Featured Events


والدین کا مقام

Watch Waldain ka Muqam YouTube Video

اللہ کریم کا اپنے بندوں کے نام پیغام


قرآن کریم،اللہ کریم کا اپنے بندوں کے نام ایک پیغام ہے۔ آپ کو اپنے کسی عزیز،کسی چاہنے والے، کسی محبوب کی چٹھی آتی ہے۔کبھی آپ نے بغیر سمجھے رکھی؟ان پڑھ کو بھی مل جائے تو کسی پڑھے لکھے کی تلاش میں بے قرار ہوجاتاہے کہ وہ مجھے اس چٹھی کا مضمون تو سمجھائے۔اس میں کیا ہے؟اللہ تعالیٰ کا پیغام ہو، اللہ کریم کی چٹھی ہو،لانے والے محمد رسول اللہ ﷺ ہوں، امام الانبیاء(بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر) وہ ہستی ہم تک اللہ کریم کاپیغام پہنچائے،ہم اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہ کریں۔ ہم میں سے ہر مسلمان کا پہلا حق یہ ہے کہ قرآن کریم کے لفظ، لفظ کو سمجھنے کی کوشش کرے او ر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایاہے کہ  وَلَقَدْ  یَسَّرْنَاالْقُرْاٰنَ لِلذِّکْر (القمر:22) ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے سہل کر دیاہے۔ ادبی مقامات میں اس مقام پر ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں ہے، لغت کے اعتبار سے ان بلندیوں پر ہے کہ کوئی اسے چھو نہیں سکتا ہے،جملوں اورفقروں کی ساخت اور الفاظ کے چناؤ اورانتخاب کے اعتبار سے یکتا و بے مثل ہے۔لیکن کو ئی سمجھنا چاہے تو وہ قادر کریم فرماتا ہے کہ میں نے سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ہرمسلمان پر یہ واجب ہے کہ قرآن کریم کو سمجھے۔ خود پڑھنا نہیں جانتا تو  فَسْءَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ (النحل:43) تمہیں پڑھنا نہیں آتا توپڑھے لکھے لوگوں سے جا کر پوچھو، لیکن پوچھو ضرور کہ اس میں کیا لکھا ہے؟
آج دنیا گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ میرے دوستوں!اس زمانے کو یاد کرو جب قرآن کا نزول ہو رہا تھا۔ مکہ کی سرزمین تھی، قبائلی راج تھا، سرداروں کی حکومت تھی،بندہ مار دینا یا چھوڑ دینا، ان کی مر ضی پر موقوف تھا۔بتوں کے پجاری اور شرک میں مبتلا تھے۔مکی سورتوں کو الگ کر لیجئے، جو قرآن کریم مکہ مکرمہ میں نازل ہوا، اس سارے کو دیکھ جائیے۔وہ بات ہی عقیدے کی کرتا ہے، بتوں کے باطل ہونے کی کرتا ہے۔اللہ کی توحید کی کرتا ہے اور مشرکین کے سامنے کرتا ہے۔
میں بڑی تحقیق کرچکا ہوں۔ اس قرآن کریم کو بیان کرنا یہ صرف محمد رسول اللہ ﷺ کاکام تھا۔کوئی دوسرا نہیں کرسکتاتھا۔ آپ تاریخ میں دیکھئے، مکے کے اس ماحول او ر اس منظر کو آنکھوں کے سامنے لائیے پھر اللہ کے رسول ﷺکو یکتا وتنہا دیکھئے کہ صرف اللہ کریم کی ذات ان کے ساتھ ہے۔اس بوڑھے آسمان نے وہ وقت بھی دیکھا کہ جب اس روئے زمین پر صرف ایک بندہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کا نام لے رہاتھاپھر آ پ کے ساتھ ایک سے دو، دو سے چار اور چار سے دس۔آپ ﷺ کے جانثار شہید ہوئے۔آپ ﷺکو سفر ہجر ت پرمجبور ہونا پڑا،کفر کی طاقتوں نے وہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ بدرو احد ہوا، خندق ہو ا، مدینہ منورہ پر حملے ہوئے۔کوشش کی گئی کہ سب کچھ مٹا دیا جائے لیکن وہ حق کی آواز کو خاموش تو کیا کرتے اسے پھیلنے سے نہ روک سکے او ر مسلسل تئیس برس نبی کریم ﷺ نے اس قرآن کریم کا ایک، ایک لفظ عام آدمی تک پہنچانے کے لیے وہ وہ مصیبتیں اٹھائیں جن کو آپ سن کر برداشت بھی نہ کرسکیں۔کیوں آج ہم نے اسے سمجھنا چھوڑ دیا ہے؟
