Featured Events


اسلام میں عورت کا مقام

Watch Islam mein Aurat ka Muqam YouTube Video

اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ظلم ہے


  کوئی ذمہ دار اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔مراعات ساری چاہیے،سہولتیں ساری ہونی چاہیے لیکن ذمہ داری ادا نہیں کرنی۔تو کیسے معاشرہ چلے گا۔سارا ملک ہم نے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے  بندہ مقصد حیات چھوڑ دے تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا ہے،نبی کریم ﷺ نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے۔دین پر عمل کرنا ہمیں مشکل لگتا ہے اور بے دینی میں ہم آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔اللہ کریم کے فیصلوں میں حکمت ہے وہ حکیم ہے ہمیں اپنی پسند اور انا کو رد کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔بندگی کا رشتہ اعمال میں تقویت پیدا کرتا ہے۔جب اپنی حالت ایسی ہوگی تو پھر ہم فلسطین کی کیا مدد کریں گے،کشمیر بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکیں گے جب تک ہم میں بے دینی ہوگی بہتری نہیں آئی گی۔تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی قوانین میں ہے جب تک ہم وطن عزیز پر ان کا نفاذ نہیں کریں گے ہم ایسے ہی تجربات سے گزرتے رہیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
  انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت زندگی کے دو حصے ہیں بقائے ا نسانی کا سبب ہیں ایک کو بھی ہٹا دو زندگی نہیں گزر سکتی۔مرد اور عورت کے جو مقام ہیں جو حیثیت ہے اللہ کریم نے ارشاد فرمائی ہے ہر ایک کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔مغرب تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے دور کرنا چاہتا ہے۔مغرب میں عورت اور مرد کی برابری کو بڑا اچھالا جاتا ہے اس کی برابری کیا ہے؟اسلام مرد کو ایک درجہ زیادہ دیتا ہے لیکن عورت کے حقوق اپنی جگہ قائم ہیں۔مغرب نے عورت کو اشتہار کے طور پر پیش کیا اور یہ عورت کی تضحیک ہے۔اسلام میں عورت کا مقام ماں،بہن بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہے اس سے بڑا مقام کیا ہو سکتا ہے۔اسلام عین طلاق میں بھی عورت کے حقوق کا تحفظ فرماتا ہے۔جب ہم غیر مسلم کو فالو کریں گے تو وہ شیطان کی پیروی ہوگی۔جدت کے ساتھ چلتے چلتے ہم نے اپنا مقام کھو دیا۔عورت کو عزت دی ہی اسلام نے ہے اسلام سے پہلے عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اسلام نے ماں کا مقام بیان فرمایا،جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی جس کا احترام اولاد پر فرض قرار دے دیا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 4،5 نومبر 2023 بروز ہفتہ،اتوار کو  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس میں سالکین سلسلہ عالیہ ملک بھر سے اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور اتوار دن گیار ہ بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیرا عوان  مد ظلہ العالی بیان فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی ہر ایک کے لیے دعوت عام ہے۔اس بابرکت اجتماع میں شرکت کر کے برکات نبوت ﷺ سے  اپنے دلوں کو منور فرمائیں
Allah kareem ki muqarrar kardah hudood se tajawaz zulm hai - 1

