Featured Events


تمام عبادات کا دارومدار خالص نیت اور خشوع و خضوع پر ہے


سلاسل تصوف میں ساری محنت قلوب کی اصلاح پر کرائی جاتی ہے۔تمام عبادات کا دارومدار خالص نیت اور خشوع و خضوع پر ہے۔خشوع و خضوع کا حصول اور نیت کو خالص کرنا اللہ اللہ کی تکرار سے ہی ممکن ہے۔
شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان  کا  برمنگھم (انگلینڈ)  دارالعرفان میں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم نے اپنے اوپر رحمت کو لازم فرما لیا ہے اسی لیے اللہ کریم نے رحمت اللعالمین مبعوث فرمائے۔اللہ کریم اپنی مخلوق کو محبوب رکھتے ہیں اگر کوئی اللہ کی مخلوق پر زیادتی کرے گا اسے اس کا حساب دینا پڑے گا۔فرائض نبوت میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ  مخلو ق کو پاک کرتے ہیں ان کا تذکیہ فرماتے ہیں۔جتنی بھی کسی میں ناپاکی ہو جب وہ صدق دل سے کلمہ طیبہ پڑھتا ہے تو تمام ناپاکی اس سے ختم کر دی جاتی ہے۔ہم اپنے تمام فیصلے دل سے کرتے ہیں جو فیصلہ دل کرتا ہے ہم وہی کام کرتے ہیں وہ اچھا ہو یا برا۔جب دل پاک ہوتے ہیں جب ان میں اللہ کے نام کو بسایا جاتا ہے پھر خواہش ذاتی نہیں بلکہ اللہ کا حکم مقدم ہوجاتا ہے۔جب تذکیہ نفس کی بات آئے گی پھر بات دل کی آئے گی جہاں نور ایمان ہے جو کفیات کا گھر ہے۔یہ صرف خون سپلائی کرنے والی مشین نہیں ہے بلکہ اس کے اندر ایک لطیفہ ربانی ہے۔اسے درست کرنے کی ضرورت ہے اسے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔جو کیفیت دل میں ہوگی اس کا اثر پورے وجود پر پڑے گا جس میں سوچ سے نگاہ اور نگاہ سے لے کر ہر ایک فعل شامل ہے۔
یاد رہے کہ شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان برطانیہ کے روحانی دورہ پر ہیں جہاں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز سے خطاب کر رہے ہیں برمنگھم میں بھی اسی نسبت سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں حضرات و خواتین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی جس میں بڑی تعداد پاکستانی کمیونٹی کی تھی۔اس کے علاوہ ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی شرکت کی۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔
tamam ebadaat ka dar-o-madar khalis niyat aur Khashoo o Khazoo par hai - 1

سراجا منیرا کانفرنس لندن

Siraj Moneera Conference London - 1
Siraj Moneera Conference London - 2
Siraj Moneera Conference London - 3
Siraj Moneera Conference London - 4
Siraj Moneera Conference London - 5
Siraj Moneera Conference London - 6