 اقوام عالم کی تاریخ دیکھ لو، ہر ملک کی تاریخ میں جونصاب تعلیم ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد جو شروع سے بچے کو سکھائی جاتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ تم کون ہو؟ تم کس قوم سے متعلق ہو؟ تمہارا ماضی کیا ہے؟تمہاری تہذیب کیا ہے؟ تمہیں کس بات پر فخر کرنا چاہئے؟ اور کس بات کو تم نے زندگی میں ثابت کرنا ہے۔ یہ تعلیم کی بنیاد ہوتی ہے۔ ہمارے نصابِ تعلیم میں مسلمانوں کی یہ بنیاد سرے سے غائب ہے۔ہمیں وہ الف، ب، جیمA,B,C  سکھاتا ہے۔ یہ نہیں بتاتا کہ تم کون ہو؟اکبر الہ آبادی نے کہا تھا:
 انگریز کی تعلیم نے رکھانہ کہیں کا     مذہب کا نہ ملت کا دنیا کا نہ دین کا
ہماراتعارف کیا ہے؟ ہمارا تعار ف اللہ کا قرآن ہے۔قرآن کریم جو کرنے کا کہتا ہے، وہ ہمیں کرنا ہے۔ جس سے روکتا ہے، اس سے ہمیں رکنا ہے۔جہاں بیٹھنے کا کہتا ہے، وہاں ہمیں بیٹھنا ہے۔جہاں ہمیں کھڑا ہونے کاحکم دیتا ہے، وہاں کھڑا ہونا ہے۔ جو سوچنے کا کہتا ہے، ا س کی فکر کرنی ہے اور جس سے روک دیتا ہے، اسے بھول جانا ہے۔ مسلمان کا تعارف قرآن ہے۔قرآن کریم کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے لیا ہے  اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:9) یہ قیامت تک رہے گا۔ مسلمانوں!جو قرآن کو چھوڑ دے گا،وہ مٹ جائے گا۔ جو قرآن کے ساتھ رہے گا، وہ باقی رہے گا۔قرآن کو رہنا ہے، دین کو رہنا ہے، اسلام کو رہنا ہے۔نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا گیا۔یا رسول اللہ ﷺ قیامت کب قائم ہو گی؟فرمایا حتی لا یقول اللہ اللہ۔جب کوئی اللہ، اللہ کہنے والا نہیں رہے گا،قیامت آجائے گی۔جب دین نہیں رہے گا، جب قرآن نہیں رہے گا توکائنات مٹ جائے گی۔اس کے بعد سورج طلو ع نہیں ہوگا۔ مغرب سے نکلے گا۔ کائنات تباہ ہوجائے گی۔سو قرآن کریم رہے گا۔حکومتیں آئیں گی،حکومتیں جائیں گی،افراد آئیں گے، افراد جائیں گے، قومیں بنیں گی، قومیں مٹیں گی،سلطنتیں بنیں گی، سلطنتیں مٹ جائیں گی۔اللہ کا پیغام رہے گااور میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ جو بھی اللہ کے کلام کو تھام لے گا،وہ باقی رہے گا،اس کانام باقی رہے گا۔دنیا میں بھی اس کو عزت ملے گی، قبر میں بھی راحت ملے گی،آخرت میں بھی راحت ملے  گی۔میری دلی خواہش یہ ہے کہ میرے مسلمان بھائی قرآن کریم کو سمجھیں۔میں نہیں کہتا کہ تم کیا بن جاؤ؟ میں نہیں کہتا تم کیا نہ بنو؟ میں کہتا ہوں جو قرآن کریم کہتا ہے،جو اللہ کریم کہتا ہے،وہ بن جاؤ۔خود سمجھو، جاننے کی کوشش کرواور اللہ کریم کے پیغام پر عمل کرنے کی کوشش کرو۔اللہ کریم آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارے گناہوں،خطاؤں سے درگزر فرمائے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اس ملک کو ہمیشہ، ہمیشہ قائم رکھے اور اس پر عدل اور انصاف کی حکومت قائم فرمائے۔ امین 

