Featured Events


بندہ مومن کی بہترین تبلیغ اُس کا اپنا کردار ہے


 بندہ مومن کی بہترین تبلیغ اس کا اپنا کردار ہے جو کہ وہ معاشرے میں دوسروں کے ساتھ باہم میل جول  لین دین،عہد کو پورا کرنا اور معاملات میں کھرا پن کا ہونا شامل ہے۔احکامات دین کو عملی طور پر اختیار کرنا اس کے نفاذ کی سب سے بڑی شہادت ہے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں پر بندہ کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے اور اس امتحان گاہ کا ہونا مکمل ہی تب ہوتا ہے جب بندہ اپنی مرضی سے اپنا عقیدہ اور مذہب اختیار کر سکے۔آپ ﷺ نے عمل صالح اختیار کرنے والوں کے لیے خوشخبری سنائی اور اعمال بد اختیار کرنے والوں کے لیے جو انجام ہے اس سے بھی آگاہ فرمایا۔اب اس نظام میں اللہ کریم نے جب تک فرصت دی ہے اس کی ذات کا انکار کرنے والوں کو بھی رزق دے رہا ہے صحت عطا فرمائی ہے اولاد دے رہا ہے۔اس مختصرسی زندگی کے مصارف ہمیں ہمیشہ کی زندگی کی صورت میں نتیجہ کے طور پر ملیں گے ۔ اور ایک بات یادرکھیں دین اسلام کے مطابق دنیاوی کام کرنا بھی عبادت کا ایک درجہ رکھتے ہیں جیسے والدیں کی خدمت، اولاد کی پرورش یہ سب اگر سنت خیر الانام کے مطابق ہوں تو یہ سارے کام دین بن جاتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا ہر عمل یا تو معاشرے میں نور کا سبب بنتا ہے یا پھر ظلمت کا سبب بنتا ہے اور غلط محفل اور ایسی صحبت سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جو کہ دین سے دوری کا سبب ہوں۔جس راہ کا تعین آپ کریں گے ویسے ہی نتائج بھی پائیں گے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

