Featured Events


ماہانہ روحانی اجتماع اور حلف برداری

Watch Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari YouTube Video
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 1
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 2
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 3
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 4
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 5
Mahana Rohani Ijtima Aur Half Bardaari - 6

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

نسبتِ اویسیہ سینہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے چلتی ہے جو برکاتِ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھرا ہوا خزانہ ہیں - حضور اکرم ﷺ نے 11 ہجری کو وصال فرمایا۔  دو سال بعد 13 ہجری میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا وصال ہوا۔ آپؓ کی خلافت دو سال اور چند ماہ رہی۔ (ڈائری 2019)

آن لائن اگست ماہانہ اجتماع

درس حدیث

پنجابی تفسیر رب دیاں گلاں

آن لائن اگست ماہانہ اجتماع کا اختتامی بیان - ذمہ داری کی ادائیگی

Online Mahana Ijtima - 1
Online Mahana Ijtima - 2
Online Mahana Ijtima - 3
Online Mahana Ijtima - 4
Online Mahana Ijtima - 5
Online Mahana Ijtima - 6
Online Mahana Ijtima - 7
Online Mahana Ijtima - 8
Online Mahana Ijtima - 9
Online Mahana Ijtima - 10

حضرت خواجہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ علیہ نے تیرہویں اور چودھویں صدی ہجری کا زمانہ پایا۔ آپؒ  عربی النسل اور ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؒ کی ولادت پیر کوٹ سدھانہ ضلع جھنگ میں ہوئی۔ آپؒ کا تعلق صاحب علم اور شاعرانہ ذوق والے خاندان سے تھا۔ آپؒ نے نہایت شوق و محبت سے انتہائی خوبصورت رسم الخط میں قرآن پاک تحریر فرمایا۔  ابتدائے طریقت میں آپؒ کی ظاہری نسبت اپنے والد ماجد خواجہ غلام نبی فقیر اللہ سے تھی۔ جنہوں نے لطیفہ قلب کے بعد انہیں ملتان میں ایک صوفی دوست کے پاس بھیج دیا، انہوں نے آپؒ کو 14 سال میں سات لطائف کروائے۔ 14 سال کی شب و روز محنت شاقہ کے بعد والدِ ماجد نے انہیں مراقباتِ ثلاثہ کروائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ظاہری تعلیم کی تکمیل کے بعد آپؒ محکمہ مال میں بھرتی ہوئے اور لنگر مخدوم تبادلہ پہ  حضرت سلطان العارفین حضرت اللّٰہ دین مدنیؒ کے مزار پر حاضری نصیب ہوئی۔  صاحب بصیرت تو تھے ہی کیفیات محسوس ہونے پر صبح شام حاضری اور ذکر اذکار معمول بن گیا۔  تین سال بعد حضرت سلطان العارفینؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا اور پھر اگلے مراقبات کے ساتھ نسبتِ اویسیہ نصیب ہونے کی سعادت پائی۔ آپؒ نے لنگر مخدوم میں ہی مستقل رہائش اختیار فرمالی، اور اسی جگہ 30 جنوری 1957 میں رحلت فرمائی۔

حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ

حضرت حسن بصریؒ نسبتِ اویسیہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد آتے ہیں۔ اُم المومنین حضرت امِ سلمہ  رضی اللہ تعالی عنہا کی با سعادت کنیز شریفہ کے ہاں حضرت خواجہ حسن بصریؒ کی ولادت ایک روایت کے مطابق 15 ہجری میں ہوئی۔ اللہ تعالی نے آپؒ کو یہ سعادت عظمیٰ عطا فرمائی کہ اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی گود خود آپؒ کا گہوارہ بنی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب آپؒ کو دیکھا تو آپؒ کے والد سے فرمایا: سموہ حسن لانہ حسنا الوجہ
"اس کا نام حسن رکھ دو کیونکہ اس کا چہرہ خوبصورت ہے۔"