قلب کی عظمت

Watch Qalb ki Azmat YouTube Video

صوفیا کرام قلوب کی اصلاح کرتے ہیں جس سے وہ درجہ نصیب ہوتا ہے کہ بند ہ خود کو اللہ کے روبرو محسوس کرتا ہے


ہمارا اپنے وجود پر اختیار نہیں ہے کوئی ایک سیل کم زیادہ ہو جائے تو ہم بیمار ہو جاتے ہیں اتنا بے بس ہونے کے باوجودہم زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ غفو رالرحیم جو ہر شئے پر قادر ہے اس سب کے باوجود ہماری خطاؤں سے درگزر فر ما کر واپس لوٹ آنے کے اسباب پیدا فرما تا ہے۔وجود انسانی میں قلب کی عظمت اس قد ر ہے کہ ہمارے وجود میں موجود گوشت کا یہ لوتھڑا اگر درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے۔سلاسل تصوف میں اسی قلب کی اصلاح کی جاتی ہے۔جس سے اعمال میں اتنا نکھار آ جاتا ہے کہ بندہ کا ہر عمل محض اللہ کی رضا کے لیے ہو جاتا ہے۔صحیح تصوف اور خانقاہی نظام ہر دور میں موجود رہا ہے اور اب بھی ہے ہمیں بس اس کی تلاش کرنا ہے دل کی زمین یہی عظیم لوگ تیار کرتے ہیں تا کہ اس میں انابت الٰہی کا بیج بویا جا سکے۔امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پا کستان جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں اتنی گرد اُڑا  د ی گئی ہے کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ ہو کیا رہا ہے۔صحیح کون ہے غلط کون ہے اس سے دشمن اپنے عزائم حاصل کر رہا ہے۔اللہ کریم رمضان المبار ک کے اس بخشش والے دوسرے عشرے سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ جتنا کوئی اسلام کے تابع ہو گا اتنا استفادہ حاصل کرے گا۔ بندہ مومن کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ کریم کا حکم ہے یا نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے بات ختم اتنا کافی ہے۔اللہ کریم بندہ مومن کی زندگی میں ایک تسبیح بھی قبول فر ما لیں تو اس کی بخشش کے لیے کافی ہے۔
  انہوں نے مزید کہا کہ منافقت،جھوٹ،برائی یہ سب دل کی بیماریاں ہیں اور ان کی شفاان کی دوا قرآن کریم میں موجود ہے۔قلب انسانی بڑی بنیادی حیثیت رکھتا ہے یہی وہ مقام ہے جو کیفیات کا گھر ہے۔یہ دل بھی تو ایک شہر ہے جہاں دوست بھی رہتے ہیں دشمن بھی جہاں محبت بھی بستی اور نفرت بھی جہاں اپنے بھی رہتے ہیں پرائے بھی پورا ایک شہر آباد ہے کیا یہاں ایک مسجد بھی نہیں ہونی چاہیے جہاں سے اللہ اکبر کی آواز بلند ہو۔خواہشات،پسند و نا پسند کا محور بھی قلب ہے یہاں سے ہی خواہشات پیدا ہوتی ہیں اگر دل میں اچھائی ہو تو سارا وجود اچھائی کی طرف چلتا ہے اور یہاں فساد آجائے تو سارا وجود بگڑ جاتا ہے۔نیت قلب کا فعل ہے،انابت قلب کا فعل ہے،توبہ قلب کا فعل ہے اس لیے انسانی وجود میں قلب بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے اگر یہ قلب درست ہوجائے تو سارا بدن درست ہو جاتا ہے اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
  آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Sufia karaam qaloob ki islaah karte hain jis se woh darja naseeb hota hai ke bandah khud ko Allah ke rubaroo mehsoos karta hai - 1