Bandah momin ki behtareen tableegh uss ka apna kirdaar hai - 1

شب برات

آج شب برات ہے،شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہے۔ بعض اوقات، بعض لمحات، بعض راتوں کے لئے حدیث شریف میں فضائل آئے ہیں، ان کی برکات زیادہ ہیں۔ان میں عبادت کا اہتمام لوگ کرتے ہیں۔لیکن ایک بات یاد رہے،بنیاد فرائض ہیں۔اگرکوئی فرائض کی پرواہ نہیں کرتا اور صرف شب براتیں منا لیتا ہے،تویہ دین نہیں ہے۔جیسا کہ ہمارے ہاں رواج ہے اور شب برأت بھی ہم پٹاخے چلا کر، خرافات سے مناتے ہیں۔اگر یہ رات عباد ت کی ہے، فیصلوں کی رات ہے۔بعض احادیث میں ملتا ہے۔ بعض متقدمین نے تفسیر میں بھی نقل فرمایا ہے کہ دنیا میں کام کرنے والے فرشتوں کو ایک سال کے لئے اس رات میں فیصلے عطا کردئیے جاتے ہیں۔لیکن کیا اللہ کریم اپنے فیصلوں میں کسی کا محتاج ہے؟کوئی ایسا فیصلہ ہے جو اللہ پر ہاوی ہے اور اللہ کریم مجبور ہے،ایسی تو کوئی بات نہیں۔وہ جب چاہے جو چاہے فیصلہ کرے۔ہر لمحہ اس کی عبادت کا ہے اور ہم نے عباد ت کا مفہوم سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔عبادت کا مطلب اطاعت الہٰی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ نماز اور نفلیں عبادت ہیں۔بازار جانا بھی عبادت ہے، روزگار کمانا بھی عبادت ہے،مزدوری کرنا بھی عبادت ہے، بال بچے پالنا بھی عبادت ہے، والدین کی خدمت بھی عبادت ہے،اولاد کی تربیت بھی عبادت ہے۔زندگی کا ہرکام یا اللہ کی عبادت ہے یا جرم ہے۔دو حالتوں میں سے زندگی کا کوئی کام خالی نہیں ہے۔اگر اللہ کے حکم کے مطابق ہے، نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اتباع میں ہے، نبی کریم ﷺ کی غلامی میں ہے تو ہرکام عبادت ہے۔مزدوری عبادت ہے، سفر عبادت ہے،قیام عبادت ہے،سونا عبادت ہے، جاگنا عبادت ہے، بات کرنا عبادت ہے۔شرط صرف یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی حدود کے اندر ہو۔ عبادت کا مطلب اطاعت ہے۔جو عبادات فرض کی گئی ہیں جیسے نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ، یہ اللہ کا خصوصی انعام ہے۔یہ حضور حق میں حاضری ہے۔ اللہ کی بارگاہ میں رو برو کھڑے ہونا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ باربار بارگاہ عالی میں حاضر ہونے سے بندے کا اللہ سے تعلق بڑھتا ہے،آشنائی بڑھتی ہے، دل اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لہٰذاعبادات کا حاصل یا جسے آپ ثواب کہتے ہیں۔ ہمیں اس کو سمجھنے میں بھی غلطی لگتی ہے اور کہہ دیا جاتا ہے یہ اُدھاری مزدوری ہے۔جی اس کا ثواب مرنے کے بعد ملے گا۔یہ غلط کہاجاتا ہے۔ہر شے کا ثواب نقد ملتا ہے اورعبادا ت کا ثواب کیا ہے؟ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ  الْفَحْشَآءِ  وَالْمُنْکَر (العنکبوت:45) اگر آپ اللہ کی عبادات کرتے ہیں تو اس کا ثواب یہ ہے کہ آپ کا کردار صحیح ہو جاتا ہے۔ بار بار حاضری سے،سربسجود ہونے سے، سجدے کی قربت سے،اللہ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ دل پر ایک کیف نصیب ہوتا ہے،ایک حضوری نصیب ہوتی ہے۔معیت الہٰی نصیب ہوتی ہے۔ ایک احساس نصیب ہوتا ہے کہ میرا پروردگار ہر جگہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ میرے ساتھ ہے، میرے کردا ر سے واقف ہے۔ لہٰذا بندہ مسلسل اللہ کی اطاعت کرتا چلا جاتا ہے۔ اس کی نافرمانی سے بچنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اللہ کی حضور ی کا کیف گناہ سے بچنے کا سبب بن جاتا ہے۔اگر اللہ کی عبادت بھی کئے جا رہا ہے، نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، جھوٹ بولے جارہا ہے۔نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، سود کھائے جارہا ہے۔ نمازیں بھی پڑھے جارہا ہے، برائی کئے جارہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ عبادت نہیں کررہا، کہیں نہ کہیں کوئی کمی ہے یا اس کا عقیدہ درست نہیں ہے یا عمل سنت کے مطابق نہیں ہے۔ حضور ﷺ کے اتباع میں نہیں ہے۔ کہیں کوئی کمی ہے کہ اس پر نتیجہ مرتب نہیں ہو رہا۔یہی حال ان مبارک ساعتوں کا بھی ہوتا ہے۔لیلۃ القدر ہے یا شب برأت  ہے۔ اگر ان مبارک ساعتوں میں عبادت نصیب ہوتی ہے یا شب بیداری نصیب ہوتی ہے تو اس کا حاصل کیا ہے؟ کیوں شب بیداری کرے؟کیوں رات کو نفلیں پڑھیں؟اور پھر ایسے بندے نے نفلیں کیا پڑھنی ہیں جو فرائض کا تارک ہے؟ نوافل تو زائد ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس اصل سرمایہ ہی نہ رہے تو زائد کیا رہے گا؟ ان کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شب برأت کو شب بیداری کرتا ہے یا نوافل ادا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ وہ فرائض کا تارک نہیں رہے گا۔ اللہ اسے توفیق دے دے گاکہ وہ فرائض قائم کر لے گا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کی توفیق مل جائے گی، اللہ کا اطاعت گزار بندہ بن جائے گا۔