ادائیگی عمرہ مبارک

Adaigi Umrah Mubarak - 1

نکاح اور طلاق

Watch Nikah Aur Talaq YouTube Video

نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے


 دنیا کی زندگی کو دینی اصولوں کے تحت لایا جائے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔نکاح اور طلاق کی انسانی معاشرے میں بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دوافراد،دو خاندان بلکہ معاشرے پراس کے اثرات پڑتے ہیں نکاح بھی اللہ کے نام پر اختیار کیا جائے اور اللہ کریم کی حدودو قیود کے مطابق زندگی گزاری جائے تبھی کامیاب زندگی بسر ہو گی۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ میاں اور بیوی دونوں کی حیثیت اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہے اور وہ حیثیت احکامات دین پر عمل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔دینی احکامات پر عمل کیا جائے تو ہر کوئی اپنے مقام پر رہتا ہے۔نکاح اور طلاق کے معاملات میں ہم نے اپنی طرف سے اس میں بہت کچھ داخل کر لیا ہے جس سے میاں بیوی اور خاندانوں میں تلخیاں پیدا ہوتی ہیں۔جہاں ہر کوئی اپنے حق کی بات کرتا ہے وہاں اس کے ذمہ فرائض بھی ہیں۔جب ہم اللہ کے حکم سے نکل کر کسی با ت کا حل تلاش کرتے ہیں وہاں پھر ہم ٹھوکر کھاتے ہیں۔ہم گلے کرتے ہیں شکوے کرتے ہیں لیکن اپنے بداعمال نہیں چھوڑ رہے۔جب ہم بے عملی اختیار کریں گے تو اصلاح کیسے ہوگی اور اگر اصلاح نہیں ہوگی تو سکھ کیسے نصیب ہو گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ میاں بیوی کا رشتہ معاونت کا ہے جب وہ ایک دوسرے کے معاون ہوں گے تو اس کے اثرات اولاد پر بھی پڑیں گے اولاد بھی صالح ہو گی۔اور نیک اولاد بہترین صدقہ جاریہ ہے۔بستر مرگ پر رونا رونے سے بہتر ہے کہ آج عمل کا وقت آج عبادات کے قابل ہیں آج ہم کیوں بھاگ رہے ہیں کیوں نیکی اختیار نہیں کر رہے۔رشتوں کے اصول اللہ کریم نے عطا فرمائے ہیں نبی کریم ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے اس کے مطابق زندگی بسر کریں تو دنیا بھی آسان ہوگی اور آخرت کی تعمیر بھی ہوتی جائے گی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq ki insani muashray mein bohat ziyada ahmiyat hai - 1

