Featured Events


بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس بھچراں میانوالی

Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference Mianwali YouTube Video

حق غالب رہتا ہے

Watch Haq Ghalib Rehta hai YouTube Video

حق کسی کے ماننے یا نا ماننے کا محتاج نہیں ہوتا۔حق خود منوا لیتا ہے


اہل کتاب نبوت کا انکار بھی کر رہے ہیں اور نبی کی ذات کو اللہ کی ذات کا حصہ قرار دے کر بہت بڑے شرک کے مرتکب ہورہے ہیں۔جو بہت بڑا جھوٹ اور گستاخی ہے۔حالانکہ اللہ کریم کا احسان کہ اس نے انبیاء مبعوث فرمائے اپنے ذاتی کلام سے نوازا اور زندگی گزارنے کے اسلوب سکھائے انسانی زندگی کیسے بسر کرنی ہے اس کا طریقہ سکھایا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہماری ضرورت کی بھی تکمیل ہو رہی ہے۔آج جو خود کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں اور اللہ کے حکم کے سامنے اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں کل روزقیامت بڑے بڑے بادشاہ بھی کہہ اُٹھیں گے کہ حقیقی بادشاہی اللہ کی ہے۔اللہ نے جسے جہاں مبعوث فرمایا ہم اس میں کوئی فرق نہیں رکھتے سب پر ایمان لاتے ہیں۔احترام کو ملحوظ خاطر لانا ہماری ذمہ داری ہے احتیاط لازم ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔نبی کریم ﷺ کی اس ماہ مبارک میں ولادت باسعادت ہوئی۔آپ ﷺ کے خدام صحابہ کرام ؓ  کا آپ ﷺ کی ذات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بغیر کلام کے جان جاتے کہ آپ ﷺ اس وقت کیا پسند فرمائیں گے۔آج بھی ہر ماہ ربیع الاول میں آپ ﷺ سے اظہار محبت کے لیے محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا ہمیں اس بات کا عہد نہیں کرنا چاہیے کہ آج سے میں اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق بسر کروں گا آج سے میں آپ ﷺ کی ادائیں اختیار کروں گا محبت کا تقاضہ تو یہی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ محافل میں جاتے ہیں فرض نماز بھی چھوٹ جاتی ہے۔یہ کون سی محبت ہے؟
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی مرکزی طور پر ملک بھر میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ کل سے جاری ہے۔جن میں پہلا پروگرام میانوالی واں بھچراں اس کے علاوہ بھکر،اسلام آباد،مظفر گڑھ،ملتان،مرکز دارالعرفان منارہ،شاہ پورسرگودھااور لاہور شامل ہیں۔
Haq kisi ke maan-ne ya na maan-ne ka mohtaaj nahi hota. haq khud Manwa laita hai - 1

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنسز 2025

Baisat Rehmat e Alam SAW Conferences 2025 - 1

تعلق مع اللہ کا معیار

Watch Taluq Ma Allah ka Miar YouTube Video

حق سے باہر بندہ تب جاتا ہے جب تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے


بندہ جب حق کو سمجھتا ہوا اس راہ سے ہٹتا ہے تو اس کا شمار بدکاروں میں ہو جاتا ہے۔کیونکہ حق تو اس طرح واضح اور روشن ہے جس طرح سورج چمک رہا ہوتا ہے۔حق سے باہر بندہ تب جاتا ہے جب تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے پھر آہستہ آہستہ حق سے دور ہو کر خواہشات کی پیروی میں ڈھل جاتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین ہمارا اسلام ہے۔عبادات میں بنیاد  توحید ہے۔بندگی کا پہلو نصیب ہوتا ہے۔ایمانیات کے تمام پہلوؤں  پر ایمان با لغیب ضروری ہے۔اللہ کی ذات تک جانے کے لیے نبی کریم ﷺ کو ماننا پڑتا ہے۔قرآن کریم اللہ کا ذاتی کلام ہے جس کی گواہ صرف نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔اللہ کے نبی ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ کریم کن باتوں سے خوش ہوتے ہیں کن باتوں کو پسند نہیں فرماتے مخلوق میں یہ استعداد نہیں ہے کہ وہ اللہ کریم کی ذات کو جان سکے پہچان سکے ہم صرف اتنا جان سکتے ہیں کہ کوئی ہستی ہے جو اس نظام کو چلا رہی ہے اس سے آگے ہم میں استعداد نہیں یہ استعداد کہ اللہ کیسا ہے یہ صرف اللہ کے انبیاء کے پاس ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ذات باری تعالیٰ اتنی بلند ہے کہ وجود انسانی میں یہ استعداد ہی نہیں کہ بغیر سبب کے اللہ کریم کو جان سکے۔اگر بغیر سبب کے اللہ کریم اپنی تجلی فرمائیں ہر چیز فنا ہو جائے۔جنت کی بے شمار نعمتوں کا ذکر ہے لیکن سب سے بڑی جو نعمت اہل جنت کو نصیب ہوگی وہ دیدار باری تعالیٰ ہے۔دین اسلام پوری زندگی بسر کرنے کا طریقہ ہے دین صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ عقائد،ایمان اور معاملات تینوں دین اسلام میں داخل ہیں اگر کوئی کہتا ہے کہ میں اللہ کو مانتا ہوں اللہ کے نبی کو مانتا ہوں لیکن عملی زندگی میں اپنی پسند سے عمل کرتا ہے تو یہ درست نہیں ہے۔اللہ کریم ہمیں دین اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں بسرکرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Haq se bahar bandah tab jata hai jab taqqabur mein mubtala ho jata hai - 1

