Latest Press Releases


آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بد بخت ہیں


 آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب بد بخت ہیں۔ چاہے وہ دنیا کے کسی حصے میں ہو یا وطن عزیز میں جو دین اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا۔لیکن ہمارے جذبات ہمارا غصہ آپ ﷺ کے احکامات کے تابع ہیں۔جہاں آپ ﷺ کا حکم ہے جان دینے کا وہاں اپنی جان پیش کرنا عین دین ہے اور جہاں جان لینے کا حکم ہے وہاں پر جان لینا دین اسلام ہے۔اس سے باہر اگر کوئی اپنی مرضی سے ایسا کرتا ہے تو وہ اپنی خواہش کا اسیر ہو کر قدم اُٹھا رہا ہے۔جو دین اسلام کے خلاف ہے۔اسلام ہمیں کسی جانور کو بھی نقصان نہ پہنچانے کا درس دیتا ہے چہ جائیکہ کسی انسان کی جان لی جائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن کا ماہانہ اجتماع کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ریاست مدینہ کی جب بنیاد رکھی تو وہ مواخات مدینہ یعنی مہاجرین و انصار کے آپس میں بھائی چارے کے قیام کی بنیاد تھی جس سے معیشت کی مضبوط بنیاد  وجود میں آئی آج ہمارا ملک جو کہ اس کرہ ارض پر دین اسلام کے نام پر وجود میں آیا ہے ہم مہاجرین و انصار لڑ رہے ہیں ہم نے وہاں سے سبق حاصل نہیں کیا۔دوسرابنیادی اقدام میثاق مدینہ یعنی قانون اور عدل کا قیام آج ہم دونوں پر عمل نہیں کر رہے تو ہماری معیشت کیسے مضبوط ہوگی۔ہم نے دنیا کے قوانین اپنانے کی کوشش کی لیکن وہ نظام عدل جو کہ آپ ﷺ نے ہمیں دیا اس کو نہ اپنایا تو پھر لاقانونیت کا خاتمہ کیسے ہوگا۔وطن عزیز میں ہونے والے اس نا خوش گوار واقعہ نے ہر ایک کے جذبات کو مجروح کیا ہے ہمارے تمام اعمال دین اسلام کے خلاف ہیں اور بحث جو ہر فورم پر ہو رہی ہے اس کا نشانہ بھی اسلام کو رکھا گیا ہے 
 دیکھنا یہ ہے کہ اس سب کا سبب کیا ہے اس کے کونسے محرکات ہیں جس سے یہ سب کچھ عمل میں آیا۔اسلام اس بنیادی جواز کو ختم کرتا ہے اور یہ درس دیتا ہے کہ اپنی ذات سے نکلنے کی ضرورت ہے حکومت وقت کو چاہیے کہ اس واقعے کے پیچھے جو سبب ہے اس کو ختم کیا جائے اور مساوی عدل کا قیام عمل میں لایا جائے۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
  یاد رہے کہ 7 دسمبر 2017 کو عظیم ہستی حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ کا وصال ہوا جنہوں نے تصوف کے اس بہر بیکراں کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا اور آج ہم ان کیفیات و برکات سے سر شار ہیں یہ ان کا ہمارے اوپر بہت بڑا احسان ہے۔وہ ایک عظیم مفسر قرآن،مترجم قرآن،شاعر،ادیب اور بے شمار کتابوں کے مصنف تھے۔اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائیں ان کے وصال کے بعد ان کے مقرر کردہ جانشین حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی نے اس مشن کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنایا اور ان کے تمام شعبوں کو مزید فعال کر کے دن رات اس مشن کو لے کر چل رہے ہیں۔
Aap SAW ki shaan mein gustaakhi ke murtakib badbukhat hain - 1

اللہ کریم کے احکامات کو جاننا اور پھر ان پر عمل نہ کرنا فسق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔


