Featured Events


دین اسلام موجودہ جدت کے دور میں بھی ہماری زندگیاں اعتدال پر لے آتا ہے


 دین اسلام موجودہ جدت کے دور میں بھی جہاں ہمیں منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے وہاں ہمارے اعمال چاہے دنیاوی ہی کیوں نہ ہوں انھیں عبادت کے درجے پر لے آتا ہے۔اور اسلام کی یہ بہت بڑی خوبصورتی ہے کہ جہاں ہم جان لینے کے در پہ ہوتے ہیں وہاں جان نچھاور کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں۔دین اور دنیا الگ الگ نہیں ہیں دنیا کے کاموں کو دین کے مطابق کرنا ہی اسلام ہے۔دینی احکامات پر چلنے سے دنیا میں بھی عزت نصیب ہوتی ہے۔صاحب ایمان کی نشانی ہے کہ وہ دنیا کی زندگی اللہ کریم کے احکامات کے مطابق گزارتا ہے۔توحید بنیاد ہے آج وقت ہے کہ ہم اللہ کریم کے حضور بخشش طلب کریں اُسے معاف فرمانا پسند ہے محبو ب ہے۔جب کلمہ پڑھ لیا پھر اپنے اختیارات دربار رسالت ﷺ میں دے دیے۔پھر بات صرف اتباع کی ہے۔اپنی پسند نبی کریم ﷺ کی پسند میں ڈھال دی۔ہمارے معاملات میں ہماری پسند اور عقل ختم ہو جائے جو بھی کرنا ہو نبی کریم ﷺ کی پسند سے ہو۔اس زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے جو کچھ اُس نے دیا ہے سب اُسی کا ہے میرا کچھ بھی نہیں یہ وجود بھی اسی کا دیا ہوا ہے۔خاک کا مالک بھی وہی ہے ہوا اور پانی کا مالک بھی وہی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
  انہوں نے کہا کہ جدت سے ہم نے تعمیر کم کی ہے جبکہ تخریب زیادہ ہوئی ہے۔مزاج انسانی سے بے شمار تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو ہمارے فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔ہم کیسے فیصلے کرتے ہیں اس کا انحصار ہمارے مزاج پر ہے۔زندگی تو ہر حال میں بسر کرنی ہے دیکھنا یہ چاہیے کہ میرا دن کیسا گزرا اور رات کیسی بسر ہوئی کیا اس میں اللہ کریم کی رضا شامل تھی یا اس کی نافرمانی میں بسر ہوگئی۔ہر کوئی سمجھتا ہے یہ میری زندگی ہے جیسے چاہوں بسر کروں۔دینی حدودو قیود سے ہم بہت دور چلے گئے ہیں۔ضروریات اور ان کی تکمیل کے زرائع جو خالق کائنا ت نے ہمیں تعلیم فرمائے ہیں وہ سب سے آسان ترین راستہ ہے زندگی گزارنے کا۔ان پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ہم نے زندگی کے سارے معاملات میں رسم و رواجات لے آئے ہیں خوشی غمی،نکاح و طلاق ہر بات میں ہم نے اپنی پسند کو دخل دیا ہے رواجات کی پیروی میں لگے ہیں اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں ہمیں اپنے معاملات میں دینی احکامات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ وہم ہو گیا ہے کہ میں نہ ہوا تو پتہ نہیں کیا ہوگا،میرے خاندان کا کیا بنے گا اللہ کریم کا ارشاد ہے کہ کسی کے جانے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہر ایک کی ہر ضرورت اللہ کریم پوری فرماتے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Deen islam mojooda jiddat ke daur mein bhi hamari zindaganian aitdaal par le aata hai - 1

