Featured Events


خواتین کے مسائل


بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس

Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 1
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 2
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 3
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 4
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 5
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 6
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 7
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 8
Baisat Rehmat Alam SAW Conference  - 9

بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس


صالح صحبت


یتیم کی کفالت


مقصد حیات (ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ)


مقصد حیات (ماہانہ اجتماع دارالعرفان منارہ)

Watch Maqsad-e-Hayat (Mahana Ijtima Dar ul Irfan Munarah) YouTube Video

اپنی تمام عبادات کا رخ اللہ کریم کی طرف رکھیں اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں


اللہ نے جو کچھ عطا فرمایا ہے اُسے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اپنے بچوں کو قرآن کی تلاوت ترجمہ اور تفسیر پڑھائیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی تفسیر کے مطابق ڈھال لیں۔اپنی تمام عبادات کا رخ اللہ کریم کی طرف رکھیں اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں کوئی بھی عمل کرتے وقت آخرت پر نگاہ رکھی جائے۔مخلوق کو دعوت دیں اس اللہ اللہ کی نعمت عظمی کو عام بندوں تک پہنچانا بھی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔اپنا اختیار جہاں تک ہے اس کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کریم کے احکامات پر عمل کروانے میں لگاؤاور ماننے کو عمل تک لانا ہی
 مقصو د ہے۔اور یہی لوگ ہدایت پر اور مقصد حیات کو پانے والے ہیں۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کی آمد آمد ہے لو گ نبی کریم ﷺ سے اظہار محبت بھی کرتے ہیں لیکن اگر اس اظہار محبت کو رواجات کی نذر کر دیا جائے تو پھر وہ محبت نہیں رہے گی۔محبت رواج نہیں ہوتی۔یہ غلط العام کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے یہ وہ بارگاہ ہے جہاں حکم مقدم ہوگا اپنی پسند کو آپ ﷺ کے حکم پر قربان کر دینا مقدم ہے۔دنیا کی محبت میں بھی تب ہی صدق ہو گا جب وہ محبت نبی کریم ﷺ کے تحت ہوگی جب اللہ کریم سے بندگی کا رشتہ نصیب ہوگا۔اپنی ذات کو اس میں نہ آنے دیں۔اپنے ہر کام کی نسبت اللہ کریم کی طرف رکھیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Apni tamam ebadaat ka rukh Allah kareem ki taraf rakhen apni zaat ko is mein nah anay den - 1

دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع مرکز دارالعرفان منارہ

Mahana Ijtima Dar ul Irfan Munarah - 1

قاسم فیوضات حضرت مو لانا امیر محمد اکرم اعوانؒ

قاسم فیوضات حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ نے حصول تصوف کے لیے اپنی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اس طرح وقف کیا کہ سفر و حضر میں اپنے عظیم شیخ حضرت العلا م مو لانا اللہ یا ر خان ؒ کے ساتھی بن گئے اور تشکیل جماعت کے لیے اپنا آپ یوں وقف کیا کہ قلزم فیوضات حضرت جی ؒ نے آپ کو جماعت کا جرنل قرار دیا اور جب جماعت کی ذمہ داری آپ کے کندھو ں پر ڈالی گئی تو ترویج دین کے لیے امریکہ سے جاپان اور افریقہ سے سا ئبیریا تک کا سفر کیا۔ آپ نے سٹاف کالج کوئٹہ سے ناسا (امریکہ) تک کے اداروں کا بھی دورہ فرمایا۔آپ کے سوزِ دروں اور محنت شا قہ نے تقسیم و ترسیل برکات کی وہ مبرک فضا پیدا کر دی جس سے قرون اولی کی یاد تازہ ہو جا تی ہے۔دنیا بھر سے معرفت باری کے متلاشی آپ کی خدمت عالی میں حاضر ہو کر برکات نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قلوب کو منور کرتے رہے۔

   آپ کو مترجم قرآن ہو نے کا اعزاز حاصل تھا آپ نے ”اکرم التراجم“ کے نام سے قرآن پاک کا نہایت آسان اور عام فہم ترجمہ قلمبند کیا ۔آپ مفسر قرآن بھی تھے اور تفہیم قرآن کا ملکہ خداداد بھی رکھتے تھے۔آپ کی تین تفا سیر ”اسرار التنزیل“،”اکرم التفاسیر“اور ”رب دیاں گلاں“کے نام سے مکمل شکل میں منظر عام پر آچکی ہیں۔آپ شارح کتب تصوف بھی تھے۔آپ نے اپنے شیخ حضرت مو لانا اللہ یا ر خان ؒکی کتاب ”دلائل السلوک“اور مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی کتاب  ”مسائل السلوک“ کی شرح فرما ئی۔آپ خود بھی صاحب تصانیف تھے۔تصوف و سلو ک پر آپ کی تصنیف کردہ کتب میں رموز دل،کنوز دل،ارشاد السالکین اول و دوم،کنز الطا لبین،تعلیمات و برکات نبوتﷺ،طریق نسبت اویسیہ،محا فل شیخ، خطبات امیر،نقوشِ حق اور دیگر کتب شامل ہیں۔آپ کے سفر نامے غبار راہ  اوّل و دوم اور دیا ر حبیب ﷺ میں چند روز اردو ادب میں ایک خو بصورت اضا فہ ہیں۔

