Featured Events


حضرت مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا عبد الرحمن جامیؒ 23 شعبان 817 ہجری کو خراسان کے شہر جام میں پیدا ہوئے اور اسی شہر کی نسبت سے مولانا جامیؒ کے نام سے مشہور ہوئے۔ انتہائی کم سنی میں حضرت مولانا فخرالدین نورستانیؒ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ مولانا عبدالرحمن جامیؒ کی عمر جب پانچ سال کے قریب تھی تو آپؒ کی زندگی کا دوسرا اہم واقعہ حضرت محمد پارساؒ کی زیارت ہے، جو خواجہ بہاؤالحق نقشبندؒ کے اکابر اصحاب میں سے تھے۔ اس واقعہ نے بھی آپؒ کی زندگی پر اہم اثرات ڈالے، بلکہ نسبت نقشبندیہ سے دل کا تعلق خاص اسی واقعہ کا ثمر ہے۔

آپؒ نے ابتدائی تعلیم گھر میں اپنے والدِ محترم سے حاصل کی، چھوٹی عمر میں ہی والد کے ہمراہ ہرات آئے اور مدرسہ نظامیہ میں داخل ہوئے۔ اگرچہ ابھی سنِ بلوغت کو نہ پہنچے تھے لیکن کتب کو سمجھنے کی استعداد رکھتے تھے، چنانچہ آخری درجہ کے طلبہ کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔

علومِ ظاہری کی تکمیل ہوئی تو قلبی کیفیات میں اضطراب اور بے چینی بڑھنے لگی۔ چنانچہ آپؒ نے اپنی ہم عصر معروف روحانی شخصیات سے رابطہ فرمایا جن میں مولانا سعدالدین کاشغریؒ اور حضرت شیخ بہاؤالدین عمرؒ سے ہرات کے مقام پر آپؒ کی ملاقات ہوئی، جبکہ مروکے مقام پر آپؒ 865 ہجری میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ سے ملے۔ یہی وہ ہستی تھی جو آپؒ جیسی روحانی قوت کی حامل شخصیت کو آگے چلانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ سے خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا تاہم اکتساب فیض کا اصل ذریعہ نسبتِ اویسیہ تھی جو ملاقاتوں اور ظاہری روابط کی محتاج نہیں۔

حضرت مولانا عبد الرحمن جامیؒ صاحبِ تصانیف تھے، آپؒ کی تصانیف کی تعداد ایک فہرست کے مطابق 45 ہے۔ علاوہ ازیں آپؒ صاحبِ طرز شاعر بھی تھے، آپؒ کی شاعری نے صدیوں تک آنے والے شعراء کو متاثر کیا۔ 18 محرم الحرام 898 ہجری کو آپؒ دار فانی سے دارالبقاء کی طرف روانہ ہوئے۔

حضرت ابو ایوب محمد صالح رحمۃ اللہ علیہ

حضرت ابو ایوب محمد صالحؒ کا زمانہ نویں صدی ہجری کا ہے۔ آپؒ کا تعلق یمن سے تھا۔ جب آپؒ مولانا عبدالرحمن جامیؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اپنی عمر طبعی کے آخری حصے میں تھے اور ایسے لوگوں کی تلاش میں تھے جو قلب میں انابت رکھتے ہوں۔ گویا آپؒ اپنے شیخ کی مراد بھی تھے۔ آپؒ کا ذوق و خلوص دیکھتے ہوئے شیخ نے خصوصی توجہ سے نوازا۔ آپؒ نے شیخ کے وصال کے بعد 916 ہجری تک کا وقت اپنے شیخ کے آستانے پہ بسر فرمایا اور اکتسابِ فیض کیا۔ پھر ہندوستان سے ہوتے ہوئے حرمین شریفین میں حاضری کے بعد کچھ عرصہ مدینہ منورہ میں قیام فرمانے کی سعادت حاصل کی۔ جہاں روضہ اطہر کے ایک  مجاور (حضرت اللّٰہ دینؒ) سے آپؒ کی ملاقات ہوئی۔ آپؒ نے نسبتِ اویسیہ کی مشعل کو حضرت خواجہ اللہ دینؒ تک منتقل فرمایا۔

حضرت خواجہ اللہ دین مدنی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ اللہ دین مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ دسویں صدی ہجری کا ہے۔ سلطان العارفین حضرت اللہ دین مدنیؒ مدینہ منورہ کے رہنے والے اور روضہ اطہر پر مجاور تھے۔ حضرت ابو ایوب محمد صالحؒ  سے مسجد نبوی ﷺ میں ہی اکتسابِ فیض کیا اور پھر مختلف ملکوں سے ہوتے ہوئے ہندوستان تشریف لائے۔ دہلی سے واپسی پر جب آپؒ لنگر مخدوم پہنچے تو یہاں پہ واقع ایک ٹیلا پر بنی کچی کوٹھری میں بقیہ عمر بسر فرما دی۔  یہاں چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھا اور آبادی دین اسلام کی رو ح سے نابلد تھی، لہذا آپؒ احیائے دین میں مصروف ہوگئے۔ آپؒ کی ذات بابرکت سے اہل علاقہ کے عقائد میں ایسی خوبصورت تبدیلی آئی کہ لوگوں نے آپؒ کو "اللہ دیا "کے نام سے پکارنا شروع کر دیا، جو بعد میں 'اللہ دین' کے نام سے مشہور ہو گیا۔ آپؒ کا وصال 63 برس کی عمر میں ہوا۔  کئی برس تک فیوضات و برکات کا یہ خزانہ مستور رہا یہاں تک کہ خواجہ عبدالرحیمؒ نے اس کی نشاندہی کا شرف حاصل کیا۔

شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت

شریعت نام ہے کُل اور مجموعہ احکام کا۔  سارے کے سارے احکام (مجموعہ احکام) جو ہیں اُن سب کو شریعت کہا جاتا ہے، خواہ ان احکام کا تعلق اُمور باطنہ سے ہو یا اُمور ظاہرہ کے ساتھ۔

علماء متقدمین اور تمام صوفیا اس بات پر متفق ہیں کہ ''شریعت'' لفظ ''فقہ'' کے مترادف  ہے۔ چونکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ نے فقہ کی تعریف ہی یہ کی ہے؛ مَعْرِفَۃُ النَّفْسِ مَالَہا وَمَا عَلَیہَا (ترجمہ:  نفس کی پہچان، جو اس کے نفع کی چیز ہے یا نقصان کی چیز ہے)۔ اس  لئے مجموعہ احکام ظاہری اور باطنیہ اعمال بھی سارے کے سارے اس میں آگئے۔ متاخرین علماء نے اس کی تقسیم یوں کی ہے احکام ظاہری پر انہوں نے فقہ کا اطلاق کر دیا اور جن اُمور کا تعلق باطن سے ہے اُن پر تصوف کا اطلاق کردیا۔

اسلام سے باہر تو کوئی چیز نہیں، یہی شریعت ہے، یہی حقیقت ہے، یہی سب کچھ ہے، اسی کو شریعت کہتے ہیں۔

طریقت

اُن وسائل، ذرائع اور طرق کا نام ہے جن کے ذریعہ سے احکام ظاہری یا احکام باطنی حاصل کئے جائیں مثلا درس و تدریس، پڑھنا پڑھانا، تصنیف کرنا، لکھنا، تبلیغ کرنا، کسی سے پوچھ لینا۔۔۔ یہ رستے اور ذرائع ہیں شرعی احکام تک پہنچنے کے، انہیں طریقت کہا جاتا ہے، (طریقت کہتے ہی رستے کو ہیں یعنی اس راہ پر چل کر کسی چیز کو حاصل کرنا، انسان ہمیشہ کسی مقصد کے لیے حرکت کرتا ہے)  اس طرح باطنی اُمور یعنی تصوف میں لطائف کرنا، مراقبات کرنا وغیرہ۔

اصل تصوف  ہے رضائے الٰہی کا نام، اللہ کی رضا حاصل کی جائے، اللہ کی محبت حاصل کی جائے، اس کی رضا کس امر میں ہے، اور وہ ناراض کس بات میں ہے (اسے حاصل کیا جائے)۔ تصوف اس چیز کو کہتے ہیں یہ نہیں کہ کوئی چیزیں دیکھ لیں، کشف ہو گیا، الہام ہو گیا۔ تو یہ سمجھنے لگے کہ میں صوفی بن گیا، بڑی چیز بن گیا، نہیں بلکہ تصوف کی حقیقت یہ ہے کہ رضائے الٰہی حاصل کی جائے۔ یہ دیکھنا کہ اللہ کی محبت کس طرح حاصل ہو اللہ کی رضا کس چیز میں ہے۔

اللہ کی رضا اس کی عبادت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں ہے قال تعالی:  قُلْ اِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّہَ فَاتَّبِِعُونِی یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران: 31)۔ ''اگر آپ اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو اور اللہ کو محبوب بنانا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو'' یہ  طریقت ہے۔

حقیقت 

اب ذرا غور کریں کہ حقیقت کس کو کہتے ہیں۔ ایک بات یہ ہے کہ کسی چیز کی صورت حاصل ہوجائے اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کی حقیقت واضح ہوجائے، مثال کے طور پر صوفیاء کرام یہ کہتے ہیں کہ نماز کی صورت جو ہے وہ عام مسلمانوں کو حاصل ہے حقیقت تک رسائی کم ہے۔ ایمان کی صورت حاصل ہے، حقیقت حاصل نہیں ہے۔ جس سے آدمی مسلمان بن جاتا ہے مومن بن جاتا ہے دین دار بن جاتا ہے اب ذرا صورت اور حقیقت کا مفہوم سمجھ لیں۔

''علم'' کہتے ہیں؛ حصول صورۃ الشئی فی الذہن (یعنی صورت چیز کی ذہن میں آجائے) یا قبول النفس تلک الصورۃ (یا نفس اس صورت کو قبول کرلے) اسے علم کہتے ہیں کہ صورت کا حاصل ہو جانا۔ ایمان کی صورت آ گئی، روزے کی صورت آگئی کلمے کی صورت آگئی۔

حقیقت کیا ہے؟ مثال کے طور پر کوئی شخص کہتا ہے کہ ڈی سی فلاں مقام پر آگیا ہے ہم نے اس کی بات تسلیم کر لی۔ یہ ایمان تقلیدی ہے کہ اس کی بات سن کر قبول کرلی۔ عوام کا ایمان جو ہے، تقلیدی ہے۔ تقلیدی ایمان تشکیک مشکک کے ساتھ زائل ہوجاتا ہے، کسی نے شک وہم میں ڈالا تو اس کو چھوڑ بیٹھا۔

تقلیدی ایمان: عوام کی گمراہی کا سبب کیا ہے، جیسی صحبت ملی ویسے ہو گئے، کسی بدعتی گمراہ سے ملے اُسی سے متاثر ہو گئے۔ بات اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کی حقیقت تک رسائی نہیں ہوئی۔ اس لئے گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اطمینانِ قلب پورا نہیں ہوتا، خبر دینے والے نے خبر دی دوسرے نے کہا غلط کہتا ہے جو جھوٹ بول رہا ہے، شک پیدا ہوا یقین رخصت قصّہ ختم،  یہ ہے تقلیدی ایمان کی مثال۔

استدلالی ایمان: دوسرا استدلال جو دلائل سے ثابت ہو مثلاً ایک آدمی اس مقام پر گیا اس نے دیکھا کہ موٹریں کھڑی ہیں، پولیس موجود ہے، لوگ جمع ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی آیا ہے کیونکہ دلائل موجود ہیں۔ یہ ایمان استدلالی ہے۔

کشفی ایمان: کشفی ایمان یہ ہے کہ اندر چلا جائے اور بچشم خود دیکھ آئے کہ وہ آدمی کرسی پر بیٹھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اندر جاکر خود دیکھ آئے، (اگر کسی نے شک وہم میں ڈالا تو کہہ اٹھتا ہے کہ) تم جھوٹ بولتے ہو میں انہیں آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔

گمراہی کا سبب یہ ہے کہ ہرمسلمان حقیقت تک نہیں پہنچتا۔ اگر حقیقت تک رسائی ہو جاتی تو پھر کوئی طاقت اسے گمراہ نہ کر سکتی افسوس تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی صحبت میں بھی نہیں جاتے جہاں سے یہ گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے، یقین و ایمان کی دولت لازوال ملتی ہے، اسے کہتے ہیں حقیقت یعنی انتہا تک پہنچنا۔

معرفت 

معرفت سے مراد ہے پہچان لینا۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ رستے میں جو کچھ ہے اس کے اسباب پہچانے گئے ہیں یہ معرفت ہے۔ مگر میری تحقیق یہ ہے کہ جس کو جس وقت وہ چیز پوری حاصل ہو جائے معرفت حاصل ہوگئی۔  شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت (انتہا تک پہنچنا) اسی کو تصوف کہتے ہیں۔ جسے یقین اور اطمینان ہوتا ہے وہ اس تک پہنچتا ہے۔
وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّیٰ یَاتِیَکَ الْیَقِینُ  (حجر:  99)

اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کی مدت العمر پوری ہوجائے۔


روح کی حقیقت


شروع اللہ کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم کرنے والے ہیں۔

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۝  وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ ۝   وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ۝   فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْنَ   ۝     (الْحِجْر : 26-29)
ترجمہ:  اور یقیناً ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا فرمایا۔اور جنوں کو اس سے پہلے آگ کی لُو سے پیدا فرمایا۔ اور جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ بے شک میں کھنکھناتے سڑ ےہوئے گارےسے آدمی کو پیدا کرنے والا ہوں۔ پھر جب میں اس کو (انسانی صورت میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی رُوح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔

مکلّف مخلوق
مکلّف مخلوق چار قسم کی ہے۔ فرشتہ، شیطان، جن اور انسان۔ پانچویں قسم کی کوئی مخلوق مکلّف نہیں ہے۔ ان کے علاوہ جتنی مخلوق ہے وہ اپنے فطری تقاضوں کے مطابق عمل کرتی رہتی ہے، اس مخلوق میں نہ اطاعت کا جذبہ ہے اور نہ نافرمانی کا کوئی عنصر ہے۔ اللہ نے جو بھی ان کی جبلت بنادی ہے اس کے مطابق وہ زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔

شیطان، جنات اور  فرشتوں کی حقیقت
ان چاروں قسم کی مخلوق میں فرشتہ نُوری مخلوق ہے لیکن اسے نفس نہیں دیا گیا، خواہشات نہیں دی گئیں، ضرورتیں نہیں دی گئیں۔ اس کی ضرورت، اس کی خواہش، اس کا آرام ہی اطاعتِ الٰہی اور ذکرِ الٰہی میں ہے۔ اس کی غذا، اس کا کھانا پینا ذکرِ الٰہی ہے اور اس کا کام اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ وہ سراپا اطاعت ہے اور بس۔ شیطان بھی یہیں سے الگ ہوا۔

علمائے حق کے مطابق شیطان جنوں ہی میں سے تھا  اور تخلیقی اعتبار سے ایک جن ہی ہے۔ لیکن اپنی حیثیت میں بالکل ایک الگ نوع اور ایک الگ خلق قرار پایا۔ اس لئے کہ اس نے جنات میں سے ہوتے ہوئے اتنی عبادت کی، اتنی محنت کی کہ اسے فرشتوں میں شمار کیا گیا اور اسے آسمانوں پر رہنے کی اجازت دی گئی۔ مفسرینِ کرام کے مطابق جنات انسانوں سے پہلے تخلیق ہوئے۔ اللہ کریم نے یہاں ان کا ذکر بھی فرمایا؛
وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْم
انسان سے پہلے جنوں کو آگ کے شعلے، آگ کی لپٹ، آگ کی وہ گرم ہوا یا آگ کی وہ گرم اور لطیف کیفیت جو نظر نہیں آتی سے پیدا کیا۔ آگ نظر نہ آنے والی چیز ہے۔ آگ میں جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ جلنے والے کثیف عناصر ہوتے ہیں جو نظر آتے ہیں۔

نفخِ رُوح
اب عجیب بات ہے کہ فرشتے کی تخلیق کے ساتھ نفخ رُوح کی بات نہیں ہے۔ جنوں کی تخلیق کے ساتھ بھی نفخ رُوح کی بات نہیں ہے۔ زندگی فرشتے میں بھی ہے، حیات جنوں میں بھی ہے۔ مکلّف جنوں کو بھی بنایا گیا ہے۔ اعمال کی پرسش ان سے بھی ہوگی اس لئے کہ جنوں کے ساتھ ضروریاتِ زندگی اور خواہشات ہیں ۔مفسرین کے مطابق انسانوں کی تخلیق سے پہلے جنات زمین پر آباد تھے۔ ابلیس جب جنوں میں سے عبادت کرتے کرتے اس درجے پر پہنچا کہ اسے آسمانوں پر رہنے کی اجازت دی گئی، تو جنات میں نظم و ضبط کی ذمہ داری بھی اس کے سپرد کی گئی جیسے کہا گیا ہے۔
ز راہِ تفاخر بفوج ملک
گہہ بر زمین بود گہہ بر فلک

بڑے فخر یہ انداز میں فرشتوں کی فوج ہمراہ لئے ہوئے یہ کبھی زمین پر اترتا تھا، کبھی آسمانوں میں ہوتا تھا۔ جب دنیا پر جنات فساد بپا کرتے تو اللہ کریم اس کو بھیجتے اور یہ اللہ کے حکم کے مطابق ان کی اصلاح کرتا۔ لیکن بڑی عجیب بات ہے جنوں میں زندگی بھی ہے، انہیں تکلیف بھی دی گئی، احکام ماننے پر مجبور بھی کیا گیا لیکن ان کو نبوت و رسالت نہیں دی گئی۔

کیاجنات میں نبوت ہے؟
اس بات پر سب علماء کا اتفاق ہے کہ جنوں میں نبوت نہیں تھی۔ بعض علماء نے ایک نام لکھا ہے کہ یوسف بن حیان نامی ایک جن گزرا ہے، وہ نبی تھا۔ لیکن جمہور کی رائے اس کے خلاف ہے اس لئے کہ نبوت ایسی چیز نہیں کہ انہیں ایک بار دی گئی پھر اس کے بعد کبھی نہیں دی گئی۔ جب آدم تشریف لائے تو انسانوں میں پہلا انسا ن ہی نبیؑ تھا۔ وہ شخص جس سے انسانیت کی بنیاد رکھی گئی، وہ خود اپنی ذات میں نبیؑ تھا۔ گویا نبوت عطا ہی صرف انسانوں کو ہوئی اور اس کی بنیاد نفخ روحِ باری پر ہے۔

