Latest Press Releases


الفاظ و بیاں سے کیفیات ِ قلبی کی حقیقت بیان نہیں ہو سکتی


 اسلام نے جو حقوق و فرائض کی تقسیم فرمائی ہے وہ ہماری ضرورت ہے۔ہماری زندگیوں کو خوشگوار بنانے کا سبب ہے۔یہ راستہ صرف اس دنیا میں نہیں بلکہ ابدی کامیابی کی طرف بھی لے کر جاتا ہے۔اللہ کریم ہر چیز کے مالک ہیں اپنی ضروریات اللہ کریم کے سامنے رکھیے اُس سے مانگا جائے وہ اس بات کو پسند فرماتا ہے۔وہ ضرورت بھی پوری فرماتا ہے اور اجرو ثواب بھی عطا فرماتا ہے۔نماز وہ عبادت ہے جو اللہ کریم سے ملاقات کا سبب ہے اُس کے حضور بندہ دن میں پانچ بار پیش ہوتا ہے جو بھی بات ہو وہ اللہ کریم کے سامنے پیش کریں وہ سب کی سننے والا ہے۔نماز وہ تعلق مع اللہ عطا کرے گی کہ بندہ بے حیائی اور برائی سے اجتناب کرے گا۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا بے نماز ہم میں سے نہیں،نماز تو بندہ مومن کی پہچان ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن (انگلینڈ) میں سراجا منیرا کانفرنس کے موقع پر خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ ذکر کی تین اقسام ہیں عملی ذکر،لثانی ذکر اور قلبی ذکر۔عملی ذکر میں ہر وہ نیک عمل جو ہم کرتے ہیں عملی ذکر میں داخل ہو گا۔دوسرے نمبر پر لثانی اذکار ہیں جن میں تسبیحات آتی ہیں جیسے درودشریف،تلاوت کوئی نیک بات یہ سب لثانی ذکر میں شمار ہو گا اور اس کے علاوہ ذکر خفی ہے جس میں نہاں خانہ دل سے اللہ کریم کو یاد کیا جائے۔ذکر خفی نصیب ہو تو یہ احساس زندہ ہوتا ہے کہ میں ہمہ وقت اپنے اللہ کے روبروہوں۔نبی کریم ﷺ کی حدیث جبریل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ کریم کی عبادت ایسے کرو جیسے تم اللہ کریم کو دیکھ رہے ہواگر یہ درجہ نصیب نہیں تو کم از کم یہ کیفیت ضرور ہو میرے اللہ کریم مجھے دیکھ رہے ہیں۔ذکر قلبی سے بندہ مومن کو یہ کیفیت نصیب ہوتی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اپنی اولاد کو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ترغیب دیجیے۔آج کے معاشرے میں ہم اپنا وجود کھو رہے ہیں۔ہم اتنی محنت اپنے بچوں کی بھلائی کے لیے کر رہے ہیں انہیں آخرت کی کامیابی کے لیے بھی تیار کیجیے۔اس جدت کے دور میں ایک گھر میں رہتے ہوئے ہر کوئی اکیلا محسوس کر رہا ہے ہر ایک کے ہاتھ میں سکرین ہے کوئی کسی سے بات تک نہیں کر رہا ہر کوئی اس سکرین پر لگا ہے۔ہمیں اپنی ضرورت کے طریقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جو اقدار ہمیں اپنے بڑوں سے ملی ہیں کیا ہم وہ اپنے بچوں میں منتقل کر رہے ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی
Alfaaz o bayan se kaifiyat qalbi ki haqeeqat bayan nahi ho sakti - 1

