Featured Events


بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس

Watch Baisat Rehmat Alam SAW Conference  YouTube Video

قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے


 قرآن کریم میں جو قوانین اللہ کریم نے ارشاد فرمائے ہیں ان میں مساوات ہے۔رہتی دنیا تک یہ اصول اور ضابطے قابل عمل ہیں۔اور ان پر کیے گئے فیصلے اتنے متوازن ہوتے ہیں کہ اس میں فریقین کے درمیان فتح و شکست نہیں ہوتی بلکہ فریقین کے درمیان ایسا انصا ف ہوتا ہے کہ دونوں مطمئن ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روزہ جامع اسلامیہ کینڈا میں خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جتنی ہم دنیا،دنیا کے علوم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اچھی بات ہے لیکن دنیا فانی ہے آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اس کے لیے بھی اسی دنیا میں تیار ی کرنی ہے۔جدت زندگی نہیں ہے زندگی کے زرائع ہیں۔کہ آپ اپنی ضروریات کو اچھے انداز سے پورا کر سکیں۔میں خود ضروریات دین کو جانو اس پر عمل کروں یہ وہ بنیادی درسگاہ ہے جس سے ہمارے بچوں کو راہنمائی ملے گی۔ہمارے خاندانی نظام کی مضبوطی انہی اصولوں میں ہے جو دین اسلام ارشاد فرماتا ہے۔دین اسلام کے اصول اور ضابطے ایسے ہیں جو دوسروں کی خوشی کا بھی سبب بنتے ہیں۔
  آخر میں انہوں نے جامع اسلامیہ کے مولانا صاحب اور انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا اور بحیثیت امت اتفاق و اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem mein jo qawaneen Allah kareem ne irshad farmaiye hain un mein masawaat hai - 1

قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں


قرآن کریم کے معانی و مفاہیم وہ سمجھے جائیں گے جو نبی کریم ﷺ نے سمجھائے ہیں۔باقی دنیا میں جتنی بھی زبانیں ہیں ان کے معانی و مفاہیم اپنی زبان میں ترجمہ کر کے سمجھے جا سکتے ہیں۔دنیا کی زندگی میں کوئی خواہش کرتا ہے تو اس کا تعلق قلبی انسانی سے ہے۔ خوشی ایک کیفیت ہے اور اس کا تعلق بھی انسانی قلب کے ساتھ ہے ،اگر کہیں تلخی ہے،غم ہے تو اس کاگھر بھی قلب انسانی ہے۔ جتنا دل مطمئن ہوگا اتنا زندگی کے بہر میں سکون نصیب ہوگا اور دلوں کا قرار یادِ الٰہی میں ہے۔
ٓامیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا مسجد اقصٰی برامپٹن کینڈا میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ انسانی مزاج ہے کہ مجھ جیسا کوئی نہ ہو،میری حیثیت،میری اولاد،میری کامیابی،میرا مقام،میرا ورع و تقوی کتنے ہی پہلو ہیں کہ آپ ان پر بات کرتے جائیں تو بات ذات کے گرد گھومتی رہتی ہے۔جب بندہ ذات ہی پر انحصار کرتا ہے توخواہشات ایسے ایسے رنگ دکھاتی ہیں۔یہ دنیا یہ جہان کل زندگی نہیں ہے۔دین اسلام ان حقائق سے آگاہ فرماتا ہے اللہ کریم سے وہ تعلق نصیب ہوتا ہے کہ بندہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تکلیف اور خوشی اللہ کی طرف سے ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ بندہ مومن دونوں پہلوؤں میں کامیاب ہے تکلیف آئے تو صبر کرتا ہے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے دونوں حالتوں میں رجوع الی اللہ کرتا ہے۔اللہ کریم کی ذات رب ہے جو ہر ایک کی ہر ضرورت ہر وقت پوری فرماتا ہے اس نے ہماری ضرورت کی تکمیل کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے ہماری راہنمائی کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔بندہ،بندگی کے معنوں سے آشنا نہ ہو سکتا اگر اللہ کریم اپنے برگزیدہ بندوں انبیاء کو مبعوث نہ فرماتے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Quran kareem ke ma-ani o Mafaheem woh samjhay jayen ge jo nabi kareem SAW ne samjhaye hain - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان دورہ کینڈا اور امریکہ کے لیے روانہ


 حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک ماہ کے روحانی تربیتی دورہ پر کینڈا اور امریکہ کے لیے  روانہ 
 اسلام آباد ائیر پورٹ سے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک ماہ کے روحانی تربیتی دورہ پر کینڈا اور امریکہ کے لیے  روانہ ہو گئے۔اسلام آباد ائیر پورٹ پر سالکین کی بڑی تعداد نے حضرت شیخ المکرم کو رخصت کیا۔یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کا ایک دن کا قیام لند ن میں ہو گا پھر اس کے بعد کینڈا کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔جہاں مختلف شہروں جن میں Mississauga،Brampton،Ajax،میں بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں حضرت شیخ المکرم خطاب فرمائیں گے۔وہاں کی مسلم کمیونٹی سے حضرت کی ملاقاتیں ہوں گی۔اس کے علاوہ وہاں کے مقامی لوگوں سے بھی ملاقاتیں طے ہیں۔یہ دورہ حضرت کا مصروف ترین دورہ ہو گا۔
Sheikh ul Mukarram Daurah Canada Aur America ky liy Rawana - 1