تخلیقِ آدم
اللہ کریم فرماتے ہیں
اِنِّیْ خَالِقٌ م بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْن
ہم نے انسان کو پیدا کیا سڑے ہوئے خشک گارے سے

مٹی کا ایک عنصر جو گارا بنتے بنتے گل سڑ جائے اور پھر اس کے بعد خشک ہو جائے۔ اس طرح کی خشک مٹی سے میں ایک بشر تخلیق کرنے چلاہوں۔ لیکن وہ صرف ایک عام تخلیق نہیں ہوگی، جیسے کائنات میں سورج، چاند، ستارے، نباتات اور طرح طرح کے حیوانات، چرند اور پرند ہیں۔ اس بے شمار مخلوق میں ایک صنف ایسی ہوگی جسے انسان کہا جائے گا۔ میں نے اسےبشر کا نام دیا ہے،  جسے میں آدمی کہتا ہوں ۔

فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ
جب میں اسے درست کرلوں، جب اس کی تخلیق یا اس کی صنعت یا اس کے وجودکے بننے کا عمل مکمل ہو جائے۔

وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِی
جب اس میں اپنی رُوح پھونک دوں۔

فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْن
تو تم سارے کے سارے اس کے سامنے سر بسجود ہو جانا۔

 نفخِ رُوح جو انسان کو نصیب ہوئی، جس پر نبوت کی بنیاد ہے۔
 
عظمتِ نبوت
نبوت کی اصل کیا ہے؟ نبی ؑکے پاس وہ کیا زائد چیز ہوتی ہے جو غیرنبی کے پاس نہیں ہوتی؟

نبوت اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ نبی ؑ کے دِل کا آئینہ، دِل کی آنکھ، دِل کا شعور بغیر کسی واسطے اور ذریعے کے براہِ راست اللہ کی ذات سے آشنا ہوتا ہے۔ نبوت اس آشنائی، اس پہچان کا نام ہے۔ نبوت اس تعلق کا نام ہے جو نبیؑ کے قلب کو بغیر کسی واسطے کے براہِ راست ذاتِ باری سے نصیب ہو۔ اس لئے اللہ کریم اس سے کلام فرماتے ہیں اور اس کی معرفت سارے بندوں تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اللہ کے کلام کو سننا یہ شان بھی نبیؑ کی ہے۔ اللہ کے کلام کو سمجھنا یہ شان بھی نبی ؑ کی ہے اور غیر نبی اللہ کو پہچاننے میں نبی ؑکا محتاج ہے، جیسے سارا وجود دیکھنے میں آنکھ کا محتاج ہے۔ ہاتھ وجود کا حصہ ہیں، کان وجود کا حصہ ہیں، لیکن سارے کا سارا جسم آنکھ نہیں ہوتا ہے۔ وہ آنکھ جو ذاتِ باری کو دیکھتی ہے، وجود کا وہ حصہ جو ذاتِ باری کا کلام سنتا ہے، وجود کا وہ حصہ جو اُمت کا تعلق ذاتِ باری سے قائم کرنے کا سبب بنتا ہے اس کیفیت،اس حالت کو نبوت کہتے ہیں۔یہ شان بھی انسان کو ملی، اس لئے کہ رُوح دراصل باری تعالیٰ کی امین تھی۔

رُوح کیا ہے؟
وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ ... کے بارے میں مفسرین نے بہت لمبی بحثیں کی ہیں کہ نفخ رُوح کیا ہے؟ سمجھنے کے لئے پہلے یہ متعین کرنا پڑے گا کہ رُوح کیا ہے؟
 
رُوحِ حیوانی اور رُوحِ علوی
علماء کے مطابق رُوح کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ مختلف اجزائے بدن کو جب قدرت ایک خاص نسبت سے ملاتی ہے تو ان کے ملنے سے ایک حِدّت جسے آج کل کی زبان میں "انرجی" (Energy) کہتے ہیں۔ اور علماء یونان، یا طبِ یونانی کے ماہرین اسے ’’بخارات‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس انرجی، یا طاقت، یا کیفیت کو روحِ حیوانی کہتے ہیں۔ وہ چیز جو ان اجزاء کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے، جو انسان کے خون کے ایک ایک ذرّے کے ساتھ، ایک ایک نس نس میں پہنچتی ہے اور بدن کو شعور اور حرکت عطا کرتی ہے۔ آنکھ دیکھنے لگ جاتی ہے، کان سننے لگ جاتا ہے، دماغ سوچنے لگ جاتا ہے، دِل دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔  ہر ذرّہ، ہرعضوِبدن اپنا اپنا کا م شروع کر دیتا ہے۔ اسے روحِ حیوانی یا سفلی کہتے ہیں۔ یہ زندگی کا، حیات کا سبب ہے۔ یہ رُوحِ حیوانی ہر ذِی رُوح میں موجود ہے۔ اس میں تمیز نہیں ہے کہ وہ بندر ہے یا ریچھ، یہ فرق نہیں ہے کہ وہ حیوان ہے یا انسان، وہ درند یا چرند ہےہر وہ شے جسے اس طرح کی زندگی نصیب ہے خواہ وہ مچھر ہے یا مکھی، اس میں زندگی کی یہ کیفیت موجود ہے تو اس کو رُوحِ حیوانی یا رُوحِ سفلی کہتے ہیں۔ انسان کی فضیلت یہ ہے کہ اس رُوحِ حیوانی کے ساتھ اسے ایک رُوحِ ملکوت سے، یا عالِم امرسے بھی نصیب ہے۔ اس نفخ شدہ رُوح کو رُوحِ علوی یا ملکوتی کہتے ہیں۔ وہ رُوحِ علوی کیا شے ہے؟

رُوح کی حقیقت
وَ يَسْئَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ      آپ ﷺ سے رُوح کے بارے سوال کرتے ہیں۔
قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ ربِّی    کہہ دیجئے۔ رُوح میرے مالک، میرے ربّ کے امر میں سے ہے۔
(بَنِيْ إِسْرَآءِيْل : 85)
امر اللہ کی صفت ہے۔ امر تخلیق نہیں ہے، امر مخلوق نہیں ہے، امر صرف اللہ کی صفت ہے۔ انسانی رُوح مخلوق ہے لیکن ایسی مخلوق جو کسی مادے سے، کسی جوہر سے، کسی نُور سے، کسی ذرے سے نہیں بلکہ اس تجلی سے تخلیق فرمائی گئی جو اللہ کے امر سے ہے۔
مِنْ اَمْرِ رَبِّی  ...  خود  اَمْرِ رَبِّی  نہیں ہے  ...  اَمْرِ رَبِّی میں سے ہے۔  رُوح خود براہِ راست  اَمْرِ رَبِّی  نہیں ہے۔
چونکہ  اَمْرِ رَبِّی ...  تو ربّ کی صفت ہے ... اللہ کا کلام، اللہ کی صفت، اللہ کا حکم، اللہ کا امر، اللہ کا کلام صفت ہے۔ جیسے اس کی ذات قدیم ہے، ویسے اس کی صفات بھی قدیم ہیں۔ اللہ کی ایسی کوئی صفت نہیں ہے جو کبھی نہیں تھی پھر اس نے بنا کر اپنے ساتھ چپکالی۔ یہ اس کی شان کے خلاف ہے۔ جس طرح اس کی ذات کی کوئی ابتدا، کوئی انتہا نہیں، اسی طرح  اس کی صفات کی کوئی ابتداء ، کوئی انتہا نہیں۔ اس کی صفات اسی کو سزاوار ہیں، کوئی دوسرا جس طرح اس کی ذات میں شریک نہیں ہے، اسی طرح اس کی صفات  میں بھی کوئی شریک نہیں۔ تو رُوح   اَمْرِ رَبِّی  میں سے ہے۔ صفاتِ امر کا عالم ہی الگ ہے۔ علمائے حق کے مطابق جہاں دائرۂ تخلیق ختم ہو جاتا ہے، جہاں مخلوق کی حد ختم ہو جاتی ہے وہاں اس عالِم امر کی ابتدا ہوتی ہے۔

نفخِ رُوح
روح چونکہ عالِم امر کی تجلی سے پیدا کی گئی ہے اس لئے اس میں یہ کمال ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کی کوئی حد نہیں۔ اس کی اصل محدود نہیں ہے، لامحدود ہے۔ یہ جب انسانی بدن کے ساتھ وابستہ ہوئی تو اس نے انسانی زندگی کو بھی لامحدود کردیا۔ فرشتہ سراپا نیکی ہے، اسے آزمائش میں ڈالا ہی نہیں گیا۔ شیطان کو آزمائش میں ڈالا گیا لیکن اس میں نفخ رُوح نہیں ہے، نفخ رُوح نہ ہونے کا نتیجہ کیا نکلا؟ سارا قرآن حکیم دیکھ جائیے، جنات کے لئے گناہ پر عذاب کی وعید ہے، نیکی پر جنت کی بشارت نہیں ہے۔ نیکی ہے، نیکی پر جنت کا وعدہ نہیں ہے۔ صرف اتنا کہہ دیا گیا ہے؛
 وَیُجِرْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ  (الْأَحْقَاف : 31)  تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے۔
 
نور بشر کی حقیقت
اب لے دے کے ایک مخلوق رہ گئی جسے انسان اور بشر بھی کہا جاتا ہے اس لئے انبیاءٔ کی بشریت کا جو انکار کیا جاتا ہے یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ جو بشر نہ ہو وہ نبیؑ ؑبھی نہیں ہو سکتا۔ نبوت ملی ہی نوعِ بشر کو ہے۔ مشرکین نے اس بنیاد پر انکار کیا تھا کہ آپﷺ تو بشر ہیں اور بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ انکار تو اپنی جگہ رہتا ہے، صرف اس کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ انہوں نے بشریت کا اقرار کیا اور نبوت کا انکارکیا۔ ہم نبوت کا اقرار کرتے ہیں مگر بشریت کا انکار کرتے ہیں، یہ سراسر غلط ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے جیسا بشر تسلیم کر کے آپﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں جیسے ہم بشر ہیں ویسے ہی وہ بشر ہیں۔ دراصل ہم اپنے اوپر قیاس کرکے انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ حق یہ ہے کہ ہم تو اپنی بشریت بھی کھو چکے ہیں۔ انسانیت تو بہت دور کی بات ہے، بہت بلندی کی بات ہے اور حضور اکرمﷺ بشر بھی انتہائے بشر ہیں، حدِ بشریت ہیں۔ یہ بہت بڑا فاصلہ ہے۔ بہر حال بشریت کا انکار جائز نہیں ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضور اکرمﷺ کی بشریت بھی بے مثل اور بے مثال ہے اور کوئی دوسرا ایسا بشر نہیں ہے۔

رُوح اور لطائف خمسہ
اللہ کریم نے وہ رُوح جو عالِم امر کی تجلی سے تخلیق فرمائی، انسان کے وجود میں ڈال دی۔ تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ ـؒ پانی پتی لکھتے ہیں کہ یہ وہی رُوح ہے جو قلب سے حیات کو شروع کرتی ہے۔ جس کا سب سے پہلا ورود ہی قلب میں ہوتا ہے اور پھر پانچ مقامات پر نظر آتی ہے۔ قلب، روح، سری، خفی، اخفیٰ۔ وہ فرماتے ہیں: انسان حقیقتاًدس چیزوں کا مرکب ہے۔ اور یہی بات مجددالف ثانیؒ بھی لکھتے ہیں کہ اس عالِم آب و گل سے آگ، مٹی، ہوا، پانی اور پانچواں نفس یا رُوحِ حیوانی  (جو اِن چار عناصر کے ملنے سے بنتا ہے اور جسے آپ آج کی اصطلاح میں "انرجی" کہتے ہیں)  اور پانچ وہ لطائف جو عالِم امر سے متعلق ہیں، جو اس رُوح  (جو اَمْرِ رَبِّیْ سے ہے)  کے ورُود سے روشن ہوتے ہیں اور جو اِس کے رہنے کا ٹھکانہ بنتے ہیں یعنی قلب، روح، سری، خفی اور اخفیٰ۔ یہ دس چیزیں مل کر انسان بنتا ہے۔ یہ استعداد ہر انسان لے کر آتا ہے۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے؛
کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی فِطْرَۃِ الْاِسْلَامِ اِلَّا اَنَّ اَبَوَیْہِ یُھَوِّدَانِہِ اَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْیُمَجِّسَانِہِ     (صحیح البخاری،کتاب الجنائز،باب ماقیل فی اولاد المشرکین،الحدیث:۱۳۸۵،ج:۱،ص:۴۶۶)
ہر پیدا ہونے والا فطری خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے۔پھر اس کے والدین، یااس کا معاشرہ، یا اس کا ماحول کسی کو یہودی، کسی کو نصرانی اور کسی کو مجوسی بنا دیتا ہے۔

وہ ان سے اثر قبول کر کے اسلام کے سوا کوئی اور راستہ اختیار کر لیتا ہے ورنہ ہر انسان میں معرفتِ الٰہی پانے کی استعداد موجود ہوتی ہے۔ تو سجدہ انسانی وجود کونہیں کیا گیا۔ سجدہ انسان میں موجود عناصر یا اس کے ملنے سے پیدا ہونے والے نفس یا رُوح سفلی کو نہیں کیا گیا۔ بلکہ فرمایا: جب میں اپنی رُوح جو عالِم امر کی تجلی سے پیدا کی گئی، جو صفت ہے حیات کی، اس میں پھونک دوں تو تمہیں سجدہ کرنا ہوگا۔ تو سجدہ اُس رُوح کو کیا گیا۔ عزت و احترام اس کے لئے ہے۔  انسانیت کی تکمیل اُس رُوح سے ہوتی ہے جو عالِم امر کی تجلی ہے اور اس کی حیات قلب سے شروع ہوتی ہے۔ اور قلب کی حیات نُورِ ایمان پر ہے۔

قلب کی حیات
اب اگر نُورِایمان ہی جاتا رہے تو قلب بھی جاتا رہے گا۔ قلب کی حیات کا کم از کم حال یہ ہے کہ اسے ایمان نصیب ہو۔ قلب کی حیات کی دلیل ایمان ہے، عمل صالح اس کی طاقت ہے۔ حیات جیسے ایک نوزائیدہ بچے میں بھی ہے، حیات ایک طاقتور جوان میں بھی ہے لیکن بچپن اور جوانی کی طاقتوں میں جتنا فاصلہ ہے، اتنا ہی فاصلہ ایمان لانے کے بعد عمل صالح بناتا ہے۔عمل صالح اسے قوت دیتا ہے۔محض ایمان ابتدائے حیات ہے لیکن اگر کوئی ایمان پر ہی نہ رہے تو اس میں جب تک وہ دُنیا میں ہے، عالِم امر کی اس تجلی کو دوبارہ پانے کی استعداد رہتی ہے۔ لیکن وہ اگرایمان کھو دے تو پھر اس کے وجود کا حصہ نہیں رہتی، وہ اس سے سلب ہو جاتی ہے۔ اور بعض لوگ پھر اتنے جرائم کرتے ہیں کہ ان کے قلوب سے وہ استعداد نفی کر دی جاتی ہے۔ وہ دوبارہ اس تجلی کو پانے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ جس کا تذکرہ قرآن نے ان الفاظ میں کیا؛  خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِم  (الْبَقَرَة  : 7) ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔

اس مہر سے یہ حیوانی زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ تجلی، وہ نُور، وہ نفخ رُوح جس کے بارے فرمایا گیا، وہ رُوح جو عالِم امر سے ہے، اس کے نُور کا دوبارہ اس قلب میں آنا محال ہو جاتا ہے، اس کے گناہوں کی وجہ سے قلب سے استعدادزائل ہو جاتی ہے۔ اس لئے فرمایا؛  ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ   (الْبَقَرَة  : 6)۔  رسول اللہ ﷺ انہیں دعوت دیں نہ دیں، آپ ﷺ انہیں عذاب و ثواب کے متعلق بتائیں نہ بتائیں، انہیں کفر اور برائی کے نتائج سے آگاہ کریں نہ کریں، ان کے لئے برابر ہے ... لاَ یُؤْمِنُوْن ..  ایمان نہیں لائیں گے، کیوں نہیں لائیں گے؟  خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِم  ... اللہ نے اِن کے دِلوں پر مہر کردی، اللہ کے اُصول توڑنے میں یہ اتنی دُور تک چلے گئے کہ اب واپسی کی کوئی امید نہیں رہی۔ قلوب میں قبول کرنے کی جو استعداد تھی، جو نُورِ ایمان سے نصیب ہوتی ہے وہ اللہ نے سلب کر لی۔

سالک کی تربیت کا اصل سبب
سلاسلِ تصوف کا حاصل بھی یہ ہے کہ براہِ راست ان لوگوں کی مجالس میں بیٹھ کر جیسے صحابہؓ سے تابعینؒ نے، تابعینؒ سے تبع تابعین ؒنے اور اُن سے اُن کے شاگردوں نے یہ نُور حاصل کیا۔ بعینہٖ اس حد ت کو براہِ راست ان قلوب سے قبول کیا گیا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تعلیمات کو سن کر مان لیا جائے تو ایمان پیدا ہوگیا، رُوح کا اتنا عنصروجود میں آگیا جس سے دِل میں ایمان کی روشنی آگئی لیکن وہ تعلق کمزور رہا۔ ہاں!اگر منور القلوب لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا تو دِل میں وہ روشنی، وہ نُور آگیا اور وہ قوت بہت طاقتور ہوگئی، بہت مضبوط ہو گئی۔ حتیٰ کہ اللہ اگر عطا کرے تو پھر ان حجابات کو پھاڑ کر رُوح کا تعلق واپس آسمانوں سے، پھر عرش سے، پھر عالِم امر سے استوار ہو تا جائے گا اور اس حیات میں، زمین پر بیٹھے ہوئے بھی، اپنا تعلق پھر سے اُس مقام سے اس طرح قائم کر لے گا کہ جیسے کوئی مسافر دور دراز سے واپس گھر آگیا، اور زمین پر رہتے ہوئے عالِم امر میں سانس لینے لگا۔ وہاں آنے جانے لگا اور اپنا رشتہ استوار کر لیا۔ اس کی دلیل عملی زندگی میں اللہ کی اطاعت اور نبیﷺ کی کامل اور غیر مشروط اطاعت کا نصیب ہو جانا ہے۔