قرآن کریم اللہ کریم کا ذاتی کلام ہے یہ وہ کتاب ہے جو جامع ہے،اکمل ہے


  قرآن کریم اللہ کریم کا ذاتی کلام ہے یہ وہ کتاب ہے جو جامع ہے،اکمل ہے،اس میں کوئی  شک یا شبہ کی گنجائش نہیں جسے اللہ کریم نے اپنی عبادت کو پیدا فرمایا اس کے لیے تعلیم فرمائی جا رہی ہے۔قرآن کریم کو دیکھنا،چھونا عبادت ہے لیکن اصل مقصد اس کو پڑھنا سیکھنا اور اپنے آپ پر نافذ کرنا اور دوسروں تک پہنچانا ہے۔یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ہم نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔انسانی مزاج ہے کہ یہ مل جل کر رہتا ہے اس کے اعمال کا اثر نہ صرف اس کی اپنی ذات کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔تو جب انسانی زندگی اللہ کریم کے احکامات کے مطابق بسر ہوگی پھر سارے معاشرے میں بہتری آئے گی۔یہی وہ کتاب ہے جو ہماری رہنمائی فرماتی ہے کہ زندگی کو کیسے گزارنا ہے اور صدیاں اس بات پر گواہ ہیں کہ جو عمل قرآن کریم کی راہنمائی میں کیا جائے گا اس کے اثرات مثبت ہوں گے اور وہ عمل کرنے میں بھی انتہائی آسان ہوگا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا لندن (انگلینڈ)  ہنسلو جامع مسجد میں جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ جس طرح زندگی میں کامیابی کے لیے ہم اپنی ترجیحات کا دھیان رکھتے ہیں سارا دن محنت کرتے ہیں آپ کو درست سمت کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ ہماری زندگی کامیاب گزرے اور ایک دن بھی ضائع نہیں کرتے اسی طرح جب آخرت کی بات آئے گی تو اللہ کریم فرماتے ہیں اس کتاب میں ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو متقی ہیں جو اللہ کریم سے اپنا رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں ان کی انگلی تھا م کر یہ کتاب ان کو لے کر چلتی ہے۔جیسے ارشاد ہے کہ نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے اب اگر معاشرے سے صرف بے حیائی اور برائی ختم ہو جائے تو یہی معاشرہ جنت جیسا ہو جائے ہر ایک سلامتی میں ہو سکھ میں سکون میں ہو۔اپنی زندگیوں کو قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے حکم کے تحت لے آئیں گے تو دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوگی۔ اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں 
آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے دعا بھی فرمائی۔
Quran kareem Allah kareem ka zaati kalaam hai yeh woh kitaab hai jo jame hai, Akmal hai - 1

راجہ پرویز اشرف سپیکر قومی اسمبلی کی دارالعرفان منارہ آمد


 حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی کو ان کے بیٹے کی شادی کی مبارک باد دی اور حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ کے مزار مبارک پر حاضری دی اور فاتح پڑھی۔حضرت امیر عبدالقدیر اعوان کے ساتھ خصوصی نشست میں ملکی موجودہ حالات کی بہتری بارے تفصیلی بات ہوئی 
  راجہ پرویز اشرف صاحب نے حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان ؒ کی دینی خدمات اور شعبہ تصوف میں بے پناہ خدمات کو سراہا۔اس موقع پر سابقہ انٹیرئیر سٹیٹ منسٹر تسنیم احمد قریشی ،راجہ عظیم،راجہ رضوان ڈنڈوت بھی موجود تھے۔اس کے علاوہ معززین علاقہ کی بھی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی
Raja Pervez Ashraf speaker qaumi assembly ki Dar ul Irfan Munara Aamid - 1

