Featured Events


کردار کی اصلاح


کردار کے اثرات


جہاد


کربلا


نظام الہی


مشائخ سلسلہ اور نسبتِ اویسیہ

ولایت عامہ

اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کے لئے اولیاء اللہ کی اصطلاح استعمال فرمائی ہے اور اس کی وضاحت بھی فرمائی ہے کہ اللہ کے دوست کون ہیں یا اللہ کن کا دوست ہے۔  اللَّہُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا یُخْرِجُھُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ    (الْبَقَرَۃ: 257)   جو لوگ ایمان لاتے ہیں‘ جو لوگ پختہ یقین اور دولت ایمان سے سرفراز ہوتے ہیں‘ اللہ ان کا دوست ہے اور اللہ کی دوستی کا ان کی زندگی پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور ان کی زندگی کا سفر ظلمت سے‘ تاریکیوں سے‘ گناہ سے اور نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف جاری رہتا ہے۔  وَالَّذِینَ کَفَرُوا أَوْلِیَاؤُہُمُ الطَّاغُوتُ    (الْبَقَرَۃ: 257)  جنہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا‘ ان کا دوست طاغوت یا شیطان ہوتا ہے۔  یُخْرِجُونَھُمْ مِنَ النُّورِ إِلَی الظُّلُمَاتِ?     (الْبَقَرَۃ: 257)۔ شیطان کی دوستی کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ان سے نیکی چھوٹتی جاتی ہے اور وہ برائی میں مزید دھنستے چلے جاتے ہیں۔

اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ     (یُوْنس: 62)  یہ اچھی طرح جان لو کہ جو اللہ کے اولیاء ہیں یا دوست ہیں‘ انہیں نہ آئندہ کا خوف ہو گا اور نہ گزشتہ کا دکھ۔ قرآن حکیم کی اصطلاح میں حزن دکھ کو کہتے ہیں جو کسی بات کے ہو جانے پر ہوتا ہے اور خوف کسی ہونے والی بات کا ہوتا ہے‘ آنے والے خدشے کا ہوتا ہے۔ فرمایا:  لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ     (یُوْنس: 62)  انہیں نہ کوئی آئندہ کا خوف ہو گا نہ گزشتہ پر افسوس ہو گا کہ جو گزری وہ اللہ کی اطاعت میں گزری اور جو آئے گی وہ وصول حق کی نوید ہو گی۔ 

اصطلاحاً اولیاء اللہ کا لفظ صوفیوں کے لئے اور ان لوگوں کے لئے استعمال ہونے لگا جنہوں نے ذکر اذکار کے ذریعہ سین? اطہر رسول اللہﷺ سے کیفیات و برکات حاصل کیں۔ ایسے عظیم اور بزرگ صوفیوں کو ولی اللہ یا اہل اللہ کہا جانے لگا۔

حضورﷺ منبع کمالات کُل ہیں 

نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ان تمام صفات کے جامع تھے جو وصال نبویﷺ کے بعد مختلف افراد میں تقسیم ہوئیں۔ زمانہ اطہر میں فقیہ بھی حضورﷺ تھے‘ مفتی بھی حضورﷺ تھے‘ حکمران بھی حضورﷺ تھے‘ سپاہی بھی حضورﷺ تھے‘ گھر کے مالک اور بچوں کی پرورش کرنے والے بھی حضورﷺ تھے‘ تاجر بھی حضورﷺ تھے‘ لوگوں سے معاملات کرنے والے بھی حضورﷺ تھے‘ قرآن بتانا بھی حضورﷺ ہی کا منصب جلیلہ تھا اور قرآن سمجھانا بھی آپﷺ ہی کا منصب جلیلہ تھا۔ سب کچھ جو اللہ کی طرف سے نوع انسانی کو نصیب ہونا تھا‘ وہ ایک ہی ذات میں جمع ہو گیا۔