ایک بات جو میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر رُوح کاتعلق قلب سے، عالِم امر سے ہی کلّی طور پرمنقطع ہو جائے تو وہ وجود جہنم میں جائے گا۔ اس لئے آپ نے حدیث میں پڑھا، یا سنا ہو گا کہ جس دِل میں رائی برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ رُوح کا عالِم امر سے ادنی ٰ سا تعلق بھی ہمیشہ کے عذاب سے نجات دیتا ہے کیونکہ انسانی نفس یا انسانی وجود تو جہنم میں جا سکتا ہے۔ لیکن وہ تجلی جو عالِم امر سے ہے اس کا جہنم جانا نہیں بنتا۔ اور جو لوگ جہنم جائیں گے ان میں عالِم امر کا وہ عنصر نہیں ہو گا جس سے رُوح کی تخلیق کی گئی ہے۔ اس لئے دوزخیوں کی شکل انسانی نہیں ہوگی، چہرہ انسانی نہیں ہوگا۔ انسانوں کی طرح بات نہیں کر سکیں گے، جانوروں اور درندوں جیسا چیخناچلانا ہوگا اور شکل ایسی ہوگی جیسے جانور، جیسے درندے حیوان کی خصوصیات اپنی زندگی میں اپنائے گا۔ (مثلاًخنزیر، ریچھ، بندر، بھیڑیا، اژدھا)اسی شکل میں وہ جہنم میں داخل ہوگا کیونکہ اس میں عالِم امر کی وہ تجلی نہیں ہوگی، اگر اس رُوح کا کوئی عنصر یعنی عالِم امر سے متعلق کوئی بھی تعلق کسی کے وجود میں ہو تو اس کے جہنم سے بچ جانے کی ضمانت ہے۔

عظمت انسانی
اللہ نے فرمایا: فَاِذَا سَوَّیْتُہٗ وَ نَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہٗ سٰجِدِیْن  ...  جب میں اسے درست کر لوں اور اس میں اپنی رُوح پھونک دوں تو سجدہ ریز ہو جانا۔  رُوح جو عالِم امر سے متعلق ہے،  مِنْ رُّوْحِیْ ... "اپنی رُوح سے"۔  یعنی اس کی تخلیق اللہ کی صفت کی تجلی سے ہوئی۔  کیسے ہوئی؟ اس کا جواب نہ کوئی سمجھ سکتا ہے، نہ کوئی سمجھا سکتا ہے، نہ کوئی اسے جان سکتا ہے۔ اور اتنا جاننا بھی جو ہم مسلمان جانتے ہیں یہ بھی اس کی بہت بڑی عطاہے۔ دراصل یہ کسی مادے سے، کسی جوہر سے، کسی عنصر سے، کسی ذرّے سے نہیں بنائی گئی۔ یہی باعث شرفِ انسانیت ہے اور اس کا موجود ہونا انسان کو انسان بنا تا ہے۔ اگر انسان سے اس کی نفی ہو جائے تو جہنم یا کفر کو الگ رکھ دو، انسان انسان نہیں رہتا، حیوان ہو جاتا ہے، اپنی جِبلّت کے تابع چلا جاتا ہے۔ جس طرح جانور کھانے پینے پہ لپکتا ہے، جس طرح جانور صرف آرام کی سوچتا ہے، جس طرح جانور صرف جنس کی سوچتا ہے، اسی طرح انسانی زندگی بھی اس روٹین میں چلی جاتی ہے۔

آپ سارے عالِم کفر کا مشاہدہ کر لیجئے، بنظر غور دیکھ لیجئے، آپ کو وہاں سوائے حیوانی زندگی کے کچھ نظر نہیں آئے گا۔ انسانی رشتوں کا وجود نظر نہیں آئے گا۔ انسانی عظمت کی کوئی جھلک نظر نہیں آئے گی۔ جہاں اس کی یعنی رُوح کی نفی ہوگئی تو انسان، انسانیت سے محروم ہو گیا اور ایک عام حیوان کی سطح پر چلا گیا جو محض کھانا پینا اور اپنی نسل بڑھانا جانتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے کوئی احساس نہیں ہے کہ غلط کھا رہا ہے، صحیح کھا رہا ہے، گندہ کھا رہا ہے، صاف کھا رہا ہے صحیح کر رہا ہے، غلط کر رہا ہے۔ حیوانی زندگی میں کوئی سٹیٹس، احترام یا کوئی اور قدر نہیں ہوتی۔ اسی طرح سارے کافر معاشرے میں انسانی اقدار کبھی بھی نہیں ہوتیں۔ تاریخ کے کسی دور میں، نہ پہلے تھیں اور نہ آج کے جدید ترقی یافتہ معاشرہ میں ہیں۔ جو بھی نُورِ ایمان سے محروم ہے وہ انسانی اقدار سے ویسا ہی محروم ہے جیسا جاہلوں کا معاشرہ انسانی اقدار سے محروم رہا۔

جسے آپ نیکی کہتے ہیں، جسے عبادت کہتے ہیں، جسے ورع وتقویٰ کہتے ہیں، جسے آپ بھلائی یا شرافت کہتے ہیں، یہ رُوح کے ساتھ آتی ہیں، حیاتِ قلبی کے ساتھ وارد ہوتی ہیں۔ جتنا جتنا اس رُوح کا تعلق قلب سے مضبوط ہوتا ہے، جتنا قلب ِ انسانی منور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اتنی اتنی اقدار کی اہمیت اس پر وارد ہوتی جاتی ہے اور اتنا اتنا وہ سنبھل کر انسان بنتا چلا جاتا ہے۔ اس کا نفی ہوجانا، انسانیت کے منفی ہو جانے کی دلیل ہے۔

یہ چند گزارشات تھیں جو انسانی عظمت پہ دلالت کرتی ہیں۔ انسان کو انسانیت نصیب ہی اس رُوح کی وجہ سے ہے جو اللہ کی صفات کی نفخ ِ روح سے تعلق رکھتی ہیں، جو عالِم امر کی تجلی سے ہے اور قربِ الٰہی کی بنیاد بھی وہی رُوح ہے۔ کسی سے اس کی نفی ہو جائے تو وہ انسان، انسان نہیں رہتا بلکہ قرآن کی اصطلاح میں اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَام    چار پایوں کی طرح ہو گیا، عام حیوانوں کی طرح ہوگیا۔ بَلْ ھُمْ اَضَل بلکہ وہ ان سے گیاگزرا ہو گیا، کہ عام حیوان تو تخلیقی طور پر حیوان تخلیق ہوئے اور یہ شرفِ انسانیت ضائع کر کے وہاں گیا۔

اللہ کریم ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائے، آمین

بیعت کیا ہے

بِسْمِ ٱللّٰہِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْـہِمْ     (الفتح : 10)

ترجمہ : بے شک جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ (واقعی میں) اللہ سے بیعت کرتے ہیںاللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔


بیعت کیا ہے؟

بیعت کے لغوی معنی ہیں بیچ دینا اور شرعاً بیعت اس عہد کو کہتے ہیں جو اتباعِ رسالت ﷺ کے لیے،دین پر عمل کرنے کے لیے، دین سیکھنےکے لیے کسی عالم سے کیا جاتا ہے۔

بیعت کی شرعی حیثیت

بیعت ایک مسنون عمل ہے حضور ﷺ نے صحابۂ کرام ؓسے، دین پر استقامت کی بیعت لی، کہ عقائدو اعمال میں شریعت کی پیروی کریں گے اور اس بات کی بھی بیعت لی کہ عقائد اور اعمال کو سیکھیں گے۔ ہر مسنون عمل قربِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔اللہ کریم نے قربِ الٰہی کی طرف بڑھنے کے لیے کئے جانے والے اعمال کو وسیلہ سے منسوب کیا ہے،

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابْتَغُوْٓا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَ جَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ     (المائدۃ : 35)
ترجمہ: اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب پانے کے سبب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد(محنت) کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

قرآنِ حکیم بڑے پیارے انداز میں فرماتا ہے اے ایمان والو ...
ایک شفقت کا پہلو، ایک محبت کا انداز، ایک ناصحانہ رنگ لے کر یہ خطاب فرماتا ہے کہ ایمان لاکر جو تعلق تم نے اللہ سے قائم کرلیا ہے، اُسے کمزور نہ پڑنے دو بلکہ اُس کی مزید ترقی کے لیے کوشش کرتے رہو، اُس کے لیے وسیلہ تلاش کرو یعنی ایسے کام کرو جن سے محبت ِالٰہی دِلوں میں بڑھے ۔تم فرائض ادا کرو، گناہ سے رُک جائو، اس پر یہ اضافہ کرو کہ سنتیں اور نوافل اپنا لو کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے پھرمباحات کی باری آجاتی ہے، اُن میں بھی اتباع نبوی ﷺ نصیب ہو جائے۔ اس ضمن میں جو عمل معاون ہوگا وہی وسیلہ کہلائے گا۔ جو اِنسان اس راہ میں معاون ہوگا وہ وسیلہ کہلائے گا۔ جیسا کہ اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے انبیاء علیہ السلام وسیلہ ہیں صحابہؓ وسیلہ ہیں اولیاء صالحین اور علماء حق وسیلہ ہیں مگر آدمی کو اپنے مقصد کی اصلاح کرلینا ضروری ہے کہ وسیلہ صرف اللہ کا قرب او راُس کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کرے اس کی راہ میں جہاد کرے یا مجاہدہ دونوں معنی درست ہیں اس لئے کہ اگر وسیلہ موجود ہو مگر مجاہدہ نہ کیا جائے تو کما حقہٗ فائدہ ممکن نہیں۔

اقسامِ بیعت

شریعت ِ اسلامی میں بیعت کی کئی اقسام ہیں؛
  1. بیعت ِامارت
    کسی کو امیر یا سربراہ بنانے کے لیےبیعت کرنا جیسے ابتدائی عہد میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی بیعت کی گئی، خلفائے راشدین کی بیعت کی گئی، آج اس بیعت کا قائم مقام ووٹ ہے جس کے ذریعے کسی کو امیر مقرر کیا جاتا ہے۔
     
  2. موت کی بیعت
    یہ بھی مسنون ہے حضور ﷺ نے حدیبیہ میں صحابہؓ سے بیعت لی کہ ہم میں سے کوئی بھی میدان نہیں چھوڑے گا اگر ایک بھی بچا تو جہاد کرتا رہے گا حتیٰ کہ شہیدہوجائے۔ یہ بیعت ایسے مواقع کے لیے ہوتی ہے جب دین پر حرف آئے اور اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر اکیلا فرد بھی رہ گیا تو آخری دم تک جہاد کرتا رہے گا۔

  3. بیعت ِاصلاح
    یہ بیعت ِ اصلاح کے لیے ہوتی ہے۔ بندہ اپنے سے زیادہ پڑھے لکھے آدمی کی بیعت کرتا ہے اُس سے احکامِ شرعی پوچھتا رہتا ہے اس بیعت کے بارے میں علماء کی رائے ہے کہ کسی بھی ایسے شخص کی بیعت درست ہے جو جائز ناجائز، حلال حرام کا علم رکھتا ہواور روز مرہ کی ضرورت کے مسائل جانتا ہو بیعت کی تمام اقسام کا مقصد ایک ہی ہے یعنی اتباعِ رسول ﷺ۔
     
  4. بیعت تصوف کی ضرورت اور اہمیت
    بیعت ِتصوف کا اصل مقصد علم باطنی کا حصول ہے بیعت گناہوں سے ہجرت کرنے کا نام ہے، گناہ چھوڑ کر نیکی کی رغبت پانے کا نام ہے۔ بیعت رابطہ بالحق کے لیے ہے۔ اللہ سے مسلسل تعلق قائم رکھنے کے لیے ہے ۔اس کی طلب اور اسے پانے کی استعداد اللہ کریم نے ہر پیدا ہونے والے کو دی ہے پھر اللہ کریم کسی ایسے شیخ سے ملادے جو خطاکاروں کو اللہ کی بارگاہ سے جوڑدے، جو خود سروں کے سر اللہ کی بارگاہ میں جھکادے، جو حرام کھانے کی برائی کا احساس دے، گناہ سے نفرت کا شعور دے، ایک درد دے کہ بندہ اللہ سے واصل ہونا چاہے تو یہی ارادت بیعت تصوف ہے۔ بیعت تصوف اِسی احساس کو جگاتی ہے اور شیخ کا یہ اتنا بڑا احسان ہے کہ بندے کو یہ احساس دلادے کہ وہ بھی انسان ہے۔ اس کے سینے میں بھی دل ہے۔ اس دل میں اللہ کے جمال کی تجلی ہے۔ اس کے اندر بھی روح ہے۔ اس کا دل بھی اس قابل ہے کہ اللہ کا گھر بن جائے اور پھر شیخ صدیوں کے سینے چیر کر بندے کو بارگاہِ نبوی ﷺ میں لے جائے اور آقائے نامدار ﷺ کے روبرو کردے۔


بیعت ِطریقت کے بارے دلائل السلوک میں لکھا ہے کہ؛
یہ بیعت صرف وہ شخص لے سکتا ہے جو نہ صرف خود فنافی الرسول ہو بلکہ دوسرے کو بھی فنافی الرسول کراسکتاہو۔ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں ہم بیعت ِاصلاح یا بیعت ِامارت نہیں لیتے بلکہ بیعت ِتصوف لیتے ہیں اور اس وقت اللہ کا فضل نسبت ِاویسیہ پر ہے۔ اور میرے علم میں نہیں ہے کہ کہیں روئے زمین پر کسی دوسرے سلسلے کا کوئی ایسا شخص موجود ہو جو فنافی الرسول کراسکتا ہو ۔


تصوف کی بیعت حصولِ برکات کے لیے

 شروع کے عہد میں حضرت قلزمِ فیوضات ؒ ظاہری بیعت لیا ہی نہیں کرتے تھے۔ ہمارا طریقہ بالکل سیدھا سا تھا کہ جو بھی آتا ہے، آئے ، اللہ اللہ کرے، اگر اُسے مراقبات نصیب ہوںاور فنا فی الرسول نصیب ہوگیا تو روحانی طور پر بارگاہِ عالی ﷺ میں بیعت ہوجائے گی۔ پھر ستّرکی دہائی کے آخر میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ لوگوں کا مزاج ہے وہ چاہتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں بیعت ہوں اور خانہ پُری کےلیے کسی گمراہ کی بیعت بھی ہو جاتے ہیں، پھر ساری عمر گمراہی میں غرق رہتے ہیں۔ حضرت قلزمِ فیوضات ؒ نے یہ مسئلہ مشائخ عظام کی خدمت میں رکھا۔ اور اُن کی اجازت سے حضرت قلزمِ فیوضات ؒ نے بیعت شروع فرمائی اور الحمدللہ ،حضرت قلزمِ فیوضات ؒ سے ظاہری بیعت کی سعادت بھی اللہ نے سب سے پہلےمجھے بخشی، یہ اللہ کا احسان ہے۔ اس کے بعد ہمارے سلسلے میں یہ کام چل پڑا کہ ہر آنے والے سے یہ بیعت لے لی جاتی ہے۔ نسبت ِاویسیہ کی برکات سے ہزاروں، لاکھوں انسانوں کی اصلاح ہورہی ہے۔

شیخ کے حق پر ہونے کی دلیل

شیخ کے ذریعے وہ برکات مل رہی ہیں کہ لوگ برائیاں چھوڑ کر نیکیاں اپنانے لگ جاتے ہیں۔بےدین فضائوں میں سانس لیتے ہوئے دینداری کا حق ادا کرتے ہیں۔ بے نمازیوں کے ساتھ رہتے ہوئے نمازیں ادا کرتے ہیں۔ غافلوں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنی راتوں کو ذکر اللہ سے سجاتے ہیں۔جب تک دِل اللہ سے آشنا نہ ہو دماغ اُس کی عظمت کو ماننے کے باوجود اُس کی اطاعت کے قابل نہیں ہوتا۔ اِس لیے اہل اللہ اورگروہ صوفیاء ساری توجہ دِل میں انڈیل دیتے ہیں۔ توجہ سے دِل روشن ہوکر اِس قابل ہوجاتا ہے کہ وجود ہی مسجد میں نہیں آتا دِل پہلے مسجد پہنچ جاتا ہے۔بیعت ِتصوف اِسی مقصد کے حصول کے لیے ہے کہ دِل میں خلوص آجائے ، قربِ الٰہی کی آرزو پیدا ہوجائے ، برکاتِ نبوت دِل پر ابر ِرحمت کی طرح برستی ہوں اور دِل نورِنبوت کی کرنیں منعکس کرتا ہو۔ لیکن یہ کام از خود نہیں ہوتا، ذکر ِالٰہی سے دِل روشن ہوتا ہے اور شیخ کے ذریعے نورِ نبوت کا انعکاس ہوتا ہے۔

 جب بیعت ِرضوان کا ذکر آتا ہے اللہ کریم فرماتے ہیں؛
اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ  فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ وَمَنْ اَوْفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیْہُ اللّٰہَ فَسَیُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا     (الفتح : 10)
ترجمہ: بے شک جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ (واقعی میں) اللہ سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے تو (بیعت کے بعد) جو عہد کو توڑنے والے کا وبال خود اُسی پر ہے۔ اور جو شخص اس بات کو پورا کرے گا جس کا (بیعت میں) اللہ سے عہد کیا ہے تو وہ اُسے عنقریب اجر ِعظیم عطا فرمائیں گے۔

