Latest Press Releases


مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے


مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے۔اچھائی کرتے ہوئے بھی یہ خیال رکھیں کہ میری نیکی سے دوسرے کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی۔اگر کوئی گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے گا تو ممکن ہے کہ اسے توبہ نصیب ہو جائے اور اگر کوئی گناہ کو ثواب سمجھ کر کرتا رہے گا عبادت سمجھ کر کرتا رہے گا تو اس سے توبہ کی توفیق بھی سلب ہو جاتی ہے۔دین اسلام کے ظاہری طور پر ماننے کے ساتھ ساتھ دل کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
      انہوں نے مزید کہا کہ جھوٹا،عہد توڑنے والا اور امانت میں خیانت کرنے والا پکا منافق ہے۔نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ملتا ہے کہ جس میں یہ تین عادات پائی گئیں وہ پکا منافق ہے ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ان میں سے کوئی عادت تو نہیں جب ہم بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اگر کسی سے وعدہ کریں تو کیا اسے پورا کرتے ہیں اور کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کلمہ طیبہ ایسا انعام ہے،ایسا رشتہ ہے،ایسا اللہ کریم سے وعدہ ہے اس میں جتنی کوئی خیانت کرے گا اس کے معاملات اتنے خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ساری خرابیاں دین اسلام سے دوری کی وجہ سے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی اعلی اخلاقی قدریں اگر ان کا جائزہ لیں تو وہ دین اسلام کے اصولوں پر مبنی ہیں۔شجرو ہجر آپ ﷺ پر درود و سلام پیش کرتے لیکن جس مخلوق کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا،کلام ذاتی نازل فرمایا گیا یہ کتنی بڑی عطا ہے۔اگر اس کے باوجود کوئی ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس نے بہت بڑا اپنا نقصان کیا اس نے جیسے تجارت میں نقصان ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر کہ اصل بھی گنوا بیٹھایعنی ہدایت کے بدلے  گمراہی خرید لی۔قرآن کریم ایسے لوگوں کی مثال یوں بیان فرماتے ہیں کہ جیسے کسی کو روشنی عطا ہو اور پھر وہ سلب کر لی جائے تو پہلے سے بھی زیادہ اندھیرا محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی پسند کی۔
حق کا اختیار کرنا دنیا و آخرت میں فائدہ کا سبب ہوتاہے راحت کا سبب ہوتاہے حق کا چھوڑنا حق کے مقابل آنے کے مترادف ہے جس سے دنیا و آخرت میں تکلیف ہو گی۔اللہ کریم ہمیں حق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
Musalman ke qoul o feal se makhlooq ko faida milna chahiye - 1

