Featured Events


بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیمینار، اسلام آباد


صحابہ کرام ؓ نے اپنے محبوب ﷺ سے محبت اور عشق کے دعوے کو ایسے ثابت کیاکہ آپ ﷺ کے بعد بہترین زمانہ قرار پایا


 صحابہ کرام ؓ نے اپنے محبوب ﷺ سے محبت اور عشق کے دعوے کو ایسے ثابت کیاکہ آپ ﷺ کے بعد بہترین زمانہ قرار پایا ہمارے لیے راہنمائی ہے ہم اظہار محبت میں حدودوقیود کو مد نظر رکھیں اور باہم تفریق کی بجائے محبت و الفت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔ان خیالات کااظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے اوبسیشن مارکی اسلام آباد میں بعثت رحمت عالم ﷺ سیمینار کے موقع پر بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دین کو پڑھا جائے سیکھا جائے کیونکہ جب تک دین کوسمجھا اور سیکھا نہ جائے گا تو عمل کرنا ممکن نہ ہو گا۔نئی نسل کی تربیت ہم نے کرنی ہے اگر ہم نے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو موجودہ قدریں،اخلاقیات اور باطنی علوم سے بہرہ مند کیا تو ہی ممکن ہو گا کہ وہ بڑے چھوٹوں کی تمیز کریں گے۔پاکستان ہمارا گھر ہے۔سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں ہر قوم اور ہر خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں اور ہم سب کو تہہ دل سے یہ احساس کہ اس کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں کا خون لگا ہے ہماری ماؤ ں بیٹیوں کی عزتیں لگیں ہیں۔ہم سب ان شاء اللہ اس کے محافظ ہیں اور اس کے ایک ایک ذرے پر اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔اور بات جب ملک پاکستان کی آئے گی تو ہم ایک جان ہو کر اس کی حفاظت کریں گے۔اور جب ملک پاکستان کی بات کرتے ہیں تو پھر اس کے ہر ادارے کی بات آئے گی کسی کو بھی اس کی جرات نہیں کرنی چاہیے کہ ان کو کمزور کرنے کی کوشش کریں وطن عزیزقیمتی ہے یہ ملک ہمیشہ قائم رہے گا۔اور اس سے اسلام کی شناسائی کا سبب بنے گا۔
  آخر میں ذکر قلبی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قلب کو اللہ اللہ کی ضربوں سے صاف کیا جائے تا کہ دل اچھے اور برے کی تمیز کر سکے۔اور اس میں اس کو اپنا اصل نظر آنا شروع ہو جائے گا۔طریقہ ذکر بتایا کہ سانس اندر جائے تو لفظ اللہ دل کی گہرائیوں میں اترے اور باہر نکلے تو ھو کی چوٹ دل پر لگے۔یادرہے کہ اس عظیم الشان پروگرام میں تمام کرسیاں پر ہونے کے بعد بھی حاضرین محفل نے اپنے محبوب شیخ کا بیان نیچے بیٹھ کے سنا اور تل دھرنے کی جگہ بھی نہ رہی
Sahaba karaam Ra ne –apne mehboob SAW se mohabbat aur ishhq ke daaway ko aisay saabit kia keh aap SAW ke baad behtareen zamana qarar paaya - 1