یعنی جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں اور یہ ایسے خوش نصیب ہیں کہ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ اس بیعت کی کتنی اہمیت ہے کہ اللہ نے اپنی مدد اُن کے ساتھ کردی ہے، اُن کے ہرکام میں اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔اس سنت کی پیروی میں ہی مشائخ کی بیعت ِظاہری کی جاتی ہے۔ ورنہ بیعت تو دراصل ارادت کانام ہے۔ وہ نسبت جو دل سے دل کو ہو، اُس سے اللہ کے نام پر ایک رشتہ اور تعلق نصیب ہوتا ہے ۔ ظاہری بیعت کے ساتھ، وہ تعلق کئی گنا بڑھ جاتا ہے او رظاہری بیعت کی ضرورت اور اہمیت یہی ہے کہ آدمی ایک جگہ منسلک ہوجاتا ہے او ربھٹکنے کے خطرے سے بچ جاتا ہے۔

بیعت ِتصوف کی شرائط

  1. طلب ِصادق
    طلب الٰہی کے لیے ، اُلفت پیغمبر ﷺ کے حصول کے لیے ،طلب کو کھرا کرنا۔
     
  2. اخذ ِ فیض کے لیے شیخ سے قلبی تعلق
    بیعت ایک تعلق ہے جو دِل کو دِل سے جوڑتا ہے جس دِل میں اللہ کو پانے کی آرزو ہواور جس کی طلب صادق ہوتو اللہ اُسے ایسے صاحبِ دِل کے پاس پہنچادیتا ہے۔ شیخ کے پاس اپنا مقصود پاکر بندے کا قلب خود بخود شیخ سے محبت کرنے لگ جاتا ہے اِسے ارادت کہتے ہیں اور یہی بیعت ہے۔تصوف وسلوک کا رشتہ بہت نازک ہے۔ اِس لیے کہ برکات نبوت کا مصدر نبی کریم ﷺ کا سینۂ اطہر ہے۔ یہ کیفیات حضور ﷺ سے مشائخ کے سینے میں آتی ہیں اور وہاں سے سالک کو نصیب ہوتی ہیں۔ اِس لیے سالک کے دِل کا تعلق شیخ سے جتنا مضبوط ہواتنی ہی قوت سے ترسیل ہوتی رہے گی۔ اس کی مثال بجلی کے بلب اور اُس برقی کنکشن کی ہے جس کے ذریعے پاور ہاؤس سے بجلی آ رہی ہے۔ شیخ چونکہ برکاتِ نبوت کا امین ہوتا ہے لہٰذا اس کے لیے اُنہی آداب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے جو برکاتِ نبوت کے شایانِ شان ہوں۔ یہ ادب کیسے سیکھا جائے؟اگر دِل میں طلب ِالٰہی کھری کرلی جائے تو خود بخود ادب آجاتا ہے ،سیکھنا نہیں پڑتا۔ نُورقلب میں آکر آداب سکھادیتا ہے۔ حصولِ برکات کے لیے اور تصوف میں ترقی کے لیے یا اس پر استقامت کے لیے، پاسِ ادب ہی شرط ہے اور ادب کرنے والے کو ہی مشائخ سے عقیدت ومحبت نصیب ہوتی ہے اور جس شخص کو شیخ کی ذات سے محبت نصیب نہ ہواُسے یا تو برکات نصیب نہیں ہوتیں یا وقتی او رلمحاتی بات ہوتی ہے۔
     
  3. محاسبۂ ذات
    حصولِ برکات کے لیےجو بیعت ہوتی ہے اُس کی شرط ہے کہ بیعت خلوص سے کی جائے اور حصول برکات کی نیت سے کی جائے پھر اپنی نیتوں، ارادوں اور قلبی کیفیات پر محاسبہ کی نگاہ رکھے او رجو برکات نصیب ہورہی ہوں اُن پر استقامت دکھائے۔ یاد رکھیں ،جو لوگ جاہلوں اور نااہلوں سے بیعت کرلیتے ہیں اور گمراہی میں ہی زندگی بسر کرجاتے ہیں وہ بیعت کبھی نہیں توڑتے اس لیے کہ اُنہیں بیعت توڑنے کا داعیہ ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ شیطان بھی مطمئن ہوجاتا ہے کہ جس کنارے لگ گیا ہے اُسے یہیں کھپادینا چاہیے۔ لیکن جنہیں واقعی شیخ سے بیعت نصیب ہوجائے تو پھر شیطان کو بھی مصیبت پڑجاتی ہے کہ اس شخص کو کس طرح اس نعمت سے الگ کیا جائے۔ ایسے لوگوں کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے، ان سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

بیعت ِتصوف اورحفاظت ِ الٰہیہ

بیعت کا بہت بڑا فائدہ حفاظت ِالٰہیہ کا حصول ہے۔ حفاظت ِ الٰہیہ بندے کو خطائوں سے، گناہوں سے، برائی سے محفوظ رکھتی ہے۔ حفاظت ِالٰہیہ کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اب بیمار نہیں ہوگا، اُسے روزی میں تنگی نہیں آئے گی یا اُس پر دُنیا کے مسائل نہیں آئیں گے۔ یہ تو نظامِ کائنات ہے اور تنگی و آسانی اس نظام کا حصہ ہے۔ ارواح کی تخلیق سے بھی پہلے اللہ کریم نے ایک ایک فرد کی روزی تقسیم کردی، صحت و بیماری کا فیصلہ کردیا۔ یہاں تک کہ کسی کی دُعا سے جو فائدہ ہوتا ہے، وہ فیصلہ بھی ازل میں ہوچکا ہے کہ اللہ کریم فلاں کی دُعا فلاں کے حق میں قبول فرما کر اُس کے حالات بدل دیں گے۔ ہاں، انسان کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ہوتا پھر وہی ہے، جو اللہ چاہتا ہے۔ لیکن انسان اپنے اندر ایک فیصلہ کرتا ہے کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟ سنت کے مطابق اور اللہ کی اطاعت کی حدود میں۔ حفاظت ِالٰہیہ یہ ہے کہ بندے کو فیصلہ کرتے وقت اللہ کی مدد حاصل ہوجاتی ہے اور بندہ نیکی کا فیصلہ کرتا ہے، برائی کا نہیں۔ یہی فرق ہےبیعت ِاصلاح او ربیعت ِتصوف میں۔

 ایمان ہونا اور اعمالِ صالح ہونا ایک بات ہے اور دردِ دل کا ہونا ایک علیحدہ بات ہے۔ جو شخص ایمان لاکر اعمالِ صالح کرتا ہے اور اُس پر اللہ کا کرم ہو، اُس کا خاتمہ ایمان پر ہوجائے الحمدللہ ،یہ ایک بڑی بات ہے۔ لیکن دردِ دل کے ساتھ رہنا ایک دوسری بات ہے۔ دردِ دل ملتا ہی صالحین کی صحبت سے ہے۔ حضور ﷺ سے صحابہؓ نے حاصل کیا، صحابہؓ سے تابعین نے حاصل کیا اور تابعین سے تبع تابعین نے حاصل کیا۔ پھر ہر عہد میں اللہ نے ایسے بندے پیدا کیے او رایسے بندے پیدا کرتا رہے گا جو انوارات وبرکات سینۂ اطہر رسول ﷺ سے اخذ کرتے رہیں گے او رمخلوق کو بانٹتے رہیں گے۔ دردِ دل سے حفاظت ِالٰہیہ نصیب ہوگی، شیطان سے دفاع نصیب ہوگا، معاشرے میں رہنے کا ڈھنگ نصیب ہوگا، اللہ کا حکم مجبوراً ماننے کی بجائے، حکمِ الٰہی ماننا اُس کے دل کی تمنا ہوگی، ہر شرعی حکم اُس کی رُوح کی غذا بن جائے گا اور ان انواراتِ قلبی کے باعث اُس کی دُنیا کی زندگی، باوجود مسائل زندگی کے، ایسے پر سکون ہوگی جیسے جنتی جنت میں پر سکون ہوں گے۔بیعت ِ اصلاح میں دین کے احکام ومسائل سکھائے جاتے ہیں ۔ بیعت ِتصوف میں قلبی کیفیات عطا کی جاتی ہیں۔ قلب میں یہ رحجان پیدا کیا جاتا ہےکہ وہ دِل کی گہرائی سے اتباع کرے۔ شیخ کے پاس بیٹھنے والوں کے دِلوں میں خود بخود خوفِ خدا پیدا ہوجاتا ہے۔ ان کے دل اللہ کی ذات کو اپنے قریب محسوس کرتے ہیں اُنہیں اللہ پر بھروسہ آجاتا ہے وہ اپنی باتیں اللہ سے کرتے ہیں اور اپنے دُکھ اللہ سے بانٹتے ہیں اور اُس کے کرم کے اُمیدوار رہتے ہیں۔ ظاہری تعلیمات کے ذریعے مانا جاتا ہے کہ اللہ ہے ۔ برکاتِ نبوت یہ یقین عطا کرتی ہیں کہ اللہ ہے۔ اللہ کریم جسے ایمان کی توفیق بخشیں، قلب ِ اطہر ﷺ کے درمیان ایک رابطہ قائم ہوجاتا ہے اگر چشمِ بینا ہوتو دیکھا جاسکتا ہے کہ بے شمار نورانی تاریں قلب ِ اطہر ﷺ سے نکلتی ہیں او رجس دِل میں ایمان ہے وہاں تک پہنچتی ہیں۔اس رشتۂ ایمان کو مضبوط ترکرنے کا ایک ہی طریقہ ہے وہ ہے اطاعت ِرسول ﷺ۔

اطاعت ِ رسول ﷺ کے دو حصے ہیں

 ایک حصہ تو وہ ہے جو ہر مسلمان کو نصیب ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد تعلیماتِ نبوت سے آشنائی حاصل کرے اور اتباعِ رسالت کو شعار بنائے۔ اپنا جینا مرنا، سونا جاگنا، اُٹھنا بیٹھنا، جتنا سنت کے قریب ترکرتا جائے گا، اُتنا اُس کا رشتہ مضبوط اور اتنی ہی اُس کی تعلق کی تاریںبڑھتی چلی جائیں گی۔ ہر سنت اس تار کو بڑھائے گی۔ عین ممکن ہے وہ تار، رسہ بن جائے اور دوسر احصہ اس تعلق کو مضبوط کرنے کا یہ ہے کہ اطاعت بھی نصیب ہو اور اُس کے ساتھ برکاتِ صحبت بھی نصیب ہوجائیں۔ جب برکاتِ صحبت نصیب ہوتی ہیں تو تعلق کی ابتداء تارسے نہیں، نہر سے ہوتی ہے او رپھر یہ تعلق سمندروں کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ سلاسل تصوف میں جو شجرہ مبارک پڑھا جاتا ہے اس میں اُن بزرگوں کے نام آتے ہیں جنہوں نے اپنے سے پہلوں سے، برکاتِ صحبت حاصل کیں او ریوں شجرہ حضور ﷺ تک پہنچتا ہے۔ یہ یادرکھیں، کہ شجرہ جتنا طویل ہوگا قوت اتنی ہی کم ہوتی چلی جائے گی۔ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ تمام سلاسل سے قوی ہے کہ چودہ صدیوں میں صرف بارہ واسطے ہیں رسول ﷺ کی ذاتِ اقدس تک، باقی کوئی بھی سلسلہ چالیس و اسطوں سے کم نہیں ۔ نسبت ِ اویسیہ کے مشائخ ایسے عظیم انسان ہیں کہ انہوں نے تین تین، چار چار صدیاں مسلسل دلوں کو روشن رکھا۔
 سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اویسیہ میں بیعت ِتصوف سےکمالِ انسانیت نصیب ہوتا ہے۔

بیعت کے تقاضے

بیعت کے بعد جب محنت کی، مجاہدہ کیا تو اب اس کا امتحان ہوگا مسجد میں اور مسجد کے باہر، بازار، کاروبار، لین دین، گھر کی چاردیواری، گھر والوں کے ساتھ معاملات، لوگوں سے تعلقات، یہ سب امتحان گاہیں ہیں جب اللہ کے نور سے بندے کا دِل صاف ہوتا ہے، اس کے کردار میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ اور اگر کردار میں تبدیلی نہیں آتی تو ابھی دِل کی صفائی نہیں ہوئی۔ اللہ اللہ کرتے رہنے سے جب دِل میں روشنی آتی ہے تو سب کام سیدھے طریقے سے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا اپنے ذکر کی آزمائش میدانِ عمل میں کرو، کاروبارِ حیات میں، بیوی بچوں اور دوستوں کے ساتھ برتائو میں کرو ۔ ۔ ۔ خود کو حضور ﷺ کی غلامی میں لانا ہی اصل ایمان ہے ۔ ۔ ۔ لوگوں کی باتوں سے اور اُن کی رائے سے صرفِ نظر کرنا بھی بیعت کا تقاضا ہے ۔ کوئی آپ کو چور کہتا ہے ،کہتا رہے لیکن اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ آپ کو چور نہ کہیں، اپنے فرائض پورے خلوص اور دیانتداری سے ادا کرتے رہیں، لوگ خواہ کچھ بھی کہتے رہیں ایک صوفی کے لیے یہ کمزوری ہے کہ وہ یہ سوچے لوگ کیا کہیں گے۔ لوگوں کو کہنے دیں، لوگوں کی اپنی رائے ہے ،سارے لوگ تو اللہ کی عظمت پہ متفق نہیں، حضور ﷺ کی رسالت پہ متفق نہیں، ہماری کیا حیثیت ہے ؟کہ سارے لوگ ہمیں اچھا کہیں اور اگر کہیں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ اور ،نہیں کہیں گے ،تو ہمارا کیا بگڑے گا؟ ہمارا مقصد تویہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں ہمیں قبول فرمایا جائے ،اور ہمیں یہ فکر ستائے کہ جو میں کررہا ہوں، میرا ربّ مجھے دیکھ رہا ہے، وہ ناراض تو نہیں ہوگا؟ نبی کریم ﷺ ناپسند تو نہیں فرمائیں گے؟جب کوئی اللہ کا ہوجاتا ہے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ اُسے اپنے مقصد سے نہیں ہٹاسکتی ، وہ زندگی کے تمام نشیب وفراز طے کرتا ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، امیری، فقیری، محبتیں، نفرتیں سب سہتا ہے۔ پریشان نہیں ہوتا، اُس کی پریشانی کی صرف ایک ہی بات ہے کہ اُس کا اللہ سے تعلق کمزور نہ ہوجائے، اُس کی خوشی اس بات میں ہے کہ اس کا تعلق اللہ کے رسول ﷺ سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے۔ صوفیا کرام ؒ فرماتے ہیں کہ تصوف میں نقصان یہی نہیں ہوتا کہ جو مقام تھا وہ چھن گیا بلکہ نقصان اُسے کہا جاتا ہے کہ جو مقام تھا اُس میں اضافہ کیوں نہیں ہوا یعنی جو تعلق بارگاہِ نبوی ﷺ سے ہے، جو طلب جمالِ الٰہی کی ہے، وصولِ حق کی ہے، اِس طلب اور اِس آرزو میں، اِس خواہش میں ہر لمحے اضافہ ہوتا رہے تو بات ٹھیک اور اگر ایک جگہ رُک جائے تو یہ نقصان ہے اُس تاجر کی طرح جس کے اصل زر میں اضافہ نہیں ہوتا۔

بیعت ٹوٹنے کی وجوہات

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر بغیر سوچے سمجھے کسی بھی شخص کی بیعت کرلی جائے کہ یہ شاہ جی ہیں، یا پیر صاحب ہیں، تو وہ بیعت منعقد ہی نہیں ہوتی، بیعت ہوتی ہی نہیں، ہوگی تو ٹوٹے گی۔ خواہ مخواہ بندہ تصور کرلے کہ میں یہاں بندھا ہوا ہوں، بندھے ہوئے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ،بلکہ نقصان ہی ہوتا ہے۔ متحدہ ہندوستان کے زمانے میں عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ تقریر فرمارہے تھے ۔ایک ہندو نے سوال کیا کہ اسلام میں نکاح ہوتا ہے پھر طلاق بھی ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہندومت میں شادی ہوتی ہے پھر کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اِس لیے ہندو مذہب افضل ہے۔ اللہ کریم شاہ صاحب پر کروڑوں رحمتیں فرمائے اُنہوں نے بڑے مزے کا جواب دیا کسی سے کہا دھاگہ اور چاقو لائو، دھاگہ او رچاقو لایاگیا۔ ایک شخص سے کہا دھاگہ کھینچ کر پکڑو ، اُس نے پکڑا ،اُنہوں نے چاقو گھمایا، پوچھا کیا دھاگہ کٹ گیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا، کٹ گیا ہے۔ پھر اُسی شخص سے کہا دھاگہ پھینک دو اور اب ویسے ہی ہاتھ پکڑو۔ آپ نے چاقو دوبارہ اُسی طرح گھمایا او رپوچھا کچھ ٹوٹا؟ جواب آیا، کچھ نہیں ٹوٹا۔ اُنہوں نے فرمایا: طلاق کے لیے پہلے نکاح ہونا چاہیے۔ ہندو مذہب میں نکاح ہی نہیں ہوتا، طلاق کہاں سے ہوگی۔ یعنی کچھ ہوگا تو ٹوٹے گا تمہارے پاس نہ دین ہے نہ پیغمبر علیہ السلام، نہ اُن کا بتایاہوا طریقہ، تمہارے ہاں کچھ ہوگا تو ٹوٹے گا؟ اسی طرح بغیر جانے بوجھے جو رسمی بیعت ہوتی ہے وہ ہوتی ہی نہیں توٹوٹے گی کہاں سے؟جو بیعت تصوف میں کی جاتی ہے اُس کی تو ابتداء ہی طلب ِ صادق سے ہوتی ہے وہ بیعت اللہ کے نام پر اللہ کی طلب میں کی جاتی ہے جو حضور ﷺ کی سنت کے اتباع میں کی جاتی ہے، اُس کے ٹوٹنے کی وجہ غلطی نہیں، بددیانتی ہوتی ہے۔ جب طلب بدل جاتی ہے او ربندہ اصلاح کرنے کی بجائے اپنی غلطی پر ڈٹ جاتا ہے تو بیعت ٹوٹ جاتی ہے۔
  1. شیخ پر اعتراضات
    حضرت قلزمِ فیوضات ؒ ایک اصول فرمایا کرتے تھے کہ جو تحقیق کسی نے شیخ کے بارے کرنی ہے، وہ بیعت ہونے سے پہلے کرلے، تحقیق کرے، مل کر دیکھے، پاس رہے، جب تسلی ہوتو بیعت کرے، اس لیے کہ بیعت کے بعد صرف تعمیل کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ اسی لیے حضرت قلزمِ فیوضات ؒ کے پاس علماء بھی آتے تھے۔حضرت قلزمِ فیوضات ؒ فرماتے تھے پہلے اپنے سارے سوالوں کے جواب حاصل کرلو ،بیعت کے بعد نہ تمہیں اختیار ہوگا سوال کرنے کا اور نہ میں جواب دینے کی ضرورت سمجھوں گا۔ تعلیم کے لیے سوال کرنا، یا کسی بات کو سمجھنے کے لیے سوال کرنا ایک الگ بات ہے لیکن سوال بطور اعتراض کرنے کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے اور اگر بیعت کی اہمیت دِل میں نہ رہے تو بھی آدمی اعتراضات پر اُتر آتا ہے حالانکہ جب کسی کے دِل میں اعتراض پیدا ہوتا ہے تو اس میں کوئی بات یقینی نہیں ہوتی، ہوسکتا ہے معترض جو سوچ رہا ہے وہ اُس کی سمجھ کا قصور ہو،ممکن ہے جو اُسے نظر آرہا ہے حقیقت ویسے نہ ہو،لیکن یہ بات حتمی ہے کہ شیخ پر اعتراضات کرنے والے کی بیعت نہیں رہتی۔
    بیعت رضوان کی آیات میں اِس انجام کی خبر اللہ نے دی ہے!
    فَمَنْ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنْکُثُ عَلٰی نَفْسِہٖ (الفتح : 10)
    بیعت توڑنے سے اُس نے اپنے آپ کو تباہ کرلیا اس لیے کہ برکاتِ نبوت ﷺ سے اُسےحفاظت ِالٰہیہ حاصل ہورہی تھی۔ اس نے بیعت توڑ کر خود کو اللہ کی حفاظت کے حصار سے باہر نکال دیا، اپنی جان کو برباد کرلیا، خود کو تباہ کرلیا۔
     