سراجا منیرا کانفرنس لندن


کامیابی کی بنیاد نورایمان ہے


ہمارے نزدیک کامیابی کے مختلف معیار ہیں۔کوئی دولت کے حصول کو کامیابی سمجھتا ہے کسی کی کامیابی کا معیار اقتدار کا حصول ہے،کسی کی نظر میں طاقت کا ہونا کامیابی ہے۔یہ تمام کامیابیاں ختم ہونے والی ہیں۔قرآن کریم کی روشنی میں اصل کامیابی اللہ کریم کی واحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی بعثت پر ایمان لانا ہے۔اس کامیابی کا حاصل یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھال لیں۔
نبی کریم ﷺ سے محبت دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی کا سبب ہے۔آپ ﷺ کی محبت سے ہمیں وہ روشنی عطا ہوتی ہے کہ ہم حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔ ہمیں اپنے ایمان کی مضبوطی کو چانچنے کے لیے جو شرائط قرآن کریم میں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں پہلی شرط خشو ع و خضوع کے ساتھ نماز کی ادائیگی ہے۔کہیں ہم معاملات دنیا کے لیے اپنی نماز تو نہیں چھوڑ رہے؟ جو ایمان والے ہیں ان کی شرط تو یہ ہے کہ وہ نماز بھی ادا کرتے ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عبادات میں ہمارا شوق اور جذبہ کیسا ہے؟نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے بچوں کو نماز کی ترغیب دیں اور ان کی عمر کے ساتھ ساتھ اس ترغیب کو بڑھایا جائے۔
شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان  کا  لندن (انگلینڈ)   میں سراجا منیرا کانفرنس میں حضرات و خواتین سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ تعلیمات محمد الرسول اللہ ﷺ پر عمل کرنے کے لیے کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔  تعلیمات محمد الرسول اللہ ﷺ پر اتنا یقین ہو کہ ہمارے اعمال اس یقین کی شہادت دیں۔اللہ کریم نے نبی کریم ﷺ کی جو شان بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ سراجا منیرا ہیں یعنی ایسا روشن چراغ جس سے پوری مخلوق کو روشنی (حق) نصیب ہو تی ہے۔ہمیں جو امتی کا رشتہ نصیب ہوا ہے یہ اللہ کریم کا بہت بڑا احسان ہے۔جب کیفیات کی بات آئے گی پھر سلاسل تصوف کی بات ہوگی۔صدری علوم کی بات آتی ہے جو سینہ بہ سینہ چلتے ہیں۔اللہ کریم فرماتے ہیں جو میرے لیے محنت کرتا ہے میں اس کے لیے راستے کھول دیتا ہوں۔نبی کریم ﷺ سے محبت صرف منانے کے لیے نہیں بلکہ اس منانے کو عمل تک لانے کی ہے۔اپنے ہر عمل کو اس لیے کیجیے کہ اللہ کا حکم ہے اور اس طریقے سے کیجیے جس طرح نبی کریم ﷺ نے کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
آخر میں انہوں نے ذکر قلبی کی اہمیت پر بات کی اور حاضرین محفل کو طریقہ ذکر قلبی سکھایا۔اور اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ اس کانفرنس میں سالکین سلسلہ عالیہ اور ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ جناب ضمیر اعوان،نجم چوہدری،عامر گل،چوہدری اشفاق ٹوبہ اور حافظ فرحان بھی شامل تھے۔
kamyabi ki bunyaad Noor e Eman hai - 1

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی کا سالانہ روحانی تربیتی دورہ یوکے اور یورپ

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ العالی اپنے سالانہ روحانی تربیتی دورہ یوکے و یورپ کے لیے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوگئے۔
اس موقع پر ائیرپورٹ پر اسلام آباد و راولپنڈی ڈویژن کے ذمہ داران جن میں خلیفہ مجاز راولپنڈی ڈویژن محمد ارشد، جنرل سیکرٹری چوہدری طارق، سیکرٹری فنانس طارق اعوان، صدر الاخوان اسلام آباد امجد علی ملک، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان امجد محمود اعوان کے علاوہ وابستگانِ سلسلہ عالیہ اور عقیدت مندوں نے آپ کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
دورہ یوکے و یورپ کا باقاعدہ آغاز جمعہ 11 اپریل 2025 کو لندن کی مرکزی مسجد (Heathrow Central Mosque) سے ہوگا، جس میں حضرت شیخ المکرم جمعہ کا خطاب فرمائیں گے۔
اس دورہ کے تحت برطانیہ و یورپ کے مختلف شہروں میں "سراجاً منیراً کانفرنسز" کے تحت عظیم الشان روحانی اجتماعات منعقد ہوں گے۔ جن شہروں میں یہ پروگرام ہوں گے اُن میں لندن، برمنگھم، مانچسٹر، نیلسن اور بریڈ فورڈ شامل ہیں۔ ان اجتماعات کا مقصد شرکاء کو ذکر اللہ کے ذریعے روحانی تربیت فراہم کرنا اور بطریقِ اویسیہ سیرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات سے روشناس کرانا ہے۔
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ان مخصوص پروگراموں کے علاوہ انفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں عامۃ الناس خصوصاً نوجوان شرکت کر کے انفرادی و اجتماعی رہنمائی حاصل کریں گے۔
یہ سالانہ دورہ ترویجِ برکاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ملنے والی عظیم زمہ داری کا حصہ ہے، جس کے تحت حضرت شیخ المکرم مدظلہ العالیٰ تزکیہ نفس اور باطنی تربیت کے پیغام کو قریہ قریہ، شہر شہر، دنیا بھر میں عام فرما رہے ہیں
Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan's Visit UK & EUROPE 2025 - 1

