Featured Events


فاذ کرونی

Fazkorooni - 1
Fazkorooni - 2

تقوی کا حصول


تقوی کے حصول کے لیے عبادات کا اختیار کرنا ضروری ہے


اللہ کریم نے کر ہ ارض پر دو قسم کی مخلوق ایسی پیدا فرمائی ہے جو کہ مکلف ہے۔ایک انسان جسے مٹی سے پیدا فرمایا اور دوسری جن جسے آگ سے پیدا فرمایا۔اور ان کے مقصد تخلیق کے بارے فرمایا کہ میں نے انہیں اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔یاد رکھیں جب کسی شئے کا کوئی مقصد ہوتا ہے تو پھر اس مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع بھی ہوتے ہیں وہ بھی اللہ کریم نے عطا فرمائے۔راہنمائی کے لیے انبیاء مبعوث فرمائے،خوب اہتمام فرمایا۔تا کہ تمہیں تقوی نصیب ہو جائے ایک تعلق نصیب ہوجائے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
  انہوں نے کہا کہ رسم و رواجات میں بڑی باقاعدگی نظر آتی ہے،فرائض میں نہیں۔ فرائض چھوڑ کر کہتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔جو اُس کے ذمہ ہے اس کے لیے ہم تڑپ رہے ہیں اور جس کام کے لیے تڑپنا چاہیے تھا وہ ہم چھوڑ چکے ہیں۔ ہم نے عبادات کو بھی سودے بازی سمجھ رکھا ہے۔کہ میں نے اتنی عبادت کر لی اب اللہ کریم کی طرف میرا بہت حساب نکلتا ہے۔حالانکہ عبادات اس لیے کرنی چاہیے کہ اس نے ہمیں پیدا فرمایا۔زندگی عطا فرمائی شرف انسانیت بخشا۔اپنی عبادت کو پسند فرمایا۔اس سے بڑی عطا اور کیا ہو سکتی ہے۔یہ وجود یہ سانسیں یہ سب بھی تو اُسی کی عطا ہے۔
 ٍ انہوں نے مزید کہا کہ تقوی کی معراج یہ ہے کہ بندہ ہمہ وقت یہ سمجھے کہ میں اللہ کریم کے روبرو ہوں۔اللہ کریم متقی کی کیفیت عطا فرمائیں، عبادات کے بغیر تقوی نصیب نہیں ہوتا۔اللہ کریم ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Taqwa ke husool ke liye ebadaat ka ikhtiyar karna zaroori hai - 1

سمع و بصر کی حقیقت


جو آنکھ آپ ﷺ کو نہ پہچان سکی وہ حقیقت میں اندھی ہے


ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے ہم سوچتے کچھ  اور کرتے کچھ ہیں۔ہمارے اعمال بحیثیت مجموعی ایسے ہو گئے ہیں جن کے ظاہر اور باطن میں فرق ہے۔اس نفاق نے معاشرے میں وہ تعفن پھیلایا ہے کہ جس کی وجہ سے معاشرے میں مثبت تبدیلی نا ممکن ہے۔  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
  انہوں نے کہا کہ جو آنکھ آپ ﷺ کو نہ پہچان سکی وہ حقیقت میں اندھی ہے۔اگر آج ہم نے ارشادات محمد الرسول اللہ ﷺ کو نہ سمجھا تو ڈر ہے کہ پھر وہی حالت جو اُس زمانہ میں کفار کی تھی کہیں ہمارے کردار میں بھی نہ آ جائے کہ ہم دعوی بھی کریں کہ آپ ﷺ کو مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی نہ مانیں یعنی آپ ﷺ کو اللہ کا رسول بھی مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ کے ارشادات پر عمل نہیں کرتے تو یہ حالت کس زمرے میں آئے گی۔سوچنے کی ضرورت ہے خود کو جانچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا ظاہر اور باطن ایک جیسا ہے یا ہمارے قول و فعل میں تضاد ہے۔ہم سوچتے کچھ ہیں کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں یہ بہت بڑی خرابی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ ولی اللہ اُسے کہتے ہیں جو فرائض ادا کرنے والا ہو۔فرائض کی ادائیگی قرب الٰہی کی طرف لے کر جاتی ہے اللہ کی رضا کا سبب بنتی ہے۔جس سے بندہ مومن کو اللہ کریم کی دوستی نصیب ہوتی ہے ایک تعلق نصیب ہوتا ہے پھر وہ نفلی عبادات سے اس تعلق کو مزید مضبوط تر کرتا چلا جاتا ہے ورنہ قرآن کریم میں ہے کہ ہر صاحب ایمان اللہ کا دوست ہے۔ہر ایک کا اپنے اللہ کریم کے ساتھ اپنا تعلق ہے جس کے مختلف مدارج ہیں کوئی کسی درجہ پر ہے کوئی کسی درجہ پر۔اور یہ ساری کی ساری عطا اتباع محمد الرسول اللہ ﷺ میں ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
Jo aankh Aap SAW ko nah pehchan saki woh haqeeqat mein andhi hai - 1