رمضان المبارک کی برکات

Watch Ramzan ul Mubarak ki Barkat YouTube Video

اسلامی اصول اور ہماری پسند

Watch Islami Asool aur Hamari Pasand YouTube Video

اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے


معاشرے میں ہونے والی برائی کو روکنا،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں معاونت کا حکم دیا گیا ہے۔آج ہم بحیثیت مجموعی اس حکم پر کتنا عمل کر رہے ہیں اس کا خود اندازہ کر لیں۔آج ہمارے اردگرد جو مسائل ہیں جو مظالم دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اُن قوانین کو چھوڑ دیا جس کا اللہ کریم نے ہمیں حکم دیا ہے۔
  امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب!
 انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی اسلام کے احکامات ہیں شاید وہ صرف دوسروں کے لیے ہیں مجھ پر لاگو نہیں ہوتے اسی لیے ہر بندہ خود کی نہیں بلکہ دوسرے کی اصلاح کرنے کے لیے نکلا ہوا ہے۔جیسے وہ خودان سب سے بری ہے۔یہ ہمارے معاشرے میں عمومی روش پائی جاتی ہے۔اگر ہم سب اپنی اپنی غلطیوں کو دور کرنا شروع کر دیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیں تو کم از کم اتنی بہتری تو معاشرے میں ضرور آئے گی۔
  انہوں نے مزید کہا کہ اقرار کے ساتھ قلب کی تصدیق بھی ضروری ہے۔اگر تصدیق بالقلب حاصل نہ ہو تو وہ ماننا نہ ماننے جیسا ہی ہوتا ہے۔اقرار اس درجہ کا ہو کہ اعما ل پر پابند کر دے عمل تب ہوتا ہے جب یقین کامل ہو۔ یقین کی کمزوری بے عملی کا سبب بنتی ہے۔جب کوئی نا فرمانی کرتاہے تو عبادات چھوٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔پہلے نفلی پھر سنت اس کے بعد فرائض بھی چھوٹنے لگتے ہیں۔جہاں بھی نا فرمانی ہونے لگے وہاں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں غلطی کر رہا ہوں ہم غلطی کو بھی جواز دے رہے ہوتے ہیں نیکی میں کمی آنے کا سبب ہماری کوئی خطا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ہمارے معاملات میں کمی آتی ہے۔جب ہم دیکھیں کہ میری عبادات میں کمی آرہی ہے تو ضرور دیکھیں کہ کیا میری غذا حلال ہے کیا میری نظر میں حیاء ہے لین دین کیسا ہے اپنا محاسبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ اللہ کریم رمضان المبارک کے اس رحمتوں والے عشرے میں ہمیں معاف فرمائیں اپنی رحمت شامل حال رکھیں اور ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی۔
Iqrar key saath qalb ki tasdeeq b zaroori hai  - 1

اسم اعظم کیا ہے

Watch Ism e Azam kia hai YouTube Video

ایمان کی شہادت کیا ہے

Watch Eman ki Shahadat kia hai YouTube Video

تصدیق بالقلب

Watch Tasdeeq Bil Qalb YouTube Video