روحانی تربیتی دورہ برطانیہ اور یورپ 2025

UK & EUROPE TOUR 2025 - 1

کوئی محفل جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے ذکر کے بغیر ہو روز محشر اس کے بارے سخت سوال ہو گا


حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کی چکوال آمد پر اہلیان چکوال،دوست احباب اور احباب سلسلہ نے والہانہ استقبال کیا۔حضرت شیخ المکرم کو چکوال آمد پر پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے اور پھولوں کے ہار بھی پہنائے گئے اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے حضرت کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے استقبال کرنے والوں سے گاڑی سے اتر کر مصافحہ کیا۔تمام احباب نے حضرت جی کو اپنے درمیان پا کر انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔استقبال کرنے والوں میں قاضی عمیر عزیز،ملک حفیظ انجم،محمد ارشد صدرالاخوان راولپنڈی ڈویژن اور امجد اعوان سیکرٹری اطلاع تنظیم الاخوان پاکستان کے علاوہ کئی افراد نے شرکت کی۔
  انہوں نے خان پور میں اعوان برادری کی ایک نجی محفل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی محفل جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ کے ذکر کے بغیر ہو روز محشر اس کے بارے سخت سوال ہو گا۔آپ ﷺ کی ذات مجسم رحمت ہے اور یہ واحد در ہے جو تمام نیک اعمال کے لیے یہاں سے راہنمائی لینا ضروری ہے۔یاد رکھیں اللہ کی مخلوق میں انسان کو اشرف المخلوقات بنایا سب اولاد آدم ہیں۔یہ ذات اور برادریوں کی تقسیم اللہ کریم نے مختلف دنیاوی امور کی سر انجام دہی کے لیے بنائے ہیں۔اللہ کے نزدیک وہی محبوب اور محترم ہے جو تقوی کے لحاظ سے بہتر ہے۔اعوان قوم کی نسبت حضرت علی ؓ سے ہے۔اعوان کا مطلب مددگار ہے۔ہمارا قبیلہ جہاں انفرادی طور پر مثبت کردار ادا کررہا ہے وہاں ملک و قوم کی سلامتی اور ترقی کے لیے بھی اپنا ایسا کردار ادا کریں کہ جیسا ہمارے اجداد نے ملک و قوم اور دین کی سربلندی کے لیے اپنے خون اور جانوں کے نذرانے دے کر ادا کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی وہ ذمہ داری جو مجھے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے سونپی ہے پوری کوشش کے ساتھ ملک پاکستان اور پوری دنیا تک پہنچاؤں۔آسٹریلیا سے لے کر افریقہ اور یو کے اور یورپ کے تمام شہروں میں ان برکات نبوت ﷺ کو پہنچاؤں   اللہ کریم اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائیں۔
  آخر میں حضرت کو ملک وسیم کرامت اور اعوان برادری کی طرف سے شیلڈ پیش کی گئی اور دعا کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پزیر ہوا
koi mehfil jo Allah aur Allah ke habib  ke zikar ke baghair ho roz Mahshar is ke baray sakht sawal ho ga - 1