آپ ﷺ کی ولادت باسعادت بے پناہ رحمتوں کا سبب


ربیع الاول کاوہ ماہ مبارک پھر سے آیا جس میں آقائے نامدار ﷺکی بعثت عالی ہوئی آپ ﷺکی ولادت مبارک اسی مبارک ماہ میں ہے آپ ﷺ کی عمر مبارک چالیس برس پوری ہوئی تو بعثت اسی مہینے میں ہے آپ ﷺکا وصال اسی مہینے میں ہے اﷲ کی نعمتیں دنیا کی بے پناہ ہیںہر طرح کی مخلوق اس سے مستفید ہو رہی ہے۔قرآن کریم جب بھی بات ارشادفرماتا ہے جب بھی حضور ﷺ کا تذکرہ آتا ہے جب آپ ﷺ کی بات شروع ہوتی ہے تو بعثت سے شروع کرتا ہے۔قرآن پاک بعثت کی بات کرتا ہے۔ اﷲ پاک فرماتے ہیں زمینوں آسمانوں ساری مخلوق پر میرے بے پناہ ا حسانات ہیں سب کوپیدا کیا سب پر میرا احسان ہے۔ سب کو وجود دیازندگی دی، سب کو محبتیں دیں لیکن میرا احسان تم پر ہے کہ میں نے محمد رسول اﷲ ﷺ کو مبعوث فرما دیا۔اب یہ احسان ایسا ہے کہ تخلیق کائنات اس کے سامنے معدوم ہو گئی فروغ سینا جن انوارات کی ایک جھلک برداشت نہ کر سکا تجلیات باری سے بڑی بڑی سنگلاخ چٹانیں چٹخ چٹخ کر جل کر سرمہ بن گئیں بعثت رسالت ﷺ نے انسانی دلوں کو تجلیات باری کی آماجگاہ بنا دیا۔ان تجلیات کو ایمان لانے والے بندوں کے قلوب میں یوں سمو دیا کہ وہ ان کی غذا، دوا اور حیات بن گئی۔تیرہ برس تک حضور ﷺ کی غلامی کے لئے دنیا کی ہر اذیت برداشت کی۔ان کے وجود گرم سلاخوں سے داغے گئے، گرم ریت پر لٹا کر سینے پر پتھر رکھے گئے، کوڑے مارے گئے،زخمی کئے گئے،بھوکا پیاسا رکھا گیا،،شہید کئے گئے،کون سا ظلم ہے جو مجبور مسلمانوں پرمکہ مکرمہ کے رہنے والے مشرکین نے روا نہ رکھا ہولیکن انھوں نے غلامی محمد رسول اﷲ ﷺ کو ہاتھ سے نہ جانے دیاہر دکھ برداشت کیاحتٰی کہ گھر،شہر، جائیدادیں چھوڑیں،سب کچھ قربان کر دیااور خالی ہاتھ ہجرت کر کے حضور ﷺ کی خدمت میں چلے گئے پھر مدینہ منورہ پر حملہ،بدر و احد،خندق میں کفار مشرکین نے بڑا زور لگایا،انہوں نے قربانیاں دیں،زخمی ہوئے لیکن حق غلامی ادا کرتے رہے۔
  بعثت رحمت عالم ﷺ وہ نقطہ ہے جس نے ہمیں ایمان عطا کیا اور ایمان وہ سانچا ہے جو فرد کو جو کچھ وہ پہلے تھا اس سے مٹا کر ایک نیا انسا ن بنا دیتا ہے بعثت عالی کے ساتھ جہاں معجزات و برکات ہیں وہاں ارشادات رسول ﷺ بھی ہیں جن کی پاسداری کرنا پڑتی ہے، آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے اندر آنے کے لئے اپنی تراش خراش کرنا پڑتی ہے، پاکیزگی اپنانے کے لئے صفائی کرنا پڑتی ہے، ہمت و محنت سے کام لینا پڑتا ہے، رسومات ورواجات چھوڑ کر سنت رسول ﷺ اپنانا پڑتی ہیں،اپنی خواہشات کو رضائے الہٰی کے حصول کے لئے چھوڑنا پڑتا ہے اور اپنی رائے و پسند سے دستبردار ہو کر اسے حضور ﷺ کی پسند میں فنا کرنا پڑتا ہے اور یہ سب کچھ کرنا حضور ﷺ کی برکات کو حاصل کرناآسان کردیتی ہیںلیکن تب جب کوئی بعثت رحمت عالم ﷺ سے حصہ پائے۔ساری قوم میلاد مناتی ہے بعثت کوئی نہیں مناتاکیوں کہ جب بعثت کا تذکرہ ہو گا توحضور اکرم ﷺ کی اطاعت اور غلامی کرنا پڑے گی۔خواہشوں،جھوٹی انا،تکبر و غرور،لالچ و ہوس کے سارے بت دل سے نکالنے ہوں گے اور ان سب کی جگہ ایک اﷲ کی حکومت قائم کرنا ہو گی۔ مومن کے لیے تو قرآن کا تصور یہ ہے کہ جب اﷲ کا نبی ﷺحکم دے دے تو ان کے پاس سوائے تسلیم خم کرنے کے اور کوئی راستہ ہی نہیں کہ صدق دل سے اس کی اطاعت کر لے۔
جب حضور کی ولادت ہوئی توبے پناہ فائدے مخلوق کو پہنچے ہر طرح کا رزق،ا س میں برکت، سب سے بڑی بات کہ آپ ﷺ کے دنیا میں قدم رنجہ فرمانے سے ساری زمین مسجد بن گئی۔جو اجتماعی عذاب آتے تھے حضور ﷺ کی بعثت کے بعد ختم ہو گئے کیا آپ ﷺ نے نہیں فرمایا کہ میرے زمین پر قدم رکھنے سے اجتماعی عذاب نازل ہونابند ہو گئے۔ لوگوں کی صورتیں مسخ ہونا بند ہو گئیں۔پانی میں پاک کرنے کی طاقت تھی آپ کے قدم مبارک سے اﷲ نے مٹی کو یہ تاثیر د ے دی کہ پانی سے وضو کرو تو جسم پاک ہوتا ہے اگر ضرورت تیمم کی ہو تو حضورﷺ فرماتے ہیں ہڈیاں اور اُن کا گودا تک پاک ہو جاتا ہے۔لاغر سانڈھنی پہ آپ ﷺ بیٹھے تو وہ جوانوں سے تیز ہو گئی۔دودھ خشک ہو چلا تھا نہریں جاری ہو گئیں۔جہاں جہاں حضور ﷺ قدم رکھتے وہ جگہ گلزار ہو جاتی،جس گھر میں قدم رکھتے وہ بابرکت ہو جاتاجس جانور پر سوار ہوتے وہ تیز رفتار ہو جاتا یثرب جس کا ترجمہ دارالبلاء درست ہے ایک خاص قسم کا مرض جو وہاں جاتا اس کا شکار ہو جاتایثرب کو مدینہ کس نے بنا دیا؟
