Featured Events


اسلامی سال کی ابتداء یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت سے ہوتی ہے


 حضرت عمر فاروق ؓ  وہ ہستی ہیں جنہوں نے ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کا رقبہ فتح کیا۔آپ ؓ کی فتوحات میں نہ کسی مظلوم کی آہ سنائی دیتی ہے اور نہ کسی عورت کی پکار۔اسی ماہ (محرم الحرام) میں خانوادہ رسول ﷺ کی عظیم شہادتیں ہوئیں۔ان عظیم ہستیوں نے آپ ﷺ کی اتباع میں اپنی جانیں قربان کیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ اُس وقت کفر کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی لیکن انہوں نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا کہ عملی طور پر مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔آج مسلمان تعداد میں تو سب سے زیادہ ہیں لیکن مجموعی طور پر ہم اغیار کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں  ہمیں اپنے آپ کو عملی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ہمارے ایمان کی پختگی اور ہمارے اعمال یہ شہادت دیں کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔بد قسمتی سے ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے اس اللہ کی زمین پر فساد برپا ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ہماری بے عملی کا سبب ہماری بے ایمانی ہے آج لوگ دشمنی نبھانے کے لیے پہلے دوستی کرتے ہیں پھر دشمنی کا وار کیا جاتا ہے۔معاشرے حاجیوں سے بھرے پڑے ہیں بازار میں دوکاندار بھی حاجی ہے اور خریدار بھی حاجی ہے لیکن دونوں کو ایک دوسرے پر اعتبار نہیں ہے۔بے عملی اس حد تک لے جاتی ہے کہ بندہ کو حقائق نظر ہی نہیں آتے وہ اپنے گناہوں پر بھی فخر کر رہا ہوتا ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطافرمائیں اور ہم سب کو قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق زندگیا ں گزارنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Islami saal ki ibtida yakam Mehram alhram hazrat Umar Farooq RA ki shahadat se hoti hai - 1

معاشرے کی کمزوری کی وجہ


نیکی اور اجر


بخشش کی طلب


بندہ مومن کی نشانیاں حصہ دوم


بندہ مومن کی نشانیاں


ذکر اللہ کی اہمیت


اللہ کریم کا ذاتی نام (اللہ)ہی اسم ِ اعظم ہے


 تقوی ایک ایسا حضور حق کا پہلو ہے کہ بندہ جہاں بھی جائے اسے یہ حصہ نصیب ہوتا ہے کہ میں اپنے اللہ کے روبرو ہوں پھر یہ کیفیت اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کریم کا حکم مقدم رہتا ہے۔آج بھی جہاں جہالت غالب آرہی ہے وہاں انا پرستی سب سے بڑا مرض ہے۔بڑائی صرف اللہ کریم کو سزاوار ہے ہر شئے کی کیفیت اللہ کی طرف ہونی چاہیے اپنی بڑائی اور انا سے بچتے رہنا چاہیے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہ کہا کہ اگر کمی بیشی واقع ہو جائے تو اس کے حل بھی بارگاہ الٰہی میں ہے۔سچے دل سے توبہ کی جائے اس کے حضور معافی طلب کی جائے تو اللہ کریم کو معاف کرنا محبوب ہے اللہ کریم معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔اللہ کریم نے ہمیں شرف بخشا کہ انبیاء مبعوث فرمائے کلام ذاتی سے نوازا۔یہ اللہ کریم کی اتنی بڑی عطا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔جب بندہ ذکر کثیر کی کوشش کرتا ہے تو حضوری کی ایک کیفیت نصیب ہوتی ہے مغلوب ہو جانا کوئی کمال نہیں کمال تعمیل حکم میں ہے۔جس کو ہوش نہ رہے ہم سمجھتے ہیں یہ بڑا پہنچا ہوا ہے ایک بندے کو اپنی ہوش نہیں وہ دوسروں کا کیا بھلا کرے گا وہ تو خود مکلف نہیں رہا وہ دوسروں کی راہنمائی کیا کرے گا۔اگر مغلوب ہو جانا کمال ہوتا تو یہ کمال انبیاء کو بھی نصیب ہوتا۔کمال ہوش میں رہنا ہے۔ہر ایک کی اپنی کیفیات ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ریاست مدینہ کی جب بات کی جاتی ہے تو اس میں مزاح نظر آتا ہے نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں بھائی راہ موجود ہے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں خود کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں گم ہو گئے ہیں اللہ کریم کے احکامات موجود ہیں ارشادات نبوی ﷺ موجود ہیں اپنے اندھے پن کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔جب اس سے مانگو تو وہ زندگی مانگو جو اللہ کریم نے پسند فرمائی ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں
Allah kareem ka zaati naam ( Allah ) hi ism  Azam hai - 1

تجلیات ذاتی کا محور


حج کا حاصل