دین کے شعبوں کی تخصیص

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ اطہر میں اور آپﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے کوئی صحابی فقہ میں مشہور ہوا تو کوئی تفسیر میں‘ کوئی عبادت اور زہد و تقویٰ میں‘ کوئی شجاعت و دلیری میں اور کوئی فاتح اور جرنیل کہلایا۔ یعنی وہ تمام صفات جو آپﷺ کی ذات میں جمع تھیں‘ دوسروں میں ان کی کرنیں نظر آئیں۔ اگر کوئی بہت بہادر بھی ہو تو ایسا بہادر نہیں ہو سکتا جیسے محمد رسول اللہﷺ تھے۔ کوئی بہت بڑا فقیہ بھی ہو خواہ صحابہ کرام میں سے ہو‘ وہ اس طرح کا فقیہ نہیں ہو سکتا جس طر ح حضور اکرمﷺ تھے۔ کوئی بڑا عابد و زاہد بھی ہو تو کما حقہٗ ویسا نہیں ہو سکتا جیسے حضور اکرمﷺ تھے۔ ہاں‘ ان اوصاف کی کرنیں‘ ان تجلیات‘ ان انوارات اور ان برکات کو اپنے آپ میں سمو کر اپنے ہم عصروں میں دوسروں سے ممتاز ہو گئے۔

ولایت خاصہ

ان میں ایک شعبہ ان لوگوں کا بھی تھا جنہیں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے علوم ظاہری کے ساتھ‘ قرآن کریم کی تفسیر و تعبیر کے ساتھ‘ حدیث مبارکہ اور سنت رسولﷺ کے ساتھ‘ اتباع حق کے ساتھ کیفیات قلبی بھی حاصل کیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات بابرکات کے انوارات سے ان کے قلوب میں وہ تبدیلیاں ہوئیں کہ ان کا تزکیہ ہو گیا۔ وَیُزَکِّیْھِمْط  انہوں نے وہ کیفیات‘ جن سے قلوب کا تزکیہ ہو گیا‘ اس قدر حاصل کیں کہ دوسروں میں ممتاز ہو گئے اور ولی اللہ کہلائے۔

جس طرح فقہ کے عام مسائل تو دوسرے لوگ بھی جانتے تھے لیکن کسی نے اتنا کچھ سیکھا کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا بن کر فقیہ کہلایا‘ محدث کہلایا‘مفسر کہلایا‘ اسی طرح ہر وہ بندہ جسے نور ایمان نصیب ہے‘ وہ کسی نہ کسی درجہ میں اللہ کا ولی ہے۔ اللَّہُ وَلِیُّ الَّذِینَ آمَنُوا     (الْبَقَرَۃ: 257)  اس آیت کریمہ میں لفظ  آمَنُوا  میں کوئی قید نہیں ہے‘ جو بھی ایمان لایا اسے ولایت الٰہی حاصل ہو گئی۔ اب یہ اس پر ہے کہ وہ اپنے ایمان پر کتنا عمل کر کے اس ولایت کو مزید پختہ کرتا ہے اور اس طرح اس کا سفر نور کی طرف جاری رہتا ہے یا بدبختی میں آ کر ایسے لوگوں میں شامل ہو گیا جن کا ایمان بھی ضائع ہوا‘ مرتد بھی ہوئے اور دین سے پھر گئے۔ آج کے عہد میں یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں ہے کہ مسلمان گھروں میں کتنے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو دین کو چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔

قرآن بذریعہ توارث پہنچا 

قرآن حکیم ہم تک توارث کے ذریعے پہنچا‘ ایک سے دوسرے کو پہنچا‘ دوسرے سے تیسرے تک پہنچا۔ ہم نے تو نہیں سنا‘ ہم سے پہلوں نے نہیں سنا‘ ان سے پہلوں نے نہیں سنا لیکن صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ واحد جماعت ہے جنہوں نے رسول پاکﷺ سے قرآن سنا اور رسول اللہﷺ وہ واحد ہستی ہیں جن پر قرآن نازل ہوا۔ نزول قرآن کا کوئی دوسرا گواہ نہیں ہے جو کہے کہ میں بھی سن رہا تھا اور یہ آیت ایسے ہی نازل ہوئی تھی‘ ایسا کہنے والا کوئی نہیں ہے۔ حضورﷺ سے صحابہ نے‘ صحابہ سے تابعین نے‘ تابعین سے تبع تابعین نے‘ علیٰ ھذٰا القیاس توارث اور وراثت کے طور پر مسلمان اپنے پہلوں سے حاصل کرتے آئے اور ?لْحَمْدُ لِلّٰہِ  ہمارے پاس مِن و عَن وہی قرآن حکیم ہے جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہوا اور اس کی ترتیب بھی وہی ہے جو نبی اکرمﷺ نے دلوائی۔ آیات کا نزول مختلف مواقع پر ہے‘ سورتوں کا نزول مختلف مواقع پر ہے۔ ترتیب میں بعض مدنی سورتیں پہلے آ جاتی ہیں اور بعض مکی سورتیں بعد میں ہیں۔ بعض مکی آیات مدنی سورتوں میں ملتی ہیں اور بعض مدنی آیات مکی سورتوں میں ملتی ہیں۔ آیات اپنے اپنے موقع محل پہ نازل ہوتی رہیں لیکن جب قرآن مکمل ہو گیا تو اس کی ترتیب خود محمد رسول اللہﷺ نے بتائی۔ ہمارے پاس وہ قرآن ہے جس کی سورتوں اور آیات تک کی ترتیب وہ ہے جو آقائے نامدارﷺ نے دلوائی۔?لْحَمْدُ لِلّٰہِ  ہمارے پاس ہر آیت کا شان نزول‘ اس کا موقع و محل‘ اس کی تاریخ‘ یہ سارا کچھ محفوظ ہے۔

قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ کریم نے لے لیا۔ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ (الْحِجْر: 9)  ہم نے ہی یہ قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے‘ ہم اس کے محافظ ہیں۔ قرآن پاک کی ایک زیر‘ زبر یا نقطہ گھٹایا یا بڑھایا نہیں جاسکا۔ جس کسی نے تحریف کرنے کی کوشش کی وہ قرآن حکیم کے ترجمے میں تحریف کرتا رہا لیکن کسی آیت‘ کسی لفظ کو چھیڑنے کی جرأت کسی کو نہیں ہوئی۔

حدیث کا ذریعہ بھی توارث ہے

اسی طرح توارث سے ہم تک احادیث پہنچیں۔ اب قرآن حکیم اور حدیث نبویﷺ میں ایک فرق ہے کہ حدیث پاک میں اس درجے کا تحفظ نہ تھا جو قرآن حکیم کو حاصل ہے۔ لہٰذا حدیث پاک میں آمیزش بھی کی گئی اور حدیثیں اپنے پاس سے گھڑ کر بھی بیان کی گئیں حالانکہ آپﷺ کا ارشاد عالی ہے مَنْ کَذَّبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّداً فَلْیَتَبَوَّأ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ جس کسی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا‘ اس کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد عالی کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی شخص جو میری ذات پر جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے‘ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے لیکن اس کے باوجود منافقین اور بے دین لوگوں نے دنیا کمانے‘ فرقے بنانے اور لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کے لئے احادیث گھڑیں۔ اللہ تعالیٰ نے حدیث کو بھی تحفظ دیا اس لئے کہ حدیث بھی قرآن ہی کے مفاہیم بیان کرتی ہے اور حفاظت الٰہی کے زمرے میں آتی ہے۔ اللہ نے اگر قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے تو صرف قرآن کے الفاظ کا ذمہ ہی کافی نہیں ہے‘ جب تک اس کے مطالب اور مفاہیم بھی محفوظ نہ ہوں۔ لہٰذا حدیث کے تحفظ کے لئے اللہ کریم نے مسلمانوں کو ایسے ایسے اولوالعزم اور عظیم شخص عطا فرمائے جنہوں نے ایک حدیث کی جانچ کے لئے سترہ فنون ایجاد کئے۔