 اللہ کریم کے احکامات کو جاننا اور پھر ان پر عمل نہ کرنا فسق کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔آج معاشرے میں معاشی تنگی اور معاشرتی افراتفری کا سبب آپ ﷺ کے ارشادات کو جانتے ہوئے سمجھتے ہوئے اپنی عملی زندگی میں اختیار نہ کرنا ہے۔ہمارا کہنا کتنا ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو جب تک ہمارا عمل اعلیٰ نہ ہوگا معاشرے میں مثبت نتائج مرتب نہ ہونگے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اجتماعی خرابی اوپر سے شروع ہو کر ایک اکائی تک آتی ہے جو کہ انفرادی طور پر میرا اور آپ کا کردار ہے۔جب درستگی یہاں سے شروع ہو گی تو پھر معاشرے میں وہ امن اور سکون آئے گا جس کی بنیاد آپ ﷺ نے ریاست مدینہ میں رکھی تھی اور اس  کے بنیادی اصول آپ ﷺ نے فرما دئیے تھے۔قول و فعل کے تضاد سے نکل کر اپنے رزق کے اسباب تک کو اسلام کے مطابق کرنا ہو گا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں نفسا نفسی کی وجہ ضرورت سے زائد مال جمع کرنا ہے۔ حلال حرام کی تمیز کیے بغیر حق نا حق دیکھے بغیر ہر کوئی اس کوشش میں ہے کہ جو کچھ بھی میرے ہاتھ لگ جائے اس کو جمع کر لوں یہاں سے فساد شروع ہو تا ہے اور یہ سمجھ لینا کے رزق میں اپنے زور بازو حاصل کر رہا ہوں چاہے اس رزق کے لیے کسی کا حق کھانا پڑے کسی پر ظلم کرنا پڑے یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بدولت معاشرہ افراتفری کا شکار ہے۔
  یار رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 5,4 دسمبر بروز ہفتہ،اتوار  دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی اتوار دن گیارہ بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔تمام خواتین و حضرات کو دعوت عام دی جاتی ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لے تشریف لائیے۔
Allah kareem ke ehkamaat ko janna aur phir un par amal nah karna fisq ki soorat ikhtiyar kar jata hai . - 1

صاحب ایمان پر یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے کہ وہ اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتا ہے اور نتیجہ جو بھی ہو اس پر راضی رہتا ہے۔


دین کا ظاہری پہلو ہو یا باطنی ان میں سے کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں ہے بلکہ دین اسلام ذریعہ معاش کی حقیقت سے آگاہ فرماتا ہے۔اللہ کریم کی ذات رازق ہے اور ہر ایک کا رزق اس کی پیدائش سے پہلے تقسیم فرما دیا ہے۔ہمیں صرف اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے اور نتیجہ اللہ کریم کے دستِ قدرت میں ہے۔مخلوق حاکم نہیں ہوتی بلکہ خالق کی ماتحت ہوتی ہے حکم صرف اللہ کریم کا چلے گا جو ساری مخلوق کا مالک ہے۔اگر ہمیں سجدہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے تو یہ ہماری خوش بختی ہے اس پر تکبرکرنے کی بجائے مزید شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کریم نے توفیق عطا فرمائی۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
 انہوں نے کہا کہ جس نے انکار کیا اور شکر ادا نہیں کیا اس نے خود پر ہی ظلم کیا۔صاحب ایمان پر اللہ کا بڑا کرم ہے کہ بندہ اپنا معاملہ اللہ کریم کے سپرد کر دیتا ہے۔ہو گا وہی جو میرا اللہ چاہے گا بندے کو چاہیے کہ صبر کے وقت صبر کرے اور شکر کے وقت شکر ادا کرتا رہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے جس کا مفہوم ہے کہ عاجزی اور بخشش کو اپنے اوپر لازم کر لو تو تمہیں اور زیادہ ملے گا۔یعنی دنیا و آخرت میں فراخی ہوگی سہولت ہو گی۔آج بھی جو فرد یا قوم اس اصول کو اپنا ئے گی آج بھی اس کا نتیجہ وہی ہو گا جو چودہ سو سال پہلے ارشاد فرمایا جا چکا۔اپنے آپ کو نیکی کی طرف لے آؤ تو آج بھی کامیابی تمہاری ہو گی۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں 
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sahib imaan par yeh Allah ka karam hota hai ke woh apna maamla Allah ke supurd kar daita hai aur nateeja jo bhi ho is par raazi rehta hai . - 1

بندہ مومن کے لیے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات ہی حتمی بات ہے