ربیع الاول کو نبی کریم ﷺکا وصال ہوا اور مدینہ منورہ میں صحابہ کرام ؓ پر مشکل ترین گھڑی تھی دن کو یوں معلوم ہوتا تھاجیسے رات ہو گئی ہوصحابہ کرام ؓ میں کچھ لوگ بیٹھے تھے وصال کی خبر سنی اوروہیں منجمد ہو گئے پھر ساری زندگی اٹھ نہ سکے۔ سید نا فاروق اعظم ؓ  جیسی ہستی پر بھی جذب آ گیا۔اُم ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کی بہت پیاری خادمہ تھیں جب عمر رسیدہ ہو گئیںتونبی کریم ﷺ ان کے گھر خیریت پوچھنے خود تشریف لے جاتے۔حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اُم ایمن کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لئے گئے جب ان کی مزاج پرسی کی تو انھوں نے زاروقتار رونا شروع کر دیا انھوں نے فرمایاکہ بی بی آپ اتنا کیوں رو رہی ہیں؟حضور ﷺ ہم سے دور تو نہیں ہیں۔ام ایمن ؓنے فرمایایہ بات میں جانتی ہوںمیںرو اس لیے رہی ہوں کہ اب قیامت تک زمین پرجبرائیل امین ؑ وحی لے کر نہیں آئیں گے۔ہم تو اس بات کے عادی تھے کہ کوئی مسئلہ ہوتافوراً بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے مسئلہ بیان کرتے جواب اﷲ کی طرف سے آتا،وحی نازل ہوتی قرآن نازل ہوتا،اﷲ کے ذاتی کلام میں جواب آ جاتا۔اب وہ نعمت ختم ہو گئی رسالت ﷺ، نبوت اورکتاب موجود ہے قیامت تک رہے گی۔اس با ت پہ رونا نہیں ہے رو اس لیے رہی ہوںکہ حضورﷺ کا وصال وحی کو ختم کر گیاحضور ﷺ اﷲ کا پیغام پہچانے اس دنیا میں تشریف لائے ورنہ یہ دنیا اس قابل ہی نہ تھی۔حضور ﷺ میدان عرفات میں تھے آیت کریمہ نازل ہوئی آج کے دن میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں جتنے انعامات کوئی مخلوق اپنے خالق سے لے سکتی تھی وہ آپ پر آج مکمل کر دیے۔تمہارا دین مکمل ہو گیا اور دین اسلام کو تمہارے لییپسند فرما لیا او ر اس پر وہ راضی ہو گیا،اب اس میں کوئی کمی بیشی قیامت تک نہیں ہو گی تو صحابہ کرام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ روزانہ انتظار رہتا تھا دیکھیں نیا حکم کون سا ہو گا؟ الحمدﷲ دین مکمل ہو گیاہماری زندگی میں مکمل ہو گیا۔ہمیں پورے دین پر عمل توفیق ارزاں ہو گئی۔سب کے علم میں تھا کہ راز گان نبوت ابوبکر صدیق ؓ ہیں تو سب نے تلاش کیا انھیں تلاش کروانھیں مبارک دیں دین مکمل ہو گیا۔آپ کو تلاش کیا تو اپنے خیمے میں بیٹھے زاروقطار رو رہے تھے انھوں نے کہا آپؓ رو رہے ہیں خوشی کا موقع ہے دین مکمل ہو گیا۔انھوں نے کہا میں رو اس لیے رہا ہوںاس دین کی تکمیل کے لئے حضور ﷺ تشریف لائے تھے ورنہ یہ دنیا اس قابل نہ تھی اور اگر دین مکمل ہو گیا تو اس کا مطلب ہے حضور ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما جائیں گے۔ انھوں نے سب کو رُلا دیاجو خوشیاں لے کر آئے تھے سب کو رُلا دیا کہ حضور ﷺ کا یہاں تشریف لانااس دین کی ترویج کے لیے تھا۔جب دین مکمل ہو گیا اور حضور نے پہنچا دیاتو پھر یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ حضور ﷺ کو یہاں رکھے اور وہی ہوا۔اس کے اسی بیاسی دن کے بعد حضورﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے تو حضورﷺ کی یہاں تشریف آوری کا مقصد اﷲ کا دین روئے زمین پر بسنے والے انسانوںکو پہچانا تھا جب یہ فریضہ مکمل ہواحضور ﷺاس دنیا سے پردہ فرما گئے۔
  ارشادات نبوی ﷺ کا مظہر تعامل صحابہ ؓ ہے، صحابہؓ نے جو عمل کیاوہ دلیل ہے کہ یہ حضور ﷺ کا حکم ہے اور تمام صحابہ ؓ  کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہؓ  ستاروں کی مانند ہیںجس طرح ستاروں سے لوگ راہ تلاش کرتے ہیںیہ تمہاری راہنمائی کے لئے وہ ستارے ہیں تم جس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے یعنی صحابہ ؓ سارے کے سارے عادل بھی ہیں ہادی بھی ہیںجس کا دامن تھام لو گے ہدایت پا جائو گے۔ ذرا صحابہ ؓسے کوئی جلوس کوئی جشن ثابت کرودنیا میںکسی نے اگر واقعی کسی سے محبت کی ہے تو وہ صحابہ ؓ  محمد الرسول اﷲ ﷺ ہیںدنیا کی پوری تاریخ میںکوئی ان کی مثال نہیںاسی لیے آدم علیہ السلام سے لے کرقیامت تک تمام لوگوں سے انبیاؑء کے بعد افضل ترین لوگ ہیں۔کافر جسے ایمان ہی نصیب نہیں ہوا اس کی تو بات چھوڑیں وہ تو ہے ہی کافروہ تو اپنی خواہشات سے دین گھڑے گالیکن جوایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس کیا اختیار رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے دین گھڑلے؟ اﷲ کریم ہماری خطا ئوں کو معاف فرمائے ہمیں نیکی کی توفیق دے۔