آپؒ کو 130 صحابہ کرامؓ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جن میں 70 صحابہؓ بدری تھے۔ آپؒ نے زندگی بھر عبادات میں درجہ احسان کی حصول کی طرف توجہ دلائی۔ علم تصوف کے حصول کے لیے آپؒ کے پاس حاضر ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی، لیکن آپؒ نے ان میں سے چند خوش نصیب افراد ہی کو اس علم کا اہل خیال فرمایا۔  آپؒ انتہائی خوش لباس تھے اور فقیرانہ لباس کو ریا اور تکبر خیال کرتے۔  جمعرات کی شب یکم رجب 110 ہجری کو آپؒ کا وصال ہوا۔

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت جنید بغدادیؒ تیسری صدی ہجری کے ممتاز شیخِ طریقت ہیں۔  قریباً 227 ہجری سے 297 ہجری کا زمانہ پایا۔ آپؒ کا تعلق ایک ایرانی النسل خاندان سے تھا۔ اہلِ طریقت نے حضرت جنید بغدادیؒ کو سید الطائفہ قرار دیا ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ نے ان کو طریقت میں شیخ المشائخ اور شریعت میں امام الائمہ، حضرت فرید الدین عطارؒ نے آپؒ کو مجددِ طریقت اور حضرت شاہ ولی اللہؒ نے آپؒ کی تعلیمات کو 'الطاف القدس' میں آپؒ کے بعد پیدا ہونے والے تمام صوفیاء کے لیے راہِ طریقت قرار دیا۔

حضرت جنید بغدادیؒ کی روحانی تربیت حضرت سری سقطیؒ کی سرپرستی میں، حضرت خواجہ حسن بصریؒ کے طریقِ تصوف پر ہوئی۔ نسبتِ اویسیہ میں حضرت جنید بغدادیؒ اس قدر اہم کڑی ہیں کہ آپؒ کے بعد چھ صدیوں کی طویل مسافت کے بعد بغیر کسی واسطہ کے حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ کا نام آتا ہے۔ کچھ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نسبتِ طریقِ اویسیہ میں آپؒ کے ضیاء فشانی کا عالم کیا ہوگا!

حضرت جنید بغدادیؒ نے تصوف کو ترک دنیا، گوشہ نشینی اور بے عملی سے نکال کر عملی تصوف کی تعلیم دی اور حیاتِ مبارکہ کے شب و روز سلوک و احسان کے مجاہدوں میں بسر کیے۔  دینی علوم کے ساتھ ساتھ حضرت جنید بغدادیؒ نے فن سپاہ گری میں بھی مہارت حاصل کی۔  آپؒ اپنے ہم عصروں میں مانے ہوئے پہلوان تھے اور بطور شاہی پہلوان معروف تھے۔ حضرت جنید بغدادیؒ کا وصال 27 رجب 297 ہجری کو ہوا۔

حضرت مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا عبد الرحمن جامیؒ 23 شعبان 817 ہجری کو خراسان کے شہر جام میں پیدا ہوئے اور اسی شہر کی نسبت سے مولانا جامیؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انتہائی کم سنی میں حضرت مولانا فخرالدین نورستانیؒ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ مولانا عبدالرحمن جامیؒ کی عمر جب پانچ سال کے قریب تھی تو آپؒ کی زندگی کا دوسرا اہم واقعہ حضرت محمد پارساؒ کی زیارت ہے، جو خواجہ بہاؤالحق نقشبندؒ کے اکابر اصحاب میں سے تھے۔ اس واقعہ نے بھی آپؒ کی زندگی پر اہم اثرات ڈالے، بلکہ نسبت نقشبندیہ سے دل کا تعلق خاص اسی واقعہ کا ثمر ہے۔

آپؒ نے ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والدِ محترم سے حاصل کی، چھوٹی عمر میں ہی والد کے ہمراہ ہرات آئے اور مدرسہ نظامیہ میں داخل ہوئے۔ اگرچہ ابھی سنِ بلوغت کو نہ پہنچے تھے لیکن کتب کو سمجھنے کی استعداد رکھتے تھے، چنانچہ آخری درجہ کے طلبہ کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔

علومِ ظاہری کی تکمیل ہوئی تو قلبی کیفیات میں اضطراب اور بے چینی بڑھنے لگی۔ چنانچہ آپؒ نے اپنی ہم عصر معروف روحانی شخصیات سے رابطہ فرمایا جن میں مولانا سعدالدین کاشغریؒ اور حضرت شیخ بہاؤالدین عمرؒ سے ہرات کے مقام پر آپؒ کی ملاقات ہوئی، جبکہ مروکے مقام پر آپؒ 865 ہجری میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ سے ملے۔ یہی وہ ہستی تھی جو آپؒ جیسی روحانی قوت کی حامل شخصیت کو آگے چلانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا تاہم اکتساب فیض کا اصل ذریعہ نسبتِ اویسیہ تھی جو ملاقاتوں اور ظاہری روابط کی محتاج نہیں۔

حضرت مولانا عبد الرحمن جامیؒ صاحبِ تصانیف تھے، آپؒ کی تصانیف کی تعداد ایک فہرست کے مطابق 45 ہے۔ علاوہ ازیں آپؒ صاحبِ طرز شاعر بھی تھے، آپؒ کی شاعری نے صدیوں تک آنے والے شعراء کو متاثر کیا۔ 18 محرم الحرام 898 ہجری کو آپؒ دار فانی سے دارالبقاء کی طرف روانہ ہوئے۔

حضرت ابو ایوب محمد صالح رحمۃ اللہ علیہ

حضرت ابو ایوب محمد صالحؒ کا زمانہ نویں صدی ہجری کا ہے۔ آپؒ کا تعلق یمن سے تھا۔ جب آپؒ مولانا عبدالرحمن جامیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنی عمر طبعی کے آخری حصے میں تھے اور ایسے لوگوں کی تلاش میں تھے جو قلب میں انابت رکھتے ہوں۔ گویا آپؒ اپنے شیخ کی مراد بھی تھے۔ آپؒ کا ذوق و خلوص دیکھتے ہوئے شیخ نے خصوصی توجہ سے نوازا۔ آپؒ نے شیخ کے وصال کے بعد 916 ہجری تک کا وقت اپنے شیخ کے آستانے پہ بسر فرمایا اور اکتسابِ فیض کیا۔ پھر ہندوستان سے ہوتے ہوئے حرمین شریفین میں حاضری کے بعد کچھ عرصہ مدینہ منورہ میں قیام فرمانے کی سعادت حاصل کی۔ جہاں روضہ اطہر کے ایک  مجاور (حضرت اللّٰہ دینؒ) سے آپؒ کی ملاقات ہوئی۔ آپؒ نے نسبتِ اویسیہ کی مشعل کو حضرت خواجہ اللہ دینؒ تک منتقل فرمایا۔

حضرت خواجہ اللہ دین مدنی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ اللہ دین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ دسویں صدی ہجری کا ہے۔ سلطان العارفین حضرت اللہ دین مدنیؒ مدینہ منورہ کے رہنے والے اور روضہ اطہر پر مجاور تھے۔ حضرت ابو ایوب محمد صالحؒ  سے مسجد نبوی ﷺ میں ہی اکتسابِ فیض کیا اور پھر مختلف ملکوں سے ہوتے ہوئے ہندوستان تشریف لائے۔ دہلی سے واپسی پر جب آپؒ لنگر مخدوم پہنچے تو یہاں پہ واقع ایک ٹیلا پر بنی کچی کوٹھری میں بقیہ عمر بسر فرما دی۔  یہاں چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھا اور آبادی دین اسلام کی رو ح سے نابلد تھی، لہذا آپؒ احیائے دین میں مصروف ہوگئے۔ آپؒ کی ذات بابرکت سے اہل علاقہ کے عقائد میں ایسی خوبصورت تبدیلی آئی کہ لوگوں نے آپؒ کو "اللہ دیا "کے نام سے پکارنا شروع کر دیا، جو بعد میں 'اللہ دین' کے نام سے مشہور ہو گیا۔ آپؒ کا وصال 63 برس کی عمر میں ہوا۔  کئی برس تک فیوضات و برکات کا یہ خزانہ مستور رہا یہاں تک کہ خواجہ عبدالرحیمؒ نے اس کی نشاندہی کا شرف حاصل کیا۔

شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت

شریعت نام ہے کُل اور مجموعہ احکام کا۔  سارے کے سارے احکام (مجموعہ احکام) جو ہیں اُن سب کو شریعت کہا جاتا ہے، خواہ ان احکام کا تعلق اُمور باطنہ سے ہو یا اُمور ظاہرہ کے ساتھ۔

علماء متقدمین اور تمام صوفیا اس بات پر متفق ہیں کہ ''شریعت'' لفظ ''فقہ'' کے مترادف  ہے۔ چونکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ نے فقہ کی تعریف ہی یہ کی ہے؛ مَعْرِفَۃُ النَّفْسِ مَالَہا وَمَا عَلَیہَا (ترجمہ:  نفس کی پہچان، جو اس کے نفع کی چیز ہے یا نقصان کی چیز ہے)۔ اس  لئے مجموعہ احکام ظاہری اور باطنیہ اعمال بھی سارے کے سارے اس میں آگئے۔ متاخرین علماء نے اس کی تقسیم یوں کی ہے احکام ظاہری پر انہوں نے فقہ کا اطلاق کر دیا اور جن اُمور کا تعلق باطن سے ہے اُن پر تصوف کا اطلاق کردیا۔

اسلام سے باہر تو کوئی چیز نہیں، یہی شریعت ہے، یہی حقیقت ہے، یہی سب کچھ ہے، اسی کو شریعت کہتے ہیں۔

طریقت

اُن وسائل، ذرائع اور طرق کا نام ہے جن کے ذریعہ سے احکام ظاہری یا احکام باطنی حاصل کئے جائیں مثلا درس و تدریس، پڑھنا پڑھانا، تصنیف کرنا، لکھنا، تبلیغ کرنا، کسی سے پوچھ لینا۔۔۔ یہ رستے اور ذرائع ہیں شرعی احکام تک پہنچنے کے، انہیں طریقت کہا جاتا ہے، (طریقت کہتے ہی رستے کو ہیں یعنی اس راہ پر چل کر کسی چیز کو حاصل کرنا، انسان ہمیشہ کسی مقصد کے لیے حرکت کرتا ہے)  اس طرح باطنی اُمور یعنی تصوف میں لطائف کرنا، مراقبات کرنا وغیرہ۔

اصل تصوف  ہے رضائے الٰہی کا نام، اللہ کی رضا حاصل کی جائے، اللہ کی محبت حاصل کی جائے، اس کی رضا کس امر میں ہے، اور وہ ناراض کس بات میں ہے (اسے حاصل کیا جائے)۔ تصوف اس چیز کو کہتے ہیں یہ نہیں کہ کوئی چیزیں دیکھ لیں، کشف ہو گیا، الہام ہو گیا۔ تو یہ سمجھنے لگے کہ میں صوفی بن گیا، بڑی چیز بن گیا، نہیں بلکہ تصوف کی حقیقت یہ ہے کہ رضائے الٰہی حاصل کی جائے۔ یہ دیکھنا کہ اللہ کی محبت کس طرح حاصل ہو اللہ کی رضا کس چیز میں ہے۔

اللہ کی رضا اس کی عبادت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے قال تعالی:  قُلْ اِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران: 31)۔ ''اگر آپ اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو اور اللہ کو محبوب بنانا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو'' یہ  طریقت ہے۔