صفت تقوی ( ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ )


زندگی کی خوبصورتی اطاعت رسول میں ہے اطاعت سے باہر تلخی پیدا ہوتی ہے


 ہم اس وقت مادیت میں اس حد تک گِھر گئے ہیں کہ اس کو اپنی زندگیوں میں بہت زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔اپنی اولادوں کو بھی دنیاوی تعلیم دینے میں اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ان کے ننھے کندھوں پر ان کی سکت سے زیادہ وزن کے بیگ ڈال دئیے ہیں۔تاکہ وہ کامیاب انسان بن جائیں۔حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔آج ہم اطاعت سے دور ہو کر مختلف پریشانیوں سے دوچار ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بنیاد پر یعنی اطاعت رسول ﷺ پر آجائیں۔جس کا پہلا قدم نماز ہے اسے اگر دھیان سے اور سمجھ کر ادا کیا جائے تو قیام صلوۃ بندہ مومن کو ذاتی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی اصلاح پر لے آئے گی 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔ 
انہوں نے کہا کہ جہاں ہم اپنے بچوں کو سائنس اور جدید ٹیکنالوجی پڑھاتے ہیں وہاں ہم ان کو وہ تعلیم کیوں نہیں دیتے جہاں ہم نے ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔زندگی کی خوبصورتی اطاعت رسول میں ہے اطاعت سے باہر تلخی پیدا ہوتی ہے۔جس نے اطاعت کا دامن چھوڑ دیا وہ خود بھی تکلیف میں ہے اور گھر والے بھی۔ فانی جہان ہے اسے چھوڑ جانا ہے۔اس زمین پر جتنا بھی کوئی اکڑ کر چلتا ہے کیا وہ پہاڑوں کے قد سے بڑھ جائے گا؟قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے بیان فرمایا جاتا ہے اسے پڑھا کریں،ترجمہ و تفسیر سے معاونت حاصل کر کے سمجھیں کہ اللہ کریم میرے لیے کیا ارشاد فرما رہے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ متقی کی صفت یہ ہے کہ فراوانی اور تنگی دونوں حالتوں میں وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہے۔اقرار اور انکار اللہ کی اطاعت کے مطابق کرتا ہے۔انسانی معاشرے میں اگر قانون کا نفاذ نہ ہوتو صرف تبلیغ سے اس کی درستگی نہیں ہو سکتی۔یہ ضابطہ اور اصول ہمیں قرآن کریم اور سنت خیر الانام سے نصیب ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے لوگوں کی تربیت فرمائی اس سے بڑھ کر کوئی تربیت جہان میں ہو سکتی ہے؟پھر آپ ﷺ کی معیت نصیب ہوئی اس کے باوجود آپ ﷺ نے اللہ کا دیا ہوا نظام ترتیب دیا اسے نافذ کیا یہ انسانی معاشرے کی ضرورت ہے۔مزاج انسانی کی ضرورت ہے۔کسی بھی معاشرے کو چلانے کے لیے انصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔اور انصاف نظم سے ہی قائم ہوتا ہے۔مخلوق کے بنائے قوانین نہیں چل سکتے قوانین وہی چل سکتے ہیں وہی انصاف مہیا کر سکتے ہیں جو خالق کے بنائے ہوں گے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
 ٰ یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان رواں ماہ دورہ کینڈا اور امریکہ کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں جہاں مختلف شہروں میں کانفرنسز ہوں گی جن میں قلبی سکون پر آپ لیکچرز دیں گے
Zindagi ki khoubsurti itaat rasool mein hai itaat se bahar talkhi peda hoti hai - 1