اُمت مسلمہ آج علاج سے لے کر دنیاوی ضروریات تک غیر مسلم کی محتاج ہے


چودہ صدیوں کی دوری نے ہمارے قلوب پر وہ پردہ ڈال دیا ہے جس نے ہمیں ہر پہلو سے کمزور کر دیا ہے وہ جماعت جو دوسروں کے لیے معالج اور معاون تھی اتنی لاچار ہو گئی ہے کہ علاج سے لے کر اپنی دنیاوی ضروریا ت کے پورا کرنے کے لیے بھی غیر مسلم کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ گھٹا یہ گرد جو ہمارے قلوب پر پڑ چکی ہے اسے اللہ کے ذکر کے ساتھ اتارا جا سکتا ہے یہی اس کا واحد علاج ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ اجتماع کے اختتامی بیان اور اجتماعی دعا کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔یہ ہر ایک کا اپنا فیصلہ ہے کہ ہر کوئی اپنا اعمال نامہ خود تیار کر رہا ہے۔اس میں کانٹے اور آگ بھر رہا ہے یا دودھ اور شہد کی نہریں لکھ رہا ہے۔جس طرح کے ہمارے اعمال ہوں گے ویسیے ہمارا اعمال نامہ تیار ہو گا۔نبی کریم ﷺ کفار کے لیے اس قدر رنجیدہ ہوتے کہ جیسے آپ ﷺ ان کے دکھ میں اپنی جان ہی دے دیں گے توآپ ﷺ مومنین کے لیے کتنا درد رکھتے ہوں گے جنہوں نے آپ کا کلمہ پڑھا ان کے لیے کتنے سوچتے ہوں گے اور جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں جنہوں نے گھر بار چھوڑ دیے آپ ﷺ کا ان کے ساتھ کیسا رشتہ ہوگا۔کیسی محبت ہوگی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دعا کرنا بذات خود اتنی بڑی اللہ کریم کی عطا ہے کہ بندے کو اپنے اللہ کریم سے کلام کرنا نصیب ہوتاہے۔بندہ کیا مانگ رہا ہے وہ کیا عطا کر رہا ہے ان باتوں سے ہٹ کر کیا یہ نعمت کم ہے کہ اللہ کریم سے ہم کلامی نصیب ہوئی اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عطا ہوا۔ جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اپنے لیے اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر آئے گا۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہمارا ایک ایک عمل جس سے ہم اپنی آخرت تیار کر رہے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ بارگاہ الہی میں پیش بھی کیا جا سکے  اس لیے ہمیشہ اللہ کریم سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے جس کا انداز اللہ کریم نے خود فرمایا ہے کہ ہمہ وقت اپنی عاجزی کے ساتھ درگزر،بخشش اور رحم کے طلب گار رہنا چاہیے اور اللہ کریم کو معاف کرنا پسند ہے جتنا بھی کوئی گناہ گار ہو اللہ کریم کی رحمت کو عاجز نہیں کر سکتا۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج اختتامی بیان ہوا اور اجتماعی دعا بھی ہوئی جس میں ملک بھر سے بہت بڑی تعداد میں سالکین نے شرکت کی اور اپنے قلوب کو منور کیا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی اور کورونا وبائی مرض سے حفاظت کی بھی دعا فرمائی۔
Umt-e- Musalmah aaj ilaaj se le kar dunyawi zaroriat tak ghair muslim ki mohtaaj hai - 1

اسلامی اصول جہاں بھی نافذ ہوں گے وہاں عدل ہوگا


ریاست اسلامی میں قانون اور اس کا نفاذ معاشرے میں استحکام پیدا کرتا ہے،ریاست مضبوط ہوتی ہے اور آپس میں اتفاق اور ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔جب ہم اپنے ذہن اور عقل سے تیار کردہ قواعدو ضوابط اختیا ر کرتے ہیں تو وہ فساد کا سبب بنتے ہیں۔اسلامی اصول جہاں بھی نافذ ہوں گے وہاں عدل ہوگا اورجتنا اسلامی اصولوں سے باہر ہوں گے اتنا فساد ہوگا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ ہم مخلوق ہیں ہمارا علم قلیل ہے خالق بہتر جانتے ہیں کہ کیا ہمارے لیے بہتر ہے نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی صدیاں گواہ ہیں کہ جو اصول اللہ کریم نے آپ کو عطا فرمائے ان سے دنیا و آخرت کا فائدہ ہو رہا ہے۔حق سے جہاں بھی تجاوز ہوگا قرآن کریم اس کو فساد فرماتا ہے کہ وہاں فساد ہو گا۔انفرادی زندگیوں سے لے کر بحیثیت مجموعی سارے حالات ہمارے سامنے ہیں جہاں بھی حق سے تجاوز ہوا وہاں فساد ہی پھیلا ہے۔جہاں بھی آپ کو معاشرے میں حالات خراب نظر آرہے ہیں آپ اس کا جائزہ لیں وہاں پر دین اسلام سے تجاوز ہوگا۔دین اسلام کے کسی بھی اصول کو جہاں ہم چھوڑے گے وہاں آپ کو نفاق کی صورت نظر آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں حصے کا فرض ادا کرنا چاہیے درست عمل اختیار کریں اس کو اپنی ذات اپنے گھر سے شروع کریں ایسے ہی معاشرے بنتے ہیں افراد سے معاشرے ہوتے ہیں جس معاشرے کے افراد اپنا کردار درست کر لیتے ہیں وہی معاشرے خوبصورت بنتے ہیں۔
 ٰ یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 35 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس کا اختتامی بیان اور دعا 11 جولائی بروز اتوار ہو گی۔ملک بھر سے سالکین بڑی تعداد میں اپنی روحانی تربیت کے لیے آ جا رہے ہیں
Islami usool jahan bhi nafiz hon ge wahan Adal hoga - 1

