Featured Events


سبز ہلالی پرچم اور وطن عزیز کی ہر شئے ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہونی چاہیے


وطن عزیز اور سبزہلالی پرچم کے حصول کے لیے لاکھوں جانیں نچھاور ہوئیں۔آج ہمارے ملک میں ہماری نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے جو کچھ ہوا وہ ایسے ہی ہے جیسے ہم اپنے گھر کی چھت کو خود اپنے ہاتھوں سے گرا رہے ہوں۔ہمارے ملک کے باسی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے ہیں ایسا کیا ہوا کہ یہ اپنے ہی بھائیوں اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئے۔ملک دشمن عناصر ہماری اُن بنیادوں کو جو اللہ کریم پر ایمان کے ساتھ مضبوط ہیں کو کھوکھلا کرنے میں لگے ہیں اور ہم خواب غفلت میں ہیں اس بات کا ادراک نہیں کر رہے۔ہمیں واپس لوٹنا ہوگا اور رجو ع الی للہ کرنا ہوگا تاکہ ہم ان سازشوں اور ملک دشمن عناصرکا مقابلہ کر سکیں اور وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ باقی لوگ بھی میری خواہش کے مطابق رہیں میری ہاں میں ہاں ملائیں وہ دوسروں پر بھی اپنی پسند مسلط کرنا چاہتا ہے۔وطن عزیز پاکستان کو بکھیرنے میں کروڑوں کے بجٹ لگائے جا رہے ہیں اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا حصہ بن رہا ہے۔ہماری بد اعمالیوں کے اثرات ہماری موجودہ نسل تک پہنچ چکے ہیں ہم اور ہماری اولادوں میں فاصلے پیدا ہو گئے ہیں کوئی کسی کی بات سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔اس سب کا واحد حل توبہ اور رجوع الی اللہ ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور ملک و قوم کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Sabz hlali parcham aur watan Aziz ki har shye hamein jaan se ziyada Aziz honi chahiye - 1

احساس ذمہ داری (ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ )


دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ بندہ خود بھی با عمل ہو


 دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ بندہ خود بھی با عمل ہو اور جسے دعوت دی جا رہی ہو اس کی خیر خواہی مقصود ہو۔محبت،پیار،شفقت اور حکمت کے ساتھ مخلوق کو خالق کی طرف بلایا جائے اور اپنے مزاج کی سختی کو حائل کیے بغیر تبلیغ کی جائے۔تبلیغ کے لیے کوئی وقت مخصوص کرنا ضروری نہیں ہمارا ہر عمل اللہ کے حکم کے مطابق اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہونا چاہیے یہ عمل ہمہ وقت کا ہے کسی بھی عمل کو جب دین اسلام کے اصولوں کے مطابق کیا جائے گا تو ہر لمحہ عبادت شمار ہو گا۔اور اُس عمل کے نتائج بھی اعلی ہوں گے۔پھر ہمارا کردارہماری تبلیغ ہو گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا انسانیت کو نصیب ہونا انسانیت کے لیے بہت بڑا شرف ہے۔تربیت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ہمیں اپنی ذات کے خول سے نکل کر ذاتِ باری تعالی کی بات کرنی چاہیے۔اللہ اتنے کریم ہیں کہ اگر کوئی گناہ کا ارادہ رکھتا ہو پھر اسے رد کر دے تو اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتے ہیں اور اگر کوئی نیک اعمال اختیار کرے تو اس پر کیا کرم اور فضل ہو گا۔اللہ کریم ہر ایک کے حال سے واقف ہیں کوئی ظاہر کرے یا چھپائے۔عبادات کا شمار کرنا لازم نہیں وہ جانتا ہے کہ کس درجے کے رکوع و سجود ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جب سب جان جائیں گے کہ ان کے اعمال کس درجے کے تھے۔ہمیں اپنی پوری قوت سے اس کی اطاعت کرنی ہے نتائج اللہ کریم کے دستِ قدرت میں ہیں اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Dawat e Allah ke liye zaroori hai ke bandah khud bhi ba amal ho - 1

احساس ذمہ داری (ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ )

Watch Ehsas e Zimdari YouTube Video
Ehsas e Zimdari - 1
Ehsas e Zimdari - 2
Ehsas e Zimdari - 3
Ehsas e Zimdari - 4
Ehsas e Zimdari - 5
Ehsas e Zimdari - 6

تعمیروتخریب

Watch Tameer o Takhreeb YouTube Video

ملک و قوم کی تعمیر کے لیے وہ قوت نافذہ درکار ہے جو بغیر کسی تفریق کے قانون پر عمل درآمد کرائے