درود شریف ایسی دعا ہے جسے اللہ کریم ہمیشہ قبول فرماتے ہیں


 آپ ﷺ پر ہر لمحہ اللہ کریم رحمتیں نازل فرما رہے ہیں۔اللہ کریم نے اپنے آپ پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔اللہ کریم کو معاف کرنا بہت پسند ہے۔رمضان المبارک کے عشرہ جات سے نکل کر جہاں رحت، بخشش اور جہنم کی آگ سے آزادی کا پروانہ ملا ہم شوال میں داخل ہو گئے ہیں تو ہماری زندگیوں میں اس رمضان المبارک کی چاشنی آنے والے رمضان المبارک تک رہنی چاہیے۔رمضان المبارک کو رخصت نہ کریں بلکہ رمضان المبارک کی کیفیت کو ہمہ وقت اپنے ساتھ رکھیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر عمل یا فرمانبرداری ہے یا نافرمانی ہے۔فرمانبرداری یہ ہے کہ ہماری پسند و نا پسند اللہ کریم کی پسند و ناپسند میں ڈھل جائے۔اسی کو صوفیا فنا فی اللہ کہتے ہیں۔فنا بقا شعبہ تصوف میں بہت بلند مقام ہیں۔بعض صوفیا نے لکھا ہے کہ فنا بقا شعبہ تصوف کی تکمیل ہے لیکن ایسا نہیں جو یہاں سے آگے نہ جا سکے انہوں نے اسی کو کُل سمجھ لیا لیکن یہ یقینی بات ہے کہ اس سے آگے بہت سی منازل ہیں۔حضرت جی ؒ فرمایا کرتے تھے کہ جب بندہ یہاں پہنچتا ہے تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ منازل سلوک کو چل سکے۔لیکن اس کیفیت کا حاصل بھی نیت اور عمل ہے اور نیت اور عمل اسی زندگی میں جہاں اپنا وقت بسر کر رہے ہیں۔جیسی کسی کی نیت اور عمل ہو گا ویسے نتائج ملیں گے۔
 اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان رواں ماہ برطانیہ اور یورپ کا روحانی تربیتی دورہ کریں گے جہاں برطانیہ کے تمام بڑے شہروں میں سراجا منیرا کانفرنسز کا انعقاد ہوگا جس میں حضرت خطاب فرمائیں گے۔اس کے علاوہ وہاں پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Duroood shareef aisi dua hai jisay Allah kareem hamesha qubool farmatay hain - 1

تعمیل حکم

Watch Tameel e Hukm YouTube Video

عید وہ خوشی کا دن ہے جسے اللہ کریم نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا۔


 حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے عید کا دوسرا دن اپنی فیملی اور دوستوں کے ہمراہ مرکزدارالعرفان منارہ میں گزارا۔مہمانوں کی تواضع مٹھائی اور چائے سے کی گئی اس کے بعد شاندار لنچ دیا گیا جس میں دیسی اور روایتی کھانے شامل تھے۔  
اس موقع پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا جو خاندانی نظام چلا آ رہا تھا جو بہت حد تک بگڑ چکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اُس خاندانی نظام کو بحال کیا جائے اور خاندان کو جوڑا جائے۔نفرتوں کی بجائے خوشیا ں شیئر کی جائیں۔خاندان کے جتنے بھی مسائل ہوں وہ اسی نظام کے پلیٹ فارم کے تحت مل بیٹھ کر حل کیے جائیں چہ جائیکہ عدالتوں اور کچہریوں میں ان معاملات کو لے جایا جائے خاندان کے کسی بڑے کے پاس بیٹھ کراپنے خاندانی معاملات کو حل کیا جائے اس خاندانی نظام کی ہمارے معاشرے میں اشد ضرورت ہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ عید وہ خوشی کا دن ہے جسے اللہ کریم نے مسلمانوں کے لیے پسند فرمایا۔وہ خوشی،خوشی نہیں رہتی جس کے ضابطے نہ ہوں۔نبی کریم ﷺ نے اس خوشی کو اختیار فرمایا ہماری راہنمائی فرمائی۔جو لوگ زیادتی کرتے ہیں ان کے چہرے پر بھی خوشی آتی ہے۔وہ لوگ جو ظلماً کسی سے کچھ چھین لیتے ہیں کامیابی پر وہ بھی خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔جب تک اصول اور ضابطہ نہ ہو خوشی،خوشی نہیں ہو سکتی۔حقیقی خوشی کا اصول اور ضابطہ اللہ کریم کا حکم ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔
  اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطافرمائیں
Eid woh khushi ka din hai jisay Allah kareem ne musalmanoon ke liye pasand farmaya  - 1