آج ریاست کی محبت،پرچم کا احترام اورملک و قوم کا لحاظ نظر نہیں آتا


ہماری بد قسمتی کہ ہماری تاریخ اغیار لکھ رہے ہیں۔ہمارے بچوں کو ریاست کی محبت،پرچم کے احترام اور ملک و قوم کے لحاظ سے دور کیا جا رہا ہے۔ہمارے بچوں کو وہ تاریخ نہیں پڑھائی جا رہی جس میں ہمارے مسلمان حکمرانوں نے دنیا پر حکومت کی،مسلمان تو کیا غیر مسلم کو بھی تحفظ دیا ان کے مال جان کی حفاظت کی جن کا انصاف ایسا تھا کہ غیر مسلم بھی ان کے زیر نگیں خود کو محفوظ سمجھتا تھا۔یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے جس کا ہمیں ادراک نہیں ہو رہا۔ہمیں حق پر آنے کی ضرورت ہے ہم خود کو دیکھیں کہ ہم نے اپنی میراث چھوڑ دی ہے اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ ان سب باتوں کا حل ہے، دین اسلام ہی بتاتا ہے کہ ریاست سے محبت، ملک و قوم کا لحاظ کیا ہے۔اس دنیا کے نظام میں سب سے زیادہ حصہ صاحب ایمان لوگوں کا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  علماء کرام کا دینی تعلیمات میں بہت بڑا کردار ہے بہت خدمات ہیں دن رات محنت کر رہے ہیں ہماری آنے والی نسل کو  ظاہری تعلیم دے رہے ہیں۔ اللہ کریم ان کی کوششیں قبول فرمائیں۔اس کے ساتھ ساتھ باطنی تربیت کی بھی ضرورت ہے جس میں صوفیا کا بہت بڑا کردار ہے جو بندے کے ظاہری حصے کے ساتھ اس کی باطنی تربیت بھی کر رہے ہیں کہ بندہ جو بھی کام بھی کرے اس میں اس کا دل بھی ساتھ ہو ہر کام دل سے کرے خلوص سے کرے۔اسی لیے صوفیا کی تربیت شروع ہی دل سے ہوتی ہے۔ نیت دل کا فعل ہے نیت درست ہو گی ارادہ ٹھیک ہوگا تو عمل بھی درست ہو گا۔قرآن و حدیث سے دل کی اہمیت کے بارے پتہ چلتا ہے نزول قرآن کے حوالے سے بھی ارشاد ملتا ہے کہ ہم نے اس قرآن کو نبی کریم ﷺ کے قلب پر نازل فرمایا حالانکہ آپ ﷺ کا دماغ بھی دماغ عالی ہے تمام مخلوق سے سب سے اعلی لیکن نزول قرآن قلب پر نازل فرمایا گیا۔انسان جو بھی فیصلہ کرتا ہے دل سے کرتا ہے دماغ تجویز دے سکتا ہے رائے دے سکتا ہے لیکن آخری فیصلہ دل کا ہوتا ہے اس لیے صوفیا کی ساری محنت دل پر ہوتی ہے جب دل ٹھیک ہوتا ہے تو سارا بدن ٹھیک ہو جاتا ہے بندہ دل کی مانتا ہے جب دل اللہ اللہ کرنا شروع کر دیتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ ہر باڈی سیل اللہ اللہ کرتا ہے اور یہی قرآن کریم میں آتا ہے کہ کثرت سے میرا ذکر کرو اس طرح ہی ذکر کثیر بنتا ہے۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے ملک کے طول وعرض سے جمع ہیں اور اپنے شیخ کی صحبت میں اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کر رہے ہیں ابھی یہ اجتماع 11 جولائی تک جاری رہے گا۔
Aaj Riyasat ki mohabbat, parcham ka ehtram avr mulk o qoum ka lehaaz nazar nahi aata - 1

قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے


 قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔امیر عبدالقدیر اعوان
 اللہ کریم نے بندہ مومن کو سورہ فاتحہ میں دعا مانگنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔سورہ فاتحہ پورے قرآن کریم کا حاصل ہے۔اور یہ بھی اسی کی عظمت ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں اس کی آیات پڑھنا لازم قرارفرما دیا۔ قرآن کریم کا ایک ایک لفظ انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔ امیر عبدالقدیراعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
 انہوں نے کہا کہ اس سورہ مبارکہ کے آغاز میں اللہ کریم کی تعریف بیان فرمائی گئی ہے جس میں تمام طرح کے کمالات اور خوبیاں اور ہر ایک کی ہر ضرورت ہر جگہ ہر وقت پوری کرنے والی ذات اللہ کریم کی ذات ہے جو رب العالمین ہیں۔اور مہربان اتنے کے کافر بھی آپ کی دی ہوئی نعمتیں استعمال کر رہا ہے۔جو اللہ کریم کو مانتا ہی نہیں اس سے بھی کوئی نعمت نہیں واپس لی۔ ایسی مہربان ذات۔جو حساب والے دن کی مالک ہے کہ ایک دن آئے گا جب ہر کوئی اس کے حضور اپنا اپنا حساب دے گا۔اس کے بعد بندہ اپنی عاجزی پیش کرتا ہے اپنی کم آئیگی اپنی محتاجی کو ظاہر کرتا ہے اور پھر عرض کرتا ہے کہ ہم سب تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔بندہ اپنی ہر طرح کی ضرورت اپنے اللہ کریم کے سامنے رکھ دے۔کہ اے میرے مالک میری راہنمائی بھی فرمائیے مجھے ہدایت پر قائم رکھیے اور میری ہر طرح کی مدد فرمائیے اور میں اپنی تمام طرح کی ضروریات آپ ہی کے سامنے رکھتا ہوں کیونکہ آپ ہی سب کے خالق،مالک اور پروردگا ر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورہ فاتحہ دعا بھی ہے دوا بھی ہے یعنی ہرطرح کی آزمائش اور ضرورت پر آپ سورہ فاتحہ پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن کریم کو چھوڑ دیا جائے اور صرف سورہ فاتحہ ہی پڑھ لی جائے ہم وظیفہ کے لیے راتوں کو اُٹھ کر نوافل پڑھ لیتے ہیں لیکن عشاء کی نماز پڑھنا بوجھ سمجھتے ہیں۔کیونکہ وظیفہ ہم اپنی دنیاوی ضروریات کے لیے پڑھتے ہیں یعنی ہم عبادت بھی وہی کرنا پسند کرتے ہیں جس میں ہمیں دنیاوی فائدہ نظر آرہا ہو۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Quran kareem ka aik aik lafz insaaniyat ke liye Hadayat hai - 1

اسلامی ریاست غیر مسلم کے تحفظ اس کے مذہبی معمولات اور جان و مال کی ذمہ دار ہوتی ہے