  2. بہتان لگانا
    کسی بھی صوفی کا اللہ سے تعلق قائم رکھنا ہمیشہ شیخ کے رشتے کا محتاج ہوتا ہے یہ ممکن نہیں کہ وہ شیخ کو چھوڑ دے اور خود اللہ کے قرب میں بازیاب رہے۔ حضرتؒ کے پاس کچھ لوگ میری شکایت لے کر گئے او رمجھ پر الزام لگایا حضرت قلزمِ فیوضات ؒ نے مختصر سا جواب دیا کہ میں تمہاری بات پر اس لیے یقین نہیں کرسکتا کہ وہ میرے ساتھ بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوتا ہے۔ جو الزام تم اِس پر لگارہے ہو یہ بوجھ اُٹھاکر کوئی بارگاہِ نبوی ﷺمیں نہیں جاسکتا۔ اس لیے الزام تراشیوں کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ الزام لگانے والے کا رشتۂ بیعت منقطع ہوجاتا ہے۔
     
  3. اپنی بڑائی کا اسیر ہوجانا
    بعض بدنصیبوں کو یہ کرم ہضم نہیں ہوتا،بجائے عظمت ِالٰہی اور عظمت ِپیغمبر کو سمجھنے کےاپنی بڑائی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ خود پیر بننے لگتے ہیں، اپنا آپ منوانا چاہتے ہیں، یہی بات بیعت کو توڑتی ہے۔ گناہ ہوجانے سے بیعت نہیں ٹوٹتی بلکہ بیعت ہوتو گناہ ہوجانے سے دُکھ ہوتا ہے اور توبہ کی توفیق ملتی ہے۔ نہ ہی بندہ بیعت کرلینے سے فرشتہ بن جاتا۔ انسان ہی رہتا ہے او رنہ گناہ ہوجانے سے بیعت ٹوٹتی ہے بلکہ بیعت کام آتی ہے۔ بیعت بندے کو اندر سے پکڑ کر ہلاتی ہے، اُس کا ضمیر جھنجھوڑتی ہے، یہ کیا کررہے ہو ؟توبہ کرو ،جب تک بندے میں عجز رہے گا ،نیاز مندی رہے گی، طلب ِالٰہی رہے گی، بندہ اپنے مقام پر رہے گا۔ کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس کا محتاج ہوں ،مجھے اُس کی مدد چاہیے،تب تک اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہے گی ۔ورنہ اپنی بڑائی کا زہر جو بھی پئے گا وہ بچے گا نہیں۔
     
  4. بددیانتی کرنا
    بددیانتی روپیہ پیسے کی ہویا عہدے کے ذریعے مراعات حاصل کرنے کی، یہ وہ خطرناک بیماری ہے جس سے بیعت ختم ہوجاتی ہے۔ اس خود غرضی کے جہان میں شیخ کے ذریعے دامانِ مصطفیٰ نصیب ہوجائے تو اس سے بڑی نعمت کا کوئی تصور کیا جاسکتا ہے؟ اور پھر کوئی اُسے چھوڑ دے، تو اُس کے پاس کیا بچا؟

 بیعت کی حفاظت

  1. طلب کو خالص رکھیں
    اس یقین کو زندہ رکھیں کہ ہر لمحے کا حساب اللہ کریم کے روبرو کھڑے ہوکر دینا ہے۔ یہ یقین حاصل ہوجائے تو کسی دُنیاوی طلب کی آمیزش نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو اللہ کا یہ انعام نصیب ہوا ہے کہ بیعت ِتصوف نصیب ہوئی ہے تو اپنی آرزو کو اللہ کے لیے، اللہ کی طلب کےلیے خالص کردیں۔ اِسے خالص رکھنا آپ کے بس میں ہے اور اس کی استقامت کے لیے اللہ سے دُعا مانگیں۔ اگر اللہ نے آپ کو روحانی بیعت نصیب کی ہے تو پھر اِس کی اہمیت کا اندازہ کرکے، اُسے نبھانے کے لیے اپنی جان لڑادیجئے۔ اپنی طلب کی جانچ کا ایک ہی معیار ہے، نہ کسی کا کشف معیار ہے، نہ کسی کا خواب، ہر بندے کے لیے ایک ہی معیار ہے۔ کیا اِس تعلق سے اُس کے دِل میں نیکی کی محبت اور برائی سے نفرت پیدا ہورہی ہے؟
     
  2. اتباعِ سنت ِرسول ﷺ میں مستعد رہنا
    صوفی وہ ہوتا ہے جو اپنے ایمان اور اسلام کے ساتھ صفائے قلب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ وہ زبانی اسلام اور ظاہری اعمال پر ہی نہیں رہتا، وہ چاہتا ہے کہ جب میں رکوع کروں تو میرا دل، میری روح بھی جھک جائے۔ جب میں سجدہ کروں تو میرا وجود ہی نہیں، میرا دل بھی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہہ رہا ہو۔ جب میں اللہ کو یاد کروں تو میرے بدن کارواں رواں اللہ کو یاد کرے۔ اس کا مطلب ہے صوفی کے لیے حصولِ منشائے باری اور اتباعِ رسول ﷺ بنیاد ہے صفائے قلب کی۔
     
  3. شیخ کی ذات سے محبت ہو
    اس بات کو سمجھنے سے پہلے، ذاتِ نبوی ﷺ سے محبت کو سمجھنا پڑے گا۔ نبوت خاصہ ہے ذاتِ محمد ﷺ کا۔ نبوت وہبی ہے اور نبوت دے کر واپس نہیں لی جاتی۔ نبوت نبی ؑ کی ذات کا وصف ہوتی ہے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی معترض اعتراض کرے، کوئی الزام لگانے والا الزام لگائے یا کسی سازش کے ذریعے نبی ؑ سے کوئی نبوت کی عظمت چھین لے، حضور ﷺ کی نبوت آپ کا وصف ِذاتی ہے۔ کوئی بھی آپ ﷺ کی ذاتِ ستودہ صفات سے اِسے الگ نہیں کر سکتا۔ نہ دُنیوی موت، نہ برزخ، نہ ہنگامہ حشر ،ہر حال میں ہر موقع پر، ہر جگہ آپ ﷺ کی شان میں اضافہ ہی ہوگا، اس میں کمی نہیں آئے گی۔ اسی لیے روضۂ اطہر کا آج بھی وہی ادب ہے جیسا آپ ﷺ کے اس عالمِ فانی میں جلوہ افروز ہونے کے وقت تھا۔ تمام مجاہدوں او رتمام محنتوں کا حاصل بھی یہی ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ کی ذاتِ اقدس سے محبت پیدا ہوجائے ۔ یہی شرط ایمان ہے اور یہی کمالِ ایمان ہے۔ معترض اعتراض کریں، مغرب کے مفکر اعتراض کریں ، مکے کے کافر اعتراض کریں ،مدینے کے منافق اعتراض کریں، یا آج کے بے دین اور بے راہ فرقے اعتراض کریں لیکن جس کا تعلق محمد ﷺ کی ذات سے ہوتا ہے وہ ان سب باتوں سے بالاتر ہوتا ہے۔ جب تک بندے کا رشتۂِ ایمان ذاتِ عالی ﷺ سے نہ ہوگا، بات نہیں بنے گی اور ذاتِ عالی تک رسائی حضور ﷺ کے اتباع، آپ ﷺ کی غلامی سے ہوگی۔

    ایمان کیا ہے؟

    ایمان رشتۂ اُلفت ہے، جب ذات سے رشتہ ہوتو اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ایسا ہی تعلق شیخ کی ذات سے ہوتو برکات نبوت ﷺنصیب ہوتی ہیں او رانجام بخیر ہوتا ہے۔ اگر رشتۂ ذات سے ہوگا تو اعتراض نہیں ہوں گے۔ صفات سے ہوگا تو اعتراض کی گنجائش رہے گی کیونکہ صفات تو بدلتی رہتی ہیں۔ اللہ کریم کا یہ احسان ہے کہ ربع صدی ،اللہ نے مجھے شیخ کی رفاقت سے نوازا، ربع صدی میں کسی کا کوئی اعتراض، کبھی میرے نزدیک کوئی اہمیت حاصل نہ کرسکا، اس لیے کہ مجھے اپنے شیخ کی ذات سے تعلق تھا۔ یہ شرط نہیں تھی کہ ذات کیسی ہے، جو تعلق ذات سے ہوتا ہے اُس میں شرطیں نہیں ہوتیں،صفات کی بناء پر جو تعلق ہوتا ہے وہ صفات کے بدلنے سے بدلتا ہے۔ خیر القرون کے بعد،میرے شیخ ایسے نابغۂِ روزگار تھے کہ صدیوں میں جن کی مثال نہیں ملتی۔ اس عظمت کے باوجود، اُن کی زندگی عام انسان کی سطح پر تھی۔ زمیندار تھے، کاشت کار تھے، مولوی تھے، طبیب تھے، اعلیٰ پائے کے مناظر تھے، جہاں آپ کے بہت سے دوست تھے، وہاں دُشمن بھی تھے، جہاں بے شمار جانثار تھے، وہاں برادری کی رنجشیں بھی تھیں۔ کچھ دُعا دینے والے تھے تو کچھ ایذادینے والے بھی تھے۔ لیکن میرا رشتہ اُن کی صفات سے نہیں، ذات سے ہے۔ شیخ کا شاگرد سے رشتہ یہ ہوتا ہے کہ بندے کو اخلاق و آداب سکھا کر، اللہ کے حضور کھڑا کردے اور چونکہ شیخ سے برکاتِ نبوت ﷺ لینی ہیں، لہٰذا آداب بھی بارگاہ ِنبوت ﷺکے ملحوظ رکھنے ہوں گے۔

  4.  شیخ سے ذاتی تعلق

    شیخ کا کسی پر احسان نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی ذمہ داری کے باعث مجبور ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی بات سنے، اُس کا کسی پر احسان نہیں کہ وہ خطوں کا جواب دے،یہ اُس کی ذمہ داری ہے کہ جتنے لوگوں کی تربیت کررہا ہے، اُن کی باتیں سنے، اُن کے خطوں کے جواب دے، اُنہیں ذکر سکھائے، اُن پر محنت کرے، اُنہیں بتائے کہ کہاں غلط ہوراہ ہے، کہاں ٹھیک ہورہا ہے۔ لیکن یہ تربیت اُن لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کا ذاتی تعلق شیخ کے ساتھ ہوتا ہے۔ رشتوں میں جب واسطے آجائیں تو دراڑیں پڑجاتی ہیں ۔فاصلے بڑھ جاتے ہیں، بیٹے نے باپ سے بات کرنی ہوتو وہ جاکر پھوپھی سے کہے، پھر وہ پھوپھی اُس کے باپ سے کہے، تو باپ کو دُکھ ہوگا کہ میرے بیٹے کو یا خود پرا عتماد نہیں یا مجھ پر اعتبار نہیں۔ اِسی طرح جب کوئی شیخ کے لیے سفارشیں ڈھونڈتا ہے تو سوچتا شیخ بھی یہی ہے، کہ اس کا رشتہ میرے ساتھ ہوتا تو یہ براہِ راست مجھ سے بات کرتا، سفارشیں ڈھونڈنا، رشتے میں کمزوری کی علامت ہے۔

اللّٰہ سب کا ہے تو سب کو کیوں نہیں ملا؟ اس لیے کہ سلیقہ نہیں آتا۔ حضور ﷺ نے سلیقہ سکھایا تو سب اللہ کے رُوبرُو ہوگئے۔ نبی کریم ﷺہم سب کے ہیں تو ہم سب اُن کے دیوانے کیوں نہیں ہیں ؟ اس لیے کہ دیوانہ بننے کا سلیقہ نہیں سیکھا، کمی ہماری طرف سے ہے، ورنہ حضور ﷺ تو ساری انسانیت کے نبی ہیں۔ اسی طرح شیخ سب کا ہوتا ہے، شیخ سے رشتہ بنانے کے لیے اپنے آپ پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ محنت میں کمی کی وجہ سے ہم ہچکچاتے رہتے ہیں۔ میں آپ سے خود یہ بات کہہ رہا ہوں کہ مجھ سے بات کرنے کے لیے یا خط لکھنے کے لیے یا ملاقات کے لیے، کسی ساتھی کی سفارش کی ضرورت نہیں۔ ہر بندے کے لیے یہی سفارش کافی ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ وہ مجھ سے اسلام سیکھنا چاہتا ہے، لہٰذا اپنے تعلق کو شیخ کے ساتھ سیدھا رکھیے، بنیاد سیدھی رکھوگے تو جو رشتہ بارگاہِ رسالت ﷺمیں استوار ہوگا، وہ بھی سیدھا ہوجائے گا۔ اِسی بنیاد پر بارگاہِ اُلوہیت میں رشتہ بنے گا۔ محبت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ بندے کو نہ ہونے کے برابر کردیتی ہے۔ محبت کرنے والے غلام ہی رہتے ہیں خواہ اُنہیں آزاد کردیا جائے۔

االحمد اللہ! سارے سلسلے کی ذمہ داری مجھ پر ہے ۔مجھے اجازت ہے، اس کے باوجود آج تک ایک ذکر ایسا نہیں جو میں نے تنہا کیا ہویا ساتھیوں کو کروایا ہو اور حضرت قلزمِ فیوضات ؒ سے اجازت نہ لی ہو۔ یہ بات سمجھانے سے نہیں آتی ،یہ محبت کرنے سے آتی ہے۔بعض چیزیں غیر صوفی کے لیے ضروری نہیں ہوتیں اور صوفی کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔

ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں تو بدوی ہوں ، صحرا میں رہتا ہوں، اپنا ریوڑ چراتا ہوں، مجھے آسان سی بات بتادیجئے، جس سے میری نجات ہوجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان پر قائم رہو، نمازیں پنجگانہ ادا کرو، روزے رکھو، زکوٰۃ فرض ہوتو ادا کرو ،میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ اُس نے عرض کی: میرے لیے یہی کافی ہے، پھر وہ چلا گیا۔ایک خادم حضور ﷺ کو وضو کروا رہے تھے۔ اُنہوں نے عرض کی آپ ﷺ دُعا کیجئے، اللہ مجھے یہ سعادت جنت میں بھی دے کہ میں آپ کی وہاں خدمت کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تہجد نہ چھوڑو۔ تہجد فرض تو نہیں ہے، لیکن صوفی کے لیے فرض جتنی اہم ہے۔بیعت کا حاصل یہ ہے کہ ایک درد، ایک کیفیت، ایک کسک سی دِل میں آجائے کہ بات ربّ سے نہ بگڑے، اللہ کے نبی ﷺ سے نہ بگڑے، ایسا ہوجائے پھر تو بات بن گئی اوریہ احساس نہ رہا تورسمِ دُنیا ہے۔ آتے ہیں لوگ چلے جاتے ہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔میری تویہ آرزو بھی ہے، یہ دُعا بھی ہے، یہ خواہش بھی ہے اور مشورہ بھی یہ ہے کہ اپنے اللہ، اپنے رسول ﷺ کے ساتھ، کھرے کھرے ہو جائو، کوئی ایچ پیچ نہ رہے، درمیان میں کوئی پردہ، کوئی حجاب نہ رہے، کوئی بات چھپی نہ رہ جائے، دِل کھول کے رکھ دیں، آگے ان کی مرضی، کسی کو کیا دیتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے او رجس کو جتنا دیتا ہے اس کی حیثیت سے زیادہ ہی دیتا ہے۔ اس کی بارگاہ سے کسی کو کم نہیں ملتا۔ اس بات سے آگاہی بے حد ضروری ہے کہ شیطان سب سے زیادہ محنت اس بات پر کرتا ہے کہ شیخ اورسالک کے درمیان تعلق کو خراب کردے یا تو اس کے آداب میں غلو(زیادتی) کرکے یا شیخ سے بدظن کر کے، شیخ کی گستاخی میں مبتلا کر دے، تاکہ سالک کو جو تحفظ اس نسبت سے حاصل ہے، اس سے محروم ہوجائے اور وہ اُسے اپنی طرف گھسیٹ لے۔اللہ سے دُعا کرتے رہنا چاہیے۔

اے اللہ! شیطان کو ہمارے عقائد پر دسترس نہ ہو۔ہماری عقیدت پر اس کی رسائی نہ ہو اور ہمارے اعمال اس سے محفوظ رہیں
آمین ۔۔۔ تمت بالخیر

