Featured Events


دین اسلام

دین اسلام ہر ایک کی ایسی حدود و قیود مقرر فرماتا ہے کہ زندگی عین حق کے مطابق بسر ہوتی ہے کہ یہی طرز حیات سہل بھی ہے اور باعث تسکین بھی ۔
The religion of Islam sets such limits and restrictions for everyone that life is lived in accordance to the exact Reality as this lifestyle is both easy and comfirting.
Deen Islam - 1

کائنات کا توازن

Watch Kainaat ka Tawazan YouTube Video

کائنات میں جہاں برائی پھیل رہی ہے وہاں نیکی کرنے والے اللہ کے بندے بھی موجود ہیں


کائنات کا قائم رہنا توازن سے ہے۔اگر معاشرے میں برائی ہے تو اللہ کریم کا احسان ہے کہ اچھائی کرنے والے نیکی کرنے والے علوم ظاہری اور کفیات باطنی کے حامل لوگ بھی اسی معاشرے میں موجود ہیں جن کی وجہ سے رحمت برستی ہے اور جہاں نیکی نہیں ہو گی برائی ہوگی وہاں اللہ کریم کا عذاب نازل ہوگا۔لیکن حدیث شریف میں ہے کہ قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ اللہ کرنے والا ایک شخص بھی کائنات میں موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیا میں جہالت تھی زمین پر کہیں عدل نہ تھا لوگ گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے تب نبی رحمت ﷺ کا مبعوث ہونا اور انتہائی قلیل وقت میں انصاف کا قائم ہونا انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔تو آپ ﷺ کی بعثت کائنات کے لیے رحمت کا سبب ہے کائنات کی بقا کا سبب ہے۔جب اہل ایمان اس دنیا سے اُٹھ جائیں گے پھر قیامت قائم ہو جائے گی۔معاشرے میں برائی بھی موجود رہتی ہے اور اچھائی بھی ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اپنے لیے کس راہ کا انتخاب کرنا ہے۔جولوگ معاشرے میں برائی پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں یا معاشرے کی بقا کا سبب ہیں۔عمومی روش اختیار کرنے سے دنیا کے پیچھے بھاگنا یا دنیا کا مال ودولت اکھٹا کرنے کے لیے یا اقتدار کے حصول کے لیے حلا ل حرام،جائز نا جائز میں فرق نہ کرنا ایسی حیثیت کا کیا فائدہ جو بندے کو ڈبو دے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ وری نیکی اور تقوی وہ رستے ہیں جن کے اثرات آخرت تک بندے کے ساتھ جاتے ہیں اور یہی نیکی اور ورع تقوی اللہ کے قرب اللہ کی رضا کا سبب بنتے ہیں جبکہ اس کے برعکس فانی دنیا کی فانی حیثیت بندے کو اس دنیا میں ہی چھوڑ دیتی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں آج اقتدار کسی کے پاس ہے توکل کسی اور کے پاس۔تو گناہ یا برائی کرنے سے وہ موقع جو گناہ کرتے وقت تھا وہ تو گزرگیا لیکن اس کے اثرات اس کا گناہ آخرت تک بندے کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے لیے سزا کا سبب بنتا ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ کلمہ توحید سے بندے مومن کو وہ آزادی حاصل ہوتی ہے جو صرف اپنے پروردگار کے سامنے سربسجود کرتی ہے اور مخلوق خدا سے آزاد کر دیتی ہے۔مخلوق سے اپنی امیدیں وابستہ کرنا کمزور ایمان کی نشانی ہے۔اللہ کریم کا احسان کے اپنا ذاتی کلام عطافرمایا اور راہنمائی کے لیے انیباء مبعوث فرمائے۔اللہ کریم سب کی حفاظت فرمائیں اور ہمارے معاشروں میں انصاف عطا فرمائیں اور ہمارا کردار ہی ہے جس کے سبب ہم سب مشکلات کا شکار ہیں۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔
  آخرمیں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔

فرمانبرداری کیا ہے

Watch Farmanbardari kia hai YouTube Video

ذائقۃ الموت

Zaiqat-ul-Maut - 1
Zaiqat-ul-Maut - 2

بہتر نتائج

جب خالق باری تعالی کوئی قانون اپنی مخلوق کے لیے مقرر فرماتے ہیں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس سے ہٹ کر بہتر نتائج مرتب ہو سکیں ۔
When the creator almighty determines a law for this creatures, thereupon it is not possible to achieve better results by differing from it.
Behtar Nataij - 1

ماہانہ اجتماع

Mahana Ijtima - 1

عزت و ذلت


عزت و ذلت ماہانہ اجتماع

Watch Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima YouTube Video
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 1
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 2
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 3
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 4
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 5
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 6
Izzat-o-Zillat Mahana Ijtima - 7

اللہ کی یاد،غفلت سے نکال دیتی ہے


 بندہ مومن کی گفتار،لین دین،کردار میں ایسا نکھار ہو،اعمال ایسے ہوں کہ دیکھنے والاخود خواہش کرے کہ میں بھی ایسا عمل اختیار کروں لیکن یہ سب ظاہری علوم کے حصول سے ممکن نہیں جب تک ھمہ وقت اللہ کی یاد اختیار نہ کریں، اللہ کی یاد انسان کو غفلت سے نکال دیتی ہے۔ان خیالات کا اظہار شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان امیر عبدالقدیر اعوان نے دوروزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر سالکین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
  انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے معاملات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہمارے اعمال اختیار کرنے میں کہیں خرابی ہے، ہماری تو عبادات میں بھی سودے بازی ہوتی ہے فرائض کی ادائیگی میں بھی ہمارا مقصد حصول دنیا ہوتا ہے۔اپنی نیت اور عبادات کو درست کرنے کے لیے قلب کی اصلاح کی ضرورت ہے اور قلب کی اصلاح کے لیے ذکر قلبی اور کیفیات قلبی کا حصول ضرور ی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس دنیا میں اس فانی جہان میں تمام وہ اصول اپناتے ہیں جن میں نقصان کم سے کم ہو اور فائدہ زیادہ سے زیادہ ہو کیونکہ ہمیں دنیا کی حیات جو ہمارے سامنے ہے اس کا یقین ہے لیکن اخروی حیات کا یقین اس طرح سے نہ ہے اس لیے ہم اعمال کے اختیار کرنے میں بھی کمزوری کر جاتے ہیں۔
  ملکی حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وطن عزیز میں کوئی نہ کوکئی موضوع زیر بحث رہتا ہے وہ سیاسی صورت حال ہو یا مذہبی انتشار لیکن ایسی فضا بنی رہتی ہے کہ جس سے ملک میں افراتفری کا عالم برقرار رہے۔وطن عزیز بے شمار قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا ہے اس کی بنیادوں میں ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی قربانیاں لگی ہیں یہ وطن عزیزاللہ کریم کی خاص عطا ہے حب الوطنی کا جزبہ بھی تب ہی ہو گا جب اسلام پر عمل کیا جائے گا اس وطن عزیزکی حقیقت اسلام کو اپنانے سے ہی سمجھ میں آئے گی۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں 
  آخر میں انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد اور ملکی بقا اور امن کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
Allah ki yaad, Ghaflat se nikaal deti hai - 1