عید الاضحی


اسلام میں دو ہی تہوار ہیں۔ ایک رمضان المبارک کے تشکر کے طور پر جسے ہم یوم عید کہتے ہیں اور دوسرا تہوار عید قربان یا عید الاضحی ہے۔ عیدالاضحی حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی عظیم قربانی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عظیم اثیار کی نہ صرف یاد گار ہے بلکہ اس میں حکمت الہٰی یہ پوشیدہ ہے کہ جو اجر، جو برکات،جوکیفیات اور جس طرح کی رحمتیں سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کو قربان کرتے ہوئے نازل ہوئیں تھیں۔اُن میں امتِ محمدیہ علی صاحبہ الصلوہ والسلام کو بھی شریک بنا دیاگیا۔
سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی تھی کہ اللہ کریم نے اِس عمر میں آپ کوبیٹاعطا فرمایا۔پہلے تو آپ کو یہ حکم ملا کہ اپنی زوجہ محتر مہ اور معصوم بچے کو وہاں چھو ڑ آؤ جہاں آج بیت اللہ شریف ہے۔حضرت جبرائیل امین ؑ نے رہنمائی کی اور سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں وہاں چھوڑ آئے۔ اس وقت وہاں سینکڑوں میلوں تک کسی آبادی کا کوئی نشان نہیں ملتا۔حضرت حاجرہ ؓ کا پانی کی تلاش میں بے تاب وبے قرار ہو کر پہاڑوں پر دوڑنا،حضرت اسمعٰیل علیہ السلام کی بے تابی، آب زم زم کا وہاں سے نمودار ہونا۔
حضرت سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کے بارے قرآن ِحکیم بتاتا ہے۔”فلما بلغ معہ السعی“۔ ((37:102 یعنی جب وہ اس قابل ہوئے کہ انگلی پکڑ کر ساتھ چل سکیں تو اللہ نے حکم دیا کہ آپ علیہ السلام اسے میری راہ میں قربان کر دیں۔قربانی کا ایک فلسفہ یہ ہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام کے ساتھ لفظ ”خلیل اللہ“ ہے۔یوں تو سارے نبی اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ہر ولی اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ ہر مسلمان اللہ کا دوست ہوتا ہے۔ اللہ سے دشمنی تو صرف کافر کے نصیب میں ہے لیکن بعض لوگ اِس دوستی میں اِس حد تک آگے چلے گئے کہ یہی اُن کا نشان بن گیا۔ آپ اندازہ کریں کہ جس اللہ کے بندے کی عمر اسی برس سے تجاوز کر رہی ہو۔اُس عمر میں فرزند عطا ہو۔ جس کی پیشانی میں نورِ نبوت درخشاں ہو پھر اس بچے کی عمر کا وہ حصہ جو بچپنے والا ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ حکم دیا جائے کہ اِسے میری راہ میں قربان کر دو۔اِس کیلئے کتنی محبت چاہئے حکم دینے والے کے ساتھ؟ کہ آدمی اس کی گردن پر چھری رکھ دے۔
یہ وہ نظارہ ہے جو رب العالمین نے اُن فرشتوں کو بھی کرایا جو کہتے تھے کہ تخلیق ِآدم سے کیا فائدہ ہو گا؟ یہ زمین پر فساد ہی کریں گے۔اللہ کریم نے اُنھیں دکھا دیا کہ ان میں ایسے بھی ہیں کہ جو سب کچھ میرے اشارے اور میرے نام پر میری خوشی اور میری رضا کیلئے انتہا ئی عزیز ترین متاع اپنے ہاتھوں لٹا سکتے ہیں۔جب آپ علیہ السلام نے بسمِ اللہ، اللہ اکبر پڑھ کر سیدنا اسمعٰیل علیہ السلام کی گردن پر چھری چلا دی۔ خون کے فوارے ابلنے لگے۔ لاشہ تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا۔آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو دیکھا سیدنا حضرت اسمعٰیل علیہ السلام ساتھ کھڑے مسکرا رہے ہیں اور دنبہ کٹا پڑا ہے۔ پریشان ہو گئے۔یا اللہ کیا میری قربانی قبول نہیں ہوئی؟ تو اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا۔  ”قد صدقت الریا یا ابراہیم“  ((37:105  ”اے ابراہیم!بے شک آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا“۔ یہ میری مرضی کہ میں نے حضرت اسمٰعیل کو بچا دیا اور دنبہ ذبح کرا دیا  ”وفدینہ بذبح عظیم“ ((37:107 میں نے اس کے بدلے بے شمار قربا نیاں قبول کر لیں۔ چنانچہ یہ ذبح عظیم ہے۔ اس میں اُس وقت سے لیکر قیامت تک جتنے لوگ شہید ہونگے۔ وہ مکہ مکرمہ، مدنیہ منورہ، غزواتِ نبوی علیہ الصلوۃ والسلام اور اُس کے بعد ہوئے۔