کسی نعمت کا نصیب ہونا اور اس کا شکر ادا نہ کرنا سزا تک لے جاتا ہے یہاں تک کہ وہ نعمت بھی سلب کی جا سکتی ہے۔ نا شکری دنیا میں مصائب میں مبتلا کر دیتی ہے۔اور نعمت کا شکر ادا کرنا بدگمانی سے بچاتا ہے اور اللہ کریم کے مزید انعامات کا سبب بنتا ہے۔دنیا و آخرت کی کامیابی اسی میں ہے کہ ہر حال میں اللہ کریم کا شکر ادا کیا جائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سر براہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی کامیابی دین اسلام میں ہے،اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ میں ہے،بندگی میں ہے۔یہ حیثیتیں یہی رہ جائیں گی جن پر ہم بحث کر رہے ہوتے ہیں۔یہ ثانوی درجہ پر چلی جائیں گی۔اجتماعی توبہ کرنے سے قومیں اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں تقدیر معلق بدل دی جاتی ہے عذاب ٹال دئیے جاتے ہیں۔جہاں اختیار ہوتا ہے وہاں صبر اختیار نہیں کیا جاتا جو اساتذہ ہیں ان کے لیے صبر بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ کریم نے استاد کا درجہ عطا فرمایا پھر اپنے مقصد کو دیکھیں اپنے کردار کو دیکھیں کہ مجھ سے ایک طبقہ مستفید ہو رہا ہے کہیں میرے کردار میں کوئی کمی نہ ہو اگر سخت مزاجی صرف استاد اور شاگرد کے رشتہ میں ہی ہے اور باقی زندگی کے کسی شعبہ میں نہیں تو یہ درست نہیں ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Bandah momin ke liye Allah aur Allah ke rasool SAW ki baat hi hatmi baat hai - 1

اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نادم ہوتے ہوئے اللہ کے حضور توبہ کریں


 اس وقت بہت بڑی نافرمانی جو کہ مجموعی طور پر ہم سے سرزد ہو رہی ہے وہ سودی معیشت ہے جس کو حکومت وقت سے لے کر عام آدمی تک اختیار کیے ہوئے ہے۔ہمارے اوپر جتنی بھی مشکلات اور تکالیف ہیں چاہے وہ بد امنی کی صورت میں ہو،مہنگائی ہو یا باہم دست و گریباں ہونا ان سب کی وجہ ہمارے اپنے اعمال ہیں جن کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ہم نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں نیک اعمال بھی کر رہے ہیں اور حرام بھی کھا رہے ہیں ایسے میں ہمارے سجدوں کی شرف قبولیت کیا ہوگی۔بحیثیت مجموعی ایک سقوط ہے کوئی بھی غلط کو غلط نہیں کہہ رہا۔سب اپنی ذات کو بچانے کی فکر کر رہے ہیں۔ معاشرے میں جو اُلجھاؤ اور تضادات ہیں ان کی درستگی کے لیے کوئی قدم نہیں اُٹھایا جا رہا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کریم کو دیکھنا،چھونا،پڑھنا اور عمل کرنا اجروثواب ملتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے راہنمائی لی جائے اور اپنے کردارکوکے اس کے مطابق ڈھالا جائے۔خود کو صرف دنیا کے حوالے کر دینا مقصد حیات نہیں ہے مقصد حیات اللہ کی رضا ہے۔یہ عارضی اور فانی جہان ہے ہر گزرنے والے دن کے اثرات ہم پر مرتب ہوتے ہیں ہماری زندگی شہادت دے رہی ہے کہ وقت گزر رہا ہے۔کتاب الٰہی عمل پیرا ہونے کے لیے ہے ہماری ذمہ داری ہے ہم دین کو سیکھیں،سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ساری کامیابی اور ہدایت اس اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔بنیادی بات یہ ہے کہ اپنے اللہ کے حضور توبہ کریں یہ احساس غالب آئے کہ جو میں نے کیا غلط کیا شرمندگی محسوس ہو ندامت ہو اور سچے دل سے اللہ کریم سے توبہ کی جائے ہم اپنی پسندو نا پسند کو جب اللہ کے حکم کے مقابل لاتے ہیں یہ درست نہیں اللہ کے حکم اور اللہ کی پسند پر زندگی گزارنی چاہیے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Apni ghaltion aur kotahiyon par nadim hotay hue Allah ke huzoor tauba karen - 1