 لیکن ہمار ی بد نصیبی یہ ہے کہ ہم احکامِ الہٰی اور شریعت کو چھوڑ کر رسوما ت کے پیروکار ہوگئے ہیں۔ہم رواجات کو ترجیع دیتے ہیں اور ہماری ہر ادا میں ایک عجیب طلب پنہا ہوتی ہے کہ میرا ایسا کرنے سے میرے بارے لوگ کیا کہیں گے؟ لوگ مجھے پارسا مانتے ہیں کہ نہیں لوگ مجھے نیک مانتے ہیں یا نہیں،لوگوں نے مانا تو کیا ہوگا؟ لوگوں نے نہ مانا تو کیا ہوگا؟اللہ کے ایسے نبی ؑدنیا سے گزرے جنہیں بحیثیت نبی ؑکسی نے تسلیم نہیں کیا بلکہ ظلماً شہید کردیا۔کیا ان کی شان میں کمی آ جائے گی کہ دنیا میں تمہیں کسی نے نہیں مانا؟لوگوں نے تمہیں اچھا نہیں کہا اس لئے تم اچھے نہیں ہو، ہرگز نہیں۔ جنہوں نے نہیں ماناان لوگوں کا نقصان ہوا، ان کا ایمان ضائع ہوا۔انبیاء کی شان میں کوئی کمی نہیں آئی۔حق وہ ہے جو عنداللہ ہے،بارگاہ رسالتﷺ میں قبول ہو، عنداللہ قبول ہوتو وہ قبولیت ہے۔نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِ (العمران:03)فرمایا اللہ نے حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی۔اللہ ایک ہے، جو زندہ ہے، جو قائم ہے اور وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔باقی ساری کائنات اس کی دی ہوئی حیات سے زندہ رہتی ہے۔اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتی ہے اور وہی مالک مختیار ہے،جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی  بِالْحَقِ حق کے ساتھ، واقعیت کے ساتھ،اس کا ایک ایک حرف حق ہے۔ جو حرف بہ حرف سچ ہے۔ جواپنے اندر واقعیت رکھتا ہے یعنی ایسا ہی واقعہ ہو گا جیسا قرآن نے بتا دیا۔اس کے سارے اصول قواعد وابط نزول سے لے کرقیام قیامت تک قابل عمل اور قابل اتباع ہیں۔
آج اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ ساتھ ہمارا رشتہ کمزور ہو گیا ہے۔ اس لئے ہمیں سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ایک دن میرے پاس ایک مہمان آئے۔ ان کے ساتھ دو نوجوان بچے تھے۔ انہوں نے کندھوں تک بال رکھے ہوئے تھے۔ سر کے بالوں کو کندھوں تک بڑھانا سنت نبوی ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ سر مبارک کے بال بڑھتے رہتے، جب کندھوں تک پہنچ جاتے تو حضور ﷺ کان مبارک کی لوؤں تک کٹوا دیتے اور پھر تب تک بال مبارک بڑھتے رہتے۔جب تک کہ وہ شانوں تک پہنچ جاتے۔ مجھے بہت اچھے لگے بال بڑے پیارے لگے،سنت کے مطابق تھے۔ لیکن بچوں نے کیوں رکھے ہوئے ہیں؟کیا سنت سمجھ کر،نہیں بچوں نے اس لئے رکھے ہوئے تھے کہ اہل مغرب اس طرح رکھتے ہیں،یہ ہماری بدنصیبی ہے۔ اگر سنت سمجھ کر رکھتے تودہشت گردکہلاتے،قدامت پسند کہلاتے اور تہذیب سے گئے ہوئے لوگ کہلاتے، غیر مہذب کہلاتے۔نبی کریم ﷺ کی سنت ہے داڑھی مبارک،صرف نبی کریم ﷺ کی ہی نہیں، حضر ت آدم علیہ السلام سے حضور نبی کریم ﷺ تک تمام انبیاء کی سنت ہے۔ہرنبی ؑنے داڑھی رکھی کسی نبی ؑنے شیو نہیں کی۔چونکہ بش کی داڑھی نہیں ہے، اس لئے داڑھی رکھنا تہذیب کے خلاف ہے۔ آج اگر بش داڑھی رکھ لے تو آپ کا یہ سارا جدید طبقہ داڑھی رکھ لے گا۔ لیکن سنت سمجھ کر رکھی جائے تو غیر مہذب ہوجاتا ہے اور سنت سمجھ کر بال بڑھا لویا بال رکھ لو تو غیر مہذب ہوجائے گالیکن تہذیب مغرب نے چونکہ بال بڑھائے ہوئے ہیں اس لیے وہ بڑھانا تہذیب ہوگئی۔جب ہم اس جگہ پہنچ گئے ہیں تو شب برأت منانے سے ہمارا کیا بگڑا؟چار نفلیں پڑھنے سے کیاہو گا؟یہ نوافل سجاوٹ ہوتے ہیں۔جیسے یہ ممبر پڑا ہے، اس پر آپ دو پھول لگا دیتے ہیں، دو بلب لگا دیتے ہیں کوئی اور خوبصورت چیز لگا دیتے ہیں تو یہ سج جائے گا۔ لیکن اصل کا موجود ہے تو وہ سجے گااور اگر اصل کا وجود ہی نہ ہوتو سجاوٹ آپ کہاں لگائیں گے؟ شب برأت ہو یا لیلۃالقدر ہو، یہ ساری نفلی عبادتیں، اس زندگی کی سجاوٹ ہیں جو سنت کے مطابق ہو۔اس شخص کے لئے جو فرائض کا پابند ہو۔ اس شخص کے لئے جو حلال و حرام میں تمیز کرتا ہو۔ اس شخص  کے لئے جو اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر ایمان رکھتا ہو۔اگر درمیان سے اصل چیز ہی نکال دو تو سجاوٹ کس کام آئے گی؟ ہم مکان سجاتے ہیں،اس میں خوبصورت لائیٹیں لگاتے ہیں، اچھے پنکھے لگاتے ہیں،اچھا رنگ وروغن کرتے ہیں،مکان سج جاتا ہے۔ لیکن اگر مکان ہی نہ ہو تو سجاوٹ کس کام کی؟رنگ کے ڈبے خرید کر رکھ لو،بتیاں خرید کر رکھ لو، پنکھے خرید کر رکھ لو،قالین خرید کر رکھ لو،صوفے خرید کر رکھ لو،مکان تو ہے نہیں یہ سارے اخراجات کس کام کے؟
 میرے بھائی! یہ شب برأت بھی اور اس کی شب بیداری اور اس کے نوافل بھی تب ہیں کہ جب ہم اصل کوقائم کریں۔اب رواج یہ آگیاہے کہ اصل کو تو بھول جاؤ، جانے دو،سال بھر سجدہ نہ کرو۔ ایک شب برات کو جاگ لو۔یاد رکھیں ان مبارک راتوں کی عبادت کا بھی ثواب یہ ہے کہ رات کو جاگیں تو صبح عملی زندگی میں توفیق عمل ارزاں ہو جائے۔پھرآپ سمجھیں کہ رات کا جاگنا قبول ہوگیااور اگر صرف رات کو جاگے اور ٹوٹل پورا کرلیاکہ اب اتنی حوریں مجھے مل گئیں۔اتنے محل مجھے جنت میں مل گئے۔ اتنے مکانات مجھے مل گئے۔ میرے بھائی سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے۔ یہ کاروبار نہیں ہے کہ ایک رات آپ نے پیسہ لگایا اور اس پر منافع آ گیا اور کافی ہے۔سال بھر کھا لیں گئے۔ نہیں، یہاں وہ بات نہیں ہے۔عبادت کانتیجہ توفیق عمل ہے اوراگر توفیق عمل ارزاں نہیں ہوتی تو عبادت قبول نہیں ہے۔ 