 اسلامی ریاست غیر مسلم کے تحفظ اس کے مذہبی معمولات اور جان و مال کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ دین اسلام میں ذبردستی نہیں ہے لیکن اسلام میں یہ بھی نہیں کہ باقی مذاہب بھی درست ہیں۔حق صرف دین اسلام میں ہے وہی بات درست ہوگی جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے اس سے باہر کوئی حق نہیں ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے مزید کہا کہ نیک کام کی نیت کرنا بھی اجر و ثواب کا سبب ہے۔اور برائی اور گناہ کو چھوڑ دینا بھی نیکی شمار ہو گی۔دین اسلام زندگی کے ایک ایک حصے کی راہنمائی فرماتا ہے جہاں جس عمل کو بھی دین اسلام کے حکم کے مطابق اختیار کریں گے وہاں کے نتائج بھی یہ ثابت کریں گے کہ یہی حق ہے۔مکی زندگی میں کفار کے ظلم ملتے ہیں جو انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ڈھائے۔آخر میں وہ بھی کہنے لگے کہ آپ اپنے دین پر رہیں لیکن ہمارے بتوں پر ہمارے نظام حیات پر اعتراض نہ کریں۔آپ اپنی عبادات کرتے رہیں ہمیں ہمارے طریقے سے نظام معیشت چلانے دیں۔جیسے آج کے دانشور بھی کہتے ہیں کہ ہر ایک کو حق حاصل ہے آزادی رائے کے نام پر یا اس کی اپنی زندگی ہے جیسے چاہے بسر کریں۔زندگی اللہ کی امانت ہے اسے اللہ کے حکم کے مطابق ہی گزارنا ہوگا ورنہ زندگی نافرمانی کے زمرے میں آئے گی۔
  یار رہے کہ دارلعرفان منارہ میں 35 روزہ سالانہ اجتماع چل رہا ہے جس میں ملک کے طول و عرض سے سالکین اپنی تربیت کے لییے آرہے ہیں اور ایک ٹائم ٹیبل کے تحت اپنے شب و روز ذکر اذکار میں گزار رہے ہیں۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن 12 بجے
 خطاب فرماتے ہیں۔یہ سالانہ اجتماع 11 جولائی تک جاری رہے گا۔
Islami riyasat ghair muslim ke tahaffuz is ke mazhabi mamoolat aur jaan o maal ki zimma daar hoti hai - 1

ہم اپنے اعمال اور معاملات کو درست کر لیں


 اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز میں یہ کہا جائے کہ سودی نظام کے بغیر ہماری معیشت نہیں چل سکتی یہ ایسا فقرہ ہے جو انکار کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔اگر ایسی سو چ کے حامل لوگ ہمارے معاشی نظام کو ترتیب دیں گے تو پھر غریب اور متوسط طبقے کا جو حال آج ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے غریب عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ہمیں وہ اسلامی اصول اپنانے کی ضرورت ہے جنہیں اپنا کر دنیائے کفر بھی دنیاوی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنے آپ کو پرکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے اور معاشرے میں آپ کا کردار بہتری کی طرف ہو اگر بحیثیت مجموعی ہم اپنے اعمال اور معاملات کو درست کر لیں تو یاد رکھیں ہمارے ملنے سے ہی معاشرہ ترتیب پاتا ہے جس سے بہتری نظر آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ آج لوگ استخارہ کے لیے دو نفل پڑھ لیتے ہیں لیکن فرض نماز پڑھنا بوجھ سمجھتے ہیں کیونکہ ہم نے دین کو بھی دنیاوی ضروریا ت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔جو فرائض چھوڑ کر استخارے کے لیے نوافل ادا کر رہا ہے اس کے نوافل کیا اور اس کا استخارہ کیا؟ فرائض بنیاد ہیں اگر بنیاد ہی نہیں ہے تو کیا حاصل ہوگا۔دین میں بھی ہم اپنی خواہشات ذاتی کو لے آئے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں اور ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 36 روزہ سالانہ اجتماع جاری ہے جس میں ملک بھر سے سالکین اپنی روحانی تربیت کے لیے آرہے ہیں اور اللہ اللہ سے اپنے قلوب منورکر رہے ہیں اس اجتماع میں ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق شب وروز گزارے جاتے ہیں جس میں ذکر اذکار اور تربیتی کلاسز بھی ہوتی ہیں تا کہ جب یہ لوگ اپنی عملی زندگی میں واپس جائیں تو ذاتی حیثیت کے ساتھ ساتھ قومی اور امتی ہونے کا کردار بھی معاشرے میں ادا کریں۔شیخ سلسلہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان روزانہ دن 12 بجے خصوصی خطاب بھی فرماتے ہیں
Hum apne Aamaal aur mamlaat ko durust kar len - 1