 جب بھی معاشرے میں قانون مخلوق بنائے گی، خالق کا بنایا ہوا قانون نافذ نہیں ہوگا معاشرے میں انصاف نہیں بلکہ ظلم ہوگا۔اسلام میں انسانی حقوق مومن اور کافر کے لیے برابر ہیں۔صرف اسلامی نظام ہی معاشرے میں مساوات قائم کر سکتا ہے۔معاشرے میں تخریب کاری تب ہوتی ہے جب ہم اپنی عقل و دانش سے دینی حکم کا اطلاق کرتے ہیں ملک و قوم کی تعمیر کے لیے وہ قوت نافذہ درکار ہے جو بغیر کسی تفریق کے قانون پر عمل درآمد کرائے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا جب اللہ کا قانون نافذ ہوگا پھر مومن اور کافر دونوں کو یکساں انصاف ملے گا۔بندہ مومن کا ہر عمل معاشرے کے لیے معاون و مدد گار ہوتا ہے۔ آج ہمیں یورپ اور امریکہ کے قوانین کی مثال دی جاتی ہے کہ بہت اعلی ہیں اوران کے حالات ہم سے بہت بہتر ہیں۔ہماری بے عملی کی وجہ سے ہمارے حالات بد تر ہوئے ہیں ہم اپنے قوانین سے انحراف کرتے ہیں ان کا احترام نہیں کرتے جس کے پاس طاقت ہے وہ قوانین سے انحراف کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ہم اپنی اپنی پسند کا اسلام دیکھنا چاہتے ہیں۔جب ساری کوشش اللہ کے لیے ہوگی پھر آسانیاں ہی ہوں گی۔ یورپ اور امریکہ کے بہت سے قوانین ایسے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے پر بہت زیادہ منفی اثرات پڑتے ہیں جو قوانین انہوں نے بھی اسلام سے لیے ہیں وہاں وہ بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں کہ دارالعرفان منارہ میں 6،7 مئی بروز ہفتہ،اتوار  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں حضرت جی مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔ اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے سالکین تشریف لاتے ہیں
mulik o qoum ki taamer ke liye woh qowat Nafiza darkaar hai jo baghair kisi tafreeq ke qanoon par amal daraamad karaye - 1

شوال

Shawwal - 1
Shawwal - 2

حرمت حرم

Watch Hurmat-e-Haram YouTube Video

جہاد فی سبیل اللہ قیامت تک مسلمانوں پر فرض کر دیا گیا ہے

جہاد فی سبیل اللہ قیامت تک مسلمانوں پر فرض کر دیا گیا ہے اور جہاد ظلم کو روکتا ہے اور ظالم کے ہاتھ سے مظلوم سے کی گئی زیادتیوں کا مداوا کرتا ہے اور جہاد میں اللہ کریم نے حدود و قیود اور اصول و ضوابط فرما دیئے ہیںکہ مقابل کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے اور جو کوئی ہتھیار ڈال دے اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح کھڑی فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے بلکہ کافر بھی اگر اپنی عبادت گاہ میں ہو اسے اور اس کی عبادت گاہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اسی طرح میدانِ جنگ میں لڑنا اس کو آپ ﷺ نے جہادِ اصغر فرمایااور معاشرے میں ہر لمحہ اپنے نفس کے خلاف چل کر دین اسلام پر چلنے کو جہادِ اکبر فرمایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہم سب عدمِ تحفظ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے صرف اور صرف یہ ہے کہ جو قانون اور جزا و سزا کا عمل غریب اور امیر کے لیے یکساں نافذ نہ ہےاور اس میں قانونی سقم نہ ہے بلکہ ہمارے فیصلے کرنے والے خود اس کو اپنے پسند یدہ کو من پسند فیصلے سے نوازتے ہیں جو کہ بہت بڑی زیادتی ہے۔
یاد رکھیں کہ معاشرے میں قتل سے بڑا گناہ فساد فی الارض ہے کیونکہ قتل تو ایک فرد کا ہوتا ہے اور فساد تو پورے معاشرے ملک اور ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اسی طرح بحیثیت انفرادی ہر ایک بندے کا عمل ایسا ہو کہ معاشرے میں فساد برپا نہ ہو اور دوسرے لوگوں تکلیف نہ ہو۔ ہم سب معاشرے کی برائیوں اور خرابیوں پر بحث کرتے ہیں لیکن ہم اپنے کردار اور اعمال کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں اور اس حد تک گر گئے ہیں کہ اپنے آپ کو درست خیال کررہے ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے کی تبدیلی کے مکلف نہی ہیں بلکہ ہم اس بات کو سامنے رکھیں کہ حکم اذان پر کتنا عمل پیرا ہیں ۔ آخر میں ملک کی بقا اور استحکام کے لیے دعا فرمائی۔
Jehaad fi Sabeel Allah qayamat tak musalmanoon par farz kar diya gaya hai - 1

فلاح کی کنجی

Watch Falah ki Kunji YouTube Video