اسماء الرجال

یاد رہے کہ حدیث کو پرکھنے کے لئے‘ حدیث نبوی کی جانچ کے لئے سترہ فنون ہیں جن میں سے ایک فن اسماء الرجال کا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سوا یہ فن کسی قوم کے پاس نہیں ملتا۔ اسماء الرجال میں حروف تہجی کی ترتیب سے ہر اس شخص کا نام ملتا ہے جس نے حدیث بیان کی۔ پھر صرف نام ہی نہیں ملتا بلکہ یہ تفاصیل بھی ہیں کہ ان کا خاندان کیسا تھا‘ کاروبار کیسا تھا‘ مزاج کیسا تھا‘ لوگوں میں ان کی شہرت کیسی تھی‘ عملاً وہ نیک تھے یا غیر صالح تھے‘ دیانت دار تھے یا نہیں‘ ہمیشہ سچ بولتے تھے یا کبھی جھوٹ بھی بول لیتے تھے۔ یہ ساری تفصیلات اسماء الرجال کی کتب میں موجود ہیں۔ اگر کسی راوء حدیث پر ذرا سا بھی اعتراض وارد ہو جائے تو جب تک کوئی دوسرا مستند اور کھرا آدمی اسی حدیث کو بیان نہ کرے‘ محدثین اس راوی سے حدیث نہیں لیتے۔

امام بخاریؒ نے مدینہ منورہ میں قیام فرما کر احادیث کا سب سے مستند ذخیرہ ''بخاری شریف'' جمع کیا اور ایک ایک حدیث کے لئے آپؒ نے بڑے سفر کئے۔ وہ پیدل چلنے کا زمانہ تھا‘ اونٹ گھوڑے کا زمانہ تھا لیکن جہاں پتہ چلتا کہ کسی ملک میں‘ کسی شہر میں‘ کسی ایک آدمی کے پاس ایک حدیث ہے تو آپؒ وہاں تشریف لے جاتے اور اس سے حدیث حاصل کرتے۔ ایک حدیث کے لئے مصر تشریف لے گئے۔ راوی کو تلاش کیا تو پتہ چلا کہ وہ اپنے باغ یا کھیتی میں ہے۔ آپؒ وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ شخص گھوڑے کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس طرح سے جھولی بنائی ہوئی ہے جس طرح اسے دانہ کھلانے جا رہا ہو۔ گھوڑا اس جھولی پہ آیا تو اس نے گھوڑے کو پکڑ لیا اور جھولی چھوڑ دی۔ امام بخاریؒ واپس چل دیئے۔ اس شخص نے پکارا کہ بھئی کون ہو‘ کہاں سے آئے ہو اور کیوں آئے ہو؟ بنا ملاقات واپس کیوں جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں فلاں شخص ہوں‘ مدینہ منورہ سے آیا ہوں‘ اس لئے آیا ہوں کہ مجھے پتہ چلا تھا کہ تمہارے پاس نبی اکرمﷺ کی ایک حدیث ہے۔ اس نے کہا: ہے‘ آپ آئیں اور سنیں۔ امام بخاریؒ نے فرمایا: نہیں‘ میں نے دیکھا ہے کہ تیرے دامن میں غلہ نہیں تھا‘ تو نے جانور سے جھوٹ بولا۔ ایسے جھوٹے آدمی سے میں نبی اکرمﷺ کے کلمات سننے کو تیار نہیں ہوں۔

مدینہ سے مصر تک کا سفر اکارت گیا۔ فرمایا: یہی حدیث مجھے کسی کھرے اور سچے آدمی سے مل جائے گی لیکن تم سے حاصل نہیں کروں گا۔ اسی لئے ''بخاری شریف'' کو کہتے ہیں  اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتٰابِ اللّٰہِ اَلْبُخَارِی  یعنی قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب ''بخاری شریف'' ہے اور ''صحیح بخاری'' اس کا نام ہے۔ باقی پانچ بھی صحاح ستہ میں معروف ہیں کہ حدیث کی یہ چھ کتابیں صحیح ترین ہیں لیکن پھر بھی ان کا معیار جانچا پرکھا جاتا ہے‘ قرآن کی طرح آنکھیں بند کر کے ان پر یقین نہیں کیا جاتا۔

