔اگر یہ کیفیت حاصل نہیں ہو رہی تو نماز کی ادائیگی میں کوئی کمی ہے کہیں غلطی ہو رہی ہے۔یہاں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ میرے اعمال اُمت میں کہیں تفریق تو نہیں پیدا کر رہے؟ اور معاملات کی درستگی نہ ہے تو نماز کو ہم نے محض رواجاً اختیار کیا ہوا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا اسلامک سنٹر شکاگو میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب اللہ کی واحدانیت پر پختہ یقین نصیب ہو پھر خواہشات،چاہتیں اور وساوس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی بندہ ان کو رد کرتا جاتا ہے کہ کوئی چاہت،کوئی خواہش ایسی نہ ہو جس میں اللہ کریم کی نافرمانی ہو۔ہمارا ظاہر اور باطن ایسا ہو جیسا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔اگر ایمان کی یہ بنیاد پختہ ہو جائے تو مخلوق کی محتاجی ختم ہو جاتی ہے بندہ ہر چیز سے آزاد ہو جاتا ہے توکل الی اللہ نصیب ہو جائے تو۔یہ حصہ نصیب ہو جائے تو جب موت کا فرشتہ بھی آئے تو بندہ تیار ہوتا ہے۔اس کیفیت کے لیے اسی زندگی میں عمل کرنا ہے۔ جب تک اس زندگی میں اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ سے زندگی مزین نہیں ہوگی ہم یہ کیفیت حاصل نہیں کر سکتے۔روز محشر جب مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اللہ کریم  بندہ مومن سے فرماتے ہیں تم نے اس دن بالکل نہیں گھبرانا کیوں کہ تم نے اپنی زندگی میرے توکل پر گزاری مجھ پر بھروسہ کیا۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Qiyam salaat is kefiyat aur haal mein ada ki jaye ke is mein Khashoo o Khazoo shaamil ho - 1

انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے اپنی معرفت اور پہچان سے نوازا


 انسان وہ واحد مخلوق ہے جسے اللہ کریم نے اپنی معرفت کے لیے پیدا فرمایا اور انابت الٰہی عطا فرمائی۔ اس کے حصول کے لیے وہ درد چاہیے جو صرف ذکر قلبی کی تکرار سے نصیب ہوتا ہے۔قلب وجود کا بادشاہ ہے جب کسی بات پر دل کرے پھر وجود اسے روک نہیں سکتا بلکہ دل کے حکم کو بجا لاتا ہے۔اسی لیے صوفیا ساری محنت قلوب پر کراتے ہیں جب دل اللہ کی یاد میں لگ جائے پھر اس کے فیصلے بھی اللہ کی اطاعت میں ہوتے ہیں اللہ کی پسند پر ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا اجکس کینڈا میں کانفرنس سے خطاب 
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے دلوں میں دوستوں اور رشتوں کے لیے وہ خلوص نہیں ہے جو پہلے زمانے کے لوگوں میں تھا۔آج جب لوگ اپنے والدین کو اولڈ ہوم میں چھوڑ کر آتے ہیں تب بھی ان سے والدین کا رشتہ تو ہوتا ہے۔جب دلوں میں خلوص نہ ہو پھر رشتے نام کے رہ جاتے ہیں دل میں اس رشتہ کا احساس ختم ہوچکا ہوتا ہے۔حقیقت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ ایمان والوں کے سامنے جب میری آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کے ایمان تقویت پاتے ہیں اور ان کے دل ڈر جاتے ہیں تو یہ کیفیات بھی دل سے متعلق ہیں جب دلوں میں نور ایمان  ہوگا اس میں خلوص ہوگا پھر اس کے فیصلے بھی اللہ کی رضا کے مطابق ہوں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عبادات کا دارومدار بھی نیت پر ہے اور نیت دل کا فعل ہے روز محشر ایسا انصاف ہو گا کہ تمام اعمال نیت پر پرکھے جائیں گے کہ کسی بھی عمل کے پیچھے دلی ارادہ کیا تھا؟اس لیے دلوں کی صفائی کا نسخہ بھی نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرما دیا کہ ہر چیز کا زنگ اتارنے کے لیے ایک پالش ہوتی ہے اور دلوں کی صفائی کی پالش اللہ کا ذکر ہے۔شعبہ تصوف میں اللہ اللہ کرائی جاتی ہے جس سے کیفیفات محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوتی ہیں جن سے بندے کا دل خالص ہوتا ہے اور وہ اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت محمد الرسول اللہ ﷺ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Insaan woh wahid makhlooq hai jisay Allah kareem ne apni Maarfat aur pehchan se nawaza - 1
Insaan woh wahid makhlooq hai jisay Allah kareem ne apni Maarfat aur pehchan se nawaza - 2