نماز اللہ کریم سے ہم کلامی ہے اور یہ بہت بڑا انعام ہے


 معاشرے میں اس وقت تلخی اورباہم انتشارپھیل چکا ہے اس لیے قرآن مجید کے اس حکم پرعمل کرنے کی ضرورت ہے کہ جہاں بیہودہ بات ہو رہی ہو وہاں سے سنجیدگی سے گزر جائیں اور اس بحث وتکرار کا حصہ نہ بنیں۔ اپنے بچوں کو سکرین سے ہٹا کر خود وقت دیں اور دین کی تعلیم اور اس کی ترغیب دیں کیا روز محشر کوئی پسند کرے گا کہ اس کے لخت جگر کو دوزخ کی آگ کے حوالے کر دیا جائے۔ہمیں توبہ کرکے نیک اعمال اختیار کرنے کی ضرورت ہے توبہ یا تائب ہونے سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کو چھوڑ دیا جائے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع سے خطاب 
  انہوں نے کہا کہ نماز اللہ کریم سے ہم کلامی ہے اور یہ بہت بڑا انعام ہے ہمیں اپنا رخ اللہ کریم کی طرف کرنے کی ضرورت ہے کہ بندہ جب دعوی ایمان رکھے پھر اپنے آپ کو اللہ کریم کے سپرد کردے۔اللہ کریم سے توفیق مانگی جائے اور بندہ اپنے معاملات کی نسبت اللہ کریم کی طرف رکھے۔انانیت اور اپنی ذات تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے ہر کام کی نسبت اللہ کریم کی طرف ہونی چاہیے۔اللہ اللہ مضبوط کریں ذکراذکار مضبوط کریں مراقبات راسخ ہوں۔بندہ جہاں سے گزرے تو لوگ آپ کو دیکھ کر نمازی ہوتے جائیں نیکی کی رغبت پیدا ہوتی جائے یہ بندے کا کمال نہیں بلکہ اللہ اللہ کا ہے اسم ذات کا ہے۔اپنے اعمال کا،اپنے کلام کا اپنی نگاہ کا خیال رکھا جا سکتا ہے تو حکم دیا گیا ہے۔اگر ہم خیال نہیں رکھ رہے تو یہ ہمارا اپنا فیصلہ ہے۔ہماری مرضی کا دخل ہے۔جتنی اللہ اللہ کرو گے توفیق عمل نصیب ہوگی۔
 اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Namaz Allah kareem se hum kalami hai aur yeh bohat bara inaam hai - 1

حج کی شرف قبولیت بندہ مومن کو ایسے پاک کر دیتی ہے جیسے آج پیدا ہو ا ہے


بیت اللہ شریف وہ مقام ہے جو کائنات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور حج وہ عبادت ہے جو پوری اسلامی دنیا کو مرکزیت عطا کرتی ہے جس سے پوری اسلامی دنیا کو اتفاق و اتحاد کا درس ملتاہے۔حج وہ عبادت ہے جو بندہ مومن کو خلافت کا درس دیتی ہے کہ لاکھوں لوگ ایک جگہ اکھٹے ہو کر ایک امام کے پیچھے اللہ اکبر کہنے پر رکوع و سجود کریں۔ اللہ کریم کی رحمت بہت وسیع ہے کوئی گناہ اُس کی رحمت کو عاجز نہیں کر سکتا۔عبادات کو خالص اللہ کے لیے ادا کریں۔حج کرنے کا مقصد حاجی کہلانا نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے دین اسلام کا یہ رکن ادا کرنا مقصود ہے۔صرف فوٹو شوٹ یا تفریح کے لیے جانا حج نہیں ہے۔حاجی تو کہلائیں گے لیکن کیاایسا حج عبادت کے زمرے میں آئے گا؟ہم حج بھی کر آتے ہیں لیکن ہمارے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی کمائی کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس میں سود تو نہیں شامل ہو گیا۔ کہیں ہم کسی کا حق مار کر حج کے لیے تو نہیں جا رہے۔جب حلال ذرئع سے ہم حج کے لیے جائیں گے تو ان شاء اللہ کردار گواہی دے گا کہ یہ حاجی ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبار ک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ مخلوق میں جتنے اختلافات ہیں ان کا حل یہی ہے کہ ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔خالق اپنی مخلوق سے بے حد پیار کرتا ہے۔عبادات سے اللہ کریم کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔عبادات خواہشات ذاتی کے مطابق سجدہ کرنے کا نام نہیں ہے۔حج جوانی کی عبادت ہے کہ بندے میں اتنی ہمت ہو کہ وہ آسانی سے حج کے تمام ارکان ادا کر سکے اور حجاج کرام کو دوران حج اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے کسی دوسرے حاجی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تصوف دم اور مصائب سے چھٹکارے کانام نہیں ہے بلکہ قرب الہی کے لیے ہے بندہ ظاہر سے باطن تک پاکیزگی کی طرف سفر کرتا ہے۔بندہ توبہ کرتاہے،رجوع الی اللہ کرتاہے اگر کوئی نافرمانی ہو جائے تو ندامت محسوس کرتا ہے۔ تصوف کی راہ پر چلنے والے مسافر کی ایسی کیفیات ہوتی ہیں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 3،4 جون بروز ہفتہ،اتوار  دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع ہو رہا ہے جس میں ملک کے طول وعرض سالکین اس اجتماع میں شرکت کریں گے۔اتوار دن 11 بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی اس اجتماع سے خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی،تمام خواتین و حضرات کو دعوت عام دی جاتی ہے۔
Hajj ki Sharf qabuliat bandah momin ko aisay pak kar deti hai jaisay aaj peda hoa hai - 1