انسان

انسان کائنات کا محور ہے ، جب محور میں بگاڑ آتا ہے پھر ساری کائنات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔
Man is the pivot upon which the whole universe turns; any corruption within him would corrupt the universe.
Insaan - 1

بندگی

بندگی یہ ہے کہ میں کچھ نہیں ، سب کچھ اللہ کریم کی ذات ہے ۔
Being in a state of servitude to Allah means knowing that i am nothing, Allah is all.
Bandgi - 1

قرارداد پاکستان اور ہماری ذمہ داری

Watch Qrardade Pakistan Aur Hamari Zimadari YouTube Video

زندگی میں سکھ اور سکون کیسے حاصل کریں

Watch Zindgi mein sukh aur sakoon kaise hasil karen YouTube Video

فرائض کی ادائیگی

Watch Faraiz ki Adaigi YouTube Video

آخرت کا انحصار اسی دنیا کی زندگی پر ہے


ہمارا وجود،ہماری زندگی کی ہر سانس اس طرح بسرہو جس طرح ہمارے خالق اللہ کریم چاہیں اور اس کی مرضی کے تحت زندگی کی ساعتیں بسر کرنا ہی مقصد تخلیق ہے اور یہی کامیابی ہے۔آج بھی اگر کوئی اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزارنا چاہتا ہے تو یہ عمل اُسے اُسی زمانہ جاہلیت کی طرف لے جاتا ہے جو آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے تھا۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام فرائض کی ادائیگی کا حکم فرماتا ہے۔انسانی معاشرے میں خوبصورتی تب پیدا ہوتی ہے جب ہر کوئی اپنے فرائض کی ادائیگی کرے اگر فرائض ادا نہ ہوں اور صرف حقوق کی بات ہوگی تو کسی کو بھی اُس کے حقوق نہیں مل پائیں گے۔کیونکہ ایک کا فرض دوسرے کا حق ہوتا ہے اگر سب اپنے فرائض کی ادائیگی کریں گے تو اس طرح ہر ایک کو ان کے حقوق بھی مل جائیں گے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ یہ فانی جہان ہے ابھی فرصت ہے آخرت کا انحصار اسی دنیا کی زندگی پر ہے جہاں انعامات کی بات ہوتی ہے وہاں سزا کا ذکر بھی ملتا ہے۔ہر ایک خود کو جانتا ہے کہ میں صحیح کر رہا ہوں یا غلط کر رہا ہوں ایسا ممکن نہیں کہ کوئی جزا و سزا کے بغیرچلا جائے جس نے جتنا کیا ہوگا اتنا وہ جواب دہ بھی ہو گا،آپ ﷺ کا بنیادی فریضہ حق پہنچانا تھا اور یہ فرض آپ ﷺ نے انتہائی خوبصورتی سے ادا کیا تب سے لے کر آج تک غلط اور صحیح کی پہچان ہر بندے تک پہنچ چکی ہے چاہے کوئی پڑھا لکھا ہے یا ان پڑھ ہے اب یہ ہر ایک کا اپنا اختیار ہے کہ وہ حق کی طرف جاتا ہے یا ناحق اختیار کرتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔ امین 
Akhrat ka Inhisaar isi dunia ki zindgi pr hai - 1