مردان حق


مسلمان کیا ہے؟مسلمان عالم انسانیت کاایک ایسافردہے، جس کی گردن اللہ کریم کی بارگاہ میں خم رہتی ہے،اللہ کریم کے علاوہ کسی کے سامنے جھکناگوارانہیں کرتا۔سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ کریم کے علاوہ کسی بھی بارگاہ میں اس کاسرجھکے۔ حق پرقائم رہتا ہے،باطل سے سمجھوتے کرکے زندگی نہیں گزارتا۔یہ جودو لفظ ہیں مسلمان اور مجاہد، یہ دونوں ہم معنی ہیں،ایک ہی فردہے۔ جب وہ مسلمان ہے تووہ مجاہدبھی ہے اور غلبہ حق کے لیے اس کی ساری قوتیں ہمیشہ وقف رہتی ہیں۔اس کی زندگی، اس کی اولاد،اس کامال، اس کے سارے وسائل،احقاق حق اورابطال باطل کے لیے ہوتے ہیں۔ایک مسلمان جہاں رہتا ہے،جب تک رہتاہے۔ وہ حق کاعلمبدار اور باطل کا مخالف ہوتا ہے۔ 
جہاں تک صوفیاء کاتعلق ہے۔انہوں نے دوسروں سے ہزاروں گنا بڑھ کر قربانیاں دیں۔ یہ ایسے مردان حق تھے کہ کافر توکافر، بدکارمسلمان حکمرانوں کی بھی بات سنناگوارانہ کی،ان سے بھی مقابلہ کرتے رہے۔ یہیں برصغیرمیں دیکھ لیں۔آپ ملتان کی تاریخ پڑھیں اورپھر اس میں غوث بہاول الدین زکریا رحمۃ اللہ کا کردار پڑھیں۔اجمیر کی ریاستی تاریخ پر نگاہ ڈالیں توپورے برصغیر میں ہندوؤں کی سب سے قابل فخرریاست اور سب سے طاقت ور ریاست اجمیر تھی۔خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جب وہاں وارد ہوئے تو آپ کی عمرنوے سال تھی۔تیس سال بعد، ایک سوبیس سال کی عمر میں آپ کا وصال ہواتوسوالاکھ کے لگ بھگ اجمیرکے لوگ آپ کے جنازے میں شریک تھے۔یہ کیا گوشہ نشینی سے یا مسکنت سے کام ہوتا ہے؟جہاں اسلام کا نام لینا جرم تھا۔وہاں کی نصف سے زیادہ آبادی کو تیس برسوں میں حضرت نے مسلمان کردیا۔ہندوستان پر اوراجمیرمیں آنے والے مسلمان حملہ آوروں میں ہمیشہ مقابلہ ہوتا رہا۔ فتح تو اسے ایک ولی اللہ نے کیا۔لڑائیاں ہوتی رہیں،ہارتے رہے جیتتے رہے۔اسی طرح ہمارے پاس پنجاب میں داتا صاحب معروف ہیں۔ لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ ایک شخص کہاں سے چل کر کہاں پہنچا؟جب یہ لوگ ہندوستان تشریف لائے تو یہ آج والا ہندوستان نہیں تھا۔ برصغیر بین الاقوامی طاقت کامرکزتھا۔یہاں کی حکومتیں مضبوط ہوتی تھیں۔ یہاں کے مال ودولت کے چرچے تھے۔ جس مغرب میں آج ہم مزدوری کرنے کے لیے جاتے ہیں،یہ اہلِ مغرب برصغیرمیں مزدوری کرنے کے لیے آتا تھا۔مغرب کے لوگ خودکو خوش نصیب سمجھتے تھے کہ یہاں انہیں روزگار مل جائے۔اس وقت کے ان طاقتور حکمرانوں کے مقابلے میں ہزاروں میل دورسے یہاں آکر ان لوگوں نے بیٹھ کرحق کی تبلیغ کی اورباطل کوللکار ا۔مسلمان اگر مردحق اور مجاہدہے تو ایک ولی اللہ تو اس سے کروڑوں گنا زیادہ مرد حق، زیادہ کام کرنے والا،زیادہ جم کر رہنے والا،زیادہ حق کاساتھ دینے والااور باطل کے لیے ہمیشہ لرزاں براندام رکھنے والافرد ہوتا ہے۔ولایت کی نشانی یہ ہے کہ باطل جہاں بھی ہو،اس سے خطرہ محسوس کرتا ہو۔یہ جو تصوف میں مسکنت اور گوشہ نشینی آ گئی اور لوگوں نے چلے کاٹنے شروع کردیے۔اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ یہ تصوف کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب توجہ کامل نہ ملی تو ان لوگو ں نے مجاہدے کرکے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی   اس سے منازل ومقامات نہیں ملتے، مشاہدات ہو جاتے ہیں۔