موجودہ حالات میں بہتری کے لیے نظام تعلیم میں بھی بہتری کی انتہائی ضرورت ہے


 جتنے مسائل ہیں ان سے نکلنے کے لیے بہت بڑا حصہ ہمارے نظام تعلیم کا بھی ہے۔نظام تعلیم پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ہماری آنے والی نسلوں کی تربیت نظام تعلیم کے ساتھ وابستہ ہے۔ہم وقتی اور جذباتی کیفیت کے ساتھ چلتے ہیں۔لمحہ لمحہ بندہ امتحان میں ہے۔درست سمت کی طرف چلنا صبح شام ایک مسلسل عمل ہے۔قوموں کے لیے اصول وضوابط کی ضرورت ہے ہوتی ہے اور آپ ﷺ نے پوری انسانیت کے لیے درد محسوس کیا جو گ آپ ﷺ سے اختلاف رکھتے انہوں نے بھی کبھی آپ ﷺ کی بات اور عمل پر کبھی انگلی نہیں اُٹھائی۔آپ ﷺ نے ایسا مربوط نظام دیا کہ آنے والے زمانوں نے اس کی شہادت دی کہ کتنا درست نظام ہے۔ہماری تنزلی کا سبب وہ اصول و ضوابط چھوڑ دئیے جو ہمارے عروج کا سبب تھے۔ 
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ جہاں جب بھی انسان اپنی پسند کا نظام لے کر آیا وہاں ظلم اور زیادتی ہی ہوئی۔کیونکہ کسی ایک کی پسند دوسرے کی نا پسند ہو سکتی ہے۔کہیں کسی ایک کا فائدہ دوسرے کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ انسانیت میں اللہ کے حکم کے بغیر تقویت نہیں آسکتی۔اللہ کریم کی پسند عین عدل ہے جو انسان کے تمام فطری تقاضے پورے فرماتی ہے۔احساس زمہ داری کی اشد ضرور ت ہے۔جو ہمارے ذمہ ہے ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں سب سے پہلے خود اپنے سے شروع کریں جو آپ کی ذمہ داری ہے اسے پورا کریں پھر اپنی فیملی کو ترغیب دیں کہ بحیثیت قوم اور امت اپنی ذمہ داری ادا کریں اس کے بعد مخلوق سے بات کریں گے تو سنی بھی جائے گی۔بحث سے نکل کر عملی اقدام کی ضرورت ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔
Mojooda halaat mein behtari ke liye nizaam taleem mein bhi behtari ki intehai zaroorat hai - 1

سبز ہلالی پرچم اور وطن عزیز کی ہر شئے ہمیں جان سے زیادہ عزیز ہونی چاہیے


وطن عزیز اور سبزہلالی پرچم کے حصول کے لیے لاکھوں جانیں نچھاور ہوئیں۔آج ہمارے ملک میں ہماری نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے جو کچھ ہوا وہ ایسے ہی ہے جیسے ہم اپنے گھر کی چھت کو خود اپنے ہاتھوں سے گرا رہے ہوں۔ہمارے ملک کے باسی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے ہیں ایسا کیا ہوا کہ یہ اپنے ہی بھائیوں اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو گئے۔ملک دشمن عناصر ہماری اُن بنیادوں کو جو اللہ کریم پر ایمان کے ساتھ مضبوط ہیں کو کھوکھلا کرنے میں لگے ہیں اور ہم خواب غفلت میں ہیں اس بات کا ادراک نہیں کر رہے۔ہمیں واپس لوٹنا ہوگا اور رجو ع الی للہ کرنا ہوگا تاکہ ہم ان سازشوں اور ملک دشمن عناصرکا مقابلہ کر سکیں اور وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان نفسانی خواہشات کے پیچھے لگ جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ باقی لوگ بھی میری خواہش کے مطابق رہیں میری ہاں میں ہاں ملائیں وہ دوسروں پر بھی اپنی پسند مسلط کرنا چاہتا ہے۔وطن عزیز پاکستان کو بکھیرنے میں کروڑوں کے بجٹ لگائے جا رہے ہیں اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا حصہ بن رہا ہے۔ہماری بد اعمالیوں کے اثرات ہماری موجودہ نسل تک پہنچ چکے ہیں ہم اور ہماری اولادوں میں فاصلے پیدا ہو گئے ہیں کوئی کسی کی بات سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔اس سب کا واحد حل توبہ اور رجوع الی اللہ ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور ملک و قوم کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی
Sabz hlali parcham aur watan Aziz ki har shye hamein jaan se ziyada Aziz honi chahiye - 1

دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ بندہ خود بھی با عمل ہو


 دعوت الی اللہ کے لیے ضروری ہے کہ بندہ خود بھی با عمل ہو اور جسے دعوت دی جا رہی ہو اس کی خیر خواہی مقصود ہو۔محبت،پیار،شفقت اور حکمت کے ساتھ مخلوق کو خالق کی طرف بلایا جائے اور اپنے مزاج کی سختی کو حائل کیے بغیر تبلیغ کی جائے۔تبلیغ کے لیے کوئی وقت مخصوص کرنا ضروری نہیں ہمارا ہر عمل اللہ کے حکم کے مطابق اور نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ہونا چاہیے یہ عمل ہمہ وقت کا ہے کسی بھی عمل کو جب دین اسلام کے اصولوں کے مطابق کیا جائے گا تو ہر لمحہ عبادت شمار ہو گا۔اور اُس عمل کے نتائج بھی اعلی ہوں گے۔پھر ہمارا کردارہماری تبلیغ ہو گا۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین کی بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کا انسانیت کو نصیب ہونا انسانیت کے لیے بہت بڑا شرف ہے۔تربیت کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے گئے۔ہمیں اپنی ذات کے خول سے نکل کر ذاتِ باری تعالی کی بات کرنی چاہیے۔اللہ اتنے کریم ہیں کہ اگر کوئی گناہ کا ارادہ رکھتا ہو پھر اسے رد کر دے تو اس پر بھی اجر و ثواب عطا فرماتے ہیں اور اگر کوئی نیک اعمال اختیار کرے تو اس پر کیا کرم اور فضل ہو گا۔اللہ کریم ہر ایک کے حال سے واقف ہیں کوئی ظاہر کرے یا چھپائے۔عبادات کا شمار کرنا لازم نہیں وہ جانتا ہے کہ کس درجے کے رکوع و سجود ہیں اور ایک دن آنے والا ہے جب سب جان جائیں گے کہ ان کے اعمال کس درجے کے تھے۔ہمیں اپنی پوری قوت سے اس کی اطاعت کرنی ہے نتائج اللہ کریم کے دستِ قدرت میں ہیں اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Dawat e Allah ke liye zaroori hai ke bandah khud bhi ba amal ho - 1

ملک و قوم کی تعمیر کے لیے وہ قوت نافذہ درکار ہے جو بغیر کسی تفریق کے قانون پر عمل درآمد کرائے


