Featured Events


دین اسلام کے تمام قوانین قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں


 دین اسلام کے تمام قوانین قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں اور یہ اصول ایسے ہیں کہ ان کے اطلاق سے معاشرے میں توازن قائم ہوتا ہے اورجرائم نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔آپ ﷺ نے چوری کی سزا پر ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا ہے لیکن افسوس کہ آج ہمارے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے اس پر اعتراض ہورہے ہیں جو کہ صریح گستاخی ہے۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے ہم خود آگ جلائیں اور پھر اس میں ٹھنڈک کے بھی منتظر ہوں۔حضرت امیر عبدالقدیراعوان مدظلہ العالی کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب ۔
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز اسلام کے نام پر بنا ہے لیکن ہمارے قومی اسمبلی،سینٹ اور پارلیمانی اداروں میں اسلامی سزاؤں پر اعتراضی پہلو میں بات ہورہی ہے یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ حدود قیود اللہ کریم نے خود متعین فرما دی ہیں ان میں کسی ایک پر بھی اعتراض کرنا درست نہیں۔چوری کی سزاپر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو اس کے بھی ہاتھ کاٹے جاتے پھر دوسرا کون ہے جو اس سزا سے بچ سکتا ہے۔یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم عدل میں مساوات قائم کرتے ہوئے قانون کا اطلاق کریں۔اور غیر مسلم معاشروں کے قوانین اور اصولوں سے راہنمائی لینے کی بجائے اسلام کے اصولوں کا مطالعہ کریں اور ان پر عمل کیا جائے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت مسلمان اللہ کریم کے ہر حکم کی بجا آوری ہی میں ہماری کامیابی ہے جہاں بھی ہم اپنی مرضی کرتے ہیں وہاں شیطان کے طریقے پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔جو کہ ہمیں دنیا میں بھی رسوائی کی طرف لے کر جاتا ہے اور آخرت بھی خراب ہوتی ہے۔اس وقت تصوف کے نام پر جو خرافات معاشرے میں ہورہی ہیں یہ تصوف نہیں ہے بلکہ یہ گمراہی ہے ایسے لوگ خو دبھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
 
Deen Islam ke tamam qawaneen qayamat tak ke liye qabil amal hain - 1

مسلمانی کیا ہے

Watch Muslmani kia hai YouTube Video

ملکی مسائل کا حل

Watch Mulki Masail ka Hall YouTube Video

نیت کی اصلاح کا طریقہ

Watch Niat ki islah ka tareeqa YouTube Video

ملکی مسائل کا حل

Watch Mulki Masail ka Hall YouTube Video

وضو

ہمیشہ با وضو رہنے والا انسان آفات،مصائب،بلیات،جادو،نحوست اور برے اثرات سے محفوظ رہتا ہے 
A person who is always in ablution is protected from clamities,adversities,sufferings,magic,negativity and evil influences.
Wuzoo - 1

ماہانہ اجتماع و دفاع وطن

Live Biyan

Watch Mahana ijtima aur difa-e-watan YouTube Video
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 1
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 2
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 3
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 4
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 5
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 6
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 7
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 8
Mahana ijtima aur difa-e-watan - 9

یوم دفاع پاکستان

Watch Yome Diffa Pakistan YouTube Video

اسلامی جمہوریت

Watch Islami Jamhooriat YouTube Video

بھائی کو بھائی پر والدین کو اولاد پر اور خاوند کو بیوی پر اعتبار نہیں ہے


جمہوریت اور ہمارے ہاں رائج جمہوری نظام کی اساس یہ ہے کہ کثرت رائے کو اہمیت دی جائے لیکن آپ کے مبارک دور میں فیصلے کثرت رائے کے مطابق نہ ہوئے۔غزوہ بدر جو برپا ہوا وہ کثرت رائے کے مطابق نہ تھالیکن اُن قلیل عظیم ہستیوں پر اللہ کریم نے فرشتوں کا نزول فرمایا۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس بات کی رائے کس سے لے رہے ہیں۔اگر کسی ایسے بندے سے رائے لی جائے جوشعبہ امن کا ماہر نہ ہووہ گمراہی میں لے جائے گا۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں اس وقت منتخب حکومت جمہوریت کے تحت وجود میں آئی۔لیکن اس نظام میں ایک بہت بڑا سُقم یہ ہے کہ ہمارے ملک میں نظام حکومت چلانے والے جتنے ذمہ دار ہیں ان کے لیے کوئی ایسے پیمانے مقرر نہیں ہیں جس کے تحت وہ اگر پورے ہوں تو وہ اس اسمبلی میں آسکتے ہیں۔ اگر باقی تمام شعبوں کے لیے معیار،حدود و قیود مقرر ہیں تو پھر ایسے افراد جنہوں نے نظام حکومت کو چلانا ہے ان کے لیے کوئی معیار مقرر نہ ہے۔جب اس سارے سسٹم کے مطابق لوگ ہمارے اوپر حکومت کریں گے جو کہ ان شعبہ جات کے ماہر نہ ہوں گے تو پھر نتائج جو ہم آج بھگت رہے ہیں وہ ہی ہوں گے زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم باہر سے منگوا رہے ہیں وہ گنا جو کوڑیوں کے بھاؤ سے کسان سے خریدا جاتا ہے لیکن چینی کی قیمت آسمان کو چھور ہی ہے۔یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے نظام حکومت کے لیے کوئی معیار مقرر نہیں کیا ہوا۔آج جہاں ملکی سطح پر ہم مشکل کا شکار ہیں وہاں جب ہم معاشرے سے گھر تک اور پھر خاندان تک آتے ہیں تو دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ بھائی کو بھائی پر والدین کو اولاد پر اور خاوند کو بیوی پر اعتبار نہیں ہے۔تو اس کا سبب کیا ہے؟ سبب یہ ہے کہ ہم اپنی خواہشات نفس کے اسیر ہو چکے ہیں،غیبت میں مبتلا ہو چکے ہیں،اس سے آپس میں محبت کی بجائے نفرت بڑھتی ہے اور آپس میں فاصلے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
  یاد رہے کہ 6 ماہ بعد کورونا مرض کے بعد اب 6,5 ستمبرمیں روحانی تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں آپ کا بیان 6 ستمبرکو یوم دفاع کے موضوع پر ہو گا۔جس میں ملک کے طول و عرض سے خواتین و حضرات شرکت کریں گے۔
 

Bhai ko bhai par walidain ko aulaad par aur khawand ko biwi par aitbaar nahi hai - 1