Featured Events


فکر کیجیے

Watch Fikr Kijiye YouTube Video

رجب

Rajab - 1
Rajab - 2

رجب المرجب


اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْھَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ... (التوبۃ9:36)
بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ ہے جس روز سے اس نے زمین و آسمان پیدا فرمائے اُن میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔
رجب عربی زبان کا لفظ ہے جو  ’ترجیب‘ سے ماخوذ ہے جس کے معنی تعظیم کے ہیں۔جن چار مہینوں کو اسلام میں خاص ادب کے مہینے کہا گیا ہے یہ ان میں سے ایک ہے۔اِسے رجب المرجب بھی کہا جاتا ہے اور رجب ِمُضَر بھی۔ مرجب کا مطلب بھی تکریم ہی ہے اور یہ رجب کے معنی کی نسبت کے لحاظ میں کہا جاتا ہے جبکہ رجب مُضَر اس لیے کہا جانے لگا کہ عرب میں مُضَر نامی قبیلہ اس ماہ کی بہت زیادہ تعظیم کرتا تھاحتیٰ کہ اس میں غلو سے کام لیتا لہٰذا یہ مہینہ اس کی نسبت سے پکارا جانے لگا۔
بعض اصحاب کا خیال ہے کہ عرب کے کچھ قبائل کسی اور مہینے کورجب کہتے تھے اس لیے حجۃالوداع کے موقع پر حرمت کے چار مہینوں کا ذکر کرتے ہوئے  مِنھَااَربَعَۃٌ حُرُمٌ ثَلَا ثٌ مُتَوَالِیَا تٌ ذُو القَعدَۃِ و ذُو الحَجَّۃِ وَالمُحَرَّمُ وَرَجَبَُ مُضَرَ فرمایا تو ماہِ رجب بارے اس لیے خوب واضح فرما دیا  وَرَجَبَُُ مُضَرَ الَّذِی بَینَ جُمَادَی وَ شَعبَانَ۔ (صحیح البخاری، باب قول اللہ تعالی وجوہ الخ)کہ وہ مہینہ رجب ہے جو قبیلہ مُضَر کی نسبت سے جانا جاتا ہے اور جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔
امام شافعیؒ، امام زکریا بن محمد بن زکریا انصاریؒ، شیخ ابن مفلح حنبلیؒ نے جہاں فضیلت والی راتوں کا ذکر کیا ہے وہاں ماہِ رجب کی پہلی رات کو بھی ان میں شامل فرمایا ہے۔بہت سی روایات کے مطابق شب ِمعراج کو بھی اس مہینہ کی ستائیس تاریخ سے منسوب کیا گیا۔ماہِ رجب کی فضیلت کے مدِ نظر اس میں روزہ رکھنا باعثِ اجرو ثواب ہے لیکن بعض روایات کے مطابق نبی ئاکرم  ﷺ اس ماہ میں مسلسل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ درمیان میں وقفہ فرما لیا کرتے۔
کائناتِ ارض و سما میں ہر ذی روح اور بے روح کو اپنی استعداد کے مطابق معرفت ِباری سے نوازا گیا لیکن جسے ذاتِ باری کومطلوب و مقصود بنانے کاشرف حاصل ہوا وہ صرف اور صرف انسان ہے۔ اسے ملائکہ کی طرح ہر حاجت سے مبرا ہو کر فقط عبادت ہی کے لیے حیات نہیں رکھنا تھی۔ محض قیام و رکوع و سجود ہی میں نہیں رہنا تھا بلکہ بقائے حیات کے لیے بنیادی ضروریات کا محتاج ہونا تھا۔ اس کے نظام ہائے زندگی کے اصول و ضوابط میں حقوق ہی نہیں فرائض بھی شامل تھے۔
یہاں اپنی ہر مخلوق کی ہر ضرورت کو ہر جگہ اور ہر وقت پوری کرنے والے رب العالمین نے اپنے اس خلیفۃ الارض کے زمیں پہ اترنے سے پہلے ہی اپنی معرفت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے عبادت کے شغف و سجدہئ شوق کے شرف میں راہِ تسلیم و رضا پہ گامزن ہونے کے لیے تقسیمِ اوقات کا اہتمام فرما یا،گردشِ دوراں کو ماہ و سال میں تقسیم فرما دیا۔اس سب کے ساتھ ساتھ انسان کی استعدادِ طلب سے پیدا ہونے والی تڑپ کی تسکین کے لیے مہینوں کے سردار  ’رمضان المبارک‘  کے علاوہ چار مہینے، راتوں میں سردار رات  ’لیلۃالقدر‘  کے علاوہ چند راتیں اور ہفتے کے دنوں میں سے ایک دن’ جمعۃ المبارک‘  مقرر فرما دیا۔
یوں تو کسی بھی وقت، کسی بھی لمحہ میں سنت ِ نبوی  ﷺ کے مطابق کیا جانے والا ہر عمل حصولِ معرفت ِ باری سے شرف یاب فرماتا ہے اور اللہ کریم نے یہ موقع، یہ ذریعہ زندگی کے ایک ایک لمحہ میں رکھ دیا ہے۔کوئی بھی، کبھی بھی اپنے مقصدِ حیات کو پانا چاہے تو حیات کی ایک ایک ساعت سے فیض یاب ہو سکتا ہے لیکن خاص احترام اور خاص اہتمام سے عبادت کیے جانے والے مہینے اور دن بھی مقرر فرما دیے گئے اور حرمت والے ان چار مہینوں میں منع فرما دیا کہ جنگ نہ کی جائے۔ اگر جنگ جاری ہے تو روک دی جائے، صدقات دیے جائیں۔ یہی اہتمام زندگی کے دوسرے مہینوں میں خواہشِ حصولِ رضائے باری میں معاون ثابت ہوگا۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ ]الرحمٰن55:13[ 
قارئین کرام! وہ لمحے، وہ ساعتیں،وہ دن، وہ راتیں اور وہ مہینے جو قربِ الٰہی کے حصول کے لیے عطا فرما ئے گئے ہیں وہ اس چند روزہ زندگی میں عطائے باری ہیں، انعاماتِ الٰہی ہیں، احسانات ِ رب العالمین ہیں۔ انہیں روایات کی نظر کرنے کی بجائے، محض رسومات تک محدود کرنے کی بجائے، غنیمت جاننے کی ضرورت ہے۔ اگر حیات میں میسر آجائیں تو طلب ِ صادق کے ساتھ حصولِ قربِ الٰہی کی سعی میں گزارنے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ ماہ و سال آ کر گزر ہی رہے ہیں۔
حیاتِ مستعار، حیاتِ ابدی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہمیں روئے زمین سے زیرِ زمین اترنے پہ مٹی میں مٹی نہیں ہو جانا۔ اس زمین کے سینے پہ کیا جانے والا ہمارا ایک ایک عمل اپنا نقش ثبت کر رہا ہے جو زیرِ زمیں ہمارے ساتھ اترے گا اورفیصلے کے دن ہمارے دائیں یا بائیں ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔!
للہ کریم ہمیں اعمالِ صالح انجام دینے اور اپنی اپنی حیات کے ایک ایک لمحہ سے فیضاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