شیخ کامل کی پہچان

نبی کریمﷺ سے صحابہ کرامؓ نے عرض کی، یارسول اللہﷺ! آپﷺ دنیا سے پردہ فرماجائیں گے تو یہ بعد میں آنے والے کیسے تلاش کریں گے کہ یہ اللہ کا بندہ ہے، یہ نیک آدمی ہے، یہ ولی اللہ ہے؟ یا جسے آج کل کی زبان میں آپ پیر کہتے ہیں۔ طرح طرح کے لوگ ہوں گے۔ نیک بھی ہوں گے، عابد و زاہد بھی ہوں گے، مخلص بھی ہوں گے لیکن اُن میں مکار بھی شامل ہو جائیں گے، بہروپئے بھی آجائیں گے جو بظاہر بڑا نیکی کا لباس بنا لیں گے، حلیہ نیکوں کا ہو گا اور اندر سے پتہ نہیں کیا ہوں گے؟ تو کیسے فرق پتہ چلے گا؟

آپﷺ نے فرمایا کہ اُس کی نشانی یہ ہے کہ اُس کے پاس چند لمحے بیٹھنے سے خدا یاد آجائے۔ یعنی جس کے پاس رہ کر تم خود کو اللہ کے قریب لے جاتے ہوئے محسوس کرو، وہ بندہ حق پر ہو گا۔ جس کے ساتھ ملنے سے تمہیں گناہ سے بچنے کا کوئی خیال دل میں آجائے، نیکی کی طرف بڑھنے کی رغبت دل میں پیدا ہو جائے، عمل میں صلاحیت پیدا ہو جائے، طلبِ صادق پیدا ہو جائے، دل میں خلوص پیدا ہو جائے، اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے کھری محبت پیدا ہو جائے، وہ کھرا بندہ ہو گا۔

ولایت انبیاء ؑ کی وراثت ہوتی ہے

ولایت انبیاء ؑ کی وراثت ہوتی ہے اور ہر وہ شخص ولی اللہ ہے جودل کو ایسا درد  دے،ایسی فکر دے دے جس میں تسکین اللہ کی اطاعت سے آتی ہو اور حضورﷺ کی سنت سے آشنا کر دے، نبی کریمﷺ کے نقشِ قدم پہ چلا دے تا کہ دنیا بھی سدھر جائے اور آخرت کی رسوائی سے انسان بچ جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی طرف کوئی لگاتا ہے تو وہ ٹھگ ہے۔ پہلے زمانے میں تھا، آج ہو یا کوئی بعد میں دعویٰ کرے۔

ہر آدمی دعویٰ کرتا ہے تو اُس کا کیسے پتہ چلے؟ میرے خیال میں یہ بڑا آسان ہے، جیسے ہر ڈاکٹر کہتا ہے میں بہت اچھا ڈاکٹر ہوں لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے مریض اُس کے پاس جا کر شفایاب ہوئے؟ ہمارے پاس معیار یہ ہوتا ہے کہ کون سے ڈاکٹر کے پاس کتنے لوگوں کو شفا ہوئی، اُس کے پاس جانا چاہئے۔ اسی طرح اگر کوئی کہتا ہے میں شیخ ہوں تو اُس کے پاس جانے والوں کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے۔ تو اگر تو کسی کی زندگی پہلے سے بدلی ہے، کسی کا دل روشن ہوا ہے، کسی کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو بات ٹھیک ہے۔ اگر دوسروں کو وہاں فائدہ پہنچ رہا ہے تو پھر بات جانے والے کی طرف پلٹ جاتی ہے کہ اُسے کس درجے کا فائدہ ہورہا ہے اور اگر نہیں ہو رہا تو قصور کہاں ہے؟

پیروں کے بھیس میں بھی ٹھگ

یہ جو ہم شکوہ کرتے ہیں ناں کہ ہم کہاں جائیں؟ دنیا میں ہر بھیس میں ٹھگ ہیں، پیروں کے بھیس میں بھی ٹھگ ہیں، علماء کے بھیس میں بھی ٹھگ ہیں تو کوئی انسان کہاں جائے؟ تو یہ شکوہ بیجا ہے۔ جب لوگوں نے خدا ہونے کا دعویٰ کر لیا، نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر لیا تو ولایت تو اُس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اگر کوئی ولایت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے تو اس پر تعجب کی کیا بات ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم کیوں جھوٹوں کے پاس جاتے ہیں؟ اس لئے کہ ہمارے دل میں بھی طلب ِ صادق نہیں ہوتی۔ جہاں طلبِ صادق ہو، جہاں انابت ہو، اسے ہدایت نصیب کرنا یہ اللہ کا کام ہے اور جہاں خلوص نہیں ہو گا تو وہ اگر کسی اہل اللہ کے پاس پہنچا بھی، بیٹھا بھی رہا تو ہمیشہ کے لئے نہیں رہ سکتا۔

کھری طلب کھرے بندے کے پاس پہنچاتی ہے

لوگ دنیا داروں، نقالوں، دغابازوں اور دھوکا دینے والوں کے پاس ساری عمر لٹتے رہتے ہیں، کیوں؟ ہم لوٹنے والوں کو تو برا بھلا کہتے ہیں لیکن لٹنے والوں کو ہمیشہ مظلوم شمار کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لٹنے والا بھی ظالم ہوتاہے اپنی ایک حیثیت میں، اُس کی طلب صحیح نہیں ہوتی۔

ہم کپڑا لینے جاتے ہیں تو جوتے والے کے پاس نہیں جاتے، کبھی فروٹ والے کی دکان پر ہم جوتے خریدنے نہیں جاتے۔ اتنا اگر ہم میں عقل اور شعور ہے تو جن کے پاس دین نہیں ہے وہاں دین لینے کیو ں جاتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں ہمارا مولوی بگڑ گیا ہے، ہمارا پیر خراب ہے۔ تو بھئی! بگڑے ہوئے مولوی کے پاس کیوں جاتے ہو، ایسے ہی جیسے آپ اُجڑی ہوئی دکان پر سودا لینے نہیں جاتے؟ اس کا مطلب ہے ہم بھی بگڑ گئے ہیں، ہم نے بھی جان بوجھ کر آنکھیں بند کر لی ہیں۔ دنیا کے معاملے میں ہم آنکھ بند نہیں کرتے، دین کے معاملے میں آنکھ بند کر لیتے ہیں کہ چلو بھئی! خانہ پُری کر لو۔

تو بات طلب کی ہے۔ اگر طلب صحیح ہو انسان بدکاروں، دھوکابازوں کے پاس رکتا ہی نہیں ہے، خواہ اُنہوں نے کتنی بڑی دوکان سجا رکھی ہو، اور جو رکتا ہے اُس کی اپنی طلب صحیح نہیں ہوتی۔

تارکِ شریعت کبھی ولی اللہ نہیں ہو سکتا

مجھ سے کسی نے سوال کیا کہ سلوک میں کوئی ایسی منزل یا منصب بھی ہے جہاں شریعتِ ظاہری کی حدود اور قیود اُٹھ جائیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ ہاں ہے، اگر آدمی پاگل ہو جائے یا اسلام چھوڑ دے۔ ہوش قائم ہو اور مسلمان ہو تو مرتے دم تک شریعت کا مکلف ہے۔ دماغ کام کرنا چھوڑ دے کسی مرض کی وجہ سے یا کسی بھی سبب سے تو آدمیشریعت کا مکلف نہیں رہتا۔

ولایت کا لبادہ اوڑھ کر لوٹنے والے ٹھگ

میں بڑے واضح الفاظ میں بتا دوں کہ کوئی پیر، کوئی ولایت کا مدعی کہے کہ میرے پاس آو ئ میں تمہیں اولاد دوں، وہ جھوٹ بولتا ہے۔ کوئی تمہیں کہتا ہے میں تمہیں رزق دوں گا، وہ جھوٹ بولتا ہے، دھوکا کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے میں تمہیں شفا دوں گا، وہ تمہارے ساتھ فریب کرتا ہے۔ ارے یہ ساری چیزیں جو پیروں کو نہیں مانتے اُنہیں بھی ملتی رہتی ہیں، جو نبیوں ؑ کو نہیں مانتے اُنہیں بھی ملتی رہتی ہیں بلکہ جو خود اللہ کو نہیں مانتے اُنہیں بھی یہ نعمتیں اللہ کریم دیتے رہتے ہیں۔ اللہ ایسا کریم ہے کہ اُس نے دنیا میں کسی کا راستہ، دروازہ بند نہیں کیا۔ کافروں کو اولاد بھی ملتی ہے، صحت بھی ملتی ہے، رزق بھی ملتا ہے، تو پھر ہمیں یہ پیر کا بوجھ سر پر لادنے کی کیا ضرورت ہے؟

بندے کا فیصلہ

جو آدمی اپنے دل میں ذاتی طور پر یہ طے کر لے کہ مجھے اللہ کا قرب چاہئے، مجھے اللہ کی رضا چاہئے، جو یہ طے کر لے کہ مجھے اللہ کی طلب میں، اللہ کی آرزو میں، اُس کی رضا کی تلاش میں سب کچھ ہی ہار دینا چاہئے اُسے یہ نعمت نصیب ہوتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھو، جس کے دل میں یہ فیصلہ نہیں ہو سکتا، جو خود یہ طے نہیں کر سکتا،  وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہُ وَلِیًّا مُّرْشِدًا (الکہف: 17)،  اُس کے لئے نہ کوئی ولی ہوتا ہے، نہ کوئی ہادی ہوتا ہے، نہ کوئی مرشد، نہ کوئی رہنما، نہ کوئی واعظ اور نہ کوئی مبلغ۔ کوئی بھی اُس کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ یہ سارا معاملہ انسان کے ذاتی فیصلے پر منحصر ہے۔ ہر واعظ، ہر مقرر، ہر پیر، ہر مولوی، ہر استاد اُس کے فوائد اور اُس کے نقصانات سے تو آگاہ کر سکتا ہے لیکن فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے، کوئی ہمارے لئے فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اور جب تک ہمارا فیصلہ اس قوت کا نہیں ہوتا کہ وہ ہماری ذات کو، ہمارے کردار کو اور ہماری سوچ کو متاثر کرے تب تک اُس پر ہدایت مرتب نہیں ہوتی۔

تو ولی سے حصولِ برکات کے لئے بنیادی طور پر اُس فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو انسان اپنے دل میں طے کرتا ہے۔ کوئی نبی، کوئی ولی کسی سے زبر دستی فیصلہ نہیں کرواتا کیونکہ اللہ کا یہ قانون نہیں ہے۔ اُس نے انسان کو یہی اختیار دیا ہے ایک حسین کائنات اُس کے سامنے بکھیر کر اور دوسری طرف اپنی ذات کی جلوہ نمائی کا اہتمام کر دیا۔ اب یہ اُسی پر ہے کہ یہ اُدھر جاتا ہے یا اِدھر آتا ہے؟ فرمایا اگر کوئی یہ کام کرے  اِنَّکَ لَتَہْدِیْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ  (الشوریٰ: 52)، تو اے نبیﷺ! آپﷺ اُسے صراطِ مستقیم پر لا سکتے ہیں۔ جب یہ بات آقائے نامدارﷺ سے فرمائی جارہی ہے تو پھر پیر فقیر کیا کرے گا؟ کسی کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا جب تک انسان خود نہ طے کرے۔

اگر انسان نہاں خانہئ دل میں خود طے کر لے تو پھر اہل اللہ اُس کے ا س طرح کام آتے ہیں کہ وہ درد جو اُن کے دل میں ہوتا ہے وہ اُس کے دل میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان تو انسان، فرمایا ایسے لوگوں کے ساتھ اگر کتا بھی لگ جائے تو وہ بھی برکات سے محروم نہیں رہتا، جیسے اصحابِ کہف کے ساتھ کتا بھی اسی طرح سالم غار کے منہ پر بیٹھا رہا کہ زمانہ اُسے بھی فرسودہ اور بوڑھا نہ کر سکا، سورج کی تمازت یا طوفانوں کی تیزی اُس کتے کو بھی پریشان نہ کر سکی۔ یہ اس لئے کہ اس کے مالک تو میرے طالب تھے ہی، یہ میرا طالب نہ سہی یہ اُن کا طالب تو تھا۔ اس کو میری ذات کو پہچاننے کا شعور نہ سہی لیکن اسے اُنہیں جاننے کا شعور تو تھا، اُن کے دروازے پہ تو بیٹھا رہا۔جتنا کوئی کامل ہو گا اتنی اُس کی زندگی عام آدمی کی طرح ہو گی۔کاملین کی زندگی بالکل عام آدمی کی زندگی بن جاتی ہے جس میں اکثر لوگوں کو، عام آدمی کو یہ دھوکا لگتا ہے کہ یہ کیسے صوفی ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے سالک ہو سکتا ہے؟ نہ گوشے میں بیٹھتا ہے، عام آدمی کی طرح کھاتا پیتا ہے، عام آدمی کی طرح رہتا ہے۔ تو سب سے کامل ہستی کائنات میں آقائے نامدارﷺ کی ہے۔ آپﷺ کی زندگی اتنی عام ہے کہ ہر مسلمان آپﷺ کی اطاعت کا مکلف ہے کہ ہر چھوٹا بڑا، عالم جاہل آپﷺ کی پیروی کر سکتا ہے۔

اس لئے جتنا (کوئی) کامل ہو گا اُتنی اس کی زندگی عام ہوتی جائے گی۔ ہاں اگر کسی کے پاس منازلِ سلوک ہوں ہی نہیں، تو یہ بات ہی اور ہے۔ اور کوئی سالک ہو، صاحبِ حال ہو، اُس کے پاس منازل ہوں اور اُس کو ان کا پورا پورا احساس ہو، معاملات میں کھرا ہو، بات میں سچا ہو اور اُس کی زندگی ایک عام سطح پہ آجا ئے تو یہ اُس کے کمال کی دلیل ہے۔یہ جو غلط فہمی ولایت کے بارے میں لوگوں میں پیدا ہو گئی ہے کہ اولیاء اللہ کوئی عجیب و غریب مخلوق ہوتے ہیں، کسی سے بات نہیں کرتے، کھاتے پیتے نہیں، کوئی گھر بار نہیں ہوتا، جنگلوں میں رہتے ہیں۔۔۔ تو پھر کمال کیا ہوا؟ ایک شخص معاشرے میں حصہ ہی نہیں لیتا، کسی سے اُس کا لینا دینا ہی نہیں، کسی سے کاروبار نہیں، کسی سے خرید و فروخت نہیں تو اُس کے اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل ہو نے کا کیا پتہ چلے گا؟ اُس کی دیانتداری کا کیسے پتہ چلے گا؟ اُس کے سچ بولنے کا معیار کیا ہے؟ اُس کی امانت کا معیار کیا ہے؟ اس لئے جتنا کوئی کامل ہو گا اتنی اُس کی زندگی عام انسانوں کی طرح ہوتی جائے گی (کیونکہ) انبیاء ؑ کی زندگی ہمیشہ عام انسانی معیار کے مطابق ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ فرشتے آپﷺ کے درِ دولت پہ حاضر ہوا کرتے تھے، اگرچہ آپﷺ کے معجزات بے حد و بیشمار ہیں لیکن حیاتِ طیبہ کا معیار وہی تھا جو ایک عام آدمی اختیار کر سکتا ہے، اسی لئے ہر آدمی مکلف ہے حضورﷺ کے اتباع کا۔

نبی ؑکا کمال ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ عام آدمی کی زندگی بسر کرتا ہے، عام لوگوں کی طرح رشتے جوڑتا ہے، عام لوگوں کی طرح کام کاج کرتا ہے، عام لوگوں کی طرح اُس کیضروریات ہوتی ہیں۔ اگر نبی ؑکی یہ ضروریات نہ ہوں تو عام آدمی کو اُس کا اتباع کرنے کی تکلیف ہی کیوں دی جائے؟ مثلاً اگر نبی ؑکھاتا پیتا بھی نہیں، سوتا بھی نہیں، اُس کے بیوی بچے بھی نہیں، فرشتے کی طرح اُس کی کوئی ضرورت بھی نہیں تو جسے آپ اتباع کے لئے کہیں گے وہ آرام سے کہہ دے گا کہ آپ تو یہ سارا کام کر سکتے ہیں، آپ کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں لیکن میں نے تو اپنے بیوی بچے بھی پالنے ہیں، والدین کی خدمت بھی کرنی ہے، میرا کاروبار اور لین دین بھی ہے، یہ سارا کر کے میں بھلا کب اللہ کی عبادت کر سکتا ہوں؟ تو یہ سارے مسائل ہر نبی ؑ کے ساتھ ہوتے ہیں، ان مسائل میں رہتے ہوئے وہ اللہ کی اطاعت بھی کرتا ہے اور اللہ کی عبادت بھی کرتا ہے، تب جا کر عام آدمی کے لئے معیار بنتا ہے۔

انبیاء کی جانشینی

جانشینی کا مطلب الگ راستہ نہیں ہوتا بلکہ جانشینی کا، وراثت کا یا خلافت کا مطلب ہوتا ہے انبیاء کے نقوشِ کفِ پا پر چلا جائے۔ جو لوگ برکاتِ نبویﷺ، ذکر قلبی، کیفیاتِ قلبی، احوالِ قلبی، خلوص دل سے حاصل کرتے ہیں، اُن کے لئے قانون بھی وہی ہے کہ خلوص کے ساتھ شیخ سے رشتہ رکھیں۔

جو لوگ برکاتِ نبویﷺ کے امین ہوتے ہیں، اُن سے جب کوئی شاگرد برکاتِ نبویﷺ حاصل کرتا ہے تو وہاں یہی قانون درمیان میں آجاتا ہے، وہی خلوص چاہئے ہو گا، وہی ادب و احترام چاہئے ہو گا، وہی اطاعت و اتباع چاہئے ہو گا۔ صرف ایک تبدیلی آجائے گی، نبی ؑ جب کام کرتا ہے تو وہ دلیل ہوتی ہے کہ یہ حق ہے، پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ نبی ؑ کا کوئی جانشین جب کام کرتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ یہ نبی ؑ کی اطاعت کے اندر رہ کر کام کررہا ہے تو وہ ہمارے لئے واجبِ اتباع ہے لیکن اگر وہ اطاعتِ نبویﷺ سے نکل گیا تو ہم اطاعت بہرحال نبی ؑ کی کریں گے۔ ہم پھر اس بات کا اعتبار نہیں کریں گے کہ یہ شخص نیک ہے یا حضورﷺ کا جانشین ہے۔ 

