Featured Events


علم الادیان و علم الابدان

Watch Ilm ul Adyan & Ilm ul Abdan YouTube Video

دینی اور دنیاوی علوم مل کر مکمل علم بنتا ہے جسے نبی کریم ﷺ نے العلم فرمایا ہے۔


جب بھی کوئی معاملہ پیش آ جائے اس معاملے کو آپ ﷺ کے حضور پیش کر دیا جا ئے یعنی اس معاملے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے،حدود کیا ہیں۔پھر وہ معاملہ عین اللہ کریم کے حکم کے مطابق ہو جائے گا۔جب ہم کسی معاملے کی تشریحات اپنی مرضی سے کرتے ہیں تو ہمارا مقصد اس مسئلے سے نہیں ہوتا بلکہ اپنی ذات اور پسند کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے کہ میں کیا چاہتا ہوں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ علوم دو طرح کے ہیں ایک فطری علم ہے جو ہر ذی روح کو اللہ کریم عطا فرماتے ہیں جیسے مچھلی کا بچہ پیدا ہوتے ہی پانی میں تیرنا شروع کر دیتا ہے یہ علم ہر جاندار کو اللہ کریم عطا فرماتے ہیں دوسرا علم ہے کسبی جسے اختیاری طورپر حاصل کیا جاتا ہے آگے اس کی دو قسمیں ہیں ایک  علم الادیان اور دوسرا علم الابدان  ایک دینی علم اور دوسرا دنیاوی علم۔  یہ دونوں علوم حاصل کیے جائیں تو مکمل علم ہو گا جسے العلم کہا گیا اگر کسی نے صرف دینی علم حاصل کیا تو اس نے آدھا علم حاصل کیا اگر کسی نے صرف دنیاوی علم حاصل کیا اس نے بھی آدھا علم حاصل کیا اس لیے مکمل علم حاصل کرنے کے لیے دونوں علوم حاصل کرنے کی ضروری ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ علم وہ جس کے اثرات مثبت ہوں وہ علم تعمیر کی طرف لے کر جاتا ہے۔دنیاوی علوم کا ماحاصل بھی تب ہو تا ہے جب دینی علوم بھی حاصل کیے جائیں۔آج بھی سائنس نے جتنی بھی ترقی کر لی ہے زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کے احکامات کی تصدیق ہی ہو رہی ہے۔حالانکہ قرآن کریم کے کسی حکم کو کسی کی تصدیق  کی ضرورت نہیں ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور اپنے بچوں کو دنیاوی علوم ضرور سکھائیں لیکن دینی علوم بھی سکھائیں جن سے اسے اپنی پہچان ملتی ہے مقصد حیات ملتا ہے۔نبی کریم ﷺ سے اُمتی کا رشتہ اللہ کریم سے مخلوق کا رشتہ  عقائد،عبادات سے لے کر معاملات تک راہنمائی ملتی ہے۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Deeni aur dunyawi aloom mil kar mukammal ilm bantaa hai jisay Nabi Kareem SAW ne al-ilm farmaya hai . - 1

انسانی کردار کے اثرات (ماہانہ اجتماع )


