Featured Events


حقیقت نسبت

Watch Haqeeqat-e-Nisbat YouTube Video

آج ریاست کی محبت،پرچم کا احترام اورملک و قوم کا لحاظ نظر نہیں آتا


ہماری بد قسمتی کہ ہماری تاریخ اغیار لکھ رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو ریاست کی محبت،پرچم کے احترام اور ملک و قوم کے لحاظ سے دور کیا جا رہا ہے۔ہمارے بچوں کو وہ تاریخ نہیں پڑھائی جا رہی جس میں ہمارے مسلمان حکمرانوں نے دنیا پر حکومت کی،مسلمان تو کیا غیر مسلم کو بھی تحفظ دیا ان کے مال جان کی حفاظت کی جن کا انصاف ایسا تھا کہ غیر مسلم بھی ان کے زیر نگیں خود کو محفوظ سمجھتا تھا۔یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا ہمیں ادراک نہیں ہو رہا۔ہمیں حق پر آنے کی ضرورت ہے ہم خود کو دیکھیں کہ ہم نے اپنی میراث چھوڑ دی ہے اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ان سب باتوں کا حل ہے، دین اسلام ہی بتاتا ہے کہ ریاست سے محبت، ملک و قوم کا لحاظ کیا ہے۔اس دنیا کے نظام میں سب سے زیادہ حصہ صاحب ایمان لوگوں کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  علماء کرام کا دینی تعلیمات میں بہت بڑا کردار ہے بہت خدمات ہیں دن رات محنت کر رہے ہیں ہماری آنے والی نسل کو  ظاہری تعلیم دے رہے ہیں۔ اللہ کریم ان کی کوششیں قبول فرمائیں۔اس کے ساتھ ساتھ باطنی تربیت کی بھی ضرورت ہے جس میں صوفیا کا بہت بڑا کردار ہے جو بندے کے ظاہری حصے کے ساتھ اس کی باطنی تربیت بھی کر رہے ہیں کہ بندہ جو بھی کام بھی کرے اس میں اس کا دل بھی ساتھ ہو ہر کام دل سے کرے خلوص سے کرے۔اسی لیے صوفیا کی تربیت شروع ہی دل سے ہوتی ہے۔ نیت دل کا فعل ہے نیت درست ہو گی ارادہ ٹھیک ہوگا تو عمل بھی درست ہو گا۔قرآن و حدیث سے دل کی اہمیت کے بارے پتہ چلتا ہے نزول قرآن کے حوالے سے بھی ارشاد ملتا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو نبی کریم ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا حالانکہ آپ ﷺ کا دماغ بھی دماغ عالی ہے تمام مخلوق سے سب سے اعلی لیکن نزول قرآن قلب پر نازل فرمایا گیا۔انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے دل سے کرتا ہے دماغ تجویز دے سکتا ہے رائے دے سکتا ہے لیکن آخری فیصلہ دل کا ہوتا ہے اس لیے صوفیا کی ساری محنت دل پر ہوتی ہے جب دل ٹھیک ہوتا ہے تو سارا بدن ٹھیک ہو جاتا ہے بندہ دل کی مانتا ہے جب دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ ہر باڈی سیل اللہ اللہ کرتا ہے اور یہی قرآن کریم میں آتا ہے کہ کثرت سے میرا ذکر کرو اس طرح ہی ذکر کثیر بنتا ہے۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے ملک کے طول وعرض سے جمع ہیں اور اپنے شیخ کی صحبت میں اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کر رہے ہیں ابھی یہ اجتماع 11 جولائی تک جاری رہے گا۔
Aaj Riyasat ki mohabbat, parcham ka ehtram avr mulk o qoum ka lehaaz nazar nahi aata - 1

اہل ہدایت


سالانہ اجتماع

Salana Ijtima - 1
Salana Ijtima - 2

ایمان بالآخر


ایمان بالغیب


فرائض نبوت


متقین کے اوصاف


دعا کا سلیقہ

Watch Dua ka Saleeqa YouTube Video

قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے


 قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان
 اللہ کریم نے بندہ مومن کو سورہ فاتحہ میں دعا مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔سورہ فاتحہ پورے قرآن کریم کا حاصل ہے۔اور یہ بھی اسی کی عظمت ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اس کی آیات پڑھنا لازم قرارفرما دیا۔ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ امیر عبدالقدیراعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
 انہوں نے کہا کہ اس سورہ مبارکہ کے آغاز میں اللہ کریم کی تعریف بیان فرمائی گئی ہے جس میں تمام طرح کے کمالات اور خوبیاں اور ہر ایک کی ہر ضرورت ہر جگہ ہر وقت پوری کرنے والی ذات اللہ کریم کی ذات ہے جو رب العالمین ہیں۔اور مہربان اتنے کے کافر بھی آپ کی دی ہوئی نعمتیں استعمال کر رہا ہے۔جو اللہ کریم کو مانتا ہی نہیں اس سے بھی کوئی نعمت نہیں واپس لی۔ ایسی مہربان ذات۔جو حساب والے دن کی مالک ہے کہ ایک دن آئے گا جب ہر کوئی اس کے حضور اپنا اپنا حساب دے گا۔اس کے بعد بندہ اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اپنی کم آئیگی اپنی محتاجی کو ظاہر کرتا ہے اور پھر عرض کرتا ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔بندہ اپنی ہر طرح کی ضرورت اپنے اللہ کریم کے سامنے رکھ دے۔کہ اے میرے مالک میری راہنمائی بھی فرمائیے مجھے ہدایت پر قائم رکھیے اور میری ہر طرح کی مدد فرمائیے اور میں اپنی تمام طرح کی ضروریات آپ ہی کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ آپ ہی سب کے خالق،مالک اور پروردگا ر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورہ فاتحہ دعا بھی ہے دوا بھی ہے یعنی ہرطرح کی آزمائش اور ضرورت پر آپ سورہ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کریم کو چھوڑ دیا جائے اور صرف سورہ فاتحہ ہی پڑھ لی جائے ہم وظیفہ کے لیے راتوں کو اُٹھ کر نوافل پڑھ لیتے ہیں لیکن عشاء کی نماز پڑھنا بوجھ سمجھتے ہیں۔کیونکہ وظیفہ ہم اپنی دنیاوی ضروریات کے لیے پڑھتے ہیں یعنی ہم عبادت بھی وہی کرنا پسند کرتے ہیں جس میں ہمیں دنیاوی فائدہ نظر آرہا ہو۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Quran kareem ka aik aik lafz insaaniyat ke liye Hadayat hai - 1