شرائطِ مرشد کامل

  •  عالمِ ربانی ہو۔ کیونکہ جاہل کی بیعت ہی سرے سے حرام ہے۔
  •  صحیح العقیدہ اور متقی شخص ہو۔
  •  متبع سنت ِ رسولﷺ  ہو۔کیونکہ سارے کمالات حضورﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتے ہیں۔
  •  شرک و بدعت کے قریب نہ جائے۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے۔ اور بدعت گمراہی ہے۔
  •  علم تصوف میں کامل ہو اور کسی کامل پیر کی صحبت میں رہا ہو۔
  •  حضورِ اکرمﷺسے روحانی تعلق قائم کر دے جو بندے اور اللہ کے درمیان واحد واسطہ ہیں۔
  •  

معیتِ باری

معیتِ باری کا پہلا درجہ

(یہ درجہ عام ہے) مومن و کافر، زاہد و فاسق ہونا بندوں کی طرف سے ہے اور اُس کی طرف سے ایک ہی اعلان ہے
 وَھوَمَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ (الحدید: 4)،   ترجمہ:  اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو۔
اب بندوں کے اعتقادات و ایمانیات کے شجر اُسی باراں سے بارآور ہیں۔ ہر درخت پر وہی پھل لگ رہا ہے جو اُس پر لگنا چاہئے اور جس قسم کا درخت کسی نے اُگا رکھا ہے اُسی قسم کا پھل لگنا ضروری ہے۔ ورنہ بارش تو ایک ہی ہے، نہ رنگ میں اختلاف نہ ذائقہ و تاثیر میں، یہ ہے   وَھوَمَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ۔

معیتِ باری کا دوسرا درجہ

جس نے اُس کی عمومی معیت کو جانا، اُس کی بے پایاں عنایات کا علم حاصل کیا، لامحالہ اس کا قلب بارگاہ الٰہی میں جھک گیا۔ اس کا وجود اطاعت شعار بن گیا، تقویٰ اور ذکر و فکر اس کا اوڑھنا بچھونا بن گیا کہ اُس کی ذات ہے ہی ایسی۔ جس کسی نے اُس کی ذات کا اقرار کیا، تب ہی کیا جب کوئی رتی معرفت کی نصیب ہوئی تو پھر اُس کا وہ ہو رہا، دنیا اور اس کی رنگینی سے منہ موڑا، دولت و سطوت کی خواہش کو چھوڑا، اقتدار و حکومت کے بتوں کو توڑا اور ہمیشہ کے لئے اطاعتِ الٰہی کو اختیار کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسرے درجے کی معیت کے خلعت یافتہ قرار پائے، فرمایا
اِنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیْن َ (البقرہ: 194)، ترجمہ: اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہیں۔
 اِنَّ اللہَ مَعَ الصَّابِرِیْن (الانفال:46)، ترجمہ: بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔
اِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ  (العنکبوت:69)، ترجمہ: بے شک اللہ خلوص والوں کے ساتھ ہیں۔

یہ وہ معیت ہے جو اولیاء اللہ کا حصہ ہے۔ لیکن یاد رہے کہ ایک طرف ذاتِ باری ہے، فرمایا  اِنَّ اللہ َ  اور دوسری طرف وصفِ مخلوق ہے یعنی صابرین کے ساتھ، متقین کے ساتھ، محسنین کے ساتھ اللہ ہے۔ یہ معیت اوصاف کی وجہ سے ہے اور اوصافِ انسانی تغیر پذیر ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ وصف بدل جائے تو معیتِ خاصہ سے محروم ہو گیا اور پہلے درجے میں چلا گیا۔ اسی لئے ولایت کو کسبی کہا گیا ہے اور ولی اللہ تادم ِ واپسیں خطرے میں ہے کہ مبادا دامنِ صبر ہاتھ سے نہ نکل جائے، تو اس دوسرے درجے میں ایک طرف بندہ کے اوصاف ہیں اور دوسری طرف ذاتِ باری ہے۔

معیتِ باری کا تیسرا درجہ

یہ درجہ انبیاء  ؑ کا ہے۔ جس ذات کو نبوت کا درجہ حاصل ہے، اسے بواسطہ نبوت معیت بھی حاصل ہے۔ مگر یہاں معیتِ صفاتی بیان فرمائی ہے، مثلاً فرمایا
اِنَّنِیْ مَعَکُمَا اَسْمَعْ وَاَرٰی (طٰہ: 46)،  ترجمہ: بے شک میں آپ دونوں کے ساتھ ہوں (سب) سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔
دو نبیوں کو فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں یعنی ذاتِ موسیٰ ؑ  و ہارون ؑ  کے ساتھ مگر اپنی طرف سے اپنے اوصاف بیان فرمائے کہ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ دوسری جگہ فرمایا
اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ (الشعر اء: 62)،   ترجمہ: بے شک میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے ابھی راستہ بتادے گا۔
ایک طرف اپنی ذات کا ذکر فرمایا اور مقابلے میں صفاتِ باری کا ذکر فرمایا، یعنی نبوت نبی ؑ کا وصفِ ذاتی ہے تو گویا ذاتِ نبی ؑ کو معیت حاصل ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نبی ؑ بھی ہو اور کسی لمحے معیتِ باری سے محروم بھی۔

تو جہاں ولی کو معیت ذاتِ باری حاصل ہے مگر ولی کی ذات کو نہیں اس کی صفات کو جو تغیرپذیر ہیں، وہاں نبی ؑ کی ذات کو معیتِ باری حاصل ہے مگر معیتِ صفاتی ہے۔

معیتِ باری کا چوتھا درجہ

اس سے اوپر ایک خاص درجہ معیتِ باری کا ہے اور یہ اخص الخواص کا حصہ ہے اور وہ ہے ذاتِ مخلوق کو ذاتِ باری کی معیت حاصل ہو، یعنی ایک طرف   خالق کی ذات ہو اور دوسری طرف مخلوق کی بھی ذات ہو۔ سبحان اللہ! یہ درجہ ساری مخلوق میں صرف دو انسانوں کو حاصل ہے۔

انبیاء ؑ کے مبارک گروہ میں سرورِ انبیاء، سلطان الانبیاء، امام الانبیاء اور تمام نبیوں کے مرشد، مربی اور شیخ جن کی معیت ازل میں انبیاءؑ سے لی گئی
وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ النَّبِیِّیْنَ   (آل عمران: 81)، ترجمہ:  اور جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا 

آقائے نامدار سیدنا و مولانا و حبیبنا وحبیبِ ربنا و طبیبِ قلوبنا محمدرسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے اور دوسرا انسان عرش سے فرش تک، ازل سے ابد تک، انبیاء ؑکے مقدس گروہ کے بعد ساری خدائی کا پیشوا، افضل البشر بعدالانبیاء امیرالمومنین ابوبکر صدیق ؓ ہے۔ یہ میرا حسنِ عقیدت نہیں، اللہ کی قسم! مجھے اپنے حسنِ عقیدت پر ناز ہے۔ اس وقت جب میرے قلم کی نوک پر محمدرسول اللہﷺ اور اُن کے یارِ غار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا ذکرِ خیر ہے، مجھے خالقِ کائنات کی قسم! میرا دل رقص کناں ہے، مجھے وہ سرور حاصل ہے کہ بیشک تسنیمِ کوثر کا مزہ اپنا ہو گا لیکن میں نہیں چاہتا کہ میرے دل سے یہ درد جنت کے عوض بھی چلا جائے، چہ جائیکہ تسنیم و کوثر تو شمہ ہیں۔

دیر و حرم سے روشنی شمس و قمر سے ہو تو کیا
مجھ  کو  تو  تُو  پسند  ہے  اپنی  نظر  کو  کیا کروں 

لیکن اے میرے عزیز! تُو میرے حسنِ عقیدت کو رہنے دے، آ اور براہِ راست خداوند عالم سے پوچھ، خداوند کون و مکاں اپنے محبوب نبی حضرت محمدرسول اللہﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے کہلوا رہا ہے اور بذریعہ وحی متلو کہلوا رہا ہے، وحی خفی بھی نہیں کہ قرآن میں درج نہ ہو اور حدیث کا درجہ پائے۔ ذرا سن تو سہی، فرماتا ہے
لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا  (التوبہ: 40)،   ترجمہ: غم نہ کرو یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہیں۔
ایک طرف ذاتِ باری ہے اور دوسری طرف دیکھ ایک ذات محمد عربیﷺ کی ہے اور دوسری ابوبکر صدیق ؓ کی۔ اِن دو ہستیوں کی ذوات کو ذاتِ باری کی معیت حاصل ہے اور یہ وہ معیت ہے جو ساری خدائی میں صرف دو ہستیوں کو نصیب ہے،اور غالباً اس لئے کہ پوری دنیا کے اطاعت شعاروں کو صرف دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، انبیاء ؑ کے ملک میں محمدرسول اللہﷺ شہنشاہِ مملکت ہیں اور غیرانبیاء کے دیس کا بادشاہ ابوبکر صدیق ؓ ہے۔ یہاں نہ خداوند قدوس کے اوصاف بیان فرمائے اور نہ اپنے بندوں کا وصف بیان فرمایا، بلکہ فرمایا ذاتِ الٰہ، ذاتِ محمدﷺ اور ذاتِ ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ ہے۔

ذکر الٰہی کی اہمیت

ذاکرین خوش نصیب لوگ
فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ   (الْبَقَرَۃ: 152)
ترجمہ: پس تم مجھ کو یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا
 
فرمایا! تم میرا ذکر کرو، تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔ یہ نہیں کہا کہ تم میری نماز پڑھو، میں تمہاری نماز پڑھوں گا، تم میرے لیے روزہ رکھو،میں تمہارے لیے روزہ رکھوں گا۔ یہ ضرور فرمایا کہ تم میرا ذکر کرو، تم مجھے یاد کرو، تمہاری یاد نیاز مندی کے لیے ہوگی، میں تمہیں یاد کروں گا تو میری یاد عطا کے لیے ہوگی۔ تمہارا یاد کرنا لینے کے لیے ہوگا، میرا یاد کرنا دینے کے لیے ہو گا۔ قرآن کریم میں ذکر الٰہی کے صلہ میں ایک ایسی نعمت کا وعدہ کیا گیا ہے جس سے بڑی نعمت مومن کے لئے اور کوئی نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ یہ وعدہ صرف ذکر الٰہی کے ساتھ مختص ہے اور ظاہر ہے جسے اللہ یاد کرے اس سے زیادہ خوش نصیب کون ہو سکتا ہے۔

 ذکر الٰہی، دلوں کی پالش

 لِکُلِّ شَیْءٍ صَقَالَۃٌ وَصِقَالَۃُ الْقُلُوبِ ذِکْرُ اللّٰہِ  (رواہ البیھقی)
ترجمہ: ہر چیز کے لئے ایک صفائی کرنے والی چیز ہوتی ہے، جبکہ دلوں کی صفائی کرنے والی چیز اللہ کا ذکر ہے۔
 
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کو زنگ لگتا ہے، دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور ہر چیز کا زنگ اتارنے کے لیے کوئی نہ کوئی علاج ہوتا ہے۔ دلوں کا زنگ اتارنے کے لیے ایک ہی دوا ہے اور وہ ذکر اللہ ہے۔ ذکر الٰہی دل کی دوا بھی ہے، غذا بھی ہے اور حیات بھی۔ ہر عبادت کا اپنا مقام ہے اور ذکر اللہ ہر عبادت کی روح ہے۔ ذکر اللہ ہرعبادت میں اخلاص پیدا کرتا ہے، اسے قبولیت کے قابل بناتا ہے۔

 ذکر الٰہی، اصلاح قلب کی بنیاد

 ذکر الٰہی جب دل کی دھڑکن بنتا ہے، خون کا حصہ بنتا ہے تو سارا بدن خود بخود اصلاح کی طرف چل پڑتا ہے۔ جیسے حضور ﷺ نے فرمایا کہ بدن میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے  اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہ اور جب یہ سدھر جا ئے تو سارے جسم کو سدھار دیتا ہے وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہ بگڑ جائے تو سارے بدن کو بگاڑ دیتا ہے اَلا وَھِیَ الْقَلْبُ  غور سے سن لو، یہ قلب ہے۔ (صحیح بخاری)

 ذکر الٰہی اصلاح قلب کی بنیاد ہے، تخم ہے، یہ بیج ہے۔ جب تک دل میں بویا نہ جائے، میں تو سمجھتا ہوں عبادات بھی محض ایک ورزش سی بنی رہتی ہیں۔ آدمی کو عبادت میں وہ لذت نصیب نہیں ہوتی کہ میں اللہ کو روبرو دیکھ رہا ہوں۔ 

ذکر اذکار کی ساری محنت کا حاصل یہ ہے کہ بندہ اللہ کریم کو خود جاننے لگ جائے، سنی سنائی خبر تک محدود نہ رہے۔ تزکیہ یا تصوف کے بغیر بندہ رب کریم کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، سن کر جانتا ہے۔ سنی ہوئی بات اپنی جگہ لیکن ذاکر کا اپنا دل کہتا ہے کہ اس کا رب اس کے پاس ہے اور وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اللہ کریم اس کی بات سن رہے ہیں، اللہ کریم اس سے راضی ہیں۔ اگر کوتاہی ہو جائے تو اسے دکھ لگتا ہے کہ اللہ کریم کی نافرمانی ہو گئی، روتا ہے، اللہ کریم کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کیفیت اس کی عطا ہے چاہے تو ایک لمحے میں عطا کردے۔

ذکر الٰہی حضورحق کے لیے

 جولوگ ساری زندگی اللہ کی یاد دل میں بسائے رکھتے ہیں وہ دل ایسا آباد ہو جاتا ہے کہ اسے موت بھی ویران نہیں کرسکتی۔ موت بھی انہی دلوں کو ویران کرتی ہے جو زندگی میں ویران ہوتے ہیں۔ ایسے دل جو زندگی میں یادِ الٰہی سے محروم ہوتے ہیں،موت سے پہلے ہی ان کی حیات روحانی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ جو دل زندگی میں یاد الٰہی اپنے اندر سمو لیتے ہیں انہیں زندگی میں حضور حق نصیب رہتا ہے۔ موت ان سے یہ حضور حق نہیں چھین سکتی۔ موت انہیں اللہ کی یاد، اللہ کے ذکر سے جدا نہیں کرسکتی۔

ذکر الٰہی، خلوص کی ایک عجیب دوا

ذکر الٰہی ایک عجیب دوا ہے۔ ہر عبادت کے لیے خلوص شرط ہے، منافقت سے یا بے دلی سے عبادت کی جائے تو اس پر پھل نہیں آتا خلوص نہیں ہوگا تو عبادت رد ہو جائے گی۔ ذکر الٰہی ایک ایسی عبادت ہے کہ دکھاوے کے لئے بھی اگر کوئی شروع کرے، خلوص، خشوع و خضوع نہ بھی ہو اور مسلسل ذکر کرتا رہے تو یہ خود خلوص پیدا کر دیتا ہے۔ ذکر نہ چھوڑے، اللہ اللہ کرتا رہے تو یہ عجیب بات ہے کہ اس کی وجہ سے اس میں خلوص پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کی مثال یہ ہے جیسے آپ میلے کپڑے کو توجہ سے، خلوص سے صابن نہ لگائیں، بے توجہی سے کپڑے پر گھساتے رہیں تو زیادہ خرچ ہوگا، وقت زیادہ لگے گا لیکن میل تو کاٹے گا، کپڑا صاف ہوجائے گا۔ دھیان سے نہ بھی کریں، کچھ نہ کچھ میل کاٹتا ہی چلا جائے گا۔ اس لئے ذکر اللہ کا بیج دل میں بویا جاتا ہے۔ اللہ اللہ کرے تو دل کو ایسی جلا ملتی ہے کہ وہ اچھائیاں چن لیتا ہے اور خرافات کو چھوڑ دیتا ہے۔ دل میں ایک تجسس پیدا ہو جاتا ہے اور بندہ خود صحیح چیزیں تلاش کر کے ان کو اپنا لیتا ہے۔ عمل کی توفیق تب ہی ہوتی ہے جب دل حقیقت سے آشنا ہو۔ صوفیاء کا یہ طریقہ ہے کہ یہ کسی کو نہیں کہتے کہ نماز پڑھا کرو۔ کیسی عجیب بات ہے کیسے عجیب لوگ ہیں کسی سے نہیں کہتے کہ داڑھی رکھا کرو، کسی سے نہیں کہتے کہ جھوٹ نہ بولا کرو، کسی سے نہیں کہتے کہ جواء کھیلنا چھوڑ دو، کچھ بھی نہیں کہتے۔ بس بیٹھے بیٹھے اللہ اللہ کرو، اللہ اللہ کرنے سے جب دل میں روشنی آتی ہے تو وہ یہ سارے کام خود کروا لیتا ہے۔

 اللہ االلہ اس لیے کی جاتی ہے، ذکر کا حاصل یہ ہے کہ اعمال میں خلوص اور گہرائی پیدا ہو جائے تا کہ ان پر نتائج مرتب ہوسکیں۔ کردار میں دو رنگی نہ رہے، منافقت نہ رہے، خلوص آجائے، گہرائی آجائے۔ ہم نے یہ فلسفہ بنا لیا کہ جو صوفی ہوتا ہے، اسے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں حالانکہ حقیقی صوفی دوسروں کی نسبت زیادہ کام کرتا ہے، زیادہ جفاکش، زیادہ محنتی ہوتا ہے۔ ذکر الٰہی اور اطمینان قلب

اَلَا بِذِکرِ ا للّہِ تَطمَءِنُّ القُلُوبُ   (الرعد: 28)
ترجمہ: یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں۔

