Featured Events


دعوت فکر

Watch Dawat-e-Fikr YouTube Video

دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے


 ضابطہ اصول،قوانین پر عمل درآمدقوموں کو قوم بناتے ہیں ورنہ یہ قوم نہیں بلکہ ایک ہجوم بن کر رہ جاتا ہے۔ملکی سطح پر ایک شور اور بدنظمی نظر آتی ہے۔نہ کوئی بات سنا سکتا ہے اور نہ کوئی سننا چاہتا ہے۔یہی حال اگر ہم ملک سے گھر وں پر لے آئیں تو اپنے خوبصورت رشتوں ماں باپ،بہن بھائی،میاں بیوں اور اولاد کو جب حکم الٰہی کے مطابق نبھاتے ہیں تو ان میں کتنا پیار اور لحاظ ہوتا ہے اور جب ہم اپنی ذاتی خواہش اور انا کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے تو تلخی آجائے گی۔آج اس درجہ کی بے حیائی ہے کسی رشتے کا تقدس باقی نہیں رہا۔خاندان بکھر گئے۔والدین کچھ اور چاہ رہے ہیں اولاد کچھ اور کر رہی ہے۔سنت خیر الانام دیکھیں،سیرت پاک کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کی تربیت کریں تا کہ ہم زندگی کو حق کے مطابق گزارسکیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ دین اسلام کے ہر حکم میں اعتدال ہے۔ہمیں اپنی زندگی دین اسلام کے مطابق گزارنی چاہیے ذاتی مرضیات شامل کریں گے تو نقصان اُٹھائیں گے۔ہمارے نقصانات ہمارے اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔کامیابی ملے تو کہتے ہیں کہ اس میں میراکمال ہے اگر پریشانی آجائے تو اللہ کریم کے ذمہ لگا کر خود بری ہو جاتے ہیں۔ہم مخلوق کو راضی کرنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں اور وہ ہم سے راضی نہیں ہوتی ہم نے اپنی زندگی کو مصیبت میں اس لیے ڈال رکھا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔دیکھنا یہ چاہیے کہ عنداللہ اس عمل کا کیا نتیجہ ہوگا۔ 
  یادرہے کہ دارالعرفان منارہ میں دوروزہ روحانی اجتماع کا انعقاد 2،3 ستمبر بروز ہفتہ اور اتوار کیا گیا ہے جس میں ملک بھر سے سالکین سلسلہ عالیہ تشریف لاتے ہیں ہر خاص و عام کو دعوت عام ہے کہ اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منورکرنے کے لیے تشریف لائیے۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی بروز اتوار دن 11 بجے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔
Deen islam ke har hukum mein aitdaal hai - 1

شراب اور جواء کی حرمت

Watch Sharab aur Juwa ki Hurmat YouTube Video

سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں


عام آدمی سے لے کر مملکت خدادادتک سودی معیشت میں اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ ہم روزبروز پستی کی طرف جا رہے ہیں۔غریب آدمی کا نوالہ مشکل ہو گیا ہے۔اس معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ہم انہی ممالک سے ماہرین بلاتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس بحران میں دھکیلا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارا بھلا سوچیں گے یا اپنا فائدہ چاہیں گے۔ہم وہ نظام معیشت نہیں اپنا رہے جو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔عقل پر ایسا پردہ پڑا ہے کہ باقی سارے تجربات کیے جا رہے ہیں اور ان تجربات کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔اللہ کرے ہمارے حکمران اسلامی نظام معیشت کو وطن عزیز پر نافذ کریں تا کہ ہم بھی ان بحرانوں سے نکل سکیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستا ن کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ شراب اور جواء کی اصل حرام ہے۔پکے دوزخی کی ایک خصلت یہ بھی ہے کہ وہ شرابی ہوگا۔جتنی کوئی دنیا میں شراب پئیے گا اتنی اسے جہنم میں پیپ پینی پڑے گی۔جس چیز کو اللہ اور اللہ کے حبیب ﷺ نے حرام قرار دیا ہو اس سے کبھی بھی مخلوق کو فائدہ نہیں ہو سکتا۔شراب اور جواء سے معاشرے میں خرابی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ایسے لوگ جو قرآن کریم کا اپنی مرضی سے ترجمہ کرنا چاہتے ہیں دین اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق اختیار کرنا چاہتے ہیں ایک دن کہیں گے کا ش ہمیں موت آ جائے اور خاک ہو جائیں۔آج وقت ہے اپنی اصلاح کریں اپنی اولاد کی تربیت کریں بڑے بڑے نام آج زمین میں دفن ہیں خاک کے ساتھ خاک ہو گئے نشان تک نہیں رہے۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Soodi maeeshat mein is terhan jakray hue hain ke hum rozbroz pasti ki taraf ja rahay hain - 1