روح کو دنیا میں کیسے بلایا جاتا ہے

Watch Rooh ko dunia main kaise bulaya jata hai YouTube Video

قرارداد پاکستان کے اہم محرکات


وطن عزیز انگریز وں نے مسلمانوں سے لیا تھا اور اصول بھی یہی ہے کہ کوئی قوم جس سے وہ ملک لیا گیا ہو۔اگر اس ملک کی سلطنت چھوڑی جاتی ہے، حکومت چھوڑی جاتی ہے توواپس اس کے سپرد کی جاتی ہے۔لیکن حالات ایسے نہیں تھے۔انگریز برصغیر سے اس لیے گیاکیونکہ اس پر ہندو اور مسلم آبادیوں کا پریشر تھا۔ جب جنگ عظیم برپا ہوئی اس جنگ عظیم نے انگریز کو اس حد تک کمزور کردیا کہ نہ صرف یہاں سے بلکہ دنیا کے بے شمار خطوں سے اسے اپنی فوج واپس بلانا پڑی، وہ کمانڈ نہیں کرسکتاتھا، کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔ علامہ اقبال نے آلہ آباد کے جلسے میں دوقومی نظریہ پر بات کی کہ ہندو مذہب الگ ہے۔ مسلمانوں کا مذہب الگ ہے۔ آج جہاں مینار پاکستان ہے اور اللہ شاہد ہے، شاید میں غلط ہوں، میں سمجھتا ہوں ہمارے بچوں کی کثیر تعدادجو سوائے اس کے کہ یہ ایک  Monumentہے،یہ ایک خوبصورت جگہ ہے، یہ ایک سیر گاہ ہے۔ اس سے آگے کچھ جانتے ہوں کہ اس کی تعمیر میں،اس کی بنیادوں میں کتنی اللہ کی مخلوق ہے۔ جن کا خون اور ہڈیاں صرف ہوئیں؟ہماری آج کی نسل اس کی تعمیرکے فلسفے سے اس طرح آشنا ہی نہیں ہے کہ جس کشت خون پر،جن ظلموں کو سہتے ہوئے افراد نے اس کی بنیادوں میں اپنی زندگیوں کا حصہ ڈالا۔
  بات میں نظریہ پاکستان کے حوالے سے کرنا چاہ رہا ہوں۔23 مارچ 1940کوجو مطالبہ اور Discussion آل مسلم لیگ جو متحدہ مسلم لیگ تھی کے پلیٹ فارم سے دیا گیا۔ میں نے مختلف جگہ سے چنداقتباسات اکھٹے کئے۔ کس نظریے پر ہم نے یہ وطن عزیز حاصل کیاہے؟میں تھوڑا سا وہ حصہ جو اس سے متعلق ہے اختصار سے عرض کرتا ہوں۔ 
  The Lahore Resolution    قراد داد لاہو ر 
The Muslim League helds its annual session at Lahore on 22 to 24 March 1940. The Lahore resolution was moved by Mulvi Fazul Ul Haq and second by Chuhdory Khaleeq Uz Zaman that finally approved on March 24, 1940. Jinah rightly expressed his viewable remarks about the politics circumstances of India 
The muslims stands he said:                                                                                
 آگے وہ الفاظ ہیں جو محترم قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں۔وہ فرماتے ہیں۔
 '' The Indian problem is not tunal but international no consitution can work without recognizing this reality, muslims of India will not accept a constitution that established a Government of Hindu majority on them, if Hindus and Muslims are placed under one democrative system this would means HinduRaj''    
  آگے یہ تحریر لمبی ہے۔اس لئے میں آپ کے سامنے صرف قرار داد کا متن عرض کرتا ہو ں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ
۱۔   وفاقی نظام جو کہ انڈین ایکٹ 1935کے تحت ہو وہ مسلمانوں کونامنظور ہے۔ 
۲۔  کوئی نیا تبدیل کردہ آئینی منصوبہ قابل قبول نہیں۔ جب تک اس کی منصوبہ بندی مسلمانوں کی رضامندی اور منظوری سے نہ ہو۔
۳۔  شمال،  مغرب اور مشرق میں ملحقہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ علیحدہ آزاد مسلمان مملکت بنائی جائے۔ جہاں کا آئین خود مختیار اور آزاد ہو۔
۴۔  مسلم اقلیت کے حقوق کی حفاظت کو اہمیت دی جائے۔
یہ وہ نقاط ہیں جو اس قرارداد کامتن ہیں۔ اس کے ساتھ میں نے عموما ً میڈیا پر یہ دیکھا ہے۔سنا ہے کہ جب وطن عزیز معرض وجود میں آیاتو نفاذاسلام کے لیے جو آج بحث وتمہید ہور ہی ہے۔تب وہ کیوں نہیں ہوئی۔ لیکن اس وقت اس سلسلے میں جو اخذ کردہ نقاط 1956 میں آئین کا حصہ بنے۔ حاضرین محفل ایک لمحے کو ان کو بھی سن لیجئے:
۱۔   حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن اس نے مملکت پاکستان کے سپرد کی، اپنے بندوں کے توسط سے ان اصولوں حدود کے درمیان جو کہ اس نے بیان فرمائے جو کہ ایک متبرک ذمہ داری ہے۔
۲۔  مملکت اپنی طاقت اور حاکمیت اپنے منتخب کردہ بندوں سے چلائے گی۔
۳۔  اسلامی قوانین، جمہوریت،آزادی، مساوات، برداشت اور معاشرتی انصاف کاپوری طرح عمل ہوگا۔ 
۴۔  مسلمان اپنی ذاتی اور اجتماعی طرز زندگی قرآن اور سنت کے مطابق طے کریں گے۔
۵۔  اقلیتوں کو اپنا مذہب اور تہذیب اختیار کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔
۶۔   پاکستان میں ایک فیڈریشن ہوگی۔
۷۔   بنیادی حقوق کی ضمانت ہوگی۔
۸۔اور آخری آٹھوں پوانٹ جسے آئین کا حصہ بنایا گیا تھا۔ قراد داد مقاصد کے متن کو سامنے رکھتے ہوئے۔ عدلیہ آزاد ہوگی۔
یہاں تک جب آپ اور میں پہنچے ہیں تو ضمناً وہ محرکا ت آپ کے سامنے عرض کردوں کہ جن محرکات کی بناء پر حالات اس نہج کو پہنچے۔   تومتحدہ ہندستان میں پاکستان کو الگ اسلامی بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے جومحرکات میں پہلا محرک ہے وہ فرقہ وارانہ فسادات ہے، ملک آزاد ہو گیا، لاکھوں جانیں قربان ہو گئیں اور آج پھر وہی فرقہ وارانہ فسادات؟ پاکستان بنانے کا دوسرا محرک معاشرتی تقسیم تھایعنی معاشرے میں جو مقام ومرتبے کی تقسیم تھی۔چونکہ ہندو مذہب میں انسانوں میں بے شمار درجے ترتیب دئیے گئے ہیں اوریہ ممکن بھی نہیں ہے کہ جو ہندو اعلیٰ درجے کا ہے،اس کے ساتھ کسی ادنیٰ درجے کے ہندو کا ہاتھ یا اس کا کپڑا یا اس کی کوئی چیزمس کر سکے۔ یعنی معاشرتی حالات اور معاشرتی حالات میں وہ حیثیتوں کی تقسیم۔پاکستان کی تعمیر میں تیسرا محرک مسلم زبان و ثقافت ہے۔زبان وثقافت وہ تقابل جو ہمیں قرب عطا کرتا ہے دین محمد الرسول اللہ ﷺ اوراس وطن عزیز میں اپنی ثقافت دیکھیں، ثقافت کے نام پر آج ان اکہترسالوں میں جو بیج ہم نے بویا ہے اس کا درخت کہاں کھڑا ہے؟ کتنا اس کی چھاؤں میں ہم گرمی سے محفوظ ہیں؟ پھر بات آئی دو قومی نظریہ کی جو حضرت علامہ اقبال رحمۃ علیہ نے آلہ آباد کے اپنے خطبہ میں بیان کیا۔ جس نظریے پر ہم نے وطن عزیز حاصل کیا۔ میں یہ سمجھتا ہو کہ جن نظریات پر ہم نے اپنی قوم کو جوان کیا ہے۔ اس میں جذبات بھی بہت شدت رکھتے ہیں۔ Aggression بہت زیادہ ہے اور پھر اوپر سے یہ جتنے points  تھے ان میں کتنی خوشحالی ہم نے حاصل کی ہے؟جو دعوی حق، جو کلمہ حق، جو محبت محمد الرسول اللہ ﷺ کے دعوے دار ہیں اور جس معاشرے میں رہتے ہیں، اس میں ہمارے کردار کا حصہ کہاں تک جا رہا ہے؟ چہ جائیکہ معاشرے کی بات کی جائے۔ پھر آگے جو پانچواں پوانٹ ہے وہ آتا ہے 1937 کی کانگرسی وزارتیں کا۔چونکہ انگریزمسلمانوں کو یہ ملک نہیں دینا چاہتا تھا۔اس نے کانگرس کو طاقت دی۔ کانگرس طاقت کے بل بوتے پر مسلمانوں پر ظلم کرتے تھے۔Reaction  میں ایک حصہ یہ بھی شامل ہے۔چھٹا اور آخری پوانٹ جو میں نے تحقیق کرتے ہوئے محرکات میں اخذ کیا ہے وہ ہے اسلامی نظام کا قیام۔ 
یہ وہ ساری گزارشات ہیں جو 22 تا 24 مارچ 1940 کو علامہ اقبال پارک میں، جس کی یاداشت کے لیے 1960 میں مینار پاکستان تعمیر کیا گیا،جو صرف اس لیے تعمیر نہیں کیا گیا کہ میرے اور آپ کے بچے وہاں سیر کو جائیں۔اس لیے تعمیر کیا گیا کہ ہماری آنے والی نسل اپنے والدین سے یہ سوال کرے کہ بابا یہ کیا ہے؟اوراس کی تعمیر کا مقصد کیا ہے؟وہا ں پر یہ پیش کی گئی اور تقریباً ایک لاکھ افراد کا مجمہ تھا جنہوں نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا۔ 