 جب بھی معاشرے میں قانون مخلوق بنائے گی، خالق کا بنایا ہوا قانون نافذ نہیں ہوگا معاشرے میں انصاف نہیں بلکہ ظلم ہوگا۔اسلام میں انسانی حقوق مومن اور کافر کے لیے برابر ہیں۔صرف اسلامی نظام ہی معاشرے میں مساوات قائم کر سکتا ہے۔معاشرے میں تخریب کاری تب ہوتی ہے جب ہم اپنی عقل و دانش سے دینی حکم کا اطلاق کرتے ہیں ملک و قوم کی تعمیر کے لیے وہ قوت نافذہ درکار ہے جو بغیر کسی تفریق کے قانون پر عمل درآمد کرائے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے کہا جب اللہ کا قانون نافذ ہوگا پھر مومن اور کافر دونوں کو یکساں انصاف ملے گا۔بندہ مومن کا ہر عمل معاشرے کے لیے معاون و مدد گار ہوتا ہے۔ آج ہمیں یورپ اور امریکہ کے قوانین کی مثال دی جاتی ہے کہ بہت اعلی ہیں اوران کے حالات ہم سے بہت بہتر ہیں۔ہماری بے عملی کی وجہ سے ہمارے حالات بد تر ہوئے ہیں ہم اپنے قوانین سے انحراف کرتے ہیں ان کا احترام نہیں کرتے جس کے پاس طاقت ہے وہ قوانین سے انحراف کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ہم اپنی اپنی پسند کا اسلام دیکھنا چاہتے ہیں۔جب ساری کوشش اللہ کے لیے ہوگی پھر آسانیاں ہی ہوں گی۔ یورپ اور امریکہ کے بہت سے قوانین ایسے ہیں جن کی وجہ سے معاشرے پر بہت زیادہ منفی اثرات پڑتے ہیں جو قوانین انہوں نے بھی اسلام سے لیے ہیں وہاں وہ بھی استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں کہ دارالعرفان منارہ میں 6،7 مئی بروز ہفتہ،اتوار  دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں حضرت جی مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی۔ اس اجتماع میں ملک کے طول و عرض سے سالکین تشریف لاتے ہیں
mulik o qoum ki taamer ke liye woh qowat Nafiza darkaar hai jo baghair kisi tafreeq ke qanoon par amal daraamad karaye - 1

جہاد فی سبیل اللہ قیامت تک مسلمانوں پر فرض کر دیا گیا ہے

جہاد فی سبیل اللہ قیامت تک مسلمانوں پر فرض کر دیا گیا ہے اور جہاد ظلم کو روکتا ہے اور ظالم کے ہاتھ سے مظلوم سے کی گئی زیادتیوں کا مداوا کرتا ہے اور جہاد میں اللہ کریم نے حدود و قیود اور اصول و ضوابط فرما دیئے ہیںکہ مقابل کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے اور جو کوئی ہتھیار ڈال دے اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح کھڑی فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے بلکہ کافر بھی اگر اپنی عبادت گاہ میں ہو اسے اور اس کی عبادت گاہ کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ اسی طرح میدانِ جنگ میں لڑنا اس کو آپ ﷺ نے جہادِ اصغر فرمایااور معاشرے میں ہر لمحہ اپنے نفس کے خلاف چل کر دین اسلام پر چلنے کو جہادِ اکبر فرمایا گیا۔ ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعۃ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ہم سب عدمِ تحفظ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے صرف اور صرف یہ ہے کہ جو قانون اور جزا و سزا کا عمل غریب اور امیر کے لیے یکساں نافذ نہ ہےاور اس میں قانونی سقم نہ ہے بلکہ ہمارے فیصلے کرنے والے خود اس کو اپنے پسند یدہ کو من پسند فیصلے سے نوازتے ہیں جو کہ بہت بڑی زیادتی ہے۔
یاد رکھیں کہ معاشرے میں قتل سے بڑا گناہ فساد فی الارض ہے کیونکہ قتل تو ایک فرد کا ہوتا ہے اور فساد تو پورے معاشرے ملک اور ہزاروں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اسی طرح بحیثیت انفرادی ہر ایک بندے کا عمل ایسا ہو کہ معاشرے میں فساد برپا نہ ہو اور دوسرے لوگوں تکلیف نہ ہو۔ ہم سب معاشرے کی برائیوں اور خرابیوں پر بحث کرتے ہیں لیکن ہم اپنے کردار اور اعمال کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں اور اس حد تک گر گئے ہیں کہ اپنے آپ کو درست خیال کررہے ہوتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاشرے کی تبدیلی کے مکلف نہی ہیں بلکہ ہم اس بات کو سامنے رکھیں کہ حکم اذان پر کتنا عمل پیرا ہیں ۔ آخر میں ملک کی بقا اور استحکام کے لیے دعا فرمائی۔
Jehaad fi Sabeel Allah qayamat tak musalmanoon par farz kar diya gaya hai - 1