کوئی لاشہ جو بدر واُحد میں تڑپا یا کربلا میں خانوادہ نبوی ﷺ کے چراغ اور جگر گوشے ہوں یا آج افغانستان، کشمیر، فلسطین، عراق اور پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ بطفیلِ محمدﷺ ہر شہید کو ذبح اور قربانی کی لذت میں شریک کر دیا اور اُس قربانی کو حج کا رکن بھی قرار دے ِ دیا۔اب شہید تو شہید ہو کر لطف لے گئے۔ حجاج کرام نے مکہ مکرمہ، منٰی میں جا کر اپنی قربانیاں پیش کر کے ثواب لے لیا۔عامۃ المسلمین کہاں جائیں؟ اللہ نے فرمایا جو مسلمان روئے زمین پرجہاں بھی ہو، جو جانور اُسے پسند ہو،خوبصورت اورپیارا لگے، میری راہ میں قربان کر دے، میں اُسے بھی ذبحِ عظیم میں شامل کر دونگا،وہی برکات، انوارات اوروہی رحمتیں اُس پر وارد ہونگی جو سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا حضرت اسمعٰیل علیہ السلام پر اس وقت وارد ہوئیں تھیں۔ 
لہذا قربانی محض رسم نہیں ہے۔ یہ اس طرح بھی نہیں ہے کہ خانہ پرُی کی جائے۔اگر ہم نے پورے خلوص سے قربانی کی تو صرف دنبہ قربان نہیں ہوگا، صرف جانور ذبح نہیں ہو گا، بلکہ اللہ ہمیں توفیق دے گاکہ ہم اُس کی اطاعت کے لیے اپنے مفادات قربان کر سکیں۔ عبادات کے اوقات میں آرام اور حلال کے مقابلے میں حرام قربان کر سکیں۔ ہم میں عاداتِ ابراہیمی ؑ آنا شروع ہو جائیں تو یہ قربانی کا ایک نتیجہ ہے۔جسے ہم پرکھ سکتے ہیں کہ کیا ہماری قربانی رسمی تھی یا خلوص کے ساتھ تھی؟ ہمارے دل میں جذبہ آیایا نہیں۔ہر ایک کا حال اللہ جانتا ہے یا کسی حد تک انسان خود اندازہ کر سکتا ہے۔ قربانی کرتے وقت سوچو کہ میں کیاقربان کرنے چلا ہوں؟ یہ کس نے حکم دیا تھا؟ یہ سنتِ ابراہیمی تھی بطفیلِ محمد ﷺرب ِکریم نے انعام میں عطا کر دی کہ امتِ مرحومہ اس سعادت سے محروم نہ رہے پھر اسے یومِ عید قرار دے دیا۔ فرمایا پہلے دوگانہ ادا کرو پھر قربانی کرو اور سوچ کر کرو کہ اے اللہ تو کتنا کریم ہے، مجھے اجر وہ دے رہا ہے گویا میں بیٹا ذبح کر رہا ہوں، جبکہ میں ایک جانور ذبح کر رہا ہوں۔ اُس درد کو محسوس کرو کہ اگر بیٹا ذبح کرنا ہوتا تو تمہارے دل کا کیا عالم ہوتا؟ربِ کریم نے اس چھوٹی سی قربانی پر اتنا بڑا دردِدل عطا کر دیا۔اب یہ تو اپنے شعور کی بات ہے کہ ہم وہ کیفیت، قرب اور دردِ دل کتنا حاصل کرتے ہیں؟ حقیقی قربانی تو ان لوگوں کی ہے جو سب کچھ اللہ کے لئے قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔جو راہ حق میں کام آئے۔ خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طنیت را۔کیا پاک مزاج لوگ تھے۔ہم بہرحا ل جانور ذبح کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ قربانی قبول ہو گی؟ اس میں ہمارا خلوص اور سرمایہ مشتبہ ہوتا ہے۔ ہمارے طریقے خلاف سنت بلکہ رسومات پر مبنی ہوتے ہیں اور عبادت تو وہی ہے جو نبی علیہ الصلوٰۃ کے طریقے اور حکم سے ہو۔اپنی مرضی سے نہیں۔سو ہم سے ہزاروں کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔
 قارئین گرامی!قربانی کی حقیقت کو وہ لوگ پا گئے جو محض بقائے دین اور احیا ئے دین کے لئے واقعی قربانی دے رہے ہیں اور دیتے چلے جا رہے ہیں۔ آخری کتاب قرآن حکیم ہے۔ جب تک اللہ نے دنیا کو قائم رکھنا ہے۔ تب تک نبوت بھی رہے گی۔ یہ دین بھی رہے گا۔ لیکن دنیا عالم اسباب ہے۔اس میں کس کس کو اس سعادت سے سرفراز کرتا ہے؟ یہ اس کی پسند ہے۔ ہماری کوشش یہ ہو کہ جب جانور قربان کریں تو یہ دعا بھی کریں کہ اے اللہ!  نہ صرف ان جانورں کی قربانی ہم سے قبول فرما بلکہ ہماری ذاتی قربانی بھی قبول فرما۔قربانی کی عید تو شاید ڈھائی دن کی ہے لیکن قربانی کا موسم ڈھائی دن کا نہیں ہے۔یہ ڈھائی دِن کی عید جانوروں کی قربانی کی ہے۔ جان و مال کی قربانی، عشق و محبت کی قربانی،درددل کی قربانی کا موسم اپنے جوبن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ خوش نصیب ہوں گے جن کے دل میں اللہ سے عشق ہو گا۔اللہ کے حبیب ﷺ سے محبت ہو گئی۔ اللہ انہیں چن لے گا۔
اللہ کریم ہماری قربا نیوں کو قبول فرمائے دین ِبرحق پر زندہ رکھے اور دین ِبرحق پر موت نصیب فرمائے اور دین دار بندوں کے ساتھ حشر فرمائے۔آمین  


مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے


مسلمان کے قول و فعل سے مخلوق کو فائدہ ملنا چاہیے۔اچھائی کرتے ہوئے بھی یہ خیال رکھیں کہ میری نیکی سے دوسرے کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی۔اگر کوئی گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے گا تو ممکن ہے کہ اسے توبہ نصیب ہو جائے اور اگر کوئی گناہ کو ثواب سمجھ کر کرتا رہے گا عبادت سمجھ کر کرتا رہے گا تو اس سے توبہ کی توفیق بھی سلب ہو جاتی ہے۔دین اسلام کے ظاہری طور پر ماننے کے ساتھ ساتھ دل کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
      انہوں نے مزید کہا کہ جھوٹا،عہد توڑنے والا اور امانت میں خیانت کرنے والا پکا منافق ہے۔نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ سے ملتا ہے کہ جس میں یہ تین عادات پائی گئیں وہ پکا منافق ہے ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے اندر ان میں سے کوئی عادت تو نہیں جب ہم بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اگر کسی سے وعدہ کریں تو کیا اسے پورا کرتے ہیں اور کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے 
  انہوں نے مزید کہا کہ کلمہ طیبہ ایسا انعام ہے،ایسا رشتہ ہے،ایسا اللہ کریم سے وعدہ ہے اس میں جتنی کوئی خیانت کرے گا اس کے معاملات اتنے خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ساری خرابیاں دین اسلام سے دوری کی وجہ سے ہیں۔کسی بھی معاشرے کی اعلی اخلاقی قدریں اگر ان کا جائزہ لیں تو وہ دین اسلام کے اصولوں پر مبنی ہیں۔شجرو ہجر آپ ﷺ پر درود و سلام پیش کرتے لیکن جس مخلوق کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا،کلام ذاتی نازل فرمایا گیا یہ کتنی بڑی عطا ہے۔اگر اس کے باوجود کوئی ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی اختیار کرتا ہے تو اس نے بہت بڑا اپنا نقصان کیا اس نے جیسے تجارت میں نقصان ہوتا ہے اس سے بھی بڑھ کر کہ اصل بھی گنوا بیٹھایعنی ہدایت کے بدلے  گمراہی خرید لی۔قرآن کریم ایسے لوگوں کی مثال یوں بیان فرماتے ہیں کہ جیسے کسی کو روشنی عطا ہو اور پھر وہ سلب کر لی جائے تو پہلے سے بھی زیادہ اندھیرا محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی پسند کی۔
حق کا اختیار کرنا دنیا و آخرت میں فائدہ کا سبب ہوتاہے راحت کا سبب ہوتاہے حق کا چھوڑنا حق کے مقابل آنے کے مترادف ہے جس سے دنیا و آخرت میں تکلیف ہو گی۔اللہ کریم ہمیں حق اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
Musalman ke qoul o feal se makhlooq ko faida milna chahiye - 1