تاریخی اعتبار سے برصغیر وہ خطہ ہے جہاں دنیا بھر سے جو بھی اقوام اس قابل ہوئیں کہ اپنے ملک سے نکل کر کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کر سکیں۔یہاں پر ہر طرف سے مختلف اوقات میں حملہ آور آئے۔ کیا وجہ تھی؟ یہ وہ خطہ زمین ہے جسے اللہ جل شانہ نے ہرطرح کے موسموں سے نوازا ہے۔ہر طرح کے زمین کے زیروبم سے نوازا ہے اور اس خطہ زمین کے زیرزمین حصے میں ہر وہ شے ہے جو رب العالمین نے اس دنیا میں پیدا فرمائی۔اس خطہ زمین کا گرم پانیوں کے ساتھ بھی جوڑ ہے اور برفستان کے ا ن حصوں میں جو دنیا کے Heighest peak  کے ساتھ بھی اس کا جوڑ ہے۔ اس میں دنیا کی زندگی بسر کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو اکھٹا کرنے کے لیے،ضروریات زندگی کو پیدا کرنے کے لیے،بے پناہ وسائل پیدا کیے۔جب بھی یہاں کوئی ایسا حاکم آیا کہ جس نے ملک تعمیر کیا تو اس نے یہاں پر اتنی ترقی کی کہ دنیا کی اقوام جو اس قابل ہوئیں کہ کہیں سے اگر ہمیں کچھ حاصل ہو سکتاہے۔ حملہ آور ہو کریاچالاکی سے یہاں سے حاصل کرے، وہ اس خطہ زمین تک آئے۔یہ دنیا کی تاریخ ہے۔جتنی بھی یہاں فوج کشی کی گئی، ان سب کا مقصد یہی تھا کہ یہاں سے جو مال و زر ہے وہ اکھٹا کیا جائے۔جس وقت تک ان کے اندر قوت قائم تھی کہ تسلط قائم رکھ سکتے تھے۔تب تک ہر حملہ آور قوم نے یہاں تسلط قائم رکھا۔ 
انگریزکمزور ہوا۔یہ بات صرف 1947 کی نہیں ہے۔ جنگ آزادی لڑنے والوں کے بڑے کارنامے ہیں۔آپ تاریخ کھولیں ان کی باتیں سن کر انسانی وجود کا خون گرم ہوجاتا ہے۔ جنہیں ہم ہی میں سے میر جعفر اور میر صادقوں نے انگریز کے سامنے بیچا اور انہوں نے ڈاکو کہہ کرانہیں قتل کیا اور پھانسیاں لگائیں۔ ان کی زندگیوں کے حالات دیکھو۔وہ اپنے ملک،قوم، اپنے دین کی آزادی کے لیے کس طرح لڑے؟اگر 1857 کی جنگ آزادی کو دیکھ لیں توکتنے لوگ تیغ تیغ ہوئے؟کتنے لوگوں کے سینوں پربندوق کی گولی آکرٹھنڈی ہوئی؟ پھر چلتے چلتے بات جب دو قومی نظریہ پر آئی۔ علمائے کرام بھی ساتھ ہوگئے۔جن میں سے کچھ علماء جیسے ابو کلام آزاد رحمۃاللہ جیسے لوگ، انہوں نے اس بات کی مخالفت بھی کی کہ ایسا نہ کرو،آپ کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔یہ تاریخی حقیقت ہے۔ پریس والے اگر تلاش کریں تو وہ اخبار بھی کسی نہ کسی لائبریری میں ضرور مل جا ئے گا، پورا صفحہ چھپا تھا۔ جب مولانا آزاد لاہور آئے اور ریلوئے سٹیشن پر لوگوں نے  hesitaion  کی،ان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی تو وہ ٹرین سے باہر آگئے۔ انہوں نے فرمایاتم لوگ نعرے لگا رہے ہو۔ میں دین کا مخالف نہیں ہوں۔ لیکن میں سمجھتاہوں کہ ان لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد بھی جس مقصد کو تم جارہے ہو،اس کا حصول مجھے نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ میں شاید زندہ رہوں یا نہ رہوں، یہ بات یاد رکھنا۔
وطن عزیز دین اسلام کے نام پر بننے والی مدینہ منورہ کے بعد یہ دوسری حکومت ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ ہمارے لیے1947  کی ہجرت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں یہ ہجرت ایسے تھی جیسے کوئی ایک شہر سے دو سرے شہر آگئے ہوں۔ہم ان ٹرینوں کے شاہد نہیں ہیں کہ جس ٹرین کا صرف ایک ڈرئیور سلامت پاکستان پہنچا۔ باقی سارے مرد وزن، بچے، بوڑھے، جوان ہر کوئی تیغ تیغ ہوکر راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ بچوں کو نیزوں پر چڑھا کر پاکستان کے نعرے لگوائے گے کہ یہ لواپنا پاکستان۔ حکومتی حساب کتاب کے مطابق چراسی ہزار ہماری بچیاں ہندووں اور سکھوں کے گھروں میں رہ گئیں۔قابل احترام خواتین و حضرات! ایک لمحے کو سوچوتو سہی کہ میں اور آپ اس طرح ہجرت کررہے ہوں۔ نہ ہمارا گھر ہو، نہ ہمارا مال محفوظ ہو، نہ ہماری جان محفوظ، نہ ہماری عزت محفوظ، نہ ہمارے والدین محفوظ، نہ ہماری بیوی محفوظ، نہ ہماری بیٹی محفوظ، نہ ہمارے جگر گوشے محفوظ،نہ اپنے سینے محفوظ ہوں، اس لمحے کو خیال تو کر کے دیکھو۔تصور بھی اگر کرو گے تو انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