طلاق کے دینی احکام


نکاح اور طلاق سے متعلقہ احکامات اللہ کریم کی حدیں ہیں ان سے تجاوز ظلم ہے


طلاق اور حلالہ سے متعلق قرآن کریم میں واضح احکامات موجود ہیں۔اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود پر اپنی پسند یا ناپسند کا اطلاق تجاوز ہو گا مرد کو اللہ کریم نے طلاق کا اختیا ر دیا ہے لیکن خاتون کو ایذا کی غرض سے پابند رکھے اور طلاق نہ دے تو یہ سرا سر ظلم ہے۔اس زیادتی کا حساب دینا ہوگا۔ مد ت معین کر کے نکاح کرنا جائز نہیں جو کہ آج کل حلالہ کے نام پر عام ہو رہا ہے۔یہ تجاوز اللہ کریم کے ارشادات کے ساتھ مزاق ہے۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب
انہوں نے کہا کہ آج کل معاشرے میں طلاق کا رجحان بہت زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے دین اسلام پر عمل چھوڑ دیا ہے۔دینی احکامات کا علم ہونے کے باوجود ہم اپنی پسند سے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں۔حالانکہ کہ اگر کسی عورت کے ساتھ آپ کا نبھانہ ہو رہا ہو تو طلاق کی اجازت ہے جسے ہم نے اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لیے ایسے اختیار کیا ہے کہ دونوں خاندانوں میں باہم دشمنی اور دست و گریبان ہونے کا سبب بن گیا ہے۔اسی وجہ سے خاندانوں میں فساد پیدا ہو رہے ہیں۔عورت کے لیے یہ تکلیف کافی نہیں کہ اس نے زندگی گزارنے کے لیے نکاح کیا اور اب علیحدگی کا دکھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔طلاق کے بعداگرخاتون کو ایذا دینے کی غرض سے کوئی اقدام اٹھایا جائے گا تو یہ ظلم ہو گا جس کی جواب دہی ہو گی۔اور اسے اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز سمجھا جائے گا۔حلالہ سے مراد یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے کسی دوسری جگہ نکاح کیا جائے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے ناچاکی ہوجائے اور نبھا نہ ہو سکے وہاں سے بھی طلاق ہو جائے تو عدت پوری کرنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح ہو سکتا ہے۔نکاح و طلاق کو مذاق نہ بنایا جائے۔
 اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Nikah aur Talaq se mutaliqa ehkamaat Allah kareem ki hade hain un se tajawaz zulm hai - 1

خشیت الہی (ماہانہ اجتماع)


خشیت الہی (ماہانہ اجتماع)

Watch Khashiat Ilahi Mahana Ijtima YouTube Video
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 1
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 2
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 3
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 4
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 5
Khashiat Ilahi Mahana Ijtima - 6

ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں


خشیتِ الٰہی سے بندہ مومن کے قلب میں اس طرح کاڈر ہوتا ہے کہ میرے اعمال اس طرح کے نہ ہیں جس طرح اللہ کریم کی شان ہے یہی لوگ ہیں کہ جو بھی ان کے پاس ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہ نیک اعمال اختیار کرکے بھی لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروز ہ ماہانہ اجتماع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام ؓ  جیسی ہستیوں کے اعمال نشانِ منزل کی صورت میں ہیں یہ فرصت اللہ نے عطا کی ہے۔اس میں سستی اور کاہلی نہ ہونے پائے۔اور اپنے تمام اعمال کو اس طرح اختیار کرے کہ اس دنیا پر ترجیح نہ دے۔کیونکہ دنیا تو اللہ نے تقسیم کر دی ہے اور آخرت میں جن اعمال پر اچھا یا برا نتیجہ ملنا ہے ان کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔اور اللہ نے بندوں کو وہی حکم دیا ہے جسے وہ برداشت کر سکتا ہے۔اور اس میں یہ استطاعت بھی ہوتی ہے۔ہر بندہ کا ہر عمل لکھنے والے نے لکھ رکھا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے عمل کا بدلہ اللہ دے گا اور نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا کر عطا ہوتا ہے اور برائی کی سزا اتنی ہی ہے جتنی اس نے کی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس کا مقصد کیا ہے؟ فلسطین کی بات ہو یا کشمیر کی ہم خود کو نحیف محسوس کرتے ہیں جس کی مضبوطی ضروری ہے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔جو نظام موجود ہے اس کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روز 14 فوج کے سپوتوں کو شہید کیا گیا اس پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان والوں سے پوچھیں کہ ان پر کیا گزری۔ اسلام مخالف قوتیں،پاکستان کی مخالف قوتیں برسرِ پیکار ہیں یہ چاہتے ہیں کہ حق غالب نہ ہو اور نہ یہ حق پر عمل پیرا ہوں یادرکھیں حق نے غالب ہونا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ مسلمان کا باعمل ہونا اس سب کا حل ہے۔ہمارے ملک میں غذا اور دوا کی دستیابی نہ رہی۔اعلی سطح پر بیانات مزید نفرت کو بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ضرورت ہے کہ ہم اپنے خاندان اور بچوں کو تحفظ دیں۔اور اولاد کی تربیت اس طرح کریں کہ ان میں دین پر عمل پیرا ہونا اور والدین کا احترام موجود ہو۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں ذکر قلبی کی اہمیت پر بات کی اور سالکین کو اجتماعی ذکر بھی کرایا۔ذکر کے بعد ملک و قوم کی سلامتی اور بقا کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی گئی۔
Hamari zindagi mein aap SAW ke tarbiyat Yafta sahaba karaam RA jaisi hastiyon ke aamaal nshanِ manzil ki soorat mein hain - 1