ہدایت اور گمراہی


اختتامی بیان و اجتماع دعا سالانہ اجتماع

Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 1
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 2
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 3
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 4
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 5
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 6
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 7
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 8
Ikhtitami Beyan Aur Ijtmai Dua Salana Ijtima  - 9

اُمت مسلمہ آج علاج سے لے کر دنیاوی ضروریات تک غیر مسلم کی محتاج ہے


چودہ صدیوں کی دوری نے ہمارے قلوب پر وہ پردہ ڈال دیا ہے جس نے ہمیں ہر پہلو سے کمزور کر دیا ہے وہ جماعت جو دوسروں کے لیے معالج اور معاون تھی اتنی لاچار ہو گئی ہے کہ علاج سے لے کر اپنی دنیاوی ضروریا ت کے پورا کرنے کے لیے بھی غیر مسلم کی طرف دیکھ رہی ہے۔یہ گھٹا یہ گرد جو ہمارے قلوب پر پڑ چکی ہے اسے اللہ کے ذکر کے ساتھ اتارا جا سکتا ہے یہی اس کا واحد علاج ہے۔
 امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ اجتماع کے اختتامی بیان اور اجتماعی دعا کے موقع پر سالکین کی بہت بڑی تعداد سے خطاب!
  انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کریم کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔یہ ہر ایک کا اپنا فیصلہ ہے کہ ہر کوئی اپنا اعمال نامہ خود تیار کر رہا ہے۔اس میں کانٹے اور آگ بھر رہا ہے یا دودھ اور شہد کی نہریں لکھ رہا ہے۔جس طرح کے ہمارے اعمال ہوں گے ویسیے ہمارا اعمال نامہ تیار ہو گا۔نبی کریم ﷺ کفار کے لیے اس قدر رنجیدہ ہوتے کہ جیسے آپ ﷺ ان کے دکھ میں اپنی جان ہی دے دیں گے توآپ ﷺ مومنین کے لیے کتنا درد رکھتے ہوں گے جنہوں نے آپ کا کلمہ پڑھا ان کے لیے کتنے سوچتے ہوں گے اور جنہوں نے اپنی جانیں نچھاور کیں جنہوں نے گھر بار چھوڑ دیے آپ ﷺ کا ان کے ساتھ کیسا رشتہ ہوگا۔کیسی محبت ہوگی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ دعا کرنا بذات خود اتنی بڑی اللہ کریم کی عطا ہے کہ بندے کو اپنے اللہ کریم سے کلام کرنا نصیب ہوتاہے۔بندہ کیا مانگ رہا ہے وہ کیا عطا کر رہا ہے ان باتوں سے ہٹ کر کیا یہ نعمت کم ہے کہ اللہ کریم سے ہم کلامی نصیب ہوئی اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عطا ہوا۔ جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اپنے لیے اگر کوئی برائی کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر آئے گا۔ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے اعمال کو دیکھیں کہ ہمارا ایک ایک عمل جس سے ہم اپنی آخرت تیار کر رہے ہیں کیا وہ اس قابل ہے کہ بارگاہ الہی میں پیش بھی کیا جا سکے  اس لیے ہمیشہ اللہ کریم سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے جس کا انداز اللہ کریم نے خود فرمایا ہے کہ ہمہ وقت اپنی عاجزی کے ساتھ درگزر،بخشش اور رحم کے طلب گار رہنا چاہیے اور اللہ کریم کو معاف کرنا پسند ہے جتنا بھی کوئی گناہ گار ہو اللہ کریم کی رحمت کو عاجز نہیں کر سکتا۔
  یاد رہے کہ دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ اجتماع جاری تھا جس کا آج اختتامی بیان ہوا اور اجتماعی دعا بھی ہوئی جس میں ملک بھر سے بہت بڑی تعداد میں سالکین نے شرکت کی اور اپنے قلوب کو منور کیا۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی اور کورونا وبائی مرض سے حفاظت کی بھی دعا فرمائی۔
Umt-e- Musalmah aaj ilaaj se le kar dunyawi zaroriat tak ghair muslim ki mohtaaj hai - 1