Featured Events


بندہ مومن کی نشانیاں حصہ دوم


بندہ مومن کی نشانیاں


ذکر اللہ کی اہمیت


اللہ کریم کا ذاتی نام (اللہ)ہی اسم ِ اعظم ہے


 تقوی ایک ایسا حضور حق کا پہلو ہے کہ بندہ جہاں بھی جائے اسے یہ حصہ نصیب ہوتا ہے کہ میں اپنے اللہ کے روبرو ہوں پھر یہ کیفیت اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کریم کا حکم مقدم رہتا ہے۔آج بھی جہاں جہالت غالب آرہی ہے وہاں انا پرستی سب سے بڑا مرض ہے۔بڑائی صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے ہر شئے کی کیفیت اللہ کی طرف ہونی چاہیے اپنی بڑائی اور انا سے بچتے رہنا چاہیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہ کہا کہ اگر کمی بیشی واقع ہو جائے تو اس کے حل بھی بارگاہ الٰہی میں ہے۔سچے دل سے توبہ کی جائے اس کے حضور معافی طلب کی جائے تو اللہ کریم کو معاف کرنا محبوب ہے اللہ کریم معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔اللہ کریم نے ہمیں شرف بخشا کہ انبیاء مبعوث فرمائے کلام ذاتی سے نوازا۔یہ اللہ کریم کی اتنی بڑی عطا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔جب بندہ ذکر کثیر کی کوشش کرتا ہے تو حضوری کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے مغلوب ہو جانا کوئی کمال نہیں کمال تعمیل حکم میں ہے۔جس کو ہوش نہ رہے ہم سمجھتے ہیں یہ بڑا پہنچا ہوا ہے ایک بندے کو اپنی ہوش نہیں وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا وہ تو خود مکلف نہیں رہا وہ دوسروں کی راہنمائی کیا کرے گا۔اگر مغلوب ہو جانا کمال ہوتا تو یہ کمال انبیاء کو بھی نصیب ہوتا۔کمال ہوش میں رہنا ہے۔ہر ایک کی اپنی کیفیات ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ریاست مدینہ کی جب بات کی جاتی ہے تو اس میں مزاح نظر آتا ہے نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں بھائی راہ موجود ہے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں خود کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں گم ہو گئے ہیں اللہ کریم کے احکامات موجود ہیں ارشادات نبوی ﷺ موجود ہیں اپنے اندھے پن کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔جب اس سے مانگو تو وہ زندگی مانگو جو اللہ کریم نے پسند فرمائی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Allah kareem ka zaati naam ( Allah ) hi ism  Azam hai - 1

تجلیات ذاتی کا محور


حج کا حاصل


اجتماع کا مقصد


حج اور قربانی کا فلسفہ

Watch Hajj aur Qurbani ka Falsafah YouTube Video

قرآن کریم کی بے حرمتی کے ارتکاب نے امت مسلمہ کے دلوں کو شدید تکلیف پہنچائی ہے


قرآن کریم کے ساتھ بندہ مومن کا ایسا مضبوط تعلق ہو کہ ہماری زندگیاں عملی طور پر قرآن کریم کے احکامات کے مطابق ہوں تو کسی کو جرات نہ ہو گی کہ وہ قرآن کریم کی بے حرمتی کا ارتکاب کر سکے۔ہم دعوی ایمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہمارے سامنے آئے روز اس طرح کی گستاخیاں اور بے حرمتی ہو رہی ہے جسے اقوام عالم شخصی آزادی کا نام دے دیتی ہے۔یاد رکھیں کہ کوئی بھی آزادی اس کی اپنی حدود تک ہے جب کسی دوسرے کے دائرہ میں مداخلت ہو گی تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔دنیا کو اس کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔دین اسلام ہمیشہ اتحاد اور اتفاق کا درس دیتا ہے۔دعا ہے کہ امت مسلمہ ایک جان ہو کر قرآن کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے قربانی کے فلسفہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کی وہ کیفیت جو اللہ کریم نے حضرت ابراھیم ؑ کو عطا فرمائی اُس کا ایک ذرہ بھی اگر ہمیں نصیب ہوجائے تو قربانی کا یہ فلسفہ پوری حیات کا سبق دیتا ہے۔جہاں قربانی کرنے کا حکم موجود ہے وہی قربان ہونے کا سبق بھی ملتا ہے۔اللہ کریم ہمیں قربانی کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں تو اس عید پر کی گئی قربانی کے اثرات ہمیں اگلی عید تک لے کر جاتے ہیں اوراللہ کرے ہر قربانی پر ہمیں یہ کیفیت نصیب ہو کہ ہم اپنی انا،اپنی ضد،اپنی خواہشات،اپنی پسند اللہ کریم کے حکم پر قربان کرسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیرت پاک ﷺ ہمارے سامنے خوبصورت مشعل راہ ہے جس میں آسان ترین زندگی گزارنے کا انداز ہے عبادات انسان کو اس قابل بناتی ہیں کہ نورِ حق نصیب ہوتا ہے۔حج فرائض میں سے ہے صاحب استعداد پر زندگی میں حج ایک بار فرض ہے۔بیت اللہ شریف پر تجلیات باری ہر لحظہ برس رہی ہوتی ہیں حاجی دو چادروں میں بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہیں یہ وہی کیفیت ہے جو روز محشر ہوگی تب بھی ہر کوئی دو ان سلی چادروں میں اللہ کے حضور پیش ہوگا۔حاجی کو اللہ کریم ایسے معاف فرماتے ہیں گویا آج پیدا ہوا ہے لیکن اگر اس کے باوجود بھی کردا ر میں بہتری نہیں آئی تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے حج اللہ کے لیے نہیں کیا بلکہ اپنی شہرت کے لیے یا کسی ذاتی غرض کے لیے کیا ہے عبادات صرف وہ قبول ہوتی ہیں جو خالص اللہ کے لیے ہوں اگر اس بات کی ہمیں سمجھ آجائے کہ ہر شئے اس کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو زندگیاں آسان ہو جائیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفا ن منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جو 8 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی روزانہ دن گیارہ بجے صحبت شیخ میں خصوصی خطاب فرمائیں گے۔اللہ والوں کی اس بستی میں اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔ہر خاص و عام کے لیے دعوت عام ہے
Quran kareem ki behurmati ke irtikaab ne ummat Musalmah ke dilon ko shadeed takleef pohanchai hai - 1

چالیس روزہ سالانہ روحانی اجتماع

40 Roza salana rohani ijtima - 1