دل کی صفائی

Watch Dil ki Safai YouTube Video

خطبہ جمعتہ المبارک

Watch Jumma Beyan  YouTube Video

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس

Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference  YouTube Video

قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے


 قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے۔رہتی دنیا تک یہ اصول اور ضابطے قابل عمل ہیں۔اور ان پر کیے گئے فیصلے اتنے متوازن ہوتے ہیں کہ اس میں فریقین کے درمیان فتح و شکست نہیں ہوتی بلکہ فریقین کے درمیان ایسا انصا ف ہوتا ہے کہ دونوں مطمئن ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روزہ جامع اسلامیہ کینڈا میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جتنی ہم دنیا،دنیا کے علوم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن دنیا فانی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے لیے بھی اسی دنیا میں تیار ی کرنی ہے۔جدت زندگی نہیں ہے زندگی کے زرائع ہیں۔کہ آپ اپنی ضروریات کو اچھے انداز سے پورا کر سکیں۔میں خود ضروریات دین کو جانو اس پر عمل کروں یہ وہ بنیادی درسگاہ ہے جس سے ہمارے بچوں کو راہنمائی ملے گی۔ہمارے خاندانی نظام کی مضبوطی انہی اصولوں میں ہے جو دین اسلام ارشاد فرماتا ہے۔دین اسلام کے اصول اور ضابطے ایسے ہیں جو دوسروں کی خوشی کا بھی سبب بنتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے جامع اسلامیہ کے مولانا صاحب اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور بحیثیت امت اتفاق و اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem mein jo qawaneen Allah kareem ne irshad farmaiye hain un mein masawaat hai - 1

قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں


قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں۔باقی دنیا میں جتنی بھی زبانیں ہیں ان کے معانی و مفاہیم اپنی زبان میں ترجمہ کر کے سمجھے جا سکتے ہیں۔دنیا کی زندگی میں کوئی خواہش کرتا ہے تو اس کا تعلق قلبی انسانی سے ہے۔ خوشی ایک کیفیت ہے اور اس کا تعلق بھی انسانی قلب کے ساتھ ہے ،اگر کہیں تلخی ہے،غم ہے تو اس کاگھر بھی قلب انسانی ہے۔ جتنا دل مطمئن ہوگا اتنا زندگی کے بہر میں سکون نصیب ہوگا اور دلوں کا قرار یادِ الٰہی میں ہے۔
ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا مسجد اقصٰی برامپٹن کینڈا میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ انسانی مزاج ہے کہ مجھ جیسا کوئی نہ ہو،میری حیثیت،میری اولاد،میری کامیابی،میرا مقام،میرا ورع و تقوی کتنے ہی پہلو ہیں کہ آپ ان پر بات کرتے جائیں تو بات ذات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔جب بندہ ذات ہی پر انحصار کرتا ہے توخواہشات ایسے ایسے رنگ دکھاتی ہیں۔یہ دنیا یہ جہان کل زندگی نہیں ہے۔دین اسلام ان حقائق سے آگاہ فرماتا ہے اللہ کریم سے وہ تعلق نصیب ہوتا ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تکلیف اور خوشی اللہ کی طرف سے ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ بندہ مومن دونوں پہلوؤں میں کامیاب ہے تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے دونوں حالتوں میں رجوع الی اللہ کرتا ہے۔اللہ کریم کی ذات رب ہے جو ہر ایک کی ہر ضرورت ہر وقت پوری فرماتا ہے اس نے ہماری ضرورت کی تکمیل کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے ہماری راہنمائی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔بندہ،بندگی کے معنوں سے آشنا نہ ہو سکتا اگر اللہ کریم اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء کو مبعوث نہ فرماتے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem ke ma-ani o Mafaheem woh samjhay jayen ge jo nabi kareem SAW ne samjhaye hain - 1