انفاق فی سبیل اللہ کیا ہے

Watch Anfaq fisabeel liallah kia hai YouTube Video

کامیابی و کامرانی، قرآن کریم پر عمل پیرا ہونے سے نصیب ہوتی ہے


قرآن کریم کی تلاوت باعث برکت ہے اور اس پر عمل زندگی میں اعتدال پید ا کرتا ہے اور بندہ مومن کو جنت کے راستے پر لے جاتا ہے۔زندگی کی کامیابی و کامرانی کا انحصار بھی ان احکامات پر عمل سے ممکن ہے۔اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیز خرچ کی جائے کیونکہ انفاق کا مطلب ہی یہ ہے کہ اللہ کے نام پر اپنی جان و مال اور صلاحییت لگائی جائے۔اپنی زندگی میں سچ کو معمول بنائیں کہ اللہ کے ہاں بندہ مومن کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولنے سے جہاں وہ جہنم کے راستے پر چلتا ہے وہاں جھوٹ بولنے کی وجہ سے اللہ کے ہاں کذا ب لکھ دیا جاتا ہے۔کیفیات قلبی کا شعبہ اختیار کرنا اور پھر اسے آگے مخلوق خدا تک پہنچانا بھی انفاق فی سبیل اللہ میں آتا ہے۔اس سب کے بعد قرب الٰہی کی عطا اس کا کرم ہے۔ذات بھی اسی کی دی ہوئی ہے کمال بھی اسی کی عطا ہے پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بھی اس کی توفیق سے ہی ممکن ہے۔انفاق فی سبیل اللہ سے مراد صرف مال و دولت نہیں بلکہ کوئی بھی وصف جو اللہ نے انسان کو عطا کیا ہے جس میں وجودی استعداد بھی ہو سکتی ہے۔کوئی بھی کمال ہو سکتا ہے کیونکہ یہ سب اللہ کی عطا ہے اس میں اس کا اپنا کمال نہیں ہے۔ اسے اللہ کے نام پر،اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا استعمال کرنا بھی انفاق فی سبیل اللہ میں آتا ہے۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ عالیہ کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جو لباس ہم مخلوق کے سامنے پہننا پسند نہیں کرتے اسے پہن کر ہم اللہ کی بارگاہ میں رکوع و سجود کر رہے ہوتے ہیں۔جو حلیہ ہم ذات باری تعالٰی کے سامنے لے کر جا رہے ہیں کیا یہ ہمیں ذاتی طور پر پسند ہے؟  ہمیشہ مثبت پہلو دیکھا کریں۔ ہم منفی پہلو کو پہلے دیکھتے ہیں۔تبھی تو ہم سیکھنے سکھانے سے قاصر ہیں۔بات کہنے والا کسی اور پہلو سے کر رہا ہوتا ہے ہم اسے کسی اور پہلو سے لے رہے ہوتے ہیں۔ایسا ہماری روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔قرآن کریم میں جو ارشادات ہیں انہیں کسی پر لاگو کرنے کی بجائے خود پر لاگو کر کے دیکھیں کہ مجھے اس پر عمل کرنا ہے۔ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ میرا دل کیا چاہتا ہے؟جو چاہتا ہوں کیا قرآن و سنت میں  اس کی اجازت ہے؟اگر اللہ کے حکم سے باہر ہے تو میری اس چاہت کے پیچھے فساد ہے۔ہمارے دلوں میں برائی چیخ رہی ہوتی ہے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کل5,4 اکتوبر بروز ہفتہ اور اتوار منعقد کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں حضرت شیخ المکرم مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خطاب فرمائیں گے اور خصوصی دعابھی ہوگی۔اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے۔دعوت عام ہے
kamyabi o kaamrani, quran kareem par amal pera honay se naseeb hoti hai - 1

انکار کا انجام

Watch Ankar ka Anjam YouTube Video

ہر عمل چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی قبولیت کے لیے نیت کا درست ہونا شرط ہے


نماز اللہ کریم کا پسندیدہ عمل ہے۔فرائض میں سب سے بڑا فرض ہے جو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے اگر نماز بھی پڑھ رہے ہیں اور برائی بھی ساتھ چل رہی ہے پھر دیکھیں اس کا اہتمام کیسا ہے،وضو،طہارت،خشوع و خضوع،خلوص کیسا ہے اگر سب کی تکمیل بھی ہوگئی پھر بھی نماز اپنے اثرات نہیں چھوڑ رہی پھر نیت کو دیکھیں کہیں نیت یہ تو نہیں کہ لوگ مجھے نمازی کہیں۔اگر نیت میں فساد آگیا ہے پھر نماز اپنے اثرات کیسے چھوڑے گی۔یہ دنیا امتحان ہے اس میں ہر شئے کا خیال رکھنا ہے ہمیں انہی ضابطوں کو اختیار کرنا ہوگا جو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ہر قول و فعل میں دیکھیں کہ اس پہلو میں میرے لیے کیا حکم ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اپنے اندر سے دل سے حق کی طلب پیدا ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے وہ اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔اپنی خوراک کی پاکیزگی کا خیال رکھیں۔آج معاشرے میں بے حیائی عام ہے جس کے بہت اثرات ہیں ہمارے مزاج بدل گئے ہیں اب لوگ اللہ کریم پر اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے اور ویسا کیوں ہے؟ہم دعوی ایمانی تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمارا عمل نہیں .
 اللہ کریم نے ہر دل میں یہ اہلیت رکھی ہے کہ وہ حق کو پہچان سکے اختیار کر سکے۔پھر گردو پیش کے حالات اثرانداز ہوتے ہیں،شیطان کے وساوس ہوتے ہیں لیکن فیصلہ ہر ایک کا ذاتی ہوتا ہے۔قلوب بھی اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں جیسے چٹکی میں کوئی شئے ہوتی ہے وہ جب چاہے بدل دے۔لیکن اس کے لیے انابت شرط ہے وہ بھی خلوص کے ساتھ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Har amal chahay woh chhota ho ya bara is ki qabuliat ke liye niyat ka durust hona shart hai - 1