نیت درست ہو تو اعمال بھی عبادت شمار ہوتے ہیں


 قرآن کریم کی ہر بات ایک اصول کا درجہ رکھتی ہے۔قرآن کریم زندگی کے ہر ہر پہلو کے لیے راہنمائی فرماتا ہے۔چاہے اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے۔ضروری ہے کہ جب ہم دین کی بات کر رہے ہوں یہ حق لوگوں تک پہنچا رہے ہوں تو سب سے پہلے ان احکامات کو جو قرآن کریم نے ارشاد فرمائے ہیں اپنے اوپر نافذ کریں اور اپنے کردار کو اس کے مطابق ڈھال لیں پھر از خود ہمارا کردار ہی لوگوں کے لیے تبلیغ بن جائے گا۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اللہ کریم کی اتنی بڑی عطا ہے اگر کوئی اس کے باوجود بھی غفلت کرتا ہے تو اس سے بڑی بد بختی اور کیا ہوسکتی ہے۔آج بھی دنیا میں جو قوانین اور اصول جن سے عامتہ الناس فائدہ اُٹھا رہے ہیں وہ مسلم ہو ں یا غیر مسلم تحقیق کر کے دیکھ لیں وہ اصول نبی کریم ﷺ کے ارشادات کے تحت ہوں گے۔نبی کریم ﷺ کے ارشادات کی برکات ہیں کہ آج صدیوں بعد بھی عام ان پڑھ لوگ بھی جانتے ہیں کہ حلا ل اور حرام کیا ہے،نماز فرض ہے،جھوٹ بولنا گناہ ہے،چھوٹی چھوٹی باتوں تک ہر کوئی واقف ہے تو ہم پھر کیوں بھٹکے ہوئے ہیں کیوں ان باتوں پر عمل نہیں کر رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے جو رشتہ اور تعلق ہے وہ بہت کمزور ہے۔اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ درکار ہیں جب سینے ان کیفیات سے مزین ہوں گے پھر چاہتیں،پسند و نا پسند قرآن کریم کے تحت آجاتی ہیں۔اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے تعلق مضبوط ہو جاتا ہے پھر اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع عزیزتر ہو جاتا ہے بندہ ہر اس کام اور بات سے ڈرتا ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات کے خلاف ہو کہ کہیں میرے اللہ کریم مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں اسی کیفیت کو قرآن کریم میں تقوی کہا گیا ہے۔ اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Niyat durust ho to Aamaal bhi ibadat shumaar hotay hain - 1