اسلام میں عورت کا مقام

Watch Islam mein Aurat ka Muqam YouTube Video

اللہ کریم کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ظلم ہے


  کوئی ذمہ دار اپنی ذمہ داری ادا کرنے کو تیار نہیں ہے۔مراعات ساری چاہیے،سہولتیں ساری ہونی چاہیے لیکن ذمہ داری ادا نہیں کرنی۔تو کیسے معاشرہ چلے گا۔سارا ملک ہم نے کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے  بندہ مقصد حیات چھوڑ دے تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔انسان کو اللہ کریم نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بتایا ہے،نبی کریم ﷺ نے ہر پہلو میں راہنمائی فرمائی ہے۔دین پر عمل کرنا ہمیں مشکل لگتا ہے اور بے دینی میں ہم آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔اللہ کریم کے فیصلوں میں حکمت ہے وہ حکیم ہے ہمیں اپنی پسند اور انا کو رد کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔بندگی کا رشتہ اعمال میں تقویت پیدا کرتا ہے۔جب اپنی حالت ایسی ہوگی تو پھر ہم فلسطین کی کیا مدد کریں گے،کشمیر بہن بھائیوں کی مدد کیسے کر سکیں گے جب تک ہم میں بے دینی ہوگی بہتری نہیں آئی گی۔تمام مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلامی قوانین میں ہے جب تک ہم وطن عزیز پر ان کا نفاذ نہیں کریں گے ہم ایسے ہی تجربات سے گزرتے رہیں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے روز خطاب!
  انہوں نے کہا کہ مرد اور عورت زندگی کے دو حصے ہیں بقائے ا نسانی کا سبب ہیں ایک کو بھی ہٹا دو زندگی نہیں گزر سکتی۔مرد اور عورت کے جو مقام ہیں جو حیثیت ہے اللہ کریم نے ارشاد فرمائی ہے ہر ایک کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔مغرب تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے دور کرنا چاہتا ہے۔مغرب میں عورت اور مرد کی برابری کو بڑا اچھالا جاتا ہے اس کی برابری کیا ہے؟اسلام مرد کو ایک درجہ زیادہ دیتا ہے لیکن عورت کے حقوق اپنی جگہ قائم ہیں۔مغرب نے عورت کو اشتہار کے طور پر پیش کیا اور یہ عورت کی تضحیک ہے۔اسلام میں عورت کا مقام ماں،بہن بیٹی اور بیوی کی شکل میں ہے اس سے بڑا مقام کیا ہو سکتا ہے۔اسلام عین طلاق میں بھی عورت کے حقوق کا تحفظ فرماتا ہے۔جب ہم غیر مسلم کو فالو کریں گے تو وہ شیطان کی پیروی ہوگی۔جدت کے ساتھ چلتے چلتے ہم نے اپنا مقام کھو دیا۔عورت کو عزت دی ہی اسلام نے ہے اسلام سے پہلے عورت کو انسان بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔اسلام نے ماں کا مقام بیان فرمایا،جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی جس کا احترام اولاد پر فرض قرار دے دیا۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔ 
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 4،5 نومبر 2023 بروز ہفتہ،اتوار کو  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔جس میں سالکین سلسلہ عالیہ ملک بھر سے اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لائیں گے اور اتوار دن گیار ہ بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیرا عوان  مد ظلہ العالی بیان فرمائیں گے اور خصوصی دعا بھی ہوگی ہر ایک کے لیے دعوت عام ہے۔اس بابرکت اجتماع میں شرکت کر کے برکات نبوت ﷺ سے  اپنے دلوں کو منور فرمائیں
Allah kareem ki muqarrar kardah hudood se tajawaz zulm hai - 1

ادائیگی عمرہ مبارک

Adaigi Umrah Mubarak - 1

نکاح اور طلاق

Watch Nikah Aur Talaq YouTube Video