ان لوگوں کو کسی نے ایک لطیفہ قلب سکھایا، انہوں نے چلہ کشی کرکے،بھوکے رہ کر،راتوں کوجاگ کر، گوشہ نشینی اختیار کر کے،انہیں کچھ انوارات نظر آناشروع ہوگے تو انہوں نے سمجھا کہ بات بن گئی۔اسی کوولایت کی انتہاسمجھے رکھا۔آپ بے شمار تصانیف میں دیکھیں گے (حالانکہ انہیں خود پتہ نہیں ہوتا)کہ فلاں بزرگ نے فلاں جگہ سے فلاں بزرگ سے فنا بقا ء کرلیا اورسلوک کی انتہا کو پہنچ گیا۔حالانکہ فنا بقاء توسلوک کا ابجد ہے، الف،ب،جیم ہے۔یہاں سے بات شروع ہوتی ہے۔فنا فی اللہ اور بقا با اللہ کی کیفیت سے جوگزرتا ہے۔ وہ سلوک کے دروازے پرقدم رکھتا ہے۔سلوک نہ ختم ہونے والی چیزہے۔  قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ  (بنی اسرائیل:85)انسانی روح عالم امر سے ہے۔ اگر کوئی اتنی ترقی کرتا ہے کہ وہ ترقی کرتا کرتا عالم امرمیں پہنچ جاتا ہے تو گھر پہنچا۔ یعنی بڑی محنت کی تو اپنے گھر پہنچا،اپنے مقام پرپہنچا۔اب اس سے آگے چلے گا توترقی ہو گی۔آگے اس کی انتہا کیا ہے؟ کوئی ایسی جگہ نہیں کہ وہاں آپ پہنچ گے، اس سے آگے کوئی جگہ نہیں، آگے اللہ کریم بیٹھے ہیں۔نہیں!یہ ترقی ہوتی رہتی ہے۔زندگی میں، موت کے بعد برزخ میں،میدان حشر میں، جنت میں بھی مسلسل ترقی ہوتی رہے گی اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔اس لیے کہ سلوک کی کوئی انتہانہیں ہے۔
مسلمان ایک مرد مجاہد ہے۔ جہاں سے گزرے فضا کو چیرتا ہواگزرے۔پتہ چلے کوئی ہستی ہے،کوئی وجود ہے،جس کے ساتھ اللہ کی مدد ہے اللہ اس کے ساتھ ہے۔آپ صحابہ کرامؓ کی زندگیاں پڑھیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین سے کون پارسا ہوگا؟ساری دنیا کے اولیاء، اقطاب اور غوث جمع کرلو،انؓکی جوتیوں پرنچھاورہوسکتے ہیں۔لباس پرانے تھے،تلواروں پردوپٹیاں رکھ کراوپرکپڑاباندھ لیتے تھے۔جوتوں کوگرہیں لگا لیتے تھے۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے عظیم انسان کے لباس میں تیرہ تیرہ پیوند لگے ہوتے تھے لیکن جہاں جاتے تھے ہرچیز لرزاں براندام ہوجاتی تھی۔قیصرکے پاس صحابہ کرامؓ میں سے جوسفیرپہنچاتو قیصر نے اسے دیکھ کر حیران ہو کر کہاکہ تمہاری تلوار پرتودولکڑیا ں رکھ کر اوپر کپڑے سے گانٹھ لگی ہوئی ہے۔تم کیا لڑو گے؟ انہوں نے فرمایا! قیصرمیانیں نہیں لڑا کرتیں، تلواریں لڑاکرتی ہیں۔تم میان کی بات کر رہے ہو۔تم نے میری تلوار کی کاٹ دیکھی نہیں۔ایک ایک شخص بڑے بڑے حکمرانوں کو لرزاں براندام کردیتا تھا۔ان کی وجاہت، ان کے چہرے کی عظمت،انوارات و تجلیات  سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوہِہِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ(الفتح 29:)  ان کے چہروں پر تجلیاتِ باری رقصاں ہوتی تھیں۔ مخاطب پر رعب طاری ہوجاتا تھا۔وہ بندے کااپنا نہیں ہوتا تھا، تجلیات باری کاامین ہوتا تھا۔