حقیقت 

اب ذرا غور کریں کہ حقیقت کس کو کہتے ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ کسی چیز کی صورت حاصل ہوجائے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی حقیقت واضح ہوجائے، مثال کے طور پر صوفیاء کرام یہ کہتے ہیں کہ نماز کی صورت جو ہے وہ عام مسلمانوں کو حاصل ہے حقیقت تک رسائی کم ہے۔ ایمان کی صورت حاصل ہے، حقیقت حاصل نہیں ہے۔ جس سے آدمی مسلمان بن جاتا ہے مومن بن جاتا ہے دین دار بن جاتا ہے اب ذرا صورت اور حقیقت کا مفہوم سمجھ لیں۔

''علم'' کہتے ہیں؛ حصول صورۃ الشئی فی الذہن (یعنی صورت چیز کی ذہن میں آجائے) یا قبول النفس تلک الصورۃ (یا نفس اس صورت کو قبول کرلے) اسے علم کہتے ہیں کہ صورت کا حاصل ہو جانا۔ ایمان کی صورت آ گئی، روزے کی صورت آگئی کلمے کی صورت آگئی۔

حقیقت کیا ہے؟ مثال کے طور پر کوئی شخص کہتا ہے کہ ڈی سی فلاں مقام پر آگیا ہے ہم نے اس کی بات تسلیم کر لی۔ یہ ایمان تقلیدی ہے کہ اس کی بات سن کر قبول کرلی۔ عوام کا ایمان جو ہے، تقلیدی ہے۔ تقلیدی ایمان تشکیک مشکک کے ساتھ زائل ہوجاتا ہے، کسی نے شک وہم میں ڈالا تو اس کو چھوڑ بیٹھا۔

تقلیدی ایمان: عوام کی گمراہی کا سبب کیا ہے، جیسی صحبت ملی ویسے ہو گئے، کسی بدعتی گمراہ سے ملے اُسی سے متاثر ہو گئے۔ بات اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کی حقیقت تک رسائی نہیں ہوئی۔ اس لئے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اطمینانِ قلب پورا نہیں ہوتا، خبر دینے والے نے خبر دی دوسرے نے کہا غلط کہتا ہے جو جھوٹ بول رہا ہے، شک پیدا ہوا یقین رخصت قصّہ ختم،  یہ ہے تقلیدی ایمان کی مثال۔

استدلالی ایمان: دوسرا استدلال جو دلائل سے ثابت ہو مثلاً ایک آدمی اس مقام پر گیا اس نے دیکھا کہ موٹریں کھڑی ہیں، پولیس موجود ہے، لوگ جمع ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی آیا ہے کیونکہ دلائل موجود ہیں۔ یہ ایمان استدلالی ہے۔

کشفی ایمان: کشفی ایمان یہ ہے کہ اندر چلا جائے اور بچشم خود دیکھ آئے کہ وہ آدمی کرسی پر بیٹھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اندر جاکر خود دیکھ آئے، (اگر کسی نے شک وہم میں ڈالا تو کہہ اٹھتا ہے کہ) تم جھوٹ بولتے ہو میں انہیں آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔

گمراہی کا سبب یہ ہے کہ ہرمسلمان حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ اگر حقیقت تک رسائی ہو جاتی تو پھر کوئی طاقت اسے گمراہ نہ کر سکتی افسوس تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت میں بھی نہیں جاتے جہاں سے یہ گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے، یقین و ایمان کی دولت لازوال ملتی ہے، اسے کہتے ہیں حقیقت یعنی انتہا تک پہنچنا۔

معرفت 

معرفت سے مراد ہے پہچان لینا۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ رستے میں جو کچھ ہے اس کے اسباب پہچانے گئے ہیں یہ معرفت ہے۔ مگر میری تحقیق یہ ہے کہ جس کو جس وقت وہ چیز پوری حاصل ہو جائے معرفت حاصل ہوگئی۔  شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت (انتہا تک پہنچنا) اسی کو تصوف کہتے ہیں۔ جسے یقین اور اطمینان ہوتا ہے وہ اس تک پہنچتا ہے۔
وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّیٰ یَاتِیَکَ الْیَقِینُ  (حجر:  99)

اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کی مدت العمر پوری ہوجائے۔