احادیث کا سلسلہ روایت

ان سب احادیث میں ایک مضبوط سلسلہ روایت کا ہے کہ کس نے یہ حدیث بیان کی‘ اس نے کس سے سنی‘ اس نے کس سے سنی اور اس نے کس سے سنی۔ یہ سلسلہ روایت بالآخر نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام تک جا کر مکمل ہوتا ہے کہ فلاں صحابی نے حضورﷺ سے سنی‘ اس سے اس کے بیٹے یا اس کے شاگرد یا فلاں نے سنی اور اس طرح ہر حدیث کا سلسلہ روایت چلتا ہے تاآنکہ وہ حدیث سلسلہ روایت کے ساتھ کتب حدیث میں محفوظ کر دی گئی۔ پھر ہر کسی نے اس کتاب سے پڑھی۔ یہ سلسلہ روایت احادیث کے بارے میں تحقیق کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے۔ سارے راویوں کے نام اسماء الرجال میں مل جاتے ہیں‘ ان کے حالات اور زمانے مل جاتے ہیں۔ ایک اصول یہ بھی ہے کہ حدیث بیان کرنے والا کب پیدا ہوا‘ کب فوت ہوا اور جس سے روایت کر رہا ہے‘ اس کے زمانے میں تھا بھی یا نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اُس کا وصال پہلے ہو گیا ہو اور یہ شخص بعد میں آیا ہو لیکن روایت کر رہا ہو۔ اس طرح ایک ایک حدیث کی ساری جانچ پرکھ ملتی ہے۔ اللہ کریم نے حدیث کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کے سینے کشادہ کر دیئے اور انہیں ایسے ایسے اہل علم عطا فرمائے جن کا سورج کی طرح روشن علم دنیا کو منور کر گیااور ایک ایک حدیث کی ساری جانچ پرکھ ملتی ہے۔

سلاسل اولیاء کرام بمثل سلسلۂ روایت

اسی طرح سے اولیاء اللہ کے سلاسل بھی چلے۔ جس طرح روایت حدیث ہے‘ اسی طرح جسے شجرہ یا اولیاء اللہ کا سلسلہ کہتے ہیں‘ یہ بھی چلے کہ کس نے کس سے برکات نبویﷺ حاصل کیں‘ کس کی صحبت میں گیا‘ اس نے کس کا زمانہ پایا‘ کہاں اس سے ملا اور اس سے وہ کیفیات قلبی حاصل کیں‘ اسے شجرہ یا سلسلہ کہتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ''انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ'' ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے قریباً ایک درجن سلسلوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر یہ فرمایا کہ صرف یہی سلسلے نہیں ہیں۔ بے شمار لوگوں سے سلسلے جاری ہوئے‘ کچھ ختم ہو گئے‘ کچھ ایسے بھی تھے جو غیر معروف رہے او رکتابوں میں نہ آ سکے لیکن ان تک جو معلومات پہنچیں‘ ان کے مطابق انہوں نے اس کتاب میں ترتیب دے دیئے۔ سلاسل کا طریق یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں حاضر ہو کر سینہ اطہر سے انوارات و کیفیات اپنے سینوں میں انڈیلیں۔ تابعین نے صحبت صحابہ میں رہ کر وہ کیفیات حاصل کیں‘ تبع تابعین نے تابعین سے حاصل کیں۔ اس طرح برکات صحبت نبویﷺ کی ترسیل کا سلسلہ چلا۔ آج جہاں بھی کوئی سلسل? تصوف ہے‘ آپ دیکھیں گے کہ ان کے پاس اپنا شجرہ یا اپنا سلسلہ ہو گا جو ا س بات کا گواہ ہو گا کہ کس نے کس سے برکات حاصل کیں۔


سوال و جواب


خدا شناسی


امتی کی ذمہ داری


سوال و جواب