اطلا ع برائے ملاقات

Itlaa Barae Mulaqaat - 1

شرح صدر مزید عمل صالح اختیار کرنے کی طرف لے جاتا ہے جس سے اپنی ذات کی نفی ہوتی ہے۔


وطن عزیز میں نظام عدل ایسا ہے جو مظلوم کو انصاف دینے کی بجائے مزید پریشانی اور مصیبت میں دھکیل رہا ہے۔حالانکہ اسلام ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے کی تعلیم دیتا ہے اور ظالم کے ہاتھ روکنے کاحکم دیتا ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ  و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ جہاں باقی تمام نظام آزمائے جا رہے ہیں جن میں کچھ عرصہ بعد تبدیلی کی ضرورت پیش آجاتی ہے لیکن وہ نظام جو کہ آفاقی ہے اُسے عمل میں لانے کی سعی نہیں کی جارہی یہ کام کسی فرد واحد کا نہیں ہے بلکہ ہمارے منتخب شدہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کے سنہری اصولوں کو نافذ کریں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول میں عشق مصطفے ﷺ کے دعوے کیے جاتے ہیں مختلف جلسوں اور پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے اگر ہمارا عمل آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف ہے سنت کی پرواہ نہ کی جا رہی ہو تو پھر اس محبت اور عقیدت کو آپ کیا کہیں گے۔اگر ہم صرف اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق کر لیں تو کسی نعرے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ ہمارا ایک ایک قدم خود عشق مصطفے کی گواہی دے گا۔ آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sharah saddar mazeed amal Saleh ikhtiyar karne ki taraf le jata hai jis se apni zaat ki nifi hoti hai  - 1