نبی کریم ﷺ سے محبت، ماہ و سال کی قید سے آزاد ہے


 پوری دنیا میں ماہ مبارک ربیع الاول میں نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار،عقید ت کا اظہار کیا جاتا ہے اور مختلف انداز میں محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔لیکن آج ربیع الثانی میں محفل کے انعقاد نے اس بات پر مہر ثبت کی ہے کہ اس اظہا ر محبت کوماہ و سال میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ آپ لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں۔کیونکہ آپ ﷺ سے اُمتی کے رشتہ کو کوئی لمحات قید نہیں کر سکتے۔بندہ مومن کی زندگی کا لمحہ لمحہ بھی اس محبت میں گزرے تو بھی کم ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا او جی ڈی سی ایل اسلام آبادمیں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کا بہت بڑا احسان کہ ہمیں بعثت محمد الرسول اللہ ﷺ سے نوازا۔نبوت کی ابتداء جو کہ حضرت آدمؑ سے ہوئی اس کی تکمیل بعثت عالی ﷺ سے ہوئی۔نبی کریم ﷺ کو سراج منیرا فرمایا گیا اور تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔کائنات کا وجود اللہ کریم کی رحمت سے ہے یعنی ہرچیز کی بقا اللہ کریم کی رحمت کی مرہون منت ہے اور اللہ کریم نے آپ ﷺکی ذات اقدس کو باعث رحمت پیدا فرمایا تو بات بہت بلند ہو جاتی ہے اور جہاں بات اتنی بلند ہو وہاں رواجات کا دخل نہیں ہوتا۔یہاں ایسی ہی محبت درکار ہو گی کہ ماہ مبارک تو گزر گیا لیکن ہمارے ثناخواں آج بھی نبی کریم ﷺ کی تعریف کر رہے ہیں آپ ﷺ کی عظمتیں بیان کر رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے محبت کا اظہار کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جو حدودو قیود اللہ کریم نے مقرر فرمائی ہیں وہ انتہائی ضروری ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کا احسان کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کا اُمتی پیدا فرمایا۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں اللہ کریم سے شناسائی عطا فرمائی کہ ذات باری تعا لٰی کیا ہے،اللہ کریم کی واحدانیت کو کیسے ماننا ہے،اللہ کریم کس بات پر راضی ہوتے ہیں کس بات کو نا پسند فرماتے ہیں۔ہم دعوی عشق مصطفے ﷺ کرتے ہیں لیکن کیا ہمارے اعمال ہمارا کردار اس بات کی شہادت دے رہا ہوتا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے عاشق ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ دعوی عشق بھی چلتا رہے اور زندگی کے معاملات میں ہم اس روش کا شکار ہو جائیں جو روش معاشرے میں چل رہی ہو ہمارے امور دنیا سے پتہ چلنا چاہیے کہ یہ بندہ مومن ہے اس کا تعلق اس کااُمتی کا رشتہ نبی کریم ﷺ سے کتنا مضبوط ہے اتباع رسالت ﷺ کس درجہ کا نصیب ہے۔زندگی کے ایک ایک پہلو میں وہ ادائیں نظر آنی چاہیے جو آپ ﷺ نے ہمیں سکھائیں ہیں۔ہمارے تعلقات،ہمارا لین دین ہمارا اُٹھنا بیٹھنااُس اخلاق کریمہ کی جھلک ہوں جو آپ ﷺ نے مخلوق کو سکھائیں۔تو پھر دیکھیں کہ اس معاشرے میں کیسی اخوت پیدا ہو تی ہے کیسی محبت پیدا ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بندہ مومن جب اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کے لیے برذخ میں سلامتی ہو گی،روز محشر سلامتی ہو گی اس سب کی بنیاد عشقِ مصطفے ﷺ ہے۔آئیں اس معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کریں۔کلام ذاتی ہماری راہ ہو،محمد الرسول اللہ ﷺ ہماری طاقت ہو۔اللہ کریم ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔ 
Nabi kareem SAW se mohabbat, mah o saal ki qaid se azad hai - 1