کتب سابقہ کی تصدیق ماہانہ اجتماع


قرآن کریم کو اللہ کریم نے تمام احکامات کے ساتھ حفاظت الٰہی سے نوازا ہے


قرآن کریم جہاں کتب سابقہ کی تصدیق کرتا ہے وہاں قرآن کریم کو اللہ کریم نے تمام احکامات کے ساتھ حفاظت الٰہی سے نوازا ہے۔اور ایسے لوگ بھی کرہ ارض پر عملی طور پر موجود رہیں گے جو ایمان کے ہر حصہ پر اس طرح عمل پیرا ہوں گے جس طرح آپ ﷺ نے عمل کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا ماہانہ اجتماع کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا بہت بڑا کرم کہ ان لوگوں کے لیے شہادت دے رہے ہیں جنہوں نے دین اسلام میں معاونت کی۔ایسے لوگ جو ایمان لائے اور مدد گار بنے اس کے لیے بحیثیت امتی بنیادی حصہ نیت ہے۔کہ خالص اللہ کی رضا کے لیے دینی مدد کے لیے تیار ہوئے۔اپنے آپ کو عملی طور پر دین اسلام پر لائے اپنا کردار درست کیا۔اور اس بات پر کامل یقین رکھا کہ مالک اللہ ہے اور ہر چیز اس کی محتاج ہے۔وہی ہر چیز کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہر چیز اللہ کریم کے روبرو حاضر ہے۔اور روز قیامت وجود کا ہر حصہ گواہی دے رہا ہوگا اور منکر نکیر جو لکھ رہے ہیں ان سے بھی کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے۔اگر ان سے کوئی چیز رہ گئی تو اللہ کریم خود ذاتی طور پر ہر ایک سے با خبر ہیں۔اللہ کریم نے رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار فرمایا ہے۔یہ اللہ کی بہت بڑی عطا ہے۔اللہ نے جو ہمیں وجودی استعداد عطا فرمائی،زہنی عطا فرمائی معاشرے میں حیثیت عطا فرمائی کیا ان سب کا حساب نہیں ہوگا کیا اس کے قوانین ہم پر لاگو نہیں ہوتے؟ سوچیے اور تجزیہ کیجیے کہ مجھے کیا حکم ملا اور میں کہاں کھڑا ہوں۔دین اسلام کی مثال ایسی ہے جیسے اندھیر ا میں سورج کی روشنی ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Quran kareem ko Allah kareem ne tamam ehkamaat ke sath hifazat Ellahi se nawaza hai - 1

مقام نبوت


نماز وجودی ضروریات سے لے کر معاشرے میں اخلاقیات کی قدروں میں بہتری کا سبب بنتی ہے


حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد الرسول اللہ ﷺ تک کلمہ حق لا الہ الا للہ ایک ہی ہے۔اس میں کسی طرح سے بھی شرک کی آمیزش نہیں ہے جو حکم الٰہی ہے اس میں سب برابر ہیں۔نہ کوئی عالم نہ پیر صاحب اس سے مستثنی ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
انہوں نے کہا کہ نماز وجودی ضروریات سے لے کر معاشرے میں اخلاقیات کی قدروں میں بہتری کا سبب بنتی ہے۔آج ہم نے رشتوں کے تقدس کو کھو دیا ہے۔پہلے والد اگر اولاد سے کہتے کہ کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہوجاتے تھے کیوں کا لفظ نہیں تھا وجہ نہیں پوچھی جاتی تھی کہ ایسا کیوں کہا گیا۔آج ہم جواز مانگتے ہیں۔جب اللہ کا حکم ہو وہاں کیا تعمیل درکار ہے؟ جہاں سجدے کا حکم ہے وہاں سجدہ کریں جہاں سر کٹانے کا حکم ہے وہاں سر کٹائیں گے مقصد اطاعت الٰہی ہے۔اپنے معاملات میں اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج رواجات پر چلنا آسان اور حق پر چلنا مشکل ہو چکا ہے۔عبادات ہماری ضرورت ہیں۔عمل کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔عبادات چھوڑ کر ہم اپنا نقصان کر رہے ہیں۔دنیاوی تعلقات پر ہم اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ہمیں اپنے تعلقات پر اتنا اعتماد ہوتا ہے۔ایک بار اپنے اللہ کے حکم پر کھڑ ے ہو کر تو دیکھو۔اللہ کریم پر تو اس سے زیادہ اعتماد ہونا چاہیے وہ خالق ہے مالک ہے۔یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ ہم عبادات بھی کرتے ہیں لیکن اس کے اثرات ہم پر نہیں آتے۔رکوع و سجود کا اگر ہمارے اعمال پر اثر نہیں اس کا مطلب ہے ان رکو ع و سجود میں خشوع و خضوع نہیں ہے۔ہم گنتی پورے کر رہے ہیں تعمیل حکم میں مخلص نہیں ہیں۔مخلص ہوتے تو نماز سے نتائج پیدا ہوتے ہم سے برائی اور بے حیائی چھوٹ جاتی لیکن ایسا نہیں ہے ہم نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں برائی بھی کر رہے ہیں۔
  اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Namaz wajoodi zaroriat se le kar muashray mein ikhlaqiaat ki qadron mein behtari ka sabab banti hai - 1