سینوں میں فرعونیت کا در آنا اور دولت کی حرص معاشرے میں فساد کا سبب ہے


معاشرے میں ہر بندے کا عمل اپنے اثرات مرتب کرتا ہے۔انسانی کردار معاشرے میں ایک حدت پیدا کرتا ہے جب یہ بڑھتی ہے تو شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور شدت بڑھنے سے فساد برپا ہوتا ہے۔اللہ کریم کی طرف سے آنے والی تنگی اور امتحان بھی ہمیں واپس اصل راہ پر لانے کے لیے ہوتے ہیں۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوا ن پاکستان کا دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کے موقع پر خطاب!
 انہوں نے کہا کہ اس وقت بحیثیت مجموعی معاشرے کی روش درست نہ ہے اور ہماری زندگی میں جو پریشانیاں او ر تکالیف ہیں یہ اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ہمارا رخ کس طرف ہے اور ہمارے اعمال کیسے ہیں۔ہماری نیت،ہمارا کلام او ر ہمارے فعل کو اگر قرآن و سنت کے پیمانے پر رکھا جائے تو پتہ چلے کہ کتنا درست ہے۔روز آخرت ہمارا کیا گیا ہر عمل ہمارے سامنے ہوگا۔اس وقت کی رسوائی سے بہتر ہے کہ آج ہم اپنے گناہوں کو سامنے رکھتے ہوئے معافی کے طلب گار ہوں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر ہم دھیان نہیں دیتے وہ لالچ جن کی وجہ سے ہم دوسروں پر اپنی امیدیں قائم کر لیتے ہیں یہ بھی شرک کی ایک تار بن جاتی ہے۔ہمیں اپنی امیدوں کا مرکز اللہ کریم کی ذات کو رکھنا چاہیے تو نتائج بھی پھر ویسے آئیں گے تو اگر راستہ ہمارا کوئی اور ہے اور منزل کوئی اور چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا جیسی راہ کا انتخاب کیا جاتا ہے ویسی ہی منزل بھی سامنے آتی ہے۔
  اس کے علاوہ آج انگلینڈ کے ساتھیوں سے بھی حضرت جی مد ظلہ العالی نے ذوم ایپلیکیشن کے زریعے خطاب فرمایا اور انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے کردار کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے کردار سے معاشرے میں بہتری آئے لوگوں کے لیے بھلائی ہو جس معاشرے میں ہم رہتے ہوں وہاں کے لوگوں کے لیے ہمارا کردار تبلیغ کا کام کرے تا کہ دین اسلام اصل چہرے کے ساتھ غیر مسلم کے سامنے آئے۔جب ہم ذکر الٰہی کو اپنے معمولات میں شامل رکھیں گے تو اس سے عام آدمی سے زیادہ اسطاعت نصیب ہوتی ہے بندہ عام آدمی سے زیادہ محنت کرتا ہے،حلال حرام کی تمیز کرتا ہے سچ اور جھوٹ کا دھیان رکھتا ہے غرض کہ اس کی زندگی خوبصورت ہوتی چلی جاتی ہے اور نبی کریم ﷺ کے اتباع میں ڈھل جاتی ہے۔
 آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کے اتحاد کی خصوصی دعا بھی فرمائی۔
Seenon mein fraonit ka dar aana aur doulat ki hiras muashray mein fasaad ka sabab hai - 1

انسانی کردار کے اثرات (ماہانہ اجتماع )

Watch Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  YouTube Video
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 1
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 2
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 3
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 4
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 5
Insani Kirdar kay Asrat (Mahana Ijtima)  - 6

علم کی حقیقت

Watch Ilm ki Haqeeqat YouTube Video

عالم وہ ہے جس نے حق کو پہچان لیا پھر اس حق کے اثرات بندہ کو دعوے سے لے کر عمل تک لے جائیں


ہمارا نظام تعلیم انسانیت کی تربیت نہیں کر رہا اسے تقویت نہیں دے رہا صرف سٹاف پورا کر رہا ہے۔وہ کون سا علم ہے جو حقیقت سے آشنا نہ کر سکے۔شب و روز سامنے ہیں اللہ کی واحدانیت کے ہزاروں پہلو موجود ہیں اس کائنات میں پھر بھی اگر کوئی حق نہ پہچان سکے تو وہ جاہل ہے۔علم انسان کو اس دنیا میں اس طرح زندگی گزارنا سکھاتا ہے جس سے آخرت کی تعمیر ہوتی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ دنیا کا قائم رہنا نور نبوت ﷺ سے ہے،ایمان سے ہے۔انسانی کردار کے مطابق روح کی شکل ہوتی ہے۔اگر اقوام سابقہ کے حالات دیکھیں تو ان کے بد اعمال کے نتیجہ میں ان پر اجتماعی عذاب آتے کسی قوم کی شکلیں بگاڑ دی گئیں کسی پر آگ برسی کسی پر پتھروں کی بارش کی گئی یہ سب ان کے اعمال کی وجہ سے ہوا،کسی میں بے حیائی عام تھی کسی قوم میں جھوٹ بہت زیادہ بولا جاتا کسی قوم کے لوگ لین دین میں ناپ تول میں کمی کرتے تو ان کے اعمال ان پر اجتماعی عذاب کا سبب بن گئے۔
  نبی کریم ﷺ کی بعثت کی برکت کی وجہ سے آپ کی امت سے اجتماعی عذاب اُٹھا لیے گئے اگر دیکھا جائے تو وہ ساری برائیاں آج ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔انسان جس طرح کا راستہ اختیار کرتا ہے ویسے ہی نتائج مرتب ہوں گے۔اگر کہیں کمی بیشی ہوجائے تو اپنے آپ کو اللہ کریم کی پناہ میں دے دینا چاہیے۔بندہ مومن کا ضابطہ حیات اللہ کریم نے طے فرما دیا ہے معاشی معاملات ہوں یا معاشرتی ذاتی نوعیت کے ہوں یا ملکی سطح کے ہر پہلو میں راہنمائی فرما دی گئی ہے۔بس ہمیں اپنے آپ کو اللہ کے احکاما ت کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں دو روزہ ماہانہ روحانی اجتماع کا انعقاد 2,1 جنوری 2022 بروز ہفتہ،اتوار کو منعقد ہو رہا ہے تمام بہن بھائیوں کو دعوت عام دی جاتی ہے کہ شرکت فرما کر برکات نبوت ﷺ سے اپنے سینوں کو روشن کیجیے۔ اتوار دن 11بجے شیخ المکرم حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خصوصی خطاب فرمائیں گے اور اجتماعی دعا بھی ہوگی
Aalam woh hai jis ne haq ko pehchan liya phir is haq ke asraat bandah ko daaway se le kar amal tak le jayen - 1