دولت پر اختیار

Watch Daulat par Ikhtiyar YouTube Video

بے جا خرچ کرنے والے کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے


ہماری جان مال  حتی کے ہماری ہرشئے اللہ کی دی ہوئی امانت ہے۔اسے ہم نے اُسی کے حکم کے مطابق سرف کرنا ہے۔استعدادِ انسانی کے مطابق کوئی بھی کام کیا جائے تو اس کا نتیجہ اللہ کریم کے سپرد کر دینا چاہیے۔بے جا خرچ کرنے والے کو اللہ کریم پسند نہیں فرماتے۔ امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
  انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنی نمود و نمائش اور اپنی بڑائی کے لیے فضول خرچ کرتے ہیں تو اللہ کریم کا فرمان ہے کہ وہ شیطان کی راہ پر چل رہے ہیں۔یہاں ایک بات سمجھنے کی یہ ہے کہ ہر شئے کو اللہ کریم نے انسان کے لیے پیدا فرمایا ہے لیکن جہاں بھی ہم تجاوز کریں گے پھر وہ عمل شیطان کی پیروی میں ہو گا  اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔اور اس کی دشمنی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہو گا۔کسی بات کا اظہار تب صحیح ہوگا جب اس کی سند بھی ہو اور سند عمل سے ہے،بغیر سند کے کوئی بھی بات اپنی خواہش ہو سکتی ہے اور خواہشات کے ٹکراؤ سے فساد برپا ہوتا ہے جس کے پاس جتنی قوت ہو گی وہ اتنا ظالم کہلائے گا جس کا نقصان ہوگا وہ مظلوم کہلائے گا۔اور ہمارا کردار تو اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ مظلوم کا جہاں تک اختیار ہے وہاں وہ بھی ظلم ہی کر رہا ہے۔اس کے لیے ایک نظام اور اصول چاہیے جس سے معاشرے میں اعتدال ہو۔معتدل معاشرہ کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ اس مخلوق پر وہی اصول نافذ ہوں جو خالق نے اس مخلوق کے لیے فرمائے ہیں تا کہ معاشرہ پھل پھول سکے۔ہمیں خود اپنے آپ پر ان اصولوں کو نافذ کرنا چاہیے تا کہ جو میرے حصے کا ہے میں وہ تو کروں۔
  یاد رہے کہ 14 فروری کو امیر عبدالقدیر اعوان کی سرپرستی میں تنظیم الاخوان اور سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران سے میٹنگ ہوئی جس میں پانچ ڈویژن کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اب 28 فروری کو دارالعرفان منارہ میں تنظیم الاخوا ن اور سلسلہ عالیہ کے ذمہ داران کو حضرت جی ہدایات فرمائیں گے جن میں  کے پی کے،لاہور،گوجرانوالا،فیصل آباد شرکت کریں گے۔
Be ja kharch karne walay ko Allah kareem pasand nahi farmatay - 1