شرح صدر


جلسہ بعثت رحمت عالم و عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم . میانی، بھیرہ

Watch Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera YouTube Video
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 1
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 2
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 3
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 4
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 5
Jalsa Besat Rehmat Alam SAW . Miani , Bhera - 6

جلسہ بعثت رحمت عالم و عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میانی، بھیرہ


اظہار محبت میں بھی حدود وقیو د کا خیال رکھا جائے اور ایسی کوئی حرکت نہ ہو جائے جو بے ادبی میں شمار ہو


 آپ ﷺ کی ولادت با سعادت ماہ ربیع الاول میں ہوئی اور چالیس سال کے بعد آپ ﷺ کی بعثت ہوئی اور احکامات کا نزول ہو ا۔اور یہ رشتہ مومنین کے لیے خاص ہے۔عشق مصطفے ﷺ کو عملی طور پر اپنائیں۔ہر عمل کو اسوہ رسول ﷺ کے مطابق ڈھال لیں محافل کا انعقاد ضرور کریں اور ان میں باوضو حاضر ہوں  اور درود شریف کثرت سے پڑھیں۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جلسہ بعثت رحمت عالم و عشق مصطفے ﷺ میانی بھیرہ کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ ہر بندے کا کیا گیا عمل معاشرے میں اچھائی یا برائی کا سبب بنتا ہے اور اگر معاشرے میں فساد ہے تو یہ بھی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔دوسری جانب حکمران جو ہمارے اوپر حکومت کر رہے ہیں احکام الہی اور آپ ﷺ کے تمام اصولوں کو خود اپنائیں قوانین کو بھی اسلامی کریں اور ملک کا ہر بندہ اس ملک کا ایک حصہ اور اکائی ہے اور اس وطن عزیز کی تعمیر میں ہمارے اجداد کاخون لگا ہے۔ہر ایک اپنے اوپر نفاذ اسلام کرے اور ان شاء اللہ اس طرح وطن عزیز میں اسلام کی بہاریں آئیں گی۔
اس پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو کہ قاری عبدالمنان صاحب نے کی ان کے بعدنعت شریف کے لیے مبشر حسن کو بلایا گیا جنہوں نے محفل پر رقعت طاری کر دی۔جلسہ میں علاقہ کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کی بڑی تعدا د نے شرکت کی۔جن میں پیر شمیم شاہ صاحب سجادہ نشین دربار عالیہ کلس شریف،پیر راشد شمیم شاہ صاحب،ڈاکٹر ملک مختار احمد برتھ ایم این اے،ملک صہیب احمد برتھ ایم پی اے،چوہدری گلزار احمد صدر انجمن تاجران میانی،چوہدری عبدالرشید صاحب چئیر مین میانی سٹی،سیکرٹری انفارمیشن الاخوان پاکستان امجد محمود اعوان،جنرل سیکرٹری تنظیم الاخوان پاکستان حکیم عبدالماجد اعوان،صدر الاخوان سرگودھا ڈویژن عمر مختار چیمہ،صاحب مجاز مہر گل و دیگر معززین علاقہ نے بھی شرکت کی۔
آخر میں ذکر قلبی اور کیفیات محمد الرسول اللہ ﷺ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اب بھی یہ بحر موجود ہے بس ہم اس کی جستجو پیدا کریں۔اور دل جسے قلب کہتے ہیں اس پر اللہ اللہ کی ضربیں لگائی جائیں تو قلب کی اصلاح ہوگی۔ہمارے اندر وہ تبدیلی آئے گی جس سے گناہ کڑوا لگنے شروع ہو جائیں گے اور نیکی کرنے کو دل کرتا ہے۔ بعد میں تمام حاضرین کو کچھ دیر کے لیے ذکر کرایا اور دعا کرائی۔یاد رہے کہ حضرت جی کے استقبال میں جناب مختار احمد برتھ نے کہا کہ آپ ہمارے علاقے میں تشریف لائے یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے اور ہم شکر گزار ہیں کہ آپ جیسی ہستیاں ہماری تربیت فرما رہی ہیں
Izhaar mohabbat mein bhi hudood-o-Qayood ka khayaal rakha jaye aur aisi koi harkat nah ho jaye jo be adbi mein shumaar ho - 1

شیڈول برائے پروگرامز بعثت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

schedule Bara-e-Jalse Besat Rejhmat Alam SAW - 1