ہم نے سمجھا کہ بہت سی دولت مل جائے تو اطمینان ہو جائے گا، ہم اس پہ لگ گئے جائز و ناجائز ذرائع سے دولت جمع کی لیکن جب دولت مند ہوں تو سمجھ آتی کہ یہ تو میری دوست نہیں، دشمن ہے۔ اس کی پریشانیاں تو الگ ہی ہیں بلکہ اولاد تک دشمن ہو جاتی ہے۔ لوگ موت کی دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اللہ اب اس بابے کو اٹھا بھی لے کہ ہر چیز پر قبضہ کئے بیٹھا ہے۔ پکڑ کر دھکے دے کر نکال بھی دیتے ہیں۔ پھر سمجھ آتی ہے کہ یار! ساری زندگی ہم جو جمع کرتے رہے کہ اس سے کیا اطمینان ہوگا اس نے تو پریشانیاں پیدا کردی ہیں۔

 ہم سمجھتے ہیں کہ اقتدار و اختیار میں اطمینان ہے لیکن جب اقتدار و اختیار ملتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا تو ہماری دشمن ہوگئی ہے۔ ہر کوئی ہماری ٹانگ کھینچ رہا ہے۔ دنیا کے کسی شعبے کو آپ لے لیں، اگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس طرف چلا جاؤں گا تو مطمئن ہو جاؤں گا۔ یہ اس کی سراسر غلطی ہے۔ چونکہ جب ساری عمر خرچ کرکے وہاں پہنچتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں کی پریشانیاں وہ ہیں جو میں نے سوچی بھی نہ تھیں۔ اللہ کریم نے اس کا جو علاج بتایا ہے، وہ بڑا سیدھا سا ہے اور سادہ سا ہے فرمایا: اَلَا بِِذِکرِ اللّہِ تَطمَءِنُّ القُلُوبُ  یہ جو سکون قلب ہے، اطمینان قلب ہے، اس کو حاصل کرنے کا دنیا میں صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے اللہ کا ذکر۔ فرمایا: خوب اچھی طرح سن لو! یہ بڑی واضح، روشن اور پکی بات ہے کہ اللہ کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتا ہے۔

ذکر الٰہی اور کردار سازی

بندہ بدلتا ہے تو برکات نبوت ﷺ سے بدلتا ہے۔ بدلتا ہے تو نورِ باری سے بدلتا ہے۔ صوفی کی کردار سازی نہیں کرنا پڑتی۔ ہم صرف ایک بات کہتے ہیں کہ اللہ کو مانا ہے تو اس یقین کو دل میں اتارنے کے لیے وہ برکات حاصل کرو جو قلب اطہر ﷺ سے آرہی ہیں۔ جب وہ دل میں آ جاتی ہیں تو بندہ خود فیصلہ کرتا ہے اور اپنا آپ بدلتا ہے اور خود کو اس رنگ میں رنگتا چلا جاتا ہے۔

یہاں تو ہم نے کبھی کسی پر تنقید نہیں کی۔ یہاں جتنے چہرے سنت رسول ﷺ سے مزین نظر آتے ہیں، ان سے کسی نے نہیں کہا کہ داڑھی منڈوانا چھوڑ دو۔ آج بھی جو بغیر داڑھی کے ہیں، انہیں یہاں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ رب کا نام اور نبی ﷺ کی برکات جب اندر جاتی ہیں تو ان کا اپنا دل چاہتا ہے کہ ہم ویسا حلیہ بنائیں جیسا محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے۔ یہاں کسی فرقے کا کوئی بندہ آتا ہے، اپنی نماز پڑھتا ہے، ہم نہیں پوچھتے۔ شیعہ آتے ہیں، سنی آتے ہیں، بریلوی آتے ہیں، دیوبندی آتے ہیں، اہلحدیث آتے ہیں، مقلد آتے ہیں، غیر مقلد آتے ہیں کبھی کسی کو کسی نے نہیں ٹوکا۔
 
میں تنقید کرنے والے کوبھی دعوت دیتا ہوں کہ ہمارے پاس چاہے نہ آؤ یار! کبھی اللہ اللہ کرنا شروع کردو۔ چوبیس گھنٹوں میں کوئی آدھا گھنٹہ، پندرہ منٹ نکال کر روزانہ ذکر کرنا شروع کر دو۔ اگر ذکر نے آپ کو بھی نہ بدل دیا تو مجھے کہنا کہ تم غلط کہتے ہو۔

مادی خواہشات سے حفاظت

انسان میں بھلائی کا مادہ بھی ہے اور برائی کا مادہ بھی موجود ہے۔ ذکر اذکار بھلائی کے مادے کو ابھارتے ہیں اور برائی کے عنصر کو کمزور کرتے ہیں اور کوئی انسان بھی فرشتہ نہیں بن سکتا۔ ہرانسان میں نیکی کرنے کی فطری استعداد اور اس کے ساتھ ساتھ نفس کی بات ماننے سے برائی کرنے کی قوت موجود رہتی ہے۔ چونکہ انسانی نفس مادی اجزاء کے ملنے سے بنتا ہے اور آگ، ہوا، مٹی اور پانی جب ملتے ہیں تو نفس پیدا ہوتا ہے جو مادی اجزا کا حاصل ہے تو وہ مادی خواہشات اور دنیوی مفادات پر ہی فریفتہ رہتا ہے اور انسان کو اس طرف کھینچتا رہتا ہے تو ان دونوں سے بچنے کا طریقہ بندے کے پاس اللہ کی پناہ کے علاوہ اور کوئی نہیں۔ ذکر الٰہی قلب کے فاسد مادوں کو مٹاتا ہے اور نیکی کے خیالات کو جلا بخشتا ہے۔

شیطان کا مقابلہ کرنے کی قوت

 ذکر الٰہی اسلحہ ہے لیکن اسلحہ کا ہونا شیطان کو اس کی شیطنت سے نہیں روک سکتا۔ اگر بہترین اسلحہ پاس ہوتو اس کا مطلب ہے دشمن کو شکست دی جا سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایک فریق کے پاس اسلحہ ہے لہٰذا دوسرا فریق اس کا مقابلہ ہی نہیں کرے گا۔ اگر شیطان خیال ہی نہ ڈالے تو آپ مقابلہ کس کا کریں گے؟ پھر آپ کو اسلحہ کی ضرورت کیوں ہوگی؟ تو یہ سمجھنا دراصل سمجھ کا فتور ہے کہ ذکر الٰہی سے شیطان خیال ڈالنا چھوڑ دے گا بلکہ حق یہ ہے کہ ذکر الٰہی سے شیطان کا مقابلہ کرنے کی قوت آئے گی۔
 
کوئی شخص کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔ شیطان اپنی دشمنی سے باز نہیں آتا۔ اس کا تو یہ حال ہے کہ وہ انبیاء کی مخالفت میں بھی اپنا ایڑی چوٹی کا زور لگا لیتا ہے حالانکہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ وہ ان پر براہ راست اثر انداز نہیں ہو سکتا لیکن کسی نہ کسی کو ان کی مخالفت پر ابھارتا ہے، کفار کو اعتراضات سکھاتا ہے۔ ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ جی شیطان ہمیں پریشان کرتا ہے اور مجھے یہ امید رہتی ہے کہ یہ لوگ جو یہاں سے ذکر الٰہی سیکھ کر جاتے ہیں، ان شاء اللہ یہ شیطان کو پریشان کریں گے۔
آپ کوشیطان سے پریشان ہونا نہیں ہے، آپ نے شیطان کو پریشان کرنا ہے۔

ذکر الٰہی  اور مساجد

آج ہماری مساجد سے لوگوں کی اصلاح کیوں نہیں ہورہی حالانکہ مساجد میں اذان، باجماعت نماز، اشراق، چاشت نوافل پڑھے جاتے ہیں، روزوں میں اعتکاف بیٹھتے ہیں۔ پھر سمجھ آتی ہے کہ اب مساجد میں بھی ایک چیز چھوٹ رہی ہے جو مساجد کی خصوصیت تھی یعنی  یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللہِ کَثِیْرًا (الحج: 40) یہ ہے وہ واحد راستہ جس کے ذریعے بندے اور اللہ کے درمیان رشتہ قائم ہوتا ہے اور مساجد و معابد اسی لیے ہوتے ہیں کہ ان میں کثرت سے اللہ کا ذکر ہو لیکن آج بے شمار مساجد بن گئی ہیں اور ان کا ماحصل تو کچھ بھی نہیں۔ آج مساجد میں سارے کام ہورہے ہیں لیکن ذکر اسم ذات چھوٹ گیا ہے۔ جب ذکر اسم ذات چھوٹتا ہے تو عبادتیں رسم بن جاتی ہیں، ان میں وہ روح نہیں رہتی۔

 آج سے اگر پچاس ساٹھ سال پہلے ایک صدی پہلے تک کے مدارس اور مساجد کو دیکھیں اور ان کی کارکردگی اور اس کے نتائج دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ بڑے بڑے علماء جب تعلیم سے فارغ ہوتے تو کسی نہ کسی خانقاہ میں فروکش ہوتے۔ اہل اللہ کی خدمت میں وقت لگاتے، محبت الٰہی اور عشق رسول اللہ ﷺ کی دولت سے سرفرازہوتے اور پھر مدارس و مساجد کی مسند درس و تدریس سنبھالتے۔ اہل اللہ کا نصاب شروع ہی ذکر الٰہی سے ہوتا ہے۔

ذکر الٰہی زندگی ہے

مَثَلُ الَّذِی یَذْکُرُ رَبَّہُ وَالَّذِی لَا یَذْکُرُ رَبَّہُ مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیّتِِ  (صحیح البخاری)
ترجمہ: اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی مثال جو اپنے رب کو یاد نہیں کرتا زندہ اور مردہ جیسی ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ ذکر کرنے والے کی مثال زندہ کی سی ہے اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ کی سی ہے۔ زندہ ہوگا توتجارت کرے گا،  مردوں کا کاروبار سے کیا کام۔ ذاکرین کا کام، ان کی تجارت، ان کی مزدوری انہیں ذکر الٰہی سے نہیں روک سکتی۔ اللہ کی عبادات میں رکاوٹ نہیں بنتی کہ ان کی نمازیں، روزے چھوٹ جائیں۔ زکوۃ ادا کرنے میں دولت کی محبت رکاوٹ نہیں بنتی، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں مال کی محبت رکاوٹ نہیں بنتی۔ مزدوری کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور جب دوسرے غافل ہوتے ہیں تو یہ اللہ کو یاد کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوسرے محروم ہوتے ہیں تو یہ اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب دوسرے سود کھانے میں مصروف ہوتے ہیں تو یہ زکوٰۃ ادا کررہے ہوتے ہیں۔

ذکر الٰہی  عقیدہ اور ایمان بچانے کا واحد ذریعہ

ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کو تلاش کریں جن کے دل روشن ہوں، سینے منور ہوں، خون کی گردش، دل کی ہر دھڑکن سے اللہ کا نام نکلتا ہو اور یہ ہیں برکات محمد رسول اللہﷺ۔ جب دل میں اللہ اللہ کا پودا پنپتا ہے تو عجیب بات ہے کہ اخلاقیات، ایمانیات، اعتقادات، اعمال، غرض ہر چیز سدھرنا شروع ہوجاتی ہے۔ میں نے اس کا یہاں تک تجربہ کیا ہے کہ مغرب میں، یورپ میں، امریکہ میں، اس سے بھی دور سویڈن میں، ناروے میں، وہاں کے لوگوں کو جو مجھ سے مل سکے، میں نے کہہ دیا یار! تم کچھ نہ کرو، تم رہنے دو اسلام کو، اللہ کا نام لینا شروع کر دو اور چھوڑو نہیں۔ اللہ کی شان ہے جس کافر نے ذکر قلبی شروع کر دیا وہ مسلمان ہوگیا۔ اسے اسلام کی نعمت نصیب ہوگی۔

 


ضرورت شیخ

برکاتِ  رسول ﷺ

نبوت کے دو پہلوہیں،  ارشاداتِ  رسولﷺ اور برکاتِ  رسول ﷺ۔
ارشاداتِ رسول ﷺ میں قرآن و حدیث اور تمام تعلیمات شامل ہیں جبکہ برکاتِ رسولﷺ کا اثر یہ ہے کہ جس شخص کو ایمان کے ساتھ ایک لمحہ آپﷺ کی صحبت نصیب ہوئی اسے تزکیہ کا وہ اعلیٰ درجہ نصیب ہو گیا کہ اس کے دِل کی خواہشات، آرزوئیں، زندگی کا طریقہ کار ایک لمحے میں بدل گیا اور یہ نعمت دِل سے دِل اور سینے سے سینے میں انعکاسی طور پر منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔ جنہیں یہ نعمت نصیب ہوئی، ایسے لوگ زمانے پر اپنا نقش ثبت کرتے ہیں، حالات کے دھارے میں بہہ نہیں جاتے۔ ایسے لوگ گناہوں کی دلدل میں غرق انسانوں کے دِلوں پر نُورِ نبوتﷺ کی پھوار برسا کر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا یقین عطا کرتے ہیں اور اللہ اللہ کی قوت سے عملی زندگی میں انقلاب برپا کر دیتے ہیں۔

رجال اللہ کی ضرورت و اہمیت

  • نبوت کے ظاہری پہلو کا تعلق آیات اور ان کی تعلیم و تشریح ہے۔
  • اور باطنی پہلو کا تعلق تزکیہ نفس سے ہے۔
  • ظاہری تعلق نے محدث، مفسر اور فقیہہ بنائے۔
  • اورباطنی تعلق سے سرفراز لوگ قیوم، غوث، قطب اور ابدال ہوئے۔
  • ہر دو کا منبع کتاب اللہ اور سنت ِرسول خیر الانامﷺ ہے۔


سارے مناصب صرف اور صرف حضورﷺ کی اتباع سے ہی نصیب ہوتے ہیں۔ انسانی تعلیم و تربیت اگر محض کتابوں سے ہو سکتی تو کتاب اللہ کے ساتھ رسول کریمﷺ کو معلّم بنا کر بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ نیز ہر فن کو سیکھنے کے لئے کسی ماہر فن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے صراط مستقیم کی نشاندہی کے لئے رجال اللہ کی ضرورت و اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ (دلائل السلوک)

لکھ ہزار کتاباں پڑھیاں ظالم نفس نہ مردا ھُو

مومن کا معاملہ چونکہ اپنے خالق سے ہے جو عمل کی صورت کی بجائے اس کی حقیقت کو دیکھتا ہے۔ استاد عمل کی صورت سکھاتا ہے اور شیخ عمل کی حقیقت۔ یہاں تک کہ سالک اپنی پسند و نا پسند سے دستبردار ہو جائے اور اپنا سب کچھ حضورﷺ کی پسند پر قربان کر دے۔ اِسی کو فنا فی الرسولﷺ کہتے ہیں۔ پِیروں کے بھیس میں ٹھگ بھی ہوتے ہیں کیونکہ اگر جعلی خدا اور جھوٹے نبی ہو سکتے ہیں تو ولایت کا جھوٹا دعویٰ کیا مشکل ہے لیکن اگر طلب صادق ہو تو اسے ہدایت عطا کرنا اللہ کا کام ہے۔ خلوص نہ ہو تو کسی کامل سے بھی فائدہ نہیں ہوتا۔
 

صحبت ِشیخ کی ضرورت

یاد رہے،  یہ معاملہ از خود نہیں ہوپاتا۔ اس کے لئے شیخ کی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ جملہ کیفیات انعکاسی طور پر آگے تقسیم ہوتی ہیں۔ جس طرح آپﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر ہونے والا مومن ہی شرفِ صحابیت سے سرفراز ہوا، صحابہؓ کی صحبت میں حاضری دینے والا ہی تابعی بنا اور ان کی خدمت میں تبع تابعین بنے۔ اُن سے مشائخ عظام نے یہ دولت حاصل کی اور نسلاً بعد نسلاً سینہ بسینہ منتقل ہوتی رہی اور     ان شاء اللہ ہوتی رہے گی۔ یاد رہے،  ہر مومن اسے حاصل کر سکتا ہے۔ مرد ہو یا عورت، عالم ہو یا اَن پڑھ، امیر ہو یا غریب۔ ''اِس کے لیے صرف ایمان اورخلوص کے ساتھ صحبت ِ شیخ شرط ہے''. کبھی شیخ کے ساتھ خلوصِ قلبی میں فرق آجائے تو یہ دولت بیک آن چھن جاتی ہے۔

یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر  از صد سالہ طاعت بے ریاء

شرائطِ مرشد کامل

 عالمِ ربانی ہو۔ کیونکہ جاہل کی بیعت ہی سرے سے حرام ہے۔

  •  صحیح العقیدہ اور متقی شخص ہو۔
  •  متبع سنت ِ رسولﷺ  ہو۔کیونکہ سارے کمالات حضورﷺ کی اتباع سے حاصل ہوتے ہیں۔
  •  شرک و بدعت کے قریب نہ جائے۔ کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے اور بدعت گمراہی ہے۔
  •  علم تصوف میں کامل ہو اور کسی کامل پیر کی صحبت میں رہا ہو۔
  •  حضورِ اکرمﷺسے روحانی تعلق قائم کر دے جو بندے اور اللہ کے درمیان واحد واسطہ ہیں۔

 

اولیائے کرام ؒکے ارشادات

 حضرت شیخ عبد القادر جیلانی  ؒ فرماتے ہیں، ”اے راہِ آخرت کے مسافر، تو ہر وقت رہبر کے ساتھ رہ، یہاں تک کہ وہ تجھے پڑاؤ پر پہنچا دے، تجھے تیرے نبیﷺ کے حوالے کر دے۔ (الفتح الربانی)

 سلطان باہوؒ فرماتے ہیں، ''یاد رکھو،  فقیر فنا فی اللہ صاحبِ حضور ہوتا ہے۔ وحدانیت ِالٰہی میں غرق کرنا اور مجلس محمدیﷺ میں پہنچانا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں اور جس شخص کو یہ قدرت حاصل نہیں اسے کامل کہنا ہی غلط ہے۔'' (عین الفقر)

 قطب ارشاد حضرت احمد علی لاہوریؒ فرماتے ہیں، ''یاد رکھیے، علم اور چیز ہے، تربیت اور چیز ہے۔ امراض روحانی کا صرف ایک علاج ہے اور وہ ہے اللہ والوں کی صحبت۔ ان کے جوتوں کی خاک میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاجوں میں نہیں۔ یقین نہیں آتا تو میرے پاس خرچہ لے کر آؤ۔ جو فن میں نے چالیس سالوں میں سیکھا ہے تمہیں چار سالوں میں سکھا دوں گا۔