ضلع چکوال کے علاقہ کھوکھرزیر میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ

الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت ضلع چکوال کے علاقہ کھوکھرزیر میں ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ماہر ڈاکٹرز نے  500 مریضوں کا مفت معائنہ کیا اور ان میں مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں۔ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی ذیلی تنظیم الفلاح فاٶنڈیشن عرصہ دراز سے ملک بھر میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس کی نگرانی 
الشیخ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی خود فرماتے ہیں۔
کیمپ کاافتتاح جرنل(ر)حافظ مسرورصاحب اورمیجر(ر) حافظ غلام قادری صاحب مجاز سلسلہ عالیہ راولپنڈی ڈویژن  نے کیا.  یہ فری میڈیکل کیمپ جو کہ 9am to 2pm تک رہا۔ مریضوں نے الفلاح فاؤنڈیشن پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا کہ آئندہ بھی  اس طرح کے عوامی خدمت کے لیے اقدامات ضرور ہونے چاہیے ۔
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 1
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 2
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 3
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 4
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 5
Zilah Chakwal ke ilaqa کھوکھرزیر mein aik roza free medical camp - 6

نظامِ زکوٰۃ درست کر دیا جائے تو ملک میں کوئی محتاج نہ رہے

اسلامی نظامِ معیشت ہمیں کمانے، جمع کرنے اور خرچ کرنے تک رہنمائی فرماتا ہے اور ہمارا مال  ہمارے پاس امانت ہے جسے ہم نے شرعی حدود میں خرچ کرنا ہے۔ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کا نظامِ معیشت کمانے اور جمع کرنے تک محدود ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ، سربراہ تنظیم الاخوان نے جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام اور کافر و مشرک کے قانون میں اخلاقی حدود ایک جیسی ہیں۔ چوری چکاری، کسی کا مالِ ناحق لے لینا غلط سمجھا جاتا ہے لیکن اسلامی اور غیر اسلامی معاشرے کے نظامِ معیشت میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ غیر اسلامی معاشرے میں آپ گورنمنٹ ٹیکسز ادا کرنے کے بعد جو مال بچ جائے اسے چاہے جوئے میں اڑا دیں، آگ لگا دیں، کوئی نہیں پوچھے گا لیکن اسلام ہمارے مال جو کہ ہمارے پاس اللہ کی دی ہوئی امانت ہے خرچ کے اصول بھی بتاتا ہے اور اسی طرح جو مال واراثت میں ملے اسے بھی آگے اپنے وارثین تک پہنچانے کا حکم فرماتا ہے۔ اگر آج ہم ملک میں نظامِ زکوٰۃ کو ہی درست کر لیں تو ملک میں غربت کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور غریب کو نوالہ مل سکتا ہے۔ ہم نے اپنے بنیادی اصولوں کو چھوڑ دیا جس سے ہم ہر شعبے میں تنزلی کا شکار ہیں۔آخر میں انہوں نے ملک کی سلامتی اور امن کے لیے دعا فرمائی۔
Nizam zikat durust kar diya jaye to mulik mein koi mohtaaj nah rahay - 1

مخلوق سے خالق تک

Watch Makhlooq say Khaliq Tak YouTube Video

یاد الہی کے کردارپر اثرات

Watch Yad-e-Illahi kay Kirdar pr Asraat YouTube Video

ذکر الہی

ہر وہ قول اور فعل جس میں اللہ کی یاد موجود ہے ذکر الہی ہے ۔
Every word every act that is imbued with the remembrance of Allah becomes Zikr-e-Illahi.
Zikr-e-Ilahi - 1