عمل درست ہو تو نتائج بھی درست ہوتے ہیں


  قرآن کریم وہ راہنمائی عطا فرماتا ہے جس سے عمل صالح کی ترغیب ملتی ہے۔جب عمل درست ہو تو نتائج بھی درست ہوتے ہیں۔قرآن کریم وہ راستہ عطا فرماتا ہے جو سیدھا منزل تک پہنچا دیتا ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی طور پر نیت کی ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کس راہ کا انتخاب کرتا ہے نیکی پر چلنے والوں کو نعمت نصیب ہوتی ہے۔انبیاء کرام وہ ھستیاں ہیں جو نہ صرف حق وصول کرتے ہیں بلکہ مخلوق خدا تک پہنچانے کابھی سبب ہیں اور اس حق کی کیفیت اور حال نہاں خانہ دل تک اتر جاتا ہے۔جن کو معیت محمد الرسول اللہ ﷺ نصیب ہوئی اتنی قوت بخشی کہ تین درجوں تک صحابہ،تابعین اور تبع تابعین تک اس کے اثرات گئے۔یہ ھستیاں ان کے درجات ہماری دسترس سے باہر ہیں۔یہ اللہ کا کرم اور احسان کے کہ یہ ستارے ہمیں اللہ کریم نے منزل کے طور پر عطا فرمائے۔ہمارے حصے میں یہ آتا ہے کہ ہم ان سے راہنمائی تو لے سکتے ہیں ان کو چانچنے اور تولنے کی قوت ہم میں نہیں ہے۔جب ہم اپنے آپ کو دیکھیں گے تو سمجھ آئے گی کہ تول وہی کر سکتا ہے جو اس پر عبور رکھتا ہو تو ہم ان ھستیوں کو جانچ نہیں سکتے ہم میں یہ طاقت نہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم حق سے ہٹ کر اپنے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس قرآن کریم موجود ہے جس ہر سوال کا جوا ب ہے اور ہم اس سے ہٹ کر اپنی دانش کے مطابق اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے رہتے ہیں۔ہم کسی جدید طریقے سے نظام حکومت چلانا چاہتے ہیں جب کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی مبارک سے ہمیں ہر طرح سے راہنمائی میسر ہے۔تو جب تک ہم اپنے مسائل کا حل دین اسلام کے مطابق نہیں تلاش کریں گے ہمارے مسائل ایسے ہی ہمیں گھیرے رکھیں گے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Amal durust ho to nataij bhi durust hotay hain - 1

عاملوں اور جادوگروں سے اپنی امیدیں وابستہ کر لینا کمزور ایمان کی نشانی ہے


 اللہ کریم نے ہر ایک کا رزق،اولاد اور موت کا وقت مقرر فرما دیا ہے۔آج ہم ایمانی طور پر اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ عاملوں اور جادوگروں سے اپنی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ فلاں نے مجھ پر جادو کیا اور میرا رزق بند کر دیا ہے یا فلاں کے عمل سے میری اولا د نہیں ہورہی۔یاد رکھیں یہ شرک ہے اور روز آخرت اس کی معافی نہ ہے۔اپنی تمام امیدیں صرف اور صرف اللہ کریم سے رکھی جائیں۔اور اپنی تمام صلاحیتوں کودین اسلام کے مطابق بروئے کار لاتے ہوئے نتیجہ اللہ کریم پر چھوڑ دیا جائے۔
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی  شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب 
  انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کا ہر عمل اللہ کریم کی خوشنودی کے لیے ہوتا ہے۔اور اس کی سوچ اور عمل تک سیدھی راہ پر آ جاتے ہیں۔جب بندہ صحیح معنوں میں آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہوتا ہے تو  توحید الٰہی کے ساتھ ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آتا ہے۔اس طرح ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ایک بات یہاں قابل ذکر ہے کہ جب ہم اپنی اولادوں کو صرف دنیاوی تعلیم دلاتے ہیں اور وہ تربیت نہیں کرتے جس کا حکم ہمیں دین اسلام دیتا ہے اولاد کی بہترین تربیت کے لیے خود والدین کا باعمل ہونا ضروری ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی کے لیے  حیاء  بہت اہم ہے۔اور آج کل بے حیائی تک سب سے آسان اور سستی رسائی ہے۔کیونکہ جو طبقہ معاشرے میں بے حیائی پھیلانا چاہتا ہے وہ اس کام میں سرگرم ہے اور کوئی موقع نہیں جانے دے رہا۔  اور یہ اسلام دشمن عناصر ہیں جو ازل سے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ایسے ہی مختلف اصول قرآن کریم بیان فرماتا ہے جنہیں اگر معاشرے پر نافذ کر دیا جائے تو ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے اور یہی اصول اگر کوئی اپنے گھر میں اپنے خاندان میں رائج کرے گا ان پر عمل کرے گا تو یہ ساری برکات اور خوبصورتیاں وہ گھر یا خاندان بھی حاصل کر سکتا ہے۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Aamlon aur Jadugaron se apni umeeden wabasta kar lena kamzor imaan ki nishani hai - 1