Featured Events


حق و باطل


بدرواحد کے احوال


احساس ذمہ داری


مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری


 مرکز دارالعرفان منارہ میں جاری اجتماعی سنت اعتکاف میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ کی ہزاروں معتکفین کے ساتھ افطاری۔
  اس موقع پر انہوں نے اجتماعی دعا فرمائی اوربات چیت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کی فرضیت کا مقصد صرف اور صرف حصول تقوی ہے۔اللہ کریم فرماتے ہیں کہ تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے ہیں تا کہ تمہارا اپنے رب سے ایک مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور تمہیں اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے حیا آجائے۔اگر بندگی کی یہ کیفیت نصیب ہو تو حال بد ل جاتا ہے۔
  یاد رہے کہ مرکز دارالعرفان منارہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی اجتماعی اعتکاف کا وسیع انتظام کیا گیا ہے جس کے تمام انتظامات امیر عبدالقدیر اعوان خود دیکھ رہے ہوتے ہیں اس وقت پورے ملک اور بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ مرکز میں سنت  و نفل اعتکاف کے لیے آئے ہوئے ہیں جنہیں سحری سے لے کر رات 10:30  بجے تک باقاعدہ ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق گزارا جاتا ہے اور جس میں فقہ اور درس حدیث کی کلاسز ہوتی ہیں روزانہ صبح 11:00 بجے حضرت شیخ المکرم خطاب فرماتے ہیں۔اس سارے نظام میں واحد مقصد روحانی پاکیزگی کا حصول ہے اور یہاں ر وحانی اسباق کے امتحانات پاس کرنے والوں میں حضرت شیخ المکرم اپنے دست مبارک سے اسناد تقسیم فرماتے ہیں
Markaz Darul irfan munarh mein jari ijtimai sunnat aitekaf mein Hazrat Ameer Abdul Qadeer Awan Sheikh silsila ki hazaron Motakfeen ke sath aftaari - 1

یہود و نصاری سے دلی دوستی


لیلۃ القدر کی نشانیاں


شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے


 رمضان المبارک کا آخری عشرہ جس میں اللہ کریم نے شب قدر عطا فرمائی۔شب ِقدر وہ رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔یہ وہ رات ہے جس میں قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوا۔یہ وہ مبارک عشرہ ہے جس میں مخلوق خد اکو دوزخ سے آزادی کا پروانہ عطا ہو تا ہے ۔
لیلتہ القدر وہ رات ہے جس میں وہ ارواح جو اس دنیا سے چلی گئیں اور نجات میں ہیں وہ واپس آتی ہیں اپنی آل اولاد کو دیکھتے ہیں اگر ان کی اولاد نیکی پر ہو تو خوش ہوتے ہیں دعائیں دیتے ہیں اور گناہوں میں زندگی گزار رہے ہوں تو دکھ اور تکلیف لے کر لوٹ جاتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا جمعتہ المبارک کے روز خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب دنیاوی امور کے لیے دین چھوڑا جائے تو دنیاوی مصروفیات اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔اور اس طرح بڑھتی ہیں کہ بندہ پھر ان میں پھنس کے رہ جاتا ہے۔اور اگر پہلی ترجیح دین کو دی جائے تو یہی وقت ان میں اللہ کریم برکت فرما دیتے ہیں دین کے بھی سارے معمولات ہو جاتے ہیں اور دنیا کا بھی کوئی کام نہیں رہ پاتا۔اسلام دنیا کے کاموں سے دولت کمانے سے منع نہیں فرماتا صرف حلال اور طیب کی قید لگاتا ہے۔کہ کسی کا حق نہ چھینو۔دین اسلام تو اعتدال دیتا ہے جہاں دینی علوم حاصل کرنے کا فرماتا ہے وہاں دنیاوی علوم بھی ضروری ہیں کوئی نہیں کہتا کہ دنیا ترک کر دیں۔لیکن دنیا ہی کے ہو کر رہ جائیں یہ کون سا شعور ہے؟
  انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں جن مسائل سے ہم دوچار ہیں یہ قرآن کریم سے روگردانی کا سبب ہے۔ورنہ بندہ مومن کے لیے کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب نہ فرمایا ہو۔انسانی معاشرے کی معراج قرآن کریم میں ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس اللہ کی کتاب سے کتنا استفادہ حاصل کرتے ہیں؟پوری امت میں جو حالات کی تنگی کی وجہ سے ایک تڑپ پیدا ہو چکی ہے اس کا حل بھی رمضان المبارک کی عبادات میں ہے اس آخری عشرہ کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر اللہ کریم کی ان عطاؤں سے استفادہ حاصل کریں اور خالص اپنے اللہ کے لیے دین اسلام پر عمل کریں۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتفاق کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی
Shab qader woh raat hai jo hazaar mahino se behtar hai - 1

دلی دوستی کا معیار


اعتکاف اور شب قدر


معاشی تنگی اور اس کا حل

Watch Moashi Tangi aur is ka hall YouTube Video