مرتد کی سزا

Watch Murtid Ki Saza YouTube Video

اسلام غیر مسلم کے تحفظ کی بھی تعلیم دیتا ہے

حق بندۂ مومن کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لاتا ہے، اس راہ کا مسافر جنت میں داخل ہوتا ہے۔ دعویٰ ایمانی خالی نہ رہ جائے بلکہ اقرار کے ساتھ عملی طور پر اسلام پر عمل کیا جائے۔ اسلام اپنے   زیر ِ نگیں ریاست میں غیر مسلم کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد مذمت کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ کو ختم کرنا ہو گا۔ اقلیتی آبادیوں کا تحفظ بھی تب ممکن ہو گا جب اکثریت کے حقوق انہیں مل رہے ہوں گے۔ ہمارے پرچم میں سبزہلالی حصہ کے ساتھ سفید حصہ غیر مسلم کے لیے ہے۔ ہمارے قوانین وہ ہیں جو کہ ہمیں کفار نے دیے ہیں۔ وہ قوانین جو اللہ کریم سے 14 سو سال پہلے ہمیں ملے ہوئے ہیں، ہم اس طرف نہیں آ رہے ہیں۔ جب تک ہم اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹیں گے تو ہم اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکیں گے۔صحابہ کرامؓ کی جماعت پر کفار اعتراض کر تے تھے تو اس کا جواب   ربّ کائنات نے دیا۔ جب بندہ اس کی راہ پر چلے تو پھر ہمیں ہر پہلو سے تحفظ نصیب ہو گا۔ کفار سے دوستی انہیں جھگڑنے سے باز نہ رکھے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں یہ درست ہے اور جو کوئی دوسرا کر رہا ہے وہ غلط ہے۔ ہم سب کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جیسا میں چاہتا ہوں ویسا ہو، یہ روش باہم جھگڑوں کا سبب بن رہی ہے۔ ہمارا سطحی طور پر کسی معاملے کو دیکھ کر اپنے اندر اس پر رائے قائم کر لیتے ہیں اور یہ انداز گھروں، قوموں میں نااتفاقی پیدا کرتا ہے۔ اور آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے ہر عمل اور ہر سوچ کو قرآن و سنت کے مطابق لایا جائے
Islam ghair muslim ke tahaffuz ki bhi taleem deta hai - 1

حسن اخلاق قطب آن لائن

Watch Husn e Ikhlaq Qutab Online YouTube Video

اختتامی بیان و اجتماعی دعا (سالانہ اجتماع)


اختتامی بیان و اجتماعی دعا (سالانہ اجتماع)

Watch Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) YouTube Video
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 1
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 2
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 3
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 4
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 5
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 6
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 7
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 8
Ikhtitami Beyan o Ijtmai Dua (Salana Ijtima) - 9

یوم آزادی منانے کی نہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے


یوم آزادی منانے کی نہیں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔جب ہم اسے اختیار کریں گے تو بحیثیت مجموعی اس کے محافظ ہوں گے۔وطن عزیز بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا ہے اور یہ قربانیاں ہم ابھی تک دئیے جا رہے ہیں۔وطن عزیز پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اسلام امن،محبت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔آج ضرور ت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو اس طرح یاد رکھیں کہ اس ملک کی بقا کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔اس کا ایک ایک ذرہ ایک ایک ادارہ ہمارا ہے ہم اس سے ہیں اور اس کی نگہبانی ہم پر فرض ہے۔میری سالکین سے گزارش ہے کہ ایسا کوئی کام،کوئی بات نہ کریں جس سے ملک و قوم میں خرابی پیدا ہو۔جہاں کوئی ہے ملک کی تعمیر میں اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع کے اختتام پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ اجتماع کا مقصد شب و روز کے معمولات اورذکر الٰہی سے دلوں پر وہ دستک عطا ہوتی ہے کہ سالک خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتے ہوئے عمل صالح اختیار کرتا ہے۔اور اپنے ہر عمل کو خالص اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوتا ہے۔یہاں پر آنے والے سالکین کی بلا تفریق تربیت کی جاتی ہے۔اللہ اللہ کی تکرار سے کیفیات قلبی کا حصول ممکن ہوتا ہے جس کا ثمر یہ ہوتا ہے کہ اپنے گھر سے لے کر معاشرے تک کو سنوار دیتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے بچے،ہماری اولادیں ہمارا اثاثہ ہیں۔ان کی تربیت ایسے کریں کہ یہ اغیار کے ہاتھوں کا کھلونا نہ بنیں بلکہ انہیں اپنی اقدار اور دین اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم ہے لیکن ہمارے مال پر سب سے زیادہ حق ہمارے والدین کا ہے۔اس کے بعد عزیز و اقارب،مسافر اور قیدیوں کا ہے۔صبر پر انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ خود کو شریعت مطہرہ پر کاربند کرنے کا نام صبر ہے۔بندہ مومن کا معاشرے میں کردار ایسا ہو نا چاہیے کہ اس کے قول و فعل سے معاشرے کی تعمیر ہو ہمارے معاملات سے لوگ کہیں کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملک میں امن اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج اختتامی بیان تھا اور اجتماعی دعا بھی تھی ملک بھر سے سالکین کی بڑی تعداد نے اس بابرکت محفل میں شرکت کی۔خواتین کی بہت بڑی تعداد بھی اس محفل میں شریک ہوئی۔اجتماع کے اختتام پر ڈویژنل سطح پر ذمہ داران میں حسن کاکردگی پر حضرت جی مد ظلہ العالی نے اپنے دست مبارک سے شیلڈ تقسیم کیں جس میں پہلی پوزیشن راولپنڈی ڈویژن دوسری سرگودھا ڈویژن اور تیسری پوزیشن گوجرانوالا نے حاصل کی۔اس کے علاوہ الفلاح فاؤنڈیشن کی کارکردگی میں ڈی آئی خان نے پہلی جب کہ راولپنڈی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔اس کے علاوہ شعبہ نشرواشاعت میں فیصل آباد نے پہلی اور گوجرانوالا نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
Yom-e-azadi mananay ki nahi ikhtiyar karne ki zaroorat hai - 1