دو روزہ دورہ کراچی

Dow Roza Dora Karachi 2021 - 1

غیر مشروط ایمان

Watch Ghair Mashroot Emaan YouTube Video

دین اسلام کے ہر حکم کو غیر مشروط ماننا اور پھر اس پر عمل کرناایمان کی مضبوطی کی علامات ہے


 اللہ کریم کے حکم کو اپنی پوری قوت سے اختیار کرنا اور پھر اس پر قائم رہنا، اسے دین کو مضبوطی سے تھامنا کہتے ہیں۔اللہ کریم نے احسان فرمایا کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا فرمایا۔دین کو جاننے کے لیے انتہائی آسان وسائل عطا فرمائے۔ہر کوئی فرائض کو جانتا ہے،حلال حرام کو جانتا ہے،صحیح غلط کو سمجھتا ہے لیکن عمل کوئی نہیں کر رہا۔مانتا ہے لیکن اپنی شرائط پر مانتا ہے یہ کیسا ماننا ہے۔
 امیر عبدالقدیراعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ دین کو اختیار کرنے سے تقوی کی کیفیت نصیب ہوتی ہے۔ایک تعلق اور مضبوط رشتہ اللہ کریم سے قائم ہو تا ہے  قرب الٰہی کی اپنی کیفیات اور حال ہیں۔اللہ کریم کی وہ حقیقی کیفیت نصیب ہو کہ بندہ خود کو اللہ کے روبرو سمجھے اور اس کا اثر اس کے ظاہری کردار تک پہنچے تو یہی تقوی کی کیفیت بن جائے گی۔اتنے ہم خود اپنے قریب نہیں ہیں جتنی قریب اللہ کریم کی ذات ہے۔صالح اعمال سے مزید ترقی نصیب ہوتی ہے۔اُس کی ذات علیم ہے وہ دلوں کے حال سے واقف ہے ہمارے ارادوں کو جانتا ہے جو ہمارے دل میں ہیں عبادات کا اختیار کرنا اللہ پر احسان نہیں بلکہ عبادات اس کی عطا ہیں اس نے ہمیں عبادات عطا فرمائیں عبادات سے تعلق مع اللہ مزید مضبوط ہوتا ہے اور اعمال بہتر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
  انہوں نے مزید کہا کہ مخلوق جو لمحے لمحے کی محتاج ہے کیا کر رہی ہے اور وہ جو خالق ہے وہ عطائیں نازل فر ما رہا ہے۔اگر اللہ کا کرم اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو بہت بڑا نقصا ن ہوتا  اگر ایک لحظہ کو اس کی رحمت منقطع ہو جائے تو سب عدم میں چلا جائے کچھ باقی نہ رہے  آج ہم اپنی ضد اور انا میں پھنسے ہوئے ہیں حقائق نہیں دیکھ رہے اپنے اندر شیطنت ہے جو ہم پر غالب ہے ہمیں بھلائی نہیں کرنے دے رہی اور خو ش بختی ہے ان کے لیے جنہیں اسی جہان میں حقائق نظر آنے لگتے ہیں بندہ اس دنیا میں توبہ کرے اور اپنی زندگی کو صراط مستقیم پر لے آئے وہ ایسا رحیم ہے کہ معاف کرنے کے اسباب پیدا فرما دئیے۔اتنی بڑی عطا کے بعدبھی بندہ زیادتی پر قائم رہے تو وہ خود اپنا نقصا ن کر رہا ہے کسی اور کا نہیں۔ اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی
Deen islam ke har hukum ko ghair mashroot maanna aur phir is par amal Karna Eman ki mazbooti ki alamaat hai - 1