اسی طرح جہاد اور فساد میں بڑا فاصلہ ہے۔ہرجھگڑاجہاد نہیں ہے،ہرلڑائی جہاد نہیں ہے،دہشت گردی جہاد نہیں ہے، یہ فساد ہے۔ جہاد وہ ہے۔ جہاں حضور ﷺ کے حکم کے مطابق، باطل کے مقابلے میں جم کرکام کیا جائے۔ بات کرنا زبانی جہاد ہے۔ لکھنا قلمی جہاد ہے۔ لڑنا عملی جہاد ہے۔جہاں غلط ہورہاہووہاں حق کی حمایت میں جم جانا، یہ جہاد ہے۔خواہ مخواہ لوگوں کوقتل کرتے پھرنا اور دہشت پھیلانا۔یہ جہاد نہیں ہے۔ اہل ِمغرب نے جہاد کے اصل تعین،اس کے مفہوم کو مسخ کردیا ہے۔جہاداورفسادکوخلط ملط کردیاہے۔فساد الگ چیز ہے۔اسلام فساد کے خلاف ہے۔اسلام، فساد کو سرے سے برداشت ہی نہیں کرتا۔اسلام امن کا داعی ہے اور جہاد فساد کے خلاف قیام امن کی سعی کانام ہے۔جان دینی پڑے،زبان سے کام ہوجائے،ہاتھ سے کام ہوجائے۔اس کے لیے الگ الگ مواقعے اور الگ الگ صورتحال ہے۔ لیکن ہر مسلمان مجاہد ہے۔ایمان کاتقاضا یہ ہے کہ اس کی زندگی جہاد ہو۔ نبی کریم ﷺ جب میدان کارزار سے واپس تشریف لائے تو فرمایا       رجعنا من الجہاد الاصغر الی الجہادالاکبر اوکماقال رسول اللہ ﷺ کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف آگئے ہیں۔ میدان کارزار میں دادشجاعت دینا۔ایک جذبہ ہوتا ہے، ایک جوش ہوتا ہے، ایک کام ہوتا ہے، ہربندہ کرجاتا ہے۔لیکن ساری زندگی حق پرقائم رہنا اور باطل سے ٹکراتے رہنا حضور ﷺ نے فرمایا یہ جہاد اکبر ہے۔یہ بڑا جہاد ہے کہ آپ کا اٹھنا بیٹھنا،سونا جاگنا،بولنا چالنا،لین دین سارا حق کے مطابق ہو اور ہرہرعمل میں باطل کا ابطال ہورہاہو۔تب یہ پوری زندگی جہاد اکبر ہے۔مومن کی زندگی، مجاہد کی زندگی ہے۔ مومن کی حیات، مجاہد کی حیات ہے اور مومن کی موت، مجاہد کی شہادت ہے۔ 
اولیاء اللہ کی حقیقی کرامت یہ تھی کہ انہوں نے وہاں ڈیرے لگائے،جہاں باطل کی قوت زور پر تھی، وہاں باطل کوشکست دی۔ ایک فرد پہنچا تو ایک سے کروڑوں نہیں تو لاکھوں ہو گئے۔ لوگوں کوحق پرچلنا سکھایا۔اللہ کی مخلوق کواللہ کے غضب سے بچایا اورا نہیں جہنم میں گرنے سے بچاکر صراط مستقیم پر گامزن کیا۔جن اولیاء اللہ کو ہم عظیم سمجھتے ہیں ان کی سوانح ُپڑھیں۔وہ لاکھوں لوگوں کوجہنم سے بچانے کاسبب بنے۔جب باطل قوتیں زورں پرتھیں۔ حکومتیں بھی باطل کی طرف تھیں۔دنیاوی طاقتیں بھی اسی طرف تھیں تواس میدان میں ان سے افراد کو چھین کر،برائی سے چھین کر، شیطان سے چھین کر،انسانوں میں سے جو شیطان تھے ان کے شکنجے سے چھین کر، اللہ کریم کی بارگاہ میں لے آنا، یہ بڑی کرامت ہے۔ اللہ کریم توفیق ارزاں فرمائے۔ ہرفرد ایک قوت ہے کہ اس کے ساتھ اللہ کریم ہے، ہرفردباطل کے لیے خطرہ ہے  تب وہ حقیقی مسلمان ہے۔ تب وہ صوفی بھی ہے۔ مجاہدبھی ہے۔ مسلمان بھی ہے۔اگر باطل اس سے خطرہ محسوس کرتا ہے تو پھر وہ حق پرہے۔ باطل کے لیے قابل برداشت ہے تو پھر وہ نہ اُدھر کاہے اور نہ اِدھر کاہے۔سادہ سی بات ہے۔ اسی میں ساری ولائیت بھی ہے اور سارے درجات بھی ہیں۔انجام اللہ کریم کے دست قدرت میں ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں نے بڑے مراقبات طے کیے ہوں۔لیکن کئی ایسے بھی ہیں جو زندگی میں سب کچھ ہار کر مرتے وقت ایمان بھی ہار گئے۔ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی بھر تو کچھ نہ کرسکے لیکن موت سے پہلے کوئی ایسا عمل کیا جو اللہ کریم کو اتنا پسند آگیاکہ بڑے بڑے مجاہدے کرنے والوں سے آگے نکل گئے۔رحمت الہٰی سے بات بنتی ہے اور بات وہی بنے گی کہ جو اللہ کریم کے غضب سے بچ گیاوہ ساری کامیابیاں پاگیا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعوربھی اورتوفیق عمل بھی عطافرمائے۔اٰمین۔