  آج جو ظلم ہوتا ہے، اس کا ظلم تو ایک طرف اس ظلم کی تشہیر پورے ملک میں ہم کر رہے ہوتے ہیں۔مجھے اندازہ نہیں ہے میں یہاں آیاہوں تو سلامت گھرواپس جاؤں گا یا نہیں۔کیا اندازہ ہے کہ کسی گاڑی میں بیٹھیں گے تو ساتھ بیٹھنے والا جیب نہ کاٹ لے؟کیا اندازہ ہے کہ کسی چوکی پر جو حکومت کے اہلکار بیٹھا ہے وہ کیا سوال کرے گا؟ وہ اہلکارجو ہماری مدد کے لیے ہیں، جو ٹیکس عوام دیتی ہے، اس سے انہیں تنخواہ ملتی ہے کہ انہیں دیکھ کر آپ کو خوف محسوس نہ ہو۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟ کہ ہم عام آدمیوں کے لیے قانون اور ہو۔ ہمارے بچے تو بھوک سے مریں اور صاحب اقتدارطبقے کے مور مر جائیں تو بھی اس کے لیے ذمہ دار معطل ہوجائیں۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟کہ امیر کا مقام او ر ہو غریب کا مقام اور ہو۔ امیر کی عزت او ر ہو غریب کی عزت اور ہو۔کیا وطن عزیز اس لیے بنایا تھا؟
ہمیں فرقہ وارانہ،نسلی فسادات میں الجھایادیا گیا۔ہمارا معاشرہ ایک دوسرے کو  زیر کرنے میں مصروف ہے۔ آج لوگوں کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺکا فرمان کیا ہے؟ ہم اپنی تخلیق کے مقصد سے کتنے دور جا چکے ہیں؟ محمد الرسول اللہ ﷺ اللہ جل شانہ سے شناسائی عطا کرنے کاواحد ذریعہ ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔  لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ  (الممتحنۃ:(6 بحثیت بندہ مومن راہنمائی کے لیے حضرت محمد ﷺمبعوث ہوئے ہیں۔ہم عاشقان رسول ﷺ کہلاتے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ عشق کرتے ہیں۔ہمارے اعمال جو ہم عملی زندگی میں اختیار کرتے ہیں کیا اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہماری محبت محمد الرسول اللہ ﷺ سے ہے؟ یاد رکھیے جب مسلمان معاشرے حلال و حرام کی تمیز چھوڑ دیتے ہیں توقومیں تقسیم ہو جاتی ہیں اور اس حد تک پہنچ جاتی ہیں کہ ایک ددسرے کے گلے کاٹتے ہیں۔ جب کہ اللہ جل شانہ نے اس دارفانی میں جو بھی مخلوق پیدا کی ہے ان سب میں انسان کواشرف المخلوقات بنایاہے۔
آج کے اس 23مارچ1940 کے دن کے حوالے سے میری صرف اتنی گزارش ہے کہ میرے اور آپ کے پاس ایک اختیار ہے خدارا اس کا خیال کر لو۔میں اور آپ بائیسواں کروڑواں پاکستان ہے۔ میں، آپ کے سامنے اس پاکستان کی بائیسوایں کروڑواں اکائی بیٹھا ہوں۔ میں اور آپ ایک، ایک پاکستان ہیں۔معاشرے افراد سے بنتے ہیں۔خداراہ اس پاکستان کا خیال کرو۔ انشاء اللہ رب العالمین ہمارے اس وطن عزیزکی بھی حفاظت فرمائے۔اللہ جل شانہ مجھے، آپ کو آج کی اس محفل میں حاضر ہونا قبول فرمائے۔یہ توفیق عطا فرمائے کہ میں اور آپ بائیس کروڑواں پاکستان ہیں۔ اس پر اللہ کا قانون نافذ ہو۔ اس کو اس نہج پر چلائیں کہ اللہ کریم مجھے اور   آپ کواس چھ فٹ کے بدن پر نفاذِ اسلا م کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین۔
         کبھی  نور  بانٹتا  تھا  تیرا قافلہ جہان میں             مگر  آج  تیرا مسلم ظلمت میں گھر گیا ہے
          اسے  اک  نظر عطا کر اسے خود سے آشنا کر         یہی  ہے  علاج  اس کا ورنہ یہ مٹ رہا ہے