حضرت محمد ﷺ سے ہماری محبت تمام محبتوں پر حاوی ہو تو ایمان کامل ہوتا ہے


سب سے بنیادی چیز اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ہمیں اپنی ترجیہات دیکھنے کی ضرورت ہے اپنی نیت کو دیکھیں کہ اس ارادے سے کیا مقصود ہے۔بنیاد اللہ کی رضا ہے اور اس کا راستہ اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ہے۔جس درجہ کا بندگی کا تعلق نصیب ہو گا اس درجہ کی حقیقت سمجھ آتی چلی جائے گی کہ کس کام کو اختیار کرنا ہے اور کس کام کو چھوڑنا ہے۔
  انہوں نے کہا کہ صحابہ کرام ؓکی وہ جماعت ہے جنہیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی۔جن کے سوالات کے جوابات ان کی زندگی میں قرآن کریم میں نازل فرمائے گے۔یہ وہ ھستیاں ہیں جو رہتی دنیا تک مخلوق کے لیے دین اسلام پر عمل پیرا ہونے کے لیے نمونہ ہیں۔دین اسلام دین فطر ت ہے زندگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فرماتا ہے۔معمولات دنیا کے ہر سوال کا جواب ارشاد فرماتا ہے تب جا کر فطری تقاضے پورے ہوتے ہیں اور عملی صورت تک بات پہنچتی ہے۔اللہ کریم تو فیق عطا فرمائیں کہ ہم خود کو اس کے سپرد کر دیں یہ مقام ایسا ہے جہاں تحفظ نصیب ہوتا ہے۔خود کو اللہ کے سپرد کر دو وہ خوب جانتا ہے کہ کس کے لیے کیا بہتر ہے۔
  کیفیات قلبی پر انہوں نے بات کر تے ہوئے کہا کہ خالص اللہ کی یاد کے لیے جمع ہونا بہت بڑی بات ہے۔اللہ کی یاد کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے۔قرآن کریم میں صبح شام اللہ کی یاد کا حکم ہے۔صبح شام کی یاد بندہ کو دوامی کیفیت میں لے جاتی ہے۔اور بندہ غفلت سے نکل آتا ہے اور جتنا اللہ کی یاد سے دور ہوتا چلا جائے گا اتنا  غفلت کا پردہ اس پر پڑتا جائے گا۔غفلت بہت نقصان دہ چیز ہے۔اطاعت راسخ ایمان کا سبب ہے۔قرآن کریم میں کوئی حکم عمومی نہیں ہے۔یہ رب العالمین کا کلام ہے یہ عمومی کیسے ہو سکتا ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Hazrat Mohammad SAW se hamari mohabbat tamam mohabbaton par haawi ho to imaan kaamil hota hai - 1

مہنگائی حد درجہ سے تجاوز کر گئی ہے


موجودہ مشکل حالات میں غریب آدمی کا گزارہ انتہائی مشکل اور تکلیف دہ ہو گیا ہے۔جب ہم  اپنے لیے نمائندہ منتخب کرنے کے لیے  بااختیار ہوتے ہیں تو ہمارا معیار صرف یہ ہوتا ہے کہ یہ بندہ کتنا میرے ذاتی معاملات میں کام آسکتا ہے۔ تھانے کچہری کے معاملات میں میری مدد کر سکتا ہے یا نہیں چاہے اُسے ساری زندگی بھی تھانے کچہری کا دروازہ نہ دیکھنا پڑے۔ہمارا ووٹ ہی حکومت کو وجود میں لاتا ہے تو آج نتائج اسی کے مطابق ہوں گے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ہر شئے کی قیمت آسمانوں سے بات کر رہی ہے۔غریب آدمی کا جینا دوبھر ہو گیا ہے اس موقع پر غور کرنے کی ضرورت یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے حکومتی نمائندے کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کی سابقہ زندگی پر غور نہیں کرتے کہ کیسی ہے کتنا نیک ہے کتنا اسلام کا پابند ہے،ہمارا معیار مختلف ہوتا ہے اسی وجہ سے ہمیں ایسے نتائج کا سامنا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ ہم واپس پلٹیں اور آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے زندگی کو اسلام کے مطابق لے آئیں۔اس میں ان شاء اللہ بہترین طرز حیات ہو گی۔
 آخر میں انہوں نے ملکی موجودہ صورت حال میں بہتری کی دعا کی۔
Mehengai had darja se tajawaz kar gayi hai - 1

ماہ ربیع الاول و بعثت عالی ﷺ اللہ کریم کا وہ احسان ہے جس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے


اللہ کریم خود بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں فرشتوں کو حکم ہے کہ آپ ﷺ پر درودوسلام بھیجیں اور مومنین کے لیے بھی یہ سعادت ہے کہ آپ ﷺ پر درود کا تحفہ پیش کریں۔ یہ عمل التجا ہے اور اللہ کریم کی طرف سے عطا کا سبب ہے۔اس عشق اور اظہار محبت کوہم ماہ و سال میں قید نہیں کر سکتے بلکہ یہ عمل ہر لمحے اختیار کرنے کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں رحمۃ اللعالمین کانفرنس سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارک مجسم رحمۃ اللعالمین ہے۔ساری کائنات اور اس کا ذرہ ذرہ خاک سے لے کر تمام مخلوقات آپ ﷺ کی مرہون منت ہیں ہمارا دعوی محبت جو آپ ﷺ سے ہے دم واپسی تک نصیب ہو اور روزمحشر کی سختی سے ہمیں محفوظ فرمائے۔روز محشر تمام انبیاء ؑ کی درخواست پرآپ ﷺاللہ کے حضور دعا فرمائیں گے کہ حساب شروع کیا جائے یہ ہمارے لیے سعادت ہے کہ ہم آپ ﷺ کے اُمتی ہیں اس وطن عزیزمیں جہاں ہر طرف ہم بے اتفاقی اور انتشار کا شکار ہیں وہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں اور آخرمیں دعا ہے کہ اس بابرکت محفل کے منتظمین کی کاوش کو اللہ کریم قبول فرمائیں۔
  پروگرام کے آخر میں مہمان خصوصی کو بار کی طرف سے اعزازی شیلڈ دی گئی۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کی طرف سے سیشن جج  راولپنڈی آصف مجید اعوان کو بھی اعزازی شیلڈ پیش کی گئی اور ان کے علاوہ تمام بار کو بھی ایک اعزازی شیلڈ سے دی گئی۔ 
اس بابرکت پروگرام کا انعقاد رالپنڈی بار ایسوسی ایشن اور خصوصی طور پر محترم رضوان اختر اعوان صدر راولپنڈی بار ایسوسی ایشن،عمران یوسف خاں نیازی سیکرٹری جنرل پنڈی بار ایسوسی ایشن ضیاء کیانی سیکرٹری جنرل الاخوان لائر ونگ شامل ہیں۔
Mah Rabiey-ul-awwal o bassat Aali SAW Allah kareem ka woh ahsaan hai jis ka jitna shukar ada kya jaye kam hai - 1

آپ ﷺ سے اُمتی کے عظیم تعلق کو رواجات کی نذر نہ کیا جائے


حضرت محمد ﷺ کی بعثت عالی جب اس کراہ ارض پر ہوئی تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا اور حق بیان کرنے والی واحد ذات آپ ﷺ کی تھی عالمین کے لیے اللہ کریم نے آپ ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آج ہم کیا اس عہد کی تکمیل کر رہے ہیں جو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ماہ ربیع الاول کو اظہار محبت کے لیے مخصوص نہیں کرنا چاہیے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اور زندگی کے ایک ایک لمحے کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق گزارنا ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا بھمبر آزاد کشمیر میں جلسہ بعثت رحمت عالم ﷺ کے موقع پر بہت بڑے اجتماع سے خطاب۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت معاشرے میں اضطراب اور بے چینی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے مفاد اور ذات کو مقدم رکھ لیاہے جس کی وجہ سے ہم نے اس نظریہ اسلام کو پس پشت ڈال دیا جو ہمیں دوسروں کے لیے قربانی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔اور جس طرح تسبیح کے دانے ایک جان ہوتے ہیں بلکل اسی طرح ہمارا معاشرہ اتحاد و اتفاق اورمحبت و یگانگت کی مثال بن سکتا ہے۔یاد رہے کہ حضرت امیر عبدالقدیرا عوان کا شعبہ تصوف ہے جس کے تحت وہ ملک کے طول و عرض میں ان برکات کو پہنچا رہے ہیں جو قلب اطہر ﷺ سے آ رہی ہیں اور بندے کا ظاہر و باطن ایک کر دیتی ہیں۔اور وہ اپنے ہر عمل میں اپنے آپ کو اللہ کے روبرو دیکھتا ہے۔اور یہ کیفیات کا بہر مخلوق خد ا تک پہنچانے کی ذمہ داری حضرت امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے اپنی زندگی میں عطا کر دی تھی۔اور یہ ایسا بابرکت سفر ہے جو آپ ﷺ کی طرف ہے۔اس عظیم الشان پروگرام کا انعقاد ڈویژنل صدر آزادکشمیر لطیف بٹ صاحب اور صوبیدار منظور صاحب نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کیا۔خصوصی طور پر گوجرانوالا ڈویژنل صدر عبدالحمید چھینہ صاحب،محمد اکرم اویسی صاحب مجاز گجرات،ہیڈ ماسٹر محمد خاں دارالعرفان منارہ مرکز،ضمیر اعوان صاحب مجاز یو کے علاوہ امجد اعوان سیکرٹری اطلاعات نے خصوصی شرکت کی
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کے لیے اجتماعی دعا فرمائی۔
Aap SAW se Ummati ke azeem talluq ko Rawajaat ki Nazar nah kya jaye - 1