ذکر قلبی و عشق مصطفےصلی اللہ علیہ وسلم

Watch Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW YouTube Video
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 1
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 2
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 3
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 4
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 5
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 6
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 7
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 8
Zikar qalbi o ishhq mustfa SAW - 9

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد


 چکوال کے نواحی علاقہ نور پور سیتھی میں الفلاح فاؤنڈیشن کے تحت ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔جس کاافتتاح ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیوچکوال خاور بشیر صاحب نے کیا۔کیمپ میں 7 ماہر ڈاکٹرزچائلڈ سپیشلسٹ،فزیوتھراپسٹ،آئی سپیشلسٹ،میڈیکل سپیشلسٹ،چائلڈ سپیشلسٹ،فیملی فزیشن اور ڈینٹل سرجن کی ٹیم نے 885 مریضوں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی کامفت معائنہ کیا اور ان میں مفت ادویات بھی تقسیم کیں۔ یہ فری میڈیکل کیمپ صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک جاری رہا۔آنکھوں کے مریضوں کو مفت عینکیں بھی لگائی گئیں۔
 کیمپ کا آغاز دعا سے کیا گیا کیمپ کی نگرانی صاحبزادہ شدیداللہ اعوان نے کی۔ اس کے علاوہ بشیر اعوان صاحب،محمود اعوان صاحب،عبدالستار اعوان صاحب اور عبدالرقیب اعوان صاحب بھی شامل تھے۔
  یاد رہے کہ الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی ذیلی تنظیم ہے جو عرصہ دراز سے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کی زیر نگرانی ملک کے طول و عرض میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

Al falah foundation Pakistan ke tehat aik roza free medical camp ka ineqad - 1

قسم کس کی جائز ہے

Watch Qasam kis ki jaiz hai YouTube Video

نبی کریم ﷺ کا کامل اتباع نصیب ہوجائے تو زندگی کا ہر لمحہ عبادت شمار ہوتا ہے


 مخلوق میں کسی کی قسم اُٹھانا جائز نہیں ہے۔قسم صرف اللہ کریم کی اُٹھائی جائے وہی ذات ہے جو ہماری ہر ہر حرکت سے واقف ہے۔جس کی قسم کھائی جا رہی ہو اس کی گواہی بھی ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو  جانتا بھی ہو کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی۔ہم نے اس بات کو بھی رواجات کی نذر کردیا ہے بات بات پر قسم اُٹھانا درست نہیں ہے۔ہم قسم اس لیے اُٹھاتے ہیں کہ ہماری بات کا وزن بڑھ جائے۔صرف ایسی بات پر ہی قسم اُٹھانی چاہیے جو پرہیز گاری کی ہو اور اصلاح کی ہو۔جان بوجھ کر جھوٹی قسم اُٹھانے کے بارے روز محشر پوچھا جائے گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے احکامات زندگی گزارنے کا آسان ترین راستہ ہیں۔ان پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی بھی آسان ہوتی ہے اور آخرت کی تعمیر بھی ہو رہی ہوتی ہے۔صالح اعمال کی بنیاد نور ایمان ہے۔اللہ کریم ہمیں امتی کے رشتے کی باریکی سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آج صاحب ایمان مغلوب ہیں اور غیر مسلم غالب ہیں۔وہ دنیا کی زندگی میں دینی اصول اختیار کیے ہوئے ہیں انہوں نے تحقیق کی نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا قرآن کریم سے نتائج اخذ کیے تو جب انہوں نے وہ اصول اختیار کیے تو دنیا کی زندگی میں فائدہ اُٹھا رہے ہیں ہمیں لیڈ کر رہے ہیں جبکہ ہم مسلمان بے عملی کی نذر ہو چکے ہیں ہم مان رہے ہیں لیکن عمل نہیں کر رہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nabi kareem SAW ka kaamil itebaa naseeb ho jaye to zindagi ka har lamha ibadat shumaar hota hai - 1