    حالا ت َحاضرہ پہ آپ مکمل نظر رکھتے تھے اور ہر اہم ملکی معا ملہ پر آپ نے اپنی قلمی کاوش کو بروئے کار لاتے ہو ئے ملک کے نمایاں اخبا رات و جرائد میں لا تعداد کالم لکھے۔دوسری طرف جب اپنی واردات قلبی کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا تو آپ ایک منفرد شاعر کے روپ میں یوں سامنے آئے کہ آپ کے  شعری مجموعے منظر عام پہ آگئے ۔ آپ کے ذوق مطالعہ کا یہ عالم تھا کہ آپ کی ذاتی لائبریری میں 10 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔

حضرت جی ؒ میدان عمل میں اتر کر دین کی ترویج و ترقی کے لیے کام کرنے پر یقین رکھتے تھے اور دینی علوم کے ساتھ دنیوی علوم کی اہمیت سے بھی یوں باخبر تھے کہ "صقارہ" کے نام سے آپ نے نہ صرف بوائز اور گرلز سکول کی بنیاد رکھی بلکہ صقارہ ایجوکیشن سسٹم کے نام سے ایک مکمل نظام تعلیم تشکیل دیا نیز نہایت جدید تعلیم سے روشناس کرنے کے لیے Siqarah Leaming Hub International (SALHI) کے نام سے سکول کی بنیاد رکھی۔

حضرت جی ؒ کی دینی خدمات میں "دار الحفاظ"  کا قیام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنے ذاتی خرچ سے بہت سی مساجد بھی تعمیر کروائیں۔ حضرت جیؒ  ایک مسلمان کو قرآن کی عملی تصویر دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے "الاخوان" کی بنیاد رکھی اور مردوں کے ساتھ خواتین کی تربیت کو لازم جانتے ہوئے الاخوات کو بھی تشکیل دیا۔ دونوں تنظیموں کا مقصد اپنی ذات پہ اسلام نافذ کرنا ہے۔ آپ کی سرپرستی میں " الفلاح فاؤنڈیشن " کے نام سے ایک فلاحی تنظیم پورے ملک میں خدمت خلق کا فریضہ نہایت تندہی سے سر انجام دیتی رہی ہے اور نا گہانی آفات کے موقع پر متاثرہ علاقوں میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے ۔ ان تمام دینی و اصلاحی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ ایک طبیب حاذق ، بهترین نباض ماہر نشانہ باز منجھے ہوئے شکاری، بہترین گھڑ سوار محنتی کا شتکار اور کامیاب بزنس مین بھی تھے۔ آپ اپنا ایک ذاتی عجائب گھر بھی رکھتے تھے جس میں قدیم اشیاء اور نادر فاسلز موجود ہیں۔ حضرت جیؒ کی کثیر الجہات شخصیت کا احاطہ کرنا ممکن نہیں البتہ دین اسلام کے لیے آپ کی خدمات کا انداز  صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ The Royal Islamic Strategic Studies Centre Jordan کے زیر اہتمام چھپنے والی کتاب 500 The Mulims میں امت مسلمہ کی بین الاقوامی سطح پر جن پانچ سو متاثرکن اور بااثر شخصیات کا ذکر کیا گیا ہے کئی سالوں سے آپ کا نام ان میں شامل ہے۔ آپ نے بتاریخ 19 ربیع الاول 1439 ھ مطابق 7 دسمبر 2017 جمعتہ المبارک کی رات اسلام آباد میں بعمر 83 سال وصال فرمایا۔ إنا لله وإنا إلَيْهِ رَاجِعُون بعد از نماز جمعہ آپ کی نمازہ جنازہ آپ کے صاحبزادے الشیخ حضرت امیر عبدالقدیر  اعوان مدظلہ العالی نے پڑھائی۔ آپ کے معتقدین نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے نہایت محبوب شیخ کی آخری زیارت کر کے آپ کو دار فانی سے دار بقا کی طرف رخصت کیا۔ وصیت کے مطابق آپ کو دارالعرفان ، منارہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ نوراللہ مرقدہ۔ یہ عظیم سانحہ آپ کے متعلقین و مرید ین کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کو غم واندوہ کی شدید کیفیت سے دو چار کرنے کا باعث تھا۔