Featured Events


ذکر کثیر کیسے ممکن ہے

Watch Zikr-e-Kaseer kaise mumkin hai YouTube Video

حلت و حرمت

Watch Hillat-o-Hurmat YouTube Video

ضروریات دین کا جاننا،ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے


خود سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے دینا بہت بڑا ظلم ہے۔اللہ کریم جو ساری کائنات کے خالق ہیں جو اصول انہوں نے عطا فرمائے ہیں کیسے ممکن ہے کہ کوئی ان سے تجاوز کر ے اور پھر بہتری کی اُمید بھی رکھے۔تمام طرح کے اختیارات اللہ کریم کے پاس ہیں اسباب میں نتائج بھی وہی پیدا کرتے ہیں ہم صرف ایماندار ہیں،امین ہیں ہمیں اپنا ہر کام اُسی کے حکم کے مطابق کرنا ہے۔قیامت تک کے لیے اُس کے احکامات قابل عمل ہیں وہ اصول اختیار کیے جائیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ذاتی پسند و ناپسند اختیار کرنے سے انسانی حیات میں شد ت آتی ہے۔ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان  امیر عبدالقدیر اعوان  کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔ 
  انہوں نے کہا کہ اللہ کی یاد اور عبادات بندہ مومن کے لیے تحفظ کا باعث ہوتی ہیں اور اُس کی زندگی میں ٹھہراؤ آتا ہے۔ سکھ اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ تکالیف میں بھی اُس کا دل مطمئن رہتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی رہتا ہے۔یہ ضروری ہے پسند ذاتی کو اللہ کریم کی پسند کے تحت لے آئیں۔کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ سے زندگی آسان ہو جاتی ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شئے دین ہے تو چھوڑی نہیں جائے گی اگر بے دینی ہے تو اپنائی نہیں جائے گی۔نیکی دنیا کی زندگی میں بھی ٹھہراؤ لاتی ہے اور برائی خود بھی گناہ ہے اور معاشرے میں فساد کا سبب بنتی ہے۔یعنی برائی دنیا و آخرت کے لیے نقصان دہ ہے۔  ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔اس عملی زندگی میں جو اللہ کریم نے ارشاد فرمایا ہم کتنا اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ضروریات دین کا جاننا ہر ایک کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔امین
Zaroryaat-e-deen ka janna, har aik ki bunyadi zimma daari hai - 1

اطلاع برائے ملاقات

Itla Bara-e-Mulaqat - 1

دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع دارالعرفان منارہ

Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 1

ریاست مدینہ کے اصول حصہ دوئم (ماہانہ اجتماع)


دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع دارالعرفان منارہ

Watch Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara YouTube Video
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 1
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 2
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 3
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 4
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 5
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 6
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 7
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 8
Mahana Rohani Ijtima Dar ul Irfan Munara - 9

کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے


کسی بھی معاشرے کا انحصار انصاف پر ہے۔انسانی معاشرے کا توازن عدل سے قائم ہے۔عدل انسانی معاشرے کی بنیاد ہے جب ہم یہاں خرابی کریں گے تو اس سے سار ا معاشرہ خراب ہوگا اور یہی بے انصافی فساد کا سبب بنے گی۔ کسی چیز کا عین اُس کے مقام پر ہونا انصاف کہلاتا ہے اورکسی بھی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا بے انصافی ہوتی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ وسربراہ تنظیم الاخوان پاکستان دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جزا و سزا کا یقین ہی بندے کو جرم کرنے سے روکتا ہے۔ جزا و سزا معاشرے میں بڑی بنیاد ی حیثیت رکھتی ہے اگر معاشرے سے جزاو سزا کا تصور ختم ہو جائے تو پھر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس معاشرے کی حالت کیسی ہوگی۔ریاست مدینہ کی جب بات آتی ہے تو آپ ﷺ کے نافذ کردہ قوانین میں عدل ہر ایک کے لیے تھا اور مساوات کے ساتھ تھا،آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی بھی چوری میں پائی جائے گی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ سچ بولنا مومن کی نشانی ہے۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فلاں جگہ سچ بولنے سے میرے تعلقات خراب ہوجائیں گے فلاں ناراض ہو  جائے گا۔یہ طریقہ درست نہیں ہے اور اس بات کا بھی خیال رکھا جائے سچ بولنا ہے سچ مارنا نہیں ہے۔مقصد سچ کو اختیار کرنا ہے اگر ہم سب سچ بولیں گے تو معاشرے میں سچائی آئی گی۔سچ کی برکت سے معاشرے سے،گھروں سے دھوکہ ختم ہو گا برائی ختم ہوگی۔ہمیں اللہ کریم سے کیا ہوا عہد جو ہم نے کلمہ توحید پڑھ کر کیا تھا اُسے صدقِ دل سے نبھانے کی ضرورت ہے اور اس عہد کو نبھانے کا طریقہ اتباع رسالت ﷺ ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Kisi cheez ka ain uss ke maqam par hona insaaf kehlata hai - 1

رسم و رواجات دین نہیں ہے

Watch Rasm-o-Rawajat Deen Nahi hai YouTube Video

استطاعت اور اختیار رکھتے ہوئے گناہ سے بچے رہنا، جہاد اکبر ہے


دین اسلام محض رسم و رواجات کا نام نہیں ہے۔بلکہ احکامات دین جو کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں انہیں اختیار کرتے ہوئے زندگی بسر کرنی چاہیے،اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ہم اپنی پسندسے دین میں کوئی بھی چیز شامل نہیں کر سکتے ایسا کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب بندہ اپنی انا اور ضد کورد کر کے اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اس طرح اس نے اپنے آپ سے انصاف کیا۔اور اگر اُس نے اپنی من گھڑت باتوں سے جن کی کوئی سند نہیں،مخلوق کو گمراہ کیا اور غلط راستے پر چلایا یہ ایسا ظلم ہے جسے قرآن کریم بہت بڑا ظلم فرماتا ہے۔اپنی پسند سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال جان لینا درست نہیں ہے اس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے فساد پیدا ہوتا ہے۔ہر چیز اللہ کریم کی پیدا کی ہوئی ہے وہ اس کائنات کے خالق اور مالک ہیں حلال اور حرام کا تعین بھی اُسی کی طرف سے طے کردہ ہے۔اصولی بات یہ ہے کہ کسی بھی عمل کو اختیار کرنے کی سند یہ ہے کہ اس میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے کیا فرمایا ہے۔
  یاد رہے کہ 7،6  مارچ کو دارالعرفا ن منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں اتوار دن گیارہ بجے حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب اور اجتماعی دعا فرمائیں گے۔اس کے علاوہ اجلاس جنرل کونسل بھی منعقد ہوگا جس میں سلسلہ عالیہ اور الاخوان کے ذمہ داران بھی شرکت کریں گے۔اس اجلاس میں ڈی جی خان،بہاولپور اور ملتان کے ڈویژن کی خصوصی شرکت ہوگی۔
Istetat aur ikhtiyar rakhtay hue